Khidmat e Din ki Ahmiyat o Fazilat

رسول اللہ ﷺ کی امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر قائم رہے گی

لَا تَزَالُ أُمَّةٌ مِنْ أُمَّةِ رَسُوْلِ اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم قَائِمَةً بِأَمْرِ اﷲِ

{رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت میں سے ایک جماعت ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر قائم رہے گی}

اَ لْآيَاتُ الْقُرْآنِيَةُ

(1) وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّةٌ يَدْعُوْنَ اِلَی الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ ط وَاُولٰٓئِکَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَo

(آل عمران، 3/ 104)

اور تم میں سے ایسے لوگوں کی ایک جماعت ضرور ہونی چاہیے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائیں اور بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں، اور وہی لوگ بامراد ہیں۔

(2) کُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاﷲِ ط وَلَوْ اٰمَنَ اَهْلُ الْکِتٰبِ لَکَانَ خَيْرًا لَّهُمْ ط مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَاَکْثَرُُهُمُ الْفٰسِقُوْنَo

(آل عمران، 3/ 110)

تم بہترین اُمّت ہو جو سب لوگوں (کی رہنمائی) کے لیے ظاہر کی گئی ہے، تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو، اور اگر اہلِ کتاب بھی ایمان لے آتے تو یقینا ان کے لیے بہتر ہوتا، ان میں سے کچھ ایمان والے بھی ہیں اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔

(3) وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍم يَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَيُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّکٰوةَ وَيُطِيْعُوْنَ اﷲَ وَرَسُوْلَهُ ط اُولٰٓئِکَ سَيَرْحَمُهُمُ اﷲُ ط اِنَّ اﷲَ عَزِيْزٌ حَکِيْمٌo

(التوبة، 9/ 71)

اور اہلِ ایمان مرد اور اہلِ ایمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق و مددگار ہیں۔ وہ اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت بجا لاتے ہیں، ان ہی لوگوں پر اللہ عنقریب رحم فرمائے گا، بے شک اللہ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے۔

(4) وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِيَنْفِرُوْا کَآفَّةً ط فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوْا فِی الدِّيْنِ وَلِيُنْذِرُوْا قَوْمَهُمْ اِذَا رَجَعُوْْٓا اِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُوْنَo

(التوبة، 9/ 122)

اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سارے کے سارے مسلمان (ایک ساتھ) نکل کھڑے ہوں تو ان میں سے ہر ایک گروہ (یا قبیلہ) کی ایک جماعت کیوں نہ نکلے کہ وہ لوگ دین میں تفقُّہ (یعنی خوب فہم و بصیرت) حاصل کریں اور وہ اپنی قوم کو ڈرائیں جب وہ ان کی طرف پلٹ کر آئیں تاکہ وہ (گناہوں اور نافرمانی کی زندگی سے) بچیں۔

اَلْحَدِيْث

8. عَنْ مُعَاوِيَةَ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: لَا يَزَالُ مِنْ أُمَّتِي أُمَّةٌ قَائِمَةٌ بِأَمْرِاﷲِ. لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ وَلَا مَنْ خَالَفَهُمْ حَتّٰی يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اﷲِ وَهُمْ عَلٰی ذَالِکَ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

8: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب المناقب، باب سؤال المشرکين أن يريهم النبي آية فآراهم انشقاق القمر، 3/ 1331، الرقم/ 3442، وأيضًا في کتاب التوحيد، باب قول اﷲ تعالی: إنما قولنا لشيء، 6/ 2714، الرقم/ 7022، ومسلم في الصحيح، کتاب الإمارة، باب قوله لا تزال طائفة من أمتي ظاهرين علی الحق لا يضرهم من خالفهم، 3/ 1524، الرقم/ 1037، وأحمد بن حنبل في المسند، 4/ 101، الرقم/ 16974، وأبو يعلی في المسند، 13/ 375، الرقم/ 7383.

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میری اُمت میں سے ایک جماعت ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر قائم رہے گی۔ جو اُنہیں ذلیل کرنے کا ارادہ کرے گا یا اُن کی مخالفت کرے گا وہ اُنہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا امر(یعنی قیامت کا دن) آجائے گا اور وہ اِسی حال پر قائم ہوں گے۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: مَنْ يُرِدِ اﷲُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ. وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاﷲُ يُعْطِي. وَلَنْ تَزَالَ هٰذِهِ الْأُمَّةُ قَائِمَةً عَلٰی أَمْرِ اﷲِ. لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتّٰی يَأْتِيَ أَمْرُ اﷲِ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب العلم، باب من يرد اﷲ به خيرا يفقهه في الدين، 1/ 39، الرقم/ 71، ومسلم في الصحيح، کتاب الإمارة، باب قوله: لا تزال طائفة من أمتي ظاهرين علی الحق لا يضرهم من خالفهم، 3/ 1524، الرقم/ 1037، وأحمد بن حنبل في المسند، 4/ 101، الرقم/ 16973، والطبراني في المعجم الکبير، 19/ 329، الرقم/ 755.

ایک اور روایت میں آپ (یعنی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ) بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اُسے دین کی فقہ (سوجھ بوجھ) عطا کر دیتا ہے۔ میں صرف تقسیم کرنے والا ہوں جب کہ اللہ تعالیٰ ہی عطا فرماتا ہے۔یہ اُمت ہمیشہ اللہ کے دین پر قائم رہے گی اور ان کے مخالف قیامت تک اُنہیں نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ يَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي قَائِمَةً بِأَمْرِ اﷲِ. لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ، أَوْ خَالَفَهُمْ، حَتّٰی يَأْتِيَ أَمْرُ اﷲِ وَهُمْ ظَاهِرُوْنَ عَلَی النَّاسِ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ.

أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الإمارة، باب قوله لا تزال طائفة من أمتي ظاهرين علی الحق لا يضرهم من خالفهم، 3/ 1524، الرقم/ 1037، وأحمد بن حنبل في المسند، 4/ 101، الرقم/ 16974، والطبراني في المعجم الکبير، 19/ 370، 380، 383، الرقم/ 869، 893، 899.

ایک اور روایت میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میری اُمت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا۔ جو شخص ان کو رسوا کرنا چاہے گا یا ان کی مخالفت کرے گا وہ ان کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ وہ (حق و صداقت میں ہمیشہ) لوگوں پر غالب رہیں گے حتیٰ کہ قیامت آ جائے گی۔

اس حدیث کو امام مسلم اور احمد نے روایت کیا ہے۔

9. عَنْ ثَوْبَانَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِيْنَ عَلَی الْحَقِّ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتّٰی يَأْتِيَ أَمْرُ اﷲِ وَهُمْ کَذَالِکَ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ التِّّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

9: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الإمارة، باب قوله لا تزال طائفة من أمتي ظاهرين علی الحق لا يضرهم من خالفهم، 3/ 1523، الرقم/ 1920، وأحمد بن حنبل في المسند، 5/ 279، الرقم/ 22456، والترمذي في السنن، کتاب الفتن، باب ما جاء في الأئمة المضلين، 4/ 504، الرقم: 2229، والبيهقي في السنن الکبری، 9/ 226، الرقم/ 18605، وسعيد بن منصور في السنن، 2/ 177، الرقم/ 2372.

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری اُمت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا۔ جو شخص اُن کو رسوا کرنا چاہے گا وہ اُن کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ وہ اسی طرح ثابت قدم رہیں گے حتیٰ کہ قیامت آ جائے گی۔

اس حدیث کو امام مسلم، احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے اسے حسن صحیح حدیث کہا ہے۔

10. عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم أَنَّهُ قَالَ: لَنْ يَبْرَحَ هٰذَا الدِّيْنُ قَائِمًا. يُقَاتِلُ عَلَيْهِ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَةُ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ.

10: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الإمارة، باب قوله: لا تزال طائفة من أمتي ظاهرين علی الحق لا يضرهم من خالفهم، 3/ 1524، الرقم/ 1922، وأحمد بن حنبل في المسند، 5/ 103، 106، الرقم/ 21023، 21052، وأبو عوانة في المسند، 4/ 505، الرقم/ 7499، والطبراني في المعجم الکبير، 2/ 217، 225، الرقم/ 1891، 1931.

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا اور مسلمانوں کی ایک جماعت اس دین کی خاطر قیامت تک (باطل کے خلاف) برسرِپیکار رہے گی۔

اس حدیث کو امام مسلم اور احمد نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved