Merits and Virtues of Sayyiduna ‘Uthman b. ‘Affan

باب نہم

(9) بَابٌ فِي جَامِعِ صِفَاتِهِ رضي الله عنه

 (آپ رضی اللہ عنہ کی جامع صفات کا بیان)

58. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنه قَالَ : إِنَّمَا تَغَيَبَ عُثْمَانُ عَنْ بَدْرٍ فَإِنَّهُ کَانَتْ تَحْتَهُ بِنْتُ رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم وَ کَانَتْ مَرِيْضَةً فَقَالَ لَهُ النَبِيُ صلي الله عليه وآله وسلم إِنَّ لَکَ أَجْرَ رَجُلٍ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْراً وَ سَهْمَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جنگ بدر میں حاضر نہ ہوئے تھے (اس کی وجہ یہ تھی کہ) آپ رضی اللہ عنہ کے عقد میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی تھیں اور وہ اس وقت بیمار تھیں۔ حضور بنی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے عثمان بے شک تیرے لئے ہر اس آدمی کے برابر اجر اور اس کے برابر (مال غنیمت کا) حصہ ہے جو جنگ بدر میں شریک ہوا ہے۔ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔‘‘

الحديث رقم 58 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب فرض الخمس، باب إذا بعث الامام رسولاً، 3 / 1139، الحديث رقم : 2962، و في کتاب فضائل الصحابة، باب مناقب عثمان بن عفان، 3 / 1352، الحديث رقم : 3495، و في کتاب المغازي، باب قول اﷲ إن الذين تولوا منکم يوم التقي الجمعان، 4 / 1491، الحديث رقم : 3839، و عظيم آبادي في عون المعبود، 7 / 283.

59. عَن عُرْوَةَ أَنَّ عُبَيْدَ اﷲ بْنِ عَدِيِ بن الْخِيَارِ أَخْبَرَه أَنَّ المِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوْثَ قَالَا : مَا يَمْنَعُکَ أَنْ تُکَلِّمَ عُثْمَانَ لِأَخِيْهِ الْوَلِيْدِ، فَقَدْ أَکْثَرَ النَّاسُ فِيْهِ، فَقَصَدْتُ لِعُثْمَانَ حَتَّي خَرَجَ إِلَي الصَّلَاةِ، قُلْتُ : إِنَّ لِيْ إِلَيْکَ حَاجَةً، وَ هِيَ نَصِيْحَةٌ لَکَ، قَالَ : يَا أَيُهَا الْمَرْءُ. قَالَ مَعْمَرٌ : أَرَاهُ قَالَ : أَعُوْذُ بِاﷲِ مِنْکَ. فَانْصَرَفْتُ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِمْ إِذَا جَاءَ رَسُوْلُ عُثْمَانَ فَأَتَيْتُُهُ، فَقَالَ : مَا نَصِيْحَتُکَ؟ فَقُلْتُ : إِنَّ اﷲَ سُبْحَانَهُ بَعَثَ مُحَمَّدًا صلي الله عليه وآله وسلم بِالْحَقِّ، وَ أَنْزَلَ عَلَيْهِ الْکِتَابَ، وَ کُنْتَ مِمَّنِ اسْتَجَابَِﷲِ وَ لِرَسُوْلِهِ صلي الله عليه وآله وسلم، فَهَاجَرْتَ الهِجْرَتَيْنِ، وَصَحِبْتَ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم، وَ رَأَيْتَ هَدْيَهُ، قَدْ أَکْثَرَ النَّاسُ فِيْ شَأْنِ الْوَلِيْدِ، قَالَ : أَدْرَکْتَ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم ؟ قُلْتُ : لَا، وَلَکِنْ خَلَصَ إِلَيَ مِنْ عِلْمِهِ مَا يُخْلَصُ إِلَي العَذْرَاءِ فِيْ سِتْرِهَا، قَالَ : أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ اﷲَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صلي الله عليه وآله وسلم بِالْحَقَّ، فَکُنْتُ مِمَّنِ اسْتَجَابَِﷲِ وَ لِرَسُوْلِهِ، وَ آمَنْتُ بِمَا بُعِثَ بِهِ، وَ هَاجَرْتُ الهِجْرَتَيْنِ کَمَا قُلْتَ، وَ صَحِبْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم وَ بَايَعْتُهُ، فَوَاﷲِ مَا عَصَيْتُهُ وَ لاَ غَشَشْتُهُ حَتَّي تَوَفَّاهُ اﷲُ، ثُمَّ أَبُوْبَکْرٍ مِثْلُهُ، ثُمَّ عُمَرُ مِثْلُهُ، ثُمَّ اسْتُخْلِفْتُ، أَفَلَيْسَ لِيْ مِنَ الْحَقِّ مِثْلُ الَّذِيْْ لَهُمْ؟ قُلْتُ : بَلَي، قَالَ فَمَا هَذِهِ الْأَحَادِيْثُ الَّتِيْ تَبْلُغُنِيْ عَنْکُمْ؟ أَمَّا مَا ذَکَرْتَ مِنْ شَأْنِ الْوَلِيْدِ، فَسَنَأْخُذُ فِيْهِ بِالْحَقِّ إِنْ شَاءَ اﷲُ. ثُمُّ دَعَا عَلِيًّا، فَأَمَرَهُ أَنْ يَجْلِدَهُ، فَجَلَدَهُ ثَمَانِيْنَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

’’حضرت عبید اللہ بن عدی بن خیار کا بیان ہے کہ مجھ سے حضرت مسور بن مخرمہ اور حضرت عبد الرحمن بن اسود رضی اﷲ عنہما نے کہا کہ آپ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ان کے رضاعی بھائی ولید بن عقبہ کے بارے میں گفتگو کیوں نہیں کرتے جبکہ لوگوں کو ولید کے بارے میں شکایات ہیں پس میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ملنے کا ارادہ کیا۔ یہاں تک کہ وہ نماز کے لئے نکلے میں نے کہا : مجھے آپ سے ایک کام ہے اور اس میں فائدہ آپ کا ہے آپ نے فرمایا : اے بھلے آدمی! معمر کا قول ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ تم سے پناہ دے۔ پس میں واپس لوگوں کے پاس آپہنچا اتنے میں کہ حضرت عثمان کا قاصد بلانے آگیا تو میں ان کے پاس حاضر ہوگیا۔ فرمایا : آپ کیا نصیحت کرناچاہتے ہیں میں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اور ان پر کتاب نازل فرمائی آپ ان میں سے ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی بات مانی، ہجرت کا دو دفعہ شرف حاصل کیا۔ رسول اللہ کی صحبت سے مشرف ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کو بچشم خود دیکھا۔ اکثر لوگ ولید کے طرز عمل سے شاکی ہیں۔ حضرت عثمان نے پوچھا : آپ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے؟ میں نے جواب دیا : نہیں لیکن آپ کے بعض علوم مجھ تک اس طرح پہنچے ہیں جیسے کنواری لڑکی کو پردے میں پہنچایا جاتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، پس میں ان میں سے ہوں جنہوں نے اللہ اور اسکے رسول کی بات مانی اور اس پر ایمان لایا جس کے ساتھ آپ مبعوث فرمائے گئے تھے اور واقعی میں نے دو مرتبہ ہجرت کی ہے۔‘‘ جیسا کہ آپ نے کہا : میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کا شرف پایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کی لیکن خدا کی قسم، نہ میں نے ان کی نافرمانی کی اور نہ انہیں دھوکا دیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بارگاہِ خداوندی میں پہنچ گئے پھر حضرت ابوبکر کے ساتھ میں نے ایسا ہی کیا پھر حضرت عمر کے ساتھ بھی یہی کچھ کیا پھر مجھے خلیفہ بنا دیا گیا تو جو حق ان دونوں حضرات کو حاصل تھا، کیا مجھے وہ حاصل نہیں ہے؟ میں نے کہا : کیوں نہیں۔ فرمایا : لوگوں کی جو باتیں آپ نے مجھ تک پہنچائی ہیں جیسا کہ ولید کے بارے میں آپ نے شکایات کا ذکر کیا تو اس سلسلے میں ہم ان شاء اﷲ تعالیٰ حق کا دامن نہیں چھوڑیں گے پھر آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلا کر ولید کو درے مارنے کا حکم دیا اور اسے 80 درے مارے گئے۔ اِس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 59 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب فضائل الصحابة، باب مناقب عثمان بن عفانص، 3 / 1351. 1352، الحديث رقم : 3493، وأحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، 1 / 488، الحديث رقم : 791.

60. عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : حَدَثَّنِيْ أَبُوْ سَهْلَةَ أَنَّ عُثْمَانَ قَالَ : يَوْمَ الدَّارِ، حِيْنَ حُصِرَ : أَنَّ النَّبِيَّ صلي الله عليه وآله وسلم عَهِدَ إِلَيَّ عَهْداً، فَأَنَا صَابِرٌ عَلَيْهِ. قَالَ قَيْسٌ فَکَانُوْا يَرَوْنَهُ ذَلِکَ الْيَوْمَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَ ابْنُ حِبَّانَ.

’’حضرت قیس بن ابی حازم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو سھلہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے یوم الدار (محاصرہ کے دن) کو فرمایا جب وہ محصور تھے کہ بے شک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک وصیت فرمائی تھی پس میں اسی پر صابر ہوں اور حضرت قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اس کا انتظار کیا کرتے تھے۔ اس حدیث کو امام احمد اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔‘‘

الحديث رقم 60 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 1 / 69، الحديث رقم : 501، و ابن حبان في الصحيح، 15 / 356، الحديث رقم : 6918، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 1 / 525، الحديث رقم : 391، و ابونعيم في حلية الأولياء، 1 / 58

61. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ : خَرَجَ عُثْمَانَ بْنُ عَفَّانَ مُهَاجِراً إِلٰي أَرْضِ الْحَبْشَةِ وَ مَعَهُ رُقَيَةُ بِنْتُ رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم فَاحْتَبَسَ عَلَي النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم خَبَرُهُمْ وَکَانَ يَخْرُجُ يَتَوَکَّفَ عَنْهُمُ الْخَبَرَ، فَجَاءَ تْهُ امْرَأَةٌ فَأَخْبَرَتْهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم : إِنَّ عُثْمَانَ أَوَّلُ مَنْ هَاجَرَ إِلَي اﷲِ بِأَهْلِهِ بَعْدَ لُوْطٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْکَبِيْرِ.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سرزمین حبشہ کی طرف ہجرت کی غرض سے نکلے اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ آپ کی اہلیہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اﷲ عنہا بھی تھیں پس کافی عرصہ تک ان کی خبر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہ پہنچی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزانہ ان کی خبر معلوم کرنے کے لئے باہر تشریف لاتے پس ایک دن ایک عورت ان کی خیریت کی خبر لے کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک عثمان حضرت لوط علیہ السلام کے بعد پہلا شخص ہے جس نے اپنی اہلیہ کے ساتھ اﷲ کی راہ میں ہجرت کی۔ اس حدیث کو امام طبرانی نے المعجم الکبير میں بیان کیا ہے۔‘‘

الحديث رقم 61 : أخرجه الطبرانيفي المعجم الکبير، 1 / 90، الحد يث رقم : 143، و الشيباني في الآحاد والمثاني، 1 / 123، الحديث رقم : 123

62. عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْهُ صلي الله عليه وآله وسلم قَالَ : إِنَّا نُشَبِّهُ عُثْمَانَ بِأَبِيْنَا إِبْرَاهِيْمَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ، رَوَاهُ الدَّيْلِمِيُّ.

’’حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ ہم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو اپنے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے تشبیہ دیتے ہیں۔ اس حدیث کو امام دیلمی نے روایت کیا ہے۔‘‘

الحديث رقم 62 : أخرجه الديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 1 / 55، الحديث رقم : 152، و عسقلاني في لسان الميزان، 4 / 367، الحديث رقم : 1079

63. عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ صلي الله عليه وآله وسلم قَالَ : لِکُلِّ نَبِيٍّ خَلِيْلٌ فِي أُمَّتِهِ، وَ إِنَّ خَلِيْلِيْ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ. رَوَاهُ الدَّيْلِمِيُّ وَ أَبُوْ نُعِيْمٍ.

’’حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہر نبی کا اس کی امت میں کوئی نہ کوئی دوست ہوتا ہے اور بے شک میرا دوست عثمان بن عفان ہے۔ اس حدیث کو امام دیلمی اور ابو نعیم نے روایت کیا ہے۔‘‘

الحديث رقم 63 : أخرجه الديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 3 / 335، الحديث رقم : 5008، و أبو نعيم في حلية الأولياء، 5 / 202، عن أبي هريرة

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved