Nisab e Itikaf

حصہ چہارم :عبادات : خاموشی (حصہ دوم)

زبان کی آفتیں اور ان سے بچاؤ کی تدابیر

خاموشی اور کلام میں زبان اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جس کی زبان درست ہو اس کے سارے اعمال اصلاح یافتہ ہوجائیں گے اور جس کی زبان میں خرابی ہو اس کے سارے اعمال میں خرابی ظاہر ہوگی۔ جو شخص اپنی زبان کو کھلی چھٹی دیتا ہے شیطان اسے ہلاکت کے کنارے پر لے جاتا ہے۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

وَهَلْ يَکُبُّ النَّاسَ فِي النَّارِ عَلی وُجُوْهِهِمْ أوْ عَلَی مَناخِرهِم إلَّا حصَائِدُ ألسِنَتهِمْ.

(ترمذی، الجامع الصحيح، أبواب الإيمان، باب ماجاء في حُرْمَةِ الصَّلَاةِ، 4 : 362 - 363، رقم : 2616)

’’انسان کو اوندھے منہ دوزخ میں گرانے والی چیز اس سے اپنی زبان سے کاٹی ہوئی کھیتی ہے۔‘‘

حضرت طاؤس علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :

’’میری زبان ایک درندہ ہے اگر میں اسے کھلا چھوڑوں تو وہ مجھے کھا لے۔‘‘

(غزالی، إحياء علوم الدين، 3 : 111)

زبان کی آفات بیشمار ہیں مثلاً خطا، جھوٹ، غیبت، چغلی، ریاکاری، منافقت، فحش کلامی، جھگڑا اور خود سرائی وغیرہ۔ یہ وہ برے اعمال ہیں جن کا تعلق براہِ راست زبان سے ہے۔

امام غزالی علیہ الرحمۃ نے ’’احیاء علوم الدین‘‘ میں زبان کی بیس آفات بیان کی ہیں۔ ان میں سے بعض درج ذ یل ہیں :

1۔ بے مقصد گفتگو اور فضول کلام

ایسی گفتگو جس کی حاجت ہو اور نہ ہی اس سے کسی کو فائدہ حاصل ہو بے مقصد گفتگو کہلاتی ہے۔ جبکہ وہ کلام جو فائدہ مند تو ہو لیکن بلا ضرورت ہو فضول کلام کہلاتا ہے جو شخص فضول گوئی سے بچتا ہے اس کے بارے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْء تَرْکُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ.

( بيهقی، شعب الإيمان، 4 : 254 - 255، رقم : 4986)

’’کسی شخص کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ جو بات کام کی نہ ہو اسے چھوڑ دے۔‘‘

حضرت ابراہیم تیمی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :

’’جب مومن بات کرنا چاہتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اگر فائدہ ہو تو بات کرتا ہے ورنہ خاموش رہتا ہے اور فاجر کی زبان خوب چلتی ہے وہ جو منہ میں آتا ہے کہہ دیتا ہے انہوں نے یہ بھی فرمایا : دو چیزیں آدمی کو ہلاک کرتی ہیں زائد مال اور فضول کلام۔‘‘

حضرت حسن علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :

’’جس شخص کی گفتگو زیادہ ہو اس کا جھوٹ بھی زیادہ ہوتا ہے۔‘‘

2۔ باطل اُمور میں مشغولیت

بے فائدہ گفتگو کی بھرمار، خلافِ شرع ممنوع باتوں میں مشغولیت، بدعات اور مذاہبِ فاسدہ کا ذکر مثلًا عورتوں کے حالات، شراب کی مجالس، بدکاری کی مجالس، لوگوں کی عیاشی، مذموم رسموں اور ناپسندیدہ حالات کا ذکر کرنا یہ تمام امور باطل میں شامل ہیں۔ اکثر لوگ غم غلط کرنے کے لئے گفتگو کرتے ہیں لیکن انکی گفتگو باطل اور بے ہودہ کلام پر مشتمل ہوتی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

مَنْ تَرَکَ الْکَذِبَ وَ هُوَ بَاطِلٌ بُنِيَ لهُ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ، وَمَنْ تَرکَ المِرَاءَ وَهُوَ مُحِقٌّ بُنِيَ لَهُ فِي وَسَطِهَا، ومن حَسَّنَ خُلُقَهُ بُنِيَ لَهُ فِي أَعْلَاهَا.

(ترمذی، الجامع، أبواب البر و الصلة، ، 3 : 530، رقم : 1993)

’’جس نے جھوٹ، جو کہ باطل ہے (جھگڑے کے وقت) چھوڑ دیا اس کے لئے بہشت کے کنارے پر مکان بنایا جائے گا اور جو حق پر ہوتے ہوئے جھگڑا ترک کر دے اس کے لئے جنت کے درمیان مکان بنایا جائے گا اور جو اپنے اخلاق کو سنوار لے اس کیلئے جنت کے بلند ترین جگہ پر محل تعمیر کیا جائے گا۔‘‘

3۔ خصومت (جھگڑا کرنا)

دوسروں کے کلام پر طعن و تشنیع کرنا ان کے کام پر اعتراض کرنا، ارادے میں خلل ڈالنا، دوسروں کی تحقیر اور اپنی فضیلت ظاہر کرنا اور اپنے کلام پر ڈٹ جانا خصومت کہلاتا ہے۔ ایک متفق علیہ حدیثِ مبارکہ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا روایت کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

إِنَّ أَبْغَضَ الرِّجَالِ إِلَی اﷲِ الْأَلَدُّ الخَصِمُ.

(مسلم، الصحيح، کتاب العلم، باب فی الألّدالخصم، 4 : 2054، رقم : 2668)

’’اﷲ تعالیٰ کو سب سے ناپسند وہ شخص ہے جو بہت جھگڑالو ہو۔‘‘

حضرت ابو امامہ باھلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :

تَکْفِيْرُ کُلِّ لِحَاءٍ رَکْعَتَانِ.

(طبرانی، المعجم الکبير، 8 : 149، رقم : 7651)

’’ہر بحث کرنے والے کا کفارہ دو رکعتیں ہیں۔‘‘

جیسے ہر گناہ کی توبہ ہے اسی طرح فضول جھگڑے یا بحث کی توبہ اللہ کے حضور دو رکعت نماز ہے۔ زبان کی یہ آفت انسان کو ہلاک کرنے والی ہے اور اس کا علاج یہ ہے کہ انسان دل سے تکبر کلیّتًا ختم کر دے، دوسروں پر اپنی فضیلت ظاہر کرنا، دوسروں کو کمتر سمجھنا اور ایسی عادت کا بھی خاتمہ کر دے جو دوسروں کی عیب جوئی کا باعث بنے، کیونکہ ہر بیماری کا علاج اس کے سبب کو دور کرنے سے ہوتا ہے۔

4۔ پُر تکلف کلام کرنا

منہ کھول کر بے تکلف مسجَّع و مرصَّع اور فصاحت سے بھرپور کلام کرنا اور اس میں مبالغہ آرائی و تصنع کے لئے مقدمات اور تمہیدات شامل کرنا جیسا کہ عام خود ساختہ فصاحت کے دعویدار اور خطابت کے مدعی لوگوں کی عادت ہے۔ یہ تمام باتیں مذموم تصنع سے تعلق رکھتی ہیں اور یہ ایسا تکلف ہے جو غضب کو دعوت دیتا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے نزدیک تم میں سب سے زیادہ قابلِ نفرت اور قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ دور ہونے والے وہ لوگ ہیں جو بہت بولنے والے، لوگوں سے زبان درازی کرنے والے اور تکبر کرنے والے ہیں۔‘‘

(ترمذی، الجامع الصحيح، أبواب البر و الصلة، باب ماجاء فی معالي الأخلاق، 3 : 545، رقم : 2018)

5۔ بد کلامی اور گالی گلوچ

اس سے مراد ایسی بات ظاہر کرنا ہے جس کے بیان سے انسان شرم و ندامت محسوس کرتا ہے۔ بد کلامی اور گالی گلوچ کی بنیاد باطنی اور ظاہری کمینگی ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ یہودی آئے، انہوں نے کہا :

اَلسَّامُ عَلَيْکَ يا أَبَا الْقَاسِمِ!

(لفظ سام کے معنی ہلاکت اور بربادی کے ہیں ان بدبختوں نے یہ لفظ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیلئے استعمال کیا)

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

وَ عَلَيْکُمْ

’’اور تم پر بھی۔‘‘

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا : بلکہ تم پر سام اور ذام (موت اور ذلت) ہو۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

يا عائِشَةُ ! لَا تَکُوْنِی فَاحِشَةً.

’’اے عائشہ! بد زبان مت بنو۔‘‘

حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں سنا، انہوں نے کیا کہا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا میں نے ان کے قول کو ان کی طرف واپس نہیں کیا؟ میں نے کہا : ’’وَعلیکم۔‘‘ ’’اور تم پر بھی۔‘‘

(مسلم، الصحيح، کتاب السلام، باب النهی عن ابتداء أهل الکتاب بالسلام، 4 : 1706 - 1707، رقم : 2165)

ایک روایت میں حضرت عبد اﷲ بن عمرو رضی اﷲ عنہما نے فرمایا :

اَلْجَنَّةُ حَرَامٌ عَلَی کُلِّ فَاحِشٍ أَنْ يَّدْخُلَهَا.

(ديلمی، الفردوس بماثور الخطاب، 2 : 186، رقم : 2428)

’’ہر فحش کلام کرنے والے پر جنت کا داخلہ حرام ہے۔‘‘

حضرت ابراہیم بن میسرہ علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں : ’’قیامت کے دن فحش کلام اور بیہودہ بکنے والے کو کتے کی صورت میں یا کتے کے پیٹ میں لایا جائے گا۔‘‘

(غزالی، إحياء علوم الدين، 3 : 122)

فحش کلامی کا سبب مخاطب کو ایذا پہنچانا ہوتا ہے۔ یہ بدکلامی اور گالی گلوچ فاسق لوگوں کی عادت بن جاتی ہے۔ لہٰذا ان لوگوں کی صحبت سے بچنا چاہئے۔

6۔ لعنت بھیجنا

حیوانات، جمادات اور انسان سمیت کسی پر بھی لعنت بھیجنا قابلِ مذمت ہے۔

حضرت عبد اﷲ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

إِنَّ الْمُؤمِنَ لَيْسَ بِاللَّعَّانِ.

’’مومن لعنت کرنے والا نہیں ہوتا۔‘‘

(أحمد بن حنبل، المسند، 1 : 416، رقم : 3948)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام پر لعنت بھیجی تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

يَا أَبَا بَکْرٍ! اللَّعَّانُوْنَ وَ الصِّدِّيْقُوْنَ کَلَّا وَرَبِّ الْکَعْبَةِ مَرَّتَيْنِ أوْ ثَلَاثًا.

’’اے ابو بکر! کیا صدیق اور لعنت کرنے والے بھی، رب کعبہ کی قسم (ایسا) ہرگز نہیں (ہوسکتا) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کلمات دو، تین مرتبہ دہرائے۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اُسی دن اپنا غلام آزاد کر دیا اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا’’ لا اعود‘‘ میں دوبارہ یہ کلمات نہیں کہوں گا۔‘‘

(بخاری، الأدب المفرد، 1 : 88 - 89، رقم : 319)

7۔ لغو شعر گوئی

شعر کا مقصد تعریف، مذمت اور عورتوں کا ذکر ہوتا ہے اور بعض اوقات اس میں جھوٹ اور مبالغہ داخل ہوجاتا ہے اس لئے بعض بزرگ اشعار کہنا ناپسند فرماتے ہیں لیکن اگر کلام اچھا ہو تو اشعار کو ترنم سے پڑھنا جائز ہے۔ حضرت داؤد علیہ السلام تلاوتِ زبور کے وقت خوش آوازی کا مظاہرہ کرتے، حتیٰ کہ انسان، جن، جنگلی جانور اور پرندے آپ علیہ السلام کی آواز سننے کے لئے جمع ہو جاتے۔

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ لَحِکْمَةً.

’’بے شک بعض حکمت پر مبنی ہوتے ہیں۔‘‘

(ابن ماجة، السنن، کتاب الأدب، باب الشعر، 4 : 262، رقم : 3755)

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے لئے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔

اهْجُهُمْ. أَوْهَاجِهِمْ. وَجِبريْلُ مَعَکَ.

(بخاری، الصحيح، کتاب بَدَء الخلق، 3 : 1176، رقم : 3041)

’’ان (کافروں) کی ہجو کرو اور جبرئیل بھی تمہارے ساتھ ہیں۔‘‘

مذکورہ بالا احادیث کی رو سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں ثناخوانی یا برائی اور فحاشی سے پاک کلام پڑھنا باعثِ اجر و ثواب اور خیر و برکت ہے۔ لیکن اگر کلام بُرا ہو تو شعر گوئی اور گانا دونوں مذموم ہیں۔ حضرت ابن عمر رضی اﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِکُمْ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا.

(بخاری، الصحيح، کتاب الأدب، باب مايکره أَن يکون الغالب علی الإنسان الشعر، 5 : 2279، رقم : 5802)

’’کسی آدمی کے پیٹ کا پیپ سے بھر جانا (جو اسے خراب کرتی ہے) اس سے بہتر ہے کہ وہ اشعار سے بھرا ہوا ہو۔‘‘

شعر پڑھنا اور کہنا فی نفسہ حرام نہیں، بشرطیکہ کلام قرآن و سنت کے منافی نہ ہو۔

8۔ کثرتِ طنز و مزاح

مزاح اپنی اصل کے اعتبار سے مذموم ہے، البتہ تھوڑا سا ہو تو مستثنیٰ ہے، مزاح کو وطیرہ بنا لینے میں خرابی ہے اور کثرتِ مزاح سے زیادہ ہنسی پیدا ہوتی ہے اور زیادہ ہنسنے سے دل مردہ ہو جاتا ہے جس سے دل میں بغض پیدا ہو جاتا ہے نیز اس کی وجہ سے ہیبت اور وقار ختم ہو جاتا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا روایت کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

يَا أُمَّة مُحَمَّدٍ، وَ اﷲِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَکَيْتُمْ کَثِيْرًا وَ لَضَحِکْتُمْ قَلِيْلًا.

(بخاری، الصحيح، کتاب الإيمان و النذور، باب کيف کانت يمين النبی صلی الله عليه وآله وسلم، 6 : 2445، رقم : 6256)

’’اے امتِ محمدیہ! بخدا! اگر تم وہ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو تم ضرور بالضرور بہت زیادہ رویا کرتے اور بہت کم ہنسا کرتے۔‘‘

9۔ تمسخر (مذاق اڑانا)

تمسخر کا مطلب دوسرے آدمی کی توہین کرنا، اسے حقیر جاننا اور اس کے عیوب و نقائص کو اس طرح ظاہر کرنا کہ اس کا مذاق اڑایا جائے۔

حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

’’مذاق اڑانے والے کے لئے جنت کا ایک دروازہ کھولا جائے گا اور کہا جائے گا آؤ، آؤ! وہ غم اور تکلیف کی حالت میں آئے گا تو دروازہ بند کر دیا جائے گا پھر دوسرا دروازہ کھولا جائے گا اور کہا جائے گا آؤ، آؤ! وہ غم اور تکلیف کے ساتھ آئے گا، جب وہاں پہنچے گا تو اس پر وہ دروازہ بھی بند کر دیا جائے گا، مسلسل اسی طرح ہوتا رہے گا حتی کہ اس کے لئے دروازہ کھولا جائے گا اور کہا جائے گا آؤ، آؤ پس وہ مایوسی کی وجہ سے نہیں آئے گا۔‘‘

(بيهقی، شعب الإيمان، 5 : 310 - 311، رقم : 6757)

اس حدیثِ مبارکہ کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص دنیا میں کسی کا مذاق اڑائے گا تو قیامت کے دن اس کا بھی مذاق اڑایا جائے گا، کیونکہ مذاق میں کسی کو اذیت پہنچانا، کسی کو حقیر جاننا اور توہین آمیز سلوک کا نشانہ بنانا مقصود ہوتا ہے اور یہ حرام ہے۔ بعض اوقات کسی شخص کے بے ترتیب کلام بے تکے عمل پر ہنسا جاتا ہے جیسے کسی کے خط، کاریگری اورچھوٹے قد پر ہنسنا یا اس میں کوئی دوسرا عیب ہو تواس عیب کی بنا پر اس شخص کا یا اس کی تخلیق کا مذاق اڑانا، یہ تمام اُمور اِستہزاء میں داخل ہیں اور ان سے منع فرمایا گیا ہے۔

10۔ اِفشائے راز

راز اِفشا کرنے سے اس لئے منع کیا گیا ہے کہ اس کے ذریعے ایذا پہنچائی جاتی ہے اور دوست احباب کے حق کو معمولی سمجھا جاتا ہے۔ ابن ابی دنیا روایت کرتے ہیں کہ ابن شہاب نے فرمایا :

اَلْحَدِيْثُ بَيْنَکُمْ أمَانَةٌ.

’’گفتگو تمہارے درمیان امانت ہے۔‘‘

(عجلونی، کشف الخفاء، 1 : 90، رقم : 221)

امام غزالی علیہ الرحمۃ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کا قول نقل کرتے ہیں کہ اپنے بھائی کا راز بیان کرنا خیانت ہے۔

12۔ کذب بیانی

جھوٹ بولنا نہایت قبیح قسم کے گناہوں میں شمار ہوتا ہے کیونکہ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لئے سو جھوٹ بولنے پڑتے ہیں اور جھوٹ ہلاکت میں ڈالتا ہے۔ جبکہ سچ میں نجات ہے اور سچائی جنت کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سچ کو لازم پکڑو بے شک سچ نیکی کا راستہ دکھاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور جو آدمی برابر سچ بولتا رہتا ہے اور اس کا قصد کرتا رہتا ہے تو اﷲ تعالیٰ کے ہاں وہ صدیق لکھ دیا جاتا ہے۔

وإِيَّاکُمْ وَالْکَذِبَ فَإِنَّ الْکَذِبَ يَهْدِي إلی الْفُجُورِ، وَ إِنَّ الفُجُورَ يَهْدِي إلی النَّار.

( طبرانی، معجم الأوسط، 8 : 245، رقم : 7560)

’’جھوٹ سے اجتناب کرو بے شک جھوٹ گناہ کا راستہ دکھاتا ہے اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔‘‘

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’تین شخص ایسے ہیں جن سے قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ بات نہیں کرے گا پہلا وہ شخص جو ہر نیکی کا احسان جتلاتا ہے۔ دوسرا وہ جو جھوٹی قسم کھا کر سامان فروخت کرتا ہے اور تیسرا وہ جو اپنے کپڑوں کو تکبرانہ انداز میں ٹخنوں کے نیچے لٹکاتا ہے۔‘‘

(مسلم، الصحيح، کتاب الإيمان، باب بيان غلظ تحريم إسبال الإزار و المن بالعطية، 1 : 102، رقم : 106)

13۔ غیبت

کسی مسلمان بھائی کی غیر موجودگی میں ایسی برائی یا عیب بیان کرنا جو اسے ناپسند ہو خواہ وہ اس کے بدنی یا نسبی عیب کا ذکر ہو یا اخلاق اور عمل کے اعتبار سے کوتاہی کا بیان ہو، اس کی دُنیوی خرابی کا ذکر ہو یا اخروی برائی کا حتی کہ اس کے کپڑے، مکان اور جانور کے حوالے سے نقص بیان کرنا، سب غیبت میں شامل ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا! اﷲ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوب جانتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

ذِکْرُکَ أَخَاکَ بِمَا يَکْرَهُ.

’’تم اپنے بھائی کے اس عیب کا ذکر کرو جس کا ذکر اس کو ناپسند ہو۔‘‘

عرض کیاگیا : اس کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے کہ اگر میرے بھائی میں وہ عیب ہو جس کاذکر میں کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

إن کانَ فيهِ مَا تَقُولُ، فَقَدِ اغْتَبْتَهُ. وإِنْ لَمْ يَکُنْ فِيْهِ، فَقَدْ بَهَتَّهُ.

(مسلم، الصحيح، کتاب البروالصلة، 4 : 2001، رقم : 2589)

’’اگر تم نے وہ عیب بیان کیا جو اس میں ہے تبھی تو تم نے اس کی غیبت کی ہے اور اگر وہ عیب بیان کیا ہے جو اس میں نہیں تو تم نے اس پر بہتان لگایا ہے۔‘‘

14۔ چغل خوری

کسی کی پوشیدہ بات سے پردہ اٹھا کر اسے ظاہر کرنا چغل خوری کہلاتا ہے۔

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :

لَا يَدْخُلُ الْجَنَّة نَمَّامٌ.

’’چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔‘‘

(مسلم، الصحيح، کتاب الإيمان، باب ببان غلظ تحريم النميمة، 1 : 101، رقم : 105)

15۔ دو غلہ پن

جو شخص ایسے دو آدمیوں کے پاس جائے جو ایک دوسرے کے دشمن ہیں اور وہ ان میں سے ہر ایک کی بات دوسرے تک پہنچائے، ان کی ایک دوسرے سے دشمنی کو اچھا قرار دے، دونوں سے مدد کا وعدہ کرے، ان میں سے ہر ایک کے سامنے اس کی تعریف کرے اور جب وہ موجود نہ ہو تو اس کی برائی بیان کرے ایسا شخص دوغلہ یا دو باتوں والا کہلاتا ہے۔ حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

مَنْ کَانَ لَهُ وَجْهَانِ فِي الدُّنْيَا کَانَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِسَانَانِ مِنْ نَارٍ.

(ابن أبي شيبة، المصنف، 5 : 224، رقم : 25454)

’’جو دنیا میں دومنہ رکھے یعنی دوغلہ ہو تو قیامت کے روز اس کی آگ کی دو زبانیں ہونگی۔‘‘

16۔ خوشامد

امام غزالی علیہ الرحمۃ بیان کرتے ہیں کہ تعریف کرنے میں چھ آفات (برائیاں) ہیں۔ چار آفات کا تعلق تعریف کرنے والے سے ہے اور دو کا اس سے جس کی تعریف کی گئی، جہاں تک تعریف کرنے والے کا تعلق ہے تو پہلی بات یہ ہے کہ وہ حد سے بڑھ کر تعریف کرے یہاں تک کہ جھوٹ تک پہنچ جائے۔ دوسری آفت یہ ہے کہ وہ تعریف کرتے ہوئے محبت کا اظہار کرتا ہے لیکن جو کچھ وہ کہتا ہے اس کا اعتقاد نہیں رکھتا۔ گویا اس طرح وہ ریا کار منافق ہوتا ہے۔ تیسری آفت یہ ہے کہ تحقیق کے بغیر گفتگو کرتا ہے اور اسے اس پر اطلاع نہیں ہوتی لیکن جب وہ کہے میں نے رات کے وقت اسے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ میں نے اسے صدقہ کرتے اور حج کرتے دیکھا ہے، تو یہ یقینی امور ہیں وہ اوصاف جو مخفی ہیں مثلًا وہ عادل ہے راضی رہنے والا ہے تو جب تک اس کے باطن کا علم نہ ہو قطعی طور پر کچھ نہ کہے۔ چوتھی آفت یہ ہے کہ وہ ممدوح کو خوش کرتا ہے حالانکہ وہ ظالم یا فاسق ہے اور یہ بات جائز نہیں ہے۔

(غزالی، احیاء علوم الدین، 3 : 159)

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

إذَا مُدِحَ الْفَاسِقُ غَضَبَ الرَبُّ وَ اهتَزَّلَهُ الْعَرْشُ.

(بيهقی، شعب الإيمان، 4 : 230، رقم : 4886)

’’جب فاسق کی تعریف کی جائے تو اﷲ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اور اس کے غضب سے عرش ہلتا ہے۔‘‘

دوسری بات یہ ہے کہ جب تعریف کرنے والا کسی کی بجا طور پر تعریف کرتا ہے تو جس کی تعریف کی جائے وہ خوش ہوتا ہے اور اپنے نفس پر راضی ہوتا ہے اور اس وجہ سے اس کی کوشش میں کمی آجاتی ہے۔ زیادہ محنت اس بات کی کرتا ہے جس کی اپنے اندر کمی دیکھتا ہے لیکن جب زبان پر تعریفی کلمات ہوں تو وہ سمجھتا ہے کہ میں کامل ہوچکا ہوں۔

17۔ کثرتِ سوال

انسان کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ قرآنِ حکیم کے احکام پر عمل کرے، لیکن یہ بات اس کے دل پر گراں گزرتی ہے اور فضول باتیں اسے آسان معلوم ہوتی ہیں۔ عام طور پر وہ علمی مسائل پر بحث میں خوشی محسوس کرتا ہے، کیونکہ شیطان اس کے دل میں خیال ڈالتا ہے کہ تم بھی ایک عالم ہو اور فضیلت کے مالک ہو۔ وہ ہمیشہ اس بات کو اس کے دل میں پختہ کرتا رہتا ہے حتی کہ وہ علم کے سلسلے میں کفریہ بات بھی کہہ ڈالتا ہے۔ اسے علم نہیں ہوتا کہ وہ کبیرہ گناہ کا ارتکاب کررہا ہے، خصوصاً جب وہ اﷲ تعالیٰ کی ذات و صفات میں بحث اور بے جا سوالات کرتا ہے۔ لہٰذا جو باتیں عبادات سے متعلق نہیں ہیں، ان کے بارے میں پوچھنا بے ادبی ہے۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

لَنْ يَبْرَحَ النَّاسُ يَتَسَاءَ لُوْنَ حَتَّی يَقُوْلُوْا : هٰذَا اﷲُ خَالِقُ کُلِّ شَيئٍ، فَمَنْ خَلَقَ اﷲَ.

(مسلم، الصحيح، کتاب الإيمان، باب بيان الوسوسه فی الإيمان، 1 : 119، رقم : 134)

’’لوگ برابر پوچھتے رہیں گے یہاں تک کہ کہیں گے اﷲ نے تو سب چیزوں کو پیدا کیا ہے مگر اﷲ کو کس نے پیدا کیا ہے؟‘‘

جو شخص ان تمام باتوں پر غور کرے جو ہم نے زبان کی آفات کے سلسلے میں ذکر کی ہیں تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ اگر وہ زبان کو کھلی چھٹی دے گا تووہ اس کی آفات سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ کیونکہ یہ تمام آفات ہلاک اور تباہ کرنے والی ہیں اور اگر وہ ان کے بارے میں خاموشی اختیار کرے تو وہ ان تمام آفات و بلیّات سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ البتہ جب زبان فصیح اور علم زیادہ ہو تو انسان تقویٰ اور پرہیزگاری کے ساتھ زبان کی حفاظت کر سکتا ہے۔ ورنہ ان سب باتوں کے باوجود وہ خطرات سے بچ نہیں سکتا۔ اﷲ جل شانہ سے زبان کی آفات سے محفوظ رہنے کی توفیق مانگتے رہنا چاہئے۔

(اَخلاقیات)

غیبت

اپنے بھائی سے متعلق ایسی بات کرنا، جو اُسے ناپسند ہو غیبت کہلاتا ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کی وہ برائی ہے جسے عقیدے میں تو برائی اور گناہ سمجھا جاتا ہے لیکن عمل میں نہیں۔ آج اِصلاح کے عنوان سے، تبصرے کے عنوان سے اور حقیقت حال سے باخبر کرنے کے عنوان سے ہمارا موضوعِ گفتگو دوسرے کا کردار و عمل ہوتا ہے، جو جس قدر دوسرے کے عیبوں پر نظر رکھے، جو جس قدر لوگوں کی عزتوں کو اُچھالے، جو لوگوں کے اِنفرادی اور ذاتی اعمال کو کھول کھول کر بیان کرے، وہ معاشرے کا معزز اور ہوشیار آدمی سمجھا جاتا ہے۔ ہماری زبانیں ہمیں کس انجام تک پہنچا سکتی ہیں۔ آئیں قرآن مجید اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث کی روشنی میں اس کا جائزہ لیتے ہیں۔

غیبت کا انجام

بخاری ومسلم کی متفق علیہ حدیث مبارکہ ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

اِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَةِ مَايَتَبَيَّنُ فِيْهَا يَنْزُلُ بِهَا اِلٰی النَّارِ اَبْعَد مِمَّا بَيْنَ الْمَشْرَقِ وَالْمَغْرَبِ

(بخاری، 5 : 2377، رقم 6112)

’’بے شک ایک بندہ بات کرتا ہے وہ یہ نہیں سوچتا کہ وہ اچھی ہے یا نہیں تو وہ اس بات کی وجہ سے دوزخ میں اتنی گہرائی تک گر جاتا ہے جتنا کہ مشرق و مغرب کے درمیان فاصلہ ہے۔‘‘

قرآن مجید میں بھی اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا۔

وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌO

(الحجرات، 49 : 12)

اور نہ بیٹھو پیچھے ایک دوسرے کی برائی کیا کرو، کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرے گا کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے سو تم اس سے نفرت کرتے ہو اور (ان تمام معاملات میں) اللہ سے ڈرو بے شک اللہ توبہ کو بہت قبول کرنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے۔

شب معراج حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک قوم پر سے گزرے جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ اپنے چہروں پر سے گوشت نوچ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں۔ جواب دیاگیا یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے (غیبت کرتے) تھے اور ان کی عزتوں پر ہاتھ ڈالتے تھے۔ اگر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان ارشادات کو ہم جسم کے کانوں سے نہیں دل اور روح کے کانوں سے سنیں تو یقیناً یہ کلمات وآیات ہمارا کردار بدلنے کے لئے کافی ہے۔

غیبت اور بہتان میں فرق

ہم جب دوسروں کے کردار کے منفی پہلوؤں کا ذکر کر رہے ہوتے ہیں تو ہم مطمئن ہوتے ہیں کہ ہم سچ بول رہے ہیں۔ یہ عیب اس کی زندگی میں ہیں جو ہم نے بیان کئے ہیں، دوسروں کی پیٹھ پیچھے یہی سچ غیبت کہلاتا ہے۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم ایک غیبت کا سہارا لے کر بیسیوں بہتان بھی لگا دیتے ہیں۔ ان گناہوں کا بھی ذکر کر دیتے ہیں جو متعلقہ شخص کی زندگی میں نہیں ہوتے۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی حقیقت کو واضح فرما دیا تھا۔

عَنْ اَبِی هُرَيْرَةَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ اَتَدْرُوْنَ مَا الغِيْبَةُ قَالُوْا اللّٰهُ وَرَسُولُه اَعْلَمُ قَالَ ذَکَرَکَ اَخَاکَ بِمَا يُکْرِهُ قَبْلَ اَفَرَاَيْتَ اِنْ کَانَ فِی اَخِی مَا اَقُوْلُ قَالَ : اِنْ کَان فِيْهِ مَاتَقُوْلُ فَقَدْ اغتَبْتَه وَاِنْ لَمْ يَکُنْ فِيْهِ مَاتَقُوْلُ فَقَدْ بَهَتَّه.

(مسلم، 4 : 2001، رقم : 2589)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیاہے؟ صحابہ نے عرض کیا۔ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی سے متعلق ایسی بات کرو جسے وہ ناپسند کرے، عرض کیاگیا جو بات میں اپنے بھائی کے متعلق کروں اگر وہ اس میں پائی بھی جائے تو بھی غیبت ہو گی؟ فرمایا اگر تم اپنے بھائی کے متعلق ایسی بات کہو جو اس کے اندر موجود ہو یہی تو غیبت ہے اور اگر تم نے اس سے متعلق ایسی بات کہی جو اس کے اندر موجود نہیں تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔‘‘

ہم نے اکثر یہ جملے سنے ہوں گے بلکہ خود بھی کہے ہوں گے کہ بھائی اسے برا لگے یا نہ لگے میں نے تو جو سچ تھا کہہ دیا۔ کیا ہمارے اندر سچ سننے کی یہی صلاحیت ہے جب ہمیں پتہ چلتا ہے کہ فلاں نے ہمارے بارے میں یہ کہا ہے تو ہمارا ردعمل کیا ہوتا؟ ہمارا یہی سچ اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک غیبت ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ اور بندے کے درمیان ایک پوشیدہ گناہ چھپا لینا ایک بچی کو زندہ درگور ہونے سے بچا لینے سے بھی افضل ہے۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی مسلمان کو ایسے گناہ کا طعنہ دے جس سے وہ توبہ کر چکا ہو (اللہ کی ذات کو بندے کے اس فعل پر اتنا غضب آتا ہے کہ) اللہ اس طعنہ دینے والے کو مرنے سے پہلے اسی گناہ میں مبتلا فرما دیتا ہے۔

(فقہی مسائل)
غسل

اِصطلاحی تعریف

پاک پانی سے تمام بدن کو دھونا غسل کہلاتا ہے۔

فرضیتِ غسل

  1. منی کا شہوت کی وجہ سے کود کر نکلنا، اگر محنت و مشقت کی وجہ سے نکلے تو غسل لازم نہیں البتہ وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
  2. اگر پتلی منی پیشاب کے ساتھ بغیر شہوت کے نکلی تو غسل فرض نہیں۔

ضروری ہدایات

  1. غسل فرض میں تاخیر نہ کی جائے، کیونکہ جس گھر میں ناپاک آدمی ہو وہاں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔
  2. اتنی دیر کی کہ نماز کا آخری وقت ہو گیا تو گنہگار ہو گا۔
  3. ناپاک (جنبی) شخص کے لئے ضروری ہے کہ کھانے سے پہلے وضو کرے یا کم از کم ہاتھ منہ دھو کر کلی کرے۔ ایسا نہ کرنا مکروہ ہے۔
  4. رمضان المبارک میں صبح ہونے سے پہلے نہا لینا چاہئے اور اگر نہ نہایا تو روزہ میں کچھ نقصان نہیں مگر بہتر یہ ہے کہ ناک میں اندر تک پانی اور حلق تک پانی رات کو ہی (روزے کا وقت شروع ہونے سے پہلے) پہنچائے کیونکہ دن میں غسل کرتے وقت روزہ کی وجہ سے ایسا کرنے کی اجازت نہیں۔

غسل کے فرائض

اس میں تین چیزیں فرض ہیں :

1۔ غرارہ کرنا

غرارے سے مراد پانی کو زبان کے نیچے، داڑھوں کے پیچھے، رخسار کی تہہ، دانتوں کی جڑ اور درمیانی خالی جگہوں میں پہنچانا ہے۔ اگر جان بوجھ کر کسی جزو کو چھوڑ دیا گیا تو غسل درست نہیں ہو گا، دانتوں میں اگر کوئی ایسی چیز لگی ہو جو آسانی سے اُتر نہیں سکتی، جیسے پان کھانے والوں کے دانتوں پر چونے کی تہہ جم جاتی ہے تو یہ معاف ہے، اگر کوئی دانت تار سے باندھا گیا ہو یا مسالہ سے جوڑاگیا ہو تو اس کے نیچے بھی پانی پہنچانا ضروری نہیں۔

2۔ ناک میں پانی ڈالنا

یعنی نتھنوں کا نرم حصہ دُھل جانا چاہئے اگر ناک میں رطوبت سوکھ جائے تو اس کو صاف کرنا ضروری ہے۔

3۔ بدن کا دھونا

یعنی سر کے بالوں سے پاؤں کے تلوؤں تک ہر حصے پر اِس طرح پانی بہانا کہ جسم کا کوئی بال خشک نہ رہے۔ اس سلسلہ میں بہت زیادہ اِحتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ بعض اعضاء ایسے ہیں جن پر اگر توجہ نہ دی جائے تو وہ دُھلنے سے رہ جاتے ہیں لہٰذا پہلے ان کو مل لینا چاہئے پھر ان پر بطور خاص پانی بہانا چاہئے۔

غسل میں یاد رکھنے والی باتیں

  1. تمام بالوں کی نوک سے جڑ تک پانی بہانا فرض ہے
  2. جسم میں جہاں سلوٹیں اور جھریاں ہوں ان کے اندر پانی پہنچانا ضروری ہے۔
  3. اگر کسی عضو پر زخم ہو یا پانی بہانا نقصان دہ ہو تو اس پورے عضو کا مسح کر لینا چاہئے اگر زخم پر پٹی ہو تو صرف پٹی کا ہی مسح کافی ہو گا مسح کا طریقہ یہ ہے کہ ہاتھ پانی سے دھو کر جھٹک دیں اور پھر انہیں پٹی پر پھیر دیں۔
  4. نزلہ ہو یا اور کوئی بیماری جس میں غالب گمان ہو کہ سر سے نہانے کی صورت میں مرض میں زیادتی ہو گی یا اور امراض پیدا ہو جائیں گے تو گردن سے نہا لیں اور سر پر گیلا ہاتھ پھیر لیں۔
  5. روٹی پکانے والوں کے ناخنوں میں آٹا، کاتبوں کے ناخنوں پر سیاہی، اسی طرح دوسرے کام کرنے والوں کے ناخنوں پر اگر کوئی ٹھوس چیز ہو اور اس کے صاف کرنے میں دقت ہو تو بغیر صاف کئے وضو اور غسل صحیح ہو جائے گا۔
  6. لوگوں کی موجودگی میں (ندی، نہر یا ٹیوب ویل پر) نہاتے ہوئے ناف سے گھٹنوں تک جسم ڈھانپا فرض ہے۔

غسل کا طریقہ

غسل کرنے کا مسنون طریقہ درج ذیل ہے :

جنبی (جس پر غسل فرض ہو) وہ غسل کی نیت کرے یعنی ارادہ کرے کہ میں نجاست سے پاکی کے لیے غسل کر رہا ہوں۔ دونوں ہاتھوں کو دھوئے۔ اِستنجاء کرے، اگر بدن کے کسی حصے پر نجاست ہو تو اُسے دور کرے، تین مرتبہ پہلے دائیں کندھے پر پھر بائیں کندھے پر پانی بہائے، پورے جسم کو اچھی طرح مل کر دھوئے، کلی کرتے اور ناک میں پانی ڈالتے ہوئے خوب مبالغہ کرے یعنی اچھی طرح گلے تک اور ناک کی نرم ہڈی تک پانی پہنچائے۔ ( روزہ دار ایسا نہ کرے)۔ دوران غسل بات نہ کرے اور قبلہ کی طرف منہ نہ کرے۔

جنبی مرد و عورت (جن پر غسل فرض ہو) کے لئے ممنوعہ اشیاء

  1. مسجد میں جانا۔
  2. طواف کرنا۔
  3. قرآن مجید چھونا۔
  4. بغیر چھوئے دیکھ کر یا زبانی پڑھنا۔
  5. کسی آیت کا لکھنا۔
  6. قرآنی آیات کا تعویذ لکھنا۔
  7. قرآنی آیات والے تعویذ کا چھونا۔
  8. ایسی انگوٹھی پہننا یا چھونا جس پر حروف مقطعات نقش ہوں، البتہ اگر تعویذ پر چاندی کا خول چڑھا لیا جائے یا اس پر سیسہ یا پترا چڑھا لیا جائے تو ان چیزوں کے پہننے یا چھونے میں حرج نہیں۔
  9. بے وضو شخص قرآن مجید کو جزدان یا اپنے رومال سے پکڑ کر رکھ سکتا ہے لیکن اپنے لباس سے نہیں اٹھا سکتا مثلاً کوئی شخص اپنے دامن سے پکڑ کر اٹھائے تو یہ ناجائز ہے۔
  10. قرآن کی آیت یا چند آیات بہ نیت تبرک یا بہ نیت دعا پڑھی جا سکتی ہیں مثلاً
بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ، اِنا ﷲِ وَ اِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ يا آيةُ الْکُرْسِی وغيرہ
  1. قرآن کا لفظی ترجمہ خواہ کسی زبان میں بھی وہ اس کے چھونے اور پڑھنے کے وہی احکام ہیں جو عربی قرآن کے ہیں البتہ تفسیر والے قرآن کا چھونا ممنوع نہیں لیکن جہاں آیت لکھی ہو وہاں انگلی یا ہاتھ رکھنا ممنوع ہے۔

( خدمتِ دین )
تحریکِ منہاج القرآن کا تجدیدی کردار (حصہ دوم)

اَخلاقی و روحانی اَقدار کا اِحیاء

تحریکِ منہاجُ القرآن نے جس دور میں اپنی جدوجہد کا آغاز کیا اس دور میں معاشرے کی دوسری اَقدار کی طرح اَخلاقی و روحانی اَقدار بھی رُو بہ زوال تھیں۔ جہاں ایک طرف معاشرہ تمام اَخلاقی حدود پھلانگ چکا تھا، وہاں دُوسری طرف تصوّف اور رُوحانیت کا درس دینے والے مشائخِ عظام کی آنے والی نسلوں نے اُسے کاروبار بنا لیا تھا (اِلّا ماشاء اللہ)۔ چودہ سو سالہ اِسلامی تاریخ میں جس طبقے نے اَخلاقی کمال کا معیار متعین کیا تھا اور انسانیت کو اخلاق کا درس دیا تھا وہ خود اس ورثے سے محروم ہوگیا۔ جادو، تعویذ گنڈے، جنات و عملیات نے باقاعدہ ایک دھندے کی شکل اختیار کر لی تھی۔ حتی کہ مسلمانوں کے کئی گروہوں نے تصوف و رُوحانیت کا کھلا انکار کر دیا اور سادہ لوح مسلمانوں کے لیے اِعتراضات کی بوچھاڑ میں اس نسبت کو قائم رکھنا مشکل ہوگیا تھا۔

ایسے دور میں تحریکِ منہاجُ القرآن نے اَخلاقی و رُوحانی اَقدار کے اِحیاء کے لیے علمی و عملی اور سائنسی بنیادوں پر جدوجہد کا آغاز کیا۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے دروسِ تصوف کے ذریعے تصوف کی ہر ہر جہت کی قرآن و حدیث سے مکمل وضاحت کی۔ اس وقت آپ کی کئی کتب علم تصوف کے مختلف گوشوں پر چھپ چکی ہیں۔ روحانی زندگی کے سفر کی مکمل گائیڈبک ’سلوک و تصوف کا عملی دستور‘ تصوف پر اِسلامی کتب کی تاریخ میں ایک عظیم اضافہ ہے۔

تصوف کے اِحیاء میں اس علمی کام کے ساتھ ساتھ تحریکِ منہاجُ القرآن نے عملی میدان میں جو کارنامہ سرانجام دیا وہ روئے زمین پر تجدید و اِحیائے دین کا دعویٰ کرنے والی کوئی جماعت نہ کر سکی۔ دنیا بھر میں تین روزہ و دس روزہ روحانی تربیتی کیمپوں کے اِنعقاد، ماہانہ اور ہفتہ وار شب بیداریوں میں محافلِ ذکر و رِقت آمیز دعاؤں اور سالانہ روحانی و تربیتی مسنون اِعتکاف کے ذریعے ایک مرکز پر ہزاروں طالبین، سالکین اور متلاشیانِ حق کی تربیت کا اِہتمام دنیا کی کسی بھی روحانی تحریک یا جماعت کے پاس نہیں۔ اِس سلسلے میں ملاحظہ ہو www.itikaf.com

اِس نظام العمل کی کامیابی کی روشن دلیل قائدِ تحریک اور کارکنانِ تحریک کا پاکیزہ کردار اور اَخلاق ہے۔ اِس دورِ فتن میں بھی کوئی بڑے سے بڑا دُشمن قائدِ تحریک یا کارکنانِ تحریک پر متعصب، فتنہ پرور یا مسلک پرست ہونے کا اِلزام نہیں لگا سکتا۔ یہ اِسی روحانی تربیت کا نتیجہ ہے کہ پچیس سالہ سفر میں ملک کی کسی بھی تنظیم، جماعت اور پارٹی سے بڑھ کر جلسے جلوس کرنے کے باوُجود ملکی اَملاک کے معمولی نقصان کا دھبہ اس کے کردار پر نہیں ہے۔

اَخلاقی و رُوحانی اَقدار کے اِحیاء کا تیسرا پہلو سائنسی ہے۔ علم تصوّف کے منکروں اور غیر مسلموں سے سائنسی زبان میں بات کر کے تصوف کو ایک اٹل حقیقت ثابت کرنے کا سہرا بھی تحریکِ منہاجُ القرآن کے سر ہے۔ شیخ الاسلام نے بیسیوں خطابات میں تصوف اور سائنس کے موضوع پر وہ دلائل دیے کہ کسی کو اِنکار کی جرات نہ ہو سکی۔

2 تحریکِ منہاجُ القرآن اور تجدید و اِحیاءِ دین

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ذریعے اِصلاحِ اَحوال کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ تحریکِ منہاجُ القرآن نے تجدید و اِحیاء دین کے میدان میں ہر ہر سطح پر وہ کار ہائے نمایاں سر انجام دیئے، جس کی مثال سابقہ کئی صدیوں میں نہیں ملتی۔

اِسلام کا علمی و فکری دفاع

تحریکِ منہاجُ القرآن نے جس دور میں اپنے سفر کا آغاز کیا وہ امت مسلمہ پر علمی وفکری زوال کا دور تھا۔ دینِ اِسلام کے ہر ہر پہلو پر رقیق حملے ہو رہے تھے۔ سائنسی علوم کی تیز رفتار ترقی سے دینی اور عصری علوم میں وسیع خلیج پیدا ہو چکی تھی۔ دینی تعلیمی اِداروں میں سینکڑوں سال پرانا نصاب پڑھایا جا رہا تھا اور اہلِ علم اسی پر اِکتفا کرنے پر بضد تھے۔ دینی علم کی سہل اور جدید انداز میں اُردو زبان میں اِشاعت نہ ہونے کے برابر تھی جس کے باعث روایتی دینی علم مخصوص طبقے تک ہی محدود تھا اور وہ طبقہ اپنے محدود علم، دائرہ کار اور وسائل کے باعث اس کے روشن پہلو کی اشاعت نہ کر سکا۔ لہٰذا کبھی اس پر بنیاد پرستی کا الزام لگا اور کبھی دہشت گردی کا۔ ایسے دور میں تحریکِ منہاجُ القرآن نے اسلام کے علمی و فکری اِحیاء کے لیے تین سطحوں پر تجدیدی کام کا آغاز کیا۔

ایک طرف منہاج یونیورسٹی کی بنیاد رکھ کر برصغیر کی کئی سو سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ دینی و دنیاوی علوم کو یکجا کرکے تدریس کا آغاز کیا اور مستقبل میں دینی و دنیاوی علوم سے آراستہ نئی نسل کی تیاری کے کام کی بنیاد رکھ دی۔

دُوسری طرف شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری مدظلہ العالی نے دنیا بھر میں اسلام کے علمی و فکری، نظریاتی و اِعتقادی، مذہبی و سیاسی، اَخلاقی و روحانی، معاشرتی و سماجی، معاشی و اقتصادی، عمرانی و سائنسی اور قانونی و تاریخی موضوعات پر ہزاروں لیکچر دیئے، جو آڈیو ویڈیو کیسٹس اور سی ڈیز کی صورت میں لاکھوں مقامات پر سنے اور دیکھے جا رہے ہیں۔ شیخ الاسلام نے دنیا کی متعدد یونیورسٹیوں میں طلباء کو ان موضوعات پر لیکچرز دیئے اور آپ کے یہ لیکچرز دنیا کے متعدد ملکی و غیر ملکی ٹیلی ویژن، چینلز پر نشر ہو چکے ہیں اور اس وقت بھی نشر ہو رہے ہیں۔

مجددانہ بصیرت کی تیسری جہت تحقیق و تدوین ہے۔ جس دور میں کسی ایک مستقل رسالے کی اِشاعت مشکل تھی ایسے دور میں شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری مدظلہ العالی کی اِسلام کے جملہ پہلوؤں۔ قرآنیات، اِعتقادیات، سیرت و فضائل، عبادات، تعلیمات، اِقتصادیات، فقہیات، روحانیات اور فکریات کے علاوہ قانون و سیاست اور اسلام اور سائنس کے موضوعات پر علمی فکری اور تحقیقی انداز میں تین سو سے زائد کتب دنیا کی مختلف زبانوں میں منظر عام پر آچکی ہیں۔ جب کہ ایک ہزار سے زائد مسودات ترتیب و تدوین کے مراحل میں ہیں۔ بلامبالغہ اِس قدر وسیع سطح پر علمی و فکری اور تحقیقی جہاد فقط مجددانہ بصیرت اور فیض سے ممکن ہے۔ سود کی حرمت پر کتاب لکھنا آسان ہے مگر بلاسودی نظام دینا مجدد و مجتہد ہی کا کام ہے۔ اسلام اور سائنس کے عنوان پر کتاب لکھنا اِتنا بڑا کام نہیں جتنا عظیم کارنامہ اِسلام کے ہر ہر علم کو جدید سائنسی اُصولوں پر منوانا ہے۔ صرف صوفیاء کی کرامات بیان کرنا تصوف کی خدمت نہیں بلکہ ایک گنہگار شخص سے ولی کامل بننے تک تصوف کے جملہ مراحل کی گائیڈ بک فراہم کرنا مجدّد کے تصوف کے جملہ مراحل سے عملاً واقف ہونے کی تصدیق ہے۔

تحریکِ منہاجُ القرآن کی تعلیمی خدمات

منہاج یونیورسٹی

منہاجُ القرآن کے تعلیمی منصوبہ جات میں سب سے اہم منہاج یونیورسٹی کا قیام ہے۔ 110 کنال کے وسیع رقبے پر منہا ج یونیورسٹی کے پھیلے ہوئے اولڈ اور نیوکیمپس کا سنگِ بنیاد جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن لاہور کے نام سے 1986ء میں رکھا گیا، جب اِدارہ منہاجُ القرآن کی مرکزی باڈی نے اس عظیم تعلیمی منصوبے کو حتمی شکل دی اور فروغِ علم کے عظیم مشن کے حصول کی خاطر وسیع رقبہ اَراضی حاصل کیاگیا۔ الحمد للہ تعالی! یہ دانش گاہ اپنے قیام کے چند سال بعد ہی اپنے منفرد و مؤثر نظامِ تعلیم و تربیت، اَعلیٰ کارکردگی اور اِمتیازی نظم و نسق کی بدولت یونیورسٹی کی حیثیت اِختیار کرچکی ہے۔ اس یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات علومِ اِسلامیہ عصریہ، علوم شریعہ اور جدید فنی وسائنسی علوم کی تعلیم و ترویج کا اَہم فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ کامرس، کمپیوٹر سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے کورسز کا اِلحاق پنجاب یونیورسٹی سے ہے۔ جب کہ علومِ اسلامیہ اور علومِ شریعہ میں کالج آف شریعہ کی ڈگری (الشہادۃ العالمیہ) کو 1992ء سے نہ صرف ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) سے بطور ایم۔ اے اسلامیات و عربی کی ڈگری کی حیثیت سے منظوری حاصل ہے بلکہ مصر کی بین الاقوامی جامعہ الازہر سے equivalence حاصل ہے۔ مزید یہ کہ بغداد کی مستنصریہ یونیورسٹی نے منہا ج یونیورسٹی کی الشہادۃ العالمیہ کو مساوی درجہ دیتے ہوئے مستنصریہ میں اَعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے تسلیم کیا ہے۔ ملکی اور بین الاقوامی یونیورسٹیوں کے ساتھ منہاج یونیورسٹی کی affiliations / collaborations اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اس کا نظامِ تعلیم اَعلیٰ اور معیاری ہے۔ منہاج یونیورسٹی چونکہ مختلف ڈگری پروگرامز پہلے سے ہی پنجاب یونیورسٹی سے اِلحاق کے تحت کرا رہی تھی جنہیں HEC سے بھی منظوری حاصل تھی اور غیر ملکی یونیورسٹیاں بھی اس کی ڈگری کو تسلیم کرچکی تھیں۔ لہٰذا حکومتِ پنجاب سے رجوع کیا گیا کہ منہاج یونیورسٹی کو چارٹر کیا جائے۔ الحمد للہ! اس سلسلے میں حال ہی میں سرخروئی حاصل ہوئی اور چارٹر کیس حکومتِ پنجاب کی کابینہ کی منظوری کے بعد پنجاب اسمبلی سے منظور ہوگیا ہے۔ کسی بھی دینی تحریک یا جماعت کی یہ واحد یونیورسٹی ہے جسے سب سے پہلے حکومت نے چارٹر دیا ہے، جس کے بعد یونیورسٹی نے ایم فل اور پی ایچ ڈی کی کلاسز کا بھی آغاز کر دیا ہے۔ یونیورسٹی کی ویب سائٹ : www.mul.edu.pk

منہاج ایجوکیشن سوسائٹی

قائدِ تحریکِ منہاجُ القرآن نے پاکستان میں رائج تعلیمی نظام اور نصاب کو اِصلاح اَحوالِ اُمت میں سب سے بڑی رکاوٹ محسوس کیا اور فیصلہ کیا کہ ملک بھر میں ایسے تعلیمی اِداروں کا جال بچھایا جائے، جن سے اَفراد ملت کو دینی و دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ قومی و ملی شعو رسے آراستہ کیا جائے۔ بلاشبہ یہ ایک بہت بڑا منصوبہ اور بہت بڑی ذمہ داری تھی، جس کی تکمیل کے لیے حکومتی وسائل بھی ناکافی ہوتے ہیں۔ قائدِ تحریک نے 1994ء میں پانچ مختلف سطحوں پر جامع تعلیمی منصوبہ کا آغاز کیا اور منہاج ایجوکیشن سوسائٹی (MES) کا قیام عمل میں لایا۔ آج الحمدللہ MES کے زیراِہتمام ملک بھر میں 572 سکول نئی نسل میں فروغِ شعور اور فکری و نظریاتی بے داری کے ساتھ ساتھ قومی ترقی کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ منہاج سکولز سسٹم میں بنیادی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ طلباء کو معاشرے کا مفید شہری بنانے کے لیے سائنسی، طبی اور پیشہ وارانہ رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔ ملک کے ہر گوشے میں MES کے تحت چلنے والے یہ تعلیمی اِدارے قائدِ تحریک کی تجدیدی خدمات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ یہ ِادارے فلاحِ اِنسانی کے ساتھ ساتھ فکری و نظریاتی سطح پر عظیم انقلاب کا پیش خیمہ ہیں۔ www.minhaj.edu.pk

تحریکِ منہاجُ القرآن اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعلق کی پختگی

اِس حقیقت سے کوئی اِنکار نہیں کر سکتا کہ جس دور میں تحریکِ منہاجُ القرآن نے عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شمع روشن کرنے کا عزم کیا اُس دور میں اس عقیدے کے پاسبان بے بسی کی زندگی گزار رہے تھے۔ بعض گمراہ فرقوں نے شرک و بدعت کے نام پر ایسا طوفان مچا رکھا تھا کہ عقیدۂ رسالت کا علمی دفاع مشکل دکھائی دیتا تھا۔ ایسے دورمیں تحریکِ منہاجُ القرآن نے عشق و محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عقیدے کا علمی و فکری اور عملی میدان میں ہر سطح پر دفاع کر کے دنیا بھر سے بدعقیدگی کے طوفان کا رُخ موڑ دیا۔

عقیدۂ رسالت کا علمی وعملی دفاع

عالمِ کفر اِسلام کی اِبتدا سے ہی اِس جدوجہد میں مصروف ہے کہ کسی طرح رُوحِ محمد اِسلام کے بدن سے نکال دی جائے، عالمِ کفر کی اِنہی سازشوں کے باعث ملک کے طول و عرض میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس مناظروں کا موضوع بن چکی تھی، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات، علم، شفاعت، توسل اور اِستعانت کی شانوں کا نہ صرف کھلا اِنکار کیا جا چکا تھا بلکہ دُشمنانِ رسول انہیں شرک قرا ر دیتے، کہیں میلادُ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عقیدے کو بدعت قرار دیا جاتا تو کہیں محفلِ نعت اور ذکرِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر فتوی زنی کی جاتی۔ الغرض عقیدۂ رسالت ہر جہت سے دُشمنانِ اسلام کے حملوں کی زد میں تھا۔

ایسے میں قائدِ تحریکِ منہاجُ القرآن مجددِ دین و ملت شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری مدظلہ نے پاسبانی کا فریضہ سرانجام دیتے ہوئے تحریر، تقریر، مناظرے اور مباہلے ہر میدان میں کفر کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ آپ نے علمی و فکری اور عملی سطح پر محبتِ رسول کو ایک تحریک کی شکل دے کر ایسی جدوجہد کا آغاز کیا کہ نہ صرف پاکستان کے طول و عرض بلکہ دُنیا بھر میں ذکر مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غلغلہ مچ گیا۔

آپ نے ایک طرف عقیدۂ رسالت کے باب میں حیاۃُ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، مسئلہ اِستغاثہ، عقیدۂ شفاعت، توسل، علمِ غیب اور حقیقتِ توحید و رسالت جیسے موضوعات پر 60 سے زائد کتب تحریر فرما کر علمی بدعقیدگی کے طوفان کا رُخ موڑا تو دُوسری طرف ورفعنا لک ذکرک کے فیض سے دامن بھر کر سیرت و میلاد، فضائل و شمائل اور خصائصِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسے سینکڑوں موضوعات پر ہزاروں کی تعداد میں خطابات فرما کر عقیدۂ رسالت کا ایسا دفاع کیا کہ مُنکرینِ ذکرِ رسول بھی سیرت و میلاد کانفرنسوں کے اِنعقاد پر مجبور ہو گئے۔ یہ تحریک منہاج القرآن کی 26 سالہ جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ جہاں ماہِ میلاد میں مساجد میں چند پروگراموں کا اِنعقاد غنیمت سمجھا جاتا تھا۔ اب وہاں ملک کے بڑے بڑے شادی ہالوں، کھلے میدانوں اور گھروں میں پورا سال ہزاروں نہیں لاکھوں کی تعداد میں محافلِ میلاد منعقد ہوتی ہیں۔ علاوہ ازیں منہاج القرآن کو یہ اِعزاز حاصل ہے کہ گزشتہ 22 سال سے دُنیا کی سب سے بڑی محفلِ میلاد منعقد کرواتی ہے، جس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کی خوشی میں ہزاروں جانور قربان کرتے ہوئے شرکاء کے لیے ضیافت کا اِہتمام کیا جاتا ہے۔ www.deenislam.com پر اِس عالمی محفلِ میلادُ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو براہِ راست نشر بھی کیا جاتا ہے۔

گوشۂ درود کا قیام

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عشقی و حبی تعلق کا فروغِ تحریکِ منہاج القرآن کا طرۂ اِمتیاز ہے۔ تحریک نے اپنے 26 سالہ سفر میں ایسا ذکرِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا ہے کہ تحریکِ منہاج القرآن کو رسول نما (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لے جانے والی) تحریک ہونے کا اِعزاز حاصل ہے۔ تحریکِ منہاج القرآن کویہ اِعزاز بھی حاصل ہے کہ روئے زمین پر حرمین شریفین کے بعد تحریکِ منہاج القرآن کے مرکز میں ’’گوشۂ درود‘‘ ایک ایسی جگہ ہے جہاں 24گھنٹے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں درودِ مبارک پڑھا جا رہا ہے۔ اِس گوشۂ درود میں ہر لمحہ 18 افراد روزے کی حالت میں قرآنِ مجید اور درود پاک پڑھتے رہتے ہیں۔ پوری دنیا سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عاشق دس دس دنوں کے لئے حاضر ہو کر روزے کی حالت میں ہمہ وقت درود شریف پڑھتے ہیں۔ یوں ہر ماہ شیڈول کے مطابق 54 افراد ہر لمحہ حضور کی بارگاہ درود پاک پہنچاتے رہے ہیں۔ اِس کے علاوہ پوری دُنیا میں کارکنانِ تحریک گھروں، دفاتر اور مساجد میں اِجتماعی طور پر لاکھوں کی تعداد میں درود پاک پڑھ کر گوشۂ درود میں بھیجتے رہتے ہیں۔

گوشۂ درود کی فاصلاتی ممبرشپ کے حصول اور درود شریف بھیجنے کے لئے ملاحظہ فرمائیں www.gosha-e-durood.com

تحریکِ منہاجُ القرآن۔ ۔ ۔ وِلایتِ رحمٰن کی اَمین

پچیس سال کے عرصہ میں تحریکِ منہاجُ القرآن کی اِس قدر وسیع خدمات اور حضور شیخ الاسلام مدظلہ العالی کی ہمہ جہت مجدّدانہ جدوجہد اس بات کی مظہر ہے کہ یہ سارا کام محض اللہ کے فضل و کرم اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عطائے خاص سے ہی ممکن ہے۔ یہ يَدُ اﷲِ عَلَی الْجَمَاعَةِ کا اُلوہی فیض ہے، جس کی بدولت دنیا کی پیدا کردہ ہزارہا مشکلات اور رکاوٹوں کے باوُجود یہ تحریک تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہی ہے۔ اِس تحریک پر حضور سیدنا غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ اورجملہ اَولیائے کرام کی نگاہِ کرم ہے کہ اِس قدر مخالفت و دُشمنی کے باوُجود فروغ پذیر ہے اور اِس کے دُشمن خس و خاشاک کی طرح بہہ رہے ہیں۔

دعوتِ فکر و عمل

معزز قارئین! تحریکِ منہاج القرآن کی نظامتِ دعوت نے اِس مختصر تعارُف کے ذریعے اِس دورِ فتن سے نجات پانے اور اپنے اور آئندہ آنے والی نسلوں کے ایمان کے تحفظ کے لیے ایک سوچ، فکر اور واضح لائحہ عمل آپ کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ اگر آپ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ دورِ حاضر دورِ فتن ہے اور آج ولایتِ رحمٰن کی پناہ کے بغیر ہم اپنے دین و ایمان کو محفوظ نہیں رکھ سکتے اور اس اَمر سے بھی متفق ہیں کہ کفر کے اِجتماعی نظام سے اِجتماعی طور پر مقابلہ کرنے کے لیے ولایتِ رحمٰن کی حامل تحریک یا جماعت سے وابستگی ضروری ہے تو ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ آئیں! تحریکِ منہاجُ القرآن میں شمولیت اختیار کریں۔ اس تحریک کے ذریعے اِن شاء اللہ آپ کو نہ صرف ولایتِ رحمٰن کا فیض میسر آئے گا بلکہ فتنہ و شر کے خلاف اِجتماعی جدوجہد کا حصہ بن کر اِیمان کے تحفظ کی ضمانت بھی میسر آئے گی۔

اگر آپ تحریکِ منہاجُ القرآن کے فکر کو درست اور اُس کے کارکنوں کو اہلِ حق سمجھتے ہیں تو آئیں! اللہ تعالیٰ کے حکم۔ وَتَعَاوَنُواْ عَلَى الْـبِـرِّ وَالتَّقْوَى (نیکی اور پرہیزگاری (کے کاموں) پر ایک دوسرے کی مدد کیا کرو)۔ کے مطابق معاشرے میں خیر اور بہتری کے اِس کام میں اپنی جدوجہد کو بھی شامل کریں۔

تحریکِ منہاجُ القرآن میں شمولیت نہایت آسان اور سادہ ہے۔ آپ مرد ہیں یا عورت، عمر کے جس حصہ میں بھی ہیں، زندگی کے جس شعبہ سے تعلق رکھتے ہیں، آپ اپنے منصب اور مزاج کے لحاظ سے اس دینی جدوجہد کا حصہ بن سکتے ہیں۔ مَردوں کے لیے ’’تحریکِ منہاجُ القرآن‘‘، خواتین کے لیے ’’منہاجُ القرآن ویمن لیگ‘‘، علماء کرام کے لیے ’’منہاجُ القرآن علماء کونسل‘‘، سماجی و اِنقلابی مزاج رکھنے والوں کے لیے ’’پاکستان عوامی تحریک‘‘، نوجوانوں کے لیے ’’منہاجُ القرآن یوتھ لیگ‘‘، فلاحِ انسانیت کا درد رکھنے والوں کے لیے ’’منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن‘‘، وکلاء کے لیے ’’منہاج لائرز فورم‘‘ اور طلباء کے لیے ’’مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ‘‘ کے دروازے آپ کے لیے ہمہ وقت کھلے ہیں۔ شمولیت کے لیے شعبہ رفاقت کے سٹال پر رفاقت فارمز موجود ہیں۔ آپ انہیں مکمل کر کے جمع کروائیں اور اِصلاحِ احوالِ اُمت اور غلبۂ دین حق کی بحالی کی اِس عظیم جدوجہد کا حصہ بن جائیں۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved