Protection of Life and Property of non-Muslims in an Islamic State

غیر مسلموں پر اپنا عقیدہ مسلط کرنے اور اُن کی عبادت گاہیں منہدم کرنے کی ممانعت

فصل سوم: اِسلامی ریاست میں غیر مسلم شہریوں کے بنیادی حقوق سے متعلق قواعد

(Legal Maxims)

مسلم ریاست میں غیر مسلم شہریوں کے حقوق سے متعلق قرآن و حدیث کے واضح اَحکامات،  عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  اور دورِ صحابہ میں غیر مسلم شہریوں سے حسن سلوک کے نظائر کے ذریعے اس امر کی وضاحت ہو چکی ہے کہ اسلام غیر مسلموں کو نہ صرف مسلمانوں جیسے تمام حقوق عطا کرتا ہے بلکہ انہیں ہر قسم کا تحفظ بھی دیتا ہے. کئی صدیوں پر مشتمل اسلامی تاریخ میں اس کی ہزاروں مثالیں موجود ہیں. گزشتہ صفحات میں کی گئی بحث سے استنباط کرتے ہوئے اسلامی ریاست میں غیر مسلم شہریوں کے بنیادی حقوق سے متعلق درج ذیل قواعد اور شرعی اصول (legal maxims) اَخذ کیے جا سکتے ہیں:

قاعدہ نمبر 1:

غیر مسلم شہریوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ مسلم ریاست کی ذمہ داری ہے.

قاعدہ نمبر 2:

اسلامی ریاست میں مسلم اور غیر مسلم کا قصاص اور دیت برابر ہے.

قاعدہ نمبر 3:

اسلامی ریاست میںمسلم اور غیر مسلم کے خون کی حرمت یکساں ہے.

قاعدہ نمبر 4:

اسلامی ریاست میں مسلم اور غیر مسلم شہری کے حقوق و فرائض یکساں ہیں.

قاعدہ نمبر 5:

غیر مسلموں کو اندرونی و بیرونی جارحیت سے تحفظ دینا مسلم ریاست کی ذمہ داری ہے.

ُُقاعدہ نمبر 6:

اسلامی ریاست میں غیر مسلم شہریوں کو اپنے مذہب پر قائم رہنے کی مکمل آزادی ہے.

قاعدہ نمبر 7:

غیر مسلموں کو اسلامی ریاست میں عبادات اور مذہبی رسومات کی مکمل آزادی ہے.

قاعدہ نمبر 8:

سفارت کاروں کو تحفظ فراہم کرنا مسلم ریاست کی ذمہ داری ہے.

قاعدہ نمبر 9:

غیر مسلم عبادت گاہوں اور مذہبی رہنماؤں کو تحفظ فراہم کرنا اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے.

قاعدہ نمبر 10:

معذوری، بڑھاپے اور غریبی میں غیر مسلموں کا خیال رکھنا اِسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے.

قاعدہ نمبر 11:

تمام مذاہب کی حرمت کا تحفظ اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے.

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved