Rights of the Old and the Disabled in Islam

پیش لفظ

انسانی حقوق کا نظام عدل و انصاف کے اصول پر قائم اور عدل و انصاف کی فراہمی کی ضمانت کے لیے وجود میں آتا ہے۔ تاہم جب معمر افراد کے حقوق کا معاملہ درپیش ہو تو اسلام کا رویہ محض عدل و انصاف تک محدود نہیں رہتا بلکہ سراسر احسان پر مبنی قرار پاتا ہے۔ قرآن حکیم میں والدین کے حقوق کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اگر والدین میں سے دونوں یا ان میں سے ایک بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں تو اولاد کو چاہیے کہ وہ ان سے احسان پر مبنی سلوک اختیار کریں اور چاہیے ان کی طرف سے ناپسندیدہ طرز عمل پر اُف تک نہ کریں۔ قرآن حکیم نے والدین سے سلوک کرتے ہوئے احسان کی روش کو اپنانے اور اُف تک نہ کرنے کی تعلیم دے کر ان تمام افراد کے حقوق کا احاطہ کر دیا ہے جو بڑھاپے کی دہلیز کو چھو چکے ہوں اور معاشرے میں والدین کے مقام کے حامل ہوں۔ یہ امتیاز اسلام کا ہی ہے اسلام نے نہ صرف حقوق انسانی کے جملہ پہلوؤں کا احاطہ کیا بلکہ ان سے متعلقہ تعلیم کو بھی اتنا قابل عمل بنایا کہ اہل ایمان کی دنیاوی اور اخروی نجات کا سامان ان تعلیمات پر عمل در آمد میں ہے۔ آج جب کہ انسانی شعور نے وقار انسانی سے آگاہی پاتے ہوئے ہر سطح پر حقوق سے متعلق مکالمے کا آغاز کر دیا ہے اور کئی اقدامات بھی سامنے آرہے ہیں مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج کی جدید دنیا میں حقوق انسانی سے متعلق اکثر اقدامات محض ترغیبی یا تحسینی نوعیت کے ہیں جب کہ اسلام محض ترغیب و تحسین پر اکتفاء نہیں کرتا بلکہ عملی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔

عمر رسیدہ افراد کے علاوہ معذور افراد بھی معاشرے کی غیر معمولی توجہ کے طلب گار ہوتے ہیں کیوں کہ وہ معاشرے میں بہت سے امور میں دوسرے اَفرادِ معاشرہ کے محتاج ہوتے ہیں۔ معذور اَفراد کے حقوق کا اِلزام آج کی جدید دنیا میں ایک نیا تصور ہے۔ اقوام متحدہ کی دسمبر 1975ء کی جنرل اسمبلی کی قراردار کے مطابق Declaration on the Rights of Disabled Persons معذور افراد کے محتلف حقوق کا احاطہ کرتا ہے۔ جبکہ اسلام نے صدیوں پہلے معذور افراد کے لیے احترام، وقار اورجملہ حقوق کے تحفظ کے لیے ہدایات و قوانین عطا کیے۔ جس کے عملی نظائر سے سیرت الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَن گنت مثالوں کی حامل ہے۔

حضرت شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی زیر نظر تصنیف عمر رسیدہ اور معذور افراد کے حقوق کی تفصیلات کا احاطہ کرتی ہے۔ اس تصنیف لطیف سے نہ صرف اسلام کی تعلیمات کو سمجھنے میں مدد ملے گی بلکہ معاشرے میں عمر رسیدہ اور معذور افراد سے متعلق افراد معاشرہ کے رویہ اور طرز عمل کی اصلاح اور بہتری کے امکانات بھی پیدا ہوں گے، جس سے ہم ایک حقیقی اسلامی فلاحی معاشرہ کی تشکیل کی طرف پیش رفت کرسکیں گے۔

(ڈاکٹر طاہر حمید تنولی)
ناظمِ تحقیق
تحریک منہاج القرآن

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved