Silsila Ta‘limat-e-Islam (9): Nikah awr Talaq

نکاح کے احکام

سوال 27: نکاح کا شرعی معنی کیا ہے؟

جواب: نکاح کا شرعی معنی یہ ہے:

هُوَ عَقْدٌ یَرِدُ عَلٰی مِلْکِ الْمُتْعَةِ قَصْدًا.

1۔ ابن نجیم، البحر الرائق شرح کنز الدقائق، 3:85
2۔ الجرجاني، التعریفات، 1: 315
3۔ الفتاوی الھندیۃ، 1: 267

شرع میں نکاح ایسے عقد کو کہتے ہیں جو قصداً ملکِ متعہ یعنی نفع اٹھانے پر وارد ہوتا ہے۔

امام ابو منصور الازہری نے بھی نکاح کا شرعی معنی بیان کیا ہے جسے علامہ بدر الدین العینی نے بھی نقل کیا ہے:

أَصْلُ النِّکَاحِ فِي کَلَامِ الْعَرَبِ: الْوَطْئُ، وَقِیْلَ لِلتَّزْوِیْجِ: نِکَاحٌ لِأَنَّہٗ سَبَبُ الْوَطْئُ.

1۔ الأزہری، تہذیب اللغۃ، 4:64
2۔ العیني، عمدۃ القاري شرح صحیح البخاري، 20:64

کلامِ عرب میں نکاح کا مطلب ’وطی‘ یعنی عملِ اِزدواج ہے۔ تزویج یعنی شادی کرنے کو بھی نکاح اِسی لیے کہتے ہیں کہ وہ عملِ اِزدواج کا سبب ہے۔

گویا اسلام میں نکاح عورت اور مرد میں ایک پختہ شریفانہ عمرانی معاہدہ ہے جس کے ذریعے مرد و عورت کے درمیان جنسی تعلق جائز اور اولاد کا نسب صحیح ہو جاتا ہے۔ فقہ اسلامی کے مطابق عورت سے تمتع حاصل کرنے کا حق حاصل کرلینا نکاح کہلاتا ہے۔

سوال 28: نکاح کا پس منظر کیا ہے؟

جواب: اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین کی خلافت اور اس کی آباد کاری کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس مقصد کی تکمیل اسی صورت میں ہوسکتی ہے جب انسان کی نسل باقی رہے اور اسی طرح زندگی بسر کرے کہ زراعت، صنعت، تعمیر اور آباد کاری کے کام اس کے ہاتھوں انجام پاتے رہیں۔ نیز اللہ تعالیٰ کا جو حق اس پر ہے اس کو ادا کرتا رہے۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر فطری خواہشات اور نفسیاتی محرکات رکھے ہیں۔ ان کا ایک محرک کھانے کی اشیاء ہیں کہ شکم سیری سے آدمی کا وجود باقی رہتا ہے۔ دوسرا محرک جنسی خواہش ہے جس پر نسلِ انسانی کی بقا کا انحصار ہے۔ نسلِ انسانی کی بقاء نکاح پر موقوف ہے اور یہ انسان کی طبعی خواہش بھی ہے۔ اس لیے اسلامی تعلیمات میں نکاح کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآءِ.

النساء، 4:3

تو ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے لیے پسندیدہ اور حلال ہوں۔

حضور نبی اکرم ﷺ نے احادیث مبارکہ کے ذریعہ بھی نکاح کی ترغیب فرمائی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے ہم سے فرمایا:

یَا مَعْشَر الشَّبَابِ! مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ الْبَاءةَ فَلْیَتَزَوَّجْ. فَإِنَّہٗ اَغَضَّ لِلبَصَرِ، وَاحْصَنُ لِلْفَرْجِ. وَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَعَلَیْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّہٗ لَہٗ وِجَاءٌ.

مسلم، الصحیح، کتاب النکاح ، باب استحباب النکاح لمن تافت نفسہ إلیہ، 2:1019، رقم:1400

اے جوانو! تم میں سے جو شخص گھر بسانے کی استطاعت رکھتا ہو وہ شادی کر لے کیونکہ نکاح سے نظر نہیں بہکتی اور شرم گاہ محفوظ رہتی ہے اور جو شخص نکاح کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو وہ روزے رکھے کیونکہ روزے اس کی شہوت کو کم کر دیتے ہیں۔

سوال 29: قرآنِ حکیم کی روشنی میں نکاح کی فضیلت کیا ہے؟

جواب: قرآن حکیم میں نکاح کو نسلِ انسانی کی بقاء، ترقی اور معاشرتی زندگی کے استحکام کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے اور اس کی فضیلت و اہمیت بیان کی گئی ہے۔ مرد و عورت کے اس فطرتی، قانونی اور جائز ملاپ سے دنیا میں انسانوں کی نسل کا آغاز ہوا۔ جیسا کہ قرآن فرماتا ہے:

یٰٓـاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً کَثِیْرًا وَّنِسَآء۔

النساء، 4:1

اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہاری پیدائش (کی ابتدائ) ایک جان سے کی پھر اسی سے اس کا جوڑ پیدا فرمایا پھر ان دونوں میں سے بکثرت مردوں اور عورتوں (کی تخلیق) کو پھیلا دیا۔

قرآن حکیم میں مرد کے لیے بیوی کا ہونا اور بیوی کے لیے شوہر کا ہونا اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں شمار کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:

وَمِنْ اٰیٰـتِہٖٓ اَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوْٓا اِلَیْھَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَo

الروم، 35:21

اور یہ (بھی) اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان کی طرف سکون پاؤ اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی، بے شک اس (نظامِ تخلیق) میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیںo

گویا نکاح کا عمل ’قانونِ فطرت‘ کے عین مطابق اور فطری تقاضوں کو ملحوظ رکھنے کابہترین ذریعہ ہے۔ قرآن حکیم میں نکاح کا مقصد معاشرے اور افراد معاشرہ میں تسکینِ جذبات کے ساتھ ساتھ ذہنی اور فکری پاکیزگی پیدا کرنا ہے۔

وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُوْمِنٰتِ وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ اِذَآ اٰتَیْتُمُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ وَلَا مُتَّخِذِیْٓ اَخْدَانٍ ط وَمَنْ یَّکْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہٗ ز وَھُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَo

المائدۃ، 5:5

اور (اسی طرح) پاک دامن مسلمان عورتیں اور ان لوگوں میں سے پاک دامن عورتیں جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی (تمہارے لیے حلال ہیں) جب کہ تم انہیں ان کے مَہر ادا کر دو، (مگر شرط) یہ کہ تم (انہیں) قید نکاح میں لانے والے (عفت شعار) بنو نہ کہ (محض ہوس رانی کی خاطر) اعلانیہ بدکاری کرنے والے اور نہ خفیہ آشنائی کرنے والے، اور جو شخص (احکامِ الٰہی پر) ایمان (لانے) سے انکار کرے تو اس کا سارا عمل برباد ہوگیا اور وہ آخرت میں (بھی) نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگاo

قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے نکاح کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:

فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآء۔

النساء، 4:3

تو ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے لیے پسندیدہ اور حلال ہوں۔

سوال 30: احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں نکاح کی فضیلت کیا ہے؟

جواب: احادیث مبارکہ میں نکاح کے بے شمار فضائل بیان ہوئے ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

1۔ نکاح سے انسان گناہوں سے محفوظ رہتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

یَا مَعْشَر الشَّبَابِ! مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ الْبَاءةَ فَلْیَتَزَوَّجْ۔ فَإِنَّہٗ اَغَضَّ لِلبَصَرِ، وَاحْصَنُ لِلْفَرْجِ۔ وَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَعَلَیْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّہٗ لَہٗ وِجَاءٌ۔

مسلم، الصحیح، کتاب النکاح ، باب استحباب النکاح لمن تافت نفسہ إلیہ، 2: 1019، رقم:1400

اے جوانو! تم میں سے جو شخص گھر بسانے کی استطاعت رکھتا ہو وہ شادی کر لے کیونکہ نکاح سے نظر نہیں بہکتی اور شرم گاہ محفوظ رہتی ہے، اور جو شخص نکاح کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو وہ روزے رکھے کیونکہ روزے اس کی شہوت کو کم کر دیتے ہیں۔

2۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے نکاح کو نصف دین قرار دیا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

مَنْ تَزَوَّجَ فَقَدِ اسْتَکْمَلَ نِصْفَ الإِیْمَانِ، فَلْیَتَّقِ اللهَ فِی النِّصْفِ الْبَاقِي۔

1۔ طبرانی، المعجم الأوسط، 7:332، رقم:7647
2۔ طبرانی، المعجم الأوسط، 8:335، رقم:8794
3۔ صیداوی، معجم الشیوخ:222

جس نے شادی کرلی تو اس نے اپنا نصف ایمان بچا لیا۔ تو اب بقیہ نصف (ایمان بچانے) کے لیے اللہ کا تقویٰ اختیار کرے۔

3۔ نکاح کرنا حضور نبی اکرم ﷺ کی سنت ہے اور آپ ﷺ نے اسے اپنانے کی ترغیب فرمائی ہے۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:

اَلنِّکَاحُ مِنْ سُنَّتِي، فَمَنْ لَمْ یَعْمَلْ بِسُنَّتِي فَلَیْسَ مِنِّي۔

ابن ماجہ، السنن، کتاب النکاح، باب ما جاء في فضل النکاح، 2:415، رقم:1846

نکاح میری سنت ہے، سو جس نے میری سنت پر عمل نہ کیا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔

مذکورہ بالا احادیث مبارکہ سے نکاح کی فضیلت بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ نکاح کرنا نہ صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کی تعمیل ہے بلکہ تکمیلِ دین اور حفاظتِ ایمان کا ذریعہ بھی ہے۔

سوال 31: شرائطِ نکاح کیا ہیں؟

جواب: نکاح کی تین شرائط ہیں:

1۔ عاقل ہونا

نکاح کے لیے عقل کا ہونا ضروری ہے۔ مجنون یا نا سمجھ بچہ نے نکاح کیا تو نکاح نہ ہوگا کیونکہ عاقل ہونا شرط ہے۔

2۔ بالغ ہونا

بالغ ہونا نفاذِ نکاح کے لیے شرط ہے، اِنعقادِ نکاح کے لیے نہیں کیونکہ نابالغی میں باپ دادا کی طرف سے کیا ہوا نکاح بالغ ہونے پر لڑکے یا لڑکی کے انکار سے ختم ہوجاتا ہے۔

3۔ گواہوں کا موجود ہونا

یعنی ایجاب و قبول دو مسلمان مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کے سامنے ہو۔ گواہ آزاد، عاقل اور بالغ ہوں اور سب نے ایک ساتھ نکاح کے الفاظ سنے ہوں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

اَلبَغَایَا اللَّاتِی یُنْکِحْنَ أَنْفُسَهُنَّ بِغَیْرِ بَیِّنَةٍ۔

1۔ ترمذی، السنن، أبواب النکاح، باب ما جاء لا نکاح إلا ببینۃ، 3:411، الرقم:1103
2۔ ابن أبی شیبۃ، المصنف، 3:458، الرقم:15967

’’گواہوں کے بغیر نکاح کرنے والی عورتیں بدکار ہیں۔‘‘

بچوں اور پاگلوں کی گواہی قابل قبول نہیں۔ گواہوں کا مسلمان ہونا بھی شرط ہے۔ مسلمان مرد و عورت کا نکاح غیر مسلم کی شہادت سے نہیں ہو سکتا۔ صاحب ہدایہ لکھتے ہیں:

ولا ینعقد نکاح المسلمین الا بحضور شاہدین حرین عاقلین بالغین مسلمین رجلین أو رجل و امرأتین۔

مرغینانی، الھدایۃ 1: 190

دو مسلمانوں کا نکاح منعقد نہیں ہوتا مگر دو آزاد، عاقل بالغ مسلمان مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں گواہ موجود ہوں۔

سوال 32: ارکانِ نکاح کتنے ہیں؟

جواب: اَرکانِ نکاح دو ہیں جن کے بغیر نکاح نہیں ہوتا:

النکاح ینعقد بالإیجاب والقبول۔

1۔ مرغینانی، الھدایۃ، 1:189
2۔ ابن نجیم، البحر الرائق، 3: 87

نکاح ایجاب و قبول سے ہو جاتا ہے۔

1۔ ایجاب: یہ وہ کلام ہے جو پہلے بولا جاتا ہے۔ چاہے وہ مرد کی طرف سے ہو یاعورت کی طرف سے۔

2۔ قبول: پہلے (ایجاب) کے جواب کو قبول کہتے ہیں۔

سوال 33: ان مرد و خواتین کے بارے میں کیا شرعی حکم ہے جو شادی نہیں کرتے؟

جواب: اسلام انسان کو معاشرے کے اندر رہ کر ایک معتدل زندگی بسر کرنے اور مرد و عورت کے باہمی تعلق سے ایک پاکیزہ معاشرہ کی تشکیل کا درس دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نکاح کی اہلیت اور استطاعت رکھنے کے باوجود نکاح سے عدم رغبت رکھنے والا مسلمان اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رحمت و قرب سے دور ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ صاحبِ استطاعت اور نکاح کی اہلیت رکھنے والے افراد کا نکاح نہ کرنے کا عمل ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے چند صحابہ آپ ﷺ کی ازواجِ مطہرات کے پاس گئے اور حضور نبی اکرم ﷺ کی خلوت کے اعمال دریافت کیے۔ پھر ایک نے کہا کہ میں عورتوں سے شادی نہیں کروں گا اور ایک نے کہا کہ میں گوشت نہیں کھاؤں گا اور تیسرے نے کہا میں بستر پر نہیں سوؤں گا۔ (یہ سن کر) آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور فرمایا:

وَاللهِ إِنِّي لَأَخْشَاکُمْ ِللهِ وَأَتْقَاکُمْ لَہٗ، لٰکِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأُصَلِّي وَأَرْقُدُ، وَأَتَزَوَّجُ النساء، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَیْسَ مِنِّي۔

1۔ بخاری، الصحیح، کتاب النکاح، باب الترغیب فی النکاح، 5:1949، رقم:4776
2۔ مسلم، الصحیح، کتاب النکاح باب استحباب النکاح لمن استطاع، 2: 1020، رقم: 1401

سنو! اللہ کی قسم! بے شک میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں اور یقینا میں تم سب سے زیادہ متقی ہوں، لیکن میں روزہ رکھتا بھی ہوں اور روزہ افطار بھی کرتا ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں اور رات کو سوتا بھی ہوں؛ اور میں عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ سو جس نے میری سنت سے اعراض کیا تو وہ میرے طریقہ پر نہیں ہے۔

اس حدیث مبارکہ کے آخری الفاظ کے دو مطلب ہیں کہ جس شحض نے سستی یا کوتاہی کی بناء پر میری سنت کو ترک کیا وہ میرے طریقہ محمودہ پر نہیں ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے میری سنت کو حقیر اور برا جان کر ترک کیا وہ میرے طریقہ یعنی دینِ اسلام پر نہیں ہے۔

لہٰذا معلوم ہوا کہ دینِ اسلام عبادات کی اجتماعی ادائیگی کو معاشرے میں اہمیت دیتا ہے اور حجرہ نشینی، گوشہ نشینی یا تزکیہ نفس کے نام پر معاشرے سے الگ تھلگ رہ کر زندگی بسر کرنے یا عورت سے علیحدگی اختیار کرنے جیسے تمام نظریات کی مخالفت کرتا ہے اور بلا وجہ شادی نہ کرنے والے لوگوں کو ناپسندیدہ گردانتا ہے۔

سوال 34: نکاح سے پہلے کون سے امور بجا لانا مستحب ہیں؟

جواب: نکاح سے پہلے درج ذیل امور بجا لانا مستحب ہیں:

1۔ عقد نکاح سے پہلے لڑکی لڑکے کا ایک دوسرے کو دیکھنا۔ بشرطیکہ شادی کا ارادہ ہو، جائز ہے جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے شادی کا ارادہ کیا تو حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

إِذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَیْهَا، فَإِنَّہٗ أَحْرٰی أَنْ یُؤْدَمَ بَیْنَکُمَا، فَفَعَلَ فَتَزَوَّجَهَا فَذَکَرَ مِنْ مُوَافَقَتِهَا۔

ابن ماجہ، السنن، کتاب النکاح، باب النظر إلی المرأۃ إذا أراد أن یتزوجھا، 2:426، رقم:1865

جائو اسے دیکھ لو، کیونکہ اس سے شاید اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں محبت پیدا فرما دے۔ انہوں نے ایسا ہی کیا، پھر اس سے نکاح کر لیا۔ بعد میں انہوں نے حضور نبی اکرم ﷺ سے اپنی بیوی کی موافقت اور عمدہ تعلق کا ذکر کیا۔

2۔ عورت عمر میں مرد سے کچھ کم ہو۔

3۔ مرد کا بیوی کی نسبت رتبہ، عزت اور وقار میں برتر ہونا۔

4۔ عورت بااخلاق، باادب اور پرہیزگار ہو۔

5۔ ایسی عورت کا انتخاب کرے جس کے مہر اور نان نفقہ کی ادائیگی بسہولت ممکن ہو۔

6۔ نوعمر لڑکی کی شادی عمر رسیدہ شخص سے نہ کی جائے۔

7۔ عورت ایسے شخص کو شادی کے لیے پسند کرے جو دین پر قائم ہو۔

سوال 35: نکاح کرنا کیوں ضروری ہے؟

جواب: نکاح سنتِ انبیاء ہے۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ حالت توقان میں نکاح فرض ہے یعنی جب انسان پر شہوت کا شدید غلبہ ہو، وہ مہر ادا کرنے پر اور بیوی کا خرچ اٹھانے پر قادر ہو لیکن پھر بھی نکاح نہ کرے تو گناہ گار ہوگا۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے نکاح کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے اسے اپنی سنت قرار دیا اوراس کے تارک کو وعید سنائی جیسا کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے:

اَلنِّکَاحُ مِنْ سُنَّتِي، فَمَنْ لَمْ یَعْمَلْ بِسُنَّتِي فَلَیْسَ مِنِّي۔ وَتَزَوَّجُوا فَإِنِّي مُکَاثِرٌ بِکُمُ الْأُمَمَ، وَمَنْ کَانَ ذَا طَوْلٍ فَلْیَنْکِحْ، وَمَنْ لَمْ یَجِدْ فَعَلَیْهِ بِالصِّیَامِ، فَإِنَّ الصَّوْمَ لَہٗ وِجَاء۔

ابن ماجہ، السنن، الکتاب النکاح، باب ما جاء في فضل النکاح، 2:415، رقم:1846

نکاح کرنا میری سنت ہے، جس نے میری سنت پر عمل نہ کیا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ سو نکاح کیا کرو کیونکہ میں تمہاری کثرت کی بنا پر دیگر امتوں پر فخر کروں گا۔ جو طاقت رکھتا ہو وہ نکاح کرلے اور جس میں طاقت نہ ہو وہ روزے رکھا کرے کیونکہ روزہ شہوت کو توڑتا ہے۔

سوال 36: نکاح کے سماجی و نفسیاتی فوائد کیا ہیں؟

جواب: نکاح کے سماجی ونفسیاتی فوائد درج ذیل ہیں:

1۔ نکاح گناہوں سے حفاظت کا ذریعہ ہے، جیسا کہ ہم گزشتہ صفحات میں بالتفصیل ذکر کرچکے ہیں۔

2۔ نکاح کے ذریعے اولاد اور نسب کا تحفظ ہوتا ہے اور نسلِ انسانی کی بقاء کا سبب بنتا ہے۔

3۔ محبت ومودّت کاجذبہ تقویت پاتا ہے۔

4۔ صحت مند معاشرہ وجود میں آتاہے۔

5۔ معاشرہ امن وسکون کا گہوارہ بن جاتا ہے۔

6۔ سکون و اطمینان حاصل ہوتاہے۔

7۔ نکاح سے تنگ دستی کا خاتمہ ہوتا ہے اور خوش حالی آتی ہے۔

سوال 37: تحریری نکاح نامہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب: اگرچہ تحریری نکاح نامہ یا نکاح کی رجسٹری اثباتِ نکاح کے لیے لازم نہیں مگر اِس جدید منظم دنیا میں بے شمار معاشرتی و سماجی مسائل سے بچنے کے لیے نکاح کا اندراج اور اس کے کاغذات کا پاس ہونا تقریباً ناگزیر ہوچکا ہے یہی وجہ ہے کہ فقہاء احناف کے ہاں کتابتِ نکاح مستحب ہے۔

لیکن نکاح کا حسبِ ضابطہ رجسٹرڈ ہونا یا نہ ہونا جوازِ نکاح پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ اگر کسی کا نکاح رجسٹرڈ نہ ہوا ہو مگر نکاح کے مطلوبہ ارکان پورے کیے گئے ہوں تو شرعاً نکاح منعقد ہوجاتا ہے۔ تحریری نکاح کی حیثیت محض قانونی تقاضا ہے۔

پاکستان میں آرڈی نینس نمبر 8 بابت 1961ء کی دفعہ 5 کے تحت نکاح کو رجسٹر کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں تین ماہ قید سادہ یا ایک ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔

سوال 38: نکاح کب فرض ہوتا ہے؟

جواب: اگر مرد نان و نفقہ کی طاقت رکھتا ہو، جسمانی طور پر تن درست ہو، نفس کی شدید خواہش بھی ہو اور شادی نہ کرنے کی صورت میں بدکاری میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں نکاح کرنا فرض ہو جاتا ہے۔

سوال 39: نکاح کب واجب ہوتا ہے؟

جواب: نکاح کرنا ایسے شخص پر واجب ہو جاتا ہے جو شدید نفسانی خواہش میں مبتلا ہو اور مہر و نان و نفقہ کی قدرت بھی رکھتا ہو۔ جیسا کہ ابن نجیم لکھتے ہیں:

وَعِنْدَ التَّوْقَانِ وَاجِبٌ۔

ابن نجیم، البحر الرائق، 3:85

جب جنسی خواہش جوش میں ہو (اس وقت نکاح) واجب ہے۔

سوال 40: نکاح کب سنتِ موکدہ ہوتا ہے؟

جواب: نکاح اس صورت میں سنتِ موکدہ ہوتا ہے جب کوئی شخص نکاح کی خواہش رکھتا ہو لیکن یہ خواہش معتدل ہو یعنی اتنی شدید نہ ہو کہ نکاح نہ ہونے کی صورت میں وہ گناہ کا مرتکب ہو جائے گا۔

سوال 41: نکاح کب مستحب ہوتا ہے؟

جواب: اگر کوئی شخص نکاح کا خواہش مند تو ہو لیکن یہ اندیشہ نہ ہو کہ وہ گناہ میں ملوث ہوجائے گا تو نکاح کرنا مستحب ہے، بشرطیکہ وہ بوجھ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

سوال 42: نکاح کب مکروہ ہوتا ہے؟

جواب: مرد یا عورت اگر جسمانی طور پر شادی کے قابل نہیں تو اس کے لیے شادی کرنا حرام ہے کیونکہ دوسرا فریق خواہش پوری نہ ہونے پر گناہ میں مبتلا ہوسکتا ہے۔ اگر دونوں جسمانی طور پر شادی کے قابل نہ ہوں تو پھر کوئی ممانعت نہیں ہے۔ اگر مرد حق مہر اور نان و نفقہ کا متحمل نہیں اور اسے یقین ہے کہ نکاح کے بعد لوگوں پر جبر و ظلم کرکے حرام کی کمائی کرنا ہوگی تو اس صورت میں نکاح کرنا مکروہ ہے۔

سوال 43: نکاح میں ایجاب و قبول کا طریقہ کیا ہے؟

جواب: نکاح میں ایجاب و قبول کا طریقہ یہ ہے کہ ایجاب و قبول کے لیے الفاظ صریح اور واضح ہوں اور ان کی معنویت مبہم نہ ہو۔ ایجاب و قبول کا زوجین کے درمیان گواہان کی موجودگی میں ہونا ضروری ہے جو نکاح کی پاکیزگی کو قائم کرتا ہے۔ مثلاً زوجین میں سے مرد کو واضح الفاظ میں کہنا چاہیے کہ اُس نے فلاں بنت فلاں کو اتنے حق مہر کے عوض اپنے عقد میں لیا اور جواب میں عورت بھی واضح الفاظ میں اقرار کرے۔ اسی طرح عورت کسی مرد سے کہے کہ اس نے اپنے نفس کو اس کے حوالے کیا اور مرد نے قبول کر لیا تو نکاح ہوگیا۔ یعنی ایجاب و قبول کے الفاظ اپنی معنویت کے اعتبار سے واضح ہونے چاہییں اور ان سے عقدِ نکاح کے معنی ثابت ہونے چاہئیں۔

سوال 44: کیا نکاح کے معاملے میں عورت کی اجازت ضروری ہے؟

جواب: جی ہاں! نکاح کے معاملے میں عورت کی اجازت ضروری ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

الْأَیِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِیِّهَا، وَالْبِکْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا۔

1۔ مسلم، الصحیح، کتاب النکاح، باب استئذان الثیب في النکاح، 2:1037، رقم:1421
2۔ أبو داود، السنن، کتاب النکاح، باب في الثیب، 2:232، رقم:2098
3۔ ترمذی، السنن، أبواب النکاح، باب ما جاء فی استیمار البکر والثیب، 3:416، رقم:1108

بیوہ اپنے ولی سے زیادہ اپنے نفس کی حق دار ہے اور کنواری لڑکی (بالغہ) سے اس کے نفس کے بارے اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی (بھی) اس کی اجازت ہے۔

یہ حدیث مبارکہ واضح کرتی ہے کہ ثیبہ (بیوہ/مطلقہ) کو نکاح کے معاملے میں اختیار ہے اور وہ ولی کی رضامندی کی پابند نہیں ہے اور باکرہ یعنی کنواری تو زیادہ شرمیلی ہوتی ہے، لہٰذا اس کی خاموشی کو ہی اس کی اجازت پر محمول کیا گیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ ولی کو کنواری لڑکی کی رضا کے بغیر اس پر بھی اپنی مرضی مسلط کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

امام ترمذی نے اس حدیث کی شرح میں کہا ہے:

إِنَّمَا مَعْنَی قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: الْأَیِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِھَا مِنْ وَلِیِّھَا، عِنْدَ أَکْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْوَلِيَّ لَا یُزَوِّجُھَا إِلَّا بِرِضَاھَا وَأَمْرِھَا۔

ترمذی، السنن، أبواب النکاح، باب ما جاء فی استیمار البکر والثیب، 3:416، رقم:1108

حضور نبی اکرم ﷺ کے اِرشاد ’اَ لْأَیِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِھَا مِنْ وَلِیِّھَا‘ کے معنی اکثر اہلِ علم کے مطابق یہ ہیں کہ ولی اس بیوہ عورت کی رضا اور اِجازت کے بغیر اس کا نکاح نہیں کرے گا۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

لَیْسَ لِلْوَلِيِّ مَعَ الثَّیِّبِ أَمْرٌ، وَالْیَتِیْمَةُ تُسْتَأْمَرُ وَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا۔

1۔ أبو داود، السنن، کتاب النکاح، باب في الثیب، 2:233، رقم:2100
2۔ نسائي، السنن، کتاب النکاح، باب استئذان البکر في نفسھا، 6:85، رقم:3263
3۔ دارقطني، السنن، کتاب النکاح، 3:239، رقم:66-67

بیوہ کے بارے میں ولی کو کوئی اختیار نہیں ہے اور یتیم لڑکی سے (اُس کی رضا مندی کی نسبت) پوچھا جائے گا اور اس کی خاموشی (ہی) اس کا اقرار ہے۔

ایک روایت میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

تُسْتَأْمَرُ الْیَتِیْمَةُ فِي نَفْسِهَا، فَإِنْ سَکَتَتْ فَهُوَ إِذْنُهَا، وَإِنْ أَبَتْ فَـلَا جَوَازَ عَلَیْهَا۔

1۔ أحمد، المسند، 2:259، رقم:7519
2۔ أبو داود، السنن، کتاب النکاح، باب في الاستئمار، 2:231، رقم:2093
3۔ ترمذی، السنن، کتاب النکاح، باب ما جاء في إکراہ الیتیمۃ علی التزویج، 3:417، رقم:1109
4۔ نسائي، السنن، کتاب النکاح، باب البکر یزوجھا أبوھا وھي کارھۃ، 6:87، رقم:3270

یتیم لڑکی سے اُس کے نفس کے متعلق اجازت لی جائے (یعنی اُس سے نکاح کے لیے اجازت اور اس کی رضا لی جائے)۔ اگر وہ خاموش رہے تو وہی اس کی اجازت ہے اور اگر اُس نے انکار کیا تو اس پر زبردستی نہیں کی جا سکتی۔

مذکورہ بالا ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کی رضا مندی کے بغیر اس کا نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔

سوال 45: وقتِ نکاح عورت سے اجازت کس طرح لی جائے؟

جواب: وقتِ نکاح عورت اگر کنواری، جوان اور بالغ ہو تو نکاح سے پہلے ولی اس سے اجازت اس طرح لے کہ اسے مرد کا نام اور اس کے باپ اور دادا کا نام بتا دے تاکہ لڑکی جان لے کہ فلاں شخص کے ساتھ اس کا نکاح ہو رہا ہے اور اگر لڑکی اس پر خاموش رہے تو اس کی خاموشی اجازت سمجھی جائے گی یا اگر لڑکی کے منہ پر نقاب پڑا ہے تو اشارہ کافی ہے اور ایسی لڑکی جس کا نکاح ایک بار ہوچکا ہو تو اب شوہر کی موت یا طلاق کی صورت میں عدت گزارنے کے بعد وہ دوسرا نکاح کرنا چاہتی ہے تو اس کا ولی جب لڑکے کی صفات و حالات بیان کرے تو اجازت کے لیے اس کا صرف خاموش رہنا اجازت نہ ہوگا بلکہ اُسے زبان سے واضح الفاظ میں اقرار یا انکار ضروری ہوگا۔

سوال 46: کیا عورت سے نکاح کی اجازت لیتے وقت گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے؟

جواب: اگر لڑکی مجلسِ نکاح میں موجود نہ ہو تو وہ دو گواہوں کی موجودگی میں اپنا وکیل مقرر کرتی ہے جو مجلسِ نکاح میں جا کر اُس کی طرف سے اِیجاب و قبول کرتا ہے۔ اگر لڑکی مجلسِ نکاح میں موجود ہو تو وکیل اور وکیل مقرر کرنے کے دو گواہوں کے بغیر ہی نکاح کی مجلس میں صرف دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح منعقد ہو جاتا ہے۔ لہٰذا وقتِ نکاح عورت سے نکاح کی اِجازت کے لیے گواہ ضروری ہے۔

سوال 47: کیا عورت کے انکار کرنے کی صورت میں گواہ کی ضرورت ہو گی؟

جواب: جی ہاں! عورت کے انکار کی صورت میں گواہ کی ضرورت ہو گی کیونکہ اس نے اِذنِ نکاح نہیں دیا تھا تو اب گواہوں سے اس کا اِذن لینا ثابت کیا جائے گا۔

سوال 48: ولی کسے کہتے ہیں؟

جواب: نکاح کا ولی وہ ہے جس کی موجودگی پر نکاح کے صحیح ہونے کا انحصار ہو۔ ولی باپ یا دادا ہو سکتا ہے۔

سوال 49: کس نکاح کے لیے ولی کا ہونا شرط ہے؟

جواب: نابالغ کے نکاح کے لیے ولی کا ہونا شرط ہے جبکہ بالغ کے لیے نہیں۔

سوال 50: کیا شرعاً نکاح کے لیے ولی بنانا ضروری ہے؟

جواب: شرعاً نابالغ بچے بچی کے لیے ولی بنانا ضروری ہے جبکہ بالغ لڑکا لڑکی خود مختار ہوتے ہیں، وہ اپنا نکاح اپنی پسند اور مرضی سے کر سکتے ہیں، جیسا کہ قرآن حکیم میں ارشاد ہوتا ہے۔

فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآء۔

النساء، 4:3

ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے لیے پسندیدہ اور حلال ہوں۔

اِس آیت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ بالغ اولاد کو اَپنے والدین سے مشاورت یا اِجازت طلب نہیں کرنی چاہیے بلکہ مراد یہ ہے کہ اگر بالغ اولاد اپنی پسند کی شادی کرنا چاہتے ہیں جبکہ والدین اُن کی پسند کے برعکس اپنی مرضی مسلط کرنا چاہیں تو اب یہ لڑکا یا لڑکی اَپنی پسند یا مرضی کو ترجیح دے سکتے ہیں۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

لَا تُنْکَحُ الْأَیِّمُ حَتّٰی تُسْتَأْمَرَ، وَلَا تُنْکَحُ الْبِکْرُ حَتّٰی تُسْتَأْذَنَ۔

1۔ بخاری، الصحیح، کتاب النکاح، باب لا ینکح الأب وغیرہ البکر والثیب إلا برضاہا، 5:1974، رقم:4843
2۔ مسلم، الصحیح، کتاب النکاح، باب استئذان الثیب في النکاح بالنطق والبکر بالسکوت، 2:1036، رقم:1419

بیوہ کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے اور کنواری لڑکی (بالغہ) کا نکاح بھی اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے۔

اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے:

قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللهِ، یُسْتَأْمَرُ النِّسَاء فِي أَبْضَاعِهِنَّ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: فَإِنَّ الْبِکْرَ تُسْتَأْمَرُ فَتَسْتَحْیِي فَتَسْکُتُ؟ قَالَ: سُکَاتُهَا إِذْنُهَا۔

1۔ بخاری، الصحیح، کتاب الإکراہ، بَاب لا یجوز نکاح المکرہ، 6:2547، رقم:6547
2۔ نسائي، السنن، کتاب النکاح، باب إذن البکر، 6:86، رقم:3266
3۔ ابن حبان، الصحیح، 9:393، رقم:4081

میں عرض گزار ہوئی: یا رسول اللہ! کیا عورتوں سے اُن کے نکاح کے متعلق اجازت لی جائے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں۔ میں نے عرض کیا: کیا کنواری لڑکی سے بھی اجازت لی جائے گی جبکہ وہ شرماتی اور خاموش رہتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اُس کی خاموشی ہی اس کی اجازت ہے۔

ایک اور روایت میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے بارگاهِ رسالت مآب ﷺ میں عرض کیا: یا رسول اللہ! کنواری لڑکی تو (نکاح کی) اجازت دینے سے شرماتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:

رِضَاهَا صَمْتُهَا۔

1۔ بخاری، الصحیح، کتاب النکاح، بَاب لَا یُنْکِحُ الْأَبُ وَغَیْرُهُ الْبِکْرَ وَالثَّیِّبَ إِلَّا بِرِضَاهَا، 5:1974، رقم:4844
2۔ أبو داود، السنن، کتاب النکاح، باب في الإستئمار، 2:231، رقم:2094
3۔ نسائي، السنن، کتاب النکاح، باب إذن البکر، 6:86، رقم:3267
4۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب النکاح، باب إستئمار البکر والثیب، 1:601، رقم:1870

اس کا خاموش ہو جانا ہی اس کی رضا مندی ہے۔

امام سرخسی ’المبسوط‘ کے ’باب النکاح بغیر ولي‘ میں لکھتے ہیں:

عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضی اللہ عنہ : أَنَّ امْرَأَةً زَوَّجَتْ ابْنَتَهَا بِرِضَاهَا فَجَاءَ أَوْلِیَاؤُهَا فَخَاصَمُوْهَا إلٰی عَلِيٍّ رضی اللہ عنہ فَأَجَازَ النِّکَاحَ۔ وَفِي هٰذَا دَلِیْلٌ عَلٰی أَنَّ الْمَرْأَةَ إذَا زَوَّجَتْ نَفْسَهَا أَوْ أَمَرَتْ غَیْرَ الْوَلِيِّ أَنْ یُزَوِّجَهَا فَزَوَّجَهَا جَازَ النِّکَاحُ۔ وَبِہٖ أَخَذَ أَبُو حَنِیْفَةَ سَوَائٌ کَانَتْ بِکْرًا أَوْ ثَیِّبًا إذَا زَوَّجَتْ نَفْسَهَا جَازَ النِّکَاحُ فِي ظَاهِرِ الرِّوَایَةِ، سَوَاءٌ کَانَ الزَّوْجُ کُفُؤًا لَهَا أَوْ غَیْرَ کُفْئٍ فَالنِّکَاحُ صَحِیْحٌ إلَّا أَنَّہٗ إذَا لَمْ یَکُنْ کُفُؤًا لَهَا فَلِلْأَوْلِیَاءِ حَقُّ الاِعْتِرَاضِ۔ وَفِي رِوَایَةِ الْحَسَنِ رضی اللہ عنہ : إِنْ کَانَ الزَّوْجُ کُفُؤًا لَهَا جَازَ النِّکَاحُ، وَإِنْ لَمْ یَکُنْ کُفُؤًا لَهَا لَا یَجُوْزُ۔

وَکَانَ أَبُو یُوسُفَ أَوَّلًا یَقُوْلُ: لَا یَجُوْزُ تَزْوِیْجُهَا مِنْ کُفْئٍ أَوْ غَیْرِ کُفْئٍ إذَا کَانَ لَهَا وَلِيٌّ، ثُمَّ رَجَعَ وَقَالَ: إِنْ کَانَ الزَّوْجُ کُفُؤًا جَازَ النِّکَاحُ، وَإِلَّا فَـلَا، ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: اَلنِّکَاحُ صَحِیْحٌ سَوَاءٌ کَانَ الزَّوْجُ کُفُؤًا لَهَا أَوْ غَیْرَ کُفْئٍ لَهَا۔ وَذَکَرَ الطَّحَاوِيُّ قَوْلَ أَبِي یُوسُفَ: إِنَّ الزَّوْجَ إنْ کَانَ کُفُؤًا أَمَرَ الْقَاضِي الْوَلِيَّ بِإِجَازَةِ الْعَقْدِ فَإِنْ أَجَازَہٗ جَازَ، وَإِنْ أَبَی أَنْ یُجِیْزَہٗ لَمْ یَنْفَسِخْ، وَلٰکِنَّ الْقَاضِيَ یُجِیْزُہٗ فَیَجُوْزُ۔

سرخسي، کتاب المبسوط، 5:10

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ایک واقعہ منقول ہے کہ ایک عورت نے اپنی بیٹی کا نکاح اس کی مرضی سے کردیا تو اُس کے ولیوں کو علم ہوا تو انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں اعتراض پیش کیا لیکن آپ نے اس نکاح کو جائز قرار دیا۔ یہ فیصلہ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ جب کوئی عورت اپنا نکاح خود کر لے یا ولی کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو یہ حکم دے کہ وہ اس کا نکاح کر دے اور وہ شخص یعنی وکیل اس عورت کا نکاح کردے تو ایسا نکاح جائز ہوگا۔ اور اسی دلیل سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالٰی نے یہ حکم اخذ کیا ہے کہ عورت باکرہ ہو یا ثیبہ جب اپنا نکاح خود کر لے تو ایسا نکاح ظاہری روایت کے باعث جائز ہو گا خواہ شوہر اُس عورت کا کفو ہو یا غیر کفو، نکاح صحیح ہو جائے گا مگر یہ کہ اگر شوہر اس عورت کا کفو نہ ہو تو اولیاء کو اس نکاح پر حقِ اعتراض حاصل ہوگا (اور وہ اس نکاح کو بذریعہ عدالت فسخ کرا سکتے ہیں)۔ اور حسن کی روایت میں ہے کہ اگر شوہر بیوی کا کفو ہو تو نکاح جائز ہے اور اگر وہ اس کا کفو نہیں تو نکاح جائز نہیں۔

امام ابو یوسف کے پہلے قول کے مطابق اگر کسی عورت نے جس کا ولی موجود تھا خود اپنا نکاح کرلیا، خواہ کفو سے کیا ہو یا غیر کفو سے، تو ایسا نکاح ناجائز ہو گا۔ پھر آپ نے اس قول سے رجوع کر لیا اور کہا کہ اگر شوہر کفو ہے تو نکاح جائز ہوگا ورنہ نہیں، پھر امام ابو یوسف نے اپنے اس (دوسرے) قول سے بھی رجوع کر لیا اور کہا کہ نکاح صحیح ہو گا خواہ کفو سے کیا ہو یا غیر کفو سے۔ امام طحاوی امام ابو یوسف کا قول نقل کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں: اگر شوہر کفو ہو تو جج ولی کو اِجازتِ نکاح دینے کا حکم دے گا، پس اگر وہ اجازت دے دے تو نکاح ہوگا اور اگر ولی اجازت دینے سے انکار کردے تو نکاح پھر بھی فسخ نہیں ہوگا اور جج (اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے) اُس نکاح کی اجازت دے گا اور وہ جائز ہوگا۔

امام کاسانی لکھتے ہیں:

اَلْوِلَایَةُ عَلَی الْحُرَّةِ الْبَالِغَةِ الْعَاقِلَةِ بِکْرًا کَانَتْ أَوْ ثَیِّبًا فِي قَوْلِ أَبِي حَنِیفَةَ وَزُفَرَ وَقَوْلِ أَبِي یُوسُفَ الْأَوَّلِ۔ وَفِي قَوْلِ مُحَمَّدٍ وَأَبِي یُوسُفَ الْآخَرِ الْوِلَایَةُ عَلَیْهَا وِلَایَةٌ مُشْتَرَکَةٌ۔ وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ هِيَ وِلَایَةٌ مُشْتَرَکَةٌ أَیْضًا لَا فِي الْعِبَارَةِ فَإِنَّهَا لِلْمَوْلٰی خَاصَّةً، وَشَرْطُ ثُبُوتِ هٰذِهِ الْوِلَایَةِ عَلٰی أَصْلِ أَصْحَابِنَا هُوَ رِضَا الْمُوَلّٰی عَلَیْهِ لَا غَیْرُ. وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ هٰذَا وَعِبَارَةُ الْوَلِيِّ أَیْضًا۔ وَعَلٰی هٰذَا یُبْنَی الْحُرَّةُ الْبَالِغَةُ الْعَاقِلَةُ إذَا زَوَّجَتْ نَفْسَهَا مِنْ رَجُلٍ أَوْ وَکَّلَتْ رَجُلًا بِالتَّزْوِیجِ فَتَزَوَّجَهَا أَوْ زَوَّجَهَا فُضُولِيٌّ فَأَجَازَتْ جَازَ فِي قَوْلِ أَبِي حَنِیفَةَ وَزُفَرَ وَأَبِي یُوسُفَ الْأَوَّلِ سَوَاء زَوَّجَتْ نَفْسَهَا مِنْ کُفْءٍ أَوْ غَیْرِ کُفْءٍ بِمَهْرٍ وَافِرٍ أَوْ قَاصِرٍ۔

رَوَی الْحَسَنُ بْنُ زِیَادٍ عَنْ أَبِي یُوسُفَ رِوَایَةً أُخْرٰی أَنَّهَا إذَا زَوَّجَتْ نَفْسَهَا مِنْ کُفْئٍ یَنْفُذُ وَتَثْبُتُ سَائِرُ الْأَحْکَامِ۔ وَرُوِيَ عَنْ مُحَمَّدٍ أَنَّہٗ إذَا کَانَ لِلْمَرْأَةِ وَلِيٌّ لَا یَجُوزُ نِکَاحُهَا إلَّا بِإِذْنِہٖ، وَإِنْ لَمْ یَکُنْ لَهَا وَلِيٌّ جَازَ إِنْکَاحُهَا عَلٰی نَفْسِهَا۔ وَرُوِيَ عَنْ مُحَمَّدٍ أَنَّہٗ رَجَعَ إِلٰی قَوْلِ أَبِي حَنِیفَةَ۔ قَالَ مُحَمَّدٌ: یَنْعَقِدُ النِّکَاحُ بِعِبَارَتِهَا وَیَنْفُذُ بِإِذْنِ الْوَلِيِّ وَإِجَازَتِہٖ، وَیَنْعَقِدُ بِعِبَارَةِ الْوَلِيِّ وَیَنْفُذُ بِإِذْنِهَا وَإِجَازَتِهَا۔ رُوِيَ عَنْ أَبِي یُوسُفَ أَنَّهَا إِذَا زَوَّجَتْ نَفْسَهَا مِنْ کُفْئٍ یَنْفُذُ؛ لِأَنَّ حَقَّ الْأَوْلِیَائِ فِي النِّکَاحِ مِنْ حَیْثُ صِیَانِتِهِمْ عَمَّا یُوجِبُ لُحُوقَ الْعَارِ وَالشَّیْنِ بِهِمْ بِنِسْبَةِ مَنْ لَا یُکَافِئُهُمْ بِالصِّهْرِیَّةِ إِلَیْهِمْ، وَقَدْ بَطَلَ هٰذَا الْمَعْنٰی بِالتَّزْوِیجِ مِنْ کُفْئٍ، یُحَقِّقُہٗ أَنَّهَا لَوْ وَجَدَتْ کُفْئًا وَطَلَبَتْ مِنَ الْمَوْلَی الْإِنْکَاحَ مِنْهُ لَا یَحِلُّ لَهُ الاِمْتِنَاعُ وَلَوْ امْتَنَعَ یَصِیرُ عَاضِلًا فَصَارَ عَقْدُهَا وَالْحَالَةُ هٰذِہٖ بِمَنْزِلَةِ عَقْدِہٖ بِنَفْسِہٖ۔

رُوِيَ عَنْ مُحَمَّدٍ مِنَ الْفَرْقِ بَیْنَ مَا إذَا کَانَ لَهَا وَلِيٌّ وَبَیْنَ مَا إذَا لَمْ یَکُنْ لَهَا وَلِيٌّ أَنَّ وُقُوفَ الْعَقْدِ عَلٰی إِذْنِ الْوَلِيِّ کَانَ لِحَقِّ الْوَلِيِّ لَا لِحَقِّهَا فَإِذَا لَمْ یَکُنْ لَهَا وَلِيٌّ فَـلَا حَقَّ لِلْوَلِيِّ، فَکَانَ الْحَقُّ لَهَا خَاصَّةً، فَإِذَا عَقَدَتْ فَقَدْ تَصَرَّفَتْ فِي خَالِصِ حَقِّهَا فَنَفَذَ وَأَمَّا إذَا زَوَّجَتْ نَفْسَهَا مِنْ کُفْءٍ وَبَلَغَ الْوَلِيَّ فَامْتَنَعَ مِنَ الْإِجَازَةِ فَرَفَعَتْ أَمْرَهَا إلَی الْحَاکِمِ فَإِنَّہٗ یُجِیزُہٗ فِي قَوْلِ أَبِي یُوسُفَ۔ وَجْهُ قَوْلِ أَبِي یُوسُفَ أَنَّہٗ بِالاِمْتِنَاعِ صَارَ عَاضِلًا إِذْ لَا یَحِلُّ لَهُ الاِمْتِنَاعُ مِنَ الْإِجَازَةِ إذَا زَوَّجَتْ نَفْسَهَا مِنْ کُفْءٍ، فَإِذَا امْتَنَعَ فَقَدْ عَضَلَهَا فَخَرَجَ مِنْ أَنْ یَکُونَ وَلِیًّا وَانْقَلَبَتِ الْوِلَایَةُ إلَی الْحَاکِمِ۔

کاساني، بدائع الصنائع في ترتیب الشرائع، 2:247-249

امام ابو حنیفہ، اِمام زفر اور اِمام ابو یوسف کے پہلے قول کے مطابق بالغہ و عاقلہ عورت کے نکاح کے لیے ولی کی موجودگی مستحب ہے خواہ وہ عورت باکرہ ہو یا ثیبہ اور امام محمد اور ابو یوسف کے آخری قول کے مطابق بالغہ و عاقلہ پر ولایت مشترک ہے (یعنی خود بالغہ عاقلہ کو بھی اپنے نفس پر ولایت حاصل ہے اور اس کے ولی کو بھی)، اور امام کے نزدیک بھی یہ ولایت مشترکہ ہے کہ الفاظِ نکاح تو صرف ولی کے ہو سکتے ہیں (یعنی ایجاب و قبول صرف ولی کرسکتا ہے باقی عملی رضامندی تو عورت کی ہوگی)۔ اور ہمارے اصحاب کے اصول کے مطابق اس ولایت کے ثبوت کی شرط صرف مُوَلّٰی علیہ ہی کی رضا مندی ہے اور امام شافعیؒ کے نزدیک یہ بھی ہے اور ولی کی اِجازت بھی۔ چنانچہ ایک آزاد، بالغہ، عاقلہ عورت اگر اپنا نکاح کسی مرد سے خود کرلے یا اپنے نکاح کے لیے کسی شخص کو وکیل مقرر کرے اور وہ شخص اس عورت کا نکاح کردے یا غیر مجاز شخص اُس عورت کا نکاح کر دے تو امام ابو حنیفہ کے قول کے مطابق وہ نکاح اس عورت کی اجازت سے جائز ہوجائے گا۔ یہی قول امام زفر کا ہے اور امام ابو یوسف کا بھی آخری قول یہی ہے کہ خواہ اس عورت نے اپنا نکاح کفو سے کیا ہو یا غیر کفو سے زیادہ مہر پر کیا ہو یا کم مہر پر، نکاح ہوجائے گا۔

حسن بن زیاد نے ابو یوسف سے ایک اور روایت بیان کی ہے کہ اگر لڑکی نے کفو سے نکاح کیا ہو تو وہ نکاح صحیح اور نافذ ہوگا اور تمام احکام شرعی اس نکاح پر ثابت ہوں گے۔ اور امام محمد سے روایت کیا گیا ہے کہ جب عورت کا کوئی ولی ہو تو اس کا نکاح اس ولی کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ہے۔ اور اگر اس کا کوئی بھی ولی نہ ہو تو وہ خود اپنا نکاح کر سکتی ہے۔ اور یہ بھی امام محمد کے بارے روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے امام ابو حنیفہ کے قول کی طرف رجوع کر لیا تھا۔ امام محمد کا کہنا یہ ہے کہ جس طرح نکاح عورت کے الفاظ سے منعقد ہوتا ہے اور ولی کے اذن و اجازت سے نافذ ہوتا ہے اسی طرح ولی کے الفاظ سے منعقد اور عورت کے اذن و اجازت سے نافذ ہوسکتا ہے۔ امام ابو یوسف کے مطابق جب عورت نے اپنا نکاح کفو سے کر لیا تو وہ نافذ ہوجاتا ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ عورت کے نکاح میں ولی کا حق صیانت (حفاظت و نگہبانی) کی غرض سے ہے۔ چونکہ عورت کے غیر کفو سے نکاح کرنے سے اس کے اولیاء کو عار لاحق ہوگا، اس لیے اگر عورت اپنا نکاح کفو سے کرلے تو اولیاء کا حق ختم ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اگر کوئی عورت ایک کفو کو منتخب یا پسند کرلے اور ولی سے مطالبہ کرے کہ وہ اس کا نکاح اس کفو سے کردے تو ولی کے لیے یہ امر جائز نہیں ہے کہ اس کو منع کرے۔ اور اگر وہ منع کرے گا تو وہ عاضل (رُکاوٹ ڈالنے والا) قرار پائے گا۔ چنانچہ اگر عورت نے خود اپنا نکاح کفو سے کرلیا تو یہ ایسا ہی ہوگا جیسا کہ ولی نے خود اس عورت کا نکاح کردیا ہو۔

امام محمد کے قول کی وجہ یہ ہے کہ اگر کسی عورت کا ولی ہے تو وہ عقد اس کی اجازت پر موقوف رہے گا۔ کیونکہ امام محمد کے نزدیک یہ حق ولی کا ہے لیکن جب اس عورت کا کوئی ولی نہ ہو تو یہ حق خود اس کا ہوجاتا ہے۔ چنانچہ اگر اس نے ولی نہ ہونے کی صورت میں اپنا نکاح کرلیا تو گویا اس نے اپنے ہی حق میں تصرف کیا اور وہ نکاح نافذ ہوگا۔ اگر اس نے اپنا نکاح کفو سے کیا اور یہ خبر جب ولی کو پہنچی تو اس نے اجازت دینے سے انکار کردیا اور وہ اپنے مقدمے کو حاکم کے پاس لے گئی تو ابو یوسف کے قول کے مطابق حاکم اس نکاح کو جائز قرار دے گا۔ ابو یوسف کے قول کی وجہ یہ ہے کہ ولی نکاح کی اجازت دینے سے منحرف ہو گیا ہے اور عاضل (رکاوٹ ڈالنے والا) بن گیا ہے۔ جب کہ اس کو حق نہیں ہے کہ وہ کفو سے نکاح کی اجازت دینے سے انکار کرے، چونکہ وہ نکاح کی اجازت دینے سے منحرف ہوگیا اس لیے ولایت سے خارج ہوگیا اور ولایت حاکم کی جانب منتقل ہوگئی اس لیے تجدیدِ نکاح کی ضرورت نہیں۔

الدرالمختار میں ہے:

فنفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلا رضی ولی۔

حصکفی، الدر المختار، 1:191

آزاد مکلف عورت کا نکاح ولی کی رضا مندی کے بغیر بھی جائز ہے۔

فقہائے احناف فرماتے ہیں:

ینعقد نکاح الحرۃ العاقلۃ البالغۃ برضا ھا وإن لم یعقد علیہا ولی؛ بکرا کانت أَو ثیبًا۔

آزاد، عقل مند اور بالغ عورت کا نکاح اس کی رضا سے ہو جاتا ہے خواہ اس کا ولی نہ کرے؛ چاہے کنواری ہو یا بیوہ/مطلقہ۔

ابن الہمام، فتح القدیر، 3:157

اِن تفصیلات سے یہ امر متحقق ہوگیا کہ شریعت کی رو سے نابالغ لڑکی کے لیے ولی بنانا شرط ہے جبکہ بالغ نکاح کے معاملہ میں ولی کی نسبت خود مختار ہے لیکن نابالغ لڑکی بالغ ہونے پر اس نکاح کو ختم کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ تاہم بالغ اولاد کو چاہیے کہ والدین جو محنت و مشقت اور محبت سے اس کی پرورش کر کے اور ترقی کی منازل طے کراتے ہیں، شادی کے معاملے میں ان کی رضا مندی اور مشورے کو پوری اہمیت دے کیونکہ ان کے جذبات و احساسات کا خیال رکھنا اور ان سے رہنمائی لینا ہی سعادت مندی اور خوش بختی ہے۔ لیکن والدین کو بھی بلا وجہ اپنا فیصلہ اولاد پر مسلط نہیں کرنا چاہیے اور اولاد کی پسند و ناپسند کا خیال رکھنا چاہیے۔

سوال 51: کیا مرد و عورت دونوں نکاح کے لیے ولی ہو سکتے ہیں؟

جواب: جی ہاں! مرد و عورت دونوں نکاح کے لیے ولی ہو سکتے ہیں۔ عورت اس صورت میں ولی ہو سکتی ہے جبکہ کوئی مرد ولی موجود نہ ہو یا عورت کے ولی ہونے کی وصیت کی گئی ہو۔ حضرت عبید اللہ بن عمر حضرت نافع سے روایت کرتے ہیں:

عَنْ عُبَیْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: وَلّٰی عُمَرُ ابْنَتَہٗ حَفْصَةَ مَالَہٗ وَبَنَاتِہٖ نِکَاحَهُنَّ، فَکَانَتْ حَفْصَةُ إِذَا أَرَادَتْ أَنْ تُزَوِّجَ امْرَأَةً، أَمَرَتْ أَخَاهَا عَبْدَ اللهِ فَزَوَّجَ۔

عبد الرزاق، المصنف، 6:200، رقم:10495

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو اپنے مال اور اپنی صاحبزادیوں کے نکاح کا ولی بنا دیا۔ جب کبھی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے اس اختیار کو استعمال کرنا ہوتا تو وہ اپنے بھائی عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو کہتیں اور وہ نکاح سر انجام دیتے تھے۔

سوال 52: کس لڑکی کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہیں ہوسکتا؟

جواب: بالغ لڑکی کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔

1۔ حضرت خنساء بنتِ خِذام اَنصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:

إِنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ ثَیِّبٌ، فَکَرِهَتْ ذٰلِکَ فَأَتَتِ النَّبِيَّ ﷺ فَرَدَّ نِکَاحَهَا۔

1۔ بخاري، الصحیح، کتاب الإکراہ، باب لا یجوز نکاح المکرہ، 6:2547، رقم:6546
2۔ أبو داود، السنن، کتاب النکاح، باب في الثیب، 2:233، رقم:2101
3۔ دارمی، السنن، 2:187، رقم:2192

اُن کے والد ماجد نے ان کی شادی کر دی جبکہ وہ بیوہ تھیں، مگر اُنہیں یہ شادی ناپسند تھی۔ سو وہ حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو گئیں اور آپ ﷺ نے اُن کا نکاح منسوخ فرما دیا۔

2۔ عبد الرحمان بن یزید انصاری اور مُجَمِّع بن یزید انصاری سے مروی ہے:

إِنَّ رَجُلًا یُدْعٰی خِذَامًا، أَنْکَحَ ابْنَةً لَہٗ فَکَرِهَتْ نِکَاحَ أَبِیْهَا، فَأَتَتْ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ فَذَکَرَتْ لَہٗ فَرَدَّ عَلَیْهَا نِکَاحَ أَبِیْهَا، فَنَکَحَتْ أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ۔ وَذَکَرَ یَحْیٰی أَنَّهَا کَانَتْ ثَیِّبًا۔

1۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب النکاح، باب من زوج ابنتہ وھي کارھۃ، 1:602، رقم:1873
2۔ دارمي، السنن، 2:187، رقم:2191
3۔ ابن أبي شیبۃ، المصنف، 3:457، رقم:15954

خذام نامی ایک شخص نے اپنی لڑکی کی شادی اُس کی مرضی کے بغیر کر دی تو لڑکی نے اپنے باپ کے کیے ہوئے اِس نکاح کو ناپسند کیا۔ لهٰذا وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ ﷺ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے اُس کے باپ کی طرف سے کیا گیا نکاح فسخ کر دیا۔ بعد ازاں اس لڑکی نے ابو لبابہ بن عبد المنذر سے نکاح کر لیا۔ یحییٰ کہتے ہیں: وہ بیوہ تھی۔

3۔ حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں:

جَاءتْ امْرَأَةٌ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ، فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللهِ، إِنَّ عَمَّ وَلَدِيْ خَطَبَنِي فَرَدَّہٗ أَبِي وَزَوَّجَنِيْ، وَأَنَا کَارِهَةٌ۔ قَالَ: فَدَعَا أَبَاهَا، فَسَأَلَہٗ عَنْ ذٰلِکَ۔ فَقَالَ: إِنِّی أَنْکَحْتُهَا وَلَمْ آلُوهَا خَیْرًا۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: لَا نِکَاحَ، اِذْهَبِي فَانْکَحِي مَنْ شِئْتِ۔

1۔ ابن أبي شیبۃ، المصنف، کتاب النکاح، باب من أجازہ بغیر ولي ولم یفرق، 3:457، رقم:15953

ایک عورت نے حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے بیٹے کے چچا (یعنی دیور) نے مجھے پیغامِ نکاح دیا تو میرے باپ نے اس کو مسترد کر دیا اور میری پسند کے خلاف میرا نکاح کر دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے والد کو بلایا اور اس سے معاملہ دریافت فرمایا۔ اس کے باپ نے کہا: میں نے اس کے نکاح میں کسی بہتری کو ترک نہیں کیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ نکاح نہیں ہوا، (اُس عورت سے فرمایا:) تُو چلی جا، سو جس سے چاہے نکاح کر لے۔

4۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:

إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ رَدَّ نِکَاحَ بِکْرٍ وَثَیِّبٍ أَنْکَحَهُمَا أَبُوهُمَا، وَهُمَا کَارِهَتَانِ، فَرَدَّ النَّبِيُّ ﷺ نِکَاحَهُمَا.

1۔ دارقطني، السنن، کتاب النکاح، 3:233، رقم:53
2۔ بیہقي، السنن الکبری، 7:114

رسول اللہ ﷺ نے کنواری (بالغہ) اور بیوہ عورتوں کے نکاح فاسد فرما دیئے اس وجہ سے کہ اُن کے والد نے اُن کے نکاح ان کی مرضی کے خلاف کر دیئے تھے، سو حضور نبی اکرم ﷺ نے اُن دونوں کے نکاح کو رَد کر دیا۔

5۔ حضرت عطاء بن ابی رباح تابعی سے مرسلاً مروی ہے:

فَرَّقَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ بَیْنَ امْرَأَةٍ وَزَوْجِھَا وَھِيَ بِکْرٌ، أَنْکَحَھَا أَبُوھَا وَھِيَ کَارِھَةٌ.

دارقطني، السنن، کتاب النکاح، 3:234، رقم:52

رسول اللہ ﷺ نے ایک بالغہ کنواری عورت اور اس کے خاوند کے مابین تفریق کروا دی کیونکہ اس کے باپ نے اس کا نکاح جس لڑکے سے کیا وہ اس کو ناپسند کرتی تھی۔

6۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے:

جَائَتْ فَتَاةٌ إِلَی رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَقَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللهِ، إِنَّ أَبِي زَوَّجَنِي ابْنَ أَخِیْهِ یَرْفَعُ بِي خَسِیْسَتَہٗ۔ فَجَعَلَ الْأَمْرَ إِلَیْهَا، قَالَتْ: فَإِنِّي قَدْ أَجَزْتُ مَا صَنَعَ أَبِي وَلٰکِنْ أَرَدْتُ أَنْ تَعْلَمَ النِّسَاءُ أَنْ لَیْسَ لِلْآبَاءِ مِنَ الْأَمْرِ شَيْئٌ.

1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 6:136، رقم:25087
2۔ نسائي، السنن، کتاب النکاح، باب البکر یزوجہا أبوہا وہي کارہۃ، 6:86، رقم:3269
3۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب النکاح، باب من زوج ابنتہ وھی کارھۃ، 1:602، رقم:1874
4۔ دارقطني، السنن، کتاب النکاح، 3:232، رقم:45

ایک لڑکی رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے باپ نے اپنے بھتیجے سے میرا نکاح کر دیا ہے تاکہ میرے ذریعہ سے اپنی مفلسی دور کرے۔ آپ ﷺ نے اُس کے اختیار میں معاملہ دے دیا (چاہے نکاح برقرار رکھے اور چاہے تو اس سے علیحدگی کر لے)۔ اس نے عرض کیا: میں اپنے والد کے نکاح کو برقرار رکھتی ہوں لیکن میں نے اس لیے (آپ کی خدمت میں آ کر دریافت) کیا کہ عورتوں کو معلوم ہو جائے کہ اولاد کے نکاح کے معاملے میں والدین کا ان پر (ان کی مرضی کے خلاف) کوئی حق لازم نہیں ہے۔

7۔ اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ہے:

إِنَّ جَارِیَةً بِکْرًا أَتَتِ النَّبِيَّ ﷺ فَذَکَرَتْ أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ کَارِهَةٌ فَخَیَّرَهَا النَّبِيُّ ﷺ.

1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 1:273، رقم:2469
2۔ أبو داود، السنن، کتاب النکاح، باب في البکر یزوجہا أبوہا ولا یستأمرہا، 2:232، رقم:2096
3۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب النکاح، باب من زوج ابنتہ وھی کارھۃ، 1:603، رقم:1875

ایک کنواری لڑکی حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت اقدس میں آئی اور عرض کیا کہ اس کے باپ نے اس کا نکاح زبردستی کر دیا ہے تو حضور نبی اکرم ﷺ نے اسے اختیار دے دیا (کہ چاہے نکاح برقرار رکھے اور چاہے تو اسے فسخ کر دے)۔

لہٰذا لڑکے اور لڑکی کی مرضی کے خلاف کیا ہوا نکاح اگر وہ برقرار نہ رکھنا چاہیں تو اُسے عدالت کے ذریعے فسخ کرواسکتے ہیں۔

سوال 53: دلہا اور دلہن کو تیار کرتے وقت کون سی دعا پڑھنی چاہیے؟

جواب: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب کوئی شخص نکاح کرتا تو حضور نبی اکرم ﷺ اُسے مبارک باد دیتے ہوئے اس کے لیے یوں دعا فرماتے:

بَارَکَ اللهُ لَکَ وَبَارَکَ عَلَیْکَ وَجَمَعَ بَیْنَکُمَا فِیْ خَیْرٍ.

ترمذی، السنن، کتاب النکاح، باب ما جاء فیما یقال للمتزوج، 3:400، رقم:1091

اللہ تعالیٰ تمہارے لیے مبارک کرے، تمہیں برکت دے اور تم دونوں کو بھلائی پر جمع کرے۔

دلہا اور دلہن کو تیار کرتے وقت درج ذیل دعا پڑھنی چاہیے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ سے جب میرا نکاح ہوا تو میری والدہ مجھے حضور نبی اکرم ﷺ کے گھر لائیں۔ وہاں انصار کی کچھ عورتیں موجود تھیں انہوں نے مجھے تیار کیا اور یہ دعا دی:

عَلَی الْخَیْرِ وَالْبَرَکَةِ وَعَلٰی خَیْرِ طَائِرٍ.

بخاری، الصحیح، کتاب النکاح، باب الدعا للنسآء اللّاتی یھدین العروس و للعروس، 5:1979، رقم:4861

تم پر خیر و برکت کا نزول ہو اور تمہارا نصیب نیک ہو۔

دلہا کو تیار کرتے وقت اس طرح دعا مانگیں: حضور نبی اکرم ﷺنے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو ان کی شادی پر اس طرح برکت کی دعا ارشاد فرمائی:

بَارَکَ اللهُ لَکَ، أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ.

بخاری، الصحیح، کتاب النکاح باب کیف یدعی للمتزوج، 5:1979، رقم:4860

اللہ تمہیں برکت دے، تم ولیمہ کرو خواہ ایک بکری سے ہو۔

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ انصار کے ایک دلہا کے پاس گئے تو آپ ﷺ نے دعا فرمائی:

عَلَی الْخَیْرِ وَالْأُلْفَةِ، وَالطَّائِرِ الْمَیْمُونِ، وَالسَّعَةِ فِی الرِّزْقِ، بَارِکَ اللهُ لَکُمْ.

1۔ طبرانی، مسند الشامیین، 1:234، رقم:416
2۔ طبرانی، المعجم الکبیر، 20:97، رقم:191
3۔ بیہقی، السنن، 7:288، رقم:14461
4۔ أبو نعیم، حلیۃ الأولیاء وطبقات الأصفیائ، 6:96

تم باہم محبت اور خیر کے ساتھ رہو، تمہارا نصیب با برکت ہو، تمہیں رزق میں کشادگی حاصل ہو اور اللہ تعالیٰ تمہیں برکت عطا فرمائے۔

سوال 54: نکاح پڑھانے کا طریقہ کیا ہے؟

جواب: نکاح پڑھانے کا طریقہ درج ذیل ہے:

(1) نکاح پڑھانے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ جن کا نکاح پڑھایا جا رہا ہے، ان کا نکاح شرعاً جائز ہے۔ کوئی اَمر مانع نہ ہو، مثلاً محرمات نہ ہوں، عورت عدت میں نہ ہو وغیرہ۔ دونوں مسلمان ہوں یا مرد مسلمان اور عورت اہل کتاب (یہودی یا عیسائی) ہو۔ دو مسلمان عاقل و بالغ مرد گواہ ہوں یا ایک مرد اور دو عورتیں بطور گواہ موجود ہوں۔

(2) پھر نکاح فارم پُر کریں، متعلقہ اشخاص کے دستخط کروا لیں، پھر لڑکے لڑکی دونوں سے اجازت لیں۔ لڑکی کو لڑکے کا پورا تعارف کروائیں۔ لڑکی حق مہر کی ڈیمانڈ کرے اور پھر دونوں کی مرضی و اجازت سے حق مہر طے کریں اور گواہوں کے روبرو لڑکے سے کہیں کہ فلاں بنت فلاں کو اتنے حق مہر کے بدلے اپنے نکاح میں قبول کرتے ہو؟ وہ قبول کرے تو اس کے بعد خطبہ مسنونہ پڑھ کر دونوں کے اچھے مستقبل، اتحاد و اتفاق اور حسن معاشرت کی دعا کریں۔

اگر رخصتی بھی ساتھ ہی کرنی ہے تو اِسکے بعد دُلہا بغیر اسراف و تبذیر کے حسبِ توفیق حاضرین کو دعوتِ ولیمہ کھلائے۔ ولیمہ سنت ہے مگر شرط یہ ہے کہ قرض نہ لیں، فضول خرچی نہ کریں، رزق ضائع نہ کریں اور غریب لوگوں کو بھی کھانے میں شامل کریں۔

سوال 55: خطبہ نکاح کیا ہے؟

جواب: خطبہ نکاح درج ذیل ہے:

اَلْحَمْدُ ِللهِ، اَلْحَمْدُ ِللهِ نَحْمَدُہٗ وَنَسْتَعِیْنُہٗ وَنَسْتَغْفِرُہٗ وَنُؤْمِنُ بِہٖ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْهِ، وَنَعُوْذُ بِاللهِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّئَات اَعْمَالِنَا، مَنْ یَّهْدِهِ اللهُ فَـلَا مُضِلَّ لَہٗ وَنَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلَهَ اِلاَّ اللهُ وَنَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ، اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْهُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ.

اَمَّا بَعْدُ:

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّیْطَنِ الرَّجِیْمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

یٰٓـاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً کَثِیْرًا وَّنِسَآئًج وَاتَّقُوا اللهَ الَّذِیْ تَسَآئَ لُوْنَ بِـہٖ وَالْاَرْحَامَط اِنَّ اللهَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًاo

وَفِي مَقَامٍ آخَرُ:

فَانْکِحُوْا مَاطَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآئِ مَثْنٰی وَثُلٰثَ وَرُبٰعَج فَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ۔

وَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ:

اَلنِّکَاحُ مِنْ سُنَّتِي، فَمَنْ لَمْ یَعْمَلْ بِسُنَّتِي فَلَیْسَ مِنِّي.

وَ قَالَ ﷺ فِي مَقَامٍ آخَرُ

یَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ! مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ الْبَائَ ةَ فَلْیَتَزَوَّجْ.

عِبَادَ اللهِ! رَحِمَکُمُ اللهَ. اِنَّ اللهَ یَأْمُرُکُمْ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِیْتَـآئِ ذِیْ الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسَاکِیْن. وَیَنْهٰی عَنِ الْفَحْشَائِ وَالْمُنْکَرِ وَالْبَغْیِ. وَیَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ.

سوال 56: رخصتی کے وقت کون سی دعا پڑھنی چاہیے؟

جواب: جب کوئی شخص اپنی بیٹی کی شادی کرے تو رخصتی کے وقت بیٹی کے لیے یہ دعا کرے:

اَللّٰهُمَّ! إِنِّی أُعِیْذُھَا بِکَ وَذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ.

اے اللہ! میں اس لڑکی کو اور اس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتا ہوں شیطان مردود کے شر سے۔

داماد کے لیے یہ دعا پڑھے:

اَللّٰهُمَّ! إِنِّی أُعِیْذُہٗ بِکَ وَذُرِّیَّتَہٗ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ.

اے اللہ! میں اس لڑکے کو اور اس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتا ہوں شیطان مردود کے شرسے۔

سوال 57: دلہا خلوت میں اپنی زوجہ کے پاس جائے تو کون سی دعا پڑھے؟

جواب: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص خلوت میں جب اپنی زوجہ کے پاس جانے کا ارادہ کرے تو یہ دعا پڑھے:

بِسْمِ اللهِ، اَللّٰهُمَّ! جَنِّبْنَا الشَّیْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّیْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا.

اللہ کے نام سے۔ اے اللہ! ہمیں شیطان سے محفوظ رکھ اور جو (اولاد) ہمیں دے اس کو بھی شیطان سے محفوظ رکھ۔

حضور نبی اکرم ﷺ نے مزید فرمایا:

اگر ان کے لیے کوئی بچہ مقدر ہوگیا تو اللہ تعالیٰ اسے ہمیشہ شیطان کے ضرر سے محفوظ رکھے گا۔

مسلم، الصحیح، کتاب النکاح، باب ما یستحب ان یقولہ عند الجماع، 2:1058، رقم:1434

سوال 58: بیوی کے حقوق کیا ہیں؟

جواب: اسلام نے خاندانی نظام میں عورت کو شوہر کے گھر کی نگران بنایا ہے۔ نیز مرد اور عورت کے درمیان حقوق کا منصفانہ دستور پیش کیا۔ دونوں کے لیے ایک ہی راہ اور ایک ہی دستورِ حیات تجویز کرنے کی ترغیب دی اور دونوں کے الگ الگ حقوق متعین کیے ہیں تاہم بیوی کے حقوق درج ذیل ہیں:

1۔ نفقہ کا حق

اسلام میں مرد کو قوّام اور کما کر خرچ کرنے والا کہا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:

اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَآء بِمَا فَضَّلَ اللهُ بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِھِمْ ط

النساء، 4:34

مرد عورتوں پر محافظ و منتظِم ہیں اس لیے کہ اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے (بھی) کہ مرد (ان پر) اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔

اسی فضیلت و قوامیت کی بناء پر معاشرتی زندگی میں اس پر عورت کی نسبت زیادہ حقوق عائد کیے گئے ہیں۔ نکاح کا تعلق گو برابری کی بنیاد پر طے پاتا ہے اور اس میں فریقین کی رضا و رغبت کو یکساں طور پر دخل ہوتا ہے مگر پھربھی اسلام اس رشتہ ازدواج میں مرد پر زیادہ ذمہ داری عائد کرتا ہے۔

بیوی کے حقوق میں سے ہے کہ بیوی کے کھانے پینے، لباس اور رہائش کا خرچ شوہر اٹھائے جیسا کہ حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے کسی پر اس کی بیوی کا کیا حق ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:

أَنْ تُطْعِمَهَا إِذَا طَعِمْتَ، وَتَکْسُوْهَا إِذَا اکْتَسَیْتَ أَوِ اکْتَسَبْتَ، وَلَا تَضْرِبِ الْوَجْهَ، وَلَا تُقَبِّحْ، وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَیْتِ.

1۔ احمد بن حنبل، المسند، 4:447، رقم:20027
2۔ احمد بن حنبل، المسند، 5:3، رقم:20036
3۔ ابو داؤد، السنن، کتاب النکاح، باب فی حق المراۃ علی زوجھا، 2:244، رقم:2142
4۔ نسائي، السنن الکبری، 5:373، رقم:9171
5۔ عبد الرزاق، المصنف، 7:148، رقم:12583
6۔ طبراني، المعجم الکبیر، 19:427، رقم:1038

جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، جب تم خود پہنو یا کماؤ تو اسے بھی پہناؤ، اس کے منہ پر نہ مارو، اُسے برے لفظ نہ بولو اور اسے خود سے الگ نہ کرو مگر گھر کے اندر ہی۔

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے انہیں فرمایا:

إِنَّکَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللهِ إِلَّا أُجِرْتَ عَلَیْهَا حَتّٰی مَا تَجْعَلُ فِيفَمِ امْرَأَتِکَ.

1۔ بخاري، الصحیح، کتاب الإیمان، باب ما جاء أَن الأعمال بالنیۃ والحِسبۃ ولکل امریٔ ما نوی، 1:30، رقم:56
2۔ بخاري، الصحیح، کتاب الجنائز، باب رِثَاء النبي ﷺ سعد بن خولۃ، 1:435، رقم:1233
3۔ مسلم، الصحیح، کتاب الوصیۃ، باب الوصیۃ بالثلث، 3:1250، رقم:1628
4۔ مالک، الموطأ، 2:763، رقم:1456

تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو جس سے تمہارا مقصود رضائے الٰہی ہوتا ہے تو تمہیں اُس پر اجر دیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ تم اپنی بیوی کے منہ میں جو لقمہ ڈالتے ہو (اس پر بھی تمہیں اجر دیا جاتا ہے)۔

مرد کو عورت کی جملہ ضروریات کا کفیل بنایا گیا ہے۔ اس میں اس کی خوراک، سکونت، لباس وغیرہ تمام اشیاء شامل ہیں۔

2۔ حق پاسداری کی تلقین

حضور نبی اکرم ﷺ نے احادیثِ مبارکہ میں عورت کے اس حق کی پاس داری کی تلقین فرمائی ہے۔ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی طویل روایت میں ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا:

اتَّقُوا اللهَ فِي النساء، فَإِنَّکُمْ أَخَذْتُمُوْهُنَّ بِأَمَانِ اللهِ … وَلَهُنَّ عَلَیْکُمْ رِزْقُهُنَّ وَکِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ.

1۔ مسلم، الصحیح، کتاب الحج، باب حجۃ النبي ﷺ، 2: 890، رقم:1218
2۔ أبو داود، السنن، کتاب المناسک، باب صفۃ حج النبي ﷺ، 2:185، رقم:1905
3۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب المناسک، باب حجۃ رسول اللہ ﷺ، 2:1025، رقم:3074
4۔ ابن حبان، الصحیح، 9:257، رقم:3944

لوگو! تم عورتوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو، کیونکہ تم نے ان کو اللہ تعالیٰ کی اَمان میں لیا ہے۔ … تم پر اُن کا یہ حق ہے کہ تم اپنی حیثیت کے مطابق اُن کو اچھی خوراک اور اچھا لباس فراہم کیا کرو۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں حاضرہو کر عرض گزار ہوا: یارسول اللہ! میرانام فلاں فلاں غزوہ میں لکھ لیاگیا ہے مگر میری بیوی حج کرنا چاہتی ہے (میرے لیے کیاحکم ہے)؟ آپ ﷺ نے ارشادفرمایا:

ارْجِعْ فَحُجَّ مَعَ امْرَأَتِکَ.

1۔ بخاری، الصحیح، کتاب الجہاد والسیر، باب کتابۃ الإمام الناس، 3:1114، رقم:2896
2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الحج، باب سفر المرأۃ مع محرم إلی حج وغیرہ، 2:978، رقم:1341

تم واپس چلے جاؤ اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو (کہ اُس کا بھی تم پر حق واجب ہے)۔

3۔ حق مشاورت

عورت کا مرد پر یہ بھی حق ہے کہ وہ عورت پر اعتماد کرے اور اپنے معاملات میں اس سے مشورہ کرتا رہے۔ خود حضور نبی اکرم ﷺ کا عمل مبارک اس معاملے میں یہی تھا۔ آغازِ نبوت میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا کردار اس کی واضح نظیر ہے۔ جب پہلی وحی کا نزول ہوا اور آپ ﷺ غارِ حراء سے اپنی قیام گاہ تشریف لائے تو سیدہ خدیجہ نے آپ کی ڈھارس بندھاتے ہوئے کہا:

کَـلَّا، وَاللهِ، مَا یُخْزِیْکَ اللهُ أَبَدًا، إِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَحْمِلُ الْکَلَّ، وَتَکْسِبُ الْمَعْدُوْمَ، وَتَقْرِی الضَّیْفَ، وَتُعِیْنُ عَلَی نَوَائِبِ الْحَقِّ.

1۔ بخاری، الصحیح، کتاب بدء الوحي، باب کیف کان بدء الوحي، 1:4، رقم:3
2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الإیمان، باب بدء الوحي إلی رسول اللہ ﷺ، 1:139، رقم:160

بخدا! ہر گز نہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے، کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے، محتاجوں کے لیے کماتے، مہمان نوازی کرتے اور راهِ حق میں پیش آمدہ مصائب و آلام برداشت کرتے ہیں۔

اس کے بعد سیدہ خدیجہ آپ ﷺ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔ یہ اور اس جیسے دیگر واقعات آپ ﷺ کے سیدہ خدیجہ پر اعتماد کے مظاہر ہیں۔

صلح حدیبیہ کے موقع پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کفارِ مکہ سے معاہدہ کے بعد ظاہری صورتِ حال کے پیش نظر مغموم تھے، آپ ﷺ نے جب انہیں قربانی کرنے اور بال کٹوانے کا حکم فرمایا تو صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کوئی بھی کھڑا نہ ہوا۔ اس پر آپ ﷺ اپنی قیام گاہ پر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور ان سے مشورہ کیا تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺکو مشورہ دیتے ہوئے عرض کیا:

یَا نَبِیَّ اللهِ، أَتُحِبُّ ذٰلِکَ، اخْرُجْ ثُمَّ لاَ تُکَلِّمْ أَحَدًا مِنْهُمْ کَلِمَةً، حَتّٰی تَنْحَرَ بُدْنَکَ، وَتَدْعُوَ حَالِقَکَ فَیَحْلِقَکَ.

1۔ بخاری، الصحیح، کتاب الشروط، باب الشروط فی الجہاد ولمصالحۃ مع اہل الحرب وکتابۃ الشروط، 2:978، رقم:2581
2۔ ابن حبان، الصحیح، 11:225، رقم:4872
3۔ عبد الرزاق، المصنف، 5:340، رقم:9720
4۔ طبری، تاریخ الامم و الملوک، 2:637

اے نبی اللہ! کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ وہ آپ کے حسب حکم قربانی کریں اور سرمنڈوائیں (تو پھر) آپ ﷺ ان کی طرف تشریف لے جائیں اور ان میں سے کسی سے بھی گفتگو نہ کریں بلکہ اپنی قربانی کا جانور ذبح فرمائیں اور حجام کو بلائیں جو آپ ﷺ کے بال کاٹے گا۔

اس پر آپ ﷺ باہر تشریف لے گئے اور آپ ﷺ نے کسی سے کلام نہ فرمایا بلکہ اسی طرح کیا یعنی قربانی کا جانور ذبح کیا اور حجام کو بلایا جس نے آپ ﷺ کے بال کاٹے۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ دیکھا تو اتباعِ رسول ﷺ میں وہ بھی کھڑے ہوگئے اور قربانی کرنے لگے اور ایک دوسرے کے بال بنانے لگے۔

صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ ﷺ کا سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے مشورہ کرنا صائبۃ الرائے خواتین سے مشاورت کا اصول بیان کرتا ہے۔

ابن حجر عسقلانی، فتح الباری، 6:275

4۔ پردہ پوشی

قرآن حکیم نے عورت اور مرد کے تعلقات کو ایک نہایت لطیف مثال کے ذریعے بیان کیا ہے:

ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّھُنَّ.

البقرۃ، 2:187

عورتیں تمہارے لیے لباس (کا درجہ رکھتی) ہیں اور تم ان کے لیے لباس (کا درجہ رکھتے) ہو۔

اور لباس سے متعلق ایک دوسری جگہ کہا:

یٰـبَنِیْٓ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِکُمْ وَرِیْشًا.

الاعراف، 7:26

اے اولادِ آدم! بے شک ہم نے تمہارے لیے (ایسا) لباس اتارا ہے جو تمہاری شرم گاہوں کو چھپائے اور (تمہیں) زینت بخشے۔

یعنی مرد اور عورت ایک دوسرے کی خامیوں اور کوتاہیوں کا ازالہ کرنے والے ہیں۔ مرد کا فرض ہے کہ وہ عورت کی غلطیوں پر پردہ ڈالے اور عورت کو چاہیے کہ وہ مرد کے نقائص ظاہر نہ ہونے دے۔

5۔ جبر و اکراہ کی ممانعت

خاوند پر بیوی کا یہ حق بھی ہے کہ وہ بیوی پر ظلم اور زیادتی نہ کرے۔

وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآء فَبَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَاَمْسِکُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّلَا تُمْسِکُوْھُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا ج وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہٗ ط وَلَا تَتَّخِذُوْٓا اٰیٰتِ اللهِ ھُزُوًا.

البقرۃ، 2:231

اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت (پوری ہونے) کو آپہنچیں تو انہیں اچھے طریقے سے (اپنی زوجیّت میں) روک لو یا انہیں اچھے طریقے سے چھوڑ دو، اور انہیں محض تکلیف دینے کے لیے نہ روکے رکھو کہ (ان پر) زیادتی کرتے رہو اور جو کوئی ایسا کرے پس اس نے اپنی ہی جان پر ظلم کیا، اور اللہ کے احکام کو مذاق نہ بنا لو۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

أَکْمَلُ الْمُؤْمِنِینَ إِیمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا وَخِیَارُکُمْ خِیَارُکُمْ لِنِسَائِکُمْ.

1۔ احمد بن حنبل، المسند، 2: 472، رقم: 5: 1011
2۔ ترمذی، السنن، کتاب الرضاع، باب ماجاء فی حق المرأۃ علی زوجھا، 3: 466، رقم: 1162
3۔ دارمی، السنن، 2:415، رقم:2792
4۔ حاکم، المستدرک، 1:43، رقم:2

اہلِ ایمان میں سے کامل مومن وہ ہے جو اُن میں سے بہترین اخلاق کا مالک ہے اور تم میں سے بہترین وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے لیے (اخلاق و برتاؤ) میں بہترین ہیں۔

حضرت عبد اللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا:

وَذَکَرَ النَّاقَةَ وَالَّذِي عَقَرَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: {اِذِ انْبَعَثَ اَشْقٰهَاo} [الشمس، 91:12]، انْبَعَثَ لَهَا رَجُلٌ عَزِیزٌ عَارِمٌ، مَنِیْعٌ فِي رَهْطِہٖ مِثْلُ أَبِي زَمْعَةَ. وَذَکَرَ النِّسَاء فَقَالَ: یَعْمِدُ أَحَدُکُمْ، فَیَجْلِدُ امْرَأَتَہٗ جَلْدَ الْعَبْدِ فَلَعَلَّہٗ یُضَاجِعُهَا مِنْ آخِرِ یَوْمِہٖ.

1۔ بخاری، الصحیح، کتاب التفسیر، تفسیر سورۃ الشمس، 4:1888، رقم:4658
2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا وأہلہا، باب النار یدخلہا الجبارون والجنۃ یدخلہا الضعفائ، 4:2191، رقم:2855
3۔ ترمذي، السنن، کتاب تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ والشمس وضحاہا، 5:440، رقم:3343

آپ ﷺ نے (حضرت صالح علیہ السلام کی) اونٹنی اور جس نے اس کی کونچیں کاٹیں اس کا ذکر فرمایا، تو رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت {جب کہ ان میں سے ایک بڑا بد بخت اٹھا} [الشمس، 91:12] پڑھنے کے بعد فرمایا: اس اونٹنی کو ہلاک کرنے کے لیے ایسا شخص کھڑا ہوا جو طاقتور، مفسد اور ابو زمعہ کی طرح اپنے قبیلے میں جری تھا۔ پھر آپ ﷺ نے عورتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: تم میں سے کوئی ایک شخص اپنی بیوی کو غلاموں کی طرح مارتا پیٹتا ہے اور پھر رات کے وقت اس سے قربت اختیار کرتا ہے (ایسا نہ کیا کرو)۔

اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللهِ ﷺ شَیْئًا قَطُّ بِیَدِہٖ وَلَا امْرَأَةً وَلَا خَادِمًا.

1۔ مسلم، الصحیح، کتاب الفضائل، باب مباعدتہ ﷺ للآثام واختیارہ من المباح أسہلہ وانتقامہ ﷲ عند انتہاک حرماتہ، 4:1814، رقم:2328
2۔ أحمد بن حنبل، المسند، 6:31، رقم:24080
3۔ أبوداود، السنن، کتاب الأدب، باب في التجاوز في الأمر، 4:250، رقم:4786

رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا، نہ کسی عورت کو اور نہ ہی کسی خادم کو۔

ایک اور روایت میں اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللهِ ﷺ امْرَأَةً لَهُ وَلَا خَادِمًا قَطُّ، وَلَا ضَرَبَ بِیَدِهِ شَیْئًا قَطُّ.

1۔ نسائي، السنن الکبری، کتاب عشرۃ النساء، باب ضرب الرجل لزوجتہ، 5:371، رقم:9165
2۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب النکاح، باب ضرب النساء، 1:638، رقم:1984

رسول اللہ ﷺ نے کبھی اپنی کسی زوجہ کو نہیں مارا اور نہ ہی کسی خادم کو بلکہ آپ ﷺ نے کبھی اپنے دستِ مبارک سے کسی کو ضرب تک نہیں لگائی۔

حضرت اِیاس بن عبد اللہ بن ابی ذُباب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

لَا تَضْرِبُنَّ إِمَاء اللهِ۔

ابن ماجہ، السنن، کتاب النکاح، باب ضرب النساء، 1:638، رقم:1985

اللہ کی باندیوں کو ہر گز نہ مارا کرو۔

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِأَهْلِہٖ وَأَنَا خَیْرُکُمْ لِأَهْلِي، مَا أَکْرَمَ النِّسَائَ إِلَّا کَرِیْمٌ وَلَا أَهَانَهُنَّ إِلَّا لَئِیْمٌ.

1۔ ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، 13:313
2۔ ہندی، کنز العمال، 16:155، رقم:44943

تم میں سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہے اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔ سوائے برگزیدہ اور عزت والے شخص کے بیویوں کی عزت کوئی نہیں کرتا اور سوائے ذلیل و کمینہ شخص کے ان کی اِہانت کوئی نہیں کرتا۔

سوال 59: خاوند کے حقوق کیا ہیں؟

جواب: اسلامی تعلیمات کی رُو سے مرد اور عورت دونوں کو اپنے اپنے دائرہ عمل میں فوقیت اور برتری حاصل ہے اور دونوں کے حقوق برابر ہیں۔ خاوند کے حقوق درج ذیل ہیں:

1۔ تحفظ عزت و ناموس

خاوند کے حقوق میں سے ہے کہ بیوی اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کرے۔ اس کی غیر موجودگی میں اس کی عزت و آبرو اور مال و دولت کی حفاظت کرے۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے شوہر کے حقوق پورے کرنے والی بیویوں کے اوصاف یوں بیان فرمائے ہیں:

فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللهُ.

النساء، 4:34

پس نیک بیویاں اطاعت شعار ہوتی ہیں شوہروں کی عدم موجودگی میں اللہ کی حفاظت کے ساتھ (اپنی عزت کی) حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں۔

یعنی خاوند کی اطاعت کرنا، اس کے حکم کی بجاآوری کرنا، بشرطیکہ خلافِ شریعت نہ ہو۔ اور اس کی عزت یعنی اپنی پاک دامنی کی حفاظت کرنا اور خاوند کے مال کی حفاظت کرنا اس کے حقوق ہیں۔

2۔ اطاعت و فرمانبرداری

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا گیا: خواتین میں سے کون سی عورت اچھی ہوتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:

الَّتِي تَسُرُّہٗ إِذَا نَظَرَ إِلَیْهَا، وَتُطِیعُہٗ إِذَا أَمَرَ، وَلَا تُخَالِفُہٗ فِیمَا یَکْرَهُ فِي نَفْسِهَا وَلَا فِي مَالِہٖ.

1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 2:575، رقم:9600
2۔ نسائي، السنن، کتاب النکاح، باب أي النسائِ خیر، 6:52، رقم:3231

جب اس کا خاوند اس کی طرف دیکھے تو اپنے خاوند کے لیے فرحت و مسرت کا باعث بنے۔ جب وہ کوئی خواہش کرے تو پوری کرے اور جس چیز کو خاوند ناپسند کرتا ہو تو وہ نہ اپنی ذات کے معاملے میں اور نہ ہی شوہر کے مال کے معاملے میں اس کی مخالفت کرے۔

بیوی پر اپنے خاوند کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے مزاج و طبیعت میں خوش خلق، خدمت گزار، محبت و مودّت اور طہارت و نفاست کا پیکر اور زیب و زینت کے لحاظ سے گھر میں شوہر کو ایسی نظر آئے کہ شوہر کو اسے دیکھتے ہی قلبی مسرت اور راحت ملے اور اس کا رجحان کبھی بھی گناہ کی طرف نہ جانے پائے، گویا اسے اپنی طرف ایسا راغب رکھے کہ وہ کسی اور کی طرف رغبت کا سوچ بھی نہ سکے۔

شوہر کام کاج سے تھکا ماندہ گھر واپس پہنچے تو بیوی مسکراتے چہرے اور دلکش انداز سے اس کا استقبال کرے تاکہ تھکن دور ہو جائے اور گھر آنا اس کے لیے سکون کا باعث بنے۔ جیسا کہ حضرت ابو امامہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ فرمایا کرتے تھے:

مَا اسْتَفَادَ الْمُؤْمِنُ بَعْدَ تَقْوَی اللهِ خَیْرًا لَہٗ مِنْ زَوْجَةٍ صَالِحَةٍ، إِنْ أَمَرَهَا أَطَاعَتْهُ، وَإِنْ نَظَرَ إِلَیْهَا سَرَّتْهُ، وَإِنْ أَقْسَمَ عَلَیْهَا أَبَرَّتْهُ، وَإِنْ غَابَ عَنْهَا نَصَحَتْهُ فِي نَفْسِهَا وَمَالِہٖ.

1۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب النکاح، باب أفضل النساء، 2:422، رقم:1857
2۔ طبراني، المعجم الکبیر، 8:222، رقم:7881
3۔ ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، 43:280

اللہ کے تقویٰ کے بعد مومن کو نیک بیوی سے زیادہ کسی بھی چیز سے فائدہ نہیں ہوا، اگر وہ اُسے حکم دے تو وہ اپنے خاوند کی اطاعت کرے، اگر اُس کی جانب دیکھے تو وہ اِسے خوش کرے، اگر وہ اس پر بھروسہ کر کے کوئی قسم کھا لے تو وہ اسے پورا کرے اور اگر شوہر کہیں چلا جائے تو بیوی اُس کی عدم موجودگی میں اپنی جان (عزت و آبرو) اور اس کے مال کی حفاظت کرے۔

3۔ نافرمانی پر وعید

خاوند کا یہ بھی حق ہے کہ وہ بیوی کو قربت کے لیے بلائے تو بغیر کسی عذر شرعی یا صحت کی خرابی کے اسے انکار نہ کرے کیونکہ اس کا یہ طرزِ عمل اللہ کی ناراضگی اور دین کے فساد کا باعث بن سکتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَہٗ إِلٰی فِرَاشِہٖ فَأَبَتْ، فَبَاتَ غَضْبَانَ عَلَیْهَا، لَعَنَتْهَا الْمَلَائِکَةُ حَتّٰی تُصْبِحَ.

1۔ بخاري، الصحیح، کتاب بدء الخلق، باب اذا قال أحدکم آمین، والملائکۃ في السمآئ، 3:1182، رقم:3065
2۔ بخاري، الصحیح، کتاب النکاح، باب اذا باتت المرأۃ مہاجرۃ فراش زوجہا، 5:1993، 1994، رقم:4897

جب کوئی آدمی اپنی بیوی کو قربت کے لیے بلائے اور وہ (بغیر کسی صحیح عذر کے) انکار کر دے اور وہ شخص اس سے ناراضگی کی حالت میں ہی رات بسر کرے تو فرشتے صبح تک اس عورت پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

وَالَّذِي نَفْسِي بِیَدِہ!ٖ مَا مِنْ رَجُلٍ یَدْعُو امْرَأَتَہٗ إِلٰی فِرَاشِهَا فَتَأْبٰی عَلَیْهِ إِلَّا کَانَ الَّذِي فِی السَّمَائِ سَاخِطًا عَلَیْهَا حَتّٰی یَرْضٰی عَنْهَا.

مسلم، الصحیح، کتاب النکاح، باب تحریم امتناعہا من فراش زوجہا، 2:1060، رقم:1436

اُس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! جس شخص نے اپنی بیوی کو (ازدواجی تعلق کے لیے) بلایا اور وہ (بغیر عذر کے) انکار کر دے تو اس سے آسمانوں میں موجود ذاتِ (باری تعالیٰ) اس وقت تک ناراض رہتی ہے جب تک اس کا شوہر اس سے راضی نہ ہو جائے۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

رَأَیْتُ النَّارَ، فَلَمْ أَرَ کَالْیَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ، وَرَأَیْتُ أَکْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَآءَ. قَالُوا! لِمَ یَا رَسُوَلَ اللهِ؟ قَالَ بِکُفْرِهِنَّ. قِیْلَ: یَکْفُرْنَ بِاللهِ؟ قَالَ: یَکْفُرْنَ الْعَشِیْرَ، وَیَکْفُرْنَ الْإِحْسَانَ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَی إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ، ثُمَّ رَأَت مِنْکَ شَیْأً، قَالَتَ: مَا رَأَیْتُ مِنْکَ خَیْرًا قَطُّ.

بخاری، الصحیح، کتاب النکاح، باب کفران العشیر وھو الزوج، 5:1994، 1995، رقم:4901

مجھے دوزخ دکھائی گئی تو اس میں زیادہ تر عورتیں تھیں کیونکہ وہ ناشکری کرتی ہیں۔ عرض کیا گیا: وہ اللہ کی ناشکری کرتی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: خاوند کی ناشکری کرتی ہیں اور (اس کے) احسان کا انکار کر دیتی ہیں (جبکہ خاوند اُسے اور اپنی اولاد کو اپنی کمائی سے رہائش، خورد و نوش سمیت تمام ضروریاتِ زندگی، آسائشیں اور جملہ راحتیں مہیا کر رہا ہوتا ہے) اگر تم اُن میں سے کسی ایک کے ساتھ عمر بھر نیکیاں کرو۔ پھر اُسے (تمہاری کوئی ایک شے بھی ناپسند لگے یا اُسے) ذرہ بھر بھی تکلیف پہنچ جائے تو کہہ دے گی میں نے تم سے کبھی کوئی بھلائی نہیں پائی۔

بیوی شوہر کی اِجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھے جیسا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

لَا تَصُوْمُ الْمَرْأَةُ وَزَوْجُھَا شَاھِدٌ یَوْمًا مِنْ غَیْرِ شَھْرِ رَمَضَانَ، إِلَّا بِإِذْنِهِ.

ترمذی، الجامع الصحیح، أبواب الصوم، باب ما جاء فی کراھیۃ صوم المرأۃ إلا بإذن زوجہا، 2: 142، رقم: 782

عورت کا خاونداگر موجود ہو تو رمضان کے روزوں کے علاوہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی روزہ نہ رکھے۔

سوال 60: نکاحِ فاسد کسے کہتے ہیں؟

جواب: نکاحِ فاسد وہ نکاح ہے جس میں نکاحِ صحیح کی کوئی شرط مفقود ہو جیسے بغیر گواہوں کے نکاح ہوا یا دو بہنوں سے ایک ساتھ نکاح کیا یا عورت کی عدت میں اس کی بہن سے نکاح کیا یا جو عورت کسی کی عدت میں ہے اس سے نکاح کیا۔ ان سب صورتوں میں نکاح فاسد ہے۔

سوال 61: نکاحِ باطل کسے کہتے ہیں؟

جواب: نکاحِ باطل وہ نکاح ہے جو فی نفسہٖ کالعدم ہو۔ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی اور نکاحِ باطل بااعتبار نتیجہ بے اثر ہوتا ہے۔ اس سے فریقین کے مابین کوئی ازدواجی حق یا وجوب پیدا نہیں ہوتا۔

سوال 62: نکاحِ فاسد میں خلوتِ صحیحہ کی صورت میں کیا اَثرات مرتب ہوتے ہیں؟

جواب: نکاحِ فاسد میں خلوتِ صحیحہ کی صورت میں درج ذیل اثرات مرتب ہوں گے:

1۔ مہر مسمی یا مہر مثل دونوں میں سے جو کم ہو، وہ ادا کرنا ہوگا۔

2۔ اِثبات نسبِ اولاد۔

3۔ حرمتِ مصاہرت۔

4۔ نفقۂ اولاد۔

5۔ زوجہ کا نفقہ اس وقت تک دینا ہوگا جب تک فسادِ نکاح کا علم نہ ہو۔

6۔ وراثتِ اولاد۔

7۔ عدت بصورتِ تفریق یا وفاتِ شوہر۔

8۔ عدم توارث بین الزوجین یعنی نکاح کے فاسد ہونے کی صورت میں زوجین ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوتے۔ اس پر تمام ائمہ کا اتفاق ہے۔

9۔ نکاحِ فاسد کی صورت میں فساد ظاہر ہو جانے پر تفریق واجب ہوگی۔ اگر زوجین خود تفریق اختیار نہ کریں تو حاکم پر واجب ہوگا کہ ان میں تفریق کرا دے۔ نیز وہ انہیں سزا دینے کا بھی مُجاز ہوگا۔

اگر دخول نہیں ہوا تو نکاحِ فاسد نکاحِ باطل کے حکم میں ہوگا یعنی طرفین کو ایک دوسرے پر کوئی حق حاصل نہیں ہوگا۔

سوال 63: کن صورتوں میں نکاح باطل ہوتا ہے؟

جواب: درج ذیل صورتوں میں نکاح باطل یا حرام ہوتا ہے:

1۔ قرابت یعنی ماؤں، بیٹیوں، بہنوں، پھوپھیوں، خالاؤں، بھتیجیوں، بھانجیوں سے نکاح حرام ہے۔

2۔ رضاعت یعنی رضاعی ماؤں اور بہنوں سے نکاح حرام ہے۔

3۔ مصاہرت۔

4۔ دو محرمات کا ایک کے نکاح میں جمع ہونا۔

5۔ شرک مثلاً مشرکہ یا مشرک سے نکاح۔

6۔ اپنی زوجہ کو تین طلاقیں دینے کے بعد (حلّت سے قبل)

7۔ کسی غیر کی منکوحہ سے نکاح۔

سوال 64: نکاحِ شغار کسے کہتے ہیں؟

جواب: نکاحِ شغار یہ ہے کہ ایک شخص اپنی بیٹی، بہن یا زیر سرپرستی عورت کا نکاح ایسے شخص سے کردے، جس کے بدلے اس شخص کی بیٹی، بہن یا زیر سرپرستی عورت سے وہ خود نکاح کرے جس میں ان دونوں عورتوں کا حق مہر مقرر نہ ہو بلکہ ان دونوں عورتوں کا ’نکاح بدل‘ ہی حق مہر قرار پائے جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں

أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ نَهَی عَنِ الشغارِ. وَالشِّغَارُ أَنْ یُزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَہٗ، عَلٰی أَنْ یُزَوِّجَهُ ابْنَتَہٗ وَلَیْسَ بَیْنَهُمَا صَدَاقٌ.

مسلم، الصحیح، کتاب النکاح، باب تحریم نکاح الشغارِ وبطلانہ، 2:1034، رقم:1415

حضور نبی اکرم ﷺ نے شغار سے منع فرمایا ہے۔ نکاحِ شغار یہ ہے کہ ایک شخص اپنی بیٹی کا نکاح دوسرے شخص سے اس کی بیٹی کے عوض کردے (یعنی وہ بھی اپنی بیٹی کا نکاح پہلے شخص سے کردے) اور ان کے درمیان مہر نہ ہو۔

سوال 65: کیا نکاحِ شغار کرنا جائز ہے؟

جواب: نکاحِ شغار جس میں عقد کو مہر قرار دیا جائے اور مہر مقرر نہ ہو، ایسے نکاح کی احادیث میں ممانعت آئی ہے۔ لیکن اگر عقدِ نکاح کے وقت مہر مقرر کر دیا جائے تو یہ نکاح درست ہوگا۔

سوال 66: نکاحِ فضولی کسے کہتے ہیں؟

جواب: جس نکاح میں دو شخص دو گواہوں کے سامنے کسی غیر حاضر مرد اورغیر حاضر عورت کی طرف سے ایجاب و قبول کرلیں، اسے نکاحِ فضولی کہتے ہیں۔ اگر متعلقہ مرد، عورت ان دو اشخاص پر رضامندی ظاہر کر دیں تو نکاح درست ہو جائے گا اور دونوں نے یا کسی ایک نے انکار کر دیا تو نکاح قابل قبول نہیں ہوگا۔

سوال 67: نکاحِ متعہ کسے کہتے ہیں؟

جواب: نکاحِ متعہ عارضی نوعیت کی زوجیت ہے جس کا مطلب ہے کہ ایک شخص کسی عورت سے جس کے ساتھ نکاح منع نہ ہو، یہ کہے کہ میں تیرے ساتھ کچھ دنوں کے لیے مثلاً دس دن کے لیے اتنے مال پر متعہ کرتا ہوں۔ یا یوں کہے کہ تو میرے ساتھ متعہ کرلے اور وہ عورت قبول کرلے۔ اسی طرح اگر اس عورت سے کہا کہ تو میرے ساتھ متعہ کرلے اور مدت کا ذکر نہ کیا تو لفظ متعہ کے استعمال سے یہی مطلب لیا جائے گا۔ پھر اگر اس عورت نے کہا کہ میں نے تمہارے ساتھ اپنا متعہ اتنے مال کے عوض کرلیا اور یا قبول کرلیا تو وہ نکاحِ متعہ متصور ہوگا۔

سوال 68: نکاحِ متعہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب: نکاحِ متعہ کی شرعی حیثیت یہ ہے کہ آغازِ اسلام میں جبکہ مسلمانوں کی تعداد بہت تھوڑی تھی اور انہیں دشمنوں سے دفاع میں مسلسل مشغول رہنا پڑتا تھا۔ ایسی حالت میں گھریلو خاندانی ذمہ داریوں کو نبھانا ممکن نہ تھا بالخصوص اس لیے کہ ان کی مالی حالت خستہ تھی اور یہ معقول بات نہ تھی کہ وہ خاندانی امور کی بہتری میں لگ جاتے۔ پھر یہ بھی ہے کہ وہ لوگ اب ایک نئے دور میں تھے۔ اسلام لانے سے پہلے کے جن حالات میں ان کی پرورش ہوئی وہ عورتوں سے نفسانی اِنہماک کا دور تھا کہ ہر شخص جتنی بھی چاہے عورتیں کر سکتا تھا۔ جس سے جی چاہتا قربت کرتا اور جسے چاہتا الگ کر دیتا تھا۔ اس دور میں اکثر تجارت پیشہ لوگ سفر کے دوران جب زوجیت کے خواہش مند ہوتے تو طوائفوں کے پاس جاکر عارضی نکاح کرتے اور جتنا عرصہ اس شہر میں ٹھہرتے ایسے عارضی رشتوں میں سکون حاصل کرتے تھے، اور اس دوران زوجیت کے بدلے عورت کو اجرت ادا کرتے تھے۔ ایسے معاشرے میں پرورش پانے والے نومسلموں کے لیے انسانی فطرت اور ان کی اقتصادی حالت کے پیش نظر وقتی تقاضے کے مطابق شرعی احکام بتدریج نافذ ہوئے۔ نکاحِ متعہ یا وقتی نکاح ان وقتی احکام کے مطابق ہیں جو حالتِ جنگ میں مصلحتاً دیئے جاتے تھے کیونکہ لشکر نوجوان اشخاص پر مشتمل تھا اور ان میں اتنی استطاعت نہ تھی کہ مستقل طور پر شادی کر لیتے اور نہ انسانی فطری تقاضوں کا مقابلہ کر سکتے تھے اور یہ بھی دانش مندی نہ تھی کہ مسلسل روزہ رکھ کر جسمانی قوت کو کمزور کر لیا جاتا کیونکہ محارب فوج کو کمزور بنا دینا کسی حالت میں بھی درست نہیں ہے۔ غرض یہ حالات نکاحِ متعہ کی شرعاً اجازت کی بنیاد تھے۔ جیسا کہ حضرت ربیع بن سبرہ جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد نے بیان کیا کہ وہ حضور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

یَا أَیُّهَا النَّاسُ! إِنِّي قَدْ کُنْتُ أَذِنْتُ لَکُمْ فِي الِاسْتِمْتَاعِ مِنْ النِّسَاء. وَإِنَّ اللهَ قَدْ حَرَّمَ ذَلِکَ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَةِ. فَمَنْ کَانَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَیْئٌ فَلْیُخَلِّ سَبِیلَهُ. وَلَا تَأْخُذُوا مِمَّا آتَیْتُمُوهُنَّ شَیْئًا.

مسلم، الصحیح، کتاب النکاح، باب نکاح المتعۃ، 2:1025، رقم، 1406

اے لوگو! میں نے تمہیں عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے کی اجازت دی تھی، لیکن اب اللہ تعالیٰ نے قیامت تک متعہ حرام کر دیا ہے۔ لہٰذا جس شخص کے پاس متعہ والی عورت ہو وہ اسے چھوڑ دے اور جو کچھ اس عورت کو دے چکے ہو اس سے واپس نہ لو۔

حضرت سبرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں ہے:

أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ، بِالْمُتْعَةِ، عَامَ الْفَتْحِ، حِینَ دَخَلْنَا مَکَّةَ. ثُمَّ لَمْ نَخْرُجْ مِنْهَا حَتَّی نَهَانَا عَنْهَا.

مسلم، الصحیح، کتاب النکاح، باب النکاح المتعۃ، 2:1025، رقم: 1406

فتح مکہ کے سال جب ہم مکہ میں داخل ہوئے رسول اللہ ﷺ نے ہمیں متعہ کا حکم دیا، پھر مکہ سے واپس ہونے سے پہلے آپ ﷺ نے ہمیں متعہ سے منع فرما دیا۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بتایا کہـ:

إِنَّ النَّبِيَّ ﷺ نَهٰی عَنْ الْمُتْعَةِ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِیَّةِ زَمَنَ خَیْبَرَ.

بخاری، الصحیح، کتاب النکاح، باب نہی رسول اللہ ﷺ عن نکاح المتعۃ، 5:1966، رقم:4825

حضور نبی اکرم ﷺ نے غزوۂ خیبر کے موقع پر متعہ (یعنی تھوڑی مدت کے لیے نکاح) کرنے اور پالتوں گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرما دیا تھا۔

یہ رواج ابتداے اسلام میں مباح کی صورت جائز قرار پایا لیکن جب شریعت کے تحت نظامِ معاشرت قائم ہوا تو دیگر حرام چیزوں کی حرمت کی طرح متعہ کی حرمت بھی نافذ ہوگئی۔ لہٰذا اب نکاحِ متعہ صریح حرام ہے۔

سوال 69: نکاحِ متعہ اور وقتی نکاح کی حقیقت کیا ہے؟

جواب: متعہ اس معاہدہ مماثل نکاح کو کہتے ہیں جو عورت سے جنسی استفادے کی غرض سے مرد اور عورت کے درمیان ایک معینہ مدت کے لیے طے پا جائے۔ یہ نکاح باطل ہے۔ جبکہ نکاحِ موقت یا وقتی نکاح اُس نکاح کو کہتے ہیں جو گواہوں کی موجودگی میں عورت سے ایک معینہ مدت کے لیے کیا جائے۔ نکاحِ موقت یعنی وقتی نکاح اپنے اندر نکاحِ متعہ کا حکم رکھتا ہے اور جس طرح متعہ باطل ہے، اِسی طرح نکاحِ موقت کا بھی کوئی جواز نہیں ہے۔ جیسا کہ علامہ ابن عابدین شامی نکاحِ موقت کے معنی و مفہوم، تصور اور اس کی شرعی حیثیت کے بارے میں لکھتے ہیں:

وَمَعْنَاهُ الْمَشْهُورُ أَنْ یُوجَدَ عَقْدًا عَلَی امْرَأَةٍ لَا یُرَادُ بِہٖ مَقَاصِدُ عَقْدِ النِّکَاحِ مِنْ الْقَرَارِ لِلْوَلَدِ وَتَرْبِیَتِہٖ، بَلْ إلٰی مُدَّةٍ مُعَیَّنَةٍ یَنْتَهِی الْعَقْدُ بِانْتِهَائِهَا أَوْ غَیْرِ مُعَیَّنَةٍ بِمَعْنٰی بَقَائِ الْعَقْدِ مَا دَامَ مَعَهَا إلٰی أَنْ یَنْصَرِفَ عَنْهَا فَلَا عَقْدَ، فَیَدْخُلُ فِیهِ مَا بِمَادَّةِ الْمُتْعَةِ وَالنِّکَاحِ الْمُؤَقَّتِ أَیْضًا فَیَکُونُ مِنْ أَفْرَادِ الْمُتْعَةِ، وَإِنْ عَقَدَ بِلَفْظِ التَّزَوُّجِ وَأَحْضَرَ الشُّهُودَ.

ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، 3:51

عرفِ عام میں (نکاحِ موقت) کا معنیٰ یہ ہے کہ کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ ایسا عقدِ نکاح کرے جس میں بچے کی پیدائش اور اس کی تعلیم و تربیت وغیرہ جیسے مقاصدِ نکاح کے حصول کا اِرادہ نہ کیا گیا ہو، بلکہ مدتِ معینہ مکمل ہونے پر عقد بھی ختم ہو جائے۔ یا ایسا نکاح جس میں مدت تو متعین نہ کی گئی ہو بلکہ یہ ارادہ کیا گیا ہو کہ یہ عقد اُس وقت تک قائم رہے گا جب تک شوہر اور بیوی اکٹھے رہیں گے، جب الگ ہو جائیں تو عقد ختم ہو جائے گا۔ نکاحِ متعہ، نکاحِ موقت اور متعین مدت کے لیے ہونے والے نکاح میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ اس طرح ہونے والا ہر نکاح دراصل نکاحِ متعہ ہی ہے اگرچہ اس میں زوجیت کا لفظ استعمال کیا گیا ہو اور گواہ بھی حاضر ہوں۔

لہٰذا تمام ائمہ کا اِس بات پر اتفاق ہے کہ نکاح متعہ اور وقتی نکاح ایک ہی شے ہیں اور دونوں حرام ہیں۔

سوال 70: تجدیدِ نکاح کسے کہتے ہیں؟

جواب: دوبارہ نکاح کرنے کو تجدید نکاح کہتے ہیں۔ طلاق رجعی یعنی ایک یا دو بار صریح طلاق کی عدت گزر جانے یا پھر الفاظ کنایہ سے طلاق بائن واقع ہونے کے بعد دوبارہ اُسی خاوند سے نکاح کرنے کو تجدید نکاح کہتے ہیں۔ اسی طرح مرتد ہونے کی صورت میں تجدید ایمان کے ساتھ تجدید نکاح بھی کرتے ہیں۔

سوال 71: شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ کیا ہے؟

جواب: شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ بدکاری یعنی زنا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: (سب سے بڑا گناہ) یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہراؤ حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا۔ میں نے عرض کیا: اس کے بعد کون سا گناہ ہے؟ فرمایا: یہ کہ تم اس خوف سے اپنے بچے کو قتل کر دو کہ وہ تمہارے ساتھ کھانا کھائے گا۔ میں نے پوچھا: پھرکون سا گناہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے بدکاری کرو۔

بیہقی، شعب الإیمان، 4:353، رقم:5370

سوال 72: بدکاری کسے کہتے ہیں؟

جواب: بدکاری یعنی زنا سے مراد وہ فعلِ بد ہے جو کسی زندہ عورت کے ساتھ مباشرت کے ذریعے فریقین کی باہمی رضامندی سے وقوع پذیر ہو۔ حالانکہ وہ عورت نہ اس کی منکوحہ ہو نہ اس عورت پر اس کا کوئی مالکانہ حق ہو اور نہ ہی ایسے حق کا شائبہ ہو۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے اس فعل بد کو حرام قرار دیا اور حکم فرمایا:

وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓی اِنَّهُ کَانَ فَاحِشَةً ط وَسَآء سَبِیْلاًo

بني اسرائیل، 17:32

اور تم زنا (بدکاری) کے قریب بھی مت جانا، بے شک یہ بے حیائی کا کام ہے، اور بہت ہی بری راہ ہےo

سوال 73: دنیا میں بدکار کی سزا کیا ہے؟

جواب: دنیا میں بدکار یعنی زنا کے مرتکب کی سزا کے بارے میںحضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

قَدْ جَعَلَ اللهُ لَهُنَّ سَبِیلًا. اَلْبِکْرُ بِالْبِکْرِ جَلْدُ مِائَةٍ نَفْیُ سَنَةٍ؛ وَالثَّیِّبُ بِالثَّیِّبِ، جَلْدُ مِائَةٍ وَّالرَّجْمُ.

مسلم، الصحیح، کتاب الحدود، باب حد الزنی، 3: 1316، رقم: 1690

اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے لیے واضح طریقہ کار بیان فرما دیا ہے۔ کنوارا کنواری سے بدکاری کرے تو ایک سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا دی جائے جب کہ شادی شدہ کرے تو سو کوڑے اور رجم ہوگا۔

یعنی غیر شادی شدہ بدکار کی سزا دنیا میں ایک سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے اور شادی شدہ کے لیے دنیا میں سزا ایک سو کوڑے اور رجم یعنی سنگ سار کیا جانا ہے۔

سوال 74: آخرت میں بدکار کے بارے میں کیا وعید آئی ہے؟

جواب: آخرت میں بدکار کے بارے میں سخت وعید آئی ہے۔ بدکاری جیسے فعل بد کا مرتکب ہونے والا شخص جہنم میں داخل کیا جائے گا اور روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کی نظر رحمت سے محروم رہے گا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

ثَلَاثَةٌ لَا یُکَلِّمُهُمُ اللهُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَلَا یُزَکِّیهِمْ. قَالَ أَبُو مُعَاوِیَةَ: وَلَا یَنْظُرُ إِلَیْهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ: شَیْخٌ زَانٍ، وَمَلِکٌ کَذَّابٌ، وَعَائِلٌ مُسْتَکْبِرٌ.

1۔ مسلم، الصحیح، کتاب الإیمان، باب بیان غلظ تحریم إرسال الإزار…، 1:102، رقم:107
2۔ بیہقی، السنن الکبری، 8:161
3۔ بیہقی، شعب الإیمان، 4:360، رقم:5405

روزِ قیامت اللہ تعالیٰ تین طرح کے اَشخاص سے بات کرے گا اور نہ انہیں گناہوں سے پاک کرے گا۔ ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ نہ ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا: ایک بدکار بوڑھا، دوسرا جھوٹا حاکم اور تیسرا مغرور و متکبر فقیر۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

سُئِلَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: مَا أَکْثَرُ مَا یَلِجُ بِهِ النَّاسُ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: تَقْوَی اللهِ، وَحُسْنُ الْخُلُقِ. وَسُئِلَ: مَا أَکْثَرُ مَا یَلِجُ بِهِ النَّاسُ النَّارَ؟ قَالَ ﷺ: الْأَجْوَفَانِ: الْفَمُ، وَالْفَرْجُ.

بیہقی، شعب الإیمان، 4:361، رقم:5408

رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں عرض کیا گیا: وہ کون سی شے ہے جس کی وجہ سے لوگ کثرت کے ساتھ جنت میں داخل ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تقویٰ یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور حسنِ خلق۔ پھر عرض کیا گیا: وہ کون سی شے ہے جس کی وجہ سے لوگ کثرت کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: دو پیٹ یا دو سوراخ: ایک تو منہ ہے اور دوسرا شرم گاہ ہے۔

سوال 75: عہدِ رسالت میں حضور نبی اکرم ﷺ نے نوجوان کو بدکاری سے کیسے روکا؟

جواب: حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنے دور میں نوجوان کو حکمت آمیز انداز میں بدکاری جیسے قبیح فعل سے روکا۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک نوجوان حضور نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے بدکاری کی اجازت دیں گے؟ لوگوں نے یہ بات سن کر اس کے بارے میں شور مچایا۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے میرے قریب کرو۔ وہ آپ ﷺ کے قریب تر ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا: کیا تم اس بات کو اپنی ماں کے لیے پسند کرو گے؟ اس نے عرض کیا کہ نہیں یارسول اللہ! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی ماؤں کے لیے پسند نہیں کرتے۔ پھر آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: کیا تم اس فعل کو اپنی بیٹی کے لیے پسند کرو گے؟ اس نے عرض کیا: نہیں! اللہ کی قسم۔ یارسول اللہ! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تو لوگ بھی اپنی بیٹیوں کے حق میں اس بات کو پسند نہیں کرتے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا: کیا تم اس بات کو پسند کرو گے کہ کوئی تمہاری بہن کے ساتھ ایسا کرے؟ اس نے عرض کیا: نہیں، یارسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: تو لوگ بھی اس بات کو ناپسند کرتے۔ پھر آپ ﷺ نے اسی طرح کے سوالات پھوپھی اور خالہ کے بارے میں پوچھے۔ اب نوجوان نے عرض کیا: یارسول اللہ! میرے لیے اللہ سے دعا فرمائیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنا دستِ مبارک اس کے سر پر رکھا اور یہ دعا کی:

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ ذَنْبَہٗ وَطَھِّرْ قَلْبَہٗ وَحَصِّنْ فَرْجَہٗ.

بیہقی، شعب الایمان، 4:362-363، رقم:5415

اے اللہ! اس کے گناہ معاف فرما دے اور اس کے قلب کو پاک فرما دے اور اس کی شرم گاہ کی حفاظت فرما۔

سوال 76: بدکاری سے بچنے والے کے لیے کیا خوش خبری ہے؟

جواب: بدکاری سے بچنے والے کے لیے جنت کی خوشخبری ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

یَا شَبَابَ قُرَیْشٍ، احْفَظُوا فُرُوجَکُمْ وَلَا تَزْنُوا، أَلَا مَنْ حَفِظَ فَرْجَہٗ فَلَهُ الْجَنَّةُ.

بہیقی، شعب الایمان، 4:365، رقم:5425

اے نوجوانانِ قریش! بدکاری نہ کیا کرو۔ بے شک وہ شخص جس کے شباب اور جوانی کو اللہ تعالیٰ بچا کر سلامت رکھے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔

سوال 77: کیا عورت کو شہوت سے چھونا بھی بدکاری کے زمرے میں آئے گا؟

جواب: عورت کو شہوت سے چھونے سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جاتی ہے اور جن اسباب سے حرمت مصاہرت ثابت ہوتی ہے وہاں گواہی وغیرہ کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔ بعض اوقات ایک فریق کو اس کا احساس ہوتا ہے اور دوسرا اس سے بے خبر ہوتا ہے لیکن حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جاتی ہے۔ یہ حرمت گواہی یا اقرار پر موقوف نہیں ہوتی جب کہ بدکاری کی تصدیق کے لیے گواہی ضروری ہوتی ہے۔

سوال 78: حلالہ کسے کہتے ہیں؟

جواب: طلاق مغلظہ (تین طلاقیں) واقع ہونے کے بعد عورت اپنی عدت گزار کر کسی اور شخص سے اپنی رضامندی سے شادی کرے اور پھر دوسرا شوہر ہمبستری کے بعد کسی وجہ سے خود طلاق دے دے یا فوت ہو جائے۔ اب یہ عورت عدت گزارنے کے بعد اپنے سابقہ شوہر پر حلال ہوجاتی ہے اور اس سے نکاح کرسکتی ہے اِسے فقہی اِصطلاح میں حلالہ کہتے ہیں۔ قرآن حکیم میں ہے:

فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلاَ تَحِلُّ لَہٗ مِنْم بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ ط فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْهِمَآ اَنْ یَّتَرَاجَعَآ اِنْ ظَنَّـآ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللهِ ط

البقرہ، 2: 230

پھر اگر اس نے (تیسری مرتبہ) طلاق دے دی تو اس کے بعد وہ اس کے لیے حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر کے ساتھ نکاح کر لے، پھر اگر وہ (دوسرا شوہر) بھی طلاق دے دے تو اب ان دونوں (یعنی پہلے شوہر اور اس عورت) پر کوئی گناہ نہ ہوگا اگر وہ (دوبارہ رشتہء زوجیت میں) پلٹ جائیں بشرطیکہ دونوں یہ خیال کریں کہ (اب) وہ حدودِ الٰہی قائم رکھ سکیں گے۔

اور حدیث مبارکہ میں ہے: اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رفاعہ کی عورت حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کرنے لگی کہ رفاعہ رضی اللہ عنہ نے مجھے ایسی طلاق دی جس میں میرا اُن کے ساتھ کوئی تعلق نہ رہا۔ یعنی تین طلاقیں دی تھیں۔ بعد ازاں عبد الرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ میرے خاوند ہوئے لیکن وہ حقوقِ زوجیت ادا نہیں کرسکتے۔ یہ سن کر حضور نبی اکرم ﷺ مسکرا دیے اور فرمایا:

لَعَلَّکِ تُرِیدِینَ أَنْ تَرْجِعِي إِلٰی رِفَاعَةَ. لَا حَتّٰی یَذُوقَ عُسَیْلَتَکِ وَتَذُوقِي عُسَیْلَتَہٗ.

نسائي، السنن، کتاب النکاح، باب النکاح الذي تحل بہ المطلقۃ ثلاثا لمطلقہا، 6:69-70، رقم:3283

شاید تم یہ چاہتی ہو کہ تم رفاعہ کے پاس واپس چلی جاؤ۔ ایسا نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ تم سے لطف اندوز نہ ہو اور تم اس سے لطف اندوز نہ ہو۔

یعنی تین طلاقوں کے بعد صرف دوسرے شخص سے نکاح کرنا کافی نہیں بلکہ اس سے صحبت بھی ضروری ہے۔

سوال 79: حلالہ کی شرائط کیا ہیں؟

جواب: حلالہ کی شرائط پانچ ہیں:

1۔ سابقہ شوہر سے عدت پوری ہو جائے۔

2۔ پھر دوسرے شوہر سے نکاح کرے۔

3۔ دوسرے شوہر سے صحبت کرے۔

4۔ دوسرے شوہر سے طلاق یا موت وغیرہ کی وجہ سے جدائی ہو۔

5۔ دوسرے شوہر کی عدت گزر جائے۔

سوال 80: حلالہ کرنے والے اور کروانے والے کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟

جواب: حلالہ کی ایک صورت تو گزر چکی ہے کہ طلاق مغلظہ کے بعد قدرتی طور پر ایسا ہو جانا کہ دوسرا شخص فوت ہو جائے یا کسی وجہ سے طلاق دے دے تو عورت پہلے شوہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرسکتی ہے کوئی گناہ نہیں ہے لیکن دوسری صورت یہ ہے کہ صرف اِسی مقصد کے لیے کسی اور سے نکاح و ہمبستری کی جائے کہ دوبارہ پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے تو اس صورت میں نکاح تو پہلے شوہر سے حلال ہو جائے گا لیکن ایسے حلالہ کرنے والے کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

لَعَنَ اللهُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَہٗ.

1۔ أبو داود، السنن، کتاب النکاح، باب فی التحلیل، 2:227، رقم:2076
2۔ ابن ماجہ نے ’السنن، کتاب النکاح، باب المحلل والمحلل لہ، 1:623، رقم:1936‘ میں حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے۔
3۔ ابن أبی شیبۃ، المصنف، 7:292، رقم:36193-36194
4۔ بیہقی، السنن الکبری، 7:208، رقم:13964

حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے، دونوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔

ایک روایت کے الفاظ کچھ یوں ہیں:

لَعَنَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَہٗ.

1۔ ابن ماجہ، السنن، کتاب النکاح، باب المحلل والمحلل لہ، 1:622، رقم:1934-1935
2۔ دارمی، السنن، 2:211، رقم:2258
3۔ بیہقی، السنن الکبری، 7:207، رقم:13961

رسول اللہ ﷺ نے حلالہ کرنے والے پر بھی لعنت فرمائی اور اس پر بھی جس کے لیے حلالہ کیا جائے۔

درج بالا روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ حلالہ کوئی پسندیدہ عمل نہیں، بالکل اسی طرح جس طرح طلاق کوئی پسندیدہ عمل نہیں۔ اللہ تعالیٰ کو ناپسند بھی ہے اور حلال بھی۔ حلالہ کرنے والے پر لعنت اس لیے کی گئی کہ لوگ تین طلاقوں کا ارتکاب نہ کریں اور طلاق دینی ہی پڑ جائے تو ایک رجعی دیں تاکہ صلح ہو سکے لیکن جو شخص ظلم کرے اور تین ہی دے دے تو اس کے لیے یہ احکام ہونے چاہییں۔

سوال 81: محرمات سے کیا مُراد ہے؟

جواب: محرمات سے مُراد وہ عورتیں ہیں جن سے نکاح حرام ہے۔

سوال 82: وہ کون کون سی عورتیں ہیں جن سے نکاح حرام ہے؟

جواب: وہ عورتیں جن سے شرعاً نکاح حرام ہے وہ درج ذیل ہیں:

1۔ حرمتِ نسب

2۔ حرمتِ مصاہرت

3۔ حرمتِ رضاعت

4۔ حرمتِ اجتماع یعنی دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنا

5۔ حرمتِ مِلک

6۔ حرمتِ شرک

7۔ غیر کی منکوحہ سے نکاح

8۔ حاملہ کے ساتھ نکاح

سوال 83: حرمتِ نسب کسے کہتے ہیں؟

جواب: وہ عورتیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہیں۔ نسب کے رشتہ سے مراد سات قسم کی عورتیں ہیں جن سے نکاح حرام ہے:

1۔ ماں

2۔ بیٹی

3۔ بہن

4۔ پھوپھی

5۔ خالہ

6۔بھتیجی

7۔ بھانجی

جیسا کہ قران حکیم میں ارشاد فرمایا گیا:

حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اُمَّھٰتُکُمْ وَبَنٰـتُکُمْ وَاَخَوٰتُکُمْ وَعَمّٰتُکُمْ وَخٰلٰـتُکُمْ وَبَنٰتُ الْاَخِ وَبَنٰتُ الْاُخْتِ.

النساء، 4:23

تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں۔

سوال 84: حرمتِ مصاہرت کسے کہتے ہیں؟

جواب: اس سے مراد ایسی عورتیں ہیں جن سے تعلقِ ازدواج اور رشتہ سسرال کی وجہ سے نکاح حرام ہو جاتا ہے، مثلاً بیوی کی ماں یعنی ساس اور بیوی کی دادی اور نانی کے ساتھ نکاح حرام ہے۔ اس طرح جس بیوی سے مباشرت کی گئی ہو اس کی بیٹیوں سے بھی نکاح حرام ہے۔ اس کی حرمت نصِ صریح سے ثابت ہے:

وَاُمَّھٰتُ نِسَآئِکُمْ وَرَبَآئِبُکُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِکُمْ مِّنْ نِّسَآئِکُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِھِنَّز فَاِنْ لَّمْ تَکُوْنُوْا دخَلْتُمْ بِھِنَّ فَـلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ.

النساء، 4: 23

اور تمہاری بیویوں کی مائیں اور (اسی طرح) تمہاری گود میں پرورش پانے والی وہ لڑکیاں جو تمہاری ان عورتوں (کے بطن) سے ہیں جن سے تم صحبت کر چکے ہو (بھی حرام ہیں) پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو تم پر (ان کی لڑکیوں سے نکاح کرنے میں) کوئی حرج نہیں۔

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

إِذَا نَکَحَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ، ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بِهَا، فَلَہٗ أَنْ یَتَزَوَّجَ ابْنَتَهَا، وَلَیْسَ لَہٗ أَنْ یَتَزَوَّجَ أُمَّهَا.

بیہقی، السنن الکبری، 7:160، رقم:13688

جب مرد کسی عورت سے نکاح کرے اور پھر مباشرت سے قبل ہی اسے طلاق دے دے تو اس کے لیے اس عورت کی بیٹی سے نکاح کرنا تو جائز ہوگا، لیکن اس عورت کی ماں سے نکاح کرنا جائز نہیں۔

سوال 85: حرمتِ رضاعت کسے کہتے ہیں؟

جواب: حرمتِ رضاعت سے مراد وہ عورتیں ہیں جو دودھ کے رشتے کی وجہ سے حرام ہیں۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں ارشاد ہوتا ہے:

وَاُمَّھٰتُکُمُ الّٰتِیْٓ اَرْضَعْنَکُمْ وَاَخَوٰ تُکُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ.

النساء، 4: 23

اور تمہاری (وہ) مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو اور تمہاری رضاعت میں شریک بہنیں۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

یَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا یَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ.

بخاری، الصحیح، کتاب الشھادات، باب الشھادۃ علی الانساب …،2: 935، رقم: 2502

رضاعت سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔

سوال 86: حرمتِ اِجتماع کسے کہتے ہیں؟

جواب: حرمتِ اجتماع سے مراد وہ عورتیں ہیں جو بیک وقت ایک مرد کے نکاح میں جمع نہیں ہو سکتیں۔ جیسا کہ دو بہنوں کے بارے میں قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ.

النساء، 4:23

اور یہ (بھی حرام ہے) کہ تم دو بہنوں کو ایک ساتھ (نکاح میں) جمع کرو سوائے اس کے کہ جو دورِ جہالت میں گزر چکا۔

یہ وہ عورتیں ہیں کہ جن عورتوں کا باہمی رشتہ ایسا ہو کہ اگر ایک کو مرد فرض کریں تو دوسری کے ساتھ اس کا نکاح حرام ہے۔ جیسے دو بہنوں میں سے ایک کو مرد فرض کریں تو دوسری سے اس کا بہن بھائی کا رشتہ ہو یا جیسے پھوپھی بھتیجی کہ پھوپھی کو مرد فرض کریں تو چچا بھتیجی کا رشتہ ہو اور بھتیجی کو مرد فرض کریں تو پھوپھی بھتیجے کا رشتہ ہو۔ یا خالہ بھانجی کہ اگر خالہ کو مرد فرض کریں تو ماموں بھانجی کا رشتہ ہو اور بھانجی کو مرد فرض کریں تو خالہ بھانجے کا رشتہ ہو۔ ایسی دو عورتوں کو نکاح میں جمع نہیں کیا جا سکتا بلکہ اگر طلاق دے دی تو جب تک عدت نہ گزرے دوسری سے نکاح نہیں کر سکتا۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

لاَ یُجْمَعُ بَیْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِھَا، وَلَا بَیْنَ المَرْأَةِ وَخَالَتِهَا.

بخاری، الصحیح، کتاب النکاح، باب لا تنکح المرأۃ علی عمتھا، 5:1965، رقم:4820

کوئی شخص پھوپھی اور بھتیجی کو اور نہ ہی خالہ اور بھانجی کو نکاح میں جمع کرے۔

حضرت شعبی بیان فرماتے ہیں:

لاَ ینبغی لِرَجل أَنْ یَجْمَعَ بَیْنَ امرأَتَیْنَ لَو کَانَتْ أَحَدھُمَا رجلاً لم یحل لہ نکاحھا.

عبد الرزاق، المصنف، 6:263، رقم:10768

کسی مرد کے لیے یہ جائز نہیں کہ ایسی دو عورتیں اپنے نکاح میں جمع کرے کہ جن میں سے ایک مرد ہو تو اس کا دوسری کے ساتھ نکاح حلال نہ ہوتا۔

سوال 87: چار عورتوں سے زائد کی حرمت سے کیا مراد ہے؟

جواب: وہ عورتیں جو مقرر گنتی سے زائد ہونے کی وجہ سے حرام ہیں مثلاً ایک آزاد مرد کو ایک وقت میں چار عورتوں سے زائد کے ساتھ نکاح کی اجازت نہیں اور غلام کو دو سے زیادہ سے نکاح کی اجازت نہیں ہے۔

سوال 88: حرمتِ ملک کسے کہتے ہیں؟

جواب: حرمتِ ملک سے مراد وہ خواتین ہیں جو اپنی مِلک میں ہونے کے باوجود بوجوہ حرام ہیں۔ مثلاً آزاد عورت نکاح میں ہو تو اس کے ہوتے ہوئے باندی سے نکاح کرنا جائز نہیں۔ جیسا کہ الفتاوی الھندیۃ میں ہے:

لا یجوز نکاح الأمۃ علی الحرّۃ.

الفتاویٰ الھندیۃ، 1:279

آزاد کے اوپر باندی کو نکاح میں لانا جائز نہیں۔

یہ اَمر قابلِ ذکر ہے کہ یہ صورت اب معدوم ہو چکی ہے کیونکہ اسلام نے بتدریج غلامی کا خاتمہ کر دیا ہے۔

سوال 89: حرمتِ شرک کسے کہتے ہیں؟

جواب: حرمتِ شرک سے مراد وہ عورتیں ہیں۔ جن سے نکاح شرک کی وجہ سے حرام ہے مثلاً مسلمان کا نکاح مجوسیہ، بت پرست، آفتاب پرست، ستارہ پرست عورت وغیرہ سے نہیں ہوسکتا۔ قرآنِ حکیم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

وَلاَ تَنْکِحُوا الْمُشْرِکٰتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ ط وَلَاَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِکَةٍ وَّلَوْ اَعْجَبَتْکُمْ ج وَلاَ تُنْکِحُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَتّٰی یُؤْمِنُوْا ط وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِکٍ وَّلَوْ اَعْجَبَکُمْ ط اُولٰٓـئِکَ یَدْعُوْنَ اِلَی النَّارِ ج وَاللهُ یَدْعُوْٓا اِلَی الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِاِذْنِہٖ ج وَیُبَیِّنُ اٰیٰـتِہٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَکَّرُوْنَo

البقرۃ، 2:221

اور تم مشرک عورتوں کے ساتھ نکاح مت کرو جب تک وہ مسلمان نہ ہو جائیں، اور بے شک مسلمان لونڈی (آزاد) مشرک عورت سے بہتر ہے خواہ وہ تمہیں بھلی ہی لگے اور (مسلمان عورتوں کا) مشرک مردوں سے بھی نکاح نہ کرو جب تک وہ مسلمان نہ ہو جائیں، اور یقینًا مشرک مرد سے مومن غلام بہتر ہے خواہ وہ تمہیں بھلا ہی لگے، وہ (کافر اور مشرک) دوزخ کی طرف بلاتے ہیں، اور اللہ اپنے حکم سے جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے اور اپنی آیتیں لوگوں کے لیے کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریںo

اس آیت مبارکہ میں بڑے واضح الفاظ میں مسلمانوں کو مشرک خواتین کے ساتھ نکاح سے منع کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح مسلمان عورتوں کو مشرک مردوں سے بھی نکاح کرنے سے باز رکھا گیا ہے۔ ایمان کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے یہاں تک فرما دیا کہ حسین و جمیل، صاحب حیثیت اور اعلیٰ حسب و نسب والی عورت اگر مشرکہ ہے تو اس کے مقابلے میں ایک عام صورت والی غریب مسلم باندی سے نکاح کرنا بہتر ہے۔

سوال 90: حرمتِ غیر منکوحہ کسے کہتے ہیں؟

جواب: ایسی عورتیں جو کسی کے نکاح میں ہوں ان سے بھی نکاح جائز نہیں ہے جب تک ان کے شوہر زندہ ہوں یا وہ طلاق نہ دے دیں،

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ.

النساء، 4: 24

اور شوہر والی عورتیں (بھی تم پر حرام ہیں)۔

Copyrights © 2022 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved