Remembering Farid al-Milla

حضرت فرید ملت اور نسبت رسالت ﷺ

ریاض حسین چودھری

اگر پہچان ہے کوئی تو یہ نسبت کی خوبی ہے
وگرنہ کیا مری اوقات کیا نام و نسب میرا

فرمایا آقائے دو جہاں ﷺ نے کہ اس وقت تک تمہارا ایمان مکمل نہیں ہو سکتا جب تک میں تمہیں تمہاری جان سے تمہارے مال سے اور تمہاری اولاد سے عزیز تر نہ ہو جاؤں۔ گویا نسبت رسول اللہ ﷺ اور محبت رسول ﷺ ہی اساس دین اور معیار ایمان ہے۔ اور پھر ہم غلاموں کے دامن صد چاک میں حضور کی محبت کے سوا ہے بھی کیا۔ یہی ہمارا اثاثہ یہی ہمارا سرمایہ حیات اور یہی ہمارا زادِ سفر ہے ؎

دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہیں تو ہو
ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمہیں تو ہو

ربِّ کائنات بھی اپنی ربوبیت اور اپنی خدائی کی قسم حضور سید عالم ﷺ کی نسبت سے اُٹھاتا ہے تو سوچئے ہم ناچیز اور پرُتقصیر بندے کس شمارقطار میں ہوں گے، اپنی پہچان مشروط ہے حضورنبی اکرم ﷺ کی ذات اقدس سے کہ مکین گنبد خضرا کا حوالہ ہی سب سے بڑا حوالہ ہے اور اس حوالہ کے بعد کسی دوسرے حوالے کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔

حضرت ڈاکٹر فرید الدین قادریؒ کی پہچان بھی اسی نسبت مقدسہ سے ابلاغ پاتی ہے اور یہ سعادت کوئی کم سعادت نہیں بلکہ اس سعادت کے حصول کے بعد تو کسی دوسری سعادت کی تمنا ہی نہیں کی جا سکتی۔ اس کے بعد کوئی آرزو کرے بھی تو کس کی؟

حضرت شیخ الاسلام فرماتے ہیں کہ حضرت فرید الدین قادری رحمہ اللّٰہ کو رسالت مآب ﷺ کے ساتھ اس قدر والہانہ عشق تھا کہ ہمہ وقت ماہی بے آب کی طرح آپ ﷺ کی محبت میں روتے رہتے۔ جونہی آپ ﷺ سرکار مدینہ کا اِسم گرامی لیا جاتا تو ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ جاتی۔ زبان ہمیشہ آپ ﷺ کے تذکار جلیلہ سے تر رہتی۔ کثرت کے ساتھ درود شریف پڑھنا آپ کا وظیفہ حیات تھا۔ نعت مصطفیٰ ﷺ سے اس قدر شغف تھا کہ کثرت کے ساتھ تلاوت کلام پاک کے علاوہ روزانہ تہجد کے بعد مدینہ طیبہ کی طرف رُخ کر کے قصیدہ بردہ شریف پڑھا کرتے تھے۔ ؎

میں جو اک برباد ہوں آباد رکھتا ہے مجھے
دیر تک اسمِ محمد ﷺ شاد رکھتا ہے مجھے

مقام ملتزم پر حضرت علامہ ڈاکٹر فرید الدین قادری رحمہ اللّٰہ کا آنسوؤں، ہچکیوں اور سسکیوں کی زبان میں بارگاہِ خداوندی میں دعا کرنا اور پھر تاجدارِ کائنات ﷺ کی دعا کی قبولیت کی بشارت دینا اور ان کا اپنے آقا و مولا ﷺ سے وعدہ کرنا کہ حضور ﷺ طاہر جونہی سن شعور کو پہنچے گا، اسے خدمت اقدس میں پیش کردوں گا اور پھر 63 میں حضوری کے لمحات، حضور ﷺ سرور کون و مکاں کی کرم نوازیاں، طاہر کو دودھ کا مٹکا عطا کر کے ہر ایک میں تقسیم کے حکم سے نہ صرف قبلہ ڈاکٹر صاحب کے روحانی مرتبے کا پتہ چلتا ہے کہ بلکہ ان کے ایمان کی پختگی کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ نسبت رسول ﷺ نے انہیں ایمان و ایقان کی دولت سے کس حد تک سرفراز اور سرشار رکھا تھا۔

نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی ارادت ہو تو دیکھ ان کو
یدِ بیضا لئے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں

قبلہ ڈاکٹر صاحب رحمہ اللّٰہ کے برادرِ عزیز حاجی اسمٰعیل صاحب اپنے ایک مکتوب میں رقمطراز ہیں کہ والد بزرگوار الحاج میاں خدا بخش کی بیماری اور پھر ان کی وفات کی خبر مجھے نہ مل سکی کہ ان دنوں میں لاہور میں تھا، مجھے اس کا بے حد افسوس تھا اور ملال بھی لیکن تلافی کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔

خوش قسمتی سے اسی سال 1968ء میں حج اکبر کی سعادت نصیب ہوئی۔ آپ لکھتے ہیں کہ ایک رات میں صفا مروہ کی چھت پر سویا ہوا تھا کہ خواب میں والد گرامی کی زیارت ہوئی۔ آپ نے سفید لباس زیب تن کر رکھا تھا، چہرہ روز روشن کی طرح تابندہ، مجھے اپنے پاس بلایا، گلے لگایا اور فرمایا کہ وضو کر لو جماعت کھڑی ہونے والی ہے۔ ڈاکٹر فرید الدین قادری رحمہ اللّٰہ بھی تشریف فرما ہیں، جب میں وضو کر کے آیا تو جماعت کھڑی ہو چکی تھی، میرے دائیں جانب ڈاکٹر فرید الدین قادری رحمہ اللّٰہ اور بائیں جانب والد گرامی تھے،میں نہیں جانتا تھا کہ امام صاحب کون ہیں اور نماز کون سی ہے۔ اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لیتا ہوں۔ نماز کے دوران امام صاحب کے حسن و جمال کی زیارت کی سعادت حاصل ہوتی ہے۔ نماز کے بعد قریب ہی ایک دروازہ کھلتا ہے اور امام صاحب اندر تشریف لے جاتے ہیں، مَیں والد صاحب سے دریافت کرتا ہوں میاں جی یہ امام صاحب کون تھے، فرمایا حضور علیہ ں خود تھے۔ اس کے بعد مدینہ منورہ حاضری ہوئی، ریاض الجنت کو دیکھ کر میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔ کیونکہ یہ وہی جگہ تھی جہاں میں نے خواب میں آقا حضور ﷺ کی اقتداء میں نماز اد اکرنے کی سعادت حاصل کی تھی۔ اس منظر دلنواز میں ڈاکٹر فرید الدین قادری رحمہ اللّٰہ کی موجودگی اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ مکین گنبد خضرا اپنے غلاموں کو کس طرح نوازتے ہیں، کس طرح کرم فرماتے ہیں اور مسلسل کرم فرماتے ہیں کہ سائل کو دامن کی تنگی کا احساس ہونے لگتا ہے۔

اک عمر گزاری ہے میں نے بے کار زمانے والوں میں
دربارِ نبیؐ میں بن مانگے کچھ پانے کا عالم کیا ہوگا

قصیدہ بردہ کے 160 اَبیات اَزبر تھے

پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری فرماتے ہیںکہ قبلہ ابا جی ہر وقت تصور محبوب کبریا ﷺ میں مستغرق رہتے۔ وہ عمر بھر قصیدہ بردہ شریف کے عامل رہے، قصیدہ بردہ شریف کے 160 ابیات انہیں حفظ تھے، ان کا معمول تھا کہ ہر رات نماز تہجد کے بعد فجر سے پہلے حضورنبی اکرم ﷺ کے شہر بے مثال کی طرف منہ کر کے بیٹھ جاتے اور قصیدہ بردہ شریف پڑھتے۔ بعد ازاں کھڑے ہو کر دست بستہ قصیدے کے اشعار اپنے آقا و مولا کی بارگاہ ناز میں پیش کرتے، اس قدر رُوتے کہ ان کی ہچکی بندھ جاتی، وصال تک یہی معمول رہا۔

میں اپنے اشکوں سے روز کرتا ہوں آبیاری زمین دل کی
ریاض کشت مراد میری اسی لئے تو ہری بھری ہے

درودِ پاک بڑی کثرت سے پڑھتے، ہر وقت باوضو رہتے، چلتے پھرتے، اُٹھتے بیٹھتے سنت خداوندی کی اتباع کرتے۔ صاحب گنبد خضرا ﷺ کا اسم گرامی زبان پر آتا تو آنکھیں چھلک اُٹھتیں اور بہر سلامی جھک جاتیں۔ آقا حضور ﷺ غلام زادے کا سلام قبول کیجئے۔ وہ اپنے ذاتی استعمال کی چیزیں بھی شہر حضور ﷺ سے لے کر آتے۔ مثلاً برتن، چادریں، کپڑے، حتیٰ کہ مسواک تک اور ہر آن اس حوالے سے اپنی نسبت قائم رکھتے، قبلہ ڈاکٹر صاحب کے ہمعصر اور ان کے دوست ڈاکٹر احسان قریشی صابری نے نسبت رسول ﷺ اور حضور اکرم ﷺ کے عشق کے حوالے سے بتایا کہ ایک دن میں نے اقبال کی یہ رباعی پڑھی۔

تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روز محشر عذر ہائے من پذیر
گر حسابم را تو بینی ناگزیر
از نگاہِ مصطفی پنہاں بگیر

اے مالک تو غنی ہے اور میں ایک فقیر بے نوا قیامت کے دن میرا عذر سننا اور میری خطاؤں سے در گزر کرنا، اگر میرا حساب لینا ناگزیر ہو تو میرا حساب حضور ﷺ کی نگاہوں سے اوجھل لینا، میں گنہ گار پر تقصیر اور شرمندہ اُمتی اپنے آقا ﷺ کی نگاہوں کا سامنا نہ کر سکوں گا۔ قریشی صاحب کہتے ہیں کہ اقبال کی یہ رباعی سن کر ڈاکٹر فرید الدین قادری رحمہ اللّٰہ اپنے آنسوؤں پر ضبط نہ کر سکے۔ ہچکی بندھ گئی اور دیر تک جذب و کیف کے اسی عالم میں رہے۔

ہزار بار بشوئم دہن زمشک و گلاب
ہنوز نامِ تو گفتن کمال بے ادبی است

آئیے دیکھیں کہ سرکار کس طرح اپنے غلاموں کو دور دور سے بلا کر نوازتے ہیں۔ ان کا کرم پھر ان کا کرم ہے۔ ان کے کرم کی بات نہ پوچھو، فرید روزگار میں ہے۔ ’’مدینہ منورہ کے اسی مبارک سفر اول (1948ء) میں رمضان المبارک روضۂ رسول مقبول پر گزارنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ آخری عشرہ میں سنت سید الانبیاء ﷺ کے مطابق معتکف تھے، 25 رمضان المبارک کی طاقت رات تھی رات کو محو خواب تھے کہ قسمت جاگ اُٹھی کہ قسمتیں اور مقدر جگانے والے تشریف لے آئے اور فرمایا ’’ فرید الدین اُٹھ آج ٹھیک 12 بج کر پچاس منٹ پر وہ ساعت سعید آنے والی ہے جسے زمانہ شبِ قدر اور قرآن پاک لیلتہ القدر کا نام دیتا ہے یہ مبارک ساعت مقبولیت کی ساعت ہے، حضرت ڈاکٹر فرید الدین رحمہ اللّٰہ نیند سے کیا بیدار ہوئے نصیب جاگ اُٹھا، اے کاش یہی نیند طویل ہو جاتی اور ساعت دیدار مصطفیٰ ﷺ اپنے دامن دراز کر دیتی، ہزار لیلتہ القدریں جان جاناں ﷺ کے چہرہ والضحیٰ پر نثار، اور ہزاروں فرید الدین نثار اس ساعت پر جس میں جان کائنات ﷺ نے سعید لمحات کی خوشخبری عطا فرمائی ارشاد محبوب حقیقی ﷺ پر اٹھے اور اپنے ساتھی کے پاس گئے اس نے پہلے ہی ان سے کہہ دیا کہ محترم ڈاکٹر صاحب آج رات بارہ بجکر پچاس منٹ پر شب قدر ہے، ڈاکٹر صاحب حیران تھے کہ انہیں کیسے خبر ہوگئی تو انہوں نے ان کی حیرت کو دور کرتے ہوئے کہا کہ ہم بھی تو سرکار کے مہمان ہیں، صرف آپ پر کرم نہیں فرمایا جاتے جاتے اس رحمت عالم ﷺ نے ہمیں بھی مطلع فرما دیا۔

چوما ہے اپنی آنکھوں کو رکھ رکھ کے آئینہ
جب بھی ہوئی ہے مجھ کو زیارت حضورؐ کی

سنا ہے آپ ہر عاشق کے گھر تشریف لاتے ہیں

نسبت نبوی ﷺ کے حوالے سے ایک اور ایمان افروز واقعہ درج کیا جاتا ہے، لالیاں ضلع سرگودھا ایک مشہور قصبہ ہے اس قصبہ کے ایک باشندے مہر غلام محمد لالی تھے۔انتہائی نیک اور پرہیزگار شخصیت، سچے عاشق رسول ﷺ، ہر وقت حضور کی یاد میں آنکھوں کے گوشے بھیگے رہتے، دیار ہجرت میں رہتے کہ حضور کبھی تو مقدر جگانے تشریف لائیں گے،حضرت علامہ ڈاکٹر فرید الدین قادری رحمہ اللّٰہ ان دنوں لالیاں میں ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے ایک ہسپتال میں تعینات تھے، آپ نے قبلہ پروفیسر صاحب کے لئے لائل پور (اب فیصل آباد) میں ایک قطعہ اراضی کا سودا کر لیا اور بیعانہ بھی ہوگیا۔ جنوری کی آخری تاریخ آگئی لیکن مطلوبہ رقم ساڑھے تین ہزار روپے کا انتظام نہ ہوسکا۔ لیکن قبلہ ڈاکٹر مطمئن اللہ پر توکل تھا۔ رات تہجد کی نماز کے لئے اُٹھے کہ دروازے پر دستک ہوئی، سوچا کوئی مریض ہوگا دروازہ کھولا تو مہر غلام محمد لالی تھے۔ وہ کمبل اوڑھے ہوئے تھے، فرط مسرت سے آنکھوں میں آنسو تھے۔ پوچھا مہر صاحب کیا بات ہے۔ جواب ملا آج مقدر جاگ اُٹھا۔ بخت رسا نے اوج ثریا کو چھو لیا۔ آقا ﷺ خواب میں تشریف لائے تھے اور مجھے حکم دیا کہ جاؤ فرید الدین کو ساڑھے تین ہزار روپے دے کر آؤ، سو میں رقم لے کر حاضر ہوں۔قیامِ پاکستان سے قبل ایک ہندو صحافی مسلمان (غالباً ان کا نام گابا تھا) مسلمان ہوگئے، ہندوؤں نے کافی شور مچایا اور ایک مقدمہ میں انہیں پھنسا دیا، عدالت نے ان سے ایک لاکھ روپے کی ضمانت طلب کی۔ گھر والے تو پہلے ہی ناراض تھے ضمانت کا کوئی بندوبست نہ ہو سکا۔ سیالکوٹ کے ملک سردار علی کی قسمت کا ستارا چمکا، حضور نبی اکرم ﷺ خواب میں تشریف لائے حکم دیا کہ صبح جا کر گابا کی ضمانت دو۔ چنانچہ ملک صاحب نے دوسرے دن ایک لاکھ (جو آج کے کروڑوں کے برابر ہے) انتظام کیا اور نقد روپے لے کر لاہور عدالت میں پہنچ گئے اور نو مسلم کی ضمانت دی یہ دیکھ کر جج بھی حیران رہ گیا، تاریخ عشق اس قسم کے واقعات سے بھر پڑی ہے۔ ؎

سنا ہے آپ ہر عاشق کے گھر تشریف لاتے ہیں
مرے گھر میں بھی ہو جائے چراغاں یا رسول اللہ

قبلہ پروفیسر صاحب مدینہ منورہ میں اپنے والد گرامی کے معمولات کے حوالے سے فرماتے ہیں، مدینہ منورہ میں ابا جی پر کیف و مستی کا ایک عجیب عالم طاری رہتا۔ ادب بارگاہِ رسالت اس قدر تھا کہ ہمیشہ حضور ﷺ کے قدموں میں بیٹھتے۔ 63ء میں مَیں بھی ان کے ساتھ تھا۔ رات ایک یا ڈیڑھ بجے مسجد نبوی ﷺ کا دروازہ کھلتا، دروازہ کھلتے ہی لوگ نوافل ادا کرنے کے لئے ریاض الجنۃ کی طرف لپکتے لیکن ابا جی مجھے لے کر سیدھے حضور کے قدموں میں پہنچ جاتے۔ ؎

قدموں کو چھوڑنا مرے بس میں نہیں حضور
قدموں ہی میں ریاض کو مر جانے دیجئے!

ریاض الجنۃ میں بھی نوافل ادا کرتے لیکن زیادہ تر حضور ﷺ کے قدمین مبارک کی طرف ہی بیٹھتے اور اشراق تک بیٹھے رہتے ایک دن میں نے پوچھا ریاض الجنۃ میں آپ ذرا کم جاتے ہیں فرمایا بیٹا ہماری جنت یہی ہے۔

مدینہ منورہ میں شارع عینیہ (پرانی سبزی منڈی) کی طرف گنبد خضرا کا ایک خاص نظارہ ہوتا ہے۔ وہاں دیر تک کھڑے رہتے اور سبز گنبد کی رعنائیوں کو دامن دل میں سمیٹتے رہتے۔ شہر دلنواز کی گلیوں میں چلتے پھرتے بھی رقت طاری رہتی، ہچکی بندھ جاتی،لیکن آواز بلند نہ کرتے کہ یہ ادب کے منافی ہے، ضبط کرتے کہ یہاں آنسوؤں کا رقص بے حجاب بھی سوئے ادب میں شمار ہوتا ہے۔ مسجد نبوی ﷺ کے باہر محراب کی طرف یا پھر باب جبریل کے ساتھ حضور ﷺ کے قدمین مبارک کی سمت میں کھڑکی ہے جس پر ترکوں نے تاج بنا رکھا تھا کہ دنیا کی ہر شاہی حضور ﷺ آپ کے قدموں پر نثار اس کے سامنے دست بستہ سلام عرض کرتے۔

آپ رحمہ اللّٰہ کا داڑھی رکھنے کا واقعہ بھی نسبت و ادبِ رسول ﷺ کا آئینہ دار ہے۔ پروفیسر صاحب فرماتے ہیں: 66ء میں قبلہ اباجی مسجد نبوی ﷺ میں معتکف تھے کہ خواب میں حضور ﷺ کی زیارت ہوئی، حضور ﷺ انگلی اور انگوٹھے کا اشارہ فرماتے ہوئے حکم فرمایا کہ فرید الدین داڑھی رکھ لو۔ ان کی داڑھی تا دم وفات مٹھی بھر سے کم تھی۔ ایک دن دوران سبق میں نے پوچھا کہ اباجی داڑھی آپ کی مٹھی بھر سے کم ہے جب کہ سنت مٹھی بھر منقول ہے۔ اس پر آپ نے مذکورہ واقعہ بیان کیا۔ آپ نے مزید فرمایا کہ آقا ﷺ نے اشارہ فرمایا۔ معلوم نہیں اس کی حکمت کیا ہے۔ مگر میری سمجھ میں یہی آیا کہ اشارہ مٹھی بھر سے کم کا ہے۔ ممکن ہے اشارے سے مراد مٹھی بھر سے کم رکھنے کا حکم نہ ہو وہ اشارہ محض اتفاقاً ہی ہو۔ میں نے داڑھی مٹھی بھر سے کم اس لئے رکھی ہے کہ داڑھی بڑھنے کی صورت میں میرے لئے حد ادب سے تجاوز نہ ہو جائے۔ میرا یہ عمل کسی کے لئے نہ شرعاً حجت ہے اور نہ اس سے کسی شرعی مسئلے کا استنباط ہوتا ہے۔ یہ محض میرا ایک ذاتی فعل، میری قلبی کیفیت اور وجدانی ذوق کا تقاضا ہے۔

قبلہ پروفیسر صاحب فرماتے ہیں کہ قبلہ اباجی نے فرمایا مردوں کے لئے اپنے بال کانوں کی لویا کندھوں سے زیادہ لمبے کرنا جائز نہیں۔ مگر حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک صحابی کے سر پر دست اقدس پھیرا تو اس صحابی نے پاس ادب کے طور پر عمر بھر سر کے بال نہیں کٹوائے۔ بال بڑھ کر اتنے لمبے ہوگئے کہ وہ انہیں باندھ کر رکھتے۔ یہ صرف ادب رسول ﷺ تھا کوئی شریعت کا حکم نہ تھا۔نہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ معترض ہوئے اور نہ ان کا عمل کسی کے لئے حجت بنا۔ مولائے کائنات حضور ﷺ کی یہ محبت یہ نسبت بھی غلاموں کا سرمایہ صد حیات رہی ہے۔ ایک بزرگ بازار سے کوئی برتن خریدنے گئے تو دکان میں سب سے پرانا زنگ آلود برتن خرید لیا۔ دکاندار نے پوچھا کہ حضرت یہ کیا؟ فرمانے لگے یہ برتن پرانا ہے۔ حضور ﷺ کے زمانے سے زیادہ قریب ہے، اقبال رحمہ اللّٰہ اکثر کہا کرتے تھے کہ اگر میری عمر 63 سے تجاوز کر گئی تو کہیں حضور ﷺ کی بارگاہ میں بے ادبی نہ ہوجائے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری فرماتے ہیں کہ قصیدہ بردہ شریف پڑھتے وقت اباجی رحمہ اللّٰہ اکثر آبدیدہ ہوجایا کرتے تھے۔ ساری ساری رات گریہ و زاری میں گزر جاتی، یہ شعر اکثر پڑھتے:

یا أکرم الخلق ما لی من ألوذ بہ
سواک عند حلول الحادث العمم

آپ فرماتے ہیں کہ میری عمر چھ سات سال ہوگی رات آنکھ کھلتی اور قبلہ اباجی رحمہ اللّٰہ کو مصلیٰ پر بیٹھے آنسو بہاتے دیکھتا، تو والدہ ماجدہ سے پوچھتا کہ قبلہ ابا جی رحمہ اللّٰہ کیوں رو رہے ہیں، تو وہ بتاتیں کہ بیٹا عبادت کر رہے ہیں ؎

بے وضو عشق کے مذہب میں عبادت ہے حرامم
خوب رو لیتا ہوں آقا ﷺ کی ثنا سے پہلے

پروفیسر صاحب فرماتے ہیں کہ وہ رات بھی یاد ہے کہ جب قبلہ اباجی علیل تھے۔ عیسیٰ خیل سے تقریباً ڈیڑھ بجے شب گھر پہنچا، وہ سردیوں کے دن تھے، قبلہ اباجی کمبل اوڑھے ہوئے تھے۔ نقاہت اور کمزوری کے باوجود دروازہ کھولا۔ غالباً یہ 26 رمضان المبارک کی رات تھی۔ قبلہ اباجی اس وقت بھی مصلیٰ پر بیٹھے یادِ محبوب میں آنسو بہا رہے تھے۔ حضور ﷺ کے فضائل شمائل اور شان اقدس کا ذکر حضوری کی تمام ترکیفیتوں میں ڈوب کر کرتے، کیف و سرور میں خود بھی جھومتے اور ان کے سامعین پر بھی بے خودی کی ایک کیفیت طاری ہو جاتی۔ توحید، معرفت اور عشق الٰہی کا ذکر ہوتا تو ان کی آنکھوں میں ایک خاص چمک سی آجاتی۔

مجذوبہ کا ذکر شمائم امدادیہ میں ہے

شمائم امدادیہ میں حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی لکھتے ہیں ’’مولوی قلندر صاحب کو ہر روز زیارت رسول اللہ ﷺ ہوتی تھی۔ ایک دن کسی لڑکے کو جو سیدتھا، طمانچہ مارا، اس دن سے زیارت منقطع ہوگئی۔ مدینہ منورہ کے مشائخ سے رجوع کیا۔ انہوں نے ایک زن ولیہ مجزوبہ کے حوالے فرمایا۔ جب وہ عورت مسجد نبوی ﷺ میں آئی اور مولانا نے عرض کیا سنتے ہی جوش میں آئی۔ اور مولانا کا ہاتھ پکڑ کر کہا۔ شف ہذا رسول اللہ ﷺ، پس (مولانا نے) بیداری میں چشم ظاہر سے زیارت کی۔ اس سے پہلے اس لڑکے سے خطا بھی معاف کرائی تھی مگر کچھ مفید نہ ہوا۔

پروفیسر صاحب فرماتے ہیں کہ قبلہ اباجی نے 48ء میں اس مجذوبہ کی زیارت کی۔ اس مجذوبہ کا گھر شارع عینیہ (پرانی سبزی منڈی) کی طرف تھا۔ اس خاتون کا معمول تھا رات ڈیڑھ بجے سے لے کر اذان فجر تک ننگے پاؤں اور پنجوں کے بل روضہ اطہر ﷺ کی طرف آتیں۔ نگاہیں گنبد خضرا پر جمی رہتیں، قریب آکر پھر اُلٹے قدم لوٹ جاتیں۔ 63ء میں اباجی مجھے شارع عینیہ کی طرف لے گئے اور سارا واقعہ سنایا اور کہا کہ بیٹا اس مجزوبہ کا ذکر شمائم امدادیہ میں ہے۔

پروفیسر صاحب فرماتے ہیں کہ یہ 69ء کی بات ہے۔ اباجی قبلہ کی آرزو تھی کہ میں ایم بی بی ایس کروں لیکن میرا رُجحان اس طرح نہیں تھا۔ ایک دن اباجی قبلہ نے حکماً فرمایا کہ ایف ایس سی کا امتحان دو، داخلہ ہوگیا تو ٹھیک ورنہ جو اللہ تعالیٰ کو منظور، ایف ایس سی میں میری فرسٹ ڈویژن تھی۔ نمبر میں نے 616 حاصل کئے، نشتر میڈیکل کالج میں مقابلہ بڑا سخت تھا۔ آخری نشست میں 616 نمبر والے ایک دوسرے اُمیدوار کے ساتھ ٹائی پڑ گئی، اباجی قبلہ کا معمول تھا کہ جب کوئی روحانی مسئلہ درپیش ہوتا، مشکل یا پریشانی وارد ہوتی تو قصیدہ بردہ شریف پڑھ کر حضرت سیدنا غوث الاعظم کے وسیلہ سے آقا حضور ﷺ کی بارگاہ بیکس پناہ میں اپنی مشکل پیش کرتے اور رہنمائی کے طلبگار ہوتے۔

مجھے تو یہ سعادت اپنے بچپن ہی سے حاصل ہے
تصور میں در اقدس پہ جا کر چشم تر رکھنا

اباجی قبلہ رحمہ اللّٰہ کا خیال تھا کہ ایم بی بی ایس کے بعد مدینہ منورہ میں ہی پوسٹنگ کرالیں گے، وہاں حضور ﷺ کی شہر اقدس کے باسیوں کی خدمت بھی کریں گے۔ اور ساری عمر حضور ﷺ کے قدموں میں گذار دیں گے۔ فجر کی اذان ہو چکی تھی۔ میں مسجد جانے کے لئے سیڑھیوں کے نیچے اترا تو اباجی قبلہ رحمہ اللّٰہ سیڑھیوں کے سامنے کھڑے تھے۔ میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا:مبارک ہو تمہاری جو خواہش تھی اللہ تعالیٰ کو بھی یہی منظور ہے، میں نے پوچھا کس نے فرمایا: کہنے لگے رات حضور ﷺ کی بارگاہ میں مدینہ منورہ میں مستقل قیام کی آرزو کی خواہش کا اظہار کر کے توجہ فرمانے کی درخواست کی تھی، رات خواب میں حضور ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔ دیکھتا ہوں کہ دروازے کے سامنے بیٹھا ہوں ایک کار آکر رکھی ہے۔ کار میں حضور ﷺ تشریف فرما ہیں۔ دوڑ کر قدم بوسی کرتا ہوں۔ حضور ﷺ مجھے گاڑی میں بیٹھنے کا حکم دیتے ہیں، گاڑی چل پڑتی ہے ایک صاحب پچھلی نشست پر بیٹھے ہیں۔ حضور ﷺ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔ اس شخص کو پہچانتے ہو، میں نے مڑ کر دیکھا ’’حضور ﷺ یہ تو علامہ اقبال ہیں۔ اس پر حضور ﷺ نے مسکرا کر کہا ’’ہم طاہر کو بھی ایسا ہی بنانا چاہتے ہیں۔‘‘ یہ خواب سنا کر اباجی قبلہ فرمانے لگے۔ میں تمہیں جسمانی امراض کا معالج بنانے کا سوچ رہا تھا۔ لیکن سرکار ﷺ جسمانی مریضوں کی بجائے اُمت کے روحانی مریضوں کا علاج تمہارے سپرد کرنا چاہتے ہیں، اب طاہر بیٹے تمہارے مستقبل کے بارے میں میری منصوبہ بندی ختم۔ جن کی بارگاہ کے توسل سے تمہیں حاصل کیا تھا وہ تم سے کیا کام لینا چاہتے ہیں۔ تمہیں کیا ذمہ داری سونپتے ہیں اس کی منصوبہ بندی بھی وہی کریں گے۔ اس نسبت جلیلہ کی پاسداری میں حضرت فرید ملت رحمہ اللّٰہ کس احتیاط اور احترام کا مظاہرہ کرتے تھے۔ آئیے قبلہ پروفیسر صاحب کی زبانی ایک اور ایمان افروز واقعہ سنتے ہیں:

یہ 63ء کا ذکر ہے۔ مدینہ منورہ میں نیروبی کی ایک فیملی بھی ٹھہری ہوئی تھی اس فیملی کی ایک خاتون کینسر کی مریضہ تھیں اور ان کا مرض بھی آخری سٹیج پر تھا یہ لندن میں بڑے بڑے نامور ڈاکٹروں کے زیر علاج رہیں، ڈاکٹروں نے مریضہ کو لاعلاج قرار دے دیا۔ مریضہ قریب الموت تھیں گھر والے انہیں مدینہ پاک لے آئے، کسی نے اس فیملی کو قبلہ اباجی کے بارے میں بتایا کہ آپ ان سے ضرور مل لیں۔ وہ مریضہ کو قبلہ اباجی کے پاس لائے، تشیخ کے بعد اباجی نے کہا کہ مرض بہت بڑھ چکا ہے۔ شفایابی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی، انہوں نے کہا یہ ہم بھی جانتے ہیں لیکن ممکن ہے حضور ﷺ کے تصرف ہی سے ہم آپ کے پاس پہنچے ہوں آپ علاج تو شروع کریں، اباجی نے کہا آپ کل آئیں سوچ کر بتاؤں گا، اسی رات اباجی کو خواب میں حضور ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی، خواب میںاباجی کو مدینہ طیبہ سے باہر ایک جگہ دکھائی گئی اور دوائی بنانے کے لئے کچھ اجزا دئیے گئے جو وہاں بھی میسر تھے اور پاکستان کے دیہی علاقوں میں بھی دستیاب ہیں حضور ﷺ نے ان اجزا کو ملا کر دوائی تیار کرنے کا طریقہ بھی تلقین فرمایا، اگلی صبح جب وہ نیروبی والے اصحاب آئے تو اباجی نے انہیں مبارکباد دی کہ حضور ﷺ کی بارگا سے اذن علاج مل گیا ہے، چھ مہینے کا قیام تھا۔ 2،3 ماہ تک مسلسل علاج ہوتا رہا وہ خاتون مکمل طور پر شفایاب ہوگئیں، علاج کے اخراجات کے علاوہ انہوں نے غالباً 4000 ریال بطور انعام پیش کیا اباجی قبلہ اسی وقت بازار گئے حضور ﷺ کی شان اقدس، شمائل اور سیرت اطہر پر جس قدر کتب دستیاب تھیں ان پیسوں سے خرید لائے، بعد ازاں پاکستان میں بھی اباجی قبلہ نے وہ نسخہ آزمایا اور کئی مریض شفایاب ہوئے۔ ایک دن میں نے عرض کیا کہ اباجی اس دوائی کو عام کر دیا جائے قومی سطح پر اسے Introduce کرایا جائے لیکن انہوں نے فرمایا معلوم نہیں اسے افشا کرنے میں حضور ﷺ کی منشا ہے بھی یا نہیں، اس لئے بیٹا خاموشی بہتر ہے۔

سفرنامہ حجاز کا دوسرا حصہ جو حرمین شریفین کی زیارات پر مبنی تھا۔ گم ہو چکا ہے۔ ورنہ یہ حصہ بھی مدینہ منورہ میں حضرت فرید ملت رحمہ اللّٰہ کے جذب و مستی اور کیف و سرشاری اورحضوری کے لمحات پر روشنی ڈالتا، سفرنامہ حجاز کا آغاز ہی اس جملے سے ہوتا ہے۔ ’’دیار محبوب کے لئے دل پھر تڑپ رہا تھا۔‘‘آپ ایک اچھے شاعر بھی تھے، شکیل مینائی (حیدر آباد دکن) کے شاگرد تھے، ان کا دیوان بھی ضائع ہوگیا ہے البتہ چند ایک چیزیں فریدِ روزگار میں دیکھی جا سکتی ہیں، بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میںان کا سلام بھی زمانے کی دستبرد سے محفوظ رہا۔ یہ سلام پڑھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مرحوم کس پایہ کے نعت گو شاعر تھے، جذبوں کی ارزانی، محبتوں اور عقیدتوں کی فراوانی، فصاحت اور بلاغت کی روانی، خود سپردگی اور وارفتگی کا ایک عجیب عالم:

السلام اے مطلع صبح ازل
السلام اے جانِ ہر نثر و غزل
اسلام اے قلزم جو دو عطا
السلام اے مصدرِ حمد و ثنا

سچی بات تو ہے کہ وہ لوگ جو ذہنوں میں چراغ جلانے کا منصب سنبھالتے ہیں خود بھی تاریخ کے چہرے کی روشنی بن جاتے ہیں اور ڈاکٹر فرید الدین قادری رحمہ اللّٰہ بھی تاریخ کے چہرے کی اسی روشنی کا نام ہیں۔

Copyrights © 2022 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved