Terrorism and the Tribulation of the Kharijites

فہرست

حرف آغاز

ذہنوں میں اُٹھنے والے سوالات اور اُن کے مختصر جوابات

حسن نیت سے بدی نیکی نہیں بن سکتی

باب اَوّل : اسلام کا معنی و مفہوم

  1. اسلام دین امن و سلامتی ہے
  2. دین اسلام کے تین درجات

(1) لفظِ اسلام کا لغوی معنی اور تحقیق
(2) لفظِ ایمان کا لغوی معنی اور تحقیق
(3) لفظِ احسان کا لغوی معنی اور تحقیق

خلاصہ کلام

باب دوم: مسلمانوں کے قتل کی ممانعت

فصل اوّل: مسلمانوں کے جان و مال کا احترام

  1. مومن کی حرمت کعبہ کی حرمت سے زیادہ ہے
  2. مسلمان کی طرف ہتھیار سے محض اشارہ کرنا بھی منع ہے
  3. مسلمانوں کے قتل اور فساد انگیزی کی ممانعت
  4. دوران جنگ کسی شخص کے اظہارِ اسلام کے بعد اس کے قتل کی ممانعت
  5. دہشت گردوں کی معاونت بھی جرم ہے
  6. مساجد پر حملے کرنے والے سب سے بڑے ظالم ہیں

فصل دوم: مسلمانوں کو اذیت دینے اور قتل کرنے کی سزا

  1. ایک مومن کا قتل پوری دنیا کی تباہی سے بڑا گناہ ہے
  2. انسانی جان کا قتل مثلِ کفر ہے
  3. مسلمانوں کا قتلِ عام کفریہ فعل ہے
  4. قتل، شرک کی طرح ظلمِ عظیم ہے
  5. خون خرابہ تمام جرائم سے بڑا جرم ہے
  6. مسلمانوں کو (بم دھماکوں یا دیگر طریقوں سے) جلانے والے جہنمی ہیں
  7. مسلمان کو قتل کرنے والے کی کوئی عبادت قبول نہیں ہوگی
  8. مسلمانوں کو تکلیف دینے والے کے لیے عذاب جہنم

فصل سوم: خود کشی فعل حرام ہے

  1. خود کشی کیوں حرام ہے؟
  2. قرآن و حدیث میں خودکشی کی ممانعت
  3. خودکش دہرے عذاب کا مستحق ہے
  4. خودکشی کا حکم دینے والے اُمراء کی مذمت
  5. خود کشی کرنے والے پر جنت حرام ہے
  6. دوران جہاد بھی خودکشی کرنے والا جہنمی ہے
  7. حضور صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے خودکشی کرنے والے کی نماز جنازہ نہیں پڑھائی

خلاصہ کلام

باب سوم: غیر مسلموں کے قتل عام اور ایذا رسانی کی ممانعت

  1. غیر مسلم شہریوں کے قتل کی ممانعت
    غیر مسلم شہری کے قاتل پر جنت حرام ہے
     
  2. غیر مسلم سفارت کاروں کے قتل کی ممانعت
  3. غیر مسلم مذہبی رہنماؤں کے قتل کی ممانعت
  4. مسلم اور غیر مسلم کا قصاص اور دیت برابر ہے
  5. ایک غیر مسلم کے ظلم کا بدلہ دوسروں سے لینے کی ممانعت
  6. غیر مسلم شہریوں کا مال لوٹنے کی ممانعت
    غیر مسلم شہری کا مال چرانے والے پر بھی اسلامی حد کا نفاذ ہو گا
     
  7. غیر مسلم شہریوں کی تذلیل کی ممانعت
    حضور صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کی طرف سے مظلوم غیر مسلم شہری کی وکالت کا اعلان
     
  8. غیر مسلم شہریوں کا اندرونی و بیرونی جارحیت سے تحفظ
    (1) غیر مسلم شہریوں کی اندرونی ظلم و تعدی سے حفاظت
    (2) غیر مسلم شہریوں کی بیرونی جارحیت سے حفاظت

باب چہارُم: دوران جنگ غیر مسلموں کے قتل عام اور دہشت گردی کی ممانعت

  1. غیر مسلم عورتوں کے قتل کی ممانعت
  2. غیر مسلموں کے بچوں کے قتل کی ممانعت
  3. غیر مسلم بوڑھوں کے قتل کی ممانعت
  4. غیر مسلم مذہبی رہنماؤں کے قتل کی ممانعت
  5. غیر مسلم تاجروں اور کاشت کاروں کے قتل کی ممانعت
  6. غیر مسلم خدمت پیشہ افراد کے قتل کی ممانعت
  7. غیر محارب غیر مسلموں کے قتل کی ممانعت
  8. غیر مسلموں کے خلاف شب خون مارنے کی ممانعت
  9. غیر مسلموں کو آگ میں جلانے کی ممانعت
  10. دشمنوں کے گھروں میں گھسنے اور لوٹ مار کرنے کی ممانعت
  11. دشمن کے مویشیوں، فصلوں اور املاک کو نقصان پہنچانے کی ممانعت

خلاصہ بحث

باب پنجم: غیر مسلموں کے جان و مال اور عبادت گاہوں کا تحفظ

فصل اَوّل: عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ آلہ وسلم اور عہد خلفائے راشدین میں غیر مسلم شہریوں کا تحفظ

  1. 1۔ عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ آلہ وسلم میں غیر مسلم شہریوں کا تحفظ
  2. 2۔ عہد صدیقی میں غیر مسلموں کے تحفظ کی قانونی حیثیت
  3. 3۔ عہد فاروقی میں غیر مسلموں کے تحفظ کی قانونی حیثیت
    (1) غیر مسلم شہریوں سے ٹیکس کی وصولی میں نرمی
    (2) معذور، بوڑھے اور غریب غیر مسلم شہریوں کے لئے وظائف
     
  4. عہد عثمانی میں غیر مسلموں کے تحفظ کی قانونی حیثیت
  5. عہد علوی میں غیر مسلموں کے تحفظ کی قانونی حیثیت
  6. عہد عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ میں غیر مسلموں کے تحفظ کی قانونی حیثیت

فصل دوم: غیر مسلموں پر اپنا عقیدہ مسلط کرنے اور اُن کی عبادت گاہیں منہدم کرنے کی ممانعت

  1. اپنے مذہب پر قائم رہنے اور اس پر عمل کرنے کی مکمل آزادی
  2. مذہبی اختلاف کی بنا پر کسی غیر مسلم کی جان و مال کو تلف کرنا حرام ہے
  3. غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کا تحفظ سنتِ محمدی صلی اللہ علیہ آلہ وسلم ہے
  4. غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کا تحفظ لازم ہے
  5. مسلم اکثریتی علاقوں میں بھی واقع غیر مسلم عبادت گاہیں مسمار کرنے کی ممانعت

فصل سوم: اسلامی ریاست میں غیر مسلم شہریوں کے بنیادی حقوق سے متعلق قواعد (Legal Maxims)

باب ششم: مسلم ریاست اور نظمِ اِجتماعی کے خلاف مسلح بغاوت کی ممانعت

فصل اَوّل: بغاوت کیا ہے اور باغی کون ہوتا ہے؟ (اصطلاحات، تعریفات اور علامات)

  1. بغاوت کی لغوی تعریف
  2. بغاوت کی اصطلاحی تعریف

(1) فقہائے احناف کے ہاں بغاوت کی تعریف
(2) فقہائے مالکیہ کے ہاں بغاوت کی تعریف
(3) فقہائے شافعیہ کے ہاں بغاوت کی تعریف
(4) فقہائے حنابلہ کے ہاں بغاوت کی تعریف
(5) فقہائے جعفریہ کے ہاں بغاوت کی تعریف
(6) معاصر علماء کے ہاں بغاوت اور دہشت گردی کی تعریف

  1. حرابہ اور محاربین کی اصطلاحی تعریف
  2. باغیوں کی علامات

فصل دوم: جرم بغاوت کی سنگینی اور اس کی سزا

  1. مسلح بغاوت سنگین جرم کیوں؟
    اہم نکتہ
  2. مسلم اجتماعیت کے خلاف مسلح گروہ بندی پر رسالت مآب صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کی مذمت
  3. بغاوت پر اکسانے والوں کے لئے عذاب جہنم کی وعید
  4. عصبیت پر مبنی نعرہ لگا کر قتل و غارت گری کرنے والوں کے لئے حکم
  5. مسلمانوں کو اِعتقادی اِختلاف کی بنا پر قتل کرنے کی مذمت

فصل سوم: فاسق حکومت کے خلاف قتال کی شرعی حیثیت

  1. کفر صریح کے بغیر حکومت کے خلاف بغاوت کی ممانعت
  2. مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانا کفریہ عمل ہے
  3. فاسق حکومت تبدیل کرنے کا شرعی اور آئینی راستہ (ایک مغالطے کا ازالہ)

فصل چہارُم: دہشت گردی اور بغاوت کے خلاف ائمہ اربعہ و دیگر اکابرین امت کے فتاویٰ

  1. دہشت گردوں سے قتال پر امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا فتویٰ
    مسلح بغاوت پر امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ
     
  2. دہشت گردوں کے خلاف امام مالک رضی اللہ عنہ کا فتویٰ
  3. دہشت گرد باغیوں کے خلاف امام شافعی رضی اللہ عنہ کا فتویٰ
  4. مسلح بغاوت کے خلاف امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ کا عمل اور فتویٰ
  5. بغاوت کے بارے میں امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ
  6. بغاوت کے بارے میں امام ماوردی رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ
  7. دہشت گردوںکی سرکوبی واجب ہے: امام سرخسی رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ
  8. دہشت گردوں کو قتل کر دینا چاہیے: امام کاسانی رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ
  9. بغاوت کے خاتمے تک جنگ جاری رکھی جائے: امام مرغینانی رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ
  10. مسلح بغاوت کرنے والے کافر و مرتد ہیں: امام ابن قدامہ کا فتویٰ
  11. باغیوں کے قتل پر صحابہ کا اجماع ہے: امام نووی رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ
  12. دہشت گردوں کے خلاف حکومت سے تعاون: فتاویٰ تاتارخانیہ
  13. باغیوں کے خلاف جنگ حکومت پر لازم ہے: امام ابراہیم بن مفلح الحنبلی کا فتویٰ
  14. علامہ زین الدین ابن نجیم حنفی رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ
  15. علامہ جزیری کا فتویٰ

فصل پنجم: باغیوں کے بارے میں معاصر سلفی علماء کے فتاویٰ

  1. دہشت گرد دور حاضر کے خوارج ہیں: ناصر الدین البانی کا فتویٰ
  2. مسلمانوں کو کافر قرار دینا خوارج کی علامت ہے: شیخ عبد العزیز بن عبد اﷲ بن باز کا فتویٰ
  3. دور حاضر کے دہشت گرد جاہلوں کا ٹولہ ہے: شیخ صالح الفوزان کا فتویٰ
  4. دہشت گردانہ کارروائیاں جہاد نہیں: مفتی نذیر حسین دہلوی کا فتویٰ

خلاصہ بحث

باب ہفتم: فتنہ خوارج اور عصر حاضر کے دہشت گرد

فصل اَوّل: فتنہ خوارج کا آغاز، عقائد و نظریات اور بدعات

  1. خوارج کا تعارف
  2. فتنہ خوارج (قرآن حکیم کی روشنی میں)

(1) خوارج اہل زیغ (کج رَو) ہیں
(2) خوارج سیاہ رُو اور مرتد ہیں
(3) خوارج فتنہ پرور اور کینہ ور ہیں
(4) خوارج اللہ و رسول صلی اللہ علیہ آلہ وسلم سے برسر پیکار ہیں اس لئے واجب القتل ہیں
(5) خوارج فتنہ پرور اور مستحق لعنت ہیں
(6) خوارج حسن عمل کے دھوکے میں رہتے ہیں

  1. فتنہ خوارج کا آغاز: عہدِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ آلہ وسلم میں خوارج کے فتنے کا آغاز گستاخی رسول صلی اللہ علیہ آلہ وسلم سے ہوا
  2. عہد عثمانی میں فتنہ خوارج کی فکری تشکیل
  3. عہد علوی میں خوارج کا تحریکی آغاز
  4. خوارج کے عقائد و نظریات
  5. خوارج کی ذہنی کیفیت اور نفسیات
  6. خوارج مذہبی جذبات بھڑکا کر کس طرح ذہن سازی کرتے تھے؟
  7. خوارج کی نمایاں بدعات
    امام ابو بکر الآجری کی تحقیق

فصل دوم: دہشت گرد خوارج کے بارے میں فرامین رسول صلی اللہ علیہ آلہ وسلم

  1. ’’دہشت گرد بظاہر بڑے دین دار نظر آئیں گے‘‘
  2. ’’خوارج کا نعرہ عامۃ الناس کو حق محسوس ہوگا‘‘
  3. ’’خوارج دہشت گردی کے لیے brain washed کم سن لڑکوں کو استعمال کریں گے‘‘
  4. ’’خوارج کا ظہور مشرق سے ہوگا‘‘
  5. ’’خوارج دجال کے زمانے تک ہمیشہ نکلتے رہیں گے‘‘
  6. ’’خوارج دین سے خارج ہوں گے‘‘
  7. ’’خوارج جہنم کے کتّے ہوں گے‘‘
  8. ’’دہشت گرد خارجی گروہوں کی ظاہری دین داری سے دھوکہ نہ کھایا جائے‘‘
  9. ’’خوارج شرار خلق ہیں‘‘
    نہایت اہم نکتہ
  10. فرمان نبوت: فتنہ خوارج کی مکمل سرکوبی کی جائے

(1) ’’خوارج کا کلیتاً خاتمہ واجب ہے‘‘
(2) اَئمہ حدیث کی اہم تصریحات
(3) دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے قومِ عاد اور قومِ ثمود سے تمثیل کی حکمت

  1. ’’خوارج کو قتل کرنے پر اَجر عظیم ہے‘‘
  2. دہشت گرد خارجیوں کی علامات۔ مجموعی تصویر

فصل سوم: خوارج کی تکفیر اور وجوبِ قتل پر ائمۂ دین کی تصریحات

تکفیرِ خوارج سے متعلق دو معروف اقوال پر ائمہ کے فتاویٰ

پہلا قول: خوارج پر حکمِ تکفیر کا اطلاق

(1) امام بخاری
(2) امام ابن جریر الطبری
(3) امام محمد بن محمد الغزالی
(4) قاضی ابو بکر بن العربی المالکی
(5) قاضی عیاض المالکی
(6) امام ابو العباس القرطبی
(7) علامہ ابن تیمیہ
(8) امام تقی الدین السبکی
(9) امام شاطبی المالکی
(10) امام ابن البزاز الکردری الحنفی
(11) امام بدر الدین العینی الحنفی
(12) امام احمد بن محمد القسطلانی
(13) ملا علی القاری
(14) شیح عبد الحق محدث دہلوی
(15) شاہ عبد العزیز محدث دہلوی
(16) علامہ ابن عابدین شامی
(17) علامہ عبد الرحمان مبارک پوری

دوسرا قول: خوارج پر حکم بغاوت کا اِطلاق

(1) امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ
(2) امام شمس الدین السرخسی
(3) حافظ ابن حجر عسقلانی
(4) امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ

خوارج کے وجوب قتل اور اس کے اِجماع پر اَئمہ حدیث کے دلائل

(1) قاضی عیاض المالکی
(2) ابن ہبیرہ الحنبلی
(3) علامہ ابنِ تیمیہ
(4) حافظ ابن حجر عسقلانی

خارجی دہشت گردوں سے جنگ کرنے والے فوجیوں کے لیے اجر عظیم

خوارج کے بارے میں علامہ انور شاہ کاشمیری اور علامہ شبیر احمد عثمانی کا موقف

فصل چہارُم: عصر حاضر کے دہشت گرد ’’خوارج‘‘ ہیں

  1. خوارج انسانوں کی شکل میں خونخوار بھیڑیے ہیں
  2. خوارج کے تسلسل کے بارے میں علامہ ابن تیمیہ کی تحقیق
  3. خوارج کی پشت پناہی کرنے والوں کی مذمت
  4. اہم فقہی نکتہ: دہشت گردوں پر خوارج کا اطلاق اجتہادی نہیں، منصوص ہے

خلاصہ کلام

باب ہشتم: مسلم ریاست میں اعلاءِ کلمہ حق کا پرامن منہاج

1۔ قرآن میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا حکم
    امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے لئے اجتماعی جد و جہد

2۔ اَحادیث میں اَمر بالمعروف و نہی عن المنکرکا حکم
    برائی کو روکنے کے تین درجات کا بیان
    برائی کو ہاتھ سے روکنے کا مفہوم

3۔ ظلم و ناانصافی کے خلاف سیاسی و جمہوری جد و جہد

باب نہم: دعوت فکر و اصلاح

  1. اہل اقتدار کی توجہ کے لئے
  2. عالمی طاقتوں کے لئے
  3. وارثان منبر و محراب سے گزارش
    اہل خانقاہ سے التماس توجہ

مآخذ و مراجع

اشاریہ

آیات قرآنی

احادیث و آثار

اعلام و موضوعات

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved