The Compassion and Clemency of the Chosen Prophet (PBUH)

حضور ﷺ کی دیہاتیوں، ان پڑھوں اور منگتوں پر رحمت و شفقت

بَابٌ فِي رَحْمَتِه صلی الله عليه وآله وسلم وَمُـلَاطَفَتِه بِالْأَعْرَابِ وَالْجُهَالِ وَالسَّائِلِيْنَ

{حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دیہاتیوں، اَن پڑھوں اور منگتوں پر رحمت و شفقت}

160 /1. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ: کُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم، وَعَلَيْهِ بُرْدٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيْظُ الْحَاشِيَةِ، فَأَدْرَکَه أَعْرَابِيٌّ فَجَذَبَه جَذْبَةً شَدِيْدَةً، حَتّٰی نَظَرْتُ إِلٰی صَفْحَةِ عَاتِقِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَدْ أَثَّرَتْ بِه حَاشِيَةُ الرِّدَاءِ مِنْ شِدَّةِ جَذْبَتِه، ثُمَّ قَالَ: مُرْ لِي مِنْ مَالِ اﷲِ الَّذِي عِنْدَکَ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَضَحِکَ ثُمَّ أَمَرَ لَه بِعَطَاءٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

1: أخرجه البخاري في الصحيح،کتاب فرض الخمس، باب ما کان النبي صلی الله عليه وآله وسلم يعطی المؤلفة قلوبهم وغيرهم، 3 /1148، الرقم: 2980، وأيضًا في کتاب اللباس، باب البرود والحبرة والشملة، 5 /2188، الرقم: 5472، وأيضًا في کتاب الأدب، باب التبسم والضحک، 5 /2260، الرقم: 5738، ومسلم في الصحيح،کتاب الزکاة، باب إعطاء من سأل بفحش وغلظة، 2 /730، الرقم: 1057، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 /153، 210، 224، الرقم: 12570، 13217، 13363، وابن حبان في الصحيح، 14 /289، الرقم: 6375، والبيهقي في شعب الإيمان، 6 /350، الرقم: 8472، والمنذري في الترغيب والترهيب، 3 /281، الرقم: 4066.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا۔ آپ موٹے کنارے والی ایک نجرانی چادر اوڑھے ہوئے تھے۔ ایک اعرابی (راستے میں) ملا تو اس نے بڑے زور سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر کو پکڑ کر کھینچا۔ یہاں تک کہ میں نے زور سے کھینچنے کے باعث چادر کے کنارے کی رگڑ کا نشان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گردنِ مبارک پر دیکھا۔ پھر وہ کہنے لگا، آپ کے پاس جو اللہ تعالیٰ کا مال ہے مجھے اُس میں سے عطا فرمائیے، آپ نے اس کی طرف توجہ فرمائی، اور مسکرا پڑے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُسے مال عطا کرنے کا حکم فرمایا۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

161 /2. عَنْ أَبِي رِفَاعَةَ رضی الله عنه قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَی النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم وَهُوَ يَخْطُبُ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اﷲِ، رَجُلٌ غَرِيْبٌ جَاءَ يَسْأَلُ عَنْ دِيْنِه لَا يَدْرِي مَا دِيْنُه، قَالَ: فَأَقْبَلَ عَلَيَّ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم وَتَرَکَ خُطْبَتَه حَتَّی انْتَهَی إِلَيَّ فَأُتِيَ بِکُرْسِيٍّ حَسِبْتُ قَوَائِمَه حَدِيْدًا، قَالَ: فَقَعَدَ عَلَيْهِ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم وَجَعَلَ يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اﷲُ ثُمَّ أَتَی خُطْبَتَه فَأَتَمَّ آخِرَهَا.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ وَالْبُخَارِيُّ فِي الأَدَبِ.

2: أخرجه مسلم في الصحيح،کتاب الجمعة، باب حديث التعليم في الخطبة، 2 /597، الرقم: 876، والنسائي في السنن،کتاب الزينة، باب الجلوس علی الکرسي، 8 /220، الرقم: 5377، وأيضًا في السنن الکبری، 5 /510، الرقم: 9826، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 /80، الرقم: 20772، والبخاري في الأدب المفرد /399، الرقم: 1164، وابن خزيمة في الصحيح، 3 /151، الرقم: 1800، والطبراني في المعجم الکبير، 2 /59، الرقم: 1284، والقضاعي في مسند الشهاب، 2 /179، الرقم: 1138، والبيهقي في السنن الکبری، 3 /218، الرقم: 5608.

’’حضرت ابو رفاعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا درآں حالیکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک مسافر دین کے بارے میں سوال کرنے آیا ہے، اُسے نہیں معلوم کہ دین کیا ہے؟ وہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ چھوڑ کر میری طرف متوجہ ہوئے، پھر ایک کرسی لائی گئی۔ میرا خیال ہے اُس کرسی کے پائے لوہے کے تھے، حضرت ابو رفاعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُس پر تشریف فرما ہوئے اور جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے دین کا علم دیا تھا اُس کی مجھے تعلیم دی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا خطبہ پورا کیا۔‘‘

اِس حدیث کو امام مسلم، نسائی، احمد اور بخاری نے ’الادب المفرد‘ میں روایت کیا ہے۔

162 /3. عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ رضی الله عنه قَالَ: کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم فِي سَفَرٍ فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَه إِذْ نَادَاهُ أَعْرَابِيٌّ بِصَوْتٍ لَه جَهْوَرِيٍّ: يَا مُحَمَّدُ، فَأَجَابَه رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم نَحْوًا مِنْ صَوْتِه: هَاؤُمْ، فَقُلْنَا لَه: وَيْحَکَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِکَ فَإِنَّکَ عِنْدَ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم وَقَدْ نُهِيْتَ عَنْ هٰذَا، فَقَالَ: وَاﷲِ، لَا أَغْضُضُ، قَالَ الْأَعْرَابِيُّ: اَلْمَرْءُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ؟ قَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : اَلْمَرْئُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ …الحديث.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ وَأَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

3: أخرجه الترمذي في السنن،کتاب الدعوات، باب في فضل التوبة والاستغفار، 5 /546، الرقم: 3535، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 /240، الرقم: 18120، وعبد الرزاق في المصنف، 1 /205، 206، الرقم: 795، وابن حبان في الصحيح، 2 /322، الرقم: 562، والطيالسي في المسند، 1 /160، الرقم: 1167، والطبراني في المعجم الکبير، 8 /61، الرقم: 7366، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 8 /33، 34، الرقم: 26، والهيثمي في موارد الظمآن، 1 /73، الرقم: 186.

’’حضرت صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ ہماری موجودگی میں ایک اعرابی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلند آواز سے ندا دی: یا محمد! حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اُسے اُسی طرح بلند آواز میں جواب دیا۔ ’’میں یہاں ہوں‘‘ ہم نے اُس اعرابی سے کہا: تم پر افسوس ہے اپنی آواز پست کرو کیونکہ تم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں موجود ہو اور بارگاہِ رسالت میں آواز بلند کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اُس نے کہا: خدا کی قسم! میں اپنی آواز پست نہیں کروں گا۔ پھر اُس اعرابی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: (یا رسول اﷲ!) ایک آدمی کسی قوم سے محبت کرتا ہے اور لیکن وہ اُن سے (اِس دنیا میں) مل نہ سکا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ہر شخص اس کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت کرتا ہوگا۔‘‘

اِس حدیث کو امام ترمذی، عبد الرزاق، احمد اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

163 /4. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَهْدَی لِرَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم بَکْرَةً فَعَوَّضَه مِنْهَا سِتَّ بَکَرَاتٍ فَتَسَخَّطَه، فَبَلَغَ ذَالِکَ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم فَحَمِدَ اﷲَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ فُـلَانًا أَهْدَی إِلَيَّ نَاقَةً فَعَوَّضْتُه مِنْهَا سِتَّ بَکَرَاتٍ فَظَلَّ سَاخِطًا وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَقْبَلَ هَدِيَةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ أَوْ أَنْصَارِيٍّ أَوْ ثَقَفِيٍّ أَوْ دَوْسِيٍّ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ وَأَحْمَدُ وَالْبُخَارِيُّ فِي الأَدَبِ، وَقَالَ الْحَاکِمُ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلٰی شَرْطِ مُسْلِمٍ.

4: أخرجه الترمذي في السنن،کتاب المناقب، باب في ثقيف وبني حنيفة، 5 /730، الرقم: 3945، وعبد الرزاق في المصنف، 9 /106، الرقم: 16522، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 /292، الرقم: 7905، والبخاري في الأدب المفرد /208، الرقم: 596، وابن حبان في الصحيح، 14 /295، الرقم: 6383، والحاکم في المستدرک، 2 /71، الرقم: 2365، وأبو يعلی في المسند، 11 /452، الرقم: 6579، والبيهقي في السنن الکبری، 6 /180، الرقم: 11801.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اُونٹنی بطور تحفہ پیش کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُسے بدلہ میں چھ اُونٹنیاں عطا فرمائیں، اُس نے اِسے ناپسند کیا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر فرمایا: فلاں شخص نے مجھے اُونٹنی کا تحفہ دیا، میں نے اُسے بدلے میں چھ اُونٹنیاں دیں لیکن وہ ناراض ہو گیا۔ اب میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ قرشی، انصاری، ثقفی یا دوسی کے سوا کسی دوسرے سے تحفہ قبول نہیں کروں گا۔‘‘

اِس حدیث کو امام ترمذی، عبد الرزاق، احمد اور بخاری نے ’الادب المفرد‘ میں روایت کیا ہے، امام حاکم نے فرمایا: یہ حدیث امام مسلم کی شرائط پر صحیح ہے۔

164 /5. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ: أَصَابَتِ النَّاسَ سَنَةٌ عَلٰی عَهْدِ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فَبَيْنَا رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَخْطُبُ عَلَی الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اﷲِ، هَلَکَ الْمَالُ وَجَاعَ الْعِيَالُ فَادْعُ اﷲَ لَنَا أَنْ يَسْقِيَنَا قَالَ: فَرَفَعَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَدَيْهِ وَمَا فِي السَّمَاءِ قَزَعَةٌ قَالَ: فَثَارَ سَحَابٌ أَمْثَالُ الْجِبَالِ ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِه حَتّٰی رَأَيْتُ الْمَطَرَ يَتَحَادَرُ عَلٰی لِحْيَتِه، قَالَ: فَمُطِرْنَا يَوْمَنَا ذَالِکَ وَفِي الْغَدِ وَمِنْ بَعْدِ الْغَدِ وَالَّذِي يَلِيْهِ إِلَی الْجُمُعَةِ الْاُخْرَی، فَقَامَ ذَالِکَ الْأَعْرَابِيُّ أَوْ رَجُلٌ غَيْرُه فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اﷲِ، تَهَدَّمَ الْبِنَاءُ وَغَرِقَ الْمَالُ فَادْعُ اﷲَ لَنَا، فَرَفَعَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَدَيْهِ وَقَالَ: اَللّٰهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا، قَالَ: فَمَا جَعَلَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يُشِيْرُ بِيَدِه إِلٰی نَاحِيَةٍ مِنَ السَّمَاءِ إِلَّا تَفَرَّجَتْ حَتّٰی صَارَتِ الْمَدِيْنَةُ فِي مِثْلِ الْجَوْبَةِ حَتّٰی سَالَ الْوَادِي وَادِي قَنَاةَ شَهْرًا قَالَ: فَلَمْ يَجِيئْ أَحَدٌ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَّا حَدَّثَ بِالْجَوْدِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

5: أخرجه البخاري في الصحيح،کتاب الاستسقاء، باب من تمطر في المطر حتی يتحادر علی لحيته، 1 /349، الرقم: 986، وأيضًا فيکتاب المناقب، باب علامات النبوة في الإسلام، 3 /1313، الرقم: 3389، وأيضًا فيکتاب الأدب، باب التبسم والضحک، 5 /2261، الرقم: 5742، وأيضًا فيکتاب الدعوات، باب الدعاء غير مستقبل القبلة، 5 /2335، الرقم: 5982، ومسلم في الصحيح، کتاب صلاة الاستسقائ، باب الدعاء في الاستسقاء، 2 /614، الرقم: 897، وأبو داود في السنن،کتاب صلاة الاستسقاء، باب رفع اليدين في الاستسقاء، 1 /304، الرقم: 1174، والنسائي في السنن،کتاب الاستسقاء، باب کيف يرفع، 3 /159.166، الرقم: 1515، 1517، 1527.1528، وابن ماجه في السنن، کتاب إقامة الصلاة والسنة فيها، باب ما جاء في الدعاء في الاستسقاء، 1 /404، الرقم: 1269، وابن خزيمة في الصحيح، 2 /338، الرقم: 1423، وابن حبان فی الصحيح، 3 /272، الرقم: 992، وعبد الرزاق في المصنف، 3 /92، الرقم: 4911، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 /104، الرقم: 12038، وابن جارود في المنتقی، 1 /75، الرقم: 256، والبيهقي في السنن الکبری، 3 /221، الرقم: 5630.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اُنہوں نے بیان فرمایا: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں لوگ سخت قحط کی لپیٹ میں آ گئے ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے روز خطبہ دے رہے تھے کہ ایک دیہاتی کھڑا ہو کر عرض گزار ہوا: یا رسول اللہ! مال ہلاک ہو گیا اور بچے بھوکے مر گئے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ ہم پر بارش برسائے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کے لئے ہاتھ اُٹھا دئیے۔ اُس وقت آسمان میں کوئی بادل نہیں تھے لیکن (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ اُٹھاتے ہی) اُسی وقت پہاڑوں جیسے بادل آ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھی منبر سے نیچے تشریف نہیں لائے تھے کہ میں نے بارش کے قطرے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ریش مبارک سے ٹپکتے ہوئے دیکھے۔ سو ہم پر اُس روز، اُس سے اگلے روز بلکہ اگلے جمعہ تک بارش ہوتی رہی۔ پھر وہی اعرابی یا کوئی دوسرا آدمی کھڑا ہو کر عرض گزار ہوا: یا رسول اللہ! مکانات گر گئے اور مال غرق ہو گیا، اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعا فرمائیں (کہ بارش رُک جائے)۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فوری ہاتھ بلند فرمائے اور دعا فرمائی: اے اللہ! ہمارے اردگرد بارش برسا اور ہمارے اُوپر نہیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دستِ مبارک سے آسمان کی جس طرف بھی اشارہ کرتے اُدھر سے بادل چھٹ جاتے یہاں تک کہ مدینہ منورہ تھالی کی طرح ہو گیا (کہ اُس کے گرد و نواح میں بادل تھے اور مدینہ کے اُوپر آسمان صاف تھا) اور قناۃ (نالہ) ایک مہینے تک بہتا رہا۔ راوی کا بیان ہے کہ جو آتا وہ اِس بارش کی افادیت کا ذکر ضرور کرتا۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

165 /6. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: کُنَّا نَقْعُدُ مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فِي الْمَسْجِدِ، فَإِذَا قَامَ قُمْنَا، فَقَامَ يَوْمًا وَقُمْنَا مَعَه، حَتّٰی لَمَّا بَلَغَ وَسَطَ الْمَسْجِدِ أَدْرَکَه رَجُلٌ فَجَبَذَ بِرِدَائِه مِنْ وَرَائِه، وَکَانَ رِدَاؤُه خَشِنًا، فَحَمَّرَ رَقَبَتَه، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، احْمِلْ لِي عَلٰی بَعِيْرَيَّ هٰذَيْنِ، فَإِنَّکَ لَا تَحْمِلُ مِنْ مَالِکَ، وَلَا مِنْ مَالِ أَبِيْکَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : لَا، وَأَسْتَغْفِرُ اﷲَ، لَا أَحْمِلُ لَکَ حَتّٰی تُقِيْدَنِي مِمَّا جَبَذْتَ بِرَقَبَتِي، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: لَا، وَاﷲِ، لَا أُقِيْدُکَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم ذَالِکَ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، کُلُّ ذَالِکَ يَقُوْلُ: لَا، وَاﷲِ، لَا أُقِيْدُکَ، فَلَمَّا سَمِعْنَا قَوْلَ الْأَعْرَابِيِّ أَقْبَلْنَا إِلَيْهِ سِرَاعًا، فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فَقَالَ: عَزَمْتُ عَلٰی مَنْ سَمِعَ کَـلَامِي أَنْ لَا يَبْرَحَ مَقَامَه حَتّٰی آذَنَ لَه، فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم لِرَجُلٍ مِنَ الْقَوْمِ: يَا فُـلَانُ، احْمِلْ لَه عَلٰی بَعِيْرٍ شَعِيْرًا وَعَلٰی بَعِيْرٍ تَمْرًا، ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : انْصَرِفُوْا.

رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَأَحْمَدُ مُخْتَصَرًا.

6: أخرجه النسائي في السنن، کتاب القسامة، باب القود من الجبذة، 8 /33، الرقم: 4776، وأيضًا في السنن الکبری، 4 /227، الرقم: 6978، وأبو داود في السنن، کتاب الأدب، باب في الحلم وأخلاق النبي صلی الله عليه وآله وسلم ، 4 /247، الرقم: 4775، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 /288، الرقم: 7856، والبيهقي في شعب الإيمان، 6 /350، الرقم: 8473.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم مسجد میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں بیٹھتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (تشریف لے جانے کے لئے) کھڑے ہوتے توہم بھی کھڑے ہو جاتے۔ ایک دن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جانے کے لئے قیام فرمایا تو ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد کے درمیان میں پہنچے تو ایک شخص پیچھے سے آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر مبارک پیچھے سے پکڑ کر زور سے کھینچی۔ وہ چادر کھردری تھی جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گردن مبارک اُس سے سرخ ہو گئی۔ اُس نے کہا: اے محمد! میرے اِن دو اُونٹوں کو (غلہ سے) بھر دیجئے کیونکہ (یہ غلہ) نہ تو آپ نے اپنے مال سے دینا ہے اور نہ ہی اپنے باپ دادا کے مال سے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہیں، میں اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہوں، میں تجھے کبھی نہ دوں گا، جب تک تم اِس گردن کے کھینچنے کا بدلہ نہ دو۔ اُس اعرابی نے کہا: خدا کی قسم! میں کبھی بدلہ نہ دوں گا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دفعہ یہی دہرایا اور وہ جواب میں اعرابی یہی عرض کرتا رہا کہ میں بدلہ کبھی نہ دوں گا۔ جب ہم نے اعرابی کی یہ بات سنی تو ہم سب اُس کی طرف (اُسے مارنے کے لئے) دوڑے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: میں ہر اُس شخص کو، جس نے میری بات سنی، قسم دیتا ہوں کہ کوئی شخص میری اجازت کے بغیر اپنی جگہ سے نہیں ہلے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: اِس کے ایک اُونٹ پر جو لاد دو اور دوسرے اُونٹ پر کھجوریں، اِس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے ارشاد فرمایا: چلو (اب چلیں اور اس اعرابی سے کوئی اعراض نہ فرمایا)۔‘‘

اِس حدیث کو امام نسائی، ابو داود اور احمد نے مختصراً روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved