The Economic Significance of the Biography of the Holy Messenger (PBUH)

حصہ سوم

حصہ سوم

5۔ سیرۃُ الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور معیشت و رياست کا تعلق

(1) رياست کی ذمہ دارياں

.i حقِ معاش کی فراہمی

سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مدنی دور اس امر کا عملی ثبوت ہے کہ افرادِ معاشرہ کی معاشی بحالی اور انہیں حقِ معاش فراہم کرنا رياست کی بنيادی ذمہ داریوں میں سے ہے۔ قرآن مجید میں بھی جن مقامات پر بندوں کو رزق فراہم کرنے کا وعدہ فرمايا گيا ہے۔ ان میں اسلامی رياست کو اس کی بنيادی ذمہ داری سے آگاہ کيا گيا ہے۔ یہ قرآنی احکام اس منشاء ایزدی کو ظاہر کرتے ہیں۔ لہذا اسلامی رياست پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنی اس بنيادی ذمہ داری کو پورا کرے کہ ایسا کرنے سے ہی اس کے قيام و بقا کا جواز ہے۔ ارشاد الہی ہے :

 وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي الأَرْضِ إِلاَّ عَلَى اللّهِ رِزْقُهَا.

هود، 11 : 6

‘‘اور زمین میں کوئی چلنے پھرنے والا (جاندار) نہیں ہے مگر (یہ کہ) اس کا رزق اﷲ (کے ذمہ کرم) پر ہے۔’’

اب اس وعدہ الہی کے بعد اگر کوئی شخص بنيادی حق معاش سے محروم رہے تو اس کی ذمہ داری براہ راست رياست اور حکومتِ اسلامی پر عائد ہوتی ہے۔ کیونکہ حقوق اللہ کی تنفیذ اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دينا منجانب اللہ اسلامی رياست ہی کا حق ہے۔ جیسے حدود کا اجراء، حقوق اللہ میں سے ہے مگر اس کو تعزيری شکل میں رياست نافذ کرتی ہے۔

اسلامی نظام حکومت میں حکمران اللہ تعاليٰ کا خلیفہ اور نائب ہوتا ہے اور جب کوئی اسلامی حکومت خلافت الہیہ ہونے کے ناتے بندوں سے وہ حقوق حاصل کرتی ہے جو اللہ تعاليٰ کے لئے خاص ہیں (مثلا حدود، قصاص، عشر، زکوٰۃ وغیرہ) تو پھر اسے لازماً وہ فرائض بھی ادا کرنا ہوں گے جو اللہ رب العزت نے اپنے ذمے لئے ہیں۔ پس ‘‘إلّا علی اﷲ رزقها" کا مفہوم یہ ہو گا کہ ہر فرد کی معاشی ضروريات کا پورا کرنا اسلامی رياست کا فرض منصبی ہے۔ دوسری جگہ ارشا د ہوتا ہے :

وَکَاَيِنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اَﷲُ يَرْزُقُهَا وَ اِيَاکُمْج وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ.

العنکبوت، 29 : 60

‘‘اور کتنے ہی جانور ہیں جو اپنی روزی (اپنے ساتھ) نہیں اٹھائے پھرتے اﷲ انہیں بھی رزق عطا کرتا ہے اور تمھیں بھی، اور وہ خوب سننے والا جاننے والا ہےo’’

یہاں بھی ‘‘يرزقها وإياکم"  کے الفاظ قابل توجہ ہیں جو حقِ معاش کی یکساں فراہمی کی ذمہ داری کا واشگاف اعلان کر رہے ہیں۔

ایک اور مقام پر ہر فرد کو حقِ معاش کی یکساں فراہمی کا وعدہ اس طرح کيا گيا ہے :

وَلَا تَقْتُلُوْا اَوْلَادَکُمْ مِّنْ اِمْـلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُکُمْ وَاِيَاهُمْ.

الانعام، 6 : 151

‘‘اور مفلسی کے باعث اپنی اولاد کو قتل مت کرو، ہم ہی تمھیں رزق دیتے ہیں اور انھیں بھی (دیں گے)۔’’

اس آیہ کریمہ میں اﷲ تعاليٰ اس امر کا اعلان فرما رہا ہے کہ ہر ایک کو بنيادی طور پر رزق مہيا کرنا ہماری ذمہ داری ہے جس سے یہ امر ثابت ہے کہ باری تعاليٰ ایسے تمام مقاصد، معاشرتی زندگی میں افراد کے قائم کردہ نظام کے ذریعے سے ہی پورا کرنے کا حکم صادر فرما رہا ہے۔ اس لئے کہ یہ عالم اسباب ہے اور ‘‘نحن نرزقکم واياهم"  کا مفہوم یہی ہے کہ جس طرح تمہارے رزق کی ذمہ داری اللہ تعاليٰ پر ہے اسی طرح ان کی ذمہ داری بھی جو تمہارے زیر کفالت ہیں اسی پر ہے۔

اس امر کی وضاحت کہ وہ کونسا بنيادی حق معاش ہے جس کی فراہمی اسلامی معاشرے اور رياست کی ذمہ داری قرار دی گئی ہے اس حدیث مبارکہ میں بيان کی گئی ہے :

عن عثمان أنّ النّبي صلی الله عليه وآله وسلم قال : ليس لابن آدم حقّ في سويٰ هذه الخصال بيت يسکنه وثوب يواری عورته وجلف الخبز والماء.

1۔ ترمذی، السنن، کتاب الزھد، باب منه، 4 : 571، رقم : 2341

2۔ حاکم، المستدرک، 4 : 347، رقم : 7867

3۔ مقدسی، الأحادیث المختارہ، 1 : 455، رقم : 329

‘‘حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمايا : ابن آدم کے لئے سوائے ان اُمور کے کوئی حق نہیں، رہنے کے لئے گھر، ستر ڈھانپنے کے لئے کپڑا اور ضرورت کی روٹی (اور پانی یعنی یہ بنيادی حقِ معاش ہے، جب تک یہ ہر ایک کو میسر نہ آ جائے۔ اس سے زائد کا حق کسی کو نہیں)۔’’

مذکورہ بالاحدیث سے یہ بات ثابت ہے کہ حقِ معیشت (یعنی ضروريات زندگی) سے زيادہ کو اپنا بنيادی حق سمجہنا اور دوسروں کو محرومی سے دوچار کر کے بھی حقِ معیشت سے زائد تحفظ کا مطالبہ کرنا اسلامی شریعت کے لئے ہرگز قابل قبول نہیں ہے۔ مزید برآں مال و اسباب کے باب میں ایسی بنيادی ضروريات کا فراہم کيا جانا لوگوں کا بنيادی حق ہے۔ جیسے یہ ہر ایک کو یکساں طور پر ادا کيا جانا چاہئے۔

اس سلسلے میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان بھی اس بنيادی تصور کی وضاحت کر رہا ہے کہ اگر ایسے حالات ہو کہ لوگوں کی زندگياں خطرے میں پڑ جائیں تو مالدار لوگوں کے مال سے غریبوں کو زبردستی چھین کر بھی ديا جاسکتا ہے :

فواﷲ، لو أنّ اﷲ لم يفرجها ما ترکت أهل بيت من المسلمين لهم سعة إلّا أدخلت معهم أعدادهم من الفقراء فلم يکن اثنان يهلکان من الطّعام علی ما يقيم واحدا.

1۔ بخاری، الأدب المفرد : 198، رقم : 562

2۔ أبو زید عمر بن شبۃ، أخبار المدینۃ : 392

‘‘(حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمايا : ) خدا کی قسم! اگر اﷲ تعاليٰ قحط رفع نہ فرماتا تو میں کوئی بھی ایسا گھر نہ چہوڑتا جس میں کھانا موجود ہوتا، مگر اس کے افراد کے برابر دیگر مستحقین اور محتاجوں کو اس میں حکماً داخل کر دیتا۔ کیونکہ ایک شخص کا کھانا یقینا دو افراد کو ہلاک ہونے سے بچا لیتا ہے۔’’

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دوسرا قول مبارک بھی ملاحظہ ہو :

لو استقبلت من أمری ما استدبرت لأخذت فضول أموال الأغنياء فقسّمتها علی فقراء المهاجرين.

 ابن حزم، المحلی، 6 : 158

‘‘اگر مجھے اس امر کا خيال پہلے آ جاتا تو میں مالداروں کی زائد دولت لیکر فقراء مہاجرین میں تقسیم کر دیتا۔’’

.ii سیرۃُ الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور بنيادی حقِ معاش

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معاشرے کے تمام افراد کو بنيادی حقِ معاش میں مساوات ملحوظ رکھنے کا حکم صادر فرمايا اور محروم المعیشت افراد کی کفالت کا باقاعدہ انتظام بھی فرمايا۔ جس کاا ندازہ درج ذیل احادیثِ مبارکہ سے بخوبی کيا جا سکتا ہے۔

1۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمايا :

من کان عنده فضل ظهر فليعد به علی من لا ظهر له ومن کان عنده فضل زاد فليعد به علی من لا زاد له فقال : ذکر أصناف المال حتّی رأينا أنّه لا حق لأحد منّا في الفضل.

مسلم، الصحیح، کتاب اللقطعۃ، باب استحباب المؤاساۃ، 3 : 1354، رقم : 1728

‘‘جس کے پاس ضرورت سے زائد سواری ہے وہ اسے لوٹا دے جس کے پاس ضرورت کی سواری نہیں۔ جس کے پاس ضرور ت سے زائد کھانا اور سامان ہے وہ اس کو دے دے جس کے پاس ضرورت کا کھانا نہیں۔ اسی طرح حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے متعدد اصناف مال کا ذکر فرمايا۔ حتی کہ ہم نے گمان کيا کہ زائد از ضرورت کسی شے میں بھی ہمارا حق نہیں ہے۔’’

.iii حکمران کی اہلیت : معاشی مساوات کا قيام

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربِ قيامت کے آخری زمانہ میں ظہور پذیر ہونے والے ایک صالح حکمران (حضرت امام مہدی علیہ السلام) کے بارے میں پیشن گوئی کرتے ہوئے ارشاد فرمايا کہ وہ لوگوں میں معاشی مساوات قائم کرے گا۔

حدیث مبارکہ کے الفاظ یہ ہیں :

أبشرکم بالمهدی يبعث في أمّتي علی اختلاف من النّاس وزلازل فيملأ الأرض قسطا وعدلا کما ملئت جورا وظلماً يرضی عنه ساکن السّماء وساکن الأرض يقسم المال صحاحاً؟ قال له رجل : ما صحاحاً؟ قال : بالسّوية بين النّاس ويملأ اﷲ قلوب أمّة محمد صلی الله عليه وآله وسلم غنی.

1۔ أحمد بن حنبل، المسند، 3 : 37، رقم : 11344

2۔ ہیثمی، مجمع الزوائد، 7 : 313

‘‘میں تمہیں مہدی (علیہ السلام) کی بشارت دیتا ہوں وہ ایسے دور میں مبعوث ہوں گے جب لوگ باہم اختلاف کا شکار ہوں گے اور وہ زمین میں عدل و انصاف قائم کریں گے۔ جیسا کہ پہلے ظلم جاری ہو گا۔ ساکنان زمین و آسمان اس سے خوش ہوں گے۔ وہ صحیح طریقہ پر مال تقسیم کریں گے۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کيا : وہ صحیح طریقہ کيا ہے؟ فرمايا : لوگوں کے درميان مساوی تقسیم کرے گا۔ حتی کہ اللہ تعاليٰ مومنین کے دلوں کو استغناء سے مالا مال کر دے گا۔’’

یہ امرظاہر و باہر ہے کہ دولت کی برابر تقسیم نہ تو عملاً ممکن ہے اور نہ شرعاً اس کا حکم ديا گيا ہے۔ لہذا اس ‘‘تقسیم‘‘ سے مراد بنيادی ضروريات کی مساوی تقسیم ہی ہو سکتی ہے کہ بنيادی معاش ہر ایک میں اس طرح برابر تقسیم ہو گا کہ معاشرے میں معاشی تعطل نہ رہے اور کوئی فرد بنيادی ضروريات سے محروم نہ رہنے پائے۔

حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو مال و دولت کے بارے میں نصیحت کرتے ہوئے چار بنيادی باتوں کا خيال رکھنے کی ہدایت دی :

أربع من عمل بهن استوجب العدل : الأمانة في المال والتسوية في القسم والوفاء بالعدة والخروج من العيوب.

1۔ طبری، تاریخ الأمم والملوک، 2 : 490

2۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق الکبیر، 18 : 6

‘‘چار اُمور ایسے ہیں کہ جس نے ان پر عمل کر ليا اُس نے عدل و انصاف کا حق ادا کر ديا : مالی معاملات میں امانت داری، تقسیم اموال میں برابری، وقت پر ایفائے عہد اور عیبوں کو ترک کرنا۔’’

یہاں بھی ‘‘التسویہ‘‘ سے مراد حق معاش کی برابری ہے۔ جو معاشرے کے تمام افراد کو بنيادی ضروريات اور حاجات مساوی طور پر ادا کرنے کی ضامن ہو۔

زندگی میں بنيادی ضرورت کی فراہمی کی طرح اگر کوئی شخص قرض چہوڑ کر مر جائے اور اس کے ورثاء قرض کی ادائیگی کی استطاعت نہ رکھتے ہوں تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بھی اسلامی رياست کی ذمہ داری قرار ديا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث مبارکہ ہے :

فلمّا فتح اﷲ عليه الفتوح قام فقال : أنا أولی بالمؤمنين من أنفسهم فمن توفی من المؤمنين فترک دينا عليّ قضاؤه ومن ترک مالا فهو لورثته.

1۔ بخاری، الصحیح، کتاب الکفالۃ، باب الدین، 2 : 805، رقم : 2176

2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الفرائض، باب من ترک مالا فلورثتہ، 3 : 1237، رقم : 1619

3۔ ترمذی، السنن، کتاب الجنائز، باب ما جاء فی الصلاة علی المدیون، 3 : 382، رقم : 1070

4۔ أحمد بن حنبل، المسند، 2 : 453، رقم : 9847

‘‘جب اللہ تعاليٰ نے فتوحات کا دروازہ کھول ديا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمايا : میں اہلِ ایمان کے ساتھ ان کی جانوں سے قریب تر ہوں۔ اہلِ ایمان میں سے جو فوت ہو جائے اور اس کے ذمے قرض ہو تو اس کی ادائیگی میرا فرض ہے اور جو وہ مال چھوڑ کر مر جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے۔’’

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے ایسے تمام احکام کی عملی اہمیت کو کم کرنے کے لئے انہیں محض نفلی اور اضافی نیکی یعنی مستحبات میں شمار کر ليا ہے حالانکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول و عمل سے ان کا وجوب اور لزوم ہی ثابت ہوتا ہے۔

.iv حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اقتصادی اصلاحات

1۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خزانہ (بيت المال ) کے مصارف کے بارے میں حکومتی سطح پر حکمِ اقتصاد پر بڑی سختی سے عمل درآمد کرايا اور سرکاری سطح پر ہر قسم کے اسراف کو ختم کر ديا۔ کیونکہ اس کے بغیر عوام کو صرف مال کے بارے میں اقتصاد کا عامل نہیں بنايا جاسکتا۔ اس باب میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں :

إنّ عمر بن الخطاب کتب إلی عمّاله أن لا تطيلوا بنائکم دينا من شر أيامکم.

1۔ بخاری، الأدب المفرد : 161، رقم : 452

2۔ ابن سعد، الطبقات الکبريٰ، 8 : 486

‘‘حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت کے امراء اور افسروں کو یہ تحريری ہدایت جاری فرمائی کہ وہ اپنی رہائش گاہیں بلند و بالا نہ بنائیں کہ ایسا عمل بدترین دور کی علامت ہے۔’’

2۔ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ایک اور حکم نامہ (circular) کا ذکر کرتے ہیں جو کہ آپ رضی اللہ عنہ نے تمام حکام اور افسران کے نام جاری فرمايا اس روایت کو امام ابن ابی شیبہ اور ابن عساکر نے بھی روایت کيا ہے :

أن لا يأکل نقيا ولا يلبس رقيقا ولا يرکب برذونا ولا يغلق بابه دون حوائج النّاس.

1۔ ابن أبی شیبه، المصنف، 6 : 461، رقم : 32920

2۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق الکبیر، 44 : 276

3۔ أبو یوسف، کتاب الخراج : 125

‘‘کہ وہ غیر معمولی کھانے نہ کھائیں، نہ اعليٰ زيادہ قیمتی اور نفیس کپڑا پہنیں، اعليٰ نسل کے گہوڑوں پر سواری نہ کریں اورضرورت مندوں کے لئے دروازے بند نہ کرے۔’’

3۔ آپ کو معلوم ہوا کہ مصر کا ایک اعليٰ افسر عياض بن غنم بہت قیمتی لباس پہنتا ہے (یعنی اس کا رہن سہن اسراف کا آئینہ دار ہے) تو آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت محمدبن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے ذریعے اس معاملے کی تحقیقات کرائی اور جواب طلبی کے بعد اسے برطرف کر ديا اور سزا کے طور پر بکریوں کا ریوڑ چرانے کا کام اس کو سونپ ديا۔

أبو یوسف، کتاب الخراج : 126

الغرض اپنی دور رس حکمت عملیوں سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے رياست میں ایسا عظیم اقتصادی و معاشرتی نظام قائم فرمايا جس سے معاشرے میں ہر سطح پر ظلم و جبر اور تعیش پرستی کا کلیتاً خاتمہ ہوگيا اور ایک صحیح اسلامی فلاحی رياست معرض وجود میں آ گئی، تاریخ جس کی مثال آج تک پیش کرنے سے قاصر ہے۔

.v کفالتِ عامہ کا نظام اور رياست کی ذمہ داری

قرآن مجید کے حکم ‘‘تعاونوا علی البر والتقوی" کا اہم ترین عنصر معاشی زندگی میں امداد باہمی ہے جو کفالت عامہ کے نظام پر منتج ہوتی ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلامی رياست مدینہ کے قيام کے بعد نظام اسلامی کے نفاذ کے سلسلے کا پہلا قدم ہی یہی اٹھايا جو تاریخ میں ‘‘مواخاتِ مدینہ کے نام سے معروف ہے۔

ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، 3 : 36

یہ اس وقت کی بات ہے جب حدود و تعزیرات يا دیگر بہت سے اسلامی احکام کا اجراء عمل میں نہیں آيا تھا۔ حتی کہ سود اور بہت سے دیگر محرمات کا بھی اجراء نہ ہوا تھا۔ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اسلامی انقلاب کا آغاز معاشرے میں معاشی استحکام سے ہوا اور اسلامی سزاؤں کے نفاذ بعد میں کيا گيا۔ کیونکہ سزائیں احکام وضعی (Declaratory Laws) ہیں، تکلیفی (Primary) نہیں۔ یہ مقصود بالذات نہیں ہیں۔ اصل مقصود تو معاشرے کے غیر اسلامی استحصالی اور فاسقانہ ڈھانچے کو بدلنا اور افرادِ معاشرہ کے فکر و عمل کی سمتوں کو از سر نو متعین کرنا ہے۔ اس اہتمام کے ساتھ کہ بعد میں اگر کوئی ان اسلامی معاشرتی قدروں کو پامال کرنا چاہے تو اسے سزا کے ذریعے روکا جا سکے۔

امدادِ باہمی اور کفالت عامہ کے تصور کے تحت اسلام نے پورے معاشرے کے حوالے سے یہ رياست کی ذمہ داری قرار دی ہے کہ جو افراد محض اپنے وسائل سے اپنی جائز ضروريات کی کفالت نہیں کر سکتے ان کا بوجھ معاشرہ ان کے ساتھ مل کر اٹھائے۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ ايامِ قحط میں دعا فرمائی اور قحط رفع ہو گيا اور بعد ازاں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمايا :

فواﷲ، لو أنّ اﷲ لم يفرجها ما ترکت أهل بيت من المسلمين لهم سعة إلّا أدخلت معهم أعداد هم من الفقراء فلم يکن اثنان يهلکان من الطّعام علی ما يقيم واحدا.

1۔ بخاری، الأدب المفرد : 198، رقم : 562

2۔ أبو زید عمر بن شبۃ، أخبار المدینۃ : 392

‘‘(حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمايا : ) خدا کی قسم! اگر قحط رفع نہ ہوتا تو میں کوئی بھی ایسا گھر نہ چھوڑتا جس میں کھانا موجود ہوتا، مگر اس کے افراد کے برابر دیگر مستحقین اور محتاجوں کو اس میں حکماً داخل کر دیتا۔ کیونکہ ایک شخص کا کھانا یقینا دو افراد کو ہلاک ہونے سے بچا لیتا ہے۔’’

یہ سب آثار و نظائر اس تصور کفالت کی تفصیلات و توضیحات ہیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اپنے عہد مبارک کے ایک قبیلے کی اس خصوصیت کا بطور خاص ذکر فرمايا ہے کہ جب ان میں سے بعض کے پاس سامان خورد و نوش اور اسباب معیشت ختم ہو جاتے ہیں تو پھر ان کا معمول یہ ہوتا :

ما کان عندهم في ثوب واحد ثم اقتسموه بينهم في إناء واحد بالسّوية فهم منّي وأنا منهم.

1۔ بخاری، الصحیح، کتاب الشرکۃ، باب الشرکۃ فی الطعام، 2 : 880، رقم : 2354

2۔ مسلم، الصحیح، کتاب فضائل الصحابة، باب من فضائل الأشعریین، 4 : 1944، رقم : 2500

3۔ نسائي، السنن الکبری، 5 : 247، رقم : 8798

‘‘ان میں سے جس جس کے پاس جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ سب ایک کپڑے میں اکٹھا کر لیتے ہیں اور ایک برتن کے ذریعے آپس میں برابر تقسیم کر لیتے ہیں۔ پس ان کے اسی عملی ایثار کے باعث میں ان کو اپنے میں سے اور خود کو ان میں سے تصور کرتا ہوں۔’’

مزید برآں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی درج ذیل روایت سے بھی اسی تصور معیشت کی تائید ہوتی ہے۔ جس کے مطابق حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک موقع پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمايا :

من کان معه فضل ظهر فليعد به علی من لا ظهر له ومن کان له فضل من زاد فليعد به علی من لا زاد له قال : فذکر من أصناف المال ما ذکر حتی رأينا أنه لا حق لأحد منّا في فضل.

1۔ مسلم، الصحیح، کتاب اللقطۃ، باب استحباب المؤاساۃ بفضول المال، 3 : 1354، رقم : 1728

2۔ أبوداود، السنن، کتاب الزکاۃ، باب في حقوق المال، 2 : 125، رقم : 1663

3۔ أبو یعلی، المسند، 2 : 326، رقم : 1046

‘‘جس کے پاس زائد سواری ہے وہ اس شخص کو لوٹا دے جس کے پاس سواری نہیں اور جس کے پاس زائد کھانا ہے وہ اس شخص کو لوٹا دے جس کے پاس کھانا نہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مال کی بہت سی اقسام بيان کیں حتی کہ ہم نے محسوس کيا کہ زائد مال میں سے ہمارا کوئی حق نہیں۔’’

ابن حزم ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی مذکورہ روایت پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

‘‘اس بات پر صحابہ کا اجماع ہے کہ اگر کوئی شخص بھوکا ننگا يا ضرورياتِ رہائش سے محروم ہے تو مالداروں کے فاضل مال سے اس کی کفالت کرنا فرض ہے۔’’(1)

(1) ابن حزم، المحلی، 6 : 158

یہ حدیث ان حالات کی نشاندہی کر رہی ہے جب {يَسْئَلُوْنَکَ مَاذَا يُنْفِقُوْنَ قُلِ الْعَفْوَ} (2) ‘‘آپ سے یہ بھی پوچھتے ہیں کہ کيا کچھ خرچ کریں؟ فرما دیں جو ضرورت سے زائد ہے (خرچ کر دو)‘‘ کے قرآنی حکم کا نفاذ حالات کی سنگینی کے خاتمے کے لیے واجب ہو جاتا ہے۔ انفاق کا عمل حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عطا کردہ تصور معیشت میں کس قدر موجزن تھا۔ اس کا مظاہرہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیوں میں قدم قدم پر دکھائی دیتا ہے۔ ا س کی ایک جھلک حضرت ابو طلحہص کے اس عمل سے بھی آشکار ہوتی ہے۔ جب آپ رضی اللہ عنہ نے محض {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} (3) ‘‘تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکو گے جب تک تم (اللہ کی راہ میں) اپنی محبوب چیزوں میں سے خرچ نہ کرو‘‘ کی قرآنی ترغیب پر اپنی سب سے بڑی اور قیمتی جائیداد مستحق اعزہ اور اقارب میں تقسیم کر دی جس کی شہادت ‘‘صحیح بخاری‘‘ کے یہ الفاظ یوں فراہم کر رہے ہیں :

(2) البقره، 2 : 219

(3) آل عمران، 3 : 92

فقسّمها أبو طلحة في أقاربه وبني عمّه.

1۔ بخاری، الصحیح، کتاب الزکاۃ، باب الزکاۃ علی الأقارب، 2 : 530، رقم : 1392

2۔ ابن حبان، الصحیح، 16 : 150، رقم : 7182

3۔ ابن کثیر، تفسیر القرآن العظيم، 1 : 382

‘‘پس حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے وہ باغ اپنے رشتہ داروں اور چچا زاد بھائیوں میں تقسیم کر ديا۔’’

اسی کی ایک مثال حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اس عمل انفاق میں دکھائی دیتی ہے۔ جب آپ رضی اللہ عنہ غزوہ تبوک کے موقع پر راہ خدا میں سب کچھ لٹا چکے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : اے ابو بکر! اپنے گھر والوں کے لیے کيا چھوڑ آئے ہو؟ انہوں نے عرض کيا :

أبقيت لهم اﷲ ورسوله.

1۔ ترمذی، السنن، کتاب المناقب، باب فی مناقب أبی بکر وعمر کلهما، 5 : 614، رقم : 3675

2۔ دارمی، السنن، 1 : 480، رقم : 1660

3۔ أحمد بن حنبل، فضائل الصحابة، 1 : 360، رقم : 527

4۔ مقدسی، الأحادیث المختارۃ، 1 : 173، رقم : 81

‘‘يا رسول اللہ! ان کے لیے اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چھوڑ آيا ہوں۔’’

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یہ ارشادات اس تصور کی رياستی سطح پر اہمیت کو مزید اُجاگر کرتے ہیں :

فأيّما مؤمن ترک مالا فليرثه عصبته من کانوا فإن ترک دينا أو ضياعاً فليأتني فأنا مولاه.

1۔ بخاري، الصحیح، کتاب تفسیر القرآن، باب اَلنَّبِيُ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ، 4 : 1795، رقم : 4503

2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الفرائض، باب من ترک مالاً فلورثتہ، 3 : 1237، رقم : 1619

3۔ ترمذي، السنن، کتاب الفرائض، باب ما جاء من ترک مالاً فلورثتہ، 4 : 413، رقم : 2090

‘‘جو مؤمن بھی مال چہوڑ کر مرے گا اس کے وارث اس کے عصبہ (قریبی رشتہ دار) ہوں گے وہ جو کوئی بھی ہوں۔ اگر وہ اپنے ذمہ دین (قرض) يا بچے (جن کے پاس کچھ بھی نہ ہو) چھوڑ کر مرا تو وہ قرض اور یتیم بچے میرے ذمہ ہیں اور میں ہی ان کا والی ہوں ( یعنی ان کی کفالت کروں گا اور ان پر مال خرچ کروں گا)۔’’

لو کان لي مثل أحد ذهباً لسرّني أن لا تمر عليّ ثلاث ليال وعندي منه شی إلّا شيئا أرصده لدين.

1۔ بخاری، الصحیح، کتاب الرقاق، باب قول النبی : ما أحب أن لی مثل أحد ذھبا، 5 : 2368، رقم : 6080

2۔ ابن حبان، الصحیح، 14 : 260، رقم : 6350

3۔ بیھقي، السنن الکبريٰ، 4 : 82، رقم : 7021

‘‘اگر میرے پاس اُحد پہاڑ جتنا سونا بھی ہوتا تو (ایسی صورت میں بھی) میرے لیے یہی بات باعثِ راحت ہوتی کہ میں تین راتیں گزرنے تک اسے راہ خدا میں خرچ کر دوں اور اس مال میں سے اسی قدر بچا کر رکھتا جو قرض کی ادائیگی کیلئے ضروری ہوتا۔’’

یہ امر ملحوظ رہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ تصور اُمت کو صرف بصورت تعلیم ہی نہیں ديا بلکہ اس کی عملی شکل اپنے نمونہ حيات سے مہيا فرما دی تھی۔ امام ترمذی کا روایت کردہ یہ واقعہ اس حقیقت کی توضیح کے لیے کافی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں ایک مرتبہ درہم کی صورت میں ہدیہ پیش کيا گيا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں چٹائی پر ڈال ديا اور تمام کی تمام رقم حاجت مندوں میں تقسیم فرما دی۔ بعد ازاں ایک ضرورت مند نے آ کر سوال کيا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمايا :

ما عندی شی ولکن ابتع عليّ فإذا جائنی شی قضيته.

ترمذی، الشمائل المحمدیۃ، 1 : 294

‘‘اس وقت میرے پاس کچھ نہیں بچا ليکن تو بازار سے میرے نام پر اپنی تمام ضرورتیں خرید لے۔ جب ہمارے پاس پیسے آ جائیں گے ہم اپنا اُدھار چکا دیں گے۔’’

اس باب میں حکومت کی ذمہ داری کس قدر ہے اس تصور کی وضاحت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس ارشاد سے بخوبی ہو جاتی ہے :

إنّ اﷲ فرض علی الأغنيآء في أموالهم بقدر ما يکفی فقراء هم.

1۔ سعید بن منصور، السنن، 5 : 109، رقم : 931

2۔ بیھقی، السنن الکبری، 7 : 23، رقم : 12985

3۔ ابن حزم، المحلی، 6 : 158

‘‘اللہ تعاليٰ نے مال داروں پر ان کے سرمایہ دولت میں سے اس قدر انفاق فرض کيا ہے جس سے ان کے معاشرے کے ضرورت مندوں کی حاجات پوری ہو جائیں۔’’

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے :

لو استقبلت من أمری ما استدبرت لأخذت فضول أموال الأغنياء فقسمتها علی فقراء المهاجرين.

1۔ طبری، تاریخ الأمم والملوک، 2 : 579

2۔ ابن حزم، المحلی، 6 : 158

‘‘جس بات کا مجھے اندازہ ہوا ہے اگر اس کا پہلے سے اندازہ ہو جاتا تو میں اس میں کبھی تاخير نہ کرتا اور بلا شبہ ارباب ثروت کی فاضل دولت لے کر فقراء مھاجرین میں بانٹ دیتا۔’’

امام ابن حزم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے احوال بيان کرتے ہوئے بيان کيا ہے۔

وصحّ عن أبی عبيدة بن الجراح وثلثمائة من الصحابة (ث) أن زادهم فنی فأمرهم أبو عبيدة فجمعوا أزوادهم في مزودين وجعل يقوتهم إياها علی السواء.

ابن حزم، المحلی، 6 : 158

‘‘حضرت ابو عبيدہ اور تین سو صحابہ رضی اللہ عنہم سے متعلق یہ روایت صحت کو پہنچ چکی ہے کہ (ایک موقعہ پر) ان کا سامان خورد و نوش ختم کے قریب آ لگا۔ پس حضرت ابو عبيدہ (رضی اللہ عنہ) نے حکم ديا کہ جس جس کے پاس جس قدر موجود ہے وہ حاضر کرو اور پھر سب کو یکجا جمع کر کے ان سب میں برابر تقسیم کر کے سب کو قوت لا یموت کا سامان مہيا کر ديا۔’’

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعاليٰ نے اہلِ دولت کے اموال پر ان کے غریبوں کی معاشی حاجت کو بدرجہ کفایت پورا کرنا فرض کر ديا ہے۔ پس اگر وہ بہوکے ننگے يا معاشی مصائب میں مبتلا ہوں گے وہ محض اس لیے کہ اہلِ ثروت اپنا حق ادا نہیں کرتے اور ان کی معاشی کفالت نہیں کرتے اللہ تعاليٰ ان سے قيامت کے دن اس کی باز پرس کرے گا اور اس کوتاہی پر ان کو عذاب دے گا۔

یہ اور اسی قسم کی دوسری احادیث اور آيات قرآنی کو دلیل میں پیش کرتے ہوئے ابن حزم ظاہری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

فرض علی الأغنياء من أهل کل بلد أن يقوموا بفقرائهم ويجيرهم السلطان علی ذلک إن لم تقم الزکوات بهم ولا في سائر أموال المسلمين بهم فيقام لهم بما يأکلون من القوت الّذي لا بد منه ومن اللباس للشتاء والصيف بمثل ذلک وبمسکن يکنهم من المطر والصيف والشمس وعيون المارة.

ابن حزم، المحلی، 6 : 156

‘‘اور ہر ایک بستی کے اربابِ دولت کا فرض ہے کہ وہ فقراء اور غرباء کی معاشی زندگی کے کفیل ہوں اور اگر ان کی زکوٰۃ اور بيت المال کی آمدنی سے ان غرباء کی معاشی کفالت پوری نہ ہوتی ہو تو سلطان (حاکم وقت) ان اربابِ دولت کو اس کفالت کے لیے مجبور کر سکتا ہے (یعنی زندگی کے اسباب کے لیے کم از کم یہ انتظام ضروری ہے کہ) ان کی ضروری حاجت کے مطابق روٹی مہيا ہو، پہننے کے لیے گرمی اور سردی دونوں موسموں کے لحاظ سے لباس فراہم ہو اور رہنے کے لیے ایک ایسا مکان ہو جو ان کو بارش، گرمی، دہوپ اور راہ گیروں کی نظروں سے محفوظ رکھ سکے۔’’

کفالتِ عامہ کے تصور کی وضاحت امام حسن رضی اللہ عنہ کے اس ارشاد سے خوب ہو جاتی ہے۔ جسے ولید بن ديناررضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :

إنّه سئل عن الجار فقال : أربعين داراً أمامه وأربعين خلفه وأربعين عن يمينه وأربعين عن يساره.

 1۔ بخاری، الأدب المفرد : 51، رقم : 109

2۔ سیوطي، الدر المنثور، 2 : 529

3۔ مزی، تھذ یب الکمال، 31 : 10، رقم : 6702

‘‘ان سے سوال کيا گيا کہ پڑوسی سے کيا مراد ہے ( جسے بھوکا نہ رہنے دینے کا حکم ہے) آپ نے فرمايا : چاليس گھر سامنے، چاليس گھر پیچھے، چاليس گھر دائیں اور چاليس گھر بائیں۔’’

اس ارشاد سے ہر شخص کے لئے اس کی حسب استطاعت ‘‘حیطہ کفالت‘‘ کا تعین ہوتا ہے کہ اگر اس کے بالکل ساتھ والا پڑوسی حاجت مند نہیں ہے تو اس کی کفالت کی ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی بلکہ اسے اس قدر دور تک ذمہ داری نبھانی چاہیے۔ اس تصور کی صراحت قرآن حکیم اور احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی ہوتی ہے۔

ارشاد ربانی ہے کہ دوزخیوں سے سوال ہوگا :

مَا سَلَکَکُمْ فِيْ سَقَرَo قَالُوْا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّيْنَo وَلَمْ نَکُ نُطْعِمُ الْمِسْکِيْنَ.

المدثر، 74 : 42۔ 44

‘‘(اور کہیں گے : ) تمہیں کيا چیز دوزخ میں لے گئیo وہ کہیں گے : ہم نماز پڑھنے والوں میں نہ تھےo اور ہم محتاجوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھےo’’

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مؤمنین کے اسی بھائی چارے کو ایک جسم کی مانند قرار دیتے ہوئے باہمی معاشرتی تعاون کی وضاحت یوں فرمائی :

تری المومنين في تراحمهم وتوادّهم وتعاطفهم کمثل الجسد إذا اشتکی عضوًا تداعی له سائر جسده بالسّهر والحمّی.

1۔ بخاري، الصحیح، کتاب الأدب، باب رحمۃ الناس والبھائم، 5 : 2238، رقم : 5665

2۔ مسلم، الصحیح، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب تراحم المؤمنین وتعاطفهم وتعاضھم، 4 : 1999، رقم : 2586

3۔ أحمد بن حنبل، المسند، 4 : 270، رقم : 18398

4۔ ابن حبان، الصحیح، 1 : 469، رقم : 233

5۔ بیھقي، السنن الکبری، 3 : 353، رقم : 6223

‘‘تم مؤمنین کو آپس میں مہربانی، شفقت اور لطف و کرم میں ایسے دیکھو گے جیسے کوئی جسم کہ جب اس میں کسی ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم (تکلیف میں مبتلا ہو کر ) بے خوابی اور بخار کو دعوت دیتا ہے۔’’

ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے :

المومن للمومن کالبنيان يشدّ بعضه بعضاً وشبّک أصابعه.

1. بخاري، الصحیح، کتاب الصلاة، باب تشبیک الأصابع في المسجد وغیرہ، 1 : 182، رقم : 467

2. بخاري، الصحیح، کتاب المظالم، باب نصر المظلوم، 2 : 863، رقم : 2314

3. بخاري، الصحیح، کتاب الأداب، باب تعاون المؤمنین بعضھم بعضاً، 5 : 2242، رقم : 5680

4. مسلم، الصحیح، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب تراحم المؤمنین وتعاطفهم وتعاضھم، 4 : 1999، رقم : 2585

5. ترمذي، السنن، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء في شفقۃ المسلم علی المسلم، 4 : 325، رقم : 1928

6. ابن أبي شیبۃ، المصنف، 6 : 163، رقم : 30348

7. أحمد بن حنبل، المسند، 4 : 404، رقم : 19624

8. أبو یعلی، المسند، 13 : 279، رقم : 7295

9. ابن حبان، الصحیح، 1 : 467، رقم : 231

10. ہیثمي، مجمع الزوائد، 8 : 87

‘‘ایک مؤمن دوسرے مؤمن کے لئے ایسے ہے کہ جیسے عمارت جس کا ایک حصہ دوسرے کو تقویت پہنچاتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلياں آپس میں ملا لیں۔’’

یہ ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی باہمی معاشرتی تعاون کی دلیل ہے :

لا يؤمن أحدکم حتّی يحب لأخيه ما يحب لنفسه.

1. بخاری، الصحیح، کتاب الإیمان، باب من الإیمان أن يحب لأخیہ ما يحب لنفسہ، 1 : 14، رقم : 13

2. مسلم، الصحیح، کتاب الإیمان، باب الدلیل علی أن من خصال الإیمان أن يحب لأخیہ المسلم ما يحب لنفسہ من الخير، 1 : 67، رقم : 45

3. ترمذي، السنن، کتاب صفۃ القيامة والرقائق والورع، باب منه، 4 : 667، رقم : 2515

4. نسائي، السنن، کتاب الإیمان وشرائعہ، باب علامۃ الإیمان، 8 : 115، رقم : 5016

5. أحمد بن حنبل، المسند، 3 : 176، رقم : 12824

‘‘تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہ کچھ پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے.‘‘

اس تصور کی مزید وضاحت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس فرمان سے ہوتی ہے۔

ليس بالمؤمن الّذي يبيت شبعانا وجاره جائع إلی جنبه.

1. حاکم، المستدرک، 2 : 15، رقم : 2166

2. ابن مبارک، الزھد : 270، رقم : 781

3. منذري، الترغیب والترھیب، 3 : 243، 244، رقم : 3875

‘‘وہ مومن نہیں جس نے خود تو شکم سیر ہو کر رات بسر کی اور اس کا ہمسایہ بھوکا رہا۔’’

.vi زائد مال کی تقسیم اور حکومت کی ذمہ داری

ارشادِ باری تعاليٰ ہے :

وَيَسْئَلُوْنَکَ مَاذَا يُنْفِقُوْنَ قُلِ الْعَفْوَ.

البقره، 2 : 219

‘‘اور آپ سے یہ بھی پوچھتے ہیں کہ کيا کچھ خرچ کریں؟ فرما دیں جو ضرورت سے زائد ہے (خرچ کر دو)۔’’

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمايا :

من کان معه فضل ظهر فليعد به علی من لا ظهر له، ومن کان له فضل من زاد فليعد به علی من لا زاد له، قال : فذکر من أصناف المال ما ذکر حتّی رأينا أنه لا حق لأحد منّا في فضل.

1. مسلم، الصحیح، کتاب اللقطۃ، باب استحباب المؤاساۃ بفضول المال، 3 : 1354، رقم : 1728

2. أبو داؤد، السنن، کتاب الزکاۃ، باب فی حقوق المال، 2 : 125، رقم : 1663

3. ابن حبان، الصحیح، 12 : 238، رقم : 5419

4. أبو عوانۃ، المسند، 4 : 199.200، رقم : 6490

5. بیھقی، السنن الکبری، 4 : 182

‘‘تم میں سے جس شخص کے پاس ضرورت سے زائد سواری ہے وہ اس کو لوٹا دے جس کے پاس نہیں ہے۔ جس کے پاس ضرورت سے زائد سامان خورد و نوش ہے وہ اسے لوٹا دے جس کے پاس نہیں ہے۔ اسی طرح حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مختلف اصنافِ مال کا ذکر فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم نے سمجھا کہ ضرورت سے زائد کسی بھی شے میں ہمارا حق نہیں رہا۔’’

اسی طرح قرآن مجید کی کئی آيات اور صحاح کی کئی احادیث اسی مفہوم کو بيان کرتی ہیں۔ ارشادِ باری تعاليٰ ہے :

فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ.

الحجرات، 49 : 9

‘‘پھر اگر ان میں سے ایک (گروہ) دوسرے پر زيادتی اور سرکشی کرے تو اس (گروہ) سے لڑو جو زيادتی کا مرتکب ہو رہا ہے یہاں تک کہ وہ اﷲ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔’’

حق سے منع کرنے والا باغی ہے کیونکہ اپنے بھائی کو حق سے محروم کر رہا ہے۔ اسی وجہ سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے زکوٰۃ نہ دینے والوں کے ساتھ جنگ کی۔

جب حکومت کے پاس فوج کو جنگ کے لیے تيار کرنے، دفاع کے وسائل اور پبلک پر خرچ کرنے کے لیے خزانے میں پیسہ نہ ہو تو اس صورت میں حکومت کے لیے جائز ہے کہ وہ لوگوں کے اموال جو ان کے تصرف میںہیں لے لے اور انہیں مطلوبہ ضروريات پر خرچ کر دے۔

امام غزالی (م 505ھ) فرماتے ہیں :

إذا خلت الأيدي من الأموال ولم يکن من مال المصالح ما يفي بخراجات العسکر ولو تفرق العسکر واشتغلوا بالکسب لخيف دخول الکفار بلاد الإسلام أو خيف ثوران الفتنة من أهل العرامنة في بلاد الإسلام فيجوز للإمام أن يوظف علی الأغنياء مقدار کفاية الجند ثم إن رأی في طريق التوزيع التخصيص بالأراضي فلا حرج لأنا نعلم أنه إذا تعارض شرّان أو ضرران قصد الشرع دفع أشد الضررين وأعظم الشرين وما يوديه کل واحد منهم قليل بالإضافة إلی ما يخاطر به من نفسه وماله لو خلت خطة الإسلام عن ذي شوکة يحفظ نظام الأمور ويقطع مادة الشرور.

غزالي، المستصفی، 1 : 303، 304

‘‘جب (فوج) کے ہاتھ اموال سے خالی ہو جائیں اور ملکی خزانے میں اتنا مال نہ ہو کہ جس سے فوج کے اخراجات برداشت کیے جا سکیں اور لشکر بھی منتشر ہو کر کسبِ رزق میں مشغول ہو جائے اور اس بات کا بھی ڈر ہو کہ اسلامی مملکت میں دشمن داخل ہو کر حملہ کر دے گا يا اہلِ شر کی طرف سے کسی فتنہ کے اٹھنے کا اندیشہ ہو تو ایسی حالت میں حاکمِ وقت کے لئے جائز ہے کہ وہ اغنياء پر لازم کر دے کہ وہ فوج کے اخراجات کی مقدار کے برابر اپنے مال قومی خزانے میں دے دیں پھر اگر وہ زمین کے لحاظ سے مخصوص تقسیم کر دے تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جب دو نقصان اکٹھے ہو جائیں تو شریعت ان دونوں نقصانات میں سے جو زيادہ بڑا نقصان ہوتا ہے اس کو دور کرتی ہے پس ایسے حالات میں اغنياء سے مال لینا ان کے لئے خسارہ (نقصان) ہے ليکن وہ نقصان جو دشمن کی وجہ سے ملک کو پہنچے گا وہ اس نقصان سے بڑا ہے لہذا اس بڑے خسارے سے بچنے کے لئے اغنياء سے مال لے کر افواج کے اخراجات کو پورا کيا جائے گا۔’’

امام شاطبی (م 790ھ) فرماتے ہیں :

إنا إذا قررنا إمامًا مطاعًا مفتقرًا إلی تکثير الجنود لسد الثغور وحماية الملک المتسع الأقطار، وخلا بيت المال، وارتفعت حاجات الجند إلی ما لا يکفيهم، فللإمام إذا کان عدلًا أن يوظف علی الأغنياء ما يراه کافيا لهم في الحال، إلی أن يظهر مال بيت المال.

وإنما لم ينقل مثل هذا عن الأوّلين لاتسّاع مال بيت المال في زمانهم بخلاف زماننا، فإن القضية فيه أحری، ووجه المصلحة هنا ظاهر، فإنه لو لم يفعل الإمام ذلک النظام بطلب شوکة الإمام، وصارت ديارنا عرضة لاستيلاء الکفار وإنما نظام ذلک کله شوکة الإمام بعدله.

شاطبي، الاعتصام، 2 : 121

‘‘جب ہم کسی ایسے حاکم کا انتخاب کرتے ہیں کہ جس کی اطاعت کی جائے اور وہ حاکم فتنوں کو ختم کرنے اور وسیع مملکت کی حفاظت کے لئے بہت زيادہ افواج کا محتاج ہو جبکہ بيت المال بھی خالی ہو جائے اور افواج کے اخراجات بڑھ جائیں تو ایسی حالت میں عادل حاکم کے لئے ضروری ہے کہ وہ اغنياء پر لازم کرے کہ وہ افواج کے اخراجات کو پورا کرنے کے لئے اپنے اموال دیتے رہیں جب تک کہ بيت المال میں کہیں سے مال نہ آ جائے۔

‘‘یہ بات اسلام کے اوائل زمانے میں نہیں کہی گئی کیونکہ ان کے زمانے میں بيت المال بڑا وسیع ہوتا تھا جبکہ ہمارے زمانے میں ایسا نہیں ہے بلکہ اب یہ مسئلہ زيادہ اہمیت کا حامل ہے اور اس میں مصلحت بھی واضح ہے۔ پس آج کے زمانہ میں اگر حاکم ایسا نہیں کرتا تو اس میں حاکم کی عظمت و شوکت بھی ختم ہو جاتی ہے اور ملک پر بھی کفار کا غلبہ ہو جاتا ہے اور یہ سارے کا سارا نظام حاکمِ وقت کی عظمت و شوکت پر انحصار کرتا ہے۔’’

بحرانوں میں قرض لینا بيت المال کی آمدنی میں شمار ہوتا ہے اور اگر آمدنی کے اسباب کمزور ہو جائیں تو ایسی صورتحال میں اغنياء سے مال لینے کا حکم ضروری ہو جاتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اسلام چاہتا ہے کہ مسلمان اپنے ہاتھوں کو ہمیشہ بھلائی اور خير کے لئے کھولے رکھے۔ ارشاد باری تعاليٰ ہے :

اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَاخَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ.

البقره، 2 : 274

‘‘جو لوگ (اﷲ کی راہ میں) شب و روز اپنے مال پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں تو ان کے لئے ان کے رب کے پاس ان کا اجر ہے اور (روزِ قيامت) ان پر نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گےo’’

اسی طرح ارشاد ہوا :

 مَّثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِّئَةُ حَبَّةٍ وَاللّهُ يُضَاعِفُ لِمَن يَشَاءُ وَاللّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ.

البقره، 2 : 261

‘‘جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال (اس) دانے کی سی ہے جس سے سات بالياں اُگیں (اور پھر) ہر بالی میں سو دانے ہوں (یعنی سات سو گنا اجر پاتے ہیں) اور اللہ جس کے لیے چاہتا ہے (اس سے بھی) اضافہ فرما دیتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت والا خوب جاننے والا ہےo’’

سب سے اہم چیز جو اسلام چاہتا ہے وہ یہ کہ بھلائی کے کاموں پر مال خرچ کيا جائے اور مفاد عامہ کے منصوبوں کے لیے مال وقف کيا جائے جیسا کہ متفق عليہ روایت ہے :

أصاب عمر أرضا بخيبر فأتی النّبيّ صلی الله عليه وآله وسلم فقال : أصبت أرضا لم أصب مالا قطّ أنفس منه فکيف تأمرني به قال : إن شئت حبّست أصلها وتصدّقت بها فتصدّق بها عمر أنه لا يباع أصلها ولا يوهب ولا يورث في الفقراء والقربی والرّقاب وفي سبيل اﷲ والضيف وابن السبيل.

(1) 1۔ بخاری، الصحیح، کتاب الوصايا، باب الوقف کیف یکتب، 3 : 1019، رقم : 2620

2۔ مسلم، الصحیح، کتاب الوصیۃ، باب الوقف، 3 : 1255، رقم : 1633

3۔ ترمذي، السنن، کتاب الأحکام عن رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، باب في الوقف، 3 : 659، رقم : 1375

‘‘حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خيبر میں کچھ زمین حاصل کی تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کيا : يا رسول اللہ! میں نے خيبر میں زمین حاصل کی ہے، اس سے عمدہ مال میں نے کبھی حاصل نہیں کيا، اس بارے میں آپ مجھے کيا حکم دیتے ہیں؟ فرمايا : اگر چاہو تو اسکی اصل باقی رکھو اور (اس کی آمدنی) صدقہ کرو۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے صدقہ کر ديا اس شرط پر کہ وہ نہ بیچی جائے، نہ ہبہ کی جائے اور نہ میراث بنائی جائے اور اسے فقیروں، رشتہ داروں، غلاموں، اللہ کی راہ میں اور مسافروں و مہمانوں کے حق میں صدقہ کر ديا۔’’

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمايا :

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه : أَنَّ رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : إِذَا مَاتَ الإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَـلَاثَةٍ : إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ. أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ. أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُوْ لَهُ.

1. مسلم، الصحیح، کتاب الوصیۃ، باب ما یلحق الإنسان من الثواب بعد وفاتہ، 3 : 1255، رقم : 1631

2. بخاری، الأدب المفرد، 1 : 28، رقم : 38

3. أبو داود، السنن، کتاب الوصايا، باب ما جاء فی الصدقۃ عن المیت، 3 : 117، رقم : 2880

4. ابن ماجہ، السنن، المقدمۃ، باب ثواب معلم الناس الخير، 1 : 88، رقم : 239

‘‘حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمايا : جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے۔ سوائے تین چیزوں کے (ان کا اجر اسے برابر ملتا رہتا ہے) ایک وہ صدقہ جس کا نفع جاری رہے، دوسرا وہ علم جس سے فائدہ اٹھايا جائے تیسری وہ نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرے۔’’

وہ مال جو بغیر کسی زيادتی اور خيانت کے جمع کيا جائے اور صاحبِ مال اس میں سے کچھ اپنی ذات اور کچھ اپنے اہل و عيال پر خرچ کرے، اس سے حکومت کا حق بھی ادا کرے اور اس میں سے پھر بھی اگر باقی بچ جائے اور پھر وہ شخص فوت ہو جائے تو اسلام ایسے باقی ماندہ مال کو اسکے ورثاء میں تقسیم کر دیتا ہے اور اس میں زيادہ حصہ فوت ہونے والے شخص کے اعزا و اقارب پر خرچ کيا جاتا ہے۔ اس طرح مال خواہ کتنا ہی زيادہ ہو مختلف لوگوں کے مابين تقسیم ہو جاتا ہے۔

اگر کوئی شخص اس حال میں فوت ہوتا ہے کہ اسکا کوئی وارث نہیں تو ایسی صورتحال میں اس کا مال حکومت کے بيت المال میں چلا جاتا ہے اور ویلفیئر کے کاموں میں خرچ کر ديا جاتا ہے جس طرح کہ عام مال خرچ کر ديا جاتا ہے۔

.vii اسلامی رياست میں باہمی معاشی تعاون

اسلام نے لوگوں کی معاشی حالت پر بڑی توجہ دی ہے اور ان کے مال و دولت ضائع ہونے اور فضول خرچ ہونے سے حفاظت کی ہے۔ اسی لیے اسے بے جا کاموں میں استعمال کرنے سے منع کيا ہے۔ لہذا حکومت پر واجب ہے کہ وہ ارتکازِ دولت کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کرے اور ان کے جمع شدہ اموال کو ان کے معقول منافع کے ساتھ پبلک کے درميان تقسیم کر دے۔

اسی طرح حکومت کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو اموال میں تصرف کرنے سے منع کرے جو پاگل، کم عقل اور بے وقوف ہوں اور اسراف و تبذیر کے مرتکب ہوں اور ان پر ممانعت اس وقت تک ہو جب تک ان کے پاگل پن اور بے وقوفی کے اثرات زائل نہیں ہو جاتے۔ ارشاد باری تعاليٰ ہے :

 وَلاَ تُؤْتُواْ السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ الَّتِي جَعَلَ اللّهُ لَكُمْ قِيَاماً.

النساء، 4 : 5

‘‘اور تم بے سمجھوں کو اپنے (يا ان کے) مال سپرد نہ کرو جنہیں اللہ نے تمہاری معیشت کی استواری کا سبب بنايا ہے۔’’

1۔ حضرت ابو موسيٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمايا :

إنّ الأشعری ين إذا أرملوا فی الغزو، أو قل طعام عيالهم بالمدينة جمعوا ما کان عندهم فی ثوب واحد ثم اقتسموه بينهم فی إناء واحد بالسوية فهم منی و أنا منهم.

1. بخاری، الصحیح، کتاب الشرکۃ، باب الشرکۃ فی الطعام، 2 : 880، رقم : 2354

2. مسلم، الصحیح، کتاب فضائل الصحابة، باب من فضائل الأشعریین، 4 : 1944، رقم : 2500

3. نسائي، السنن الکبری، 5 : 247، رقم : 8798

‘‘جب دورانِ جنگ اشعریوں کا کھانا ختم ہو جاتا يا ان کے خاندان کا کھانا کم پڑ جاتا ہے تو جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے وہ اسے ایک کپڑے میں جمع کرتے ہیں، پھر اسے ایک برتن کے ذریعے آپس میں برابر برابر تقسیم کر لیتے ہیں، وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔’’

2۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمايا :

إذا أنزل اﷲ بقوم عذابًا، أصاب العذاب من کان فيهم، ثم بعثوا علی أعمالهم.

بخاری، الصحیح، کتاب الفتن، باب إذا أنزل اﷲ بقوم عذابا، 6 : 2602، رقم : 6691

‘‘جب اللہ تعاليٰ کسی قوم پر عذاب نازل کرتا ہے تو عذاب ہر اس شخص کو پہنچتا ہے جو اس قوم میں سے ہوتا ہے، پھر ان کو ان کے اعمال کے ساتھ اٹھايا جائے گا۔’’

6۔ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمايا :

من مات وعليه صيام صام عنه وليّة.

مسلم، الصحیح، کتاب الصيام، باب قضاء الصيام، 2 : 803، رقم : 1147

‘‘جو شخص فوت ہو جائے در آنحالیکہ اس پر روزہ فرض تھا تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزہ رکھے۔’’

7۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مرتبہ میرے پاس سے گزرے (اور اس وقت)میں یہ کہہ رہا تھا کہ اے اللہ! مجھ پر رحم فرما۔ پس حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھ کر فرمايا :

أعمّ ولا تخص فإنّ بين الخصوص والعموم کما بين السماء والأرض.

ہندی، کنز العمال، 2 : 58، رقم : 2359

‘‘اس دعا کو عام کرو (یعنی فقط اپنے لئے رحم طلب نہ کرو بلکہ دوسروں کو بھی اس میں شامل کرو) خاص نہ کرو کیونکہ خاص اور عام میں اتنا ہی فرق ہے جتنا زمین اور آسمان کے مابين ہے۔’’

عوام کی معاشی ضروريات کی تکمیل کی ذمہ داری حکومت وقت پر کس حد تک عائد ہوتی ہے اس کا اندازہ امیر المومنين حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اس خطبہ سے ہوتا ہے جو آپ نے قادسیہ کی فتح کی خوشخبری سنانے کے بعد ارشاد فرمايا :

إنّي حريص علی أن لا أری حاجة إلّا سددتها ما اتسع بعضنا لبعض فإذا عجز ذلک عنّا تاسينا في عيشنا حتّی نستوی في الکفاف. ولوددت أنّکم علمتم من نفسي مثل الّذي وقع فيها لکم. ولست معلمکم إلّا بالعمل إنّي واﷲ لست بملک فاستعبدکم ولکني عبد اﷲ عرض علي الإمانة فإن أبيتها ورددتها عليکم واتّبعتکم حتّی تشبعوا في بيوتکم وترووا سعدت بکم وإن أنا حملتها واستتبعتکم إلی بيتی شقيت بکم ففرحت قليلا وحزنت طويلا. فبقيت لا أقال ولا أرد فأستعتب.

ابن کثیر، البدایۃ والنھایۃ، 7 : 46

‘‘مجھے اسی بات کی بڑی فکر رہتی ہے کہ جہاں بھی (تمہاری) کوئی ضرورت دیکہوں اسے پورا کروں۔ جب تک ہم میں سے بعض اسے بعض کے لئے پورا کرنے کی گنجائش رکھتے ہوں۔ جب ہمارے اندر اتنی گنجائش نہ رہ جائے تو ہم باہمی امداد کے ذریعے گزر اوقات کریں گے یہاں تک کہ سب کا معيار زندگی ایک سا ہو جائے۔ کاش تم جان سکتے کہ میرے دل میں تمہارا کتنا خيال ہے۔ ليکن میں یہ بات تمہیں عمل کے ذریعے ہی سمجھا سکتا ہوں۔ خدا کی قسم میں بادشاہ نہیں ہوں کہ تم کو اپنا غلام بنا کر رکھوں بلکہ خدا کا بندہ ہوں (خلافت حکومت کی ) امانت میرے سپرد کی گئی ہے۔ اب اگر میں اس کو اپنی ذاتی ملکیت نہ سمجھوں بلکہ (تمہاری امانت سمجھ کر) تمہاری طرف واپس کردوں اور (تمہاری خدمت و ادائے حقوق کے لئے) تمہارے پیچھے پیچھے چلوں یہاں تک کہ تم اپنے گھروں میں سیر ہو کر کھا پی سکو تو میں تمہارے ذریعے فلاح پاؤں گا۔ اور اگر میں اسے اپنا بنا لوں اور تمہیں اپنے پیچھے پیچھے چلنے اور (اپنے حقوق طلب کرنے کے لئے) اپنے گھر آنے پر مجبور کر دوں تو تمہارے ذریعہ میرا انجام خراب ہو گا۔ (دنيا میں) کچھ عرصے خوشی منا لوں گا مگر (آخرت میں) عرصہ دراز تک غمگین رہوں گا اور میرا حال یہ ہو گا کہ نہ کوئی مجھے کچھ کہنے والا ہو گا اور نہ کوئی ميری بات کا جواب دے گا کہ میں اپنا عذر بيان کر کے معافی حاصل کر سکوں۔’’

اسلام کے عطا کردہ نظام معیشت میں کفالت عامہ اور امداد باہمی کی ذمہ دارياں ہیں۔ یعنی وہ جن کا تعلق انفرادی سطح پراور اجتماعی سطح پر حکومتی ذمہ داریوں سے ہے۔

.viii اِجتماعی سطح پر کفالت عامہ

اسلام نے نہ صرف انفرادی سطح پر کفالت عامہ کی تلقین اور حوصلہ افزائی کی بلکہ اجتماعی سطح پر بھی اسے ایک نظام کے طور پر متعارف کروايا۔ جس کی عملی تفسیر سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں مواخاتِ مدینہ کی صورت میں ملتی ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ہجرت فرما کر مدینہ منورہ میں قيام پذیر ہوئے اور اسلامی سلطنت کا سنگ بنياد رکھا تو سب سے پہلے جو مسئلہ درپیش تھا وہ مھاجر گھرانوں کی رہائش و خوراک کا تھا۔ کیونکہ مہاجرین اپنی ہر نوع کی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں مکہ میں چہوڑ کر مدینہ ہجرت کر کے آئے تھے۔

 

رياست مدینہ کی نوزائیدہ اسلامی حکومت کے پاس اس قدر وسائل نہیں تھے کہ ان مہاجرین کی آبادکاری، رہائش اور دیگر ضروريات کا انتظام کيا جاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مہاجرین کو ان کے حال پر چہوڑنے کی بجائے اہلِ مدینہ جو بعد میں انصار کہلائے مھاجرین کے درميان رشتہ مواخات قائم فرما کر اس مسئلہ کو نہ صرف مستقل طور پر حل کر ديا بلکہ ایک اسلامی رياست میں اجتماعی سطح پر کفالت عامہ کا تصور بھی عملاً واضح کر ديا۔ مھاجرین و انصار کے اس تعلق کو قرآن حکیم نے یوں بيان کيا :

 إِنَّ الَّذِينَ آمَنُواْ وَهَاجَرُواْ وَجَاهَدُواْ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَالَّذِينَ آوَواْ وَّنَصَرُواْ أُوْلَـئِكَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ.

الانفال، 8 : 72

‘‘بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے (اللہ کے لئے) وطن چہوڑ دیئے اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں جھاد کيا اور جن لوگوں نے (مھاجرین کو) جگہ دی اور (ان کی) مدد کی وہی لوگ ایک دوسرے کے وارث ہیں۔’’

انصار زراعت پیشہ اور زمینوں و باغات کے مالک تھے۔ اپنے ذاتی اثاثوں سے قدرتی محبت کے باوجود انہوں نے مھاجرین کو اپنے آثاثوں کی پیش کش کی :

اقسم بيننا وبين إخواننا النّخيل.

1. بخاری، الصحیح، کتاب المزارعۃ، باب إذا قال اکفنی مئونۃ النخل وغیرہ، 2 : 819، رقم : 2200

2. أبو یعلی، المسند، 11 : 202، رقم : 6310

‘‘(يا رسول اللہ!) آپ ہمارے اور مھاجر بھائیوں کے درميان کھجور کے باغات تقسیم فرما دیں۔’’

الغرض حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مھاجرین کی خوراک، روزگار، رہائش اور آباد کاری کا یوں ہنگامی طور پر انتظام فرمايا۔ انصار میں جن کے ایک سے زيادہ مکانات تھے انہوں نے وہ مہاجرین کو دے دیئے۔

باہمی معاشی تعاون کے باب میں افراد معاشرہ ایک دوسرے سے کس نوعیت کے تعلق میں منسلک ہیں، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمايا :

الخلق عيال اﷲ.

1. طبرانی، المعجم الأوسط، 5 : 365، رقم : 5542

2. أبو یعلی، المسند، 6 : 65، رقم : 3315

3. ہیثمی، مجمع الزوائد، 8 : 191

‘‘تمام مخلوق اللہ کا کنبہ ہے۔’’

رِزق کی فراہمی کی یہ ذمہ داری جو رب ذوالجلال نے اپنے ذمہ کرم پر لی۔ اسلامی رياست کے اندر نيابت الہی میں اسلامی حکومت کی طرف سے انجام دی جائے گی۔

قرآن و حدیث کی انہی تعلیمات کا اثر تھا کہ خلفائے راشدین نے اپنے دور خلافت میں اس ذمہ داری کا کمال احساس رکھا اور اسے پورا کرنے کیلئے مصروف کار رہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمايا :

لو مات جمل ضياعًا علی شط الفرات لخشيت أن يسألني اﷲ عنه.

ابن سعد، الطبقات الکبريٰ، 3 : 305

‘‘اگر ساحل فرات پر کوئی اونٹ مر جائے تو مجھے ڈر ہے کہ اللہ مجھ سے اس کے بارے میں باز پرس کرے گا۔’’

اور دوسری روایت میں ہے :

لو ماتت شاة علی شط الفرات ضائعة لظننت أنّ اﷲ تعالی سائلني عنها يوم القيامة.

1. أبو نعیم، حلیۃ الأولياء، 1 : 53

2. ابن جوزی، سیرۃ عمر بن الخطاب : 161

‘‘اگر دريائے فرات کے کنارے کوئی بکری بھی بے سہارا ہونے کی وجہ سے مر جائے تو میرا خيال ہے کہ اللہ تعاليٰ قيامت کے دن مجھ سے جواب طلبی فرمائے گا۔’’

جب حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ کے انتقال پر کچھ فقہا آپ کی اہلیہ کے پاس ان کی تعزیت کے لئے آئے۔ ان کے سامنے آپ کے اہلیہ نے بيان کيا :

واﷲ ما کان بأکثرهم صلوة ولا صيامًا ولکن واﷲ، ما رأيت عبد اﷲ کان أشدّ خوف ﷲ من عمر. کان رحمه اﷲ قد فرغ بدنه ونفسه للنّاس فکان يقعد لحوائجهم يومه فإذا أمسی. وعليه بقية من حوائجهم وصله بليلة. فأمسی يوما وقد فرغ من حوائجهم فدعا بمصباح قد کان يستصبح به من ماله ثم صلی رکعتين ثم أقعی واضعا يده تحت ذقنه تسيل دموعه علی خده فلم يذل کذلک حتّی برق الفجر فاصبح صائما فقلت له : يا أمير المومنين! لشئ ما کان منک ما رأيت الليلة، قال : اجل، إنّی قد وجدتنی وليت أمر هذه الأمّة أسودها وأحمرها فذکرت الغريب القانع الضائع‘ والفقيرا المحتاج، والاسير المقهور وأشياعهم فی أطراف الأرض فعلمت أن اﷲ تعالی سائلنی عنهم وأن محمد صلی الله عليه وآله وسلم حجيجی فيهم فخفت أن لا يثبت لی عند اﷲ عذر، ولا يقوم لی مع محمد صلی الله عليه وآله وسلم حجة فخفت علی نفسی، وواﷲ إن کان عمر ليکون فی المکان الّذی ينتهی إليه سرور الرجل مع أهله فيذکر لشئ من أمر اﷲ فيضطرب کما يضطرب العصفور قد وقع فی الماء، ثم يرتفع بکاء ه، حتّی أطرح اللحاف عني وعنه رحمة له ثم قالت : واﷲ لوددت لو کان بيننا وبين هذه الإمارة بعده ما بين المشرقين.

أبو یوسف، کتاب الخراج : 17، 18

‘‘(فقہاء کی جماعت کے پوچھنے پر آپ کی اہلیہ محترمہ حضرت فاطمہ نے آپ کے حالات کو اس طرح بيان فرمايا : ) بخدا وہ تم میں سے کسی سے بھی زيادہ نمازیں پڑھنے والے اور روزے رکھنے والے نہیں تھے ليکن اللہ کی قسم میں نے کسی بندہ خدا کو عمر بن عبد العزیز سے زيادہ اللہ سے ڈرنے والا نہیں دیکھا۔ انہوں نے اپنے جسم اور ذات کو لوگوں کے لئے وقف کر رکھا تھا۔ وہ دن بھر لوگوں کی حاجات کے لئے بیٹھے رہتے اگر دن گزر جاتا اور ابھی لوگوں کے کام باقی رہ جاتے تو وہ رات میں بھی لگے رہتے۔ ایک دن یوں ہوا کہ لوگوں کی حاجات سے دن ہی دن میں فارغ ہو گئے تو شام کو ایک چراغ منگوايا جسے وہ اپنے ذاتی تیل سے جلاتے تھے پھر انہوں نے دو رکعت نماز نفل ادا کی اور اپنا ہاتھ اپنی ٹھوڑی کے نیچے رکھ کر اس حال میں سیدھے بیٹھے رہے کہ آنسوؤں کی لڑياں رخساروں پر بہتی رہیں اور ساری رات یوں ہی بیٹھے روتے رہے۔ حتيٰ کہ سپیدہ سحر نمودار ہوا تو انہوں نے روزے کی نیت کر لی میں نے پوچھا : امیر المومنين آپ کس وجہ سے یوں بیٹھے روتے رہے؟ انہوں نے کہا ہاں میرا حال یہ ہے کہ میں تمام اُمتِ مسلمہ کے سرخ و سفید کا والی بنايا گيا ہوں۔ مجھے ملک کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے مساکین، فقرائ، محتاج قیدیوں اور ان جیسے مظلوم و مقہور لوگوں کی ياد آئی تو مجھے خيال آيا کہ اللہ تعاليٰ قيامت کے دن ان کے بارے میں مجھ سے سوال کرے گا اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے معاملے میں مجھ سے ضرور جھگڑا فرمانے والے ہوں گے تو میں اس بات سے ڈرتا تھا کہ اس وقت اللہ کے سامنے کوئی عذر نہ چل سکے گا اور نہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے میں کوئی حجت پیش کر سکوں گا۔ یہ سوچ کر میں ڈر گيا اور رونے لگ گيا۔ (اس کے بعد ان کی اہلیہ نے کہا : ) اللہ کی قسم! حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ بعض اوقات اپنے گھر میں ہوتے جس میں عام آدمی اپنے اہل خانہ کے ساتھ خوشی محسوس کرتا ہے اور اس دوران انہیں اللہ کی پیشی ياد آجاتی تو وہ مضطرب ہو جاتے جس طرح چڑيا مضطرب ہوتی ہے جسے پانی میں گرا ديا گيا ہو۔ پھر اتنی بلند آواز سے آہ و بکا کرتے کہ میں ان پر رحم کرتے ہوئے اپنے سے اور ان سے لحاف ہٹا دیتی۔ پھر فاطمہ نے کہا : اللہ کی قسم میں اس وقت چاہتی کہ کاش ہمارے درميان اور اس خلافت و امارت کے درميان زمین و آسمان کی دوری ہوتی۔’’

رعیت کی ذمہ داری کا یہی وہ احساس تھا کہ خلفائے راشدین کے دور میں خلفاء اور عوام کے مابين کوئی دیوار کھڑی نہ کی گئی کہ رعايا کو اپنے کسی حق کی طلب میں کسی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں والی کوفہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اپنے رہنے کے لئے ایک محل بنوايا اور اس میں پھاٹک لگوايا تو امیر المومنين حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے محمد بن مسلم کو بھیج کر اسے آگ لگوا دی۔

أحمد بن حنبل، المسند، 1 : 54

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلم حکمرانوں کے کردار کو اس طرح بيان فرمايا :

1. من ولاه اﷲ عزوجل شيئا من أمور المسلمين فاحتجب دون حاجتهم وخلّتهم وفقرهم احتجب اﷲ تعالٰی عنه دون حاجته وخلّته وفقره.

1. أبوداود، السنن، کتاب الخراج والإمارۃ والفيئ، باب فيما یلزم الإمام من أمر الرعية والحجبۃ عنه، 3 : 135، رقم : 2948

2. طبرانی، المعجم الکبیر، 22 : 331، رقم : 832

‘‘جسے اللہ عز و جل نے مسلمانوں کے بعض امور کا نگران بنايا اور وہ ان کی ضروريات اور فقر سے بے پرواہ ہوکر بیٹھ رہا تو اللہ تعاليٰ بھی اس کی ضروريات اور فقر سے بے نياز ہوجائے گا۔’’

اس حدیث پاک میں ‘‘فقر‘‘ غذا، لباس، مکان اور علاج جیسی بنيادی ضرورتوں کا احاطہ کرتا ہے جبکہ ‘‘حاجۃ میں زندگی کی دیگر بنيادی ضروريات آ گئی ہیں۔ ایک اور حدیث مبارکہ میں فرمايا :

2. ما من إمام يغلق بابه دون ذوی الحاجة والخلّة والمسکنة إلّا أغلق اﷲ أبواب السّماء دون خلّتة وحاجته ومسکنته.

1. ترمذی، السنن، کتاب الأحکام عن رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، باب ما جاء في إمام الرعية، 3 : 619، رقم : 1332

2. أحمد بن حنبل، المسند، 4 : 231، رقم : 18062

3. حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 4 : 106، رقم : 7028

4. منذري، الترغیب والترھیب، 3 : 124، رقم : 3341

‘‘جو امام ضرورت مندوں، فقراء اور مساکین پر اپنے دروازے بند کرلیتا ہے، اللہ تعاليٰ اس کی حاجت، غربت اور محتاجی کے وقت اُس پر آسمانوں کے دروازے بند کر دیتا ہے۔’’

3. ألا کلّکم راع وکلّکم مسؤل عن رعيته فالإمام الّذي علی النّاس راع وهو مسؤل عن رعيته.

1. بخاری، الصحیح، کتاب الأحکام، باب قول اﷲ تعالٰی : وأطیعوا اﷲ وأطیعوا الرسول وأولی الأمر منکم، 6 : 2611، رقم : 6719

2. مسلم، الصحیح، کتاب الإمارۃ، باب فضیلۃ الإمام العادل وعقوبۃ الجائر والحث علی الرفق، 3 : 1459، رقم : 1829

‘‘آگاہ رہو تم میں سے ہر ایک آدمی نگران ہے اور (روز قيامت) اس سے اس کی رعیت (ماتحت لوگوں) کے بارے میں باز پرس کی جائے گی تو (اس طرح) لوگوں پر امیر يا حکمران بھی ایک نگران ہے اور اس سے اس کی رعايا کے بارے میں پوچھا جائے گا۔’’

4۔ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ امارت (حکومت) کا سوال کيا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمايا :

أنت ضعيف وهي أمانة وهي يوم القيامة خزی وندامة إلّا من أخذها بحقها وأدّی ما عليه فيها.

1. أبو یوسف، کتاب الخراج : 9

2. أبو عبید، کتاب الأموال : 11

‘‘اے ابو ذر! تو کمزور ہے اور یہ (امارت و حکومت ) ایک بہت بڑی امانت اور بروز قيامت (امیر کیلئے)رسوائی اور ندامت کا باعث ہے۔ البتہ (اس شخص کیلئے رسوائی نہیں ہو گی) جس نے اس کو اس کے حق کے ساتھ اختيار کيا اور امارت و حکومت میں جو ذمہ داری اس پر عائد ہوتی تھی اس کو صحیح معنوں میں ادا کيا۔’’

یعنی شریعتِ اسلامیہ میں امارت و سيادت کے منصب پر فائز شخصیت اپنی رعیت کی کفالت سے بری الذمہ کسی صورت بھی قرار نہیں دی جا سکتی۔ خلافت کی تعریف کرتے ہوئے حضرت سلیمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمايا :

عن سلمان قال : إنّ الخليفة هو الّذي يقضي بکتاب اﷲ ويشفق علی الرعية شفقة الرّجل علی أهله فقال کعب الأحبار : صدق.

أبو عبید، کتاب الأموال : 13، رقم : 12

‘‘حضرت سلیمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خلیفہ وہ ہے جو کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کرے اور رعايا پر اس طرح شفقت کرے جس طرح آدمی اپنے اہل و عيال پر شفقت کرتا ہے۔ یہ سن کر کعب الاحبار نے کہا : سلیمان نے سچ کہا۔

مندرجہ بالا حدیث مبارکہ کی روشنی میں ابن تیمیہ فرماتے ہیں :

‘‘وا لی حکومت رعايا کا ایسا راعی ہے جس طرح گڈريا بکریوں کی رکھوالی کرتا ہے۔’’

ابن تیمیۃ، السياسۃ الشریعۃ فی إصلاح الراعی والرعية : 17

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمايا :

5. ما من أمير يلی أمر المسلمين ثم لا يجهد لهم وينصح إلّا لم يدخل معهم الجنّة.

1. مسلم، الصحیح، کتاب الإیمان، باب استحقاق الوالي الغاش لرعیتہ النّار، 1 : 126، رقم : 142

2. أبو عوانہ، المسند، 1 : 40، رقم : 89

3. بیھقی، السنن الکبريٰ، 9 : 41، رقم : 17679

4. طبرانی، المعجم الکبیر، 20 : 225، رقم : 524

‘‘جو آدمی مسلمانوں کے معاملے (حکومت) کا نگران بنے پھر ان کی بہتری کے لئے کوشش کرے اور نہ ہی ان کی خير خواہی کرے تو وہ ان کے ساتھ جنت میں داخل نہ ہوگا۔’’

6. ما من عبد استرعاه اﷲ رعيّة فلم يحطها بنصيحة إلّا لم يجد رائحة الجنّة.

بخاری، الصحیح، کتاب الأحکام، باب من استرعی رعیۃ فلم ینصح، 6 : 2614، رقم : 6731

‘‘جس بندے کو رب ذو الجلال نے کسی رعايا کا حکمران بنايا۔ پھر اس نے اس کے ساتھ پوری خير خواہی نہ برتی تو وہ (حکمران) جنت کی خوشبو بھی نہ پا سکے گا۔’’

7. ما من عبد يسترعيه اﷲ رعيّة يموت يوم يموت وهو غاشّ لرعيّته إلّا حرّم اﷲ عليه الجنّة.

1. مسلم، الصحیح، کتاب الإیمان، باب استحقاق الوالي الغاش لرعیتہ النّار، 1 : 125، رقم : 142

2. ابن حبان، الصحیح، 10 : 346، رقم : 4495

3. دارمی، السنن، 2 : 417، رقم : 2796

‘‘جس بندے کو رب ذوالجلال نے کسی رعايا کا حکمران بنايا تو وہ اس حال میں مرتا ہے کہ قوم کا خيرخواہ نہ ہو تو اللہ تعاليٰ اس پر جنت حرام کر دیتا ہے۔’’

منصف اور عادل حکمران کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشا د فرمايا :

8. إنّ المقسطين عند اﷲ تعالٰی علی منابر من نور عن يمين الرّحمٰن عزوجل وکلتا يديه يمين الذين يعدلون في حکمهم وأهليهم وما ولّوا.

1. مسلم، الصحیح، کتاب الإمارۃ، باب فضیلۃ الإمام العادل وعقوبۃ الجائر والحث علی الرفق، 3 : 1458، رقم : 1827

2. نسائی، السنن، کتاب القضائ، 3 : 460، رقم : 5379

3. ابن أبی شیبۃ، المصنف، 7 : 39، رقم : 34035

‘‘بے شک انصاف کرنے والے (حکام و امراء) اللہ تعاليٰ کے پاس نور کے منبروں پر اس کے داہنے ہاتھ پر ہوں گے اور اللہ تعاليٰ کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے فیصلہ میں اپنے لوگوں میں اور اپنے زیر حکومت اُمور میں عادل ہیں۔’’

9. السلطان ولي من لا ولي له.

1. ترمذی، السنن، کتاب النکاح عن رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، باب ما جاء لا نکاح إلّا بولي، 3 : 407، رقم : 1102

2. أبو داؤد، السنن، کتاب النکاح، باب في الولي، 2 : 229، رقم : 2083

3. ابن حبان، الصحیح، 9 : 386، رقم : 4075

4. حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 2 : 182، رقم : 2706

‘‘حکمران (يا حکومت ) ہر اس آدمی کا سرپرست ہے جس کا کوئی سرپرست نہ ہو۔’’

یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ یہ اسلامی رياست کی بنيادی ذمہ داری ہے کہ وہ محروم المعیشت افراد کے معاشی استحکام اور ان کی کفالت کا اہتمام کرے اور اس کے لئے جملہ ذرائع بروئے کار لائے جائیں بقول امام ابن حزم :

‘‘ہر ملک کے مال دار لوگوں پر فرض ہے کہ اپنے غریب لوگوں کی کفالت کرے اگر زکوٰۃ کی آمدنی اور سارے مسلمانوں کی فئے اس کے لئے کافی نہ ہو تو سلطان ان کو ایسا کرنے پر مجبور کرے گا ان (اہل حاجت) کے لئے اتنے مال کا انتظام کيا جائے گا جس سے وہ بقدر ضرورت غذا حاصل کر سکیں۔ اور اس طرح جاڑے اور گرمی کا لباس اور ایک ایسا مکان جو انہیں بارش‘ گرمی‘ دہوپ اور راہ گیروں کی نظروں سے محفوظ رکھ سکے۔’’

ابن حزم، المحلی، 6 : 156

امام جصاص سورہ یوسف کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

قصّ اﷲ تعالٰی علينا من قصة يوسف وحفظه للأطعمة في سنی الجدب وقسمته علی النّاس بقدر الحاجة دلالة علی أن علی الائمة في کل عصر أن يفعلوا مثل ذلک إذا خافوا هلاک النّاس من القحط.

جصاص، أحکام القرآن، 3 : 176

‘‘اللہ تعاليٰ نے ہمیں حضرت یوسف علیہ السلام کا جو قصہ سنايا ہے اور ان کے بارے میں قحط کے زمانے میں غذائی اشياء کو محفوظ کر کے انسانوں میں بقدر ضرورت تقسیم کرنے کا جو واقعہ نقل کيا ہے وہ اس بات پر دلیل ہے کہ ہر زمانہ میں حکمرانوں پر یہ واجب ہے کہ جب ان کو اندیشہ ہو کہ قحط کے سبب عوام ہلاک ہو جائیں گے تو ایسا ہی طریقہ اختيار کریں۔’’

بحیثیت سربراہ مملکت اسی احساس ذمہ داری کا مظاہرہ ہمیں خلفائے راشدین کے ہاں ملتا ہے۔ جنہوں نے اپنی سرکاری و حکومتی حیثیت کو ہمیشہ ایک امانت کی حیثیت دی اور عملًا بھی اس کا مظاہرہ کيا۔

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے بوقت وصال پوچھا ‘‘ مجھے خلیفہ ہونے سے اب تک بيت المال سے کتنا وظیفہ ملا ہے۔ حساب کر کے بتايا گيا کہ چھ ہزار درہم آپ نے حکم ديا کہ ميری فلاں زمین فروخت کر کے یہ روپیہ بيت المال میں جمع کروا ديا جائے۔ پھر فرمايا کہ اس دوران میرے مال میں کس قدر اضافہ ہوا ہے۔ معلوم ہوا کہ :

1۔ ایک حبشی غلام جو بچوں کو کھلاتا ہے اور ساتھ ہی مسلمانوں کی تلواروں پر صیقل کرتا ہے۔

2۔ ایک اونٹنی جس پر پانی لايا جاتا ہے۔

3۔ ایک چادر جو چند درھم مالیت کی تھی۔

آپ نے حکم فرمايا کہ ميری وفات کے بعد یہ تینوں چیزیں خلیفہ وقت کی خدمت میں بھیج دی جائیں۔ جب اس حکم کی تعمیل میں یہ چیزیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچیں تو وہ رو پڑے اور کہنے لگے ابوبکر ‘‘لقد اتعب من بعده. آپ اپنے جانشینوں کے لئے کام بہت دشوار کر گئے ہیں۔’’

ابن سعد، الطبقات الکبری، 3 : 192.193

یہی عمل حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا تھا۔ بطور امیر المومنين اپنی سرکاری حیثیت کا تعارف آپ نے یوں کروايا :

ألا اخبرکم بما استحل من مال اﷲ؟ حلتين : حلة الشتاء والقيظ وما أحج عليه واعتمر من الظهر وقوت أهلی کرجل من قريش ليس بأغناهم ولا بأفقرهم ثم أنا رجل من المسلمين يصيبنی ما يصيبهم.

أبو عبید، کتاب الأموال : 249، رقم : 661

‘‘کيا میں تمہیں بتا نہ دوں کہ اللہ کے مال (بيت المال) میں سے میرے لئے کيا حلال (جائز) ہے؟ میرے لئے بيت المال میں سے دو جوڑے کپڑے ایک سردی کیلئے اور ایک گرمی کے لئے حج و عمرہ کے لئے ایک سوار ی اور ایک متوسط درجہ کے قریشی آدمی کے معيار کے مطابق اپنے اہل و عيال کی گزر بسر کے لئے خرچ حلال ہے۔ اس کے بعد بيت المال میں سے جو عام آدمی کو ملے، وہی مجھے ملے گا۔’’

عامۃ الناس کی کفالت کا آپ رضی اللہ عنہ کو کس حد تک احساس تھا اس کا اندازہ آپ رضی اللہ عنہ کے اس فرمان سے ہوتا ہے :

لئن بقيت ليبلغن الراعی بصنعاء نصيبه من هذا الفئ.

أبو یوسف، کتاب الخراج : 25

‘‘اگر میں زندہ رہا تو اس مال فے میں سے (ہر مسلمان حتيٰ کہ) صنعاء (یمن) میں بسنے والے چرواہے کو بھی اس کا حصہ حق پہنچے گا (یعنی لوگوں کو اپنے حقوق کے لئے سرکاری عمال کے پیچھے نہیں بھاگنا پڑے گا)۔’’

ایک موقع پر آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمايا :

أما واﷲ، لئن بقيت لأرامل أهل العراق لأدعنهم لا يفتقرون إلی أمير بعدي.

أبو یوسف، کتاب الخراج : 40

‘‘بخدا اگر میں زندہ رہا تو اہلِ عراق کی بیوگان کو اتنا خوشحال کر دوں گا کہ میرے بعد کسی امیر کی محتاج نہ رہیں گی۔’’

ایک موقع پر خطبے میں ارشاد فرمايا :

أيّها النّاس إنّ اﷲ قد کلّفنی أن أصرف عنه الدّعاء.

عز الدین السلمي، قواعد الأحکام فی مصالح الأنام : 133

‘‘لوگو! اللہ نے مجھ پر یہ ذمہ داری عائد کی ہے کہ میں اس کے حضور جانے والی دعاؤں کو کم کروں (یعنی لوگوں کی معاشی مشکلات کو کم کروں)۔’’

ایک موقع پر فرمايا :

ومن أراد أن يسأل اﷲ عن المال فليأتنی فإنّ اﷲ جعلني خازنا وقاسما.

1. ابن أبی شیبۃ، المصنف، 6 : 457، رقم : 32896

2. بیھقی، السنن الکبريٰ، 6 : 210

3. قرطبی، الجامع لأحکام القرآن، 18 : 20

‘‘اور جو مال مانگنا چاہے وہ میرے پاس آئے کیونکہ اللہ نے مجھے اپنے مال کا خزانچی اور تقسیم کنندہ بنايا ہے۔’’

اسی نوعیت کا طرزِ معیشت حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں بھی نظر آتا ہے۔ ہارون ابن عنترہ نے اپنے باپ سے آپ کے بارے میں روایت کی ہے :

‘‘میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس گيا۔ جاڑے کا موسم تھا اور ان کے بدن پر صرف ایک پھٹا پرانا قطیفہ (مخملی لبادہ) تھا جس میں آپ رضی اللہ عنہ تھر تھر کانپ رہے تھے۔ میں نے عرض کيا : امیر المومنين اللہ نے آپ اور آپ کے گھر والوں کے لئے اس حال میں کچھ حق مقرر کيا ہے اور آپ اپنے ساتھ یہ برتاؤ کر رہے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمايا :

إنّي واﷲ، ما أرزأکم شيئا، وما هي إلّا قطيفتي الّتي أخرجتها من المدينة.

أبو عبیدۃ، کتاب الأموال : 251، رقم : 671

‘‘واللہ میں تمہارا کوئی نقصان نہیں کروں گا۔ یہ میرا وہی قطیفہ ہے جسے میں مدینہ سے لايا تھا۔’’

ایسا نہیں تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے اور اپنے گھر والوں کے ساتھ یہ برتاؤ کرتے وقت اس حقیقت سے نا آشنا رہے ہوں کہ دین اس سے بہت زيادہ کی اجازت دیتا ہے۔ وہ یہ ضروری نہیں قرار دیتا کہ اپنے آپ کو ہر طرح کی آسائش سے محروم رکھ کر روکھے سوکھے اور موٹے جھوٹے پر قناعت کرتے ہوئے ایک زاہدانہ زندگی گزار دی جائے۔ وہ جانتے تھے کہ اس وقت بھی مسلمانوں کے ایک عام فرد کی حیثیت سے بيت المال سے ان کا حصہ اس سے کئی گنا زيادہ تھا جو وہ لے رہے تھے۔ نیز یہ بھی کہ بحیثیت ایک حاکم کے جو عوام کی خدمت کے لئے وقف ہو ان کا حصہ اس سے کہیں زيادہ تھا۔ وہ چاہتے تو اتنا لے سکتے تھے۔ جتنا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بعض ممالک کے والیوں کے لئے مقرر کيا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب عمار بن ياسر رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا والی بنايا تو ان کے اور ان کے معاونین کے لئے چھ سو درہم ماہانہ مقرر کئے۔ عام افراد کی طرح جو عطاء ان کے حصہ میں آتی تھی وہ علیحدہ تھی۔ نیز روزانہ آدھی بکری اور آدھی بوری آٹا ديا جاتا تھا۔ اس طرح آپ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو کوفہ میں لوگوں کی تعلیم اور بيت المال کی نگرانی پر مامو ر کيا تو سو درہم ماہانہ اور چوتھائی بکری روزانہ مقرر کيا۔ عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کے لئے اس سالانہ عطا کے علاوہ جو پانچ ہزار درہم کے بقدر تھی چوتھائی بکری روزانہ اور ڈیڑھ سو درہم ماہانہ مقرر کيا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھ جو کچھ کيا وہ ان باتوں سے ناواقف نہیں تھے۔ دراصل وہ اس حقیقت کو اچھی طرح جانتے تھے کہ حاکم نمونہ بنتا ہے اور اس پر شک کی بھی بہت گنجائش ہوتی ہے۔ چونکہ خزانہ عام ان کے تحت ہوتا ہے لہذا اس پر اس میں خرد برد کا شبہ کيا جاسکتا ہے۔ وہ اپنے والیوں اور اپنے عام رعايا کے لئے احتياط و پرہیزگاری کا نمونہ بنتا ہے۔ چنانچہ آپ صنے اپنے نفس کو ابو بکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کے طریقوں کا پابند بنايا۔ جو لوگ اللہ کے دین میں رسول اللہ کے نائب مقرر ہوتے تھے ان کے لئے یہ اونچا معيار ہی موزوں تھا۔

حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں جو مالياتی پاليسی اختيار کی اسے آپ رضی اللہ عنہ نے بیعتِ خلافت کے بعد اپنے خطبہ میں یوں بيان فرمايا :

إلا أن أکون عليکم ألا وإنه ليس لي أمر دونکم إلا أن مفاتيح مالکم معي ألا وإنه ليس لي أن آخذ منه درهمًا دونکم رضيتم.

طبري، تاریخ الأمم والملوک، 2 : 697

‘‘لوگو! میں صرف ایک شرط پر تمہارا خلیفہ بنوں گا کہ تمہارے خزانوں کی چابياں اگرچہ میرے قبضہ میں ہوں گی ليکن میں تمھاری رضامندی کے بغیر اس میں سے ایک درہم بھی نہ لوں گا۔’’

آپ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی عطا کردہ زمینوں، جاگیروں اور انعام و اکرام کے طور پر دیئے گئے مال کو بيت المال میں واپس لائے اس موقع پر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمايا :

واﷲ لو وجدته قد تزوجه به النساء، وتملک به الإماء، لرددته، فإن في العدل سعة، ومن ضاق عليه العدل، فالجور عليه أضيق.

شرف الدین رضی، نہج البلاغہ(خطبات سیدنا علي المرتضی ص) : 52

’’خدا کی قسم! اگر میں کسی مال کو اس حالت میں پاتا کہ اس کے ذریعے عورتوں سے شادی کی جا چکی ہے، لونڈياں خریدی جا چکی ہیں (يا اس مال کو مختلف ملکوں میں پھیلايا جا چکا ہے) تو بھی میں اسے واپس لاتا کیونکہ عدل میں بڑی وسعت ہے اور جس کے لئے حق تنگ ثابت ہو اس کے لئے ظلم و جور اور زيادہ تنگ ہوتا ہے۔‘‘

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved