Visitation of Graves

زیارتِ قبور کا شرعی تصوّر

قرآن و احادیث کی تعلیمات کا نچوڑ یہ ہے کہ اصل کامیابی اخروی فوز و فلاح ہے۔ انسان مکمل شعور اور احساس کے ساتھ ایسے اعمالِ صالحہ انجام دے جس سے رضائے الٰہی نصیب ہو۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کامل مطیع و متبع ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عطا کردہ نمونۂ اخلاق کی جھلک اپنے اندر پیدا کرے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے اسلام نے کئی ذرائع اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ خود احتسابی، حسنِ عمل اور تذکیرِ آخرت جیسے اوصاف پیدا کرنے کا ایک آزمودہ اور مؤثر ذریعہ موت اور آخرت کے احوال و آثار کا مشاہدہ اور ذہنی استحضار بھی ہے۔

آخرت کی یاد سے دنیوی زندگی کی بے ثباتی اور ناپائیداری کا احساس ہوتا ہے اور آخرت کی حقیقی زندگی کے لئے حسنِ عمل کا جذبہ اور رغبت پیدا ہوتی ہے۔ یادِ آخرت کا اہم ذریعہ زیارتِ قبور ہے۔ شہرِ خاموشاں میں جاکر ہی بدرجۂ اتم یہ احساس ہوتا ہے کہ موت کتنی بڑی حقیقت ہے جس کا مزہ ہر شخص چکھے گا۔ ابتدائے آفرینش سے آج تک یہ سلسلہ جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گا۔ جلیل القدر انبیاء علیہم السلام مبعوث ہوئے اور باری باری موت کا مزہ چکھتے رہے۔ اسی طرح بزعمِ خویش خدائی کا دعویٰ کرنے والے بھی آئے، دارا و سکندر جیسے بادشاہ بھی گزرے لیکن موت کی آہنی گرفت سے کوئی بھی بچ نہ سکا۔ اگر اتنے نامور لوگوں کو بھی موت نے نہ چھوڑا تو ہم اور تم اس کے تصرف سے کیسے چھوٹ سکتے ہیں۔

زہد و ورع اور تذکیرِ آخرت کے لیے زیارتِ قبور ایک بہترین عمل ہے۔ بعض لوگ عام مسلمانوں کو زیارتِ قبور سے منع کرتے ہیں اور وہاں فاتحہ کے لیے جانے والوں پر بھی شرک اور قبر پرستی کا الزام لگا کر انہیں دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک انتہائی مؤقف ہے۔ قرآن و حدیث میں اس شدت پسندی کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ صحیح احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود قبورِ شہداء پر تشریف لے جاتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کا بھی یہی معمول تھا۔ لہٰذا یہ عمل شرک ہے نہ منافیء توحید۔ زیرِ نظر باب میں زیارتِ قبور کے حوالے سے ہی مختلف پہلوؤں سے بحث کی جائے گی۔

1. احادیثِ مبارکہ میں زیارتِ قبور کا حکم

ابتدائے اسلام میں جب لوگ تازہ تازہ کفر و شرک کے اندھیروں سے نکل کر اسلام کے دامنِ رحمت میں آئے تو چونکہ بت پرستی اور قبروں کو سجدہ گاہ بنانے کا زمانہ قریب تھا اس لیے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابتدائی زمانہ میں کچھ عرصہ کے لیے مسلمانوں کو قبروں پر جانے سے منع فرمایا لیکن جب اسلام مستحکم اور مسلمانوں کے دلوں میں خوب راسخ اور پختہ ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے تشریعی اختیارات کی بناء پر حکمِ ممانعت کو منسوخ قرار دیا اور افرادِ امت کو زیارتِ قبور کا حکم دیا اور مختلف پہلوؤں سے اس کی ترغیب دلائی۔ ذیل میں اسی حوالے سے چند احادیثِ مبارکہ کا ذکر کیا جا رہا ہے۔

(1) زیارتِ قبور موت کی یاد دلاتی ہے

1۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

فَزُوْرُوا القُبُوْرَ فَإِنَّهَا تُذَکِّرُ الْمَوْتَ.

’’تم قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ موت کی یاد دلاتی ہے۔‘‘

1. مسلم، الصحيح، کتاب الجنائز، باب استئذان النبي صلي الله عليه وآله وسلم ربه عزوجل في زيارة قبر أمه، 2 : 671، رقم : 976
2. حاکم، المستدرک، 1 : 531، رقم : 1390
3. أحمد بن حنبل، المسند، 2 : 441، رقم : 9686

2۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

نَهَيْتُکُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُوْرِ فَزُوْرُوْهَا فَإِنَّهَا تُذَکِّرُکُمُ الْمَوْتَ.

’’میں نے تمہیں زیارتِ قبور سے منع کیا تھا اب تم اُن کی زیارت کیا کرو کیونکہ وہ تمہیں موت کی یاد دلاتی ہے۔‘‘

حاکم، المستدرک، 1 : 531، رقم : 1388

(2) زیارتِ قبور آخرت کی یاد دلاتی ہے

1۔ حضرت بریدہ بن حُصَيْب اَسْلَمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

قَدْ کُنْتُ نَهَيْتُکُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُوْرِ، فَقَدْ أذِنَ لِمُحَمَّدٍ فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أمِّهِ، فَزُوْرُوْهَا فَإِنَّهَا تُذَکِّرُ الْآخِرَةَ.

قَالَ : وَ فِي الْبَاب عن أبي سعيد، وابن مسعود، وأنس، وأبي هريرة، وأم سلمة رضي الله عنهم.

قال أبو عيسي : حديث بريدة، حديثٌ حسنٌ صَحِيْحٌ، والعمل علي هذا عند أهل العلم، لا يرون بزيارة القبور بأسا، وهو قول ابن المبارک، والشافعي، وأحمد، وإسحاق.

’’میں تمہیں زیارتِ قبور سے منع کیا کرتا تھا، بلاشبہ اب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی والدہ محترمہ کی قبر کی زیارت کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے پس تم بھی قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ آخرت کی یاد دلاتی ہے۔

’’امام ترمذی مزید فرماتے ہیں : زیارتِ قبور کے باب میں حضرت ابو سعید، حضرت ابومسعود، حضرت انس، حضرت ابوہریرہ اور ام المؤمینن حضرت امِ سلمہ رضی اللہ عنھم سے بھی اسی نوعیت کی احادیثِ مبارکہ مروی ہیں، حدیثِ بریدہ حسن صحیح ہے۔ علماء کا اس پر عمل ہے اور وہ زیارتِ قبور میں کچھ حرج نہیں سمجھتے، امام ابن مبارک، امام شافعی، امام احمد اور امام اسحق رحمہم اﷲ بھی اسی بات کے قائل ہیں۔‘‘

1. ترمذي، السنن، کتاب الجنائز، باب ما جاء في الرخصة في زيارة القبور، 3 : 370، رقم : 1054
2. بيهقي، السنن الکبريٰ، 8 : 311، رقم : 17263
3. أبو نعيم الأصبهاني، مسند أبي حنيفة، 1 : 146

علامہ عینی نے شرح صحیح بخاری میں لکھا ہے :

(وفي التوضيح :) حديث بريدة صريح في نسخ نهي زيارة القبور، والظاهر أن الشعبي والنخعي لم يبلغهما أحاديث الإباحة. وکان الشارع يأتي قبور الشهداء عند رأس الحول فيقول : السلام عليکم بما صبرتم فنعم عقبي الدار. وکان أبو بکر، وعمر، وعثمان رضي الله عنهم يفعلون ذلک. وزار الشارع قبر أمه يوم الفتح في ألف مقنع، ذکره ابن أبي الدنيا.

’’توضیح میں لکھا ہے کہ حدیثِ بریدہ رضی اللہ عنہ زیارتِ قبور کی ممانعت کے حکم کے منسوخ ہونے پر واضح دلیل ہے۔ امام شعبی اور نخعی تک زیارتِ قبور پر جواز والی احادیث نہ پہنچی تھیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر سال شہداء کی قبروں پر تشریف لے جاتے تھے پھر ان الفاظ کے ساتھ سلام کہتے ’’تم پر سلامتی ہو تمہارے صبر کے بدلے پس تمہارے لئے بہترین عاقبت ہے۔‘‘ حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنھم بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ شارع علیہ السلام نے فتح مکہ کے دن ایک ہزار مسلح افراد کے ساتھ اپنی والدہ محترمہ کی قبر کی زیارت کی۔ اس حدیث کو ابنِ ابی دنیا نے ذکر کیا ہے۔‘‘

عيني، عمدة القاري، 8 : 70

2۔ سنن ابی داؤد میں حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت قدرے مختلف الفاظ کے ساتھ مروی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زیارتِ قبور کا حکم فرمایا : ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے :

نَهَيْتُکُمْ عَنْ ثَلَاثٍ وَأَنَا اٰمُرُکُمْ بِهِنَّ. نَهَيْتُکُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُوْرِ فَزُوْرُوْهَا فَإِنَّ فِي زِيَارَتِهَا تَذْکِرَةً، وَنَهَيْتُکُمْ عَنِ الأَشْرِبَةِ أَنْ تَشْرَبُوْا إِلَّا فِي ظُرُوْفِ الأَدَمِ فَاشْرَبُوْا فِي کُلِّ وِعَاءٍ غَيْرَ اَنْ لَّا تَشْرَبُوْا مُسْکِرًا، وَنَهَيتُکُمْ عَنْ لُحُوْمِ الأَضَاحِيّ اَنْ تَأکُلُوْهَا بَعْدَ ثَلَاثٍ فَکُلُوْا وَاسْتَمْتِعُوْا بِهَا فِيْ أَسْفَارِکُمْ.

’’میں نے تمہیں تین کاموں سے منع کیا تھا لیکن اب ان کے کرنے کا تمہیں حکم دیتا ہوں۔ میں نے تمہیں زیارتِ قبور سے منع کیا تھا لیکن اب ان کی زیارت کر لیا کرو کیونکہ اس میں نصیحت ہے (اور یہ آخرت کی یاد دلاتی ہے)۔ میں نے تمہیں چمڑے کے سوا دوسرے برتنوں میں نبیذ پینے سے منع کیا تھا اب ہر برتن میں پی لیا کرو، ہاں! نشہ لانے والی چیز نہ پیا کرو۔ اور میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن کے بعد کھانے سے منع کیا تھا لیکن اب کھا لیا کرو اور اپنے سفر میں اس سے فائدہ اٹھایا کرو۔‘‘

1. أبو داؤد، السنن، کتاب الأشربة، باب في الأوعية، 3 : 332، رقم : 3698
2. نسائي، السنن، کتاب الأشربة، باب الإذن في شيء منها، 7 : 234، رقم : 4430
3. بيهقي، السنن الکبريٰ، 9 : 292

(3) زیارتِ قبور عملِ صالح ہے

جن جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے زیارتِ قبور کی روایات بیان کی ہیں ان سے یہ بھی مروی ہے کہ زیارتِ قبور سے نیکیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ جو عمل نیکیوں میں اضافہ کا باعث ہو وہ یقیناً عملِ صالح اور شرعًا مستحب و مستحسن ہے۔

1. حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے ایک اور حدیث مروی ہے، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

إِنِّيْ کُنْتُ نَهَيْتُکُمْ عَنْ ثَلَاثٍ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُوْرِ فَزُوْرُوْهَا وَلْتَزِدْکُمْ زِيَارَتُهَا خَيْرًا. . . الحديث.

’’میں نے تمہیں تین باتوں سے منع کیاتھا۔ اِن میں سے ایک قبروں کی زیارت تھی، لیکن اب قبروں کی زیارت کرو اور اس زیارت سے اپنی نیکیاں بڑھاؤ۔‘‘

1. نسائي، السنن، کتاب الضحايا، باب الإذن في ذلک، 7 : 234، رقم : 4429
2. حاکم، المستدرک، 1 : 532، رقم : 1391
3. ابن حبان، الصحيح، 12 : 212، رقم : 5390
4. أبو عوانة، المسند، 5 : 84، رقم : 7882
5. بيهقي، السنن الکبري، 4 : 76، رقم : 6986

2۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

إِنِّی کُنْتُ نَهَيْتُکُمْ عَنْ زِيَارَةِ القُبُوْرِ فَمَنْ شَاءَ أَنْ يَزُوْرَ قَبْرًا فَلْيَزُرْهُ فَإِنَّهُ يَرِقُ الْقَلْبَ وَيُدمِعُ الْعَيْنَ ويُذَکِّرَ الْآخِرَةَ.

’’بے شک میں نے تمہیں زیارت قبور سے منع کیا تھا اب جو بھی قبر کی زیارت کرنا چاہے اسے اجازت ہے کہ وہ زیارت کرے کیونکہ یہ زیارت دل کو نرم کرتی ہے، آنکھوں سے (خشیتِ الٰہی میں) آنسو بہاتی ہے اور آخرت کی یاد دلاتی ہے۔‘‘

حاکم، المستدرک، 1 : 532، رقم : 1394

(4) زیارتِ قبور باعثِ عبرت ہے

1۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

نَهَيْتُکُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُوْرِ، فَزُوْرُوْهَا فَإِنَّ فِيْهَا عِبْرَةً.

’’میں نے تمہیں زیارتِ قبور سے منع کیا تھا اب تم قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ اس میں نصیحت اور عبرت ہے۔‘‘

1. حاکم، المستدرک، 1 : 530، رقم : 1386
2. بيهقي، السنن الکبريٰ، 4 : 77، رقم : 6988
3. أحمد بن حنبل، المسند، 3 : 38، رقم : 11347

2۔ ام المؤمنین حضرت امِ سلمہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

نَهَيْتُکُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُوْرِ، فَزُوْرُوْهَا فَإِنَّ لَکُمْ فِيْهَا عِبْرَةً.

’’میں نے تمہیں زیارتِ قبور سے منع کیا تھا پس اب تم زیارت کیا کرو بے شک اس میں تمہارے لئے نصیحت ہے۔‘‘

طبراني، المعجم الکبير، 23 : 278، رقم : 602

3۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

زُوْرُوْا إِخْوَانَکُمْ وَسَلِّمُوْا عَلَيْهِمْ، وَصَلُّوا عَلَيْهِمْ، فَإِنَّ لَکُمْ فِيْهِمْ عِبْرَةً.

’’اپنے (فوت شدہ) بھائیوں کی زیارت کیا کرو انہیں سلام کہا کرو اور ان پر رحمت بھیجا کرو بے شک ان کی زیارت میں تمہارے لئے عبرت ہے۔‘‘

ديلمي، مسند الفردوس، 2 : 294، رقم : 3341

(5) زیارتِ قبور دنیا سے بے رغبتی کا باعث ہے

دنیا سے بے رغبتی اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ بندہ دو عالم سے کٹ کر اللہ تعالیٰ کا ہوگیا ہے۔ دنیا میں دل لگانے سے فکر آخرت کمزور ہوتی ہے اور بعض اوقات دنیا کی محبت انسان کے ایمان کی دشمن بھی بن جاتی ہے۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن اعمال کو اس سلسلے میں انسان کے لئے مفید پایا ان میں ایک زیارتِ قبور ہے اسی لئے درج ذیل فرمودات میں ارشاد فرمایا۔

1۔ حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

کُنْتُ نَهَيْتُکُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُوْرِ، فَزُوْرُوْهَا فَإِنَّهَا تُزَهِّدُ فِي الدُّنْيَا وَتُذَکِّرُ الاٰخِرَةَ.

’’میں نے تمہیں زیارتِ قبور سے منع کیا تھا اب تم ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ دنیا سے بے رغبت کرتی ہے اور آخرت کی یاد دلاتی ہے۔‘‘

1. ابن ماجه، السنن، کتاب الجنائز، باب ما جاء في زيارة القبور، 1 : 501، رقم : 1571
2. ابن حبان، الصحيح، 3 : 261، رقم : 981
3. حاکم، المستدرک، 1 : 531، رقم : 1387

2۔ سنن دار قطنی میں حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے ساتھ حدیث مروی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

أَ لَا إِنِّی کُنْتُ نَهَيْتُکُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُوْرِ، فَزُوْرُوْهَا تُذَکِّرُکُمْ آخِرَتَکُمْ.

’’آگاہ رہو! بے شک میں نے تمہیں زیارتِ قبور سے منع کیا تھا اب تم قبروں کی زیارت کیا کرو، یہ تمہیں تمہاری آخرت یاد دلائے گی۔‘‘

دار قطني، السنن، 4 : 259، رقم : 69

3۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

نَهٰي رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُوْرِ. ثُمَّ قَالَ : إِنِّي کُنْتُ نَهَيْتُکُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُوْرِ، فَزُوْرُوْهَا تُذَکِّرُکُمُ الاٰخِرَة.

’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے زیارتِ قبور سے منع فرمایا بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں نے تمہیں زیارتِ قبور سے منع کیا تھا اب تم ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ تمہیں آخرت کی یاد دلائے گی۔‘‘

1. ابن أبي شيبة، المصنف، 3 : 29، رقم : 11806
2. أبو يعلي، المسند، 1 : 240، رقم : 278
3. أحمد بن حنبل، المسند، 1 : 145، رقم : 1235

2. زیارتِ قبور کا نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معمول

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنا معمول مبارک تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقیع کے قبرستان میں تشریف لے جاتے، انہیں سلام کہتے اور ان کے لئے مغفرت کی دعا فرما تے اور اپنے صحابہ رضی اللہ عنھم کو بھی اس کا درس دیتے۔ ذیل میں چند احادیثِ مبارکہ ملاحظہ کریں۔

1. ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں :

کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم (کُلَّمَا کَانَ لَيْلَتُهَا مِنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم ) يَخْرُجُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ إِلَي الْبَقِيْعِ، فَيَقُوْلُ : اَلسَّلَامُ عَلَيْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِيْنَ، وَأَتَاکُمْ مَا تُوعَدُونَ، غَداً مُؤَجَّلُونَ، وَإنَّا، إِنْ شَاءَ اﷲُ بِکُمْ لَاحِقُوْنَ. اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَهْلِ بَقِيْعِ الغَرْقَدِ.

’’جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں قیام فرما ہوتے تو (اکثر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے آخری حصہ میں بقیع کے قبرستان میں تشریف لے جاتے اور (اہلِ قبرستان سے خطاب کرکے) فرماتے : تم پر سلام ہو، اے مومنوں! جس چیز کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ تمہارے پاس آ گئی تم بہت جلد اسے حاصل کرو گے اور اگر اﷲ تعالیٰ نے چاہا تو ہم بھی تم سے ملنے والے ہیں۔ اے اﷲ! بقیعِ غرقد والوں کی مغفرت فرما۔‘‘

1. مسلم، الصحيح، کتاب الجنائز، باب ما يقال عند دخول القبور والدعاء لأهلها، 2 : 669، رقم : 974
2. نسائي، السنن، کتاب الجنائز، باب الأمر بالاستغفار للمؤمنين، 4 : 93، رقم : 2039
3. أبويعلي، المسند، 8 : 199، رقم : 4758

2۔ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں سکھایا کرتے تھے کہ جب وہ قبور کی زیارت کے لئے جائیں تو کہیں :

اَلسَّلَامُ عَلَيْکُمْ أهل الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُسْلِمِيْنَ. وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اﷲُ، بِکُمْ لَ. لَاحِقُوْنَ. أَسْأَلُ اﷲَ لَنَا وَلَکُمُ الْعَافِيَةَ.

’’اے اہل دیارِ مومنین و مسلمین! تم پر سلامتی ہو اور اِن شاء اللہ ہم بھی ضرور بالضرور تم سے ملنے والے ہیں، ہم اﷲ سے اپنے لئے اور تمہارے لئے عافیت کے طلب گار ہیں۔‘‘

1. مسلم، الصحيح، کتاب الجنائز، باب ما يقال عند دخول القبور والدعاء لأهلها، 2 : 671، رقم : 975
2. أحمد بن حنبل، المسند، 5 : 353، رقم : 23035
3. روياني، المسند، 1 : 67، رقم : 15

3۔ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا : یا رسول اﷲ! میں زیارتِ قبور کے وقت اہلِ قبور سے کس طرح مخاطب ہوا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

قُولِي : اَلسَّلَامُ عَلَي أهل الدِّيَارِ مِنَ المُؤْمِنِيْنَ وَالْمُسْلِمِيْنَ، وَيَرْحَمُ اﷲُ الْمُسْتَقْدِمِيْنَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِيْنَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اﷲُ بِکُمْ لَلَاحِقُوْنَ.

’’کہو، اے اِس دیار (قبرستان) کے مومنین و مسلمین! تم پر سلامتی ہو، اﷲ تعالیٰ ہمارے اگلے اور پچھلے لوگوں پر رحم فرمائے اور اگر اﷲ نے چاہا تو ہم بھی تمہیں ضرور ملنے والے ہیں۔‘‘

1. مسلم، الصحيح، کتاب الجنائز، باب ما يقال عند دخول القبر والدعاء لأهلها، 2 : 669، رقم : 974
2. نسائي، السنن کتاب الجنائز، باب الأمر بالاستغفار للمؤمنين، 4 : 91، رقم : 2037
3. أحمد بن حنبل، المسند، 6 : 221، رقم : 25897

4۔ حضرت ابنِ عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ کے قبرستان سے گزرے تو قبروں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا :

اَلسَّلَامُ عَلَيْکُمْ يَا أَهْلَ الْقُبُوْرِ يَغْفِرُ اﷲُ لَنَا وَلَکُمْ، أَنْتُمْ سَلَفُنَا وَنَحْنُ بِالأَثَرِ.

’’اے اہلِ قبور! تم پر سلام ہو، اﷲ تعالیٰ ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے تم ہم سے پہلے پہنچے ہو اور ہم بھی تمہارے پیچھے آنے والے ہیں۔‘‘

ترمذي، السنن، کتاب الجنائز عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب ما يقول الرجل إذا دخل المقابر، 2 : 357، رقم : 1053

حضرت بریدہ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہما سے بھی اسی مضمون کی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن ہے۔

زِیارتِ قبور کے حوالے سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تین سنتیں

مذکورہ بالا احادیثِ مبارکہ سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تین اہم سنن ثابت ہوئیں :

  1. زیارتِ قبور کو جانا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مستقل معمول تھا۔
  2. مؤمنوں اور مسلمانوں کے قبرستان میں جاکر اُنہیں سلام کرنا، اپنے لئے، اُن کے لئے اور پہلے گزرنے والوں کے لئے عافیت، رحمت اور مغفرت کی دعا۔
  3. اہلِ قبرستان کو مخاطب ہوکر اس بات کا اعادہ کرنا کہ آپ ہم سے پہلے قبور میں پہنچے ہیں، ہم بھی آپ کے پیچھے آنے والے ہیں۔

3۔ زیارتِ قبور پر مذاہبِ اَربعہ کا مؤقف

شرعًا قبور کی زیارت کرنا باعثِ اجر و ثواب اور تذکیرِ آخرت کا ذریعہ ہے۔ ائمہِ حدیث و تفسیر نے شرح و بسط کے ساتھ اس کی مشروعیت کو بیان کیا ہے۔ مذاہبِ اربعہ کے ائمہ کا اس امر پر اتفاق ہے کہ تمام مسلمانوں کو خواہ مرد ہو یا عورت زیارتِ قبور کی اجازت ہے۔

(1) زیارتِ قبور پر احناف کا موقف

ائمہِ احناف میں سے علامہ بدر الدین عینی (شارح صحیح بخاری) کے زیارتِ قبور کے حوالے سے چند اقتباسات ملاحظہ کریں :

وقال ابن حبيب لا بأس بزيارة القبور، والجلوس إليها، والسلام عليها عند المرور بها. وقد فعل ذلک رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم. وسئل مالک عن زيارة القبور؟ فقال : قد کان نهي عنه ثم أذن فيه. فلو فعل ذلک إنسان و لم يقل إلا خيراً لم أر بذلک بأسا.

’’ابنِ حبیب نے کہا ہے کہ زیارتِ قبور کرنے، ان کے پاس بیٹھنے اور قبروں کے پاس سے گزرتے ہوئے ان پر سلام کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ بے شک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح کیا ہے۔ امام مالک سے زیارتِ قبور کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : بے شک اس عمل سے پہلے منع کیا گیا تھا پھر اس کی اجازت ہوگئی اگر کوئی انسان یہ عمل کرے اور خیر کے سوا کچھ نہ کہے تو میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا۔‘‘

عينی، عمدة القاری، 8 : 70

وفي التوضيح أيضاً : والأمة مجمعة علي زيارة قبر نبيّنا صلي الله عليه وآله وسلم، وأبي بکر، وعمر رضي اﷲ عنهما. وکان ابن عمر إذا قدم من سفر أتي قبره المکرم، فقال : السّلام عليک يا رسول اﷲ! السّلام عليک يا أبا بکر! السّلام عليک يا أبتاه.

’’توضیح میں یہ بھی ہے کہ تمام امت کا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قبرِ انور اسی طرح حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر رضی اﷲ عنہما کی قبروں کی زیارت کرنے پراتفاق ہے۔ حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ جب وہ شہر سے واپس لوٹتے تو سیدھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ انور پر حاضر ہوتے اور کہتے یا رسول اﷲ! آپ پر سلام ہو، اے ابو بکر! آپ پر سلام ہو، اے ابا جان! (حضرت عمر) آپ پر سلام ہو۔‘‘

عيني، عمدة القاري، 8 : 70

ومعني النهي عن زيارة القبور إنما کان في أوّل الإسلام عند قربهم بعبادة الأوثان، واتّخاذ القبور مساجد، فلما استحکم الإسلام، وقوي في قلوب الناس، وأمنت عبادة القبور، والصّلاة إليها، نسخ النهي عن زيارتها لأنها تذکرّ الآخرة وتزهّد في الدّنيا.

’’زیارت قبور سے منع کرنے کا معنی یہ ہے کہ ابتدائے اسلام میں لوگوں کا بتوں کی عبادت اور قبروں کو سجدہ گاہ بنانے کے زمانہ سے قریب ہونے کی وجہ سے یہ ممانعت تھی، لیکن جب اسلام مستحکم ہوا اور لوگوں کے دلوں میں راسخ اور مضبوط ہوگیا اور قبروں کی عبادت اور ان کے لئے نماز کا خوف ختم ہوگیا تو پھر زیارتِ قبور کی ممانعت منسوخ ہوگئی کیونکہ دراصل زیارتِ قبور آخرت کی یاد دلاتی ہے اور دنیا سے بے رغبت کرتی ہے۔‘‘

عيني، عمدة القاري، 8 : 70

وعن طاؤوس : کانوا يستحبون أن لايتفرقوا عن الميت سبعة أيام، لأنهم يفتنون ويحاسبون في قبورهم سبعة أيام.

’’حضرت طاؤوس رحمۃ اﷲ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ائمہ و اسلاف اس عمل کو پسند کرتے تھے کہ میت کی قبر سے سات دنوں تک جدا نہ ہوا جائے (یعنی کم از کم سات دنوں تک وہاں فاتحہ و قرآن خوانی کا معمول جاری رکھا جائے) کیونکہ سات دنوں تک میت کی قبر میں آزمائش ہوتی ہے اور ان کا حساب ہوتا ہے۔‘‘

عيني، عمدة القاري، 8 : 70

متاخرین میں حضرت شاہ ولی اﷲ رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے شاہ عبدالعزیز محدّث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے فتاوی عزیزی میں نہ صرف یہ کہ زیارت قبور کو جائز قرار دیا ہے بلکہ زیارتِ قبور کے آداب اور اہلِ قبور سے استمداد کا طریقہ کار بھی بتایا ہے۔ اس حوالے سے ان کی عبارت ملاحظہ کریں :

سوال : ترکیب زیارت قبور؟

جواب : ہرگاہ کہ برائے زیارتِ قبرے از عوام مومنین برود اوّل پشت بقبلہ، رو بسینۂ میت نما ید و سورۂ فاتحہ یکبار و اخلاص سہ بار و در وقت در آمدن بمقبرہ این الفاظ بگوید السلام علیکم اہل الدیار من المؤمنین والمسلمین یغفراﷲ عزوجلنا ولکم وانا ان شاء اﷲ بکم للاحقون۔ واگر قبر بزرگے ازاولیاء وصلحا باشد روے بسوی سینہ آن بزرگ کردہ بنشیند وبست و یکبار بچہار ضرب سُبُّوحٌ قُدوْسٌ رَبُّنَا وَرَبُّ الْمَلاَئِکَۃِ وَالرُّوْحِ گوید و سورہ اِنَّا اَنْزَلْنٰہُ سہ باربخواند و دل را از خطرات خلاص کردہ مقابل سینۂ آن بزرگ آرد، برکات روح دردل این زیارت کنندہ خواہند رسید۔

شاه عبدالعزيز، فتاوي عزيزي، 1 : 176

سوال : زیارتِ قبور کا طریقہ (کیا ہے)؟

جواب : جو شخص بھی کسی عام مومن کی قبرپر چلا جائے تو قبلہ کی طرف پشت کرکے چہرہ میت کے سینے کی طرف کرے۔ ایک بار سورۂ فاتحہ اور تین بار سورۂ اخلاص پڑھے اور جب قبرستان میں داخل ہو تو یہ الفاظ کہے : اَلسَّلَامُ عَلَيْکُمْ أهل الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُسْلِمِيْنَ يَغْفِرُاﷲُ لَنَا وَلَکُمْ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اﷲُ بِکُمْ لَلَاحِقُوْنَ. (اے امؤمنین و مسلمین سے تعلق رکھنے والے لوگو! تم پر سلامتی ہو۔ اﷲتعالیٰ ہماری اور تمہاری بخشش و مغفرت فرمائے۔ ہم بھی ان شاء اﷲ تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں۔) اگر وہ قبر اولیاء و صلحاء میں سے کسی بزرگ کی ہو تو اپنا چہرہ اس بزرگ کے سینہ کی طرف کرے اور بیٹھ جائے اور 21 مرتبہ چار ضربوں کے ساتھ ان اسماء مبارکہ کا ورد کرے سُبُّوحٌ قُدُّوْسٌ رَبُّنَا وَرَبُّ الْمَلاَئِکَةِ وَالرُّوْحِ اور سورہ القدر تین بار پڑھے۔ اس بزرگ ہستی کے سامنے اپنے قلب کو وساوس وخطرات سے پاک کرے تو اس زیارت کرنے والے کے دل میں اس بزرگ ہستی کی روحانی برکات پہنچ جائیں گی۔‘‘

اس سے متصل ایک اور سوال ان سے دریافت کیا گیا کہ صاحبِ مزار کا کامل ہونے کا پتہ کس طرح چلے گا اور اگر صاحبِ مزار کامل ہو تو اس سے استمداد کا طریقہ بتائیں، تو انہوں نے وہ بھی بتایا۔ ذیل میں سوال جواب ملاحظہ کریں۔

سوال : برائے دریافت اینکہ اہلِ قبر کامل ست یا نہ ودر صورتیکہ اہلِ قبر کامل باشد ازواستمداد بچہ صورت باید کرو ؟

جواب : بعضے از اہل قبور مشہو بکمال اند و کمال ایشان متواتر شدہ طریق استمداد از ایشان آنست کہ جانب سر قبرِ او سورہ بقر انگشت بر قبر نہادہ تا مُفْلِحُوْنَ بخواند باز بطرف پائیں قبر بیاید و آمَنَ الرَّسُوْلُ تا اخر سورہ بخواند و بزبان گوید اے حضرت من برائے فلان کار در جناب الہی التجا و دعا میکنیم شما نیز بدعا وشفاعت امداد من نمائید باز رو بقبلہ آرد و مطلوب خود راز جناب باری خواہد وکسانیکہ کمال اینان معلوم نیست ومشہور و متواتر نشدہ دریا فت کمال آنہا بہمان طریق است کہ بعد از فاتحہ و درود وذکر سُبُّوْحٌ دل خود را مقابلہ سنیہ مقبور بدا رد وا گر راحت و تسکین ونورے دریافت کند بداند کہ این قبر اہل صلاح و کمال ست لاکن استمداد از مشہورین باید کرد۔

شاه عبدالعزيز، فتاويٰ عزيز، 1 : 177

سوال : یہ معلوم کرنے کے لیے کہ آیا صاحبِ مزار کامل ہے یا نہیں اور اگر وہ کامل ہو تو اس صورت میں اس سے استمداد کس طرح کرنا چاہیے؟

جواب : بعض صاحبانِ مزار کا کامل ہونا مشہور ہوتا ہے او ان کا باکمال ہونا تسلسل کے ساتھ ثابت ہوتا ہے۔ ایسے با کمال صاحب مزار ہستیوں سے استمداد کا طریقہ یہ ہے کہ قبر کے سرہانے انگلی رکھ کر سورہ بقرہ کی تلاوت آغاز سے مفلحون تک کرے۔ پھر قبر یا پائنتی کی طرف آئے اور سورۂ بقرہ میں سے آمن الرسول سے لے کر آخر تک مکمل پڑھے، اور اپنی زبان سے یوں کہے : اے حضرت میں اپنی فلاں حاجت کے لئے اﷲتعالیٰ کی بارگاہ میں التجا کرتا ہوں آپ بھی بارگاہِ الٰہی میں اپنی دعا اور شفاعت سے میری امداد فرمائیں۔‘‘ پھر اپنا رخ بطرف قبلہ کرے اور اپنا مطلوب خود بارگاہِ الٰہی سے طلب کرے۔ اور وہ صاحبِ مزار جن کے بارے میں کامل ہونا معلوم نہ ہو اور عوام میں ان کا کامل ہونا بھی معروف اور تواتر کے ساتھ نہ ہو تو ایسے لوگوں کا مقام و مرتبہ اس طریقہ کے ساتھ معلوم کیا جاسکتا ہے۔ سورہ فاتحہ اور درود شریف پڑھ کر ’’سبوحٌ‘‘ کا ذکر کرے اپنا دل اس صاحب مزار شخص کے سینہ کے سامنے کرے اگر راحت و سکون پائے تو جان لے کہ یہ صاحبِ مزار کامل شخصيّت کا مالک ہے۔ لیکن (پھر بھی) استمداد معروف صاحب کمال بزرگوں سے ہی کیا جائے۔‘‘

(2) زیارتِ قبور پر شوافع کا مؤقف

علامہ محمد شربینی خطیب شافعی لکھتے ہیں :

ويندب زيارة القبور التي فيها المسلمون، للرجال بالإجماع. وکانت زيارتها منهياً عنها ثم نسخت بقوله صلي الله عليه وآله وسلم : کنت نهيتکم عن زيارة القبور فزوروها. يکره زيارتها للنساء لأنها مظنة للطلب ببکائهن ورفع أصواتهن نعم يندب لهن زيارة قبر رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم فإنها من أعظم القربات وينبغي أن يلحق بذلک بقية الأنبياء والصّالحين والشّهداء.

’’جس قبرستان میں مسلمان مدفون ہوں اس کی زیارت کرنا مردوں کے لئے بالاجماع مستحب ہے۔ پہلے زیارتِ قبور کی ممانعت تھی بعد اذاں یہ ممانعت اس حدیث مبارکہ سے منسوخ ہو گئی جس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’میں تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کرتا تھا اب اس کی زیارت کیا کرو‘‘ اور عورتوں کے لیے زیارت مکروہ ہے کیونکہ وہاں ان سے رونا دھونا اور آوازوں کو بلند کرنا متوقع ہوتا ہے البتہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر کی زیارت کرنا ان کے لئے مندوب ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ انور کی زیارت سب سے بڑی قربت ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ اس حکمِ زیارت میں دیگر انبیاء علیہم السلام اور صالحین اور شہداء عظام کی زیارات کو بھی شامل کرلیا جائے۔‘‘

شربيني، الاقناع، 1 : 208

امام نووی شافعی لکھتے ہیں :

يستحب للرجال زيارة القبور. وهل يکره للنساء؟ وجهان أحدهما، وبه قطع الأکثرون يکره. والثاني وهو الأصح عند الروياني لا يکره إذا أمنت من الفتنة.

’’مردوں کے لئے قبروں کی زیارت مستحب عمل ہے اور عورتوں کے لئے مکروہ ہے۔ اس میں دو مؤقف ہیں، ایک مؤقف جس میں جمہور علماء ہیں کہ عورتوں کیلئے مکروہ ہے اور دوسرا مؤقف جو رویانی کے نزدیک صحیح ترین ہے وہ یہ کہ جب فتنہ سے تحفظ ہو تو مکروہ نہیں۔‘‘

نووي، روضة الطالبين، 2 : 139

(3) مالکیہ کا مؤقف

مالکیہ بھی مطلق زیارت کو مندوب و مستحسن گردانتے ہیں۔

علامہ دردیر شرح الکبير میں لکھتے ہیں :

و جاز زيارة القبور بل هي مندوبة بلا حد بيوم أو وقت أو في مقدار ما يمکث عندها.

’’زیارتِ قبور جائز بلکہ مندوب ہے اس چیز کا تعین کیے بغیر کہ کب اور کس وقت زیارت کے لیے جایا جائے اور قبروں کے پاس کتنی دیر ٹھہرا جائے۔‘‘

دردير، الشرح الکبير، 1 : 422

(4) حنابلہ کا مؤقف

فقہ حنبلی کے مشہور امام ابنِ قدامہ مقدسی نے زیارتِ قبر پر تفصیل کے ساتھ لکھا ہے۔ الکافی میں وہ لکھتے ہیں :

و يستحبّ للرّجال زيارة القبور لأن النّبيّ صلي الله عليه وآله وسلم قال کنت نهيتکم عن زيارة القبور فزوروها فإنها تذکّرکم الموت.

’’مردوں کے لئے قبروں کی زیارت کرنا مستحب ہے کیونکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کرتا تھا پس اب تم زیارت کیا کروں کیونکہ یہ موت کی یاد دلاتی ہے۔‘‘

ابن قدامة، الکافي في فقه أحمد بن حنبل، 1 : 274

کتاب المغنی میں وہ لکھتے ہیں :

لا نعلم بين أهل العلم خلافاً في إباحة زيارة الرجل القبور. وقال علي بن سعيد : سألت أحمد عن زيارة القبور ترکها أفضل عندک أو زيارتها؟ قال : زيارتها. وقد صحّ عن النّبيّ صلي الله عليه وآله وسلم أنه قال : کنت نهيتکم عن زيارة القبور فزوروها فإنها تذکّرکم الموت. رواه مسلم والترمذي بلفظ : فإنها تذکّر الآخرة.

’’ہم نہیں جانتے کہ اہلِ علم کا مردوں کی زیارت قبور میں کوئی اختلاف ہو۔ علی بن سعید کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل سے زیارتِ قبور کا مسئلہ پوچھا کہ آپ کے نزدیک زیارت کرنا بہتر ہے یا نہ کرنا؟ انہوں نے فرمایا : قبروں کی زیارت کرنا بہتر ہے اور یہ بات حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’میں تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا کرتا تھا اب تم ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ تمہیں موت کی یاد دلاتی ہے۔‘‘ اسے امام مسلم نے روایت کیا اور امام ترمذی نے فانھا تذکر الآخرۃ کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔‘‘

ابن قدامة، المغني، 2 : 223

عورتوں کے مسئلہ زیارتِ قبور کو انہوں نے یوں بیان کیا ہے :

اختلف الرواية عن أحمد في زيارة النساء القبور : فروي عنه کراهتها لما روت أم عطية قالت نهينا عن زيارة القبور ولم يعزم علينا. رواه مسلم.

’’امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے عورتوں کے لئے زیارتِ قبور کے حوالے سے دو مختلف روایتیں مروی ہیں ان میں سے ایک کراہت کے بارے میں ہے کہ حضرت امِ عطیہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں قبروں کی زیارت سے منع فرمایا لیکن ہم پر سختی نہیں کی جاتی تھی۔ اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔‘‘

ابن قدامة، المغني، 2 : 226

والرواية الثانية : لا يکره، لعموم قوله عليه السّلام : کنت نهيتکم عن زيارة القبور، فزوروها. وهذا يدلّ علي سبق النهي ونسخه، فيدخل في عمومه الرّجال والنّساء.

’’دوسری روایت یہ ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ میں نے تمہیں زیارت قبور سے منع کیا تھا اب ان کی زیارت کیا کرو یہ ممانعت ختم ہونے اور منسوخ ہونے پر دلالت کرتا ہے پس اس عموم میں مرد و زَن دونوں شامل ہوگئے۔‘‘

ابن قدامة، المغني، 2 : 326

4۔ زیارتِ قبور سے متعلق چند قباحتیں

گزشتہ صفحات میں ہم نے قرآن و حدیث کی روشنی میں زیارتِ قبور کی شرعی حیثیت کو بیان کیا، جمہور علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ زیارتِ قبور ایک مستحسن اور مندوب عمل ہے۔ ائمہ متقدمین و متآخرین کا زیارتِ قبور کے جواز میں کوئی اختلاف نہیں۔

مشروعیت کے ان دلائل کے ساتھ ساتھ مزاراتِ اولیاء اور زیاراتِ قبور سے متعلق چند قباحتوں کی نشاندہی بھی ضروری ہے۔ ان قباحتوں اور غیر شرعی امور کی کسی قدر تفصیل ہماری کتاب ’’عقائد میں احتیاط کے تقاضے‘‘ میں آچکی ہے۔ تاہم یہاں اس کا خلاصہ موضوع زیر بحث کی وضاحت ضروری ہے۔

٭ قبور کی زیارت کا پہلا مقصد تو عبرت، خشیت، تذکیر آخرت اور استحضارِ موت ہے۔ اسکے ساتھ صاحبِ مزار اگر نیک متقی اور فیض رساں شخصیت ہے تو زائر کو فیوض و برکاتِ باطنی بھی ملتی ہیں جیسا کہ اوپر بزرگانِ دین کے معمولات کا تذکرہ ہو چکا ہے۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ فی زمانہ زائرین کی اکثریت مقصد اولیٰ یعنی خشیت کو پسِ پشت ڈال چکی ہے۔ قبر کو دیکھ کر فکرِ آخرت پیدا نہ ہو، موت کی تیاری میں مدد نہ ملے اور سیرت و کردار پر مثبت اثرات مرتب نہ ہوں تو نہ فیض حاصل ہوا اور نہ خشیت کا مقصد پورا۔ روحانی فیض ایک باطنی کیفیت ہے جس کے واضح اثرات شخصیت پر نظر آتے ہیں۔ یہ اثرات نظر نہ آئیں دل میں تقویٰ اور اپنی بے بضاعتی کا احساس جنم نہ لے تو زیارتِ قبور محض ایک مشقت بھری رسم رہ جاتی ہے۔

٭ اسی طرح زائرین اگر فرائض کو ترک کرکے مستحبات پر زور دیں اور نوافل کو فرائض پر فوقیت دیں تو اللہ تعالیٰ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صاحبِ مزار کوئی بھی خوش نہیں ہوگا۔ ایسے زائرین حصول فیض کی بجائے معصیت کیشی کے مجرم ہوں گے۔ مثلا مزار پر فرض نماز کی جماعت ہو رہی ہو اور لوگ فاتحہ خوانی میں مصروف ہوں۔ نماز کا وقت نکل رہا ہو اور زائرین مزار پر پھول چڑھا رہے ہوں۔

٭ علاوہ ازیں بعض مزارات پر عام دنوں میں بالعموم اور اعراس کے مواقع پر بالخصوص ناچ گانے بھنگڑے دھمال اور دیگر خرافات کا باقاعدہ انتظام ہوتا ہے۔ اس قسم کی تقاریب اگرچہ علاقائی ثقافت کی علامات بھی بن چکی ہیں لیکن بزرگانِ دین کے ساتھ ان خرافات کو منسوب کرنا بذاتِ خود اپنی ثقافت کے برعکس ہے۔ ان اعمال غیر شرعیہ کا ارتکاب قطعاً ناجائز اور نامناسب ہے۔ تعلیمات تصوف و طریقت کی کھلی مخالفت کا موجب ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بھی۔ اس لئے جہاں تک ہاتھ پہنچے ایسے امور سے اجتناب کرنا چاہیے اور اگر حکومت اور انتظامیہ سے ہو سکے تو بزور طاقت و قانون ان حرکات کی ممانعت ہونی چاہیے مزاراتِ مقدسہ پر بعض دیگر قباحتیں بھی ایک عرصے سے جڑھ پکڑ چکی ہیں جن سے اگر شرک نہیں تو اشتباہ شرک ضرور ہوتا ہے دیکھنے والوں کو بدگمانی کا موقع ملتا ہے اس سے کفر اور شرک کے دروازے کھلتے ہیں اور انسان ثواب کماتے کماتے عذاب کا مستحق ٹھہر جاتا ہے۔ ان غیر شرعی امور میں نوراتیں ماننا، منتیں مان کر کپڑوں وغیرہ میں گرہیں لگانا، مزار کا طواف کرنا اور وہاں سجدہ کا ارتکاب کرنا بطور خاص قابلِ ذکر ہیں۔

٭ ان سب سے بڑھ کر بعض مزارات اور قبر ستانوں میں مجاور براجمان ہوتے ہیں وہ چونکہ خود غلیظ ہوتے ہیں اس لئے اہلِ ایمان کی قبروں کی حرمت کے تقاضوں سے بھی بے بہرہ ہوتے ہیں۔ ان شیطان صفت لوگوں میں کئی پیشہ ور مجرم بھی ہوتے ہیں جو روپ بدل کر ایسے مقامات کو ناجائز کاموں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ لوگ مزارات کے ماحول میں گندگی پھیلاتے ہیں خود نشہ کرتے ہیں چرس افیون اور سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔ کئی تو زائرین کو بھی دعوتِ گناہ دیتے ہیں اور بعض بھولے مانس اسے ’’خصوصی فیض‘‘ سمجھ کر انکی دعوت کو قبول بھی کر لیتے ہیں۔ یہاں سے برائی کی رغبت اور تبلیغ کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہی لوگ عام طور پر بردہ فروشی، عصمت فروشی اور اغوا برائے تاوان جیسے گھناؤنے جرائم کا ارتکاب بھی کرتے ہیں۔ اس لئے حتی المقدور ایسے عناصر سے بھی مزارات کے ماحول کو پاک صاف رکھنا اہلِ ایمان کا اولین فریضہ ہے۔

لاہور میں حضور داتا صاحب رحمۃ اللہ علیہ ، کراچی میں عبداللہ شاہ غازی رحمۃ اللہ علیہ ، سیون شریف، بہاؤ الدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ ، پاکپتن شریف، گولڑہ شریف، پیربابا اور دیگر بہت سے چھوٹے بڑے مزارات کے احاطے جہاں عوام الناس کی آمدو رفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے وہاں آئے روز ایسے جرائم بھی ہوتے ہیں اور اخبارات کے خصوصی فیچرز کی زینت بنتے ہیں۔ ان خبروں کو بڑھنے سننے والے یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ یہ مراکز شاہد انہی برائیوں کا مرکز ہیں حالانکہ اس طرح کے چند بدقماش اور بد اندیش لوگ اپنی رذالتِ طبع کا مظاہرہ کرتے ہیں ورنہ بہت سے زائرین حسنِ مقصد لے کر آتے ہیں اور بامراد واپس جاتے ہیں۔

٭ اسی طرح ان مزارات پر بعض بے سہارا عورتیں حالات و زمانہ کی تنگی کا شکار ہو کر پناہ لینے آتی ہیں مگر یہاں پر موجود کچھ چالاک اور بدکردار خواتین انہیں اپنے دام فریب میں پھنسا لیتی ہیں جس کے بعد وہ مجبور و بے بس عورتیں خود برائی اور معصیت کا نشان بن جاتی ہیں۔ ایسے حساس معاملات پر حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو توجہ دینی چاہیے۔ کڑی نگرانی ہو اور ایسے نوسر بازوں کو احاطۂ دربار میں آنے سے روک دیا جائے تو اس طرح کے جرائم کبھی بھی پیدا نہیں ہوسکتے۔

٭ اختلاطِ مرد و زن بھی ایک بڑی قباحت ہے اوریہ عام طور پر وہاں دیکھنے میں آتا ہے جہاں ماحول حکومتی اوقاف کے زیرِ اہتمام ہوتا ہے اسی اختلاط میں مضمر برائیوں کی وجہ سے بعض فقہاء نے عورتوں کا مزارات پر جانا مطلقاً ناجائز قرار دے دیا ہے۔ الغرض ایسی تمام بے احتیاطیاں جو بعد ازاں برائیوں کا پیش خیمہ بن جائیں ان کا سختی سے قلع قمع ہونا چاہیے تاکہ لوگ جواز سے ناجائز فائدہ اُٹھا کر گناہ کے مرتکب نہ ہوتے پھریں۔ خواتین کی زیارتِ مزار سے متعلق چند تفصیلات ذیل میں الگ آ رہی ہے۔

5۔ عورتوں کے لئے زیارتِ قبور کا حکم

جس طرح مردوں کو تذکیرِ آخرت کے لئے زیارتِ قبور کا حکم ہے اسی طرح عورتوں کے لئے بھی بعض شرائط کے ساتھ زیارتِ قبور جائز ہے۔ عورتوں کے لئے زیارتِ قبور کا جواز احادیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابیات رضی اﷲ عنہن کے احوال سے بھی ثابت ہے۔ تاہم بعض ائمہ دین نے عورتوں کو مزارات پر جانے سے منع فرمایا ہے ہم ان دونوں پہلوؤں پر باری باری تفصیلات پیش کرتے ہیں۔

(1) عورتوں کی زیارتِ قبور کے جواز پر احادیث اور آثار

1. حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

مَرَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم بِاِمْرَأةٍ تَبْکِيْ عِنْدَ قَبْرٍ، فَقَالَ : اتَّقِي اﷲَ وَاصْبِرِي. قَالَتْ : إِلَيْکَ عَنِّي، فَإِنَّکَ لَمْ تُصَبْ بِمُصِيْبَتِي، وَ لَمْ تَعْرِفْهُ، فَقِيْلَ لَهَا : إِنّهُ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم، فَأَتَتْ بَابَ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم، فَلَمْ تَجِدْ عِنْدَهُ بَوَّابِيْنَ، فَقَالَتْ : لَمْ أَعْرِفْکَ، فَقَالَ : إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأوْلٰي.

’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک عورت کے پاس سے گزرے جو ایک قبر کے پاس زار و قطار رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اﷲ تعالیٰ سے ڈر اور صبر کر۔ اس عورت نے (شدتِ غم اور عدمِ تعارف کی وجہ سے) کہا : آپ یہاں سے چلے جائیں کیونکہ آپ کو مجھ جیسی مصیبت نہیں پہنچی ہے۔ وہ خاتون آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہچانتی نہ تھی۔ کسی نے اسے بتایا کہ یہ تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ وہ عورت (اپنی اس بات کی معذرت کرنے کیلئے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درِ اَقدس پر حاضر ہوئی۔ اس نے خدمت میں حاضری کی اجازت لینے کیلئے دربان نہیں پایا (تو باہر سے کھڑے ہوکر) عرض کیا : یا رسول اﷲ! میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا۔ اس کی اس معذرت طلبی پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : صدمے کے موقع پر صبر ہی بہتر ہے۔‘‘

1. بخاري، الصحيح، کتاب الجنائز، باب زيارة القبور، 1 : 431، رقم : 1223
2. بيهقي، السنن الکبريٰ، 10 : 101، رقم : 20043
3. أحمد بن حنبل، المسند، 3 : 143، رقم : 12480

اس حدیثِ مبارکہ سے عورتوں کے لئے زیارتِ قبور کا جواز ثابت ہوتا ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کو قبر پر آنے سے منع نہیں فرمایا بلکہ رونے سے منع فرمایا۔ اگر عورتوں کو مطلقًا زیارتِ قبور کی ممانعت ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس عورت کو قبور پر آنے سے منع فرما دیتے۔

اس حدیث کی شرح میں حافظ ابنِ حجر عسقلانی ( متوفی852 ھ) نے صحیح بخاری کی شرح فتح الباری میں لکھا ہے :

واختلف في النّساء، فقيل : دخلن في عموم الإذن، وهو قول الأکثر، و محله ما إذا أمنت الفتنة. ويؤيّد الجواز حديث الباب، وموضع الدلالة منه أنه صلي الله عليه وآله وسلم لم ينکر علي المرأة قعودها عند القبر وتقريره حجة.

’’عورتوں کے لئے زیارتِ قبور کے بارے میں ائمہ کا اختلاف ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ عورتیں بھی عمومِ اجازت میں شامل ہیں۔ یہ جمہور ائمہ کا قول ہے اور اس کا اطلاق تب ہے جب فتنہ کا اندیشہ نہ ہو۔ اس کی تائید امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے قائم کردہ باب کے عنوان (باب زیارۃ القبور) سے ہو رہی ہے۔ اور استدلال اس طرح ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خاتون کو قبر کے پاس بیٹھنے سے منع نہ فرمایا اور یہ شرعی اُصول ہے کہ کسی عمل پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاموشی بھی جواز کی دلیل ہے۔‘‘

عسقلاني، فتح الباري شرح صحيح البخاري، 3 : 148

2۔ حضرت عبد اﷲ بن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں :

أن عائشة أقبلت ذات يوم من المقابر، فقلت لها : يا أم المؤمنين من أين أقبلت؟ قالت، من قبر أخي عبد الرحمن بن أبي بکر، فقلت لها : أليس کان رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم نهي عن زيارة القبور؟ قالت : نعم، کان نهي ثم أمر بزيارتها.

’’ایک دن سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا قبرستان سے واپس تشریف لا رہی تھیں میں نے اُن سے عرض کیا : ام المؤمنین! آپ کہاں سے تشریف لا رہی ہیں؟ فرمایا : اپنے بھائی عبد الرحمٰن بن ابی بکر کی قبر سے، میں نے عرض کیا : کیا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زیارتِ قبور سے منع نہیں فرمایا تھا؟ انہوں نے فرمایا : ہاں! پہلے منع فرمایا تھا لیکن بعد میں رخصت دے دی تھی۔‘‘

1. حاکم، المستدرک، 1 : 532، رقم : 1392
2. بيهقي، السنن الکبريٰ، 4 : 78، رقم : 4999
3. عبد الرزاق، المصنف، 3 : 570، رقم : 6711

3۔ امام جعفر الصادق اپنے والد گرامی امام محمد الباقر سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا :

کانت فاطمة بنت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم تزور قبر حمزة کل جمعة.

’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی سیدۂ کائنات حضرت فاطمہ سلام اﷲ علیھا ہر جمعہ کو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی قبر پر حاضری دیتی تھیں۔‘‘

عبد الرزاق، المصنف، 3 : 572، رقم : 6713

(2) عورتوں کی زیارتِ قبور کے جواز و عدمِ جواز پر ائمہ کی آراء

بعض ائمہ کرام حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درج ذیل فرمان مبارک سے عورتوں کی زیارتِ قبور پر مطلقاً عدمِ جواز ثابت کرتے ہیں۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ :

أَنّ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم لَعَنَ زَوَّارَتِ الْقُبُوْرِ. قَالَ وَفِي الباب : عن ابن عباس، وحسان بن ثابت. قال أبو عيسي : هذا حديثٌ حسنٌ صحيح. وقد رأي بعض أهل العلم، أن هذا کان قبل أن يرّخص النّبيّ صلي الله عليه وآله وسلم في زيارة القبور، فلما رخّص دخل في رخصته الرّجال والنّساء، وقال بعضهم : إنما کره زيارة القبور للنّساء، لقلة صبرهن، وکثرة جزعهن.

’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (کثرت سے) قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی۔ اس باب میں حضرت ابنِ عباس اور حسان بن ثابت رضی اﷲ عنھما سے بھی روایات مذکور ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ بعض علماء کے نزدیک یہ حکم اس وقت تھا جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زیارتِ قبور کی اجازت نہیں دی تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت فرما دی تو یہ اجازت مردوں اور عورتوں دونوں کو شامل ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں عورتوں کی زیارتِ قبور کی ممانعت اس وجہ سے ہے کہ ان میں صبر کم اور رونا دھونا زیادہ ہوتا ہے۔‘‘

ترمذي، السنن، کتاب الجنائز، باب ما جاء في کراهية زيارة القبور النساء، 3 : 371، رقم : 1056

شارحِ بخاری حافظ ابنِ حجر عسقلانی (م852ھ) نے شرح صحیح بخاری میں حدیثِ ترمذی کا ذکر کرکے لکھا ہے کہ :

قال القرطبي هذا اللّعن إنما هو للمکثرات من الزيارة لما تقتضيه الصفة من المبالغة، ولعل السبب ما يفضي إليه ذلک من تضييع حق الزوج، والتبرج، وما ينشأ منهن من الصّياح ونحو ذلک. فقد يقال : إذا أمن جميع ذلک فلا مانع من الإذن، لأن تذکر الموت يحتاج إليه الرّجال والنّساء.

’’قرطبی نے کہا یہ لعنت کثرت سے زیارت کرنے والیوں کے لئے ہے جیسا کہ صفت مبالغہ کا تقاضا ہے (یعنی زَوَّارات مبالغہ کا صیغہ ہے جس میں کثرت سے زیارت کرنے کا معنی پایا جاتا ہے) اور شاید اس کی وجہ سے یہ ہو کہ (بار بار) اس طرح کرنے سے شوہر کے حق کا ضیاع، زینت کا اظہار اور بوقتِ زیارت چیخ و پکار اور اس طرح دیگر ناپسندیدہ اُمور کا ارتکاب ہوجاتا ہے۔ پس اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ جب اس تمام ناپسندیدہ اُمور سے اجتناب ہوجائے تو پھر رخصت میں کوئی حرج نہیں کیونکہ مرد اور عورتیں دونوں موت کی یاد کی محتاج ہیں۔‘‘

ابن حجر عسقلاني، فتح الباري، 3 : 149

اسی بات کو شارحِ ترمذی علامہ عبدالرحمان مبارکپوری (م 1353ھ) نے تحفۃ الاخوذی (4 : 136) میں نقل کیا ہے۔

تمام شارحینِ حدیث اور فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ حصولِ عبرت اور تذکیرِ آخرت کے لئے زیارتِ قبور میں عموم ہے یعنی جس طرح ممانعت عام تھی اسی طرح جب رخصت ملی تو وہ بھی عام ہے۔ البتہ عورتیں چونکہ بے صبر ہوتی ہیں اگر اپنے کسی قریبی عزیز کی قبر پر جاکر اس طرح نوحہ کریں جس سے شریعت نے منع کیا ہے یا قبرستان میں ان کا جانا باعثِ فتنہ اور بے پردگی و بے حیائی کا باعث ہو، محرم ساتھ نہ ہو یا ایسا اجتماع ہو جہاں اختلاطِ مرد و زن ہو تو اس صورت میں عورتوں کا زیارتِ قبور کے لئے جانا بلا شبہ ممنوع ہے۔ اور اگر محرم کے ساتھ باپردہ قبرستان جائے اور وہاں جاکر دعا کرے، تذکیرِ آخرت سامنے ہو تو پھر رخصت ہے۔ جمہور احناف کے نزدیک رخصتِ زیارت مرد و زن دونوں کے لئے ہے۔

1. علامہ ابنِ نجیم حنفی (926. 970ھ) لکھتے ہیں :

وقيل تحرم علي النساء، والأصح أن الرخصة ثابته لهما.

’’یہ بھی کہا گیا ہے کہ زیارتِ قبر عورتوں کے لئے حرام ہے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ زیارتِ قبور کی اجازت مرد و زن دونوں کے لئے یکساں ہے۔‘‘

ابن نجيم، البحر الرائق، 2 : 210

2۔ علامہ ابنِ عابدین شامی حنفی نے لکھا ہے :

أمّا علي الاصحّ من مذهبنا وهو قول الکرخي وغيره، من أن الرخصة في زيارة القبور ثابتة للرّجال والنّساء جميعًا، فلا إشکال.

’’احناف کے نزدیک صحیح قول امام کرخی وغیرہ کا ہے وہ یہ کہ زیارتِ قبور کی اجازت مردو و زن دونوں کے لئے ثابت ہے جس میں کوئی اشکال نہیں۔‘‘

ابن عابدين، رد المحتار علي الدر المختار، 2 : 626

3۔ علامہ شرنبلالی (م 1069ھ) لکھتے ہیں :

نُدِبَ زِيَارَتُهَا لِلرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ عَلَی الْأصَح.

’’صحیح روایت کے مطابق زیارتِ قبور مردوں اور عورتوں کے لئے یکساں طور پر مندوب ہے۔‘‘

شرنبلالي، نور الإيضاح، فصل في زيارة القبور

4۔ علامہ طحطاوی (م 1231ھ) مراقی الفلاح کی شرح میں لکھتے ہیں :

وفي السراج : وأمّا النّساء إذا أردن زيارة القبور إن کان ذلک لتجديد الحزن، والبکاء، والندب کما جرت به عادتهن فلا تجوز لهن الزيارة، وعليه يحمل الحديث الصحيح ’’لعن اﷲ زائرات القبور‘‘. وإن کان للاعتبار، والتّرحّم، والتّبرّک بزيارة قبور الصّالحين من غير ما يخالف الشّرع فلا بأس به، إذا کنّ عجائز. وکره ذلک للشّابات، کحضورهن في المساجد للجماعات. وحاصله أن محل الرخص لهن إذا کانت الزيارة علي وجه ليس فيه فتنة. والأصحّ أن الرّخصة ثابتة للرّجال والنّساء لأن السّيدة فاطمة رضي اﷲ عنها کانت تزور قبر حمزة کل جمعة وکانت عائشة رضي اﷲ عنها تزور قبر أخيها عبد الرحمن بمکة، کذا ذکره البدر العيني في شرح البخاري.

’’سراج میں لکھا ہے : عورتیں جب زیارتِ قبور کا ارادہ کریں تو اس سے ان کا مقصد اگر آہ و بکا کرنا ہو جیسا کہ عورتوں کی عادت ہوتی ہے تو اس صورت میں ان کے لئے زیارت کے لئے جانا جائز نہیں اور ایسی صورت پر اس صحیح حدیث مبارکہ کہ اﷲتعالیٰ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرماتا ہے، کا اطلاق ہو گا اور اگر زیارت سے اُن کا مقصد عبرت و نصیحت حاصل کرنا اور قبورِ صالحین سے اﷲ تعالیٰ کی رحمت کی طلب اور حصولِ برکت ہو جس سے شریعت کی خلاف ورزی نہ ہو تو اس صورت میں زیارت کرنے میں کوئی حرج نہیں جبکہ خواتین بوڑھی ہوں، نوجوان عورتوں کا (بے پردہ) زیارت کے لئے جانا مکروہ ہے جیسا کہ ان کا مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز کے لئے آنا مکروہ ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ عورتوں کے لئے زیارتِ قبور کی رخصت تب ہے جب اس طریقے سے زیارت قبور کو جائیں کہ جس میں فتنہ کا اندیشہ نہ ہو اور صحیح بات یہ ہے کہ زیارتِ قبور کی رخصت مرد و زن دونوں کے لئے ثابت ہے کیونکہ (حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی) سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اﷲ عنہا ہر جمعہ کو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی قبر کی زیارت کرتی تھیں اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا اپنے بھائی حضرت عبد الرحمٰن رضی اللہ عنہ کی مکہ میں زیارت کرتی تھیں۔ یہی بات علامہ بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ نے شرح صحیح بخاری (عمدۃ القاری) میں لکھی ہے۔‘‘

طحطاوي، حاشية الطحطاوي علي مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح : 340 - 341

(3) عورتوں کی زیارتِ قبور میں احتیاط کے پہلو

خلاصۂ کلام یہ ہوا کہ عورتوں کا زیارتِ قبور کے لیے جانا اگر آخرت کی یاد دہانی، حصولِ عبرت، نصیحت اور زہد کے لیے ہو تو جائز ہے لیکن اگر ان کا جانا فتنہ اور بے حیائی کا باعث ہو اور شرعی حدود و قیود کا ارتفاع ہو تو پھر ممنوع ہے۔ ان وجوہات ہی کے باعث ہمارے بہت سے اکابر جن میں امام الھند اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ بھی شامل ہیں، نے عورتوں کے لئے زیارتِ قبور کو جانا حرام قرار دیا ہے۔

ارشاداتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور شارحینِ حدیث و ائمہِ فقہ کی آراء کی روشنی میں جمہور کا مؤقف یہی ہے کہ عورتوں کا زیارتِ قبور کے لئے جانا بعض شرائط کے ساتھ جائز ہے مثلاً :

  1. اس زیارت کا مقصد تذکیرِ موت و آخرت ہو۔
  2. اس زیارت کا مقصد اپنے عزیز رشتہ دار اور عام مومنین مردوں کو دعا و فاتحہ سے فائدہ پہنچانا ہو۔
  3. مقابر اور درباروں پر عورتوں کے لیے باپردہ الگ سے زیارت کرنے کا اہتمام ہو۔ اختلاطِ مرد و زن نہ ہو۔
  4. فتنہ اور بے حیائی سے تحفظ ہو۔
  5. عورتیں وہاں جا کر جزع و فزع کر کے غم تازہ نہ کریں۔
  6. کثرت سے زیارت کرنے والی نہ ہوں یعنی اسے روزانہ کا معمول نہ بنالیں۔ جبکہ :
  • درِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حاضری مرد و زن سب کے لیے باعثِ اجر ہے۔ اس پر جمہور ائمہ کا اتفاق ہے۔
  • اسی طرح دیگر انبیاء کرام علیہم السلام اور صالحین کی قبور کی زیارت بھی مندوب ہے۔

خلاصۂ بحث

زیارتِ قبور کی مکمل بحث کو درج ذیل امور کے تحت سمیٹا جا سکتا ہے :

  1. زیارتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور زیارتِ صالحین ہرگز بھی توحید کے منافی اور شرک میں داخل نہیں ہے۔
  2. حیاتِ مبارکہ میں اور بعد از وصال حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضۂ انور کی زیارت کرنا صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور اکابر ائمہ کا معمول رہا ہے۔
  3. اولیاء اور صالحین کی زیارت و ملاقات پر قرآن مجید اور احادیثِ مبارکہ سے ترغیب ملتی ہے اور اہل خیر کے ہاں یہ ایک محبوب عمل ہے۔
  4. اولیاء اور صالحین کے مزارات پر جانا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت، اکابرینِ امت کا طریق اور عوام الناس کا مقبول عمل رہا ہے۔
  5. عامۃ المسلمین کی قبور کی زیارت کرنا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعدد اِرشاداتِ عالیہ سے ثابت ہے اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مسنون عمل بھی ہے۔

درجِ بالا قرآن وسنت پر مشتمل تمام تحقیقی بحث کو مدّنظر رکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضۂ انور، اولیاء وصالحین کی زندگی میں اور بعد از وصال ان کے مزارات پر جائز طریقوں کے ساتھ حاضری دینا قطعاً شرک نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کا باعث ہے۔ ہمیں ان شرعی اصولوں کو مدنظر رکھنا چاہیئے جن کے تحت جائز ناجائز اور حلال حرام میں حدِ فاصل رکھی گئی ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved