Warning to the Prophet’s Denigrators

حصہ دوم

28. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عَمْرٍو رضي اﷲ عنهما قَالَ : يَأتِي عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ يَجْتَمِعُونَ وَ يُصَلُّونَ فِي الْمَسَاجِدِ وَ لَيْسَ فِيْهِمْ مُؤْمِنٌ.

رَوَاهُ ابْنُ أبِي شيبة وَ الْحَاکِمُ.

وَ قَالَ الْحَاکِمُ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ عَلَی شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ.

الحديث رقم 28 : أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 163، الرقم : 30355، 7 / 505، الرقم : 37586، و الحاکم في المستدرک، 4 / 489، الرقم : 8365، و الديلمي في الفردوس بماثور الخطاب، 5 / 441، الرقم : 8086، و أبو المحاسن في معتصر المختصر، 2 / 266، و الفريابي في صفة المنافق، 1 / 80، الرقم : 108.110.

’’حضرت عبد اﷲ بن عمرو رضی اﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ وہ مساجد میں جمع ہوں گے اور نمازیں ادا کریں گے لیکن ان میں سے مومن کوئی نہیں ہو گا۔‘‘

29. عَنْ أبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ رِجَالٌ يَخْتِلُونَ الدُّنْيَا بِالدِّيْنِ يَلْبَسُونَ لِلنَّاسِ جُلُودَ الضَّأنِ مِنَ الِلّيْنِ، ألْسِنَتُهُمْ أحْلَی مِنَ السُّکْرِ (وَفِي رِوَايَةٍ : أَلْسِنَتُهُمْ أحْلَی مِنَ الْعَسَلِ) وَ قُلُوبُهُمْ قَلُوبُ الذِّءَابِ، يَقُولُ اﷲُ عزوجل : أبِي يَغْتَرُّوْنَ أمْ عَلَيَّ يَجْتَرِءُوْنَ؟ فَبِي حَلَفْتُ لَأبْعَثَنَّ عَلَی أوْلَئِکَ مِنْهُمْ فِتْنَةً تَدَعُ الْحَلِيْمَ مِنْهُمْ حَيْرَانًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وَ قَالَ أبُو عِيْسَی : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.

الحديث رقم 29 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : الزهد عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : (59)، 4 / 604، الرقم : 2404.2405، و ابن أبي شيبة في المصنف، 7 / 235، الرقم : 35624، والبيهقي في شعب الإيمان، 5 / 362، الرقم : 6956، والطبراني في المعجم الأوسط، 8 / 379، و ابن المبارک في الزهد، 1 / 17، الرقم : 50، والديلمي في الفردوس بما ثور الخطاب، 5 / 510، الرقم : 8919، والمنذري في الترغيب والترهيب، 1 / 32، الرقم : 41، و ابن هناد في الزهد، 2 / 437، الرقم : 860.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : آخری زمانے میں کچھ لوگ پیدا ہوں گے جو دنیا کو دین کے ذریعے حاصل کریں گے، لوگوں کے سامنے بھیڑ کی کھالوں کا نرم لباس پہنیں گے۔ ان کی زبانیں شکر سے زیادہ شیریں ہوں گی (ایک روایت میں ہے کہ شہد سے بھی زیادہ میٹھی ہوں گی) اور ان کے دل بھیڑیوں کے دل ہوں گے۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے : ’’کیا یہ لوگ مجھے دھوکہ دینا چاہتے ہیں یا مجھ پر دلیری کرتے ہیں؟ (کہ مجھ سے نہیں ڈرتے؟) مجھے اپنی (ذات کی) قسم! جو لوگ ان میں سے ہوں گے۔ میں ضرور ان پر ایسے فتنے بھیجوں گا جو ان میں سے بردبار لوگوں کو بھی حیران کر دیں گے۔‘‘

30. عَنْ أَبِي بَکْرَةَ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : سَيَخْرُجُ قَوْمٌ أَحْدَاثٌ أَحِدَّاءُ أَشِدَّاءُ ذَلِقَةٌ أَلْسِنَتُهُمْ بِالْقُرْآنِ يَقْرَءُونَهُ لاَ يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ. فَإِذَا لَقِيْتُمُوهُمْ فَأَنِيْمُوهُمْ ثُمَّ إِذَا لَقِيْتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ فَإِنَّهُ يُؤْجَرُ قَاتِلُهُمْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْحَاکِمُ وَابْنُ أَبِي عَاصِمٍ.

رِجَالُ أَحْمَدُ رِجَالُ الصحيح، وَ قَالَ ابْنُ أَبِي عَاصِمٍ : إِسْنَادُهُ صَحِيْحٌ، وَقَالَ الْحَاکِمُ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم 30 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5 / 36، 44، والحاکم في المستدرک، 2 / 159، الرقم : 2645، وابن أبي عاصم في السنة، 2 / 456، الرقم : 937، وعبد اﷲ بن أحمد في السنة، 2 / 637، الرقم : 1519، وقال : إسناده حسن، والبيهقي في السنن الکبري، 8 / 187، والديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 2 / 322، الرقم : 3460، والهيثمي في مجمع الزوائد، 6 / 230، والحارث في المسند، (زوائد الهيثمي)، 2 / 714، الرقم : 704.

’’حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے روایت کی کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عنقریب نو عمر لوگ نکلیں گے جوکہ نہایت تیز طرار اور قرآن کو نہایت فصاحت و بلاغت سے پڑھنے والے ہوں گے وہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ سو جب تم ان سے ملو تو انہیں مار دو پھر جب (ان کا کوئی دوسرا گروہ نکلے اور) تم انہیں ملو تو انہیں بھی قتل کر دو یقیناً ان کے قاتل کو اجر عطا کیا جائے گا۔‘‘

31. عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضی الله عنه : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رضی الله عنه جَاءَ إِلَی رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم، فَقَالَ : يَارَسُولَ اﷲِ، إِنِّي مَرَرْتُ بِوَادٍ کَذَا وَکَذَا فَإِذَا رَجُلٌ مُتَخَشِّعٌ، حَسَنُ الْهَيْئَةِ، يُصَلِّي فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : اذْهَبْ إِلَيْهِ، فَاقْتُلْهُ، قَالَ : فَذَهَبَ إِلَيْهِ أَبُوبَکْرٍ، فَلَمَّا رَآهُ عَلَی تِلْکَ الْحَالِ کَرِهَ أَنْ يَقْتُلَهُ، فَرَجَعَ إِلَی رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم لِعُمَرَ : اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ فَذَهَبَ عُمَرُ فَرَآهُ عَلَی تِلْکَ الْحَالِ الَّتِي رَآهُ أَبُوبَکْرٍ قَالَ : فَکَرِهَ أَنْ يَقْتُلَهُ، قَالَ : فَرَجَعَ فَقَالَ : يَارَسُولَ اﷲِ، إِنِّي رَأَيْتُهُ يُصَلِّي مُتَخَشِّعًا فَکَرِهْتُ أَنْ أَقْتُلَهُ، قَالَ : يَا عَلِيُّ اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ، قَالَ : فَذَهَبَ عَلِيٌّ، فَلَمْ يَرَهُ فَرَجَعَ عَلِيٌّ، فَقَالَ : يَارَسُولَ اﷲِ، إِنَّهُ لَمْ يَرَهْ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنَّ هَذَا وَأَصْحَابَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرآنَ لاَ يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّيْنِ کَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَةِ ثُمَّ لاَ يَعُودُونَ فِيْهِ حَتَّی يَعُودُ السَّّهْمُ فِي فُوقِهِ فَاقْتُلُوهُمْ هُمْ شَرُّالْبَرِيَةِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

الحديث رقم 31 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 3 / 15، الرقم : 11133، والهيثمي في مجمع الزوائد، 6 / 225، وقال : رجاله ثقات، والعسقلاني في فتح الباري، 12 / 229، وابن حزم في المحلي، 11 / 104، والشوکاني في نيل الأوطار، 7 / 351.

’’حضرت ابوسعيد خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا : یارسول اﷲ! میں فلاں فلاں وادی سے گزرا تو میں نے ایک نہایت متواضع ظاہراً خوبصورت دکھائی دینے والے شخص کو نماز پڑھتے دیکھا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : اس کے پاس جاکر اسے قتل کردو۔ راوی نے کہا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اس کی طرف گئے تو انہوں نے جب اسے اس حال میں (نماز پڑھتے) دیکھا تو اسے قتل کرنا مناسب نہ سمجھا اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں (ویسے ہی) لوٹ آئے راوی نے کہا پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : جاؤ اسے قتل کرو، حضرت عمر گئے اور انہوں نے بھی اسے اسی حالت میں دیکھا جیسے کہ حضرت ابوبکر نے دیکھا تھا۔ انہوں نے بھی اس کے قتل کو ناپسند کیا۔ کہا کہ وہ بھی لوٹ آئے۔ اور عرض کیا : یارسول اﷲ! میں نے اسے نہایت خشوع و خضوع سے نماز پڑھتے دیکھا تو (اس حالت میں) اسے قتل کرنا پسند نہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے علی! جاؤ اسے قتل کردو کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے، تو انہیں وہ نظر نہ آیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ لوٹ آئے، پھر عرض کیا : یارسول اﷲ! وہ کہیں دکھائی نہیں دیا۔ کہا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یقیناً یہ اور اس کے ساتھی قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے گلوں سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے پھر وہ اس میں پلٹ کر نہیں آئیں گے یہاں تک کہ تیر پلٹ کر کمان میں نہ آجائے (یعنی ان کا پلٹ کر دین کی طرف لوٹنا ناممکن ہے) سو تم انہیں (جب بھی پاؤ) قتل کر دو وہ بدترین مخلوق ہیں۔‘‘

32. عَنْ أَبِي بَکْرَةَ رضی الله عنه : أَنَّ نَبِيَّ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم مَرَّ بِرَجُلٍ سَاجِدٍ وَهُوَ يَنْطَلِقُ إِلَي الصَّلاَةِ فَقَضَي الصَّلَاةَ وَرَجَعَ عَلَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ فَقَامَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم، فَقَالَ : مَنْ يَقْتُلُ هَذَا؟ فَقَامَ رَجُلٌ فَحَسَرَ عَنَ يَدَيْهِ فَاخْتَرَطَ سَيْفَهُ وَهَزَّهُ ثُمَّ قَالَ : يَانَبِيَّ اﷲِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، کَيْفَ أَقْتُلُ رَجُلاً سَاجِدًا يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اﷲُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ؟ ثُمَّ قَالَ : مَنْ يَقْتُلُ هَذَا؟ فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ : أَنَا فَحَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ وَاخْتَرَطَ سَيْفَهُ وَهَزَّهُ حَتَّي أَرْعَدَتْ يَدُهُ، فَقَالَ، يَانَبِيَّ اﷲِ، کَيْفَ أَقْتُلُ رَجُلاً سَاجِدًا يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اﷲُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صلي الله عليه وآله وسلم : وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ قَتَلْتُمُوهُ لَکَانَ أَوَّلَ فِتْنَةٍ وَآخِرَهَا.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ أَبِي عَاصِمٍ.

إِسْنَادُهُ صَحِيْحٌ وَرِجَالُهُ کُلُّهُمْ ثِقَاتٌ کَمَا قَالَ ابْنُ أَبِي عَاصِمٍ وَالْهَيْثَمِيُّ.

الحديث رقم 32 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5 / 42، الرقم : 19536، وابن أبي عاصم في السنة، 2 / 457، الرقم : 938، والهيثمي في مجمع الزوائد، 6 / 225، وقال رواه أحمد والطبراني ورجال أحمد رجال الصحيح، والحارث في المسند (زوائد الهيثمي) 2 / 713، الرقم : 703، وابن رجب فيجامع العلوم والحکم 1 / 131.

’’حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو حالت سجدہ میں تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لئے تشریف لے جا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز ادا کی اور اس کی طرف لوٹے اور وہ اس وقت بھی (حالتِ) سجدہ میں تھا، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوگئے پھر فرمایا : کون اسے قتل کرے گا؟ تو ایک آدمی کھڑا ہوا اس نے اپنے بازو چڑھائے تلوار سونتی اور اسے لہرایا (اس کی طرف دیکھا تو اس کی ظاہری وضع و قطع کو دیکھ کر متاثر ہوگیا)۔ پھر عرض کیا : یا نبی اﷲ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! میں کیسے اس شخص کو قتل کر دوں جو حالت سجدہ میں ہے اور گواہی دیتا ہے کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کون اسے قتل کرے گا؟ تو ایک شخص کھڑا ہوا، عرض کیا : میں، تو اس نے اپنے بازو چڑھائے اور اپنی تلوار سونتی اور اسے لہرایا (اسے قتل کرنے ہی لگا تھا) کہ اس کے ہاتھ کانپے، عرض کیا : اے اﷲ کے نبی! میں کیسے ایسے شخص کو قتل کروں جو حالت سجدہ میں گواہی دیتا ہے کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں؟ تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے! اگر تم اسے قتل کردیتے تو وہ فتنہ کا اول و آخر تھا (یعنی یہ فتنہ اسی پر ختم ہو جاتا)۔‘‘

33. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ : کَانَ فِي عَهْدِ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم رَجُلٌ يُعْجِبُنَا تَعَبُّدُهُ وَ اجْتِهَادُهُ (وَ فِي رِوَايَةٍ : حَتَّی جَعَلَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم أَنَّ لَهُ فَضْلاً عَلَيْهِمْ) قَدْ عَرَّفْنَاهُ لِرَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم بِاسْمِهِ وَ وَصَّفْنَاهُ بِصِفَتِهِ فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَذْکُرُهُ إِذْ طَلَعَ الرَّجُلُ قُلْنَا : هُوَ، هَذَا. قَالَ : إِنَّکُمْ لَتُخْبِرُوْنَ عَنْ رَجُلٍ إِنَّ عَلَی وَجْهِهِ سُفْعَةً مِنَ الشَّيْطَانِ فَأَقْبَلَ حَتَّی وَقَفَ عَلَيْهِمْ وَ لَمْ يُسَلِّمْ، فَقَالَ لَهُ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : أَنْشُدُکَ بِاﷲِ، هَلْ قُلْتَ فِي نَفْسِکَ حِيْنَ وَقَفْتَ عَلَی الْمَجْلِسِ مَا فِي الْقَومِ أَحَدٌ أَفْضَلُ أَوْ أَخْيَرُ مِنِّي؟ قَالَ : اللَّهُمَّ نَعَمْ، ثُمَّ دَخَلَ يُصَلِّي (وَفِي رِوَايَةٍ : ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَتَی نَاحِيَةً مِنَ الْمَسْجِدِ فَخَطَّ خَطًّا بِرِجْلِهِ ثُمَّ صَفَّ کَعْبَيْهِ فَقَامَ يُصَلِّي) فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَنْ يَقْتُلُ الرَّجُلَ؟ فَقَالَ أَبُوْبَکْرٍ : أَنَا فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَوَجَدَهُ يُصَلِّي فَقَالَ : سُبْحَانَ اﷲِ أَقْتُلُ رَجُلًا يُصَلِّي؟ وَ قَدْ نَهَی رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم عَنْ ضَرْبِ الْمُصَلِّيْنَ فَخَرَجَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَا فَعَلْتَ؟ قَالَ : کَرِهْتُ أَنْ أَقْتُلَهُ وَ هُوَ يُصَلِّي وَ قَدْ نَهَيْتَ عَنْ ضَرْبِ الْمُصَلِّيْنَ. قَالَ : مَنْ يَقْتُلُ الرَّجُلَ؟ قَالَ عُمَرُ : أَنَا، فَدَخَلَ فَوَجَدَهُ وَاضِعًا وَجْهَهُ، قَالَ عُمَرُ : أَبُوبَکْرٍ أَفْضَلُ مِنِّي، فَخَرَجَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَا فَعَلْتَ؟ قَالَ : وَجَدْتُهُ وَاضِعًا وَجْهَهُﷲِ فَکَرِهْتُ أَنْ أَقْتُلَهُ. قَالَ : مَنْ يَقْتُلُ الرَّجُلَ؟ فَقَالَ عَلِيٌّ : أَنَا، قَالَ : أَنْتَ لَهُ إِنْ أَدْرَکْتَهُ. قَالَ : فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَوَجَدَهُ قَدْ خَرَجَ فَرَجَعَ إِلَی رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فَقَالَ : مَا فَعَلْتَ؟ قَالَ : وَجَدْتُهُ وَ قَدْ خَرَجَ قَالَ : لَوْ قُتِلَ مَا اخْتَلَفَ فِي أُمَّتِي رَجُلَانِ کَانَ أَوَّلُهُمْ وَ آخِرُهُمْ. قَالَ مُوْسَی : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ کَعْبٍ يَقُولُ : هُوَ الَّذِي قَتَلَهُ عَلِيٌّ رضی الله عنه ذَا الثَّدْيَةِ.

وَ فِي رِوَايَةٍ : فَقَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : هَذَا أَوَّلُ قَرْنٍ مِنَ الشَّيْطَانِ طَلَعَ فِي أُمَّتِي (أَوْ أَوَّلُ قَرْنٍ طَلَعَ مِنْ أُمَّتِي) أَمَّا إِنَّکُمْ لَوْ قَتَلْتُمُوهُ مَا اخْتَلَفَ مِنْکُمْ رَجُلَانِ، إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيْلَ اخْتَلَفُوا عَلَی إِحْدَی أَوِ اثْنَتَيْنِ وَ سَبْعِيْنَ فِرْقَةً، وَ إِنَّکُمْ سَتَخْتَلِفُوْنَ مِثْلَهُمْ أَوْ أَکْثَرَ، لَيْسَ مِنْهَا صَوَابٌ إِلَّا وَاحِدَةٌ. قِيْلَ : يَا رَسُولَ اﷲِ، وَ مَا هَذِهِ الْوَاحِدَةُ؟ قَالَ : الْجَمَاعَةُ، وَ آخِرُهَا فِي النَّارِ. رَوَاهُ أَبُو يعلی وَ عَبْدُالرَّزَّاقِ وَ أَبُو نُعِيْمٍ.

وَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصحيح کَمَا قَالَ الْهَيْثَمِيُّ. وَ إِسْنَادُهُ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم 33 : أخرجه أبو يعلي في المسند، 1 / 90، الرقم : 90، 7 / 155، 168، الرقم : 4143، 4127، و عبدالرزاق في المصنف، 10 / 155، الرقم : 18674، و أبو نعيم فيحلية الأولياء، 3 / 52، و المروزي في السنة، 1 / 21، الرقم : 53، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 17 / 69، الرقم : 2499، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 6 / 226.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرمایا : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ مبارک میں ایک شخص تھا جس کی عبارت گزاری اور مجاہدے نے ہمیں حیرانگی میں مبتلا کیا ہوا تھا۔ (اور ایک روایت میں ہے کہ یہاں تک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے بعض اسے خود سے بھی افضل گرداننے لگے تھے) ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس کا نام اور اس کی صفات بیان کرکے اس کا تعارف کرایا۔ ایک دفعہ ہم اس کا ذکر کر رہے تھے کہ وہ شخص آ گیا۔ ہم نے عرض کیا : وہ یہ شخص ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیشک تم جس شخص کی خبریں دیتے تھے یقیناً اس کے چہرے پر شیطانی رنگ ہے سو وہ شخص قریب آیا یہاں تک کہ ان کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا اور اس نے سلام بھی نہیں کیا۔ تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا : میں تجھے اللہ کی قسم دیتا ہوں (تمہیں کہ سچ بتانا) کہ جب تو مجلس کے پاس کھڑا تھا تو نے اپنے دل میں یہ نہیں کہا تھا کہ لوگوں میں مجھ سے افضل یا مجھ سے زیادہ برگزیدہ شخص کوئی نہیں؟ اس نے کہا : اللہ کی قسم! ہاں (میں نے کہا تھا)۔ پھر وہ (مسجد میں) داخل ہوا نماز پڑھنے لگا۔ (اور ایک روایت میں ہے کہ پھر وہ شخص مڑا مسجد کے صحن میں آیا، نماز کی تیاری کی، ٹانگیں سیدھی کیں اور نماز پڑھنے لگا) تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس شخص کو کون قتل کرے گا؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میں کروں گا سو وہ اس کے پاس گئے تو اسے نماز پڑھتے ہوئے پایا کہنے لگے۔ سبحان اللہ میں نماز پڑھتے شخص کو (کیسے) قتل کروں؟ جبکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازیوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ تو وہ باہر نکل گئے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو نے کیا کیا؟ عرض کیا : میں نے اس حالت میں کہ وہ نماز پڑھ رہا تھا اسے قتل کرنا نا پسند کیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازیوں کو قتل کرنے سے منع کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس شخص کو کون قتل کرے گا؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میں کروں گا سو وہ اس کے پاس گئے تو اسے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں چہرہ جھکائے دیکھا۔ حضرت عمر نے کہا : حضرت ابوبکر مجھ سے افضل ہیں لہٰذا وہ بھی (اسے قتل کئے بغیر) باہر نکل گئے۔ تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو نے کیا کیا؟ عرض کیا : میں نے اسے اللہ تعالی کی بارگاہ میں سرجھکائے دیکھا تو (اس حالت میں) اسے قتل کرنا ناپسند کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کون اس شخص کو قتل کرے گا؟ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میں کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم ہی اس کے (قتل کے) لئے ہو اگر تم نے اسے پالیا تو (تم ضرور اسے قتل کر لو گے) راوی نے بیان کیا کہ وہ اندر اس کے پاس گئے تو دیکھا کہ وہ چلا گیا تھا وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لوٹ آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو نے کیا کیا؟ حضرت علی نے عرض کیا : میں نے دیکھا تو وہ چلا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر وہ قتل کردیا جاتا تو میری امت میں دوآدمیوں میں بھی کبھی اختلاف نہ ہوتا وہ (فتنہ میں) ان کا اول و آخر تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بیان کیا میں نے حضرت محمد بن کعب رضی اللہ عنہ سے سنا : فرماتے ہیں : وہ وہی پستان (کے مشابہ ہاتھ) والا تھا جسے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا۔‘‘

اور ایک روایت میں ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ شیطان کا پہلا سینگ ہے جو میری امت میں ظاہر ہوگا (یا پہلا سینگ ہے جو میری امت میں ظاہر ہوا) جبکہ اگر تم اسے قتل کر دیتے تو تم میں سے دو آدمیوں میں کبھی اختلاف نہ ہوتا۔ بیشک بنی اسرائیل میں اختلاف سے وہ اکتہر یا بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور تم عنقریب اتنے ہی یا اس سے بھی زیادہ فرقوں میں بٹ جاؤ گے ان میں سے کوئی راہ راست پر نہیں ہوگا سوائے ایک کے، عرض کیا گیا : یا رسول اللہ! وہ ایک فرقہ کون سا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جماعت (سب سے بڑا گروہ) اس کے علاوہ دوسرے سب آگ میں جائیں گے۔‘‘

34. عَنْ طَارِقِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ عَلِيٍّ رضی الله عنه إِلَی الْخَوَارِجِ فَقَتَلَهُمْ، ثُمَّ قَالَ : انْظُرُوا فَإِنَّ نَبِيَّ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : إِنَّهُ سَيَخْرُجُ قَومٌ يَتَکَلَّمُونَ بِالْحَقِّ لاَ يُجَاوِزُ حَلْقَهُمْ، يَخْرُجُونَ مِنَ الْحَقِّ کَمَا يَخْرُجُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَةِ . . . الحديث. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ.

الحديث رقم 34 : أخرجه النسائي في السنن الکبري، 5 / 161، الرقم : 8566، و أحمد بن حنبل في المسند، 1 / 107، الرقم : 848، وفي فضائل الصحابة، 2 / 714، الرقم : 1224، والخطيب في تاريخ بغداد، 14 / 362، الرقم : 7689، والمروزي في تعظيم قدر الصلاة، 1 / 256، الرقم : 247، والمزي في تهذيب الکمال، 13 / 338، الرقم : 2948.

’’حضرت طارق بن زیاد نے بیان کیا کہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خوارج کی طرف (ان سے جنگ کے لیے) نکلے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں قتل کیا پھر فرمایا : دیکھو بیشک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عنقریب ایسے لوگ نکلیں گے کہ حق کی بات کریں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا وہ حق سے یوں نکل جائیں گے جیسے کہ تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔‘‘

35. عَنْ مِقْسَمٍ أَبِي الْقَاسِمِ مَوْلَی عَبْدِ اﷲِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوفَلٍ عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضی الله عنهم . . . فَذَکَرَ الحديث وَ فِيْهِ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : فَإِنَّهُ سَيَکُونُ لَهُ شِيَعَةٌ يَتَعَمَّقُونَ فِي الدِّيْنِ حَتَّی يَخْرُجُوا مِنْهُ کَمَا يَخْرُجُ السَّهْمُ مِنَ الرَّّمِيَةِ . . . وَذَکَرَ تَمَامَ الحديث.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ أَبِي عَاصِمٍ.

وَقَالَ ابْنُ أَبِي عَاصِمٍ : إِسْنَادُهُ جَيِدٌ وَ رِجَالُهُ کُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.

الحديث رقم 35 : أخرجه أحمد بن حنبل في الصحيح، 2 / 219، الرقم : 7038، و ابن أبي عاصم في السنة 2 / 453. 454، الرقم : 929.930، و عبداﷲ بن أحمد في السنة، 2 / 631، الرقم : 1504، وابن تيمية في الصارم المسلول، 1 / 237، والعسقلاني في فتح الباري، 12 / 292، والطبري في تاريخ الأمم والملوک، 2 / 176.

’’عبداﷲ بن حارث بن نوفل مولی مقسم ابوالقاسم رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عنقریب اس کا ایک گروہ ہو گا جو دین سے (ظاہراً) بہت گہری وابستگی رکھنے والے نظر آئیں گے مگر دین سے یوں نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ ۔ ۔ پھر مکمل حدیث ذکر کی۔‘‘

36. عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : سَيَخْرُجُ أقْوَامٌ مِنْ أمَّتِي يَشْرَبُوْنَ الْقُرْآنَ کَشُرْبِهِمُ اللَّبَنَ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَ رِجَالُهُ ثِقَاتٌ کَمَا قَالَ الْهَيْثَمِيُّ وَ الْمَنَاوِيُّ.

الحديث رقم 36 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 17 / 297، الرقم : 821، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 6 / 229، و المناوي في فيض القدير، 4 / 118.

’’حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عنقریب میری امت میں سے ایسے لوگ نکلیں گے جو قرآن کو یوں (غٹ غٹ) پڑھیں گے گویا وہ دودھ پی رہے ہیں۔‘‘

37. عَنْ أنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه أنَّ رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم دَخَلَ عَامَ الْفَتْحِ وَ عَلَی رَأسِهِ الْمِغْفَرُ فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ : إِنَّ ابْنَ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأسْتَارِ الْکَعْبَةِ فَقَالَ : اقْتُلُوْهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم 37 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الحج، باب : دخول الحرم و مکة بغير إحرام، 2 / 655، الرقم : 1749، و في کتاب : الجهاد والسير، 3 / 1107، الرقم : 2879، و في کتاب : المغازي، باب : أين رکز النبي صلي الله عليه وآله وسلم الرأية يوم الفتح، 4 / 1561، الرقم : 4035، و مسلم في الصحيح، کتاب : الحج، باب : جواز دخول مکة بغير إحرام، 2 / 989، الرقم : 1357، و الترمذي في السنن، کتاب : الجهاد عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : ماجاء في المغفر، و قال : هذا حديث حسن صحيح، 4 / 202، الرقم : 1693، و أبو داود في السنن، کتاب : الجهاد، باب : قتل الأسير ولايعرض عليه الإسلام، 3 / 60، الرقم : 2685، و النسائي في السنن، کتاب : مناسک الحج، باب : دخول مکة بغير إحرام، 5 / 200، الرقم : 2867، و في السنن الکبري، 2 / 382، الرقم : 3850، و أحمد بن حنبل في المسند، 3 / 185، 231.232، الرقم : 12955، 13437، 13461، 13542، و ابن حبان في الصحيح، 9 / 37، الرقم : 3721، و االطحاوي في شرح معاني الآثار، 2 / 259، و الطبراني في المعجم الأوسط، 9 / 29، الرقم : 9034، و ابن تيمية في الصارم المسلول، 1 / 140.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فتح (مکہ) کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر مبارک پر لوہے کا خود تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اتارا تو ایک شخص نے آ کر عرض کیا : (یا رسول اﷲ! آپ کا گستاخ) ابنِ خطل (جان بچانے کے لئے) کعبہ کے پردوں سے لٹکا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اسے قتل کر دو۔‘‘

38. عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بِلْقِيْنَ : أنَّ امْرَأةً کَانَتْ تَسُبُّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم . فَقَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : مَنْ يَکْفِيْنِي عَدُوِّي؟ فَخَرَجَ إِلَيْهَا خَالِدُ بْنُ الوليد رضی الله عنه فَقَتَلَهَا. رَوَاهُ عَبْدُالرَّزَّاقِ وَالبيهقي.

الحديث رقم 38 : أخرجه عبدالرزاق في المصنف، 5 / 307، الرقم : 9705، والبيهقي في السنن الکبري، 8 / 202، و ابن تيمية في الصارم المسلول، 1 / 140.

’’عروہ بن محمد نے بلقین کے کسی شخص سے روایت کی کہ ایک عورت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دیا کرتی تھی۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے دشمن سے میرا بدلہ کون لے گا؟ تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اس کی طرف گئے اور اسے قتل کر دیا۔‘‘

39. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما : أنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِکِيْنَ شَتَمَ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم فَقَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : مَنْ يَکفِيْنِي عَدُوِّي؟ فَقَالَ الزُّبَيْرُ : أنَا، فَبَارَزَهُ، فَقَتَلَهُ، فَأعْطَاهُ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم سَلَبَهُ. رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَ أبُونُعَيْمٍ.

الحديث رقم 39 : أخرجه عبدالرزاق في المصنف، 5 / 237، 307، الرقم : 9477، 9704، و أبو نعيم في حلية الأولياء، 8 / 45، و ابن تيمية في الصارم المسلول، 1 / 154.

’’حضرت (عبداللہ) بن عباس ر ضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مشرک شخص نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کون میرے دشمن سے بدلہ لے گا؟ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میں پھر میدان میں نکل کر اسے قتل کر دیا، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقتول کے جسم کا سامان حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔‘‘

40. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَنْ بَدَّلَ دِيْنَهُ فَاقْتُلُوْهُ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَ التِّرْمِذِيُّ وَ أبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَ ابْنُ ماجة وَاللَّفْظُ لَهُمَا.

الحديث رقم 40 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الجهاد و السير، باب : لا يعذب بعذاب اﷲ، 3 / 1098، الرقم : 2854، و الترمذي في السنن، کتاب : الحدود عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : ماجاء في المرتد، 4 / 59، الرقم : 1458، و أبو داود في السنن، کتاب : الحدود، باب : الحکم فيمن ارتد، 4 / 126، الرقم : 4351، والنسائي في السنن، کتاب : تحريم الدم، باب : الحکم في المرتد، 7 / 103، الرقم : 4059، و ابن ماجة في السنن، کتاب : الحدود، باب : المرتد عن دينه، 2 / 848، الرقم : 2535، و أحمد بن حنبل في المسند، 1 / 322، الرقم : 2968، و ابن حبان في الصحيح، 10 / 327، الرقم : 4475.

’’حضرت (عبداللہ) بن عباس رضی اﷲ عنھما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو (مسلمان) اپنا دین بدل لے (یعنی اس سے پھر جائے) اسے قتل کر دو۔‘‘

41. عَنْ عَبْدِالْمَلِکِ عَنْ أبِي حُرَّةِ : أنَّ عَلِيًّا رضی الله عنه لَمَّا بَعَثَ أبَا مُوْسَي ِلإنْفَاذِ الْحَکُومَةِ، اجْتَمَعَ الْخَوَارِجُ فِي مَنْزِلِ عَبْدِ اﷲِ بْنِ وَهَبِ الرَّاسِبِيِّ مِنْ رُؤُوْسِ الْخَوَارِجٍ، فَخَطَبَهُمْ خُطْبَةً بَلِيْغَةً زَهَّدَهُمْ فِي هَذِهِ الدُّنْيَا وَ رَغَّبَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَالْجَنَّةِ وَ حَثَّهُمْ عَلَی الْأمْرِ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْکَرِ ثُمَّ قَالَ : فَاخْرُجُوا بِنَا إِخْوَانِنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أهْلُهَا إِلَی جَانِبِ هَذَا السَّوَادِ إِلَی بَعْضِ کُوَرِ الْجِبَالِ أوْ بَعْضِ هَذِهِ الْمَدَائِنِ مُنْکَرِيْنَ لِهَذِهِ الْبِدَعٍ الْمُضِلَّةِ. . . ثُمَّ اجْتَمَعُوا فِي مَنْزِلِ شُرَيْحِ بْنِ أوْفَی الْعَبَسِيِّ فَقَالَ ابْنُ وَهَبٍ : اشْخَصُوا بِنَا إِلَی بَلَدَةٍ نَجْتَمِعُ فِيْهَاِلإِنْفَاذِ حُکْمِ اﷲِ فَإِنَّکُمْ أهْلُ الْحَقِّ. رَوَاهُ ابْنُ جَرِيْرٍ وَابْنُ الْأثِيْرِ وَابْنُ کَثِيْرٍ.

الحديث رقم 41 : أخرجه ابن جرير الطبري في تاريخ الأمم والملوک، 3 / 115، وابن الأثير في الکامل، 3 / 213. 214، وابن کثير في البداية والنهاية، 7 / 285.286 وابن الجوزي في المنتظم في تاريخ الملوک والأمم، (حتي 257ه)، 5 / 130.131.

’’عبدالملک نے ابوحرہ سے روایت بیان کی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ (اشعری رضی اللہ عنہ) کو (اپنا گورنر بنا کر) نفاذ حکومت کے لئے بھیجا تو خوارج عبداللہ بن وھب راسبی (خارجی سردار) کے گھر میں جمع ہوئے اور اس نے انہیں بلیغ خطبہ دیا جس میں اس نے انہیں اس دنیا سے بے رغبتی اور آخرت اور جنت کی رغبت دلائی اور انہیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر ابھارا۔ پھر کہا : ہمارے لئے ضروری ہے ہم پہاڑوں یا دوسرے شہروں کی طرف نکل جائیں تاکہ ان گمراہ کرنے والی بدعتوں سے ہمارا انکار ثابت ہوجائے۔ ۔ ۔ پھر سب شریح بن ابی اوفی عبسی کے گھر جمع ہوئے تو ابن وھب نے کہا : اب کوئی شہر ایسا دیکھنا چاہئے کہ (اسے اپنا مرکز بناکر) ہم سب اسی میں جمع ہوں اور اللہ تعالیٰ کا حکم جاری کریں۔ کیونکہ اہلِ حق اب تم ہی لوگ ہو۔‘‘

42. ذکر ابن الأثير في الکامل : خَرَجَ الْأشْعَثُ بِالْکِتَابِ يَقْرَؤُهُ عَلَي النَّاسِ حَتَّي مَرَّ عَلَي طَائِفَةٍ مِنْ بَنِي تَمِيْمٍ فِيْهِمْ عُرْوَةُ بْنِ أدَيَةِ أخُو أبِي بِلَالٍ فَقَرَأ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ عُرْوَةُ : تَحَکَّمُونَ فِي أمْرِ اﷲِ الرِّجَالُ؟ لَا حُکْمَ إِلَّا لِلّٰهِ.

الحديث رقم 42 : أخرجه ابن الأثير في الکامل، 3 / 196، و ابن الجوزي في المنتظم في تاريخ الملوک والأمم (حتي 257ه)، 5 / 123.

’’امام ابن اثیر نے ’’الکامل‘‘ میں بیان کیا : ’’اشعث بن قیس نے اس عہدنامہ کو (جو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان ہوا تھا) لے کر ہر ہر قبیلہ میں لوگوں کو سنانا شروع کیا۔ جب قبیلہ بنی تمیم میں پہنچے تو عروہ بن اُدیہ (خارجی) جو ابوبلال کا بھائی تھا بھی ان میں تھا جب اس نے وہ معاہدہ انہیں سنایا تو عروہ (خارجی) کہنے لگا : اللہ کے امر میں آدمیوں کو حَکم بناتے ہو؟ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حُکم نہیں کر سکتا۔‘‘

43. عَنْ عَلِيٍّ رضی الله عنه أنَّهُ کَتَبَ إِلَی الْخَوَارِجِ بِالنَّهْرِ : بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ، مِنْ عَبْدِ اﷲِ عَلِيٍّ أمِيْرِ الْمُؤْمِنِيْنَ إِلَی زَيْدِ بْنِ حُصَينٍ وَ عَبْدِ اﷲِ بْنِ وَهَبٍ وَ مَنْ مَعَهُمَا مِنَ النَّاسِ. أمَّا بَعْدُ فَإِنَّ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ اللَّذَيْنِ ارْتَضَيْنَا حَکَمَينِ قَدْ خَالَفَا کِتَابَ اﷲِ وَاتَّبَعَا هَوَاهُمَا بِغَيْرِ هُدًی مِنَ اﷲِ فَلَمْ يَعْمَلَا بِالسنة وَلَمْ يُنْفَذَا الْقُرْآنَ حُکْمًا فَبَرِی ءَ اﷲُ مِنْهُمَا وَ رَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ، فَإِذَا بَلَغَکُمْ کِتَابِي هَذَا فَأقْبِلُوا إِلَيْنَا فَإِنَّا سَائِرُونَ إِلَی عَدُوِّنَا وَ عَدُوِّکُمْ وَ نَحْنُ عَلَی الْأمْرِ الْأوَّلِ الَّذِي کُنَّا عَلَيْهِ.

فَکَتَبُوا (الخوارج) إِلَيْهِ : أمَّا بَعْدُ فَإِنَّکَ لَمْ تَغْضَبْ لِرَبِّکَ وَ إِنَّمَا غَضِبْتَ لِنَفْسِکَ فَإِنْ شَهِدْتَ عَلَی نَفْسِکَ بِالْکُفْرِ وَاسْتَقْبَلْتَ التَّوْبَةَ نَظَرْنَا فِيْمَا بِيْنَنَا وَ بَيْنَکَ وَ إِلَّا فَقَدْ نَبَذْنَاکَ عَلَی سَوَاءٍ، إِنَّ اﷲَ لَا يُحِبُّ الْخَائِنِيْنَ.

فَلَمَّا قَرَأ کِتَابَهُمْ أيِسَ مِنْهُمْ وَرَأی أنْ يَدَعَهُمْ وَ يَمْضِيَ بِالنَّاسِ حَتَّی يَلْقَی أهْلَ الشَّامِ حَتَّی يَلْقَاهُمْ.

رَوَاهُ ابْنُ جَرِيْرٍ وَالإِبْنُ الْأثِيْرِ وَابْنُ کَثِيْرٍ.

الحديث رقم 43 : أخرجه ابن جرير الطبري في تاريخ الأمم والملوک، 3 / 117، وابن الأثير في الکامل، 3 / 216، وابن کثير في البداية والنهاية، 7 / 287، و ابن الجوزي في المنتظم، 5 / 132.

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے خوارج کو نہروان سے خط لکھا : ’’اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے : اللہ کے بندے امیر المؤمنین علی کی طرف سے زید بن حصین اور عبداللہ بن وھب اور ان کے پیروکاروں کے لئے۔ واضح ہو کہ یہ دو شخص جن کے فیصلہ پر ہم راضی ہوئے تھے انہوں نے کتاب اللہ کے خلاف کیا اور اللہ کی ہدایت کے بغیر اپنی خواہشات کی پیروی کی۔ جب انہوں نے قرآن و سنت پر عمل نہیں کیا تو اللہ اور اللہ کا رسول اور سب اہل ایمان ان سے بری ہوگئے۔ تم لوگ اس خط کو دیکھتے ہی ہماری طرف چلے آؤ تاکہ ہم اپنے اور تمہارے دشمن کی طرف نکلیں اور ہم اب بھی اپنی اسی پہلی بات پر ہیں۔

اس خط کے جواب میں انہوں نے (یعنی خوارج نے) حضرت علی رضی اللہ عنہ کو لکھا : ’’واضح ہو کہ اب تمہارا غضب اللہ کے لئے نہیں ہے اس میں نفسانیت شریک ہے اب اگر تم اپنے کفر پر گواہ ہو جاؤ (یعنی کافر ہونے کا اقرار کر لو) اور نئے سرے سے توبہ کرتے ہو تو دیکھا جائے گا ورنہ ہم نے تمہیں دور کردیا کیونکہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

سو جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کا جوابی خط پڑھا تو ان کی طرف سے (ہدایت کی طرف لوٹنے سے) مایوس ہوگئے لہٰذا انہیں ان کے حال پر چھوڑنے کا فیصلہ کرکے اپنے لشکر کے ساتھ اہل شام سے جا ملے۔‘‘

44. عَنْ زِيَادِ بْنِ أبِيْهِ أنَّ عُرْوَةً بْنَ حُدَيْرٍ (الخارجي) نَجَا بَعْدَ ذَلِکَ مِنْ حَرْبِ النَّهَرْوَانِ وَ بَقِيَ إِلَی أيَامِ مُعَاوِيَةَ رضی الله عنهم. ثُمَّ أتَی إِلَی زِيَادِ بْنِ أبِيْهِ وَ مَعَهُ مَولَی لَهُ، فَسَألَهُ زِيَادُ عَنْ عُثْمَانَ رضي اﷲ عنه، فَقَالَ : کُنْتُ أوَالِيَ عُثْمَانَ عَلَی أحْوَالِهِ فِي خِلَافَتِهِ سِتَّ سِنِيْنَ. ثُمَّ تَبَرَأتُ مِنْهُ بِعْدَ ذَلِکَ لِلْأحْدَاثِ الَّتِي أحْدَثَهَا، وَ شَهِدَ عَلَيْهِ بِالْکُفْرِ. وَسَألَهُ عَنْ أمِيْرِ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلِيِّ رضی الله عنه فَقَالَ : کُنْتُ أتَوَلَّاهُ إِلَی أنْ حَکَمَ الْحَاکِمِيْنَ، ثُمَّ تَبَرَأتُ مِنْهُ بَعْدَ ذَلِکَ، وَ شَهِدَ عَلَيْهِ بِالْکُفْرِ وَسَألَهُ عَنْ مُعَاوِيَةَ رضی الله عنه فَسَبَّهُ سَبًّا قَبِيْحًا. . . فَأمَرَ زِيَادُ بِضَرْبِ عُنُقِهِ. رَوَاهُ الشَّهَرَسْتَانِيُّ.

الحديث رقم 44 : أخرجه عبدالکريم الشهرستاني في الملل والنحل، 1 / 137.

’’زیاد بن امیہ سے مروی ہے کہ عروہ بن حدیر (خارجی) نہروان کی جنگ سے بچ گیا اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور تک زندہ رہا پھر وہ زیاد بن ابیہ کے پاس لایا گیا اس کے ساتھ اس کا غلام بھی تھا تو زیاد نے اس سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا حال دریافت کیا؟ اس نے کہا : ابتدا میں چھ سال تک ان کو میں بہت دوست رکھتا تھا پھر جب انہوں نے بدعتیں شروع کیں تو ان سے علیحدہ ہو گیا اس لئے کہ وہ آخر میں (نعوذ باﷲ) کافر ہوگئے تھے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حال پوچھا؟ کہا : وہ بھی اوائل میں اچھے تھے جب حکم بنایا (نعوذ باﷲ) کافر ہوگئے۔ اس لئے ان سے بھی علیحدہ ہوگیا۔ پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا حال دریافت کیا؟ تو انہیں اس نے سخت گالیاں دیں۔ ۔ ۔ پھر زیاد نے اسکی گردن مارنے کا حکم دے دیا۔‘‘

45. عَنْ أبِي الطُّفَيْلِ : أنَّ رَجُلًا وُلِدَ لَهُ غُلَامٌ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فَأتَی النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم فَأخَذَ بِبَشَرَةِ وَجْهِهِ وَ دَعَا لَهُ بِالْبَرَکَةِ قَالَ : فَنَبتَتْ شَعَرَةٌ فِي جَبْهَتِهِ کَهَيْئَةِ الْقَوسِ وَ شَبَّ الْغُلَامُ فَلَمَّا کَانَ زَمَنَ الْخَوَارِجِ أحَبَّهُمْ فَسَقَطَتِ الشَّعَرَةُ عَنْ جَبْهَتِهِ فَأخَذَهُ أبُوهُ فَقَيَدَهُ وَ حَسَبَهُ مَخَافَةَ أنْ يَلْحَقَ بِهِمْ قَالَ : فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَوَعَظْنَاهُ وَ قُلْنَا لَهُ فِيْمَا نَقُولُ ألَمْ تَرَ أنَّ بَرَکَةَ دَعْوَةِ رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَدْ وَقَعَتْ عَنْ جَبْهَتِکَ فَمَا زِلْنَا بِهِ حَتَّی رَجَعَ عَنْ رَأيِهِمْ فَرَدَّ اﷲُ عَلَيْهِ الشَّعَرَةَ بَعْدُ فِي جَبْهَتِهِ وَ تَابَ.

رَوَاهُ أحْمَدُ وَابْنُ أبِي شيبة.

الحديث رقم 45 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5 / 456، الرقم : 23856، و ابن أبي شيبة في المصنف، 7 / 556، الرقم : 37904، والأصبهاني في دلائل النبوة، 1 / 174، الرقم : 220، والهيثمي في مجمع الزوائد، 6 / 243، 10 / 275، وقال : رواه أحمد والطبراني ورجاله رجال علي ابن زيد وقد وثق، والعسقلاني في الإصابة، 5 / 359، الرقم : 6972.

’’ابو طفیل سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ایک لڑکا پیدا ہوا وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اس کے چہرے سے پکڑا اور اسے دعا دی اور اس کا یہ اثر ہوا کہ اس کی پیشانی پر خاص طور پر بال اگے جو تمام بالوں سے ممتاز تھے وہ لڑکا جوان ہوا اور خوارج کا زمانہ آیا تو اسے ان سے محبت ہو گئی (یعنی خوارج کا گرویدہ ہو گیا) اسی وقت وہ بال جو دست مبارک کا اثر تھے جھڑ گئے اس کے باپ نے جو یہ حال دیکھا اسے قید کر دیا کہ کہیں ان میں مل نہ جائے۔ ابو طفیل کہتے ہیں کہ ہم لوگ اس کے پاس گئے اور وعظ و نصیحت کی اور کہا دیکھو تم جب ان لوگوں کی طرف مائل ہوئے ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کی برکت تمہاری پیشانی سے جاتی رہی غرض جب تک اس شخص نے ان کی رائے سے رجوع نہ کیا ہم اس کے پاس سے ہٹے نہیں پھر جب خوارج کی محبت اس کے دل سے نکل گئی تو اللہ تعالیٰ نے دوبارہ اس کی پیشانی میں وہ مبارک بال لوٹا دیئے پھر تو اس نے ان کے عقائد سے توبہ کی۔‘‘

46. عَنْ سَعِيْدِ بْنِ جُهْمَانٍ قَالَ : کَانَتِ الْخَوَارِجُ قَدْ تَدْعُوْنِي حَتَّی کِدْتُ انْ ادْخُلَ فِيْهِمْ، فَرَاتْ اخْتُ ابِي بِلاَلٍ فِي النَّوْمِ انَّ ابَا بِلاَلٍ کَلْبٌ اهْلَبُ اسْوَدُ عَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ. فَقَالَتْ : بِابِي انْتَ يَا ابَا بِلَالٍ مَا شَانُکَ ارَاکَ هَکَذَا؟ وَ کَانَ ابُو بِلاَلٍ مِنْ رُؤُوسِ الْخَوَارِجِ.

رَوَاهُ ابْنُ ابِي شَيْبَةَ وَ ابْنُ ابِي عَاصِمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ اسْنَادُهُ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم 46 : اخرجه ابن ابي شيبة في المصنف، 7 / 555، الرقم : 37895، و عبد اﷲ بن احمد في السنة، 2 / 634، الرقم : 1509.

’’سعید بن جہمان سے مروی ہے بیان کیا کہ خوارج مجھے (اپنی طرف) دعوت دیا کرتے تھے (سو اس سے متاثر ہوکر) قریب تھا کہ میں ان کے ساتھ شامل ہو جاتا کہ ابو بلال کی بہن نے خواب میں دیکھا کہ ابو بلال کالے لمبے بالوں والے کتوں کی شکل میں ہے اس کی آنکھیں بہہ رہی تھیں۔ بیان کیا کہ اس نے کہا : اے ابو بلال میرا باپ آپ پر قربان کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں اس حال میں دیکھ رہی ہوں؟ اس نے کہا ہم لوگ تمہارے بعد دوزخ کے کتے بنا دیئے گئے ہیں وہ ابو بلال خارجیوں کے سرداروں میں سے تھا۔‘‘

47. عَنْ ابِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ : سَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي يَرْبُوعٍ، اوْ مِنْ بَنِي تَمِيْمٍ. عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رضی الله عنه عَنِ (الذَّارِيَاتِ وَالْمُرْسَلَاتِ وَالنَّازِعَاتِ) اوْ عَنْ بَعْضِهِنَّ، فَقَالَ عُمَرُ : ضَعْ عَنْ رَاسِکَ، فَاذَا لَهُ وَفْرَةٌ، فَقَالَ عُمَرُ رضی الله عنه : امَا وَاﷲِ لَوْ رَايْتُکَ مَحْلُوقًا لَضَرَبْتُ الَّذِي فِيْهِ عَيْنَاکَ، ثُمَّ قَالَ : ثُمَّ کَتَبَ الَی اهْلِ الْبَصْرَةِ اوْ قَالَ الَيْنَا. انْ لَا تُجَالِسُوهُ، قَالَ : فَلَوْ جَاءَ وَ نَحْنُ مِاءَةٌ تَفَرَّقْنَا.

رَوَاهُ سَعِيْدُ بْنُ يَحْيَی الْامْوِيُّ وَغَيْرُهُ بِاسْنَادٍ صَحِيْحٍ کَمَا قَالَ ابْنُ تَيْمِيَةَ.

الحديث رقم 47 : أخرجه ابن تيمية في الصارم المسلول، 1 / 195.

’’حضرت ابو عثمان نہدی بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ بنی یربوع یا بنی تمیم کے ایک آدمی نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ’الزَّارِيَاتِ وَالْمُرْسَلَاتِ وَالنَّازِعَاتِ‘ کے کیا معنی ہیں؟ یا ان میں سے کسی ایک کے بارے میں پوچھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اپنے سر سے کپڑا اتارو، جب دیکھا تو اس کے بال کانوں تک لمبے تھے۔ فرمایا : بخدا! اگر میں تمہیں سر منڈا ہوا پاتا تو تمہارا یہ سر اڑا دیتا جس میں تمہاری آنکھیں دھنسی ہوئی ہیں۔ شعبی کہتے ہیں پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اھل بصرہ کے نام خط لکھا یا کہا کہ ہمیں خط لکھا جس میں تحریر کیا کہ ایسے شخص کے پاس نہ بیٹھا کرو۔ راوی کہتا ہے کہ جب وہ آتا، ہماری تعداد ایک سو بھی ہوتی تو بھی ہم الگ الگ ہوجاتے تھے۔‘‘

48. عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيْدَ : قَالَ : فَبَيْنَمَا عُمَرُ رضی الله عنه ذَاتَ يَوْمٍ جَالِسًا يُغَدِّي النّاسَ اذَا جَاءَ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثِيَابٌ وَ عِمَامَةٌ فَتَغَدَّی حَتَّی اذَا فَرَغَ قَالَ : يَا امِيْرَ المُؤْمِنِيْنَ، (وَالذَّارِيَاتِ ذَرْوًا فَالْحَامِلَاتِ وِقْرًا) فَقَالَ عُمَرُ رضی الله عنه : انْتَ هُوَ فَقَامَ الَيْهِ وَ حَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ فَلَمْ يَزَلْ يَجْلِدُهُ حَتَّی سَقَطَتْ عِمَامَتُهُ، فَقَالَ : وَالَّذِي نَفْسُ عُمَرُ بِيَدِهِ، لَوْ وَجَدْتُکَ مَحْلُوقًا لَضَرَبْتُ رَاسَکَ. رَوَاهُ الامَامُ أَبُوالْقَاسِمِ هِبَةُ اﷲِ الْلاَلکَائِيُّ.

الحديث رقم 48 : أخرجه هبة اﷲ الالکائي في اعتقاد اهل السنة، 4 / 634، الرقم : 1136، والشوکاني في نيل الاوطار، 1 / 155، والعظيم آبادي في عون المعبود، 11 / 166، و ابن قدامة في المغني، 1 / 65، 9 / 8.

’’حضرت سائب بن یزید نے بیان کیا کہ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ بیٹھے دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے اسی اثنا میں ایک شخص آیا اس نے (اعلیٰ) کپڑے پہن رکھے تھے اور عمامہ باندھا ہوا تھا تو اس نے بھی دوپہر کا کھانا کھایا جب فارغ ہوا تو کہا : اے امیر المومنین (وَالزَّارِيَاتِ ذَرْوًا فَالْحَامِلَاتِ وِقْرًا) کا کیا معنی ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تو وہی (گستاخِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ہے۔ پھر اس کی طرف بڑھے اور اپنے بازو چڑھا کر اسے اتنے کوڑے مارے یہاں تک کہ اس کا عمامہ گرگیا۔ پھر فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! اگر میں تجھے سر منڈا ہوا پاتا تو تیرا سر کاٹ دیتا۔‘‘

49. عَنْ ابِي يَحْيَی قَالَ : سَمِعَ رَجُلًا مِنَ الْخَوَارِجِ وَ هُوَ يُصَلِّي صَلَاةَ الْفَجْرِ يَقُولُ : (وَلَقَدْ اوْحِيَ الَيْکَ وَالَی الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِکَ لَءِنْ اشْرَکْتَ لَيَحْبِطَنَّ عَمَلُکَ وَ لَتَکُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِيْنَ)،(الزمر، 39 : 65)، قَالَ فَتَرَکَ سُورَتَهُ الَّتِي کَانَتْ فِيْهَا قَالَ : وَ قَرَا (فَاصْبِرْ انَّ وَعْدَ اﷲِ حَقٌّ وَلَا يَسْتَخِفَّنَّکَ الَّذِيْنَ لَا يُوقِنُونَ)، (الروم، 30 : 60).

رَوَاهُ ابْنُ ابِي شَيْبَةَ.

الحديث رقم 49 : اخرجه ابن ابي شيبة في المصنف، 7 / 554، الرقم : 37891.

’’ابو یحییٰ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ ایک خارجی نے صبح کی نماز میں یہ آیت پڑھی ’’اور فی الحقیقت آپ کی طرف (یہ) وحی کی گئی ہے اور اُن (پیغمبروں) کی طرف (بھی) جو آپ سے پہلے (مبعوث ہوئے) تھے کہ ( اے انسان!) اگر تُو نے شرک کیا تو یقیناً تیرا عمل برباد ہو جائے گا اور تُو ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گا‘‘ مزید بیان کیا : پھر اس سورت کو چھوڑ کر اس نے دوسری سورت کی یہ آیت پڑھ ڈالی ’’پس آپ صبر کیجئے، بیشک اﷲ کا وعدہ سچا ہے، جو لوگ یقین نہیں رکھتے کہیں آپ کو کمزور ہی نہ کر دیں۔ (خوارج ان آیات قرآنی کو چن چن کر نماز میں پڑھتے تھے جن سے بزعم خویش ان بدبختوں کے معاذ اﷲ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تنقیص شان کا کوئی شائبہ پیدا ہوتا تھا۔ یہ ان کی گستاخانہ سوچ اور بدبختی تھی)۔‘‘

50. عَنْ ابِي غَالِبٍ قَالَ : کُنْتُ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقٍ فَجَاءُوا بِسَبْعِيْنَ رَاسًا مِنْ رُؤُوسِ الْحُرُورِيَةِ فَنُصِبَتْ عَلَی دُرَجِ الْمَسْجِدِ، فَجَاءَ ابُو امَامَةَ رضی الله عنه فَنَظَرَ الَيْهِمْ فَقَالَ : کِلَابُ جِهَنَّمَ، شَرُّ قَتْلَی قُتِلُوا تَحْتَ ظِلِّ السَّمَاءِ، وَ مَنْ قُتِلُوا خَيْرُ قَتْلَی تَحْتَ السَّمَاءِ، وَ بَکَی فَنَظَرَ الَيَّ وَقَالَ : يَا ابَا غَالِبٍ! انَّکَ مِنْ بَلَدِ هَؤُلَاءِ؟ قُلْتُ : نَعَمْ، قَالَ : اعَاذَکَ، قَالَ : اظُنُّهُ قَالَ : اﷲُ مِنْهُمْ، قَالَ : تَقْرَا آلَ عِمْرَانَ؟ قُلْتُ : نَعَمْ، قَالَ : (مِنْهُ آيَاتٌ مُحْکَمَاتٌ هُنَّ امُّ الْکِتَابِ وَ اخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ، فَامَّا الَّذِيْنَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَاوِيْلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَاوِيْلَهُ الَّا اﷲُ، والرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ)، (آل عمران، 3 : 7)، قَالَ : (يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوهٌ فَامَّا الَّذِيْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْهُهُمْ اکَفَرْتُمْ بَعْدَ ايْمَانِکُمْ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُونَ) (آل عمران، 3 : 106)، قُلْتُ : يَا ابَا امَامَةَ! انِّي رَايْتُکَ تُهْرِيْقُ عِبْرَتَکَ قَالَ : نَعَمْ، رَحْمَةٌ لَهُمْ انَّهُمْ کَانُوا مِنْ اهْلِ الاسْلَامِ، قَالَ : افْتَرَقَتْ بَنُو اسْرَائِيْلَ عَلَی وَاحِدَةٍ وَ سَبْعِيْنَ فِرْقَةً، وَ تَزِيْدُ هَذِهِ الْامَّةُ فِرْقِةً وَاحِدَةً، کُلُّهَا فِي النَّارِ الَّا السَّوَادَ الْاعْظَمَ، عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا وَ عَلَيْکُمْ مَا حُمِّلْتُمْ، وَ انْ تُطِيْعُوهُ تَهْتَدُوا، وَمَا عَلَی الرَّسُولِ الَّا الْبَلَاغُ، السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ خَيْرٌ مِنْ الْفِرْقَةِ وَالْمَعْصِيَةِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : يَا ابَا امَامَةَ! امِنْ رَايِکَ تَقُولُ امْ شَيئٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم؟ قَالَ : انِّي اذًا لَجَرِيئٌ قَالَ : بَلْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم مَرَّةً وَلَا مَرَّتَيْنِ حَتَّی ذَکَرَ سَبْعًا. رَوَاهُ ابْنُ ابِي شَيْبَةَ وَالْبَيْهَقِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ.

الحديث رقم 50 : اخرجه ابن ابي شيبة في المصنف، 7 / 554، الرقم : 37892، والبيهقي في السنن الکبری، 8 / 188، والطبراني في المعجم الکبير، 8 / 267 - 268، الرقم : 8034 - 8035، والحارث في المسند، (زوائد الهيثمي)، 2 / 716، الرقم : 706.

’’ابو غالب سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں مسجدِ دِمَشق میں تھا کہ خارجیوں کے ستر سر دمشق میں مسجد کی سیڑھیوں پر نصب کئے گئے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف دیکھ کر کہا کہ یہ جہنم کے کتے ہیں اور زیر آسمان تمام مقتولوں سے بدتر ہیں اور ان کے قاتلوں سے جو شہید ہوئے وہ زیرِ آسمان تمام مقتولوں سے بہتر ہیں یہ کہا اور روپڑے پھر میری طرف دیکھا اور پوچھا : اے ابو غالب : کیا تو اس شہر سے ہے میں نے کہا ہاں۔ انہوں نے کہا اﷲ تعالیٰ آپ کو ان سے محفوظ رکھے انہوں نے کہا کیا تم سورۃ آل عمران پڑھتے ہو؟ میں نے کہا ہاں۔ پھر یہ آیات ’’جس میں سے کچھ آیتیں محکم (یعنی ظاہراً بھی صاف اور واضح معنی رکھنے والی) ہیں وہی (احکام) کتاب کی بنیاد ہیں اور دوسری آیات متشابہ (یعنی معنی میں کئی احتمال اور اشتباہ رکھنے والی) ہیں، سو وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہے اس میں سے صرف متشابہات کی پیروی کرتے ہیں (فقط) فتنہ پروری کی خواہش کے زیراثر اور اصل مراد کی بجائے من پسند معنی مراد لینے کی غرض سے، اور اس کی اصل مراد کو اﷲ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور علم میں کامل پختگی رکھنے والے‘‘ اور فرمایا : ’’جس دن کئی چہرے سفید ہوں گے اور کئی چہرے سیاہ ہوں گے، تو جن کے چہرے سیاہ ہو جائیں گے (ان سے کہا جائے گا) کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا؟ تو جو کفر تم کرتے رہے تھے سو اس کے عذاب (کا مزہ) چکھ لو۔‘‘ میں نے کہا ابو امامہ! میں دیکھتا ہوں کہ آپ رو رہے ہیں؟ انہوں نے کہا ہاں۔ ان لوگوں (خوارجیوں پر ترس کھاتے ہوئے کیونکہ یہ اھل اسلام میں سے تھے۔ اور کہا : قوم بنی اسرائیل اکہتر فرقوں میں بٹ گئی تھی اور یہ امت ان سے ایک فرقہ بڑھے گی (یعنی بہتر فرقوں میں بٹ جائے گی) اور سواد اعظم (جو سب سے بڑا طبقہ ہے) اس کو چھوڑ کر باقی سارے جہنم میں جائیں گے۔ وہ اس کے جواب دہ ہیں جو ذمہ داری ان پر ڈالی گئی اور تم اس کے جواب دہ ہو جو ذمہ داری تم پر ڈالی گئی اور اگر تم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاجاؤ گے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذمہ تو صرف پہنچا دینا ہی ہے۔ اور غور سے (احکامات کو) سننا اور ان کو بجا لانا تفرقہ اور نافرمانی سے بہتر ہے۔ پس (یہ سن کر) ایک شخص نے کہا : اے ابو امامہ! کیا تم اپنی طرف سے یہ باتیں کہہ رہے ہو یا ان میں سے کچھ آپ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہیں؟ انہوں نے کہا (اگر میں اپنی طرف سے کہوں) تب تو میں بہت بڑی جسارت کرنے والا ہوں۔ نہیں بلکہ میں نے (یہ باتیں) ایک یا دو دفعہ نہیں بلکہ سات بار سنی ہیں۔‘‘

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved