Islam main Khawatin ke Huquq

مسلم معاشرے میں عورت کا کردار

یہ عورت کو اسلام کی عطا کردہ عزت اور تکریم ہی تھی جس سے وہ معاشرے کا ایک موثر اور باوقار حصہ بن گئی اور اس نے زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ سیاسی و انتظامی اور سفارتی کردار کے علاوہ تعلیم و فن کے میدان میں بھی عورتیں نمایاں مقام کی حامل تھیں۔ روایتِ حدیث، قرات و کتابت، شعر و ادب اور دیگر علوم و فنون میں بھی بے شمار خواتین مہارت اور سند کا درجہ رکھتی تھیں، (1) جن سے کچھ کا ذکر ذیل میں دیا گیا ہے :

1. طبري، تاريخ الامم و الملوک، 4 : 260
2. ابن عبد البر، الاستيعاب بر حاشيه الاصابه، 4 : 335

نمبرشمار

نام

کردار شہرت

1 اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا روایتِ حدیث، فقہ و قانون، تاریخ، علم الانساب، شعر، طب، علم نجوم
2 اسماء بنت ابی بکر روایتِ حدیث
3 اُم عبد اللہ بن زبیر روایتِ حدیث
4 شفاء العدویہ قرات و کتابت کی ماہر، ام المومنین حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنھما کی (قبل از شادی) معلمہ
5 عائشہ بنت طلحہ شعر و ادب، نجوم، علم الافلاک کی ماہرہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کی شاگرد و بھانجی
6 سکینہ بنت حسین رضی اللہ عنھما شعر و ادب کی ماہرہ
7 ولادہ بنت سنکنی الیادی شعر و ادب کی ماہرہ
8 علیہ بنت مہدی شعر و ادب کی ماہرہ
9 حمرہ بنت زیادت شعر و ادب کی ماہرہ
10 خنساء شعر و ادب کی ماہرہ
11 عائشہ الباعونیہ شعر و ادب کی ماہرہ
12 میمونہ بنت سعد روایتِ حدیث (حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے روایت کی ہے)
13 کریمہ مروزیہ روایتِ حدیث، امام بخاری نے ان سے اخذِ حدیث کیا
14 ام فضل کریمہ بنت عبد الوہاب محدثہ، مؤرّخ محمد بن ابی شامہ کی (علم حدیث میں) معلمہ
15 فاطمۃ بنت عباس عالمہ، فقیہہ، واعظہ، مصر و دمشق میں بڑا اثر تھا
16 فاطمۃ حمرانیہ محدثہ
17 اخت مزنی امام شافعی سے کسبِ علم کیا، مرافعی نے ان سے مسائل زکوٰۃ بیان کئے
18 نفیسہ بنت حسن بن زید بن حسن بن علی بن ابی طالب عالمہ
19 ہجیمہ بنت حیّ تابعین میں سے ہیں، محدثہ، ترمذی و ابن ماجہ نے ان سے روایت کی
20 فخر النساء سیدہ شہیدہ (5ھ) ادب اور تاریخ اسلامی کی ماہرہ اور معلمہ
21 سیدہ عائشہ بنت احمد بن قادم اندلسیہ عالمہ، فاضلہ، ماہر کتابت
22 لبنی لغت و نحو کی عالمہ
23 فاطمۃ بنت علی بن حسین بن حمزہ فقہ حنبلی کی ماہرہ، معاصر علماء نے ان سے قراۃ کی اور سند دارمی کی اجازت لی
24 رابعہ قسیسہ عدویہ واعظہ، حسن بصری نے بھی ان سے استفادہ کیا
25 سارہ بنت عمر بن عبد العزیز محدثہ
26 ام ایمن حبشیہ عالمہ، فاضلہ
27 شفاء بنت عبداللہ عدویۃ روایت حدیث کی ماہرہ
28 درہ بنت ابی لہب محدثہ، شاعرہ
29 فاطمۃ بنت قیس عالمہ، فقیہہ
30 اسماء بنت ابی بکر علم طب کی ماہرہ
31 فریعہ بنت مالک محدثہ، مجاہدہ
32 سلمی بنت قیس انصاریہ علم طب کی ماہرہ
33 زینب بنت ابی سلمہ محدثہ، فقیہہ، عالمہ
34 ام کلثوم بنت عقبہ امویہ کاتبہ، قاریہ، روایہ و محدثہ
35 صفیۃ بنت عبد المطلب شاعرہ
36 ام سنان اسلمیہ محدثہ
37 ام فضل بنت حارث محدثہ، راویہ، فقیھہ
38 سیدہ شریفہ فاطمہ یمن، صنعاء و نجران کی والیہ
39 شفاء بنت عبداللہ مخزومیہ حضرت عمر نے انہیں عدالتی ذمہ داری، قضاء الحسبہ (accountability court) اور قضاء السوق (market administration) پر فائز کیا۔
40 ام خلیفہ مقتدر سربراہ محکمہ استئناف (appellant court)، بغداد
41 سیدہ اروی بنت احمد بن محمد 5ھ کے اواخر میں یمن کی حاکمہ تھیں، ’الملک الاکرم‘ کی زوجہ
42 سیدہ حنیفہ خانون سلطان صلاح الدین کی بھتیجی 634ھ میں حلب کی والیہ رہیں
43 80 سے زائد خواتین محدثات ابن عساکر نے ان سے روایت کی(1)

1. مسلم، الصحيح، کتاب الإيمان، باب بيان أن الإسلام بدأ غريبا 7 : 144، 145
2. ابن سعد، الطبقات الکبريٰ، 8 : 45 - 48
3. ابن سعد، الطبقات الکبريٰ، 2 : 330
4. بيهقي، دلائل النبوه، 5 : 416، 417
5. بيهقي، دلائل النبوه، 6 : 181، 182
6. بيهقي، دلائل النبوه، 7 : 189
7. ابن عبد البر، الاستيعاب، 4 : 291، 333، 444
8. نووي، تهذيب الاسماء و اللغات، 1 : 142، 143
9. ابن اثير، اسد الغابة في معرفة الصحابه، 5 : 4، 450، 540
10. ابن کثير، البدايه و النهايه، 5 : 78
11. عسقلاني، الاصابه في تمييز الصحابه، 4 : 291، 311، 333
12. عسقلاني، تهذيب التهذيب، 12 : 421، 428، 477
13. ملا علي قاري، عمدة القاري، 1 : 28
14. زرقاني، شرح المواهب اللدنيه، 4 : 279 - 281

دفاعی اور جنگی مہمات میں حصہ لینے والی نمایاں خواتین درج ذیل ہیں :

نمبرشمار

نام

وجہ شہرت

1 حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا غزوہ احد میں شرکت
2 حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا غزوہ احد میں شرکت
3 صفیہ بنت عبد المطلب (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پھوپھی) غزوہ خیبر میں یہودی کو قتل کیا
4 ام الخیر بنت حریش بارقیہ جنگی اور دفاعی مہمات میں شرکت
5 زرقاء بنت عدی بن قیس ہمزانیہ جنگی اور دفاعی مہمات میں شرکت
6 عکرمہ بنت اطرش جنگی اور دفاعی مہمات میں شرکت
7 اُم سنان بنت حشیمہ بن خرشہ مذحجیہ جنگی اور دفاعی مہمات میں شرکت
8 ازرہ بنت حارث بن کلدہ ایک لشکر کی قیادت اور اہل بیسان سے لڑائی
9 ام عطیہ انصاریہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سات غزوات میں شرکت
10 امیہ بنت قیس قفاریہ غزوہ خیبر میں شرکت
11 ام حکیم بنت حارث روم کے خلاف معرکے میں شرکت
12 ام ایمن حبشیہ غزوہ احد، غزوہ خیبر و حنین، سریہ موتہ میں شرکت
13 ام سلیم بنت ملحان غزہ خیبر و حنین میں شرکت
14 ام حرام بنت ملحان پہلی بحری مجاہدہ
15 حمنہ بنت جحش غزوہ احد میں شرکت
16 اسماء بنت عمرو انصاریہ حدیبیہ و غزوہ خیبر میں شرکت
17 ربیع بنت معوذ انصاریہ غزوہ بدر میں شرکت
18 نسیبہ بنت کعب انصاریہ غزوہ احد، غزوہ بنی قریظہ، حدیبیہ، غزوہ خیبر، غزوہ حنین و یمامہ میں شرکت
19 ام سفیان اسلمیہ غزوہ تبوک میں شرکت(1)

1. واقدي، المغازي، 1 : 249، 250
2. ابن سعد، الطبقات الکبريٰ، 8 : 415
3. بيهقي، دلائل النبوه، 2 : 712
4. ابو نعيم، حلية الاولياء و طبقات الاصفياء، 2 : 64
5. نووي، تهذيب الاسماء و اللغات، 1 : 212
6. بلازري، انساب الاشراف، 1 : 326

حاصلِ کلام

مندرجہ بالا مباحث سے یہ اَمر اَلم نشرح ہو جاتا ہے کہ اسلام نے دیگر اَفرادِ معاشرہ کی طرح خواتین کوبھی عزت، تکریم، وقار اور بنیادی حقوق کی ضمانت دیتے ہوئے ایک ایسی تہذیب کی بنیاد رکھی جہاں ہر فرد معاشرے کا ایک فعال حصہ ہوتا ہے۔ اسلامی معاشرے میں خواتین اسلام کے عطا کردہ حقوق کی برکات کے سبب سماجی، معاشرتی، سیاسی اور انتظامی میدانوں میں فعال کردار ادا کرتے ہوئے معاشرے کو اِرتقاء کی اَعلیٰ منازل کی طرف گامزن کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی زندگی میں خواتین کے کردار کا مندرجہ بالا تذکرہ اس کی عملی نظیر پیش کرتا ہے۔

Copyrights © 2024 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved