حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصائل مبارکہ

حضور (ص) کے حسن کلام کا بیان

بَابٌ فِي وَصْفِ حُسْنِ کَـلَامِہٖ صلى الله عليه وآله وسلم

{حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حُسنِ کلام کا بیان}

62 / 1۔ عَنْ عَائِشَۃَ رضي اﷲ عنہا أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وآله وسلم کَانَ یُحَدِّثُ حَدِیْثًا لَوْ عَدَّہُ الْعَادُّ لَأَحْصَاہٗ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔

1: أخرجہ البخاري في الصحیح،کتاب المناقب، باب صفۃ النبي صلى الله عليه وآله وسلم ، 3 / 1307، الرقم: 3374، ومسلم في الصحیح، کتاب الزہد والرقائق، باب التثبت في الحدیث وحکم کتابۃ العلم، 4 / 2298، الرقم: 2493، وأبو داود في السنن، کتاب العلم، باب في سرد الحدیث، 3 / 320، الرقم: 3654، وأبو یعلی في المسند، 8 / 136، الرقم: 4677، والحمیدي في المسند، 1 / 120، الرقم: 247۔

''اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِس انداز سے گفتگو فرماتے کہ اگر کوئی شخص (الفاظ) گننا چاہتا تو (بآسانی) گن سکتا تھا۔''

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

63 / 2۔ عَنْ إِبْرَاہِیْمَ بْنِ مُحَمَّدٍ مِنْ وَلَدِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضي الله عنه في روایۃ طویلۃ قَالَ: کَانَ عَلِيٌّ رضي الله عنه إِذَا وَصَفَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: أَجْوَدُ النَّاسِ کَفًّا وَأَشْرَحُہُمْ صَدْرًا وَأَصْدَقُ النَّاسِ لَہْجَۃً وَأَلْیَنُہُمْ عَرِیْکَۃً وَأَکْرَمُہُمْ عِشْرَۃً مَنْ رَآہٗ بَدِیْہَۃً ہَابَہٗ وَمَنْ خَالَطَہٗ مَعْرِفَۃً أَحَبَّہٗ یَقُوْلُ نَاعِتُہٗ: لَمْ أَرَ قَبْلَہٗ وَلَا بَعْدَہٗ مِثْلَہٗ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ أَبِي شَیْبَۃَ۔

2: أخرجہ الترمذي في السنن،کتاب المناقب، باب ما جاء في صفۃ النبي صلى الله عليه وآله وسلم ، 5 / 599، الرقم: 3638، وأیضًا في الشمائل المحمدیۃ / 32، الرقم: 7، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 6 / 328، الرقم: 31805، والبیھقي في شعب الإیمان، 2 / 149، الرقم: 1415، وابن سعد في الطبقات الکبری، 1 / 411، والنمیري في أخبار المدینۃ، 1 / 319، الرقم: 968، وابن عبد البر في الاستذکار، 8 / 331، وأیضًا في التمھید، 3 / 29۔

''حضرت ابراہیم بن محمد جو کہ حضرت علی ابن اَبی طالب رضی اللہ عنہ کی اولاد سے ہیں ایک طویل روایت میں کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تعریف بیان کرتے ہوئے فرماتے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ سخی ہاتھ والے اور سب سے زیادہ کشادہ دل تھے اور لوگوں میں سب سے سچے لہجے والے بھی تھے، سب سے زیادہ نرم طبیعت اور سب سے زیادہ باعزت معاشرت والے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اچانک دیکھنے والا مرعوب ہو جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہچان کر آپ کے ساتھ میل ملاقات رکھنے والا آپ سے محبت کرنے لگتا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسا حسین نہ آپ سے پہلے دیکھا (سنا) اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد دیکھا (سنا)۔''

اِس حدیث کو امام ترمذی اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

64 / 3۔ عَنْ عَائِشَۃَ رضي اﷲ عنھا قَالَتْ: مَا کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم یَسْرُدُ سَرْدَکُمْ ہٰذَا، وَلٰـکِنَّہٗ کَانَ یَتَکَلَّمُ بِکَـلَامٍ بَیْنَہٗ فَصْلٌ، یَحْفَظُہٗ مَنْ جَلَسَ إِلَیْہِ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ۔

وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: ھٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیحٌ۔

3: أخرجہ الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب في کلام النبي صلى الله عليه وآله وسلم ، 5 / 600، الرقم: 3639، وأیضًا في الشمائل المحمدیۃ / 183، الرقم: 224، وأبو داود في السنن، کتاب الأدب، باب الھدي في الکلام، 4 / 261، الرقم: 4839، والنسائي في السنن الکبری، 6 / 109، الرقم: 10245، وأحمد بن حنبل في المسند، 6 / 257، الرقم: 26252، وبن راہویہ في المسند، 3 / 983، الرقم: 1704، والبیہقي في السنن الکبری، 3 / 207، الرقم: 5547۔

''اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہاری مانند تیزی سے مسلسل کلام نہیں فرماتے تھے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِس طرح کلام فرماتے کہ کلام کے درمیان وقفہ ہوتا تھا اور پاس بیٹھنے والا شخص اُسے (صرف سن کر) یاد کر لیتا تھا۔'' اِس حدیث کو امام ترمذی، ابو داود، نسائی اور احمد نے روایت کیا ہے۔

امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

65 / 4۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم یُعِیْدُ الْکَلِمَۃَ ثَـلَاثًا لِتُعْقَلَ عَنْہٗ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ وَاللَّفْظُ لَہٗ۔

وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: ھٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیحٌ۔

4: أخرجہ البخاري في الصحیح،کتاب العلم، باب من أعاد الحدیث ثلاثا لیفھم عنہ، 1 / 48، الرقم: 94، والترمذي في السنن،کتاب المناقب، باب في کلام النبي صلى الله عليه وآله وسلم ، 5 / 600، الرقم: 3640، وأیضًا في الشمائل المحمدیۃ / 184، الرقم: 225، والحاکم في المستدرک، 4 / 304، الرقم: 7716، والخطیب البغدادي في تاریخ بغداد، 3 / 416، وابن عساکر في تاریخ مدینۃ دمشق، 4 / 9۔

''حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کلام کو تین مرتبہ دُہراتے تاکہ (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) مخاطبین اُسے اچھی طرح سمجھ لیں۔''

اِس حدیث کو امام بخاری اور ترمذی نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

66 / 5۔ عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وآله وسلم أَنَّہٗ کَانَ إِذَا تَکَلَّمَ بِکَلِمَۃٍ أَعَادَہَا ثَـلَاثًا، حَتّٰی تُفْہَمَ عَنْہٗ، وَإِذَا أَتَی عَلٰی قَوْمٍ فَسَلَّمَ عَلَیْہِمْ سَلَّمَ عَلَیْہِمْ ثَـلَاثًا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ۔

5: أخرجہ البخاري في الصحیح،کتاب العلم، باب من أعاد الحدیث ثلاثا لیفہم عنہ، 1 / 48، الرقم: 95، والترمذي في السنن،کتاب الاستئذان والآداب، باب ما جاء في کراھیۃ أن یقول علیک السلام مبتدئا، 5 / 72، الرقم: 2723، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 213، الرقم: 13244، وابن عساکر في تاریخ مدینۃ دمشق، 4 / 9، والبیھقي في المدخل إلی السنن الکبری / 356، الرقم: 597۔

''حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بات کرتے تو اُسے تین بار دہراتے تاکہ وہ ذہن نشین ہو جائے اور جب کسی قوم کے پاس تشریف لے جاتے اور اُنہیں سلام کرتے تو تین دفعہ سلام کیا کرتے۔''

اِسے امام بخاری، ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے۔

67 / 6۔ عَنْ ہِنْدِ بْنِ أَبِي ہَالَۃَ ص، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم لَا یَتَکَلَّمُ فِي غَیْرِ حَاجَۃٍ، طَوِیْلَ السَّکَتِ، یَفْتَتِحُ الْـکَـلَامَ وَیَخْتِمُہٗ بِأَشْدَاقِہٖ، وَیَتَکَلَّمُ بِجَوَامِعِ الْکَلِمِ، کَـلَامُہُ فَصْلٌ لَا فُضُوْلٌ وَلَا تَقْصِیْرٌ، لَیْسَ بِالْجَافِي وَلَا الْمَھِیْنِ...الحدیث۔

رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ فِي الشَّمَائِلِ وَابْنُ حِبَّانَ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَیْہَقِيُّ۔

6: أخرجہ الترمذي في الشمائل المحمدیۃ / 37، الرقم: 8، وابن حبان في الثقات، 2 / 145۔146، والطبراني في المعجم الکبیر، 22 / 155156، الرقم: 414، والبیہقي في شعب الإیمان، 2 / 154۔155، الرقم: 1430، وابن عساکر في تاریخ مدینۃ دمشق، 3 / 277، 338، 344، 348، وابن سعد في الطبقات الکبری، 1 / 422، والہیثمي في مجمع الزوائد، 8 / 273۔

''حضرت ہند بن ہالہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلا ضرورت گفتگو نہ فرماتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طویل سکوت فرمانے والے (یعنی خاموش طبع) تھے، آغازِ کلام اور اُس کا اختتام دہن مبارک کی جانبوں اور کناروں سے ہوتا (یعنی ہر کلمہ کی ادائیگی مکمل طور پر ہوتی)۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلامِ اقدس مختصر مگر جامع الفاظ پر مشتمل ہوتا، نیز کلمات میں باہم مناسب فاصلہ ہوتا (تاکہ سامعین اچھی طرح سُن اور سمجھ سکیں اور یاد رکھ سکیں)، الفاظ نہ ضرورت سے زیادہ ہوتے اور نہ اتنے مختصر کہ بات ہی واضح نہ ہو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ سخت مزاج تھے اور نہ کسی کی تذلیل کرتے۔''

اِس حدیث کو امام ترمذی نے الشمائل المحمدیہ میں اور ابن حبان، طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

68 / 7۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنہما قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم أَفْلَجَ الثَّنِیَّتَیْنِ، إِذَا تَکَلَّمَ رُئِيَ کَالنُّوْرِ یَخْرُجُ مِنْ بَیْنِ ثَنَایَاہٗ۔

رَوَاہُ الدَّارِمِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ فِي الشَّمَائِلِ وَالطَّبَرَانِيُّ۔

7: أخرجہ الدارمي في السنن، المقدمۃ، باب في حسن النبي صلى الله عليه وآله وسلم ، 1 / 44، الرقم: 58، والترمذي في الشمائل المحمدیۃ / 41، الرقم: 15، والطبراني في المعجم الأوسط، 1 / 235، الرقم: 767، والبیھقي في دلائل النبوۃ، 1 / 215، والفسوي في المعرفۃ والتاریخ، 3 / 306، والنبھاني في الأنوار المحمدیۃ / 199۔

''حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے والے دندانِ مبارک قدرے کشادہ تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کلام فرماتے تو یوں نظر آتا گویا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے والے دندانِ مبارک سے نور کی کرنیں پھوٹ رہی ہیں۔''

اِس حدیث کو امام دارمی، ترمذی نے الشمائل المحمدیہ میں اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔

69 / 8۔ عَنْ أُمِّ مَعْبَدٍ رضي اﷲ عنہا، في روایۃ طویلۃ قَالَتْ: رَأَیْتُ رَجُـلًا ظَاہِرَ الْوَضَائَۃِ،...إِنْ صَمَتَ فَعَلَیْہِ الْوَقَارُ، وَإِنْ تَکَلَّمَ سَمَاہَ وَعَـلَاہُ الْبَہَاءُ، أَجْمَلُ النَّاسِ وَأَبْھَاہٗ مِنْ بَعِیْدٍ، وَأَحْسَنُہٗ وَأَجْمَلُہٗ مِنْ قَرِیْبٍ، حُلْوُ الْمَنْطِقِ، فَصْلًا لَا نَزِرٌ وَلَا ہَذِرٌ، کَأَنَّ مَنْطِقَہٗ خَرَزَاتُ نَظْمٍ یَتَحَدَّرْنَ...الحدیث۔

رَوَاہُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ۔ وَقَالَ الْحَاکِمُ: ھٰذَا حَدِیْثٌ صَحِیْحُ الإِسْنَادِ۔

8: أخرجہ الحاکم في المستدرک، 3 / 10، 11، الرقم: 4274، والطبراني في المعجم الکبیر، 4 / 49، 50، الرقم: 3605، وابن حبان في الثقات، 1 / 125127، والہیثمي في مجمع الزوائد، 8 / 279، وابن أبي عاصم في الآحاد والمثاني، 6 / 252254، الرقم: 3485، وابن عبد البر في الاستیعاب، 4 / 19581960، الرقم: 4215، واللالکائي في اعتقاد أھل السنۃ، 4 / 777779، الرقم: 1437، وابن الجوزي في صفۃ الصفوۃ، 1 / 139، 140، وابن سعد في الطبقات الکبری، 1 / 230، 231، وابن عساکر في تاریخ مدینۃ دمشق، 3 / 317، والسیوطي في الخصائص الکبری، 1 / 310۔

''حضرت اُمّ معبد رضی اﷲ عنہا (حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارتِ مبارکہ کا اَحوال) بیان فرماتی ہیں کہ میں نے ایک ایسا شخص دیکھا جس کا حسن نمایاں تھا...جب وہ خاموش ہوتے تو پروقار ہوتے اور جب گفتگو فرماتے تو چہرہ اَقدس پُر نور اور بارونق ہوتا۔ دُور سے دیکھنے پر سب سے زیادہ بارعب اور جمیل نظر آتے۔ اور قریب سے دیکھیں تو سب سے زیادہ حسین و جمیل دکھائی دیتے۔ گفتگو شیریں ہوتی، بے فائدہ ہوتی نہ بیہودہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گفتگو گویا موتیوں کی لڑی ہوتی، جس سے موتی جھڑ رہے ہوتے۔''

اِس حدیث کو امام حاکم، طبرانی اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا: یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔

70 / 9۔ وفي روایۃ عنھا قَالَتْ: إِذَا صَمَتَ فَعَلَیْہِ الْبَھَاءُ، وَإِذَا نَطَقَ فَعَلَیْہِ وَقَارٌ، لَہٗ کَـلَامٌ کَخَرَزَاتِ النَّظْمِ۔ رَوَاہُ ابْنُ عَسَاکِرَ۔

9: أخرجہ ابن عساکر في السیرۃ النبویۃ، 3 / 315۔

''حضرت اُمِ معبد رضی اﷲ عنہا ہی سے ایک اور روایت میں یہ الفاظ بھی منقول ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بارعب لگتے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بولتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وقار لگتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلام موتیوں کے ہار کی مثل تھا۔''

اِس حدیث کو امام ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved