حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصائل مبارکہ

حضور (ص) کے نعلین پاک کا بیان

بَابٌ فِي وَصْفِ نَعْلَیْہِ صلى الله عليه وآله وسلم

{حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلین پاک کا بیان}

144 / 1۔ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ جُرَیْجٍ، في روایۃ طویلۃ، أَنَّہٗ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنہما : رَأَیْتُکَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِیَّۃَ، قَالَ : إِنِّي رَأَیْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم یَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَیْسَ فِیْہَا شَعَرٌ، وَیَتَوَضَّأُ فِیْہَا، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَہَا…الحدیث۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔

1 : أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب الوضوء، باب غسل الرجلین في النعلین ولا یمسح علی النعلین، 1 / 73، الرقم : 164، وأیضًا في کتاب اللباس، باب النعال السبتیۃ وغیرھا، 5 / 2199، الرقم : 5513، ومسلم في الصحیح، کتاب الحج، باب الإھلال من حیث تنبعث الراحلۃ، 2 / 844، الرقم : 1187، والنسائي في السنن، کتاب الطھارۃ، باب الوضوء في النعل، 1 / 80، الرقم : 117، وأبو داود في السنن، کتاب المناسک، باب في وقت الإحرام، 2 / 150، الرقم : 1772، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 66، الرقم : 5338۔

''حضرت عبید بن جریج رضی اللہ عنہ ایک طویل روایت میں بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے کہا : (کیا وجہ ہے کہ) میں آپ کو صاف رنگے ہوئے چمڑے کیجوتے پہنے ہوئے دیکھتا ہوں؟ اُنہوں نے فرمایا : میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلین پاک پر بال نہیں ہوتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُنہی میں وضو فرماتے تھے اور میں (بھی) ویسے ہی جوتے پہننا پسند کرتا ہوں۔''

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

145 / 2۔ عَنْ عِیْسَی بْنِ طَہْمَانَ قَالَ : أَخْرَجَ إِلَیْنَا أَنَسٌ رضي الله عنه نَعْلَیْنِ جَرْدَاوَیْنِ، لَہُمَا قِبَالَانِ، فَحَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ بَعْدُ عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه أَنَّہُمَا نَعْـلَا النَّبِيِّ صلى الله عليه وآله وسلم ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ فِي الشَّمَائِلِ۔

2 : أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب فرض الخمس، باب ما ذکر من درع النبي صلى الله عليه وآله وسلم وعصاہ وسیفہ وخاتمہ…الخ، 3 / 1131، الرقم : 2940، وأیضًا في کتاب اللباس، باب قبالان في نعل ومن رأی قبالًا واحدًا واسعًا، 5 / 2200، الرقم : 5520، والترمذي في الشمائل المحمدیۃ / 83، الرقم : 78۔

''حضرت عیسیٰ بن طہمان سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اُنہیں دو بالون سے صاف جوتے دکھائے، جن کے دو تسمے تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں حضرت ثابت بنانی رضی اللہ عنہ نے مجھے بعد میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بتایا تھا : یہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلین مبارک ہیں۔''

اِس حدیث کو امام بخاری اور ترمذی نے الشمائل میں روایت کیا ہے۔

146 / 3۔ عَنْ قَتَادَۃَ رضي الله عنه قَالَ : قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه : کَیْفَ کَانَ نَعْلُ رَسُوْلِ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم ؟ قَالَ : لَہُمَا قِبَالَانِ۔

رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ۔ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : ہٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ۔

3 : أخرجہ الترمذي في السنن، کتاب اللباس، باب ما جاء في نعل النبي صلى الله عليه وآله وسلم ، 4 / 242، الرقم : 17721773، والنسائي في السنن، کتاب الزینۃ، باب صفۃ نعل رسول اﷲ صلى الله عليه وآله وسلم ، 8 / 217، الرقم : 5367، وأبو داود في السنن، کتاب اللباس، باب في الانتعال، 4 / 69، الرقم : 4134، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 245، الرقم : 13593۔

''حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلین مبارک کیسے تھے؟ اُنہوں نے فرمایا : اُن میں دو تسمے لگے ہوئے تھے۔''

اِس حدیث کو امام ترمذی، نسائی اور ابو داود نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

147 / 4۔ عَنْ أَبِي ہُرَیْرَۃَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ : إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُکُمْ فَلْیَبْدَأْ بِالْیَمِیْنِ، وَإِذَا نَزَعَ فَلْیَبْدَأْ بِالشِّمَالِ، فَلْتَکُنِ الْیُمْنَی أَوَّلَہُمَا تُنْعَلُ وَآخِرَہُمَا تُنْزَعُ۔

رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ وَالطَّبَرَانِيُّ۔ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : ہٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ۔

4 : أخرجہ الترمذي في السنن، کتاب اللباس، باب ما جاء بأي رِجل یبدأ إذا انتعل، 4 / 244، الرقم : 1779، وأیضًا في الشمائل المحمدیۃ / 86، الرقم : 85، وابن حبان في الصحیح، 12 / 270، الرقم : 5455، والطبراني في مسند الشامیین، 4 / 284، الرقم : 3309۔

''حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی جوتا پہنے تو پہلے دائیں پاؤں سے ابتداء کرے اور جب اُتارے تو پہلے بایاں پاؤں اُتارے۔ پس دایاں پاؤں جوتا پہننے میں پہلا اور جوتا اُتارنے میں آخری ہو۔''

اِس حدیث کو امام ترمذی، ابن حبان اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

148 / 5۔ عَنْ عَائِشَۃَ رضي اللّٰہ عنہا، قَالَتْ : کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم یُحِبُّ التَّیَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ فِي تَرَجُّلِہٖ، وَتَنَعُّلِہٖ وَطُہُوْرِہٖ۔

رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ فِي الشَّمَائِلِ۔

5 : أخرجہ الترمذي في الشمائل المحمدیۃ / 8687، الرقم : 86۔

''حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کنگھی کرنے، جوتا پہننے اور وضو کرنے میں حتی الامکان دائیں طرف سے ابتداء کرنا پسند فرماتے تھے۔'' اِس حدیث کو امام ترمذی نے الشمائل المحمدیۃ میں روایت کیا ہے۔

149 / 6۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَیْثٍ ص، قَالَ : رَأَیْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم ، یُصَلِّي فِي نَعْلَیْنِ مَخْصُوْفَتَیْنِ۔

رَوَاہُ النَّسَائِيُّ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ وَأَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ فِي الشَّمَائِلِ۔

وزاد البیھقي في روایتہ عن أبي ذر ص : مِنْ جَلُوْدِ الْبَقَرِ۔

6 : أخرجہ النسائي في السنن الکبری، باب الأمر بالاستکثار من النعال، 5 / 506، الرقم : 9805، والترمذي في الشمائل المحمدیۃ / 84، الرقم : 81، وعبد الرزاق في المصنف، 1 / 386، الرقم : 1505، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 58، الرقم : 20606، وأبو یعلی في المسند، 3 / 46، الرقم : 1465، والطحاوي في شرح معاني الآثار، 1 / 512، والبیھقي في السنن الکبری، 2 / 420، الرقم : 3991۔

''حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیوند لگے ہوئے جوتوں میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔''

اِس حدیث کو امام نسائی، عبد الرزاق، احمد اور ترمذی نے الشمائل میں روایت کیا ہے۔

امام بیہقی نے حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں اِن الفاظ کا اضافہ کیا ہے : وہ جوتے گائے کے چمڑے سے بنے ہوئے تھے۔

150 / 7۔ عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ الْعَبَّاسِ رضي اللّٰہ عنہما قَالَ : کَانَ لِنَعْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وآله وسلم قِبَالَانِ مَثْنِيٌّ شِرَاکُہُمَا۔

رَوَاہُ ابْنُ مَاجَہ وَابْنُ أَبِي شَیْبَۃَ وَالتِّرْمِذِيُّ فِي الشَّمَائِلِ۔

7 : أخرجہ ابن ماجہ في السنن، کتاب اللباس، باب صفۃ النعال، 2 / 1194، الرقم : 3614، والترمذي في الشمائل المحمدیۃ / 82، الرقم : 77، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 5 / 177، الرقم : 24941، والبیھقي في شعب الإیمان، 5 / 178، الرقم : 6272، وأبو نعیم في حلیۃ الأولیاء، 8 / 376۔

''حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلین مبارک کے آگے دو دوہرے تسمے لگے ہوئے تھے۔''

اِس حدیث کو امام ابن ماجہ، ابن ابی شیبہ اور ترمذی نے الشمائل میں روایت کیا ہے۔

151 / 8۔ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ رضي الله عنه قَالَ : رَأَیْتَ نَعْلَ رَسُوْلِ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم مُخَصَّرَۃً مُعَقَّبَۃً مُلَسَّنَۃً لَہَا قِبَالَانِ۔ رَوَاہُ ابْنُ سَعْدٍ۔

8 : أخرجہ ابن سعد في الطبقات الکبری، 1 / 478۔

''حضرت ہشام بن عروہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلین مبارک درمیان سے پتلے، چوڑی ایڑھی والے اور آگے سے نوکدار دیکھے جن کے دو تسمے تھے۔'' اِسے امام ابن سعد نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved