حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصائل مبارکہ

حضور (ص) کے لباس مبارک کا بیان

بَابٌ فِي وَصْفِ ثِیَابِہٖ صلى الله عليه وآله وسلم

{حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لباس مبارک کا بیان}

107 / 1۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه قَالَ : کَانَ أَحَبُّ الثِّیَابِ إِلَی النَّبِيِّ صلى الله عليه وآله وسلم أَنْ یَلْبَسَہَا الْحِبَرَۃَ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔

1 : أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب اللباس، باب البرود والحبرۃ والشملۃ، 5 / 2189، الرقم : 5476، ومسلم في الصحیح، کتاب اللباس والزینۃ، باب فضل لباس ثیاب الحبرۃ، 3 / 1648، الرقم : 2079، والترمذي في السنن، کتاب اللباس، باب ما جاء في أحب الثیاب إلی رسول اﷲ صلى الله عليه وآله وسلم ، 4 / 249، الرقم : 1787، والنسائي في السنن، کتاب الزینۃ، باب لبس الحبرۃ، 8 / 203، الرقم : 5315، وأبو داود في السنن، کتاب اللباس، باب لبس الحبرۃ، 4 / 51، الرقم : 4060، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 291، الرقم : 14140۔

''حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام کپڑوں میں یمنی سبز چادر اُوڑھنا زیادہ پسند تھا۔'' یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

108 / 2۔ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ رضي اﷲ عنھا قَالَتْ : کَانَ أَحَبَّ الثِّیَابِ إِلَی النَّبِيِّ صلى الله عليه وآله وسلم الْقَمِیْصُ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ۔

وفي روایۃ : لَمْ یَکُنْ ثَوْبٌ أَحَبَّ إِلٰی رَسُوْلِ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم مِنَ الْقَمِیْصِ۔

رَوَاہُ ابْنُ مَاجَہ وَالْحَاکِمُ وَقَالَ : ہٰذَا حَدِیثٌ صَحِیْحُ الْإِسْنَادِ۔

2 : أخرجہ الترمذي في السنن، کتاب اللباس، باب ما جاء في القمص، 4 / 238، الرقم : 1763، 1764، وأبو داود في السنن، کتاب اللباس، باب ما جاء في القمیص، 4 / 43، الرقم : 4025، والنسائي في السنن الکبری، 5 / 482، الرقم : 9668، وابن ماجہ في السنن، کتاب اللباس، باب لبس القمیص، 2 / 1183، الرقم : 3575، والحاکم في المستدرک، 4 / 213، الرقم : 7406۔

''حضرت اُمِ سلمہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کپڑوں میں قمیص سب سے زیادہ پسند تھی۔''اِسے امام ترمذی، ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

ایک روایت میں ہے : ''حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قمیص سے بڑھ کر کوئی لباس پسند نہ تھا۔''

اِسے امام ابن ماجہ اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا : یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔

109 / 3۔ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رضي الله عنه قَالَ : أَتَیْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وآله وسلم وَعَلَیْہِ ثَوْبٌ أَبْیَضُ وَہُوَ نَائِمٌ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِيُّ وَابْنُ مَنْدَہ۔

3 : أخرجہ البخاری فی الصحیح، کتاب اللباس، باب الثیاب البیض، 5 / 2193، الرقم : 5489، وابن مندہ فی الإیمان، 1 / 224، الرقم : 87، وابن أبي عاصم في السنۃ، 2 / 464، الرقم : 957۔

''حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفید کپڑا اُوڑھے ہوئے استراحت فرما تھے۔''

اِس حدیث کو امام بخاری اور ابن مندہ نے روایت کیا ہے۔

110 / 4۔ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدَبٍ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم : الْبَسُوْا الْبَیَاضَ فَإِنَّہَا أَطْہَرُ وَأَطْیَبُ، وَکَفِّنُوْا فِیْہَا مَوْتَاکُمْ۔

رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَہ۔ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : ہٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیحٌ۔

4 : أخرجہ الترمذي في السنن، کتاب الأدب، باب ما جاء في لبس البیاض، 5 / 117، الرقم : 2810، والنسائي في السنن، کتاب الجنائز، باب أي الکفن خیر، 4 / 34، الرقم : 1896، وأیضًا في کتاب الزینۃ، باب الأمر بلبس البیض من الثیاب، 8 / 205، الرقم : 5322، وأبو داود في السنن، کتاب اللباس، باب في البیاض، 4 / 51، الرقم : 4061، وابن ماجہ في السنن، کتاب اللباس، باب البیاض من الثیاب، 2 / 1181، الرقم : 3567، وابن حبان في الصحیح، 12 / 242، الرقم : 5423۔

''حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : سفید کپڑے پہنا کرو کیوں کہ یہ زیادہ پاکیزہ اور طیب ہیں اور ان میں اپنے مُردوں کو کفن دیا کرو۔''

اِس حدیث کو امام ترمذی، نسائی، ابو داود اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

111 / 5۔ عَنْ أَبِي سَعِیْدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه قَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاہُ بِاسْمِہٖ، إِمَّا قَمِیْصًا أَوْ عِمَامَۃً، ثُمَّ یَقُوْلُ : {اَللّٰھُمَّ، لَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ کَسَوْتَنِیْہِ، أَسْأَلُکَ مِنْ خَیْرِہٖ وَخَیْرِ مَا صُنِعَ لَہٗ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّہٖ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَہٗ}۔

رَوَہُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ۔ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : ہٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ۔

5 : أخرجہ أبو داود فی السنن، کتاب اللباس، باب : (1)، 4 / 41، الرقم : 4020، والترمذي في السنن، کتاب اللباس، باب ما یقول إذا لبس ثوبا جدیدا، 4 / 239، الرقم : 1767، والبیہقي في شعب الإیمان، 5 / 180، الرقم : 6284، والعسقلاني في فتح الباري، 10 / 267، والسیوطي في الجامع الصغیر، 1 / 78، الرقم : 93۔

''حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوئی نیا کپڑا پہنتے تو {بِسْمِ اﷲِ} پڑھتے خواہ قمیص ہو یا عمامہ، پھر دعا کرتے : {اللّٰھُمَّ، لَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ کَسَوْتَنِیْہِ، أَسْأَلُکَ مِنْ خَیْرِہٖ وَخَیْرِ مَا صُنِعَ لَہٗ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّہٖ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَہٗ} ''اے اﷲ! تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے یہ کپڑا پہنایا، میں تجھ سے اس کی خیر اور جس لئے یہ بنایا گیا ہے اس کی خیر کا سوال کرتا ہوں اور اس کے شر اور جس کے لئے یہ بنایا گیا ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔''

اِسے امام ابو داود اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

112 / 6۔ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ یَزِیْدَ بْنِ السَّکَنِ الْأَنْصَارِیَّۃِ قَالَتْ : کَانَ کُمُّ یَدِ رَسُوْلِ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم إِلَی الرُّسْغِ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ۔

6 : أخرجہ الترمذي في السنن، کتاب اللباس، باب ما جاء في القمص، 4 / 238، الرقم : 1765، وأیضًا في الشمائل المحمدیۃ / 69، الرقم : 58، والنسائي في السنن الکبری، 5 / 481، الرقم : 9666۔

''حضرت اسماء بنت یزید رضی اﷲ عنھا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بازو مبارک کی آستین کلائی کے گُٹ تک ہوتی تھی۔''

اِس حدیث کو امام ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

113 / 7۔ عَنْ أَبِي عُمَرَ مَوْلٰی أَسْمَاءَ رضي اﷲ عنھما قَالَ : أَخْرَجَتْ إِلَیْنَا أَسْمَاءُ جُبَّۃً مَزْرُوْرَۃً بِالدِّیْبَاجِ فَقَالَتْ : فِي ہٰذِہٖ کَانَ یَلْقَی رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم الْعَدُوَّ۔ رَوَاہُ أَحْمَدُ وَابْنُ حُمَیْدٍ وَالطََّبَرَانِيُّ۔

7 : أخرجہ أحمد بن حنبل في المسند، 6 / 348، الرقم : 26989، وعبد بن حمید في المسند، 1 / 456، الرقم : 1576، والطبراني في المعجم الکبیر، 24 / 99، الرقم : 266، وابن الجوزي في الوفا / 576، الرقم : 1082، والنبہاني في الأنوار المحمدیۃ / 254۔

''حضرت اَسماء رضی اﷲ عنھا کے آزاد کردہ غلام حضرت ابو عمر بیان کرتے ہیں کہ حضرت اَسماء رضی اﷲ عنھا نے ہمیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جبہ مبارک نکال کر اُس کی زیارت کرائی جس کے بٹن اور تکملے مخمل کے بنے ہوئے تھے۔ اُنہوں نے فرمایا کہ یہ وہ تاریخی جبہ مبارک ہے جسے پہن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دشمن کا سامنا کرتے تھے۔''

اِس حدیث کو امام احمد، ابن حمید اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔

114 / 8۔ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ رضي الله عنه قَالَ : کُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وآله وسلم فِي سَفَرٍ فَقَالَ : یَا مُغِیْرَۃُ، خُذِ الْإِدَاوَۃَ، فَأَخَذْتُہَا، ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَہٗ، فَانْطَلَقَ رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم حَتّٰی تَوَارَی عَنِّي، فَقَضَی حَاجَتَہٗ، ثُمَّ جَاءَ وَعَلَیْہِ جُبَّۃٌ شَامِیَّۃٌ ضَیِّقَۃُ الْکُمَّیْنِ، فَذَہَبَ یُخْرِجُ یَدَہٗ مِنْ کُمِّہَا فَضَاقَتْ عَلَیْہِ، فَأَخْرَجَ یَدَہٗ مِنْ أَسْفَلِہَا، فَصَبَبْتُ عَلَیْہِ فَتَوَضَّأَ وُضُوْئَہٗ لِلصَّلَاۃِ، ثُمَّ مَسَحَ عَلٰی خُفَّیْہِ ثُمَّ صَلّٰی۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ۔

8 : أخرجہ مسلم في الصحیح، کتاب الطہارۃ، باب المسح علی الخفین، 1 / 229، الرقم : (3) 274، والنسائي في السنن، کتاب الطہارۃ، باب صفۃ الوضوء غسل الکفین، 1 / 63، الرقم : 82، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 250، الرقم : 18215، وابن خزیمۃ في الصحیح، 3 / 72، الرقم : 1645، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 1 / 162، الرقم : 1859، والطبراني في المعجم الکبیر، 20 / 398، الرقم : 944، وابن الجوزي في الوفا / 576، الرقم : 1081۔

''حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک سفر میں، میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے مغیرہ، پانی کا برتن ساتھ لے لو، چنانچہ میں برتن لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل پڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مجھ سے بہت دور) تشریف لے گئے حتیٰ کہ میری نظروں سے غائب ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قضاء حاجت فرما کر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شامی جبہ پہنا ہوا تھا جس کی آستینیں بہت تنگ تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آستینوں سے ہاتھ باہر نکالنا چاہا تو ہاتھ نکل نہ سکے، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نیچے سے ہاتھ کو نکال لیا پھر میں نے پانی ڈالا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کے لیے وضوء فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا پھر نماز پڑھی۔''

اِس حدیث کو امام مسلم، نسائی اور احمد نے روایت کیا ہے۔

115 / 9۔ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ رضي الله عنه قَالَ : أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وآله وسلم لَبِسَ جُبَّۃً رُوْمِیَّۃً ضَیِّقَۃَ الْکُمَّیْنِ۔

رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ۔ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : ہٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ۔

9 : أخرجہ الترمذي في السنن، کتاب اللباس، باب ما جاء في لبس الجبۃ والخفین، 4 / 239، الرقم : 1768، وأیضًا في الشمائل المحمدیۃ / 77، الرقم : 71، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 255، الرقم : 18265، وابن عساکر في تاریخ مدینۃ دمشق، 4 / 197۔

''حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رومی جبہ زیب تن فرمایا جس کی آستینیں تنگ تھیں۔''

اِس حدیث کو امام ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

116 / 10۔ عَنْ طَارِقٍ الْمُحَارِبِيِّ رضي الله عنه قَالَ : رَأَیْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم مَرَّ فِي سُوْقِ ذِي الْمَجَازِ وَعَلَیْہِ حُلَّۃٌ حَمْرَاءُ…الحدیث۔

رَوَاہُ ابْنُ خَزَیْمَۃَ وَابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ أَبِي شَیْبَۃَ۔ وَقَالَ الْحَاکِمُ : ہٰذَا حَدِیْثٌ صَحِیْحُ الإِسْنَادِ۔

10 : أخرجہ ابن خزیمۃ في الصحیح، کتاب الوضوء، باب ذکر الدلیل علی أنّ الکعبین اللذین أمر المتوضیٔ بغسل الرّجلین، 1 / 82، الرقم : 159، وابن حبان في الصحیح، 14 / 518، الرقم : 6562، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 7 / 332، الرقم : 36565، والحاکم في المستدرک، 2 / 668، الرقم : 4219، والدار قطني في السنن، 3 / 44، الرقم : 186، والبیھقي في السنن الکبری، 1 / 76، الرقم : 363، واللالکائي في اعتقاد أھل السنۃ، 4 / 760، الرقم : 1413، وابن سعد في الطبقات الکبری، 6 / 42۔

''حضرت طارق محاربی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سرخ جبہ زیبِ تن کیے ہوئے ذو المجاز بازار میں سے گزرتے ہوئے دیکھا۔''

اسے امام ابن خزیمہ، ابن حبان اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا : اس حدیث کی سند صحیح ہے۔

117 / 11۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وآله وسلم خَرَجَ، وَھُوَ مُتَّکِيئٌ عَلٰی أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ، عَلَیْہِ ثَوْبٌ قَطْرِيٌّ قَدْ تَوَشَّحَ بِہٖ، فَصَلّٰی بِھِمْ۔

رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ حَیَّانَ وَالْھَیْثِمِيُّ۔

11 : أخرجہ الترمذي في الشمائل المحمدیۃ / 70، الرقم : 60، وابن حیان في أخلاق النبي صلى الله عليه وآله وسلم ، 2 / 181، الرقم : 297، والہیثمي في موارد الظمآن، 1 / 105، الرقم : 349۔

''حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اپنے کاشانہِ اقدس سے) باہر تشریف لائے اس حال میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت اُسامہ بن زیدص کا سہارا لئے ہوئے تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قطری چادر میں ملبوس تھے، جس پر کڑھائی کی گئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اِسی حالت میں) صحابہ کرام ثکو نماز پڑھائی۔''

اِس حدیث کو امام ترمذی، ابن حیان اور ہیثمی نے روایت کیا ہے۔

118 / 12۔ عَنْ أَبِي جُحَیْفَۃَ رضي الله عنه قَالَ : رَأَیْتُ بِـلَالًا یُؤَذِّنُ وَیَدُوْرُ وَیُتْبِعُ فَاہُ ہَاہُنَا وَہَاہُنَا وَإِصْبَعَاہٗ فِي أُذُنَیْہِ وَرَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم فِي قُبَّۃٍ لَہٗ حَمْرَاءَ أُرَاہُ قَالَ : مِنْ أَدَمٍ فَخَرَجَ بِـلَالٌ بَیْنَ یَدَیْہِ بِالْعَنَزَۃِ فَرَکَزَہَا بِالْبَطْحَاءِ فَصَلَّی إِلَیْہَا رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم یَمُرُّ بَیْنَ یَدَیْہِ الْکَلْبُ وَالْحِمَارُ وَعَلَیْہِ حُلَّۃٌ حَمْرَاءُ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلٰی بَرِیْقِ سَاقَیْہِ، قَالَ سُفْیَانُ : نُرَاہُ حِبَرَۃً۔

رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ حِبَّانَ۔ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : حَدِیْثُ أَبِي جُحَیْفَۃَ رضي الله عنه حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ۔

12 : أخرجہ الترمذي في السنن، کتاب الصلاۃ، باب ما جاء في الإدخال الإصبع في الأذن عند الأذان، 1 / 375، الرقم : 197، وأیضًا في الشمائل المحمدیۃ / 73، الرقم : 64، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 308، الرقم : 18781، وعبد الرزاق في المصنف، 1 / 467، الرقم : 1806، وابن حبان في الصحیح، 6 / 153، الرقم : 2394، وابن خزیمۃ في الصحیح، 4 / 326، الرقم : 2995، وابن سعد في الطبقات الکبری، 1 / 451، وابن کثیر في البدایۃ والنہایۃ، 5 / 168۔

''حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ روایت بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ اذان کہہ رہے تھے اور اپنے منہ کو ادھر اُدھر پھیر رہے تھے، اور انہوں نے کانوں میں انگلیاں ڈالی ہوئی تھیں، اُس وقت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چمڑے کے بنے ہوئے ایک سرخ خیمے میں تشریف فرما تھے، پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نیزہ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سے نکلے اور اُسے چٹیل میدان میں گاڑ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُدھر منہ کر کے نماز پڑھی، (نیزے کے) سامنے سے کتے اور گدھے گزر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سرخ جوڑا زیب تن فرمائے ہوئے تھے گویا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پنڈلیوں کی چمک (اب بھی) دیکھ رہا ہوں۔ حضرت سفیان ثوری فرماتے ہیں : ہمارا خیال ہے کہ وہ سُرخ جوڑا بردِ یمانی تھا۔''

اِس حدیث کو امام ترمذی، احمد، عبد الرزاق اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا : حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔

119 / 13۔ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ سَمِعَ الْبَرَاءَ رضي الله عنه یَقُوْلُ : کَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وآله وسلم مَرْبُوْعًا، وَقَدْ رَأَیْتُہٗ فِي حُلَّۃٍ حَمْرَاءَ، مَا رَأَیْتُ شَیْئًا أَحْسَنَ مِنْہُ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔

13 : أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب اللباس، باب الثوب الأحمر، 5 / 2198، الرقم : 5510، ومسلم في الصحیح، کتاب الفضائل، باب في صفۃ النبي صلى الله عليه وآله وسلم أنہ کان أحسن الناس وجھًا، 4 / 1818، الرقم : 2337، وأبو داود في السنن، کتاب اللباس، باب في الرخصۃ ذلک، 4 / 54، الرقم : 4072، والنسائي في السنن، کتاب الزینۃ، باب اتخاذ الجمۃ، 8 / 183، الرقم : 5232۔ 5233، وأیضًا في السنن الکبری، 5 / 412، الرقم : 9328، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 281، وأبو یعلی في المسند، 3 / 262، الرقم : 1714۔

''حضرت براء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قد مبارک متوسط تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سرخ رنگ کے حلّہ یعنی دو چادروں میں لپٹا ہوا دیکھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ کسی شے کو حسین نہیں دیکھا۔'' یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

120 / 14۔ عَنْ ھِـلَالِ بْنِ عَامِرٍ رضي الله عنه قَالَ : رَأَیْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم ، بِمِنًی یَخْطُبُ عَلٰی بَغْلَۃٍ وَعَلَیْہِ بُرْدٌ أَحْمَرُ وَعَلِيٌّ رضي الله عنه أَمَامَہٗ یُعَبِّرُ عَنْہُ۔

رَوَاہُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالْبَیْھَقِيُّ۔

14 : أخرجہ أبو داود في السنن، کتاب اللباس، باب في الرخصۃ ذلک، 4 / 54، الرقم : 4073، والبیہقي في السنن الکبری، 3 / 247، الرقم : 5777۔

''حضرت عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منیٰ کے مقام پر ایک خچر پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوپر ایک سرخ چادر تھی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ کے آگے کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے الفاظ (لوگوں تک) پہنچا رہے تھے۔'' اس حدیث کو امام ابو داود اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

121 / 15۔ عَنْ أَبِي رِمْثَۃَ رضي الله عنه قَالَ : رَأَیْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم وَعَلَیْہِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ۔

15 : أخرجہ الترمذي في السنن، کتاب الٓاداب، باب ما جاء في الثوب الأخضر، 5 / 119، الرقم : 2812، وأبو داود في السنن، کتاب الترجل ، باب في الخضاب، 4 / 86، الرقم : 4206، والنسائي في السنن، کتاب صلاۃ العیدین، باب الزینۃ للخطبۃ للعیدین، 3 / 185، الرقم : 1572، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 228، الرقم : 7117، والحاکم في المستدرک، 2 / 664، الرقم : 4203۔

''حضرت ابو رمثہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دو سبز چادریں زیب تن فرمائے ہوئے دیکھا۔''

اِس حدیث کو امام ابو ترمذی، ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

122 / 16۔ عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ زَیْدٍ رضي الله عنه قَالَ : اسْتَسْقَی رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم وَعَلَیْہِ خَمِیْصَۃٌ لَہٗ سَوْدَاءُ۔ رَوَاہُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ۔

16 : أخرجہ أبو داود في السنن، کتاب صلاۃ الاستسقاء، باب في أي وقت یحول رداء ہ إذا استسقی، 1 / 302، الرقم : 1163، والنسائي في السنن، کتاب الاستسقاء، باب الحال التي یستحب للإمام أن یکون علیھا إذا خرج، 3 / 156، الرقم : 1507، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 4، وعبد الرزاق في المصنف، 1 / 201، الرقم : 786، والشافعي في المسند، 1 / 80، والمقدسي في الأحادیث المختارۃ، 9 / 360، الرقم : 225۔

''حضرت عبد اﷲ بن زید رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز استسقاء پڑھائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سیاہ چادر مبارک زیب تن کئے ہوئے تھے۔''

اِس حدیث کو امام ابو داود، نسائی اور احمد نے روایت کیا ہے۔

123 / 17۔ رَوَی أَبُوْ حَنِیْفَۃَ رضي الله عنه عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رِبَاحٍ عَنْ أَبِي ہُرَیْرَۃَ رضي الله عنه قَالَ : کَانَ لِرَسُوْلِ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم قَلَنْسُوَۃٌ شَامِیَّۃٌ بَیْضَاءُ۔

رَوَاہُ أَبُوْ حَنِیْفَۃَ۔

17 : أخرجہ الخوارزمي في جامع المسانید للإمام أبي حنیفۃ، 1 / 198۔

''امام اعظم ابو حنیفہص بواسطہ حضرت عطاء بن ابی رباح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ اُنہوں نے فرمایا : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک سفید شامی ٹوپی مبارک تھی۔'' اِس حدیث کو امام اعظم ابو حنیفہ نے روایت کیا ہے۔

124 / 18۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنہما قَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم یَلْبَسُ قَلَنْسُوَۃً بَیْضَاءَ۔ رَوَاہُ الْبَیْہَقِيُّ۔

وَقَالَ الْہَیْثَمِيُّ : رَوَاہُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُہٗ ثِقَاتٌ۔

18 : أخرجہ البیہقي في شعب الإیمان، 5 / 175، الرقم : 6259، والہیثمي في مجمع الزوائد، 5 / 121، والسیوطي في الجامع الصغیر، 1 / 366، الرقم : 697۔

''حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفید ٹوپی مبارک پہنا کرتے تھے۔''

اِس حدیث کو امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا : امام طبرانی نے اسے ثقات رجال کے ساتھ روایت کیا ہے۔

125 / 19۔ عَنْ عَائِشَۃَ رضي اللّٰہ عنہا أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وآله وسلم لَبِسَ بُرْدَۃَ سُوْدَاءَ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ : مَا أَحْسَنَہَا عَلَیْکَ یَا رَسُوْلِ اﷲَ، یَشُوْبُ بَیَاضُکَ سَوَادَہَا، وَیَشُوْبُ سَوَادُہَا بَیَاضَکَ، فَبَانَ مِنْہَا رِیْحٌ فَأَلْقَاہَا وَکَانَ یُعْجِبُہُ الرِّیْحُ الطَّیِّبَۃُ۔ رَوَاہُ ابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ رَاہَوَیْہ۔

19 : أخرجہ ابن حبان في الصحیح، 14 / 305، الرقم : 6395، وابن راہویہ في المسند، 3 / 987، الرقم : 1712، وابن حیان في أخلاق النبي صلى الله عليه وآله وسلم ، 2 / 170، الرقم : 291، وابن الجوزي في الوفا / 579، الرقم : 1093، والصالحي في سبل الہدی والرشاد، 7 / 305۔

''حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیاہ چادر زیبِ تن فرمائی تو حضرت عائشہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ! یہ آپ کے جسمِ اطہر پر کیا خوب سج رہی ہے۔ آپ کی رنگت مبارک کی سفیدی اِس کی سیاہی میں اور اِس کی سیاہی آپ کی سفیدی میں گھل مل رہی ہے پھر اُس میں کوئی (ناگوار) خوشبو ظاہر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُسے اُتار دیا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پاکیزہ خوشبوپسند تھی۔''

اِسے امام ابن حبان اور ابن راھویہ نے روایت کیا ہے۔

126 / 20۔ عَنْ عَائِشَۃَ رضي اللّٰہ عنہا قَالَتْ : خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وآله وسلم ذَاتَ غَدَاۃٍ وَعَلَیْہِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ مِنْ شَعَرٍ أَسْوَدَ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ۔

20 : أخرجہ مسلم في الصحیح، کتاب اللباس والزینۃ، باب التواضع في اللباس والاقتصار علی الغلیظ منہ، 3 / 1649، الرقم : 2081، والترمذي في السنن، کتاب الأدب، باب ما جاء في الثوب الأسود، 5 / 119، الرقم : 2813، وأیضًا في الشمائل المحمدیۃ / 76، الرقم : 70، وأبو داود في السنن، کتاب اللباس، باب في لبس الصوف والشعر، 4 / 44، الرقم : 4032۔

''حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ ایک دن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کالے بالوں کا بنا ہوا کمبل اُوڑھ کر باہر تشریف لائے، جس پر پالان کا نمونہ بنا ہوا تھا۔'' اِس حدیث کو امام مسلم، ترمذی اور ابو داود نے روایت کیا ہے۔

127 / 21۔ عَنْ أَبِي بُرْدَۃَ رضي الله عنه قَالَ : دَخَلْتُ عَلٰی عَائِشَۃَ رضي اللّٰہ عنہا فَأَخْرَجَتْ إِلَیْنَا إِزَارًا غَلِیْظًا مِمَّا یُصْنَعُ بِالْیَمَنِ وَکِسَاءً مِنَ الَّتِي یُسَمُّوْنَہَا الْمُلَبَّدَۃَ فَأَقْسَمَتْ بِاﷲِ أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم قُبِضَ فِي ہٰذَیْنِ الثَّوْبَیْنِ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ۔

21 : أخرجہ مسلم في الصحیح، کتاب اللباس والزینۃ، باب التواضع في اللباس والاقتصار علی الغلیظ منہ، 3 / 1649، الرقم : 2081، أبو داود في السنن، کتاب اللباس، باب لباس الغلیظ، 4 / 45، الرقم : 4036، والترمذي في الشمائل المحمدیۃ / 108، الرقم : 120، وأحمد بن حنبل في المسند، 25041، وابن حبان في الصحیح، 14 / 593، الرقم : 6623، والعیني في عمدۃ القاري، 15 / 32، وابن عساکر في تاریخ مدینۃ دمشق، 4 / 210، وابن القیم في زاد المعاد، 1 / 140141، وابن کثیر في البدایۃ والنہایۃ، 6 / 8، والصالحي في سبل الہدی والرشاد، 7 / 304۔

''حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ ہمارے پاس ایک موٹی چادر لے کر تشریف لائیں جو یمن میں بنائی جاتی تھی اور ایک کمبل جس کو ملبدہ کہتے تھے۔ پھر اُنہوں نے اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر فرمایا : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِن دو کپڑوں میں وصال فرمایا تھا۔''

اِس حدیث کو امام مسلم، ابو داود، ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے۔

128 / 22۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَیْثٍ رضي الله عنه قَالَ : کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلٰی رَسُوْلِ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم عَلٰی الْمِنْبَرِ وَعَلَیْہِ عِمَامَۃٌ سَوْدَاءُ قَدْ أَرْخَی طَرَفَیْہَا بَیْنَ کَتِفَیْہِ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَہ۔

22 : أخرجہ مسلم في الصحیح، کتاب الحج، باب جواز دخول مکۃ بغیر إحرام، 2 / 990، الرقم : (2) 1359، والنسائي في السنن، کتاب الزینۃ، باب إرخاء طرف العمامۃ بین الکتفین، 8 / 211، الرقم : 5346، وأبو داود في السنن، کتاب اللباس، باب في العمائم، 4 / 54، الرقم : 4077، وابن ماجہ في السنن، کتاب إقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیہا، باب ما جاء في الخطبۃ یوم الجمعۃ، 1 / 351، الرقم : 1104، والبیہقي في السنن الکبری، 3 / 246، الرقم : 5771۔

''حضرت عَمرو بن حریث رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ گویا میں (تصور میں اس وقت بھی) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منبر مبارک پر تشریف فرما دیکھ رہا ہوں، کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیاہ عمامہ شریف باندھا ہوا ہے اور اُس کے دونوں شملوں کو اپنے مبارک کندھوں کے درمیان لٹکایا ہوا ہے۔''

اِس حدیث کو امام مسلم، نسائی، ابو داود اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

129 / 23۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي اللّٰہ عنہما قَالَ : کَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وآله وسلم إِذَا اعْتَمَّ سَدَلَ عِمَامَتَہٗ بَیْنَ کَتِفَیْہِ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ۔

23 : أخرجہ الترمذي في السنن، کتاب اللباس، باب في سدل العمامۃ بین الکتفین، 4 / 225، الرقم : 1736، وأیضًا في الشمائل المحمدیۃ / 107، الرقم : 118، والبیہقي في شعب الإیمان، 5 / 173، الرقم : 6251، وابن سعد في الطبقات الکبری، 1 / 456۔

''حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب عمامہ شریف باندھتے تو اُس کا شملہ اپنے دونوں کندھوں کے درمیان رکھتے تھے۔''

اِس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔

130 / 24۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ رضي اللّٰہ عنہما أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وآله وسلم دَخَلَ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ وَعَلَیْہِ عِمَامَۃٌ سَوْدَاءُ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَہ۔

24 : أخرجہ مسلم في الصحیح، کتاب الحج، باب جواز دخول مکۃ بغیر إحرام، 2 / 990، الرقم : 1358، والترمذي في السنن، کتاب الجھاد، باب ما جاء في الألویۃ، 4 / 196، الرقم : 1679، والنسائي في السنن، کتاب مناسک الحج، باب دخول مکۃ بغیر إحرام، 5 / 201، الرقم : 2869، وأبو داود في السنن، کتاب اللباس، باب في العمائم، 4 / 54، الرقم : 4076، وابن ماجہ في السنن، کتاب الجہاد، باب لبس العمائم في الحرب، 2 / 942، الرقم : 2822، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 363، الرقم : 14947۔

''حضرت جابر بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے روز سیاہ عمامہ باندھے ہوئے مکہ میں داخل ہوئے۔''

اِس حدیث کو امام مسلم، ترمذی، نسائی، ابو داود اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

131 / 25۔ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ رضي اللّٰہ عنہما قَالَ : دَخَلْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم فِي مَرَضِہِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِیْہِ، وَعَلٰی رَأْسِہٖ عِصَابَۃٌ صَفْرَاءُ، فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ، فَقَالَ : یَا فَضْلُ، قُلْتُ : لَبَّیْکَ یَا رَسُوْلَ اﷲِ، قَالَ : اشْدُدْ بِھٰذِہِ الْعِصَابَۃِ رَأْسِي، قَالَ : فَفَعَلْتُ، ثُمَّ قَعَدَ فَوَضَعَ کَفَّیْہِ عَلٰی مَنْکِبَيَّ ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ فِي الْمَسْجِدِ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ فِي الشَّمَائِلِ وَابْنُ عَسَاکِرَ۔

25 : أخرجہ الترمذي في الشمائل المحمدیۃ / 121122، وابن عساکر في تاریخ مدینۃ دمشق، 4 / 92، والصالحي في سبل الہدی والرشاد، 7 / 272۔

''حضرت فضل بن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض وصال کے ایام میں حاضرِ خدمت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک پر زرد رنگ کا عمامہ مبارک تھا۔ میں نے سلام عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے فضل! میں نے عرض کیا : لبیک یا رسول اﷲ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اِس پگڑی سے میرا سر کس کر باندھو، پس میں نے ایسا ہی کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دونوں ہتھلیاں مبارک میرے کندھوں پر رکھ کر کھڑے ہوئے اور مسجد میں تشریف لے گئے۔''

اِس حدیث کو امام ترمذی نے الشمائل المحمدیہ میں اور ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔

132 / 26۔ عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ جَعْفَر رضي الله عنه قَالَ : رَأَیْتُ عَلَی النَّبِيِّ صلى الله عليه وآله وسلم ثَوْبَیْنِ، مَصْبُوْغَیْنِ بِزَعْفَرَانٍ وَرِدَاءٍ وَعِمَامَۃٍ۔

رَوَاہُ الْحَاکِمُ وَابْنُ سَعْدٍ وَالْمَقْدِسِيُّ۔

26 : أخرجہ الحاکم في المستدرک، 3 / 656، الرقم : 6415، وابن سعد في الطبقات الکبری، 1 / 452، والمقدسي في الأحادیث المختارۃ، 9 / 148، الرقم : 127، والہیثمي في مجمع الزوائد، 5 / 157، والصالحي في سبل الہدی والرشاد، 7 / 273۔

''حضرت عبد اﷲ بن جعفرص سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسمِ اطہرپر دو کپڑے جو زعفران میں رنگے ہوئے تھے، چادر اور عمامہ مبارک دیکھے۔''

اِس حدیث کو امام حاکم، ابن سعد اور مقدسی نے روایت کیا ہے۔

133 / 27۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي اللّٰہ عنہما قَالَ : کَانَ یُدِیْرُ الْعِمَامَۃَ عَلٰی رَأْسِہٖ وَیَغْرِزُھَا مِنْ وَرَائِہٖ، وَیُرْسِلُ لَھَا زُؤَابَۃً بَیْنَ کَتِفَیْہِ۔

رَوَاہُ الْبَیْھَقِيُّ وَابْنُ عَسَاکِرَ۔

27 : أخرجہ البیہقي في شعب الإیمان، 5 / 174، الرقم : 6252، والسیوطي في الجامع الصغیر، 1 / 302، الرقم : 555، وابن الجوزي في الوفا / 580، الرقم : 1098، وابن عساکر في تاریخ مدینۃ دمشق، 4 / 192، والمبارکفوري في تحفۃ الأحوذي، 5 / 338۔

''حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمامہ شریف باندھتے ہوئے اُسے گولائی میں سرِ اقدس کے گرد لپیٹتے اور آخری حصہ کو سرِ اَقدس کی پچھلی جانب اُڑیس لیتے اور ایک کنارہ دونوں مبارک کندھوں کے درمیان لٹکائے رکھتے۔'' اِس حدیث کو امام بیہقی اور ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved