Arbain: Islam awr Iman kay Arkan wa Ausaf

اسلام اور ایمان اور ان کے ارکان :اسلام اور ایمان اور ان کے ارکان

اَلإِسْلَامُ وَالإِیْمَانُ وَأَرْکَانُهُمَا

اِسلام اور ایمان اور اُن کے اَرکان

اَلْقُرْآن

(1) الٓمّٓo ذٰلِکَ الْکِتٰـبُ لاَ رَیْبَج فِیْهِج هُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَo الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَo وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَج وَبِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَo اُولٰٓـئِکَ عَلٰی هُدًی مِّنْ رَّبِّهِمْق وَاُولٰٓـئِکَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَo

(البقرة، 2: 1-5)

الف لام میم (حقیقی معنٰی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)۔ (یہ) وہ عظیم کتاب ہے جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں، (یہ) پرہیزگاروں کے لیے ہدایت ہے۔ جو غیب پر ایمان لاتے اور نماز کو (تمام حقوق کے ساتھ) قائم کرتے ہیں او رجو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے (ہماری راہ) میں خرچ کرتے ہیں۔ اور وہ لوگ جو آپ کی طرف نازل کیا گیا اور جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا (سب) پر ایمان لاتے ہیں، اور وہ آخرت پر بھی (کامل) یقین رکھتے ہیں۔

(2) لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰـکِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِﷲِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰٓئِکَةِ وَالْکِتٰبِ وَالنَّبِیّنَج وَاٰتَی الْمَالَ عَلَی حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ وَالسَّآئِلِیْنَ وَفِی الرِّقَابِج وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَی الزَّکٰوةَ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْاج وَالصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِیْنَ الْبَاْسِط اُولٰٓـئِکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْاط وَاُولٰٓـئِکَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَo

(البقرة، 2: 177)

نیکی صرف یہی نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو بلکہ اصل نیکی تو یہ ہے کہ کوئی شخص اﷲ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (اﷲ کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے، اور اﷲ کی محبت میں (اپنا) مال قرابت داروں پر اور یتیموں پر اور محتاجوں پر اور مسافروں پر اور مانگنے والوں پر اور (غلاموں کی) گردنوں (کو آزاد کرانے) میں خرچ کرے، اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور جب کوئی وعدہ کریں تو اپنا وعدہ پورا کرنے والے ہوں، اور سختی (تنگ دستی) میں اور مصیبت (بیماری) میں اور جنگ کی شدّت (جہاد) کے وقت صبر کرنے والے ہوں، یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیز گار ہیں۔

(3) اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَط کُلٌّ اٰمَنَ بِﷲِ وَمَلٰٓـئِکَتِهٖ وَکُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖقف لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖقف وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُo

(البقرة، 2: 285)

(وہ) رسول اس پر ایمان لائے (یعنی اس کی تصدیق کی) جو کچھ ان پر ان کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا اور اہلِ ایمان نے بھی، سب ہی (دل سے) اﷲ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے، (نیز کہتے ہیں:) ہم اس کے پیغمبروں میں سے کسی کے درمیان بھی (ایمان لانے میں) فرق نہیں کرتے، اور (اﷲ کے حضور) عرض کرتے ہیں: ہم نے (تیرا حکم) سنا اور اطاعت (قبول) کی، اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش کے طلبگار ہیں اور (ہم سب کو) تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔

(4) وَمَنْ یَّکْفُرْ بِﷲِ وَمَلٰٓئِکَتِهٖ وَکُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلاًم بَعِیْدًاo

(النساء، 4: 136)

اور جو کوئی اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کی کتابوں کا اور اس کے رسولوں کا اور آخرت کے دن کا انکار کرے تو بے شک وہ دور دراز کی گمراہی میں بھٹک گیا۔

(5) یٰٓاَیُّهَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْکَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْکُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْج وَمِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْاج سَمّٰعُوْنَ لِلْکَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ لَمْ یَاْتُوْکَط یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ مِنْم بَعْدِ مَوَاضِعِهٖج یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَاِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْاط وَمَنْ یُّرِدِ ﷲُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِکَ لَهٗ مِنَ ﷲِ شَیْئًاط اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ ﷲُ اَنْ یُّطَهِرَ قُلُوْبَهُمْط لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌج صلے وَّلَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌo

(المائدة، 5: 41)

اے رسول! وہ لوگ آپ کور نجیدہ خاطر نہ کریں جو کفر میں تیزی (سے پیش قدمی) کرتے ہیں ان میں (ایک) وہ (منافق) ہیں جو اپنے منہ سے کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے حالاں کہ ان کے دل ایمان نہیں لائے، اور ان میں (دوسرے) یہودی ہیں (یہ) جھوٹی باتیں بنانے کے لیے (آپ کو)خوب سنتے ہیں (یہ حقیقت میں) دوسرے لوگوں کے لیے (جاسوسی کی خاطر) سننے والے ہیں جو(ابھی تک) آپ کے پاس نہیں آئے، (یہ وہ لوگ ہیں) جو (اﷲ کے) کلمات کوان کے مواقع (مقرر ہونے) کے بعد (بھی)بدل دیتے ہیں (اور) کہتے ہیں اگر تمہیں یہ (حکم جو ان کی پسند کا ہو) دیا جائے تو اسے اختیار کرلو اور اگر تمہیں یہ (حکم) نہ دیا جائے تو(اس سے) احتراز کرو، اور اﷲ جس شخص کی گمراہی کا ارادہ فرمالے تو تم اس کے لیے اﷲ (کے حکم کو روکنے) کا ہرگز کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو پاک کرنے کا اﷲ نے ارادہ (ہی) نہیں فرمایا۔ ان کے لیے دنیا میں (کفر کی) ذلّت ہے اور ان کے لیے آخرت میں بڑا عذاب ہے۔

(6) مَنْ کَفَرَ بِﷲِ مِنْم بَعْدِ اِیْمَانِهٖٓ اِلَّا مَنْ اُکْرِهَ وَقَلْبُهٗ مُطْمَئِنٌّم بِالْاِیْمَانِ وَلٰـکِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْکُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ ﷲِج وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌo

(النحل، 16: 106)

جو شخص اپنے ایمان لانے کے بعد کفر کرے، سوائے اس کے جسے انتہائی مجبور کر دیا گیا مگر اس کا دل (بدستور) ایمان سے مطمئن ہے، لیکن (ہاں) وہ شخص جس نے (دوبارہ) شرحِ صدر کے ساتھ کفر (اختیار) کیا سو ان پر اللہ کی طرف سے غضب ہے اور ان کے لیے زبردست عذاب ہے۔

(7) قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّاط قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰـکِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا وَلَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُمْط وَاِنْ تُطِیْعُوا اﷲَ وَرَسُوْلَهٗ لَا یَلِتْکُمْ مِّنْ اَعْمَالِکُمْ شَیْئًاط اِنَّ اﷲَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌo

(الحجرات، 49: 14)

دیہاتی لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں، آپ فرما دیجیے، تم ایمان نہیں لائے، ہاں یہ کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں اور ابھی ایمان تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا، اور اگر تم اﷲ اور اس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی اطاعت کرو تو وہ تمہارے اعمال (کے ثواب میں) سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا، بے شک اﷲ بہت بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے۔

(8) لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِﷲِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اﷲَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَوْکَانُوْٓا اٰبَآئَهُمْ اَوْ اَبْنآئَهُمْ اَوْاِخْوانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْط اُولٰٓئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَاَیَّدَ هُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُط وَیُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاط رَضِیَ ﷲُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُط اُولٰٓئِکَ حِزْبُ ﷲِط اَ لَآ اِنَّ حِزْبَ ﷲِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَo

(المجادلة، 58: 22)

آپ اُن لوگوں کو جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں کبھی اس شخص سے دوستی کرتے ہوئے نہ پائیں گے جو اللہ اور اُس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے دشمنی رکھتا ہے خواہ وہ اُن کے باپ (اور دادا) ہوں یا بیٹے (اور پوتے) ہوں یا اُن کے بھائی ہوں یا اُن کے قریبی رشتہ دار ہوں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اُس (اللہ) نے ایمان ثبت فرما دیا ہے اور انہیں اپنی روح (یعنی فیضِ خاص) سے تقویت بخشی ہے، اور انہیں (ایسی) جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ اُن میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، اللہ اُن سے راضی ہوگیا ہے اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے ہیں، یہی اﷲ (والوں) کی جماعت ہے، یاد رکھو! بے شک اﷲ (والوں) کی جماعت ہی مراد پانے والی ہے۔

اَلْحَدِیْث

1. عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضی الله عنه، قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُوْلِ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم ذَاتَ یَوْمٍ إِذْ طَلَعَ عَلَیْنَا رَجُلٌ شَدِیْدُ بَیَاضِ الثِّیَابِ، شَدِیْدُ سَوَادِ الشَّعْرِ، لَا یُرٰی عَلَیْهِ أَثَرُ السَّفَرِ، وَلَا یَعْرِفُهٗ مِنَّا أَحَدٌ، حَتّٰی جَلَسَ إِلَی النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم، فَأَسْنَدَ رُکْبَتَیْهِ إِلٰی رُکْبَتَیْهِ، وَوَضَعَ کَفَّیْهِ عَلٰی فَخِذَیْهِ، وَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِسْـلَامِ، فَقَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: اَلْإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلاَّ ﷲُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ ﷲِ وَتُقِیْمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّکَاةَ، وَتَصُوْمَ رَمَضَانَ، وَتَحُجَّ الْبَیْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَیْهِ سَبِیْـلًا. قَالَ: صَدَقْتَ.

قَالَ: فَعَجِبْنَا لَهٗ یَسْأَلُهٗ وَیُصَدِّقُهٗ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِیْمَانِ. قَالَ: أَنْ تُؤْمِنَ بِﷲِ، وَمَـلَائِکَتِهٖ، وَکُتُبِهٖ، وَرُسُلِهٖ، وَالْیَوْمِ الْآخِرِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَیْرِهٖ وَشَرِّهٖ. قَالَ: صَدَقْتَ. قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الإِحْسَانِ. قَالَ: أَنْ تَعْبُدَ اﷲَ کَأَنَّکَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تکُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهٗ یَرَاکَ. قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ السَّاعَةِ؟ قَالَ: مَا الْمَسْئُوْلُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ. قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَمَارَتِهَا؟ قَالَ: أَنْ تَلِدَ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا، وَأَنْ تَرَی الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ یَتَطَاوَلُوْنَ فِي الْبُنْیَانِ. ثُمَّ انْطَلَقَ، فَلَبِثْتُ مَلِیًّا، ثُمَّ قَالَ: یَا عُمَرُ، أَتَدْرِي مَنِ السَّائِلُ؟ قُلتُ: ﷲُ وَرَسُوْلُهٗ أَعْلَمُ. قَالَ: فَإِنَّهٗ جِبْرِیْلُ أَتَاکُمْ یُعَلِّمُکُمْ دِیْنَکُمْ.

مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الإیمان، باب سؤال جبریل النبي صلی الله علیه وآله وسلم عن الإیمان والإسلام والإحسانِ وعلم الساعة، 1: 27، الرقم: 50، وأیضًا في کتاب التفسیر: لقمان، باب إنّ ﷲ عنده علم الساعة: 34، 4: 1793، الرقم: 4499، ومسلم في الصحیح، کتاب الإیمان، باب بیان الإیمان والإسلام والإحسان، 1: 36، الرقم: 8-9، وأحمد بن حنبل في المسند، 1: 51، الرقم: 367، والترمذي في السنن، کتاب الإیمان، باب ما جاء في وصف جبریل للنبي صلی الله علیه وآله وسلم الإیمان والإسلام، 5: 6، الرقم: 2601، وأبو داود في السنن، کتاب السنة، باب في القدر، 4: 222، الرقم: 4695، والنسائي في السنن، کتاب الإیمان وشرائعه، باب نعت الإسلام، 8: 97، الرقم: 4990، وابن ماجه في السنن، المقدمة، باب في الإیمان، 1: 24، الرقم: 63.

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک روز ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے۔ اچانک ایک شخص آیا، جس کے کپڑے نہایت سفید اور بال گہرے سیاہ تھے، اس پر سفر کے کچھ اثرات بھی دکھائی نہ دیتے تھے اور ہم میں سے کوئی اسے پہچانتا بھی نہیں تھا۔ بالآخر وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زانوؤں سے اپنے زانو ملا کر بیٹھ گیا اس نے دونوں ہاتھ (ادباً) اپنی رانوں پر رکھ لیے اور عرض کیا: یا محمد! آپ مجھے (حقیقت) اسلام کے بارے میں بیان فرمائیں؟ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اس کے رسول ہیں، اور تو نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے، رمضان المبارک کے روزے رکھے اور اگر استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج کرے۔ اس (اجنبی) نے عرض کیا: آپ نے سچ فرمایا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں اِس بات پر تعجب ہوا کہ وہ خود ہی سوال کرتا ہے اور خود ہی آپ کی تصدیق بھی کرتا ہے۔ اس کے بعد اس نے عرض کیا: مجھے (حقیقتِ) ایمان کے بارے میں بیان فرمائیں؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اور اچھی بری تقدیر پر ایمان رکھے۔ وہ (سائل) عرض گزار ہوا: آپ نے سچ فرمایا۔ پھر اس نے عرض کیا: آپ مجھے احسان کے بارے میں بیان فرمائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: احسان یہ ہے کہ تو اللہ ل کی عبادت اس طرح کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اسے نہ دیکھ سکے (یعنی یہ کیفیت قائم نہ ہوسکے تو یہ جان لے) کہ یقینا وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ اس نے عرض کیا: آپ مجھے (وقوعِ) قیامت کے (وقت کے) بارے میں باخبر فرمائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس سے سوال کیا گیا ہے وہ (اِس اَمر میں) سائل سے زیادہ نہیں جانتا (یعنی جو کچھ مجھے معلوم ہے وہ تمہیں بھی معلوم ہے اور اسے ظاہر کرنا منشا ایزدی کے خلاف ہے)۔ اس شخص نے عرض کیا: اچھا پھر قیامت کی علامات ہی بیان فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علاماتِ قیامت یہ ہیں کہ باندی (عورت) اپنی مالکہ کو جنم دے گی (یعنی بیٹی اپنی ماں کے ساتھ نوکرانیوں والا سلوک کرے گی) اور تم برہنہ پاؤں اور ننگے بدن والے مفلس چرواہوں کو بلند و بالا عمارتوں پر فخر کرتے ہوئے دیکھوگے۔ اس (سوال و جواب) کے بعد وہ شخص چلا گیا۔ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ) میں کچھ دیر ٹھہرا رہا، پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! کیا تم جانتے ہو کہ یہ سوال کرنے والا کون تھا؟ میں نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ جبرائیل تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے اور مذکورہ الفاظ مسلم کے ہیں۔

2. وَفِي رِوَایَةٍ عَنْهُ رضی الله عنه، قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ جُلُوْسٌ عِنْدَ رَسُوْلِ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم فِي أُنَاسٍ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ لَیْسَ عَلَیْهِ سَحْنَاءُ سَفَرٍ، وَلَیْسَ مِنْ أَهْلِ الْبَلَدِ، یَتَخَطّٰی حَتّٰی وَرِکَ، فَجَلَسَ بَیْنَ یَدَيْ رَسُوْلِ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم، فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ، مَا الإِسْـلَامُ؟ قَالَ: الإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلاَّ ﷲُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ ﷲِ، وَأَنْ تُقِیْمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّکَاةَ، وَتَحُجَّ، وَتَعْتَمِرَ، وَتَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، وَأَنْ تُتِمَّ الْوُضُوْءَ، وَتَصُوْمَ رَمَضَانَ، قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذٰلِکَ فَأَنَا مُسْلِمٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: یَا مُحَمَّدُ، مَا الْإِیْمَانُ؟ قَالَ: أَنْ تُؤْمِنَ بِﷲِ، وَمَـلَائِکَتِهٖ، وَکُتُبِهٖ، وَرُسُلِهٖ، وَتُؤْمِنَ بِالْجَنَّةِ وَالنَّارِ، وَالْمِیزَانِ، وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَیْرِهٖ وَشَرِّهٖ.

رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ وَالدَّارَ قُطْنِيُّ وَابْنُ خُزَیْمَةَ.

أخرجه ابن حبان في الصحیح، کتاب الإیمان، باب فرض الإیمان، ذکر البیان بأن الإیمان والإسلام شعب وأجزاء، 1: 397-398، الرقم: 173، والدارقطني في السنن، 2: 282، الرقم: 207، وابن خزیمة في الصحیح، 1: 3، الرقم: 1.

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ ایک روز ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے۔ اچانک ایک شخص آیا، اُس پر سفر کے کچھ اثرات نمایاں نہ تھے اور نہ وہ اہل علاقہ میں سے تھا۔ وہ شخص آگے بڑھا اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا اور عرض کیا: یا محمد! اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اس کے رسول ہیں اور تو نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے، اور (اِستطاعت رکھنے پر) بیت اللہ کا حج کرے اور عمرہ کرے، جنابت کے بعد غسل کرے، مکمل وضو کرے اور رمضان المبارک کے روزے رکھے۔ اُس نے عرض کیا: اگر میں یہ سب اعمال کروں تو کیا میں مسلمان ہوں؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اُس نے عرض کیا: آپ نے سچ فرمایا۔ اِس کے بعد اُس نے عرض کیا: یا محمد! ایمان کیا ہے؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ پر، فرشتوں پر، اُس کی کتابوں پر، اُس کے رسولوں پر، جنت اور دوزخ پر، میزان پر، موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان لائے اور اچھی بری تقدیر پر ایمان رکھے۔

اِسے امام ابن حبان، دار قطنی اور ابن خزیمہ نے روایت کیا ہے۔

3. عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ ﷲِ، مَا الإِسْلَامُ؟ قَالَ: أَنْ یُسْلِمَ قَلْبُکَ ِﷲِ وَأَنْ یَسْلَمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِکَ وَیَدِکَ. قَالَ: فَأَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: اَلْإِیمَانُ. قَالَ: وَمَا الْإِیمَانُ؟ قَالَ: تُؤْمِنُ بِﷲِ وَمَـلَائِکَتِهٖ وَکُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ. وَقَالَ الْهَیْثَمِيُّ: رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهٗ رِجَالُ الصَّحِیْحِ.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 4: 114، الرقم: 17068، وعبد الرزاق في المصنف، 11: 127، الرقم: 20107، وعبد بن حمید في المسند، 1: 124، الرقم: 301، والأزدي في الجامع، 11: 127، الرقم: 20107، وذکره الهیثمي في مجمع الزوائد، 3: 207، والعسقلاني في المطالب العالیة، 12: 294، الرقم: 2874.

حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کیا: یا رسول اﷲ! اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اسلام یہ ہے کہ) تمہارا دل اﷲ تعالیٰ کے لیے سراپا تسلیم ہو جائے اور تمام مسلمان تمہاری زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں۔ اُس نے عرض کیا: کون سا اِسلام افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (جس میں) ایمان (شامل ہو)۔ اُس نے عرض کیا: ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (ایمان یہ ہے کہ) تم اﷲ تعالیٰ پر، اُس کے فرشتوں، اُس کی کتابوں، اُس کے رسولوں اور موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان رکھو۔

اِسے امام احمد اور عبد الرزاق نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا ہے: اِسے احمد اور طبرانی نے روایت کیا ہے اور اِس کے رجال صحیح حدیث کے رجال ہیں۔

4. عَنْ عَبْدِ ﷲِ بْنِ عُمَرَ رضی الله عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: بُنِيَ الْإِسْـلَامُ عَلٰی خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لاَّ إِلٰهَ إِلَّا ﷲُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُهٗ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِیْتَائِ الزَّکَاةِ، وَحَجِّ الْبَیْتِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ.

مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الإیمان، باب بني الإسلام علی خمس، 1: 12، الرقم: 8، ومسلم في الصحیح، کتاب الإیمان، باب بیان أرکان الإسلام ودعائمه العظام، 1: 45، الرقم: 16، وأحمد بن حنبل في المسند، 2: 120، الرقم: 6015، والترمذي في السنن، کتاب الإیمان، باب ما جاء بني الإسلام علی خمس، 5: 5، الرقم: 2609.

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: گواہی دینا کہ اﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اللہ کے بندے اور اُس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے اور مذکورہ الفاظ مسلم کے ہیں۔

5. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه یَقُولُ: بَیْنَمَا نَحْنُ جُلُوْسٌ مَعَ النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم فِي الْمَسْجِدِ، دَخَلَ رَجُلٌ عَلٰی جَمَلٍ، فَأَنَاخَهٗ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ عَقَلَهٗ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ: أَیُّکُمْ مُحَمَّدٌ؟ وَالنَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم مُتَّکِیٌٔ بَیْنَ ظَهْرَانَیْهِمْ، فَقُلْنَا: هٰذَا الرَّجُلُ الْأَبْیَضُ المُتَّکِیٌٔ. فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم: قَدْ أَجَبْتُکَ. فَقَالَ الرَّجُلُ لِلنَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم: إِنِّي سَائِلُکَ فَمُشَدِّدٌ عَلَیْکَ فِي الْمَسْأَلَةِ، فَـلَا تَجِدْ عَلَيَّ فِي نَفْسِکَ. فَقَالَ: سَلْ، عَمَّا بَدَا لَکَ. فَقَالَ: أَسْأَلُکَ بِرَبِّکَ وَرَبِّ مَنْ قَبْلَکَ، آﷲُ أَرْسَلَکَ إِلَی النَّاسِ کُلِّهِمْ؟ فَقَالَ: اللّٰهُمَّ نَعَمْ. قَالَ: أَنْشُدُکَ بِﷲِ، آﷲُ أَمَرَکَ أَنْ نُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي الْیَوْمِ وَاللَّیْلَةِ؟ قَالَ: اللّٰهُمَّ نَعَمْ. قَالَ: أَنْشُدُکَ بِﷲِ، آﷲُ أَمَرَکَ أَنْ نَصُومَ هٰذَا الشَّهْرَ مِنَ السَّنَةِ؟ قَالَ: اللّٰهُمَّ نَعَمْ. قَالَ: أَنْشُدُکَ بِاﷲِ، آﷲُ أَمَرَکَ أَنْ تَأْخُذَ هٰذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِیَائِنَا فَتَقْسِمَهَا عَلَی فُقَرَائِنَا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم: اللّٰهُمَّ نَعَمْ. فَقَالَ الرَّجُلُ: آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهٖ، وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي، وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ، أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَکْرٍ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَہ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب العلم، باب ما جاء في العلم، 1: 35، الرقم: 63، وأحمد بن حنبل في المسند، 3: 168، الرقم: 12742، والنسائي في السنن، کتاب الصیام، باب وجوب الصیام، 4: 122، الرقم: 2092، وابن ماجه في السنن، کتاب إقامة الصلاة والسنة فیها، باب ما جاء في فرض الصلوات الخمس والمحافظة علیها، 1: 449، الرقم: 1402.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم مسجد کے اندر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی اونٹ پر سوار ہو کر آیا۔ اسے (صحنِ) مسجد میں بٹھایا اور گھٹنا باندھ دیا۔ پھر عرض گزار ہوا کہ آپ حضرات میں محمد کون ہیں؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ ہم نے کہا: یہ ٹیک لگانے والے نیّرِ درخشاں۔ اس آدمی نے کہا: اے ابن عبدالمطلب! حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: (ہاں، کہو!) میں تمہیں جواب دوں گا۔ وہ آدمی عرض گزار ہوا کہ میں آپ سے سختی کے ساتھ کچھ پوچھوں گا لیکن مجھ پر ناراض نہ ہونا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جیسے دل چاہے پوچھو۔ کہنے لگا کہ میں آپ سے آپ کے رب اور آپ سے پہلوں کے رب کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ نے آپ کو تمام انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے؟ فرمایا: ہاں خدا گواہ ہے۔ پھر اس نے عرض کیا: میں آپ کو اﷲ کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ہم دن اور رات میں پانچ نمازیں پڑھا کریں؟ فرمایا: ہاں اﷲ گواہ ہے۔ عرض گزار ہوا کہ میں آپ کو اﷲ کی قسم دیتا ہوں کہ کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ہم سال میں اس مہینے (یعنی رمضان) کے روزے رکھا کریں؟ فرمایا: ہاں اﷲ تعالیٰ گواہ ہے۔ عرض گزار ہوا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے امیروں سے زکوٰۃ لے کر ہمارے غریبوں میں تقسیم فرمائیں؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں اﷲ تعالیٰ گواہ ہے۔ اس شخص نے کہا: جو آپ لے کر آئے ہیں اس پر میں ایمان لایا۔ مجھے میری قوم نے بھیجا ہے۔ میں بنو سعد بن بکر کا بھائی ضمام بن ثعلبہ ہوں۔

اِسے امام بخاری، احمد، نسائی اور ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔

6. عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَیْدِ ﷲِ رضی الله عنه یَقُولُ: جَائَ رَجُلٌ إِلٰی رَسُوْلِ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ، ثَائـِرَ الرَّأْسِ، یُسْمَعُ دَوِيُّ صَوْتِهٖ وَلَا یُفْقَهٗ مَا یَقُوْلُ، حَتّٰی دَنَا فَإِذَا هُوَ یَسْأَلُ عَنِ الإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْیَوْمِ وَاللَّیْلَةِ. فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَیْرُهَا؟ قَالَ: لَا، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ. قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: وَصِیَامُ رَمَضَانَ. قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَیْرُهٗ؟ قَالَ: لَا، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ. قَالَ: وَذَکَرَ لَهٗ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم الزَّکَاةَ، قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَیْرُهَا؟ قَالَ: لَا، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ. قَالَ فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ یَقُوْلُ: وَﷲِ، لَا أَزِیدُ عَلٰی هٰذَا وَلَا أَنْقُصُ، قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ.

مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الإیمان، باب الزّکاة مِنَ الإسلام، 1: 25، الرقم: 46، وأیضًا في کتاب الصوم، باب وجوب صوم رمضان، 2: 669، الرقم: 1792، وأیضًا في کتاب الحِیَل، باب في الزکاة، وأن لا یُفرَّقَ بینَ مُجتَمِعٍ ولا یُجمَعَ بین مُتَفرَّقٍ، خشیةَ الصَّدَقَةِ، 6: 2551، الرقم: 6556، ومسلم في الصحیح، کتاب الإیمان، باب بیان الصلوات التي هي أحد أرکان الإسلام، 1: 40، الرقم: 11، وأبوداود في السنن، کتاب الصلاة، باب فرض الصلاة، 1: 106، الرقم: 391، والنسائي في السنن، کتاب الصلاة، باب کم فرضت في الیوم واللیلة، 1: 226،الرقم: 458.

حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں نجد کا رہنے والا ایک شخص اس حال میں حاضر ہوا کہ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ اس کی آواز کی گنگناہٹ تو سنائی دیتی تھی لیکن بات سمجھ میں نہیں آتی تھی، حتیٰ کہ جب وہ قریب آیا تو معلوم ہوا کہ اسلام کے متعلق دریافت کر رہا ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دن اور رات (کے چوبیس گھنٹوں) میں پانچ نمازیں (فرض) ہیں۔ اس نے دریافت کیا: کیا ان کے علاوہ کوئی اور نماز بھی مجھ پر فرض ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، البتہ اگر تم نفل نماز ادا کرنا چاہو (تو کرسکتے ہو)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ماہ رمضان کے روزے (فرض ہیں)۔ سائل نے دریافت کیا: کیا رمضان کے علاوہ کوئی اور روزہ بھی مجھ پر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، البتہ اگر تم نفلی روزے رکھنا چاہو (تو رکھ سکتے ہو)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے زکوٰۃ کے بارے میں بھی بتایا۔ اس نے دریافت کیا: کیا مجھ پر اس کے علاوہ بھی کوئی ادائیگی ضروری ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، البتہ تم رضاکارانہ طور پر کچھ (صدقہ) دینا چاہو تو دے سکتے ہو۔ راوی کہتے ہیں: پھر وہ شخص واپس جانے کے لیے مڑگیا اور کہتا جاتا تھا: بخدا ! میں نہ اس میں کوئی اضافہ کروں گا اور نہ کسی قسم کی کمی کروں گا۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اس شخص کی یہ بات سن کر) فرمایا: اگر اس نے اپنی بات سچ کر دکھائی تو وہ فلاح پاگیا۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

7. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنه قَالَ: إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَیْسِ أَتَوُا النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم، فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ، وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، أَمَرَهُمْ: بِالْإِیمَانِ بِﷲِ وَحْدَهٗ، قَالَ: أَتَدْرُوْنَ مَا الْإِیمَانُ بِﷲِ وَحْدَهٗ؟ قَالُوا: ﷲُ وَرَسُولُهٗ أَعْلَمُ. قَالَ: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا ﷲُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ ﷲِ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِیْتَائُ الزَّکَاةِ، وَصِیَامُ رَمَضَانَ، وَأَنْ تُعْطُوا مِنَ الْمَغْنَمِ الْخُمُسَ. وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: عَنِ الْحَنْتَمِ، وَالدُّبَّائِ، وَالنَّقِیْرِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَرُبَّمَا قَالَ: الْمُقَیَّرِ. وَقَالَ: احْفَظُوْهُنَّ وَأَخْبِرُوا بِهِنَّ مَنْ وَرَائَکُمْ.

مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الإیمان، باب أداء الخمس من الإیمان، 1: 29، الرقم: 53، وأیضًا في کتاب العلم، باب تحریض النبي وفد عبد القیس علی أن یحفظوا الإیمان والعلم ویخبروا من وراء هم، 1: 45، الرقم: 87، ومسلم في الصحیح، کتاب الإیمان، باب الأمر بالإیمان باﷲ تعالی ورسوله، 1: 47، الرقم: 17، وابن حبان في الصحیح، 1: 396، الرقم: 172، وابن أبي شیبة في المصنف، 6: 157، الرقم: 30310.

حضرت عبد اﷲ بنِ عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عبد القیس کا وفد حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں چار باتوں کا حکم دیا اور چار سے منع فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اﷲ وحدہ پر ایمان لانے کا حکم دیا۔ پھر فرمایا: جانتے ہو کہ اﷲ وحدہ پر ایمان لانا کیا ہے؟ عرض گزار ہوئے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا گواہی دینا کہ اﷲ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور بے شک محمدِ مصطفی ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان المبارک کے روزے رکھنا اور مالِ غنیمت سے خمس ادا کرنا۔ (راوی کہتے ہیں:) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں (شراب سازی میں استعمال ہونے والی ان) چار چیزوں سے منع فرمایا: (1) سبز گھڑے، (2) کدو کے صراحی نما پختہ خول، (3) لکڑی کے روغنی برتن (4) اور تارکول سے روغن کئے ہوئے مرتبان۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان چیزوں کو یاد رکھو اور اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو بھی بتا دینا۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

8. عَنْ عَلِيٍّ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: لَا یُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتّٰی یُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ: یَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا ﷲُ وَأَنِّي مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ ﷲِ بَعَثَنِي بِالْحَقِّ، وَیُؤْمِنَ بِالْمَوْتِ وَبِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَیُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه.

أخرجه الترمذي في السنن، کتاب القدر، باب ما جاء في الإیمان بالقدر خیره وشره، 4: 452، الرقم: 2145، وابن ماجه في السنن، المقدمة، باب في القدر، 1: 32، الرقم: 81، والمقدسي في الأحادیث المختارة، 2: 66، الرقم: 443، واللالکائي في شرح اعتقاد أهل السنة، 4: 620، الرقم: 1105.

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندہ جب تک چار باتوں پر ایمان نہ لائے مومن نہیں ہو سکتا۔ وہ اِس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور بے شک میں محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔ مجھے اس نے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ وہ موت پر، موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر اور تقدیر پر ایمان لائے۔

اِسے امام ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

9. عَنْ مُعَاوِیَةَ بْنِ الْحَکَمِ السُّلَمِيِّ رضی الله عنه فِي رِوَایَةٍ طَوِیْلَةٍ قَالَ: کَانَتْ لِي جَارِیَةٌ تَرْعٰی غَنَمًا لِي قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِیَّةِ، فَاطَّلَعْتُ ذَاتَ یَوْمٍ فَإِذَا الذِّیْبُ قَدْ ذَهَبَ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِهَا، وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي آدَمَ آسَفُ کَمَا یَأْسَفُونَ لٰـکِنِّي صَکَکْتُهَا صَکَّةً، فَأَتَیْتُ رَسُولَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم فَعَظَّمَ ذٰلِکَ عَلَيَّ، قُلْتُ: یَارَسُولَ ﷲِ، أَفَـلَا أُعْتِقُهَا؟ قَالَ: ائْتِنِي بِهَا، فَأَتَیْتُهٗ بِهَا. فَقَالَ لَهَا: أَیْنَ ﷲُ؟ قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ. قَالَ: مَنْ أَنَا؟ قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ ﷲِ. قَالَ: أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ.

أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب تحریم الکلام في الصلاة ونسخ ما کان من إباحة، 1: 381، الرقم: 537، وأحمد بن حنبل في المسند، 5: 447، الرقم: 23813، والنسائي في السنن، کتاب السهو، باب الکلام في الصلاة، 3: 17، الرقم: 1218.

حضرت معاویہ بن حکم السلمی رضی اللہ عنہ ایک طویل روایت میں بیان کرتے ہیں کہ میری ایک لونڈی تھی جو اُحد اور (اس کے قریب ایک مقام) جوانیہ میں میری بکریاں چرایا کرتی تھی، ایک دن میں وہاں گیا تو دیکھا کہ بھیڑیا ایک بکری کو اٹھا کر لے گیا ہے، میں بھی آخر انسانوں میں سے ایک انسان ہوں اور سب کی طرح مجھے بھی غصہ آتا ہے، میں نے اسے ایک تھپڑ مار دیا، میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ مجھے اس (تھپڑ مارنے) کا بڑا افسوس تھا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا: کیا میں اس لونڈی کو آزاد نہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو میرے پاس لے کر آئو۔ میں اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے کر آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: آسمان پر، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو آزاد کر دو، یہ مومنہ ہے۔

اسے امام مسلم، احمد اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

10. عَنِ الشَّرِیدِ بْنِ سُوَیْدٍ الثَّقَفِيِّ رضی الله عنه، قَالَ: أَتَیْتُ رَسُولَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم، فَقُلْتُ: إِنَّ أُمِّي أَوْصَتْ أَنْ تُعْتَقَ عَنْهَا رَقَبَةٌ، وَإِنَّ عِنْدِي جَارِیَةً نُوبِیَّةً أَفَیُجْزِئُ عَنِّي أَنْ أُعْتِقَهَا عَنْهَا؟ قَالَ: ائْتِنِي بِهَا، فَأَتَیْتُهٗ بِهَا. فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم: مَنْ رَبُّکِ؟ قَالَتْ: ﷲُ. قَالَ: مَنْ أَنَا؟ قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ ﷲِ. قَالَ: فَأَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوٗدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ، وَاللَّفْظُ لِلنَّسَائِيِّ.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 4: 389، الرقم: 19484، وأبو داود في السنن، کتاب الأیمان والنذور، باب في الرقبة المؤمنة، 3: 230، الرقم: 3283، والنسائي في السنن، کتاب الوصایا، باب فضل الصدقة عن المیت، 6: 252، الرقم: 3653، وابن حبان في الصحیح، 1: 418، الرقم: 189، والبیهقي في السنن الکبری، 4: 110، الرقم: 6480.

حضرت شرید بن سوید الثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا: میری والدہ نے اپنی طرف سے ایک غلام آزاد کرنے کی وصیت کی تھی اور میرے پاس (مصر کے جنوبی حصے میں واقع) نوبی قوم سے تعلق رکھنے والی ایک لونڈی ہے؛ اگر میں اِسے اُس کی طرف سے آزاد کر دوں تو کیا یہ میری طرف سے اُسے کفایت کرے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس لونڈی کو میرے پاس لے کر آؤ۔ بعد ازاں میں اس لونڈی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں لے آیا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا: تیرا رب کون ہے؟ اس نے عرض کیا: (میرا رب) اﷲ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا: میں کون ہوں؟ اس نے عرض کیا: آپ اﷲ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کو آزاد کر دو کیونکہ یہ ایمان والی ہے۔

اسے امام احمد، ابو داؤد، نسائی اور ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔ مذکورہ الفاظ نسائی کے ہیں۔

11. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: مَنْ صَلّٰی صَلَاتَنَا، وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا، وَأَکَلَ ذَبِیحَتَنَا، فَذٰلِکَ الْمُسْلِمُ الَّذِي لَهٗ ذِمَّةُ ﷲِ وَذِمَّةُ رَسُولِهٖ فَـلَا تُخْفِرُوا اﷲَ فِي ذِمَّتِهٖ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَإِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَیْهِ وَالطَّبَرَانِيُّ.

أخرجه البخاري في الصحیح، أبواب القبلة، باب فضل استقبال القبلة، 1: 153، الرقم: 384، والنسائي في السنن، کتاب الإیمان وشرائعه، باب صفة المسلم، 8: 105، الرقم: 4997، وفي السنن الکبری، 6: 530، الرقم: 11728، وإسحاق بن راهویه في المسند عن أبي هریرة رضی الله عنه، 1: 382، الرقم: 407، والطبراني في المعجم الکبیر عن جندب رضی الله عنه، 2: 162، الرقم: 1669.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہماری طرح نماز پڑھی، ہمارے قبلہ کی جانب منہ کیا اور ہمارا ذبیحہ کھایا تو وہ ایسا مسلمان ہے، جس کے لیے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی ضمانت ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی ضمانت میں بے وفائی نہ کرنا۔

اسے امام بخاری، نسائی، اسحاق بن راہویہ اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔

12. عَنْ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ رضی الله عنه - وَکَانَ شَهِدَ بَدْرًا، وَهُوَ أَحَدُ النُّقَبَائِ لَیْلَةَ الْعَقَبَةِ - أَنَّ رَسُولَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ، وَحَوْلَهٗ عِصَابَةٌ مِنْ أَصْحَابِهٖ: بَایِعُونِي عَلٰی أَنْ لَا تُشْرِکُوا بِاﷲِ شَیْئًا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَکُمْ، وَلَا تَأْتُوْا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهٗ بَیْنَ أَیْدِیْکُمْ وَأَرْجُلِکُمْ، وَلَا تَعْصُوا فِي مَعْرُوفٍ فَمَنْ وَفٰی مِنْکُمْ فَأَجْرُهٗ عَلَی ﷲِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئًا فَعُوقِبَ فِي الدُّنْیَا فَهُوَ کَفَّارَةٌ لَهٗ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئًا، ثُمَّ سَتَرَهُ ﷲُ فَهُوَ إِلَی ﷲِ، إِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ وَإِنْ شَاءَ عَاقَبَهٗ. فَبَایَعْنَاهُ عَلٰی ذٰلِکَ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الإیمان، باب علامة الإیمان حب الإنصار، 1: 15، الرقم: 18، وأیضًا في کتاب الأحکام، باب بیعة النساء، 6: 2637، الرقم: 6787، والنسائي في السنن، کتاب البیعة، باب البیعة علی الجهاد، 7: 141-142، الرقم: 4161- 4162.

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ - جو غزوۂ بدر میں شریک تھے اور بیعتِ عقبہ والوں میں ایک نقیب تھے ـ- سے روایت ہے کہ شمعِ رسالت کو پروانوں نے جھرمٹ میں لیا ہوا تھا چنانچہ آپ نے ان سے فرمایا: مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو گے، چوری نہیں کرو گے، بدکاری نہیں کرو گے، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے، جانتے بوجھتے کسی پر بہتان نہیں باندھو گے اور نیکی کے کاموں میں نافرمانی نہیں کرو گے۔ تم میں سے جس نے یہ عہد پورا کیا تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمۂ کرم پر ہے۔ جو ان میں سے کسی میں مبتلا ہو گیا، پھر دنیا میں اسے اس کی سزا مل گئی تو وہ اس کا کفارہ ہو گیا۔ جو ان میں سے کسی کام کا مرتکب ہوا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس پر پردہ ڈالے رکھا تو وہ اللہ کے سپرد ہے چاہے وہ معاف فرما دے، چاہے اسے سزا دے۔ چنانچہ ہم نے اس بات پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی۔

اسے امام بخاری اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

13. عَنْ عَبْدِ ﷲِ بْنِ مُعَاوِیَةَ الْغَاضِرِيِّ رضی الله عنه مِنْ غَاضِرَةِ قَیْسٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم: ثَـلَاثٌ مَنْ فَعَلَهُنَّ فَقَدْ طَعِمَ طَعْمَ الْإِیمَانِ: مَنْ عَبَدَ اﷲَ وَحْدَهٗ وَأَنَّهٗ لَا إِلٰهَ إِلَّا ﷲُ، وَأَعْطٰی زَکَاةَ مَالِهٖ طَیِّبَةً بِهَا نَفْسُهٗ رَافِدَةً عَلَیْهِ کُلَّ عَامٍ، وَلَا یُعْطِي الْهَرِمَةَ، وَلَا الدَّرِنَةَ، وَلَا الْمَرِیضَةَ، وَلَا الشَّرَطَ اللَّئِیمَةَ، وَلٰـکِنْ مِنْ وَسَطِ أَمْوَالِکُمْ، فَإِنَّ اﷲَ لَمْ یَسْأَلْکُمْ خَیْرَهٗ وَلَمْ یَأْمُرْکُمْ بِشَرِّهٖ.

رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ أَبِي عَاصِمٍ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالدَّیْلَمِيُّ.

أخرجه أبو داود في السنن، کتاب الزکاة، باب في زکاة السائمة، 2: 103، الرقم: 1582، وابن أبي عاصم في الآحاد والمثاني، 2: 301، الرقم: 1062، والطبراني في مسند الشامیین، 3: 98، الرقم: 1870-1871، والدیلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 2: 85، الرقم: 2461.

قبیلہ غاضرہ قیس کے حضرت عبد اللہ بن معاویہ غاضری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین کام ایسے ہیں جس نے انہیں کیا اس نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا۔ (ایک یہ کہ) وہ صرف اﷲ وحدہ کی عبادت کرے۔ (دوسرا یہ کہ وہ کہے): اﷲ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ (تیسرا یہ کہ) ہر سال خوش دلی سے (غرباء کی) اعانت کرتے ہوئے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرے۔ (مزید یہ کہ) بوڑھا، خارشی، بیمار اور گھٹیا قسم کا جانور بطورِ زکوٰۃ نہ دے بلکہ درمیانی مال دے کیونکہ اللہ تعالیٰ نہ تم سے بہترین مال مانگتا ہے اور نہ گھٹیا مال کا حکم دیتا ہے۔

اسے ابو داود، ابن ابی عاصم، طبرانی اور دیلمی نے روایت کیا ہے۔

قَوْلُ الإمَامِ الْأَعْظَمِ أَبِي حَنِیْفَةَ عَنِ الإِیْمَانِ

قَالَ الإِمَامُ أَبُوْ مُطِیْعٍ الْحَکَمُ بْنُ عَبْدِ ﷲِ الْبَلْخِيُّ: قُلْتُ: أَيْ أَبَا حَنِیْفَةَ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَفْضَلِ الْفِقْهِ۔ قَالَ أَبُوْ حَنِیْفَةَ: أَنْ یَتَعَلَّمَ الرَّجُلُ الإِْیْمَانَ بِاﷲِ تَعَالٰی وَالشَّرَائِعَ وَالسُّنَنَ وَالْحُدُوْدَ وَاخْتِلَافَ الْأُمَّةِ وَاتِّفَاقَهَا.

قَالَ: قُلْتُ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الإِیْمَانِ. فَقَالَ: حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَعْمُرَ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: أَخْبِرْنِي عَنِ الدِّیْنِ مَا هُوَ؟ قَالَ: عَلَیْکَ بِالإِیْمَانِ فَتَعَلَّمْهُ.

قُلْتُ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الإِیْمَانِ مَا هُوَ؟ قَالَ: فَأَخَذَ بِیَدِي، فَانْطَلَقَ إِلٰی شَیْخٍ، فَأَقْعَدَنِي إِلٰی جَنْبِهٖ. فَقَالَ: إِنَّ هٰذَا یَسْأَلُ عَنِ الإِْیْمَانِ کَیْفَ هُوَ؟ فَقَالَ: وَالشَّیْخُ کَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُوْلِ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم. قَالَ ابْنُ عُمَرَ: کُنْتُ إِلٰی جَنْبِ رَسُوْلِ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم، وَهٰذَا الشَّیْخُ مَعِي إِذْ دَخَلَ عَلَیْنَا رَجُلٌ حَسَنُ اللُّمَّةِ مُتَعَمِّمًا، نَحْسِبُهٗ مِنْ رِجَالِ الْبَادِیَةِ، فَتَخَطّٰی رِقَابَ النَّاسِ فَوَقَفَ بَیْنَ یَدَي رَسُوْلِ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم. فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ ﷲِ، مَا الإِیْمَانُ؟ قَالَ: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا ﷲُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُهٗ، وَتُؤْمِنُ بِمَلَائِکَتِهٖ، وَکُتُبِهٖ، وَرُسُلِهٖ، وَالْیَوْمِ الآخِرِ، وَالْقَدَرِ خَیْرِهٖ وَشَرِّهٖ مِنَ ﷲِ تَعَالٰی. فَقَالَ: صَدَقْتَ، فَتَعَجَّبْنَا مِنْ تَصْدِیْقِهٖ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم مَعَ جَهْلِ أَهْلِ الْبَادِیَةِ.

فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ ﷲِ، مَا شَرَائِعُ الإِسْلَامِ؟ فَقَالَ: إِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِیْتَائُ الزَّکَاةِ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَحَجُّ الْبَیْتِ لِمَنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْهِ سَبِیْلًا، وَالْاِغْتِسَالُ مِنَ الْجَنَابَةِ. فَقَالَ: صَدَقْتَ. فَتَعَجَّبْنَا لِقَوْلِهٖ بِتَصْدِیْقِهٖ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم کَأَنَّهٗ یَعْلَمُهٗ. فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ ﷲِ، وَمَا الإِحْسَانُ؟ قَالَ: أَنْ تَعْمَلَ ِﷲِ کَأَنَّکَ تَرَاهُ فَإِنْ لَمْ تَکُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهٗ یَرَاکَ. فَقَالَ: صَدَقْتَ. فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ ﷲِ، مَتَی السَّاعَةُ؟ فَقَالَ: مَا الْمَسْؤُوْلُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ. ثُمَّ مَضٰی. فَلَمَّا تَوَسَّطَ النَّاسَ لَمْ نَرَهٗ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم: إِنَّ هٰذَا جِبْرِیْلُ أَتَاکُمْ لِیُعَلِّمَکُمْ مَعَالِمَ دِیْنِکُمْ.

قَالَ أَبُو مُطِیْعٍ: قُلْتُ لِأَبِي حَنِیْفَةَ: فَإِذَا اسْتَیْقَنَ بِهٰذَا وَأَقَرَّ بِهٖ فَهُوَ مُؤْمِنٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِذَا أَقَرَّ بِهٰذَا فَقَدْ أَقَرَّ بِجُمْلَةِ الإِسْلَامِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ.

فَقُلْتُ: إِذَا أَنْکَرَ بِشَيْئٍ مِنْ خَلْقِهٖ؟ فَقَالَ: لَا أَدْرِي مَنْ خَالِقُ هٰذَا؟ قَالَ: فَإِنَّهٰ کَفَرَ لِقَوْلِهٖ تَعَالٰی: {خَالِقُ کُلِّ شَیْئٍ} [الأنعام، 6: 102]. فَکَأَنَّهٗ قَالَ: لَهٗ خَالِقٌ غَیْرُ ﷲِ، وَکَذٰلِکَ لَوْ قَالَ: لَا أَعْلَمُ أَنَّ اﷲَ فَرَضَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ وَالصِّیَامَ وَالزَّکَاةَ فَإِنَّهٗ قَدْ کَفَرَ. لِقَوْلِهٖ تَعَالٰی: {وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّکٰوةَ} [البقرة، 2: 43]. وَلِقَوْلِهٖ تَعَالٰی: {کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ} [البقرة،2: 183]، وَلِقَوْلِهٖ تَعَالٰی: {فَسُبْحٰنَ ﷲِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَحِیْنَ تُصْبِحُوْنَo وَلَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِیًّا وَّحِیْنَ تُظْهِرُوْنَo} [الروم، 30: 17-18]. فَإِنْ قَالَ: أُؤْمِنُ بِهٰذِهِ الْآیَةِ، وَلَا أَعْلَمُ تَأْوِیْلَهَا وَلَا أَعْلَمُ تَفْسِیْرَهَا؛ فَإِنَّهٗ لَا یَکْفُرُ، لِأَنَّهٗ مُؤْمِنٌ بِالتَّنْزِیْلِ وَمُخْطِیئٌ فِي التَّفْسِیْرِ.

قُلْتُ لَهٗ: لَوْ أَقَرَّ بِجُمْلَةِ الإِسْلَامِ وَلَا یَعْلَمُ شَیْئًا مِنَ الْفَرَائِضِ وَالشَّرَائِعِ وَلَا یُقِرُّ بِالْکِتَابِ وَلَا بِشَيْئٍ مِنْ شَرَائِعِ الإِسْلَامِ إِلَّا أَنَّهٗ مُقِرٌّ بِاﷲِ تَعَالٰی وَبِالإِیْمَانِ وَلَا یُقِرُّ بِشَيْئٍ مِنْ شَرَائِعِ الإِیْمَانِ فَمَاتَ أَهُوَ مُؤْمِنٌ؟ قَالَ: نَعَمْ. قُلْتُ لَهٗ: وَلَوْ لَمْ یَعْلَمْ شَیْئًا وَلَمْ یَعْمَلْ بِهٖ إِلَّا أَنَّهٗ مُقِرٌّ بِالإِیْمَانِ فَمَاتَ. قَالَ: هُوَ مُؤْمِنٌ.

قُلْتُ لِأَبِي حَنِیْفَةَ: أَخْبِرْنِي عَنِ الإِیْمَانِ؟ قَالَ: أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا ﷲُ وَحْدَهٗ لَا شَرِیْکَ لَهٗ، وَتَشْهَدَ بِمَلَائِکَتِهٖ وَکُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ وَجَنَّتِهٖ وَنَارِهٖ وَقِیَامَتِهٖ وَخَیْرِهٖ وَشَرِّهٖ، وَتَشْهَدَ أَنَّهٗ لَمْ یُفَوِّضِ الْأَعْمَالَ إِلٰی أَحَدٍ.

أبو مطیع الحکم بن عبد ﷲ البلخي في الفقه الأبسط: 41-43

امام اعظم ابو حنیفہ کا ایمان کے بارے میں موقف

امام ابو مطیع حکم بن عبد اللہ البلخی بیان کرتے ہیں: میں نے پوچھا: اے ابوحنیفہ! آپ مجھے بہترین فقہ (دین کی سمجھ بوجھ) کے بارے میں بتائیے۔ امام اعظم ابو حنیفہ نے فرمایا: (بہترین فقہ یہ ہے کہ) آدمی ایمان باﷲ، شریعت کے احکام، سنن، حدود اور جن امور میں امت کا اتفاق اور جن میں اختلاف ہے (ان سب مسائل) کو سیکھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے کہا: مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے، تو آپ نے فرمایا: مجھے علقمہ بن مرثد نے یحییٰ بن یعمر سے روایت کر کے بتایا، انہوں نے کہا: میں نے ابنِ عمر سے کہا: مجھے دین کے بارے میں بتائیں کہ وہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: تجھ پر ایمان (کی تعلیمات اور تفصیلات) کا سیکھنا لازم ہے۔

میں (یعنی ابن عمر) نے کہا: مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے، کہ یہ کیا چیز ہے؟ آپ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ایک شیخ کے پاس لے گئے، مجھے اپنے پہلو میں بٹھا لیا، اور فرمایا: یہ شخص ایمان کے بارے میںپوچھتا ہے کہ اس کی کیفیت کیا ہوتی ہے؟ آپ بیان کرتے ہیں کہ شیخ ان صحابہ میں سے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں بدر میں حاضر تھے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں تھا اور یہ شیخ بھی میرے ساتھ تھے، جب ایک خوبصورت زلفوں والا شخص عمامہ باندھے ہوئے ہمارے پاس آیا، ہم اسے دیہاتی لوگوں میں سے سمجھ رہے تھے، وہ لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آکر رک گیا، اور عرض کرنے لگا: یا رسول اللہ! ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور یہ کہ تو اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور اچھی بری تقدیر کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر ایمان لائے۔ اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا ہے۔ ہم نے اس کے دیہاتیوں کی سی لاعلمی رکھنے کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کرنے پر تعجب کا اظہار کیا۔ پھر اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اسلام کی شریعت کے احکام کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان المبارک کے روزے رکھنا، اور بیت اﷲ شریف تک پہنچنے کی استطاعت رکھنے والے شخص کا حج کرنا، اور حالتِ جنابت سے (نکلنے کے لیے جلدی) غسل کرنا۔ اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا ہے۔ ہم نے پھر اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کی تصدیق کرنے پر تعجب کیا کہ گویا وہ یہ جانتا ہے۔ پھر اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! احسان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تو اللہ تعالیٰ کی عبادت اِس حال میں کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اسے نہ دیکھ سکے (یعنی یہ کیفیت قائم نہ ہو سکے) تو (جان لے کہ) یقینا وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا ہے، پھر اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! قیامت کب واقع ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس سے سوال کیا گیا ہے وہ (اِس اَمر میں) سائل سے زیادہ جاننے والا نہیں ہے۔ پھر وہ چلا گیا۔ جب وہ لوگوں کے بیچ میں چلا گیا تو ہم اسے نہ دیکھ سکے۔ پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک یہ جبرائیل امین تھے جو تمہیں تمہارے دین کی تعلیمات سکھانے آئے تھے۔

ابو مطیع بیان کرتے ہیں: میں نے ابو حنیفہ سے عرض کیا: جب کوئی شخص اس پر یقین رکھے اور اس کا اقرار کرے تو کیا وہ مومن ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں، جب اس نے اس کا اقرار کر لیا تو یقینا اس نے پورے اسلام کا اقرار کر لیا اور وہ مومن ہے۔

پھر میں نے کہا: اگر وہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں سے کسی چیز کا انکار کر دے تو کیا حکم ہوگا؟ مثلاً یہ کہے! میں نہیں جانتا کہ اس چیز کا خالق کون ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ کافر ہو جائے گا، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی بدولت: {خَالِقُ کُلِّ شَیْئٍ} ’(وہی) ہر چیز کا خالق ہے‘۔ گویا اس نے یہ کہا ہے کہ اس کا خالق اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور ہے۔ اسی طرح اگر اس نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر نماز، روزے اور زکوٰۃ فرض کی ہے تو بھی وہ کافر ہو جائے گا؛ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی بدولت: {وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّکٰوةَ} ’اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دیا کرو۔‘ اور اس فرمان کی بدولت {کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ} ’تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں۔‘ اور اس فرمان کی بدولت {فَسُبْحٰنَ ﷲِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَحِیْنَ تُصْبِحُوْنَo وَلَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِیًّا وَّحِیْنَ تُظْهِرُوْنَo} ’پس تم اﷲ کی تسبیح کیا کرو جب تم شام کرو (یعنی مغرب اور عشاء کے وقت) اور جب تم صبح کرو (یعنی فجر کے وقت) اور ساری تعریفیں آسمانوں اور زمین میں اسی کے لیے ہیں اور (تم تسبیح کیا کرو) سہ پہر کو بھی (یعنی عصر کے وقت) اور جب تم دوپہر کرو (یعنی ظہر کے وقت)o‘ اور اگر اس نے کہا: میں اس آیت پر ایمان لاتا ہوں، لیکن میں اس کی تأویل و تفسیر نہیں جانتا ہوں تو وہ کافر نہیں ہوگا؛ کیونکہ وہ کتاب پر ایمان رکھنے والا ہے اور تفسیر میں خطا کھانے والا ہے۔

میں نے ان سے پوچھا: اگر وہ جملہ اسلام کا اقرار کرتا ہو لیکن فرائض اور دیگر شرعی احکام میں سے کچھ نہ جانتا ہو، نہ کتاب اللہ کا اقرار کرتا ہو، نہ ارکانِ اسلام میں سے کسی رکن کا اقرار کرتا ہو اور نہ ہی ارکانِ ایمان میں سے کسی رکن کا اقرار کرتا ہو بلکہ صرف اﷲ تعالیٰ اور ایمان کا اقرار کرنے والا ہو؛ ایسا شخص فوت ہو جائے تو کیا وہ مومن ہوگا؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ میں نے انہیں کہا: اگرچہ وہ (شریعت کی) کوئی بھی چیز نہ جانتا ہو، اور نہ اس پر عمل پیرا ہو سوائے یہ کہ وہ ایمان کا اقرار کرنے والا ہو اور وہ فوت ہوجائے (تو کیا وہ مومن ہوگا)؟ آپ نے فرمایا: (ہاں) وہ مومن ہوگا۔

میں نے امامِ اعظم ابو حنیفہ سے کہا: مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے؟ آپ نے فرمایا: تو یہ گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اور تو اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، اس کی جنت، اس کی دوزخ، اس کی قیامت، اس کے خیر اور اس کے پیدا کردہ شر کی گواہی دے، اور تو یہ گواہی دے کہ وہ اعمال کسی کو نہیں سونپتا۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved