Arbain: Islam awr Iman kay Arkan wa Ausaf

اسلام اور ایمان کی شاخیں اور ان کے اوصاف

شُعَبُ الإِسْلَامِ وَالإِیْمَانِ وَأَوْصَافُهُمَا

اِسلام اور اِیمان کی شاخیں اور اُن کے اَوصاف

14. عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: الإِیْمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُوْنَ شُعْبَةً، فَأَفْضَلُهَا: قَوْلُ لَا إِلٰهَ إِلَّا ﷲُ، وَأَدْنَاهَا: إِمَاطَةُ الْأَذٰی عَنِ الطَّرِیْقِ، وَالْحَیَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِیْمَانِ.

مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الإیمان، باب أمور الإیمان، 1: 12، الرقم: 9، ومسلم في الصحیح، کتاب الإیمان، باب بیان عدد شعب الإیمان وأفضلها وأدناھا، 1: 63، الرقم: 35، وزاد (أَوْ بِضْعٌ وَسِتُّوْنَ)، وأبو داود في السنن، کتاب السنة، باب في ردّ الإرجاء، 4: 219، الرقم: 4676، والترمذي بنحوه في السنن، کتاب الإیمان، باب ما جاء في استکمال الإیمان وزیادته ونقصانه، 5: 10، الرقم: 2614، والنسائي في السنن، کتاب الإیمان وشرائعه، باب ذکر شعب الإیمان، 8: 110، الرقم: 5005.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایمان کی ستر سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں جن میں سب سے افضل لَا إِلٰهَ إِلَّا ﷲُ (یعنی وحدانیتِ الٰہی) کا اقرار کرنا ہے اور ان میں سب سے نچلا درجہ کسی تکلیف دہ چیز کا راستے سے دور کر دینا ہے۔ اور حیاء بھی ایمان کی ایک (اہم) شاخ ہے۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے اور مذکورہ الفاظ مسلم کے ہیں۔

15. عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم: لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی أَکُوْنَ أَحَبَّ إِلَیْهِ مِنْ وَالِدِهٖ وَوَلَدِهٖ وَالنَّاسِ أَجْمَعِیْنَ.

وَفِي رِوَایَةٍ عَنْهُ: أَحَبَّ إِلَیْهِ مِنْ أَهْلِهٖ وَمَالِهٖ.

مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الإیمان، باب حبّ الرّسول صلی الله علیه وآله وسلم من الإیمان، 1: 14، الرقم: 14-15، ومسلم في الصحیح، کتاب الإیمان، باب وجوب محبّة رسول اﷲ صلی الله علیه وآله وسلم أکثر من الأھل والولد والوالد والناس أجمعین وإطلاق عدم الإیمان علی من لم یحبه هذه المحبة، 1: 67، الرقم: 44.

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اُس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اُسے اُس کے والد (یعنی والدین)، اُس کی اولاد اور تمام لوگوں سے محبوب تر نہ ہو جاؤں۔

ایک روایت میں حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے مروی الفاظ ہیں (کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا): جب تک میں اس کے اہل و عیال اور مال سے بھی محبوب تر نہ ہو جاؤں۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

16. عَنْ عَبْدِ ﷲِ بْنِ هِشَامٍ رضی الله عنه، قَالَ: کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم، وَهُوَ آخِذٌ بِیَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضی الله عنه، فَقَالَ لَهٗ عُمَرُ رضی الله عنه: یَا رَسُوْلَ ﷲِ، لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ کُلِّ شَيئٍ إِلاَّ مِنْ نَفْسِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم: لَا، وَالَّذِي نَفْسِي بِیَدِهٖ، حَتّٰی أَکُوْنَ أَحَبَّ إِلَیْکَ مِنْ نَفْسِکَ. فَقَالَ لَهٗ عُمَرُ: فَإِنَّهُ الْآنَ، وَﷲِ، لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي. فَقَالَ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم: الْآنَ یَا عُمَرُ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الأیمان والنّذور، باب کیف کانت یمین النّبيّ صلی الله علیه وآله وسلم، 6: 2445، الرقم: 6257.

حضرت عبد اللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، آپ فرماتے ہیں: (ایک مرتبہ) ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مجھے اپنی جان کے سوا ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں۔ (اس پر) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، (یہ کافی نہیں ہے) قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! جب تک میں تمہیں تمہاری جان سے بھی محبوب تر نہ ہو جائوں (اس وقت تک تمہاری محبت کامل نہیں)۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کی قسم! اب آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔ اس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! اب (تمہاری محبت کامل) ہے۔

اِسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

17. عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: ثَـلَاثٌ مَنْ کُنَّ فِیْهِ وَجَدَ حَـلَاوَةَ الإِیْمَانِ: (وَفِي رِوَایَةٍ: حَـلَاوَةَ الإِسْـلَامِ) أَنْ یَکُوْنَ ﷲُ وَرَسُوْلُهٗ أَحَبَّ إِلَیْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ یُحِبَّ الْمَرْئَ لَا یُحِبُّهٗ إِلَّا ِﷲِ، وَأَنْ یَکْرَهَ أَنْ یَعُوْدَ فِي الْکُفْرِ کَمَا یَکْرَهُ أَنْ یُقْذَفَ فِي النَّارِ.

مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الإیمان، باب حلاوةِ الإِیمانِ، 1: 14، الرقم: 16، وأیضًا في کتاب الإیمان، باب مَنْ کَرِهَ أَن یعودَ في الکفر کما یَکْرَهُ أَن یُلقَی في النّار مِن الإیمانِ، 1: 16، الرقم: 21، وأیضًا في کتاب الإکراه، باب مَنِ اخْتَارَ الضَّربَ وَالقتل والھوان علی الکفر، 6: 2546، الرقم: 6542، وأیضًا في کتاب الأدب، باب الحُبِّ في اﷲ، 5: 2246، الرقم: 5694، ومسلم في الصحیح، کتاب الإیمان، باب بیان خصال من اتصف بهن وجد حلاوة الإیمان، 1: 66، الرقم: 43، وأحمد بن حنبل في المسند، 3: 103، الرقم: 12021، والترمذي في السنن، کتاب الإیمان، باب: (10)، 5: 15، الرقم: 2624، والنسائي في السنن، کتاب الإیمان وشرائعه، باب طعم الإیمان، 8: 94-95، الرقم: 4987، وأیضًا في باب حلاوة الإیمان، 8: 96، الرقم: 4988، وأیضًا في باب حلاوة الإسلام، 8: 97، الرقم: 4989، وابن ماجه في السنن، کتاب الفتن، باب الصَّبْرِ عَلَی الْبَلَائِ، 2: 1338، الرقم: 4033.

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص میں تین خصلتیں ہوں گی وہ ایمان کی مٹھاس (ایک روایت میں ہے کہ اسلام کی مٹھاس) کو پالے گا: (پہلی یہ کہ) اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُسے باقی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہوں، (دوسری یہ کہ) جس شخص سے بھی اُسے محبت ہو وہ محض اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی خاطر ہو اور (تیسری یہ کہ) کفر سے نجات پانے کے بعد دوبارہ (حالتِ) کفر میں لوٹنے کو وہ اسی طرح ناپسند کرے جیسے وہ اپنے آپ کا آگ میں پھینکا جانا ناپسند کرتا ہے۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

18. وَفِي رِوَایَةٍ عَنْهُ رضی الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی یُحِبَّ لِأَخِیْهِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِهٖ.

مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.

18: أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الإیمانِ، باب من الإیمانِ أن یحبّ لأخیه ما یحب لنفسه، 1: 14، الرقم: 13، ومسلم في الصحیح، کتاب الإیمان، باب الدلیل علی أن من خصال الإیمان أن یحب لأخیه المسلم ما یحب لنفسه من الخیر، 1: 67، الرقم: 45، والترمذي في السنن، کتاب صفة القیامة والرقائق والورع، باب (59)، 4: 667، الرقم: 2515، والنسائي في السنن، کتاب الإیمان وشرائعه، باب علامة الإیمان، 8: 115، الرقم: 5016، وابن ماجه في السنن، المقدمة، باب في الإیمان، 1: 26، الرقم: 66.

ایک اور روایت میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

19. عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِهٖ وَیَدِهٖ، وَالْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلٰی دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَاللَّفْظُ لَهٗ، وَالْحَاکِمُ وَابْنُ حِبَّانَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 2: 379، الرقم: 8918، والترمذي في السنن، کتاب الإیمان، باب ما جاء في أن المسلم من سلم المسلمون من لسانه ویده، 5: 17، الرقم: 2627، والحاکم في المستدرک، 1: 54، الرقم: 22، وابن حبان في الصحیح، 1: 406، الرقم: 180.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، اور مومن وہ ہے جس سے تمام لوگوں کی جانیں اور مال محفوظ رہیں۔

اِسے امام اَحمد نے، ترمذی نے مذکورہ الفاظ میں، حاکم اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

20. عَنْ عَبدِ ﷲِ بْنِ عَمْرٍو رضی الله عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِهٖ وَیَدِهٖ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَی ﷲُ عَنْهُ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ وَأَبُو دَاوٗدَ وَالنَّسَائِيُّ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الإیمان، باب المسلم من سَلِمَ المسلمون من لسانه ویده، 1: 13، الرقم: 10، وأحمد بن حنبل في المسند، 2: 163، الرقم: 6515، وأبو داود في السنن، کتاب الجهاد، باب في الهجرة هل انقطعت، 3: 4، الرقم: 2481، والنسائي في السنن، کتاب الإیمان وشرائعه، باب صفة المسلم، 8: 105، الرقم: 4996، وابن حبان في الصحیح، 1: 467، الرقم: 230.

حضرت عبد اﷲ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں، اور حقیقی مہاجر وہ ہے جس نے ان کاموں کو چھوڑ دیا جن سے اﷲ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔

اِسے امام بخاری، احمد، ابو داؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

21. عَنْ عَبْدِ ﷲِ بْنِ عَمْرٍو رضی اللہ عنہما أَنَّ رَجُـلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم: أَيُّ الإِسْلَامِ خَیْرٌ؟ قَالَ: تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّـلَامَ عَلٰی مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ.

مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الإیمان، باب إطعام الطعام مِنَ الإسلام، 1: 13، الرقم: 12، وأیضًا في کتاب الإیمان، باب إفشاء السلام مِن الإسلام، 1: 19، الرقم: 28، ومسلم في الصحیح، کتاب الإیمان، باب بیان تفاضل الإسلام ونصف أموره أفضل، 1: 65، الرقم: 39، وأبو داود في السنن، کتاب الأدب، باب في إفشاء السلام، 4: 350، الرقم: 5194، والنسائي في السنن، کتاب الإیمان وشرائعه، باب أي الإسلام خیر، 8: 107، الرقم: 5000.

حضرت عبد اﷲ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں عرض کیا: کون سا اِسلام بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (بہترین اسلام یہ ہے کہ) تم (دوسروں کو) کھانا کھلاؤ اور (ہر ایک کو) سلام کرو، خواہ تم اسے جانتے ہو یا نہیں جانتے۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

22. عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: لَا تَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰی تُؤْمِنُوْا وَلَا تُؤْمِنُوْا حَتّٰی تَحَابُّوْا، أَوَلَا أَدُلُّکُمْ عَلٰی شَيْئٍ إِذَا فَعَلْتُمُوْهُ تَحَابَبْتُمْ؟ أَفْشُوا السَّـلَامَ بَیْنَکُمْ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَبُو دَاوٗدَ وَالتِّرْمِذِيُّ.

أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب الإیمان، باب بیان أنه لا یدخل الجنة إلا المؤمنون وأن محبة المؤمنین من الإیمان وأن إفشاء السلام سبب لحصولها، 1: 74، الرقم: 54، وأبوداود في السنن، کتاب الأدب، باب في إفشاء السلام، 4: 350، الرقم: 5193، والترمذي في السنن، کتاب الاستئذان والآداب، باب ما جاء في إفشاء السلام، 5: 52، الرقم: 2688، وابن ماجه في السنن، المقدمة، باب في الإیمان، 1: 26، الرقم: 68، وفي کتاب الأدب، باب إِفشاء السلام، 2: 1217، الرقم: 3692.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک ایمان نہ لے آؤ؛ اور تم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک ایک دوسرے سے محبت نہ کرو۔ کیا میں تمہیں ایک ایسی چیز نہ بتائوں جس پر تم عمل کرو تو ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو؟ (اور وہ عمل یہ ہے کہ) اپنے درمیان سلام کو پھیلایا کرو (یعنی کثرت سے ایک دوسرے کو سلام کیا کرو)۔

اِسے امام مسلم، ابو داؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔

23. عَنْ عَبْدِ ﷲِ بْنِ عُمَرَ رضی اللہ عنہما أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم مَرَّ عَلٰی رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَهُوَ یَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَیَائِ، فَقَالَ رَسُولُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: دَعْهُ، فَإِنَّ الْحَیَائَ مِنَ الإِیْمَانِ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ وَأَبُو دَاوٗدَ وَالنَّسَائِيُّ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الإیمان، باب الحیاء من الإیمان، 1: 17، الرقم: 24، وأحمد بن حنبل في المسند، 2: 147، الرقم: 6341، وأبو داود في السنن، کتاب الأدب، باب في الحیائ، 4: 252، الرقم: 4795، والنسائي في السنن، کتاب الإیمان وشرائعه، باب الحیائ، 8: 121، الرقم: 5033، ومالک في الموطأ، 2: 905، الرقم: 1611.

حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر انصار کے ایک فرد کے پاس سے ہوا جو اپنے بھائی کو حیا کے متعلق نصیحت کر رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو کیونکہ حیا تو ایمان کا ایک حصہ ہے۔

اسے امام بخاری، احمد، ابو داؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

24. عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: الْحَیَائُ مِنَ الْإِیمَانِ وَالْإِیمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَالْبَذَائُ مِنَ الْجَفَائِ وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَہ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: فِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَبِي بَکْرَةَ وَأَبِي أُمَامَةَ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ l، هٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ.

أخرجه أحمد في المسند، 2: 501، الرقم: 10519، والترمذي في السنن، کتاب البر والصلة، باب ما جاء في الحیائ، 4: 365، الرقم: 2009، وابن ماجه في السنن عن أبي بکرة، کتاب الزهد، باب الحیائ، 2: 1400، الرقم: 4184، والحاکم في المستدرک، 1: 119، الرقم: 172، وابن حبان في الصحیح، 2: 373، الرقم: 608.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حیاء ایمان کا (اہم) حصہ ہے اور ایمان جنت میں لے جاتا ہے۔ اور بدزبانی سنگ دلی ہے اور سنگ دلی دوزخ میں لے جاتی ہے۔

اسے امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا ہے کہ اس موضوع پر حضرت ابن عمر، ابوبکرہ، ابو امامہ اور عمران بن حصین l سے بھی روایات مذکور ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

25. عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رضی الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: الْحَیَائُ وَالْعِيُّ شُعْبَتَانِ مِنَ الْإِیمَانِ، وَالْبَذَائُ وَالْبَیَانُ شُعْبَتَانِ مِنَ النِّفَاقِ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالْحَاکِمُ وَابْنُ الْجَعْدِ.

أخرجه أحمد في المسند، 5: 269، الرقم: 22366، والترمذي في السنن، کتاب البر والصلة، باب ما جاء في العي، 4: 375، الرقم: 2027، والحاکم في المستدرک، 1: 51، الرقم: 17، وابن الجعد في المسند: 433، الرقم: 2949.

حضرت ابو امامہ الباہلی رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حیاء اور کم گوئی ایمان کے دو شعبے ہیں اور بدکلامی اور زیادہ باتیں کرنا نفاق کے شعبے ہیں۔

اسے امام احمد، ترمذی، حاکم اور ابن الجعد نے روایت کیا ہے۔

26. عَنْ أَبِي سَعِیْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی الله عنه عَنْ رَسُوْلِ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: مَنْ رَأَی مِنْکُمْ مُنْکَرًا فَلْیُغَیِّرْهُ بِیَدِهٖ. فَإِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهٖ. فَإِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهٖ. وَذٰلِکَ أَضْعَفُ الإِیْمَانِ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه.

أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب الإیمان، باب بیان کون النهي عن المنکر من الإیمان، 1: 69، الرقم: 49، وأحمد بن حنبل في المسند، 3: 20، الرقم: 11166، وأبو داود في السنن، کتاب الملاحم، باب الأمر والنهي، 4: 123، الرقم: 4340، والترمذي في السنن، کتاب الفتن، باب ما جاء في تفسیر المنکر بالید أو باللسان أو بالقلب، 4: 469، الرقم: 2172، والنسائي في السنن، کتاب الإیمان وشرائعه، باب تفاضل أهل الإیمان، 8: 111، الرقم: 5008، وابن ماجه في السنن، کتاب إقامة الصلة والسنة فیها، باب ما جاء في صلاة العیدین، 1: 406، الرقم: 1275.

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو کسی برائی کو دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روکنے کی کوشش کرے اور اگر اپنے ہاتھ سے نہ روک سکے تو اپنی زبان سے روکے اور اگر اپنی زبان سے بھی روکنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو (کم از کم اس برائی کو) اپنے دل میں برا جانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔

اِسے امام مسلم، احمد، ابو داؤد، ترمذی، نسائی اور ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔

27. عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: أَکْمَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ إِیْمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا وَخِیَارُکُمْ خِیَارُکُمْ لِنِسَائِکُمْ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 2: 472، الرقم: 10110، والترمذي في السنن، کتاب الرضاع، باب ما جاء في حق المرأة علی زوجها، 3: 466، الرقم: 1162، والدارمي في السنن، 2: 415، الرقم: 2792، والحاکم في المستدرک، 1: 43، الرقم: 2.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اہلِ ایمان میں سے کامل تر مؤمن وہ ہے جو اُن میں سے بہترین اَخلاق کا مالک ہے اور تم میں سے بہترین وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے لیے (اخلاق اور برتاؤ میں) بہترین ہیں۔

اِسے امام احمد، ترمذی اور دارمی نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے کہا ہے: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

28. عَنْ أَبِي سَعِیْدٍ رضی الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: إِذَا رَأَیْتُمُ الرَّجُلَ یَعْتَادُ الْمَسْجِدَ، فَاشْهَدُوْا لَهٗ بِالْإِیْمَانِ. قَالَ ﷲُ تَعَالٰی: {إِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ ﷲِ مَنْ آمَنَ بِاﷲِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ} [التوبة، 9: 18].

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: حَدِیْثٌ حَسَنٌُ؛ وَالدَّارِمِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ وَالْحَاکِمُ، وَقََالَ: صَحِیْحُ الإِسْنَادِ.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 3: 68، الرقم: 11669، والترمذي في السنن، کتاب تفسیر القرآن، باب ومن سورة التوبة، 5: 277، الرقم: 3093، والدارمي في السنن، 1: 302، الرقم: 1223، وابن حبان في الصحیح، 5: 6، الرقم: 1721، والحاکم في المستدرک، 1: 332، الرقم: 770.

حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی شخص کو دیکھو کہ وہ مسجد میں آنے جانے کا عادی ہے تو اس کے ایمان کی گواہی دو۔ (کیونکہ) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: {إِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ ﷲِ مَنْ آمَنَ بِاﷲِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ} ’اللہ کی مساجد کو صرف وہی شخص آباد کرتا ہے جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان لایا۔‘

اِسے امام احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن ہے۔ اس کے علاوہ اِسے امام دارمی، ابن حبان اور حاکم نے روایت کیا، اور امام حاکم نے فرمایا: یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔

29. عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَیْنٍ رضی اللہ عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: إِنَّ مِنْ حُسْنِ إِسْـلَامِ الْمَرْئِ تَرْکُهٗ مَا لَا یَعْنِیْهِ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَمَالِکٌ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ.وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: وَهٰکَذَا رَوَی غَیْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَیْنٍ عَنِ النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم نَحْوَ حَدِیْثِ مَالِکٍ مُرْسَلًا وَهٰذَا عِنْدَنَا أَصَحُّ مِنْ حَدِیْثِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ. وَعَلِيُّ بْنُ حُسَیْنٍ لَمْ یُدْرِکْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ.

أخرجه الترمذي في السنن، کتاب الزهد، باب: 11، 4: 558، الرقم: 2318، ومالک في الموطأ، 2: 903، الرقم: 1604، وعبد الرزاق في المصنف، 11: 307، الرقم: 20617، والطبراني في المعجم الکبیر، 3: 128، الرقم: 2886، وأیضًا في المعجم الأوسط، 8: 202، الرقم: 8402، والقضاعي في مسند الشهاب، 1: 144، الرقم: 193، وابن الجعد في المسند، 1: 428، الرقم: 2925.

حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انسان کا لایعنی باتیں ترک کر دینا اُس کے اسلام کی عمدگی میں سے ہے۔

اِسے امام ترمذی، مالک اور عبد الرزاق نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: اِسی طرح اصحاب زہری نے بواسطہ زہری علی بن حسین سے مالک بن انس کی روایت کے ہم معنٰی روایت مرسلاً نقل کی ہے اور ہمارے نزدیک یہ حضرت ابو سلمہ کی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کردہ روایت سے زیادہ صحیح ہے اور حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔

30. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: آیَةُ الإِیْمَانِ حُبُّ الْأَنْصَارِ، وَآیَةُ النِّفَاقِ بُغْضُ الْأَنْصَارِ.

مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الإیمان، باب علامة الإیمان حب الأنصار، 1: 14، الرقم: 17، وأیضًا في کتاب فضائل الصحابة، باب حب الأنصار من الإیمان، 3: 1379، الرقم: 3573، ومسلم في الصحیح، کتاب الإیمان، باب الدلیل علی أن حب الأنصار وعلي رضی الله عنه من الإیمان وعلاماته، وبغضهم من علامات النفاق، 1: 85، الرقم: 74، وأحمد بن حنبل في المسند، 3: 130، الرقم: 12338، والنسائي في السنن، کتاب الإیمان وشرائعه، باب علامة الإیمان، 8: 116، الرقم: 5019.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انصار سے محبت ایمان کی نشانی ہے، اور انصار سے بغض منافقت کی علامت ہے۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

31. عَنْ الْبَرَاءِ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم، أَوْ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم: اَ لْأَنْصَارُ لَا یُحِبُّهُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا یُبْغِضُهُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ أَحَبَّهُ ﷲُ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ أَبْغَضَهُ ﷲُ.

مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب المناقب، باب حب الأنصار، 3: 1379، الرقم: 3572، ومسلم في الصحیح، کتاب الإیمان، باب الدلیل علی أن حب الأنصار وعلي رضی الله عنه من الإیمان وعلاماته، 1: 85، الرقم: 75، وأحمد بن حنبل في المسند، 4: 292، الرقم: 18599، والترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب في فضل الأنصار وقریش، 5: 712، الرقم: 3900، وابن ماجه في السنن، المقدمة، باب فضل الأنصار، 1: 57، الرقم: 163.

حضرت براء بن عازِب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، یا انہوں نے کہا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انصار سے صرف مومن محبت کرتا ہے اور ان سے بغض صرف منافق رکھتا ہے۔ پس جو ان (انصار) سے محبت رکھتا ہے اس سے اﷲ تعالیٰ بھی محبت رکھتا ہے اور جو ان سے دشمنی رکھتا ہے اس سے اﷲ تعالیٰ بھی دشمنی رکھتا ہے۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

32. عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رضی الله عنه: وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ، إِنَّهٗ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ إِلَيَّ: أَنْ لَا یُحِبَّنِي إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا یُبْغِضَنِي إِلَّا مُنَافِقٌ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ وَأَبُو یَعْلَی وَالْبَزَّارُ.

أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب الإیمان، باب الدلیل علی أن حب الأنصار وعلي من الإیمان وعلاماته، وبغضهم من علامات النفاق، 1: 86، الرقم: 78، والنسائي في السنن الکبری، 5: 47، الرقم: 8153، والبزار في المسند، 2: 182، الرقم: 560، وأبویعلی في المسند، 1: 250، الرقم: 291، وابن منده في الإیمان، 2: 607، الرقم: 532، وابن أبي عاصم في السنة، 2: 598، الرقم: 1325.

حضرت زِرّ بن حبیش بیان کرتے ہیں: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس نے (پودا لگانے کے لیے) دانہ کو پھاڑ دیا اور جانداروں کو پیدا کیا! حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے عہد فرمایا تھا کہ مجھ سے صرف مومن محبت رکھے گا اور صرف منافق ہی مجھ سے بغض رکھے گا۔

اسے امام مسلم، نسائی، ابو یعلی اور بزار نے روایت کیا ہے۔

33. عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْأَنْصَارِيِّ رضی الله عنه قَالَ: ذَکَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم یَوْمًا عِنْدَهُ الدُّنْیَا. فَقَالَ رَسُولُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: أَ لَا تَسْمَعُونَ؟ أَ لَا تَسْمَعُونَ؟ إِنَّ الْبَذَاذَةَ مِنَ الإِیمَانِ، إِنَّ الْبَذَاذَةَ مِنَ الإِیمَانِ.

رَوَاهُ أَبُو دَاوٗدَ وَالْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَابْنُ أَبِي عَاصِمٍ.

أخرجه أبو داود في السنن، کتاب الترجل، 4: 75، الرقم: 4161، وابن ماجه في السنن، کتاب الزهد، باب من لا یؤبه له، 2: 1379، الرقم: 4118، والحاکم في المستدرک، 1: 51، الرقم: 18، والطبراني في المعجم الکبیر، 1: 271، الرقم: 788، وابن أبي عاصم في الآحاد والمثاني، 4: 58، الرقم: 2002.

حضرت ابو امامہ بن ثعلبہ الانصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب نے ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے دنیا کا ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم سنتے نہیں؟ کیا تم سنتے نہیں کہ سادگی ایمان کا حصہ ہے، سادگی ایمان کا حصہ ہے۔

اسے امام ابو داؤد، حاکم، طبرانی اور ابنِ ابی عاصم نے روایت کیا ہے۔

34. عَنْ عَائِشَةَ رضی اللہ عنہا، قَالَتْ: جَائَتْ عَجُوزٌ إِلَی النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم وَهُوَ عِنْدِي، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: مَنْ أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَنَا جَثَّامَةُ الْمُزَنِیَّةُ. فَقَالَ: بَلْ أَنْتِ حَسَّانَةُ الْمُزَنِیَّةُ، کَیْفَ أَنْتُمْ؟ کَیْفَ حَالُکُمْ؟ کَیْفَ کُنْتُمْ بَعْدَنَا؟ قَالَتْ: بِخَیْرٍ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي یَا رَسُولَ ﷲِ، فَلَمَّا خَرَجَتْ قُلْتُ: یَا رَسُولَ ﷲِ، تُقْبِلُ عَلٰی هٰذِهِ الْعَجُوزِ هٰذَا الْإِقْبَالَ؟ فَقَالَ: إِنَّهَا کَانَتْ تَأْتِینَا زَمَنَ خَدِیجَةَ، وَإِنَّ حُسْنَ الْعَهْدِ مِنَ الإِیمَانِ.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَابْنُ أَبِي عَاصِمٍ. وَقَالَ الْحَاکِمُ: هٰذَا حَدِیثٌ صَحِیحٌ عَلَی شَرْطِ الشَّیْخَیْنِ.

أخرجه الحاکم في المستدرک، 1: 62، الرقم: 40، والطبراني في المعجم الکبیر، 23: 14، الرقم: 23، والقضاعي في مسند الشهاب، 2: 102، الرقم: 971، وذکره الهندي في کنز العمال، 12: 60، الرقم: 34344، والمناوي في التیسیر بشرح الجامع الصغیر، 1: 318.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک بڑھیا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس وقت آئی جب وہ میرے پاس تشریف فرما تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں جثامہ المزنیۃ ہوں، (جثامہ کا لغوی معنٰی سست و کاہل ہے، اس لیے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلکہ تم حسانہ (یعنی حسین و جمیل) المزنیۃ ہو۔ پھر فرمایا: تم کیسے ہو؟ تمہارا حال کیسا ہے؟ تم ہمارے بعد کیسے رہے؟ اس نے عرض کیا: ہم خیریت سے ہیں؛ یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! جب وہ چلی گئی، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کتنی شفقت سے بڑھیا کے ساتھ پیش آئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ خدیجہ کے وقت سے ہمارے پاس آیا کرتی ہے اور بے شک حسنِ عہد ایمان میں سے ہے۔

اِسے امام حاکم، طبرانی اور ابن ابی عاصم نے روایت کیا ہے۔ اور امام حاکم نے کہا ہے: یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔

35. عَنْ عَبْدِ ﷲِ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: لَیْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلَا اللَّعَّانِ وَلَا الْفَاحِشِ وَلَا الْبَذِيئِ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْحَاکِمُ وَابْنُ حِبَّانَ وَالْبُخَارِيُّ فِي الْأَدَبِ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِیثٌ حَسَنٌ.

أخرجه الترمذي في السنن، کتاب البر والصلة، باب ما جاء في اللعنة، 4: 350، الرقم: 1977، والحاکم في المستدرک، 1: 57، الرقم: 29، وابن حبان في الصحیح، 1: 421، الرقم: 192، والبخاري في الأدب المفرد: 116، 122، الرقم: 312، 332.

حضرت عبد اﷲ (بن عمر) رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن بہت زیادہ طعنہ زنی کرنے والا، بہت زیادہ لعنت کرنے والا، فحش گو اور بدکلام نہیں ہوتا۔

اِسے امام ترمذی، حاکم، ابن حبان اور بخاری نے ’الادب المفرد‘ میں روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن ہے۔

36. عَنْ ابْنِ عُمَرَ رضی الله عنهما، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم: لَا یَکُوْنُ الْمُؤْمِنُ لَعَّانًا.

وَفِي رِوَایَةٍ: لَا یَنْبَغِي لِلْمُؤْمِنِ أَنْ یَکُوْنَ لَعَّانًا.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْحَاکِمُ وَالْبُخَارِيُّ فِي الْأَدَبِ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ.

أخرجه الترمذي في السنن، کتاب البر والصلة، باب ما جاء في اللعن والطعن، 4: 371، الرقم: 2019، والحاکم في المستدرک، 1: 110، الرقم: 145، والبخاري في الأدب المفرد، 1: 116، الرقم: 309، والبیهقي في شعب الإیمان، 4: 293، الرقم: 5151.

حضرت (عبد اللہ) بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن بہت زیادہ لعنت کرنے والا نہیں ہوتا۔

ایک روایت میں ہے کہ مومن کی یہ شان نہیں کہ وہ بہت زیادہ لعنت کرنے والا ہو۔

اِسے امام ترمذی، حاکم اور بخاری نے ’الادب المفرد‘ میں روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن ہے۔

37. عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ ﷲِ رضی الله عنه، قَالَ: کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم وَنَحْنُ فِتْیَانٌ حَزَاوِرَةٌ، فَتَعَلَّمْنَا الْإِیْمَانَ قَبْلَ أَنْ نَتَعَلَّمَ الْقُرْآنَ، ثُمَّ تَعَلَّمْنَا الْقُرْآنَ، فَازْدَدْنَا بِهٖ إِیْمَانًا.

رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَابْنُ مَنْدَه وَعَبْدُ ﷲِ بْنُ أَحْمَدَ.

أخرجه ابن ماجه في السنن، المقدمة، باب في الإیمان، 1: 23، الرقم: 61، والبیهقي في السنن الکبری، 3: 120، الرقم: 5075، وابن منده في الإیمان، 1: 370، الرقم: 208، وعبد اﷲ بن أحمد في السنة، 1: 369، الرقم: 799، والبخاري في التاریخ الکبیر، 2: 221، الرقم: 2266.

حضرت جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں بھرپور جوانی کی عمر میں ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ہم نے قرآنِ مجید سیکھنے سے پہلے ایمان کی تعلیم حاصل کی، پھر قرآنِ مجید کی تعلیم حاصل کی۔ تعلیمِ قرآن کے ذریعے ہمارے ایمان میں اضافہ ہو گیا۔

اسے امام ابن ماجہ، ابن مندہ اور عبد اﷲ بن احمد نے روایت کیا ہے۔

38. عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: جَدِّدُوْا إِیْمَانَکُمْ. قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ ﷲِ، وَکَیْفَ نُجَدِّدُ إِیْمَانَنَا؟ قَالَ: أَکْثِرُوْا مِنْ قَوْلِ لَا إِلٰهَ إِلَّا ﷲُ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْحَاکِمُ وَالْمَرْوَزِيُّ وَأَبُوْ نُعَیْمٍ. وَقَالَ الْحَاکِمُ: هٰذَا حَدِیْثٌ صَحِیْحُ الإِسْنَادِ، وَقَالَ الْهَیْثَمِيُّ: وَإِسْنَادُهٗ جَیِّدٌ، وَرِجَالُهٗ مُوَثَّقُوْنَ.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 2: 359، الرقم: 8695، والحاکم في المستدرک، 4: 285، الرقم: 7657، وعبد بن حمید في المسند: 417، الرقم: 1424، والمروزي في تعظیم قدر الصلاة، 2: 787، الرقم: 799، وأبو نعیم في حلیة الأولیائ، 2: 357، وذکره المنذري في الترغیب والترهیب، 2: 268، الرقم: 2352، والهیثمي في مجمع الزوائد، 1: 52، وأیضًا: 2: 211، وأیضًا: 10: 82.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے ایمان کی تجدید کیا کرو۔ عرض کیا گیا: یا رسول اﷲ! ہم اپنے ایمان کی تجدید کیسے کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لَا إِلٰهَ إِلَّا ﷲُ کا وِرد کثرت سے کیا کرو۔

اِسے امام احمد، حاکم، مروزی اور ابو نعیم نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا: اِس حدیث کی سند صحیح ہے۔ نیز امام ہیثمی نے فرمایا: اِس کی اسناد جید اور اِس کے رجال ثقہ ہیں۔

39. عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: مِنْ أَشَدِّ أُمَّتِي لِي حُبًّا، نَاسٌ یَکُوْنُوْنَ بَعْدِي، یَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ رَآنِي بِأَھْلِهٖ وَمَالِهٖ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ.

أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب الجنة وصفة نعیمها وأهلها، باب فیمن یود رؤیة النبي صلی الله علیه وآله وسلم بأهله وماله، 4: 2178، الرقم: 2832، وأحمد بن حنبل في المسند، 2: 417، الرقم: 9388، وابن حبان في الصحیح، 16: 214، الرقم: 7231.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ نے فرمایا: میری امت میں سے میرے ساتھ شدید محبت کرنے والے وہ لوگ ہیں جو میرے بعد آئیں گے۔ ان میں سے ہر ایک کی تمنا ہوگی کہ کاش! وہ اپنے سب اہل و عیال اور مال و اسباب کے بدلے میں (ایک مرتبہ) مجھے دیکھ لے۔

اسے امام مسلم، احمد اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔

40. عَنْ أَبِي جُمُعَةَ رضی الله عنه، قَالَ: تَغَدَّیْنَا مَعَ رَسُوْلِ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم وَمَعَنَا أَبُوْ عُبَیَْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ. قَالَ: فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ ﷲِ، هَلْ أَحَدٌ خَیْرٌ مِنَّا؟ أَسْلَمْنَا مَعَکَ، وَجَاهَدْنَا مَعَکَ، قَالَ: نَعَمْ، قَوْمٌ یَکُوْنُوْنَ مِنْ بَعْدِکُمْ، یُؤْمِنُوْنَ بِي وَلَمْ یَرَوْنِي.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ. وَقَالَ الْهَیْثَمِيُّ: رِجَالُهٗ ثِقَاتٌ.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 4: 106، الرقم: 17017، والدارمي في السنن، 2: 398، الرقم: 2744، والطبراني في المعجم الکبیر، 4: 22، الرقم: 3537، وأبویعلی في المسند، 3: 128، الرقم: 1559، وابن منده في الإیمان، 1: 372، الرقم: 210، وذکره الهیثمي في ممجع الزوائد، 10: 66.

حضرت ابوجمعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دن کا کھانا کھایا۔ ہمارے ساتھ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح بھی تھے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا کوئی ہم سے بھی بہتر ہے؟ ہم نے آپ کی معیت میں اسلام قبول کیا۔ آپ کی معیت میں ہم نے جہاد کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، وہ لوگ جو تمہارے بعد آئیں گے۔ وہ مجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا بھی نہیں ہو گا (وہ اس جہت سے تم سے بہتر ہوں گے)۔

اسے امام احمد، دارمی اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا: اس کے رجال ثقہ ہیں۔

41. عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رضی الله عنه، أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: طُوْبٰی لِمَنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي، وَطُوْبٰی سَبْعَ مَرَّاتٍ لِمَنْ لَمْ یَرَنِي وَآمَنَ بِي.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو یَعْلٰی وَالْحَاکِمُ وَابْنُ حِبَّانَ.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5: 257، الرقم: 22268، وأبویعلی عن أنس بن مالک رضی الله عنه في المسند، 6: 119، الرقم: 3391، والحاکم عن عبد اﷲ بن بُسر رضی الله عنه في المستدرک، 4: 96، الرقم: 6994، وابن حبان في الصحیح، 16: 216، الرقم: 7233، والطبراني في المعجم الکبیر، 8: 259، الرقم: 8009، وأیضًا في المعجم الصغیر عن أنس بن مالک رضی الله عنه، 2: 104، الرقم: 858.

حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خوش خبری اور مبارک باد ہو اس کے لیے جس نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا؛ اور سات بار خوش خبری اور مبارک باد ہو اس کے لیے جس نے مجھے دیکھا بھی نہیں تب بھی مجھ پر ایمان لایا۔

اسے امام احمد، ابو یعلی، حاکم اور ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved