Basic Principles of the Study of Prophet’s Life

پیش لفظ

اسلام کی شانِ اِمتیاز یہ ہے کہ یہ محض تعلیمات پر مشتمل نہیں بلکہ اپنی تعلیمات کے عملی نمونہ اور عملی مظاہر کا حامل بھی ہے۔ سیرتِ نبوی کو امت مسلمہ کے لیے نمونہ کامل قرار دے کر اسلام کی تعلیمات کے عملی نمونہ ہونے کی ضرورت کو پورا کر دیا گیا ہے۔ تاریخ انسانی میں یہ امتیاز صرف حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انفرادی، معاشرتی اور قومی زندگی کا ایک ایک لمحہ محفوظ اور اہل ایمان کے لئے مینارہ نور کی صورت میں موجود ہے۔ آپ کی سیرت طیبہ پر تاریخ میں سب سے زیادہ لکھا گیا اور لکھا جا رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سیرت نگاروں کی فہرست میں مسلم اور غیر مسلم تمام مصنفین شامل ہیں۔ ہر دور اور ہر خطہ کے اہل علم نے اپنی بساط کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ پر لکھنے کی سعادت حاصل کی۔

ابتدائے اسلام سے ہی جب علم حدیث کی تدوین کا آغاز ہوا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غزوات پر فن مغازی کے تحت کئی کتب تصنیف کی گئیں۔ فن سیرت کے امام اَوّل امام زہری کے تلمیذ محمد بن اسحاق بن یسار ہیں۔ ابن اسحاق نے سیرت نگاری کو ایک مستقل فن کی حیثیت دی۔ امام بخاری نے اپنی کتاب الغزوات کا آغاز ان ہی کی روایت سے کیا۔

مغیرہ بن عبدالرحمن کی روایت کے مطابق مغازی کی سب سے پہلی کتاب خلیفہ ثالث حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ابان بن عثمان نے مرتب کی تھی۔ مغازی کے موضوع پر ابتدائی لکھنے والوں میں عروہ بن زبیر، واقدی، طبری، محمد بن مسلم بن عبید اللہ زہری، معمر بن راشد، شرجیل بن اسد، عاصم بن عمر قتادہ اور موسیٰ بن عقبہ جیسے جلیل القدر مصنفین شامل ہیں۔ موسیٰ بن عقبہ کا اصل نسخہ اب بھی پروشین اسٹیٹ لائبریری میں محفوظ ہے جو جرمن ترجمے کے ساتھ 1904ء میں شائع ہوا تھا۔ سیرت نگاری کا یہ سلسلہ ہر آنے والے دور میں بڑھتا رہا اور آج تک تقریبا دنیا کی ہر زبان میں لاتعداد کتب سیرت تصنیف ہو چکی ہیں۔

سیرت نگاری کی تاریخ کا یہ جائزہ اس امر کو واضح کرتا ہے کہ تاحال سیرت پر لکھی جانے والی جملہ کتب کا موضوع۔ ’’کیا؟‘‘ تھا۔ جب کہ دورِ حاضر کے چیلنجز اور ضروریات کا تقاضا یہ ہے کہ توضیح سیرت کی جہات کو وسیع کیا جائے اور سیرت کے بیان میں ’’کیا؟‘‘ کے ساتھ ساتھ’’ کیوں؟‘‘، ’’کیسے؟‘‘ اور ’’کس لیے‘‘ کو بھی شامل کیا جائے۔ اسلام کے ابتدائی دور کے برعکس آج ملت اسلامیہ کو احیا، اصلاح اور حصول غلبہ وتمکن کا چیلنج درپیش ہے۔ لہٰذا اس دور میں سیرت نگاری کا تقاضہ یہ ہے کہ ماسبق کتب سیرت کی طرح صرف حالات و واقعات کو ہی نہ بیان کیا جائے بلکہ سیرت کی روشنی میں مذکورہ چیلنجوں سے عہدہ برآ ہونے کہ سبیل بھی تلاش کی جائے۔

حضرت شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری مدظلہ کی زیر نظر تصنیف میں دور جدید کے چیلنجوں اور ضروریات کو سامنے رکھ کر سیرت نگاری اور فہم سیرت کے لئے ان اصولوں کو بیان کیا گیا ہے جن کے روشنی میں ہم سیرت کی تعلیمات کی عملی، اطلاقی اور عصری اہمیت سے شناسا ہو سکتے ہیں۔ حضرت شیخ الاسلام کی یہ تصنیف سیرت نگاری کے میدان میں نئی جہات کے تعارف اور اضافہ کا باعث بنے گی۔

(ڈاکٹر طاہر حمید تنولی)
ناظمِ تحقیق
تحریکِ منہاجُ القرآن

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved