حرف آغاز

آج کے مادیت زدہ دور میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ علم کا ذوق اور رجحان رخصت ہو رہا ہے۔ دینی و دنیوی علم سے شغف رکھنے والے لوگ ہوں یا جدید ٹیکنالوجی سے دلچسپی رکھنے والے، غرضیکہ تمام طبقات میں علم کی رغبت، محبت اور مطالعہ کا ذوق تقریباً ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے آنے کے بعد ہر مطلوبہ علمی مواد انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے online میسر ہے۔ جسے جیسا مواد ملے وہ اسی پر اکتفا کر لیتا ہے اور خود تحقیق کی مشقت میں پڑنا گوارا نہیں کرتا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ محض انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر اکتفا کرنے سے ہم نہ صرف صحیح اور پختہ علم سے محروم ہوتے جا رہے ہیں بلکہ تحقیق و تنقید کے بنیادی اصولوں سے بھی صرفِ نظر کرتے چلے جا رہے ہیں۔ انٹرنیٹ پر موجود مختلف عنوانات سے آرٹیکلز اور مختلف موضوعات پر اپنی ذاتی آرا بغیر تحقیق و تصدیق کے upload کر دی جاتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں بنیادی کتب تک رسائی نہ ہونے اور تصدیق کا کوئی موثر ذریعہ نہ ہونے کے سبب معاشرے میں غلط تصورات فروغ پاتے چلے جا رہے ہیں۔ یہ مضامین زیادہ تر علمی ثقاہت و اِستناد سے عاری ہوتے ہیں۔ ان مضامین کے غیر مصدقہ مواد کا بڑا حصہ کاپی پیسٹ ہو رہا ہوتا ہے، ایک نے لکھا دوسرے نے copy کر کے آگے لکھ دیا، تیسرے نے مزید copy کر کے اس سے بھی آگے لکھ دیا۔ مضامین و مقالات کا مواد بغیر تحقیق کے آگے منتقل کیا جا رہا ہے مگر اصل مصادر اور منابع تک آرٹیکل لکھنے والے اور copy کرنے والے (اِلّا ماشاءاللہ) کسی ایک کی بھی رسائی نہیں ہوتی۔ لہٰذا غیر تحقیقی مضامین کی صورت میں بہت سی اَغلاط اور غیر حقیقی تصورات نقل در نقل تبادلے کے باعث مسلسل آگے پھیلتے چلے جاتے ہیں۔

تحقیق میں سخت کوشی و عمق بینی اور عرق ریزی کا رجحان اب برائے نام رہ گیا ہے۔ علم کی طلب رکھنے والوں کی جدید ذرائع کے باوجود اصل کتب، متون، حواشی، شروح، اُمہات الکتب، علم کے اصل مصادر، ماخذ اور منابع تک رسائی نہیں ہوتی۔ اصل ماخذ سے مطالعہ کرنے کا ذوق ختم ہو چکا ہے، بس کمپیوٹر چلایا اور علم کی تلاش شروع کر دی۔ یعنی فرمانِ رسول ﷺ کے مطابق علم کا طوفان تو ہے مگر اِفہام و تفہیم ندارد۔ جیسے آج کل کے بچوں کو جب جمع تفریق ضرب اور تقسیم کرنا نہیں آتا تو وہ کیلکولیٹر کا استعمال کرتے ہوئے جمع، تفریق، ضرب اور تقسیم کر لیتے ہیں۔ جس زمانے میں کیلکولیٹر اور کمپیوٹر نہیں ہوتے تھے تو اساتذہ بچوں کو پہاڑے (tables) یاد کروایا کرتے تھے۔ بچے جمع، تفریق، ضرب اور تقسیم سب خود زبانی طور پر کرتے تھے۔ اس مشق میں دماغ کا بھرپور استعمال ہوتا تھا۔ آدمی جیسے جیسے ٹیکنالوجی پر انحصار کر کے دماغ کا استعمال کم کرتا جا رہا ہے، ویسے ویسے دماغی صلاحیتیں بھی کمزور ہوتی چلی جاتی ہیں۔ دماغ کی یہ خوبی ہے کہ اسے جتنا استعمال کریں، اتنا ہی تیز ہوتا اور شاندار کارکردگی دکھاتا ہے۔

جس طرح عمر بھر دل خون pump کرتا رہتا ہے مگر تھکتا نہیں ہے۔ دنیا میں کوئی بھی انجن ایسا نہیں ہے جو پچاس، ساٹھ یا سو سال تک کام کرتا رہے اور مسلسل قائم رہے مگر خالقِ کائنات کا بنایا ہوا دل، خون pump کرنے کا ایسا آلہ ہے کہ اگر انسان کی عمر سو سال ہے تب بھی روزانہ pumping کرتا ہے، یہ کبھی تھکتا نہیں ہے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ اسے آرام کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ اِسی طرح اگر بندے کی عمر سو سال ہو جائے اور وہ اپنے دماغ کو روزانہ اٹھارہ سے بیس گھنٹے استعمال کرے تب بھی دماغ نہیں تھکتا بلکہ اس کی صلاحیت خوب سے خوب تر ہوتی چلی جاتی ہے۔ عجیب زمانہ آگیا ہے کہ ہم دماغی صلاحیتوں کو بھرپور اِستعمال کرنے کے بجائے صرف جدید ٹیکنالوجی پر انحصار کر رہے ہیں۔

مغربی دنیا میں جدید ٹیکنالوجی کی بھرمار ہے۔ لہٰذا دیگر شعبوں کی طرح مریضوں کے علاج کے لیے بھی اس پر انحصار بڑھ گیا ہے۔ مریض کی نبض دیکھ کر مرض کی تشخیص کرنے کے بجائے ایکسرے، CT scan، MRI اور بے شمار ٹیسٹ تجویز کر دیے جاتے ہیں۔ اندازہ کریں کہ اب دماغی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے بجائے محض رپورٹ سے تشخیص ہوگی۔ اگر ایک، دو ٹیسٹس سے پتہ نہیں چلتا تو کئی ٹیسٹ مزید لکھ دیے جاتے ہیں۔ بعض اوقات مریض مہینوں پڑے رہتے ہیں اور پتہ ہی نہیں چلتا کہ اسے کون سا مرض لاحق ہے۔ سمجھانا یہ مقصود ہے کہ بندہ ہر شعبہ میں جدید ٹیکنالوجی کا محتاج ہو گیا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان اور بھارت کے ڈاکٹرز clinical checkup کے ذریعے مرض کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ مریض کی غربت کے پیش نظر ٹیسٹ پر انحصار کے بجائے clinical checkup کے ذریعے اپنی دماغی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتے ہیں۔ علامات کے ذریعے مرض کی تہہ تک پہنچتے ہیں اور اکثر و بیشتر شافی علاج تجویز کرتے ہیں۔ انسان جب جدید ٹیکنالوجی کا محتاج ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی بنائی divine technology کا جسم کے اندر استعمال بند ہو جاتا ہے اور جب کسی شے کا استعمال نہ ہو تو پھر وہ چیز زنگ آلود ہو جاتی ہے۔

اسی طرح ہمارے ہاں علم کا رجحان ختم ہو گیا ہے۔ کتابوں کی خریداری اور ان کا مطالعہ قصۂ پارینہ بن چکا ہے۔ ماضی میں ہمارے اکابرین بنیادی کتب کا مطالعہ کرتے، اصل مصادر کو دیکھتے، ایک ایک مسئلہ کے حل کے لیے سیکڑوں کتب کو کھنگالتے تھے۔ وہ یہ سب کسی مجبوری کے باعث نہیں کرتے تھے بلکہ یہ سب ان کے ذوق، مزاج اور طبیعت کا حصہ تھا۔ افسوس! اب تحقیق و جستجو کے وہ سب ذرائع ختم ہو چکے ہیں کہ جن کے ذریعے ہمیں نسل در نسل علم منتقل ہوا ہے۔ ائمہ متقدمین و علماء ساری ساری رات مطالعہ کرتے، محدود ذرائع نقل وحمل کے باوجود علم کے حصول کے لیے دور دراز کے سفر کرتے، تصنیف و تالیف کرتے اور پڑھاتے تھے۔ اس کے برعکس آج وہ ساری چیزیں ایک click کرنے سے سکرین پر آجاتی ہیں۔ آج کل ہم فوری مطلوبہ مواد تک رسائی کے عادی ہوچکے ہیں۔ فکر و تدبر اور عمیق بینی ختم ہو چکے ہیں۔ کمپیوٹر سے کوئی بھی مسئلہ کتاب کی نسبت جلد مل جاتا ہے۔ دوسری طرف اگر کوئی معلومات یا رہنمائی کتاب کے ذریعے حاصل کرنا چاہیں گے تو متعدد کتابوں کو دیکھنا پڑے گا، متعلقہ ابواب کھولنے پڑیں گے، فصول اور عبارتیں پڑھیں گے اور اگر وہ چیز اس کتاب میں نہیں ملے گی تو دوسری کتب سے متعلقہ مسئلہ کے حل کی کوشش کریں گے۔ یہ سارا عمل کتابوں سے واقفیت اور آگہی دیتا ہے۔ علمی حوالے سے ایک چیز کی تلاش میں دیگر بہت سی چیزیں سامنے آتی ہیں اور انہیں پڑھنے کا بھی موقع ملتا ہے۔ افسوس! صد افسوس! کسی چیز کو جلد از جلد حاصل کرنے کی خواہش کی وجہ سے یہ تمام ثمرات و فوائد ہم سے چِھن چکے ہیں۔

علم کے حصول کے لیے محنت کے اس رجحان کو دوبارہ زندہ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ’مجالس العلم‘ کے سلسلہ کو اس لیے شروع کیا گیا ہے کہ نہ صرف پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش، بلکہ سارے عالمِ اسلام اور مغرب میں رہنے والے طلبہ و طالبات، علماء، اساتذہ، متعلقین، تشنگانِ علم اور طالبانِ علم کو جھنجھوڑا جائے اور ان میں علم کے رجحان کو دوبارہ زندہ کرنے کا احساس پیدا کیا جائے۔

ذاتِ باری تعالیٰ کا صد بار شکر ہے کہ جس نے ’مجالس العلم‘ کی صورت میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی سلسلۂ تعلیم و تدریس اور سلسلۂ تربیت کے لیے دیرینہ خواہش کی تکمیل کے اسباب مہیا فرمائے۔ ’مجالس العلم‘ کے عنوان سے زیر نظر تصنیف ان کے ابتدائی 18 لیکچرز پر مشتمل ہے جو سلسلہ وار خطبات ’مجالس العلم‘ میں بیان کیے گئے ہیں۔

’مجالس العلم‘ کے سلسلۂ خطبات کے آغاز کا سبب اور غرض و غایت کچھ یوں ہے کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے چند سال قبل خاص طور پر جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن (کالج آف شریعہ اینڈ اسلامک سائنسز) لاہور کے طلبہ کے لیے اور عمومی طور پر ملک بھر کی دینی جامعات، دینی مدارس اور تعلیمی اداروں کے معلمین، متعلمین اور مستفیدین کے لیے علمی رہنمائی کو ذہن میں رکھتے ہوئے ارادہ کیا تھا کہ پانچ بنیادی علوم پر عربی میں کچھ کتب تحریر کی جائیں، جنہیں بطور متن پڑھایا جائے۔ ان کا منشا یہ تھا کہ ان کتب کی تکمیل کے ساتھ ساتھ ان میں شامل موضوعات پر سلسلہ وار دروس کا آغاز کیا جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی توفیق اور حضور نبی اکرم ﷺ کی توجہات کے سبب شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے ’مجالس العلم‘ کے عنوان سے مذکورہ کتب کے موضوعات پر گفتگو کا سلسلہ 17 اکتوبر 2015ء کو شروع کر دیا۔

’مجالس العلم‘ کے آغاز کا دوسرا سبب یہ تھا کہ مدت سے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی دلی خواہش تھی کہ جامعہ اِسلامیہ منہاج القرآن کے طلبہ و اساتذہ کے لیے بالخصوص اور دیگر علماء و محققین اور جمیع طالبانِ علم کے لیے بالعموم ہفتہ وار ایسے دروس کا آغاز کیا جائے کہ جن کا اُسلوب خطابیہ کے بجائے تدریسی ہو اور ان پُر مغز مجالس سے کثیر حلقات مستفید ہو سکیں۔ اس سے قبل برطانیہ اور یورپ میں ایک عشرے سے ’الہدایۃ‘ کے عنوان سے بھی تین روزہ کیمپ منعقد ہوتے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں برمنگھم میں ’دورۂ صحیح بخاری‘، ’دورۂ صحیح مسلم‘، ’دورئہ صحیحین‘ اور حیدر آباد دکن میں بھی اُصول الحدیث اور علم الحدیث کے موضوع پر تین روزہ دروس ہوئے؛ مگر یہ سلسلہ علمی و فکری اور تنظیمی مصروفیات کی بنا پر کافی عرصہ قبل منقطع ہو چکا تھا۔ دنیا بھر کے تشنگانِ علم کی علمی ضروریات کے پیش نظر ہفتہ وار دروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا جو الحمد ﷲ ’مجالس العلم‘ کی صورت میں وقوع پذیر ہوا ہے۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے زیر ِاہتمام ’مجالس العلم‘ کی ان نشستوں کا مقصد علم کی فضیلت اور اہمیت کو واضح کرنا ہے۔

’مجالس العلم‘ کے عنوان سے آغاز کردہ اس سلسلے میں تعارفی موضوعات کے علاوہ اصول العقیدۃ، اصول التفسیر، اصول الحدیث، اصول الفقہ، اصول الادب و التربیۃ، الفقہ الحنفی والادلۃ الشرعیۃ اور دیگر کئی موضوعات کو اپنے اپنے وقت پر تفصیل سے زیر بحث لایا جائے گا۔ اس ضمن میں ہر ممکن کوشش کی گئی ہے کہ ان مجالس میں جہاں کوئی چیز کتابی آتی ہو، جس کا حوالہ دینا ضروری ہو اس کا حوالہ دیا جائے تاکہ قارئین اُس کتاب کی طرف بھی رجوع کر سکیں۔ امیدِ واثق ہے کہ اس کاوش سے نہ صرف علمی رجحان کا اِحیاء ہو گا بلکہ قارئین و سامعین کو کتابوں، مصنفین، ائمہ اور اکابرین سے بھی شناسائی ہوگی۔ اس طریقۂ تدریس کو اِن شاء اللہ مجالس العلم میں بہرصورت برقرار رکھا جائے گا۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی جانب سے ’مجالس العلم‘ کے موضوعات کے تعین کے حوالے سے بھی وسیع تر مشاورت کی گئی کہ کن موضوعات کا انتخاب کیا جائے؟ آیا صحیح بخاری و صحیح مسلم پڑھائی جائیں یا صحاح ستہ پر دروس دیے جائیں؟ اصول الحدیث کی کسی کتاب کا آغاز کیا جائے یا علم الکلام کو موضوع بنایا جائے؟ اگر مختلف فنون پر سلسلہ وار دروس دینا ہوں تو اس میں یہ دشواری پیش آتی ہے کہ اُس سے کسبِ فیض والوںکی تعداد بہت محدود ہوتی ہے اور دنیا بھر میں موجود لاکھوں سامعین و قارئین اس سے کماحقہٗ مستفید نہیں ہو پاتے۔ یہ بھی ممکن نہیں تھا کہ رفقاء اور اِبتدائی کلاسز کے طلبہ کے لیے الگ جبکہ علماء اور منتہی کلاسز کے طلبہ کے لیے الگ نصاب اور مجالس کا اہتمام کیا جاتا۔ چنانچہ اس مسئلہ کے حل میں متقدمین کے اسلوب کو اختیار کیا گیا کہ جن کی مجالس علم میں بالعموم ایک ساتھ دس دس ہزار طلبہ شریک ہوتے تھے اور ان میں سے ہر ایک مُتَفَنِّن اور مُتَخَصِّص نہیں ہوتا تھا لیکن ہر کوئی اُن مجالس سے یکساں مستفید ہوتا تھا۔

ہم امام احمد بن حنبل، امام بخاری، ائمہ اربعہ اور دیگر اکابر ہستیوں کے احوال میں یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے دروس میں موجود ہر شخص کی علمی و فنی سطح اگرچہ ایک جیسی نہیں ہوتی تھی لیکن عوام و خواص میں سے ہر کوئی اُن سے یکساں مستفید ہوتا تھا۔ اس طرح ان مجالس العلم سے استفادہ کرنے والوںمیں محدود طبقے کے بجائے کثیر تعداد میں لوگ شامل ہوتے تھے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی مجالس نہایت جامع ہوا کرتی تھیں۔ ان مبارک اور بابرکت مجالس العلم سے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین یکساں اِکتسابِ فیض کرتے تھے۔ آپ ﷺ کی ہر مجلس، مجلسِ علم اور ہمہ جہتی اوصاف کی حامل ہوا کرتی تھی۔ آپ ﷺ کی مجالس، ذکر، تلاوتِ قرآن، تفسیر، حدیث، فکرِ آخرت، فقہ، دعوت، تربیت اور استفتاء الغرض تمام موضوعات پر محیط اور جامع المقاصد ہوا کرتی تھیں۔ چنانچہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے حضور نبی اکرم ﷺ اور ائمہ اکابرین کی اتباع میں ’مجالس العلم‘ کو ہمہ جہت بنانے کا ارادہ کیا اور ’مجالس العلم‘ کے اس منہج تک پہنچے جس سے آپ مستفید ہو رہے ہیں۔

زیرِ نظر کتاب ’مجالس العلم‘ کی ابتدائی اٹھارہ مجالس پر مشتمل ہے، جن میں علم کی فضیلت و اہمیت اور اس کے مختلف روحانی و مادی ذرائع پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ ان مجالس کی ترتیب و تدوین میں حضرت شیخ الاسلام کے ریسرچ اسسٹنٹ محمد ضیاء الحق رازی، FMRi کے شعبہ ادبیات کے اِنچارج جلیل احمد ہاشمی اور شعبہ ادبیات کے سرگرم رکن سبط جمال پٹیالوی کا کلیدی کردار ہے۔ محمد خلیق عامر اور ظفیر احمد ہاشمی نے بحسن و خوبی ’مجالس العلم‘ کو بروقت اور بسرعت نقل کرنے کا فریضہ ادا کیا ہے۔ محمد یوسف منہاجین نے ماہ نامہ منہاج القرآن کی اداراتی ذمے داریوں کے ساتھ ساتھ مجالس العلم کی نظر ثانی کا بھی بھرپور حق ادا کیا ہے۔ علاوہ ازیں محمد اطہر فریدی نے تخریج کی، جب کہ حتمی طور پر حافظ ظہیر احمد الاسنادی نے پروف ریڈنگ اور تخریج کا بغور تجزیہ کیا ہے۔

بارگاہِ اِلٰہ میں دعا ہے کہ ان ’مجالس العلم‘ کے ذریعے علم کا رجحان زندہ ہو اور ہم اپنی بنیاد سے اپنے تعلق کو مضبوط و مستحکم کرتے ہوئے دنیا کی امامت و قیادت کا فریضہ سرانجام دینے کے قابل ہو سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ (آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ)

مرکزِ علم و تحقیق

فریدِ ملّتؒ رِیسرچ اِنسٹی ٹیوٹ (FMRi)

17 رمضان 1438ھ

Copyrights © 2024 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved