Islamabad Long March

ابتدائیہ

اِبتدائیہ

اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ تناظر میں ملکی مسائل کا واحد حل نظام کی تبدیلی ہے؛ یعنی ایک ایسا نظام جو معاشی و سماجی انصاف پر مبنی ہو، جس میں عدل و مساوات کا راج ہو، جس میں حکمران عوام کے خادم بن کر کام کریں نہ کہ آقا و مولا بن کررہیں، جس میں عوام کے حقوق ان کی دہلیز پر میسر ہوں، جس میں کسی کی حق تلفی نہ ہو، جس میں کسی پر ظلم و زیادتی نہ ہو اور جو معاشرہ طلبیِ حقوق کی بجائے ادائیگیِ فرائض کا مثالی مظہر ہو۔ لیکن موجودہ آئینی و جمہوری ڈھانچے میں رہتے ہوئے نظام کی یہ تبدیلی شفاف انتخابات کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ ہمارے ملک میں انتخابات کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ شفاف انتخابات کا ہمیشہ فقدان رہا ہے۔ ماضی میں ملک میں انتخابی قوانین موجود ہونے کے باوجود نہ تو کبھی ان قوانین کو درخورِ اعتنا سمجھا گیا اور نہ ہی ان کی پابندی کا لحاظ رکھا گیا۔ اِس پر سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلہ نے مہرِ تصدیق ثبت کردی ہے جو اس نے 8 جون 2012ء کو دیا۔ فیصلہ کی شق نمبر 80 (3) میں لکھا ہے۔:

The Constitution of Pakistan mandates the Election Commission to organize and conduct the election and to make such arrangements as are necessary to ensure that the election is conducted honestly, justly, fairly and in accordance with law, and that corrupt practices are guarded against, but unfortunately the said mandate has not been properly fulfilled in the past.

آئین پاکستان الیکشن کمیشن کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ الیکشن کا انتظام کرے اور کروائے اور ایسے تمام ضروری اقدامات کرے، یہ یقینی بنائے کہ الیکشن ایمان دارانہ، صاف و شفاف اور قانون کے مطابق ہوں اور بدعنوان سرگرمیوں کا قلع قمع کرے لیکن بد قسمتی سے ماضی میں اِس پر کما حقہ عمل درآمد نہیں کروایا گیا (یعنی ماضی میں ہونے والے انتخابات ایمان دارانہ اور صاف و شفاف تھے نہ غیر جانب دارانہ اور قانون کے مطابق۔ مزید برآں ان انتخابات میں بدعنوان اور خلافِ آئین سرگرمیاں اور دھونس دھاندلی کا عمل بھی زور و شور سے جاری رہا ہے)۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان انتخابی قوانین اور آئینی تقاضوں کو پامال کرتے ہوئے جو بھی انتخابات ہوئے ان کے نتیجے میں ایسی اسمبلیاں وجود میں آئیںجن میں اکثر و بیشتر ایسے لوگ انتخابات جیتے کہ اگر انہیں آئین اور قانون کے معیارات کے مطابق جانچا جاتا تو وہ شاید پارلیمان میں پہنچنے کی بجائے جیل پہنچتے۔ جعلی ڈگریاں، ٹیکس چوری اور بیسیوں دیگر جرائم کا ارتکاب کرنے والے آئین اورقانون کی اسی چشم پوشی کے باعث پارلیمان میں متمکن ہونے کے قابل ہوئے۔ اس قوم نے وہ منظر بھی دیکھاکہ حکومتی وزیر سرعام میڈیا پہ یہ کہتے ہوئے سنے گئے کہ کرپشن معاشرے کا حصہ ہے۔ گویا کرپشن کو ایک کلچر کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے اور یہ کسی المیہ سے کم نہیں ہے۔

اندریں حالات مسائل کا حل یہ ہے کہ موجودہ قانون کو فعال بنایا جائے اور اس کا نفاذ یقینی بنایا جائے۔ سرپرست اور قائد تحریک منہاج القرآن ڈاکٹر محمد طاہر القادری کا 14 جنوری کا لانگ مارچ اس سلسلے میں ملکی تاریخ میں بہت بڑا مؤثرقدم تھا جس نے نہ صرف عوام میں شعور بیدار کیا کہ نمائندہ بننے کا اہل کون ہے بلکہ عام آدمی کو اس سے بھی آگاہ کیا کہ وہ کون سے آئینی معیارات اور تقاضے ہیں جنہیں پورا کرنے کے بعد ہی کوئی شخص اس دعوی کا اہل ہو سکتا ہے کہ وہ عوامی نمائندگی کے لیے امیدوار بنے۔ اس میں کوئی شک نہیںکہ ڈاکٹر طاہر القادری کی قیادت میں ہونے والے لانگ مارچ اور پھر اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے سامنے پانچ روزہ دھرنا ملکی تاریخ ہی نہیں بلکہ حالیہ عالمی تاریخ کا نادر اور عدیم المثال واقعہ ہے۔ اتنا طویل لانگ مارچ اور دھرنا جو بغیر کسی تشدد اور دہشت گردی کی مہم کے اپنے انجام کو پہنچا، اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ جہاں اس لانگ مارچ اور دھرنے سے پاکستانی قوم کا ایک منظم قوم ہونے کا image دنیا کے سامنے آیا، وہیں یہ بات بھی کھل کر سامنے آگئی کہ اگر قوم کوصحیح رہنمائی فراہم کی جائے، انہیں حقائق سے آگاہ کیا جائے، انہیں اپنی اہمیت کا احساس دلایا جائے اور قانون و آئین میں موجود ان اقدامات سے آگاہ کیا جائے جو نظام کو راہِ راست پر رکھنے کے لیے ضروری ہیں تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارا ملک بتدریج ایسے انقلاب کی طرف بڑھنے نہ لگے جو ہمیں اپنی منزل سے آشنا کرنے کا باعث ہوگا۔

قبل اِس کے کہ ہم اِس تاریخی لانگ مارچ کے اثرات و نتائج کا جائزہ لیں، ہم اس کے تاریخی پس منظر پر مختصر روشنی ڈالیں گے تاکہ اس کی اَہمیت دوچند ہوجائے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved