Islamabad Long March

مخالفین کی تنقید اور اصل حقائق

مخالفین کی تنقید اور اَصل حقائق

اِسلام آباد لانگ مارچ کے پس منظر اور ثمرات و نتائج پر سیر حاصل گفت گو کے بعد ہم حاسدین و مخالفین کی طرف سے لانگ مارچ پر اٹھائے جانے والے بعض اعتراضات کو موضوعِ بحث بناتے ہوئے چند حقائق بیان کریں گے تاکہ لانگ مارچ کے بارے میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ اَذہان میں نہ رہے۔

1۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے 23 دسمبر 2012ء کو پاکستان آنے کا اِعلان کیا تو بہت چہ میگوئیاں کی گئیں۔ اگرچہ دوسرے بہت سے لیڈرز کئی بار پاکستان واپسی کا اعلان کرچکے ہیں اور کرتے رہتے ہیں لیکن پھر اپنا بیان واپس لے لیتے ہیں، تاہم شیخ الاسلام نے حقیقی لیڈر ہونے کا ثبوت دیا اور وعدہ کے مطابق پاکستان تشریف لائے۔

2۔ تحریک منہاج القرآن کی طرف سے 23 دسمبر 2012ء کو مینار پاکستان کے سبزہ زار میں تاریخی جلسہ کرنے کا اعلان کیا گیا۔ مخالفین نے اعتراض کیا کہ یہ جلسہ نہیں ہوگا اور اگر ہوا بھی تو بہت چھوٹا ہوگا۔ لیکن وقت نے ثابت کر دکھایا کہ 23 دسمبر 2012ء کو پاکستان کی تاریخ کا ایسا باطل شکن اِجتماع ہوا جس نے ایک بار پھر 23 مارچ 1940ء کی یاد تازہ کر دی۔ تحریک منہاج القرآن نے کسی کا ریکارڈ توڑا نہیں بلکہ لاکھوں افراد کا اجتماع کرکے پاکستان کی تاریخ کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ آج کوئی بھی اِس بات سے انکار نہیں کرسکتا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ تھا۔

3۔ اسلام آباد لانگ مارچ کو روکنے کے لیے ہر طرح کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ حکومتی و اپوزیشن کی سطح پر یہ افواہ بھی اڑائی جاتی رہی کہ مارچ نہیں ہوگا۔

لیکن شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا تھا کہ ’اِن شاء اللہ! مارچ ہوگا! مارچ ہوگا! مارچ ہوگا‘۔ پھر چشمِ فلک نے پاکستان کی تاریخ میں ایسا لانگ مارچ دیکھا جس نے نہ صرف باطل کے ایوانوں میں ایک بھونچال بپا کر دیا بلکہ خوابیدہ قوم کو عروقِ مُردہ میں زندگی کی لہر دوڑا دی۔

4۔ مارچ روکنے کے لیے صوبائی و وفاقی وزارت ہاے داخلہ کی جانب سے دہشت گردی کے زبردست خطرات سے بھی ’آگاہ‘ کیا جاتا رہا؛ بلکہ یہاں تک بھی کہا گیا کہ ’دہشت گردی ہو نہیں سکتی؛ بلکہ ہوگی، ہوگی اور ہوگی‘۔

لیکن مخالفین کو اُس وقت منہ کی کھانی پڑی جب شیخ الاسلام نے کہا کہ ’اِن شاء اﷲ! دہشت گردی نہیں ہوگی‘ اور حقیقتاً بفضلہِ تعالیٰ پورے لانگ مارچ اور دھرنے میں ذرّہ بھی فتنہ و انتشار رُونما نہ ہوا جس کا ہر خاص و عام اور مخالف و موافق نے برملا اعتراف کیا۔

5۔ لانگ مارچ پر یہ اعتراض بھی کیا جاتا رہا کہ ’اس سے جمہوریت ڈی ریل ہوگی‘۔

شیخ الاسلام نے فرمایا کہ ’لانگ مارچ سے جمہوریت ڈی ریل نہیں ہوگی بلکہ مضبوط اور مستحکم ہوگی‘۔ وقت نے ثابت کر دکھایا کہ لانگ مارچ سے جمہوریت مستحکم و مضبوط ہوئی اور عوام میں شعور و آگہی پیدا ہوئی ہے۔

6۔ انتخابی اصلاحات کے مطالبہ پر اعتراض کیا گیا کہ یہ اصلاحات کون کرے گا۔

تحریک منہاج القرآن کے قائد شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے فرمایا کہ یہ اصلاحات ہم کروائیں گے۔ پھر وقت نے اس اعتراض کو باطل ثابت کر دیا اور متحدہ حکومتی وفد نے خود آکر انتخابی اصلاحات کے معاہدہ پر دست خط کیے جس پر پیش رفت جاری ہے۔

7۔ مخالفین کی طرف سے اعتراضات اور شیخ الاسلام کی کردار کشی (character assassination) کا گھناؤنا حملہ لانگ مارچ کی تاریخی کام یابی کے بعد بھی ختم نہ ہوا۔ یہ افواہ پھیلائی گئی کہ شیخ الاسلام 27 جنوری 2013ء کو واپس کینیڈا جارہے ہیں۔

لیکن یہ افواہ بھی چاند پر تھوکنے کے مترادف مخالفین کے اپنے منہ پر ہی پڑی۔ شیخ الاسلام 27 جنوری 2013ء کو واپس نہیں گئے بلکہ تاحال پاکستان میں موجود ہیں۔

8۔ شیخ الاسلام کے ایجنڈے پر بات کرنے کی بجائے مخالفین و حاسدین نے ان کی کردار کشی پر توجہ مرکوز رکھی اور یہ بھی کہا گیا کہ ’انہوں نے پارٹی کے عہدے اپنی فیملی ممبرز کو دیے ہوئے ہیں‘۔

یہ بھونڈا اعتراض بھی غلط ثابت ہوا جب شیخ الاسلام نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ وہ خود، صاحبزادگان، بیٹیاں، بہوئیں اور داماد میں سے کوئی بھی آئندہ عام انتخابات میں حصہ نہیں لے گا۔

صرف یہی نہیں بلکہ پاکستان عوامی تحریک کی چئیرمین شپ بھی چھوڑ دی اور اپنے بیٹوں کو یہ عہدہ نہیں دیا، بلکہ پارٹی انتخابات کے ذریعے اپنی صلاحیتوں اور خدمات کی بنیاد پر ایک عام کارکن پاکستان عوامی تحریک کا صدر بن گیا ہے۔ اس کی مثال پاکستان کی کوئی بھی جماعت پیش کرنے سے قاصر ہے۔ یہاں تو پارٹی عہدے میوزیکل چئیر کی طرح فیملی ممبرز میں ہی گردش کرتے رہتے ہیں۔

9۔ مخالفین و حاسدین یہ الزام بھی لگاتے رہے کہ ’ڈاکٹر طاہر القادری کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ ہے‘؛ کبھی کہتے کہ ’ڈاکٹر طاہر القادری کے پیچھے فوج ہے‘؛ کبھی کہتے کہ ’ڈاکٹر طاہر القادری کے پیچھے امریکہ ہے‘؛کبھی کہتے کہ ’ڈاکٹر طاہر القادری کے پیچھے عالمی طاقتیں ہیں‘۔ الغرض ہر کوئی عوام کے حقوق اور ایجنڈے کی بات کرنے کی بجائے شیخ الاسلام کی کردار کشی پر زور صرف کرتا رہا۔

لیکن وقت نے یہ اٹل حقیقت بھی ثابت کر دی جب اسٹیبلشمنٹ، فوج اور غیر ملکی ذمہ داران وغیرہ نے خود اِس کی تردید کر دی۔ لہٰذا جب کوئی ایک فرد / جماعت بھی واضح دلیل پیش کرنے میں ناکام رہی تو بالآخر شیخ الاسلام نے مخالفین و حاسدین کی سہولت کے لیے خود ہی بتا دیا کہ ان کے پیچھے کون ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ ’میرے پیچھے اﷲ تعالی اور اس کے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ ہے‘۔

10۔ اِسلام آباد لانگ مارچ پر ایک اعتراض یہ بھی کیا گیا کہ ’تحریک منہاج القرآن لانگ مارچ نہیں کرسکے گی کیونکہ یہ آسان کام نہیں ہے‘۔

ایسا بیان دینے والوں کو اُس وقت شرم سے ڈوب مرنے کے لیے چلو بھر پانی بھی نہ ملا جب بین الاقوامی میڈیا نے اِس اَمر کا بر ملا اِظہار کر دیا کہ ایک ماہ کے اندر اندر تحریک منہاج القرآن نے تین عظیم الشان تاریخی پروگرام منعقد کردیے ہیں۔ سب سے پہلے 23 دسمبر 2012ء کو تاریخی اجتماع ’سیاست نہیں۔ ریاست بچاؤ‘ منعقد کیا، پھر انتہائی مختصر نوٹس پر تاریخی لانگ مارچ اور دھرنہ ہوا اور پھر چند دن بعد ہی تحریک کی روایت کے مطابق 29 ویں سالانہ عالمی میلاد کانفرنس منعقد کی گئی۔ اس کے علاوہ تحریک کے مرکزی و مقامی سطح پر بے شمار پروگرام منعقد ہوئے۔ لیکن اﷲ اور اس کے رسول مکرم a کے فضل و کرم سے تمام پروگرام اِنتظام و اِنصرام اور شرکت کے اِعتبار سے مثالی رہے ہیں۔ کوئی سیاسی و مذہبی جماعت اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ اور یہ بھی تحریک منہاج القرآن کا اعزاز ہے کہ اس نے کسی جماعت سے عملی اتحاد کے بغیر تن تنہا یہ معرکے سرانجام دیے ہیں۔

دعوتِ فکر و عمل

اے پاکستانی قوم! اُٹھو! پاکستان کو بچانے کے لیے میدانِ عمل میں کود جاؤ! جب تک میدانِ عمل میں نہ اترا جائے اُس وقت تک کام یابی نصیب نہیں ہوتی کیونکہ

 زندگی بھیک میں نہیں ملتی
زندگی بڑھ کر چھینی جاتی ہے

اگر ملک و قوم کو خوش حال بنانا ہے، اگر اگلی نسلوں کو ترقی کے زینے پر چڑھانا ہے اور اقوام عالم میں ایک باعزت اور باوقار مقام حاصل کرنا ہے تو اس کے لیے عزمِ مصمم کے ساتھ تمام تر مسلکی و مذہبی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اتحاد اور یک جہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جد و جہد کرنی ہوگی۔ یاد رکھیں! قدرت کی طرف سے اِصلاح کے مواقع بار بار نہیں ملتے۔

آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، حقیقی جمہوریت کے قیام، اَمن و سلامتی کے فروغ، معاشی و سماجی ترقی، ملک سے غربت، جہالت، پسماندگی، محرومی، نااِنصافی اور جاگیردانہ، سرمایہ دارانہ و اِستحصالی نظام کے خاتمے کے لیے معاشی و سماجی حقوق میں مساوات اور عدل و اِنصاف کی فراہمی کے لیے مصروفِ عمل

پاکستان عوامی تحریک

پاکستان عوامی تحریک کا رُکن بننے کے لیے اپنا نام، شہر کا نام اور مکمل پتا لکھ کر 80027 پر SMS کریں۔

اِسی طرح اپنے دوست و اَحباب اور رفقاء کار و وابستگان کو بھی پاکستان عوامی تحریک کا ممبر بنائیں۔

www.NizamBadlo.com
facebook.com/TahirulQadri
twitter: @TahirulQadri

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved