Merits and Virtues of Sayyiduna Abu Bakr (R.A.)

حصہ اول

فصل : 1

بيان إسمه ونسبه

(صدّیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کا نام و نسب)

1. عن عروة، قال : أبو بکر الصّدّيق، إسمه عبداﷲ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تيم بن مرة. شهد بدرا مع رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم وأمّ أبي بکر رضي الله عنه، أمّ الخير سلمٰي بنت صخر بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تيم بن مرة بن کعب بن لؤي بن غالب بن فهر بن مالک وأمّ أمّ الخير، دلاف وهي أميمة بنت عبيد بن النّا قد الخزاعي. وجدّة أبي بکر، أمّ أبي قحافة أمينة بنت عبد العزّٰي بن حرثان بن عوف بن عبيد بن عويج بن عديّ بن کعب.

’’حضرت عروہ بن زبیر رضی اﷲ عنھما سے روایت ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نام عبد اﷲ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تيم بن مُرّۃ ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ جنگِ بدر میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ کا نام اُمُّ الخیر سلمیٰ بنت صخر بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تيم بن مرۃ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فھر بن مالک ہے۔ ام الخیر سلمیٰ کی والدہ (ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نانی) کا نام دلاف ہے اور یہی امیمہ بنت عبید اﷲ بن الناقد الخزاعی ہیں۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دادی (ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کی والدہ) کا نام امینہ بنت عبد العزیٰ بن حرثان بن عوف بن عبید بن عُویج بن عدی بن کعب بن لؤی بن غالب بن فھر بن مالک ہے۔‘‘

1. طبرانی، المعجم الکبير، 1 : 51، رقم : 1

2۔ ھيثمي نے ’مجمع الزوائد (9 : 40) میں کہا ہے کہ اسے طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے۔

3۔ طبری نے ’تاریخ الامم والملوک (2 : 350) ‘میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا سے روایت کیا ہے۔

2. عن الزّهريّ قال أبوبکر الصّدّيق إسمه عبداﷲ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تيم بن مرة بن کعب بن لؤيّ بن غالب بن فهر.

’’زہری سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نام عبداﷲ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تيم بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فہر ہے۔‘‘

1. حاکم، المستدرک، 3 : 64، کتاب معرفة الصحابة، رقم : 4403
2. بيهقي، السنن الکبريٰ، 6 : 369، رقم : 12870

3. وأمّا نسبه فهو عبداﷲ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تيم بن مرة بن کعب بن لؤيّ بن غالب يجتمع مع النّبي صلي الله عليه وآله وسلم في مرة بن کعب و عدد اٰبائهما الٰي مرة سوآء.

’’حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نسب عبداﷲ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تيم بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب ہے جو کہ مرہ بن کعب پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مل جاتا ہے اور مرہ تک دونوں کے آباء کی تعداد برابر ہے۔‘‘

1. عسقلاني، فتح الباري، 7 : 9
2. نووي، تهذيب الاسماء، 2 : 472
3. مبارک پوري، تحفة الأحوذي، 10 : 96

4. عن عائشة أمّ المؤمنين رضي اﷲ عنها قالت : اسم أبي بکر الّذي سمّاه أهله به عبداﷲ بن عثمان بن عامر بن عمرو لٰکن غلب عليه اسم عتيق رضي اﷲ عنه.

’’ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نام گھر والوں نے عبداﷲ بن عثمان بن عامر بن عمرو رکھا لیکن آپ کی شہرت عتیق کے نام سے تھی۔‘‘

شيباني، الآحاد والمثاني، 1 : 70، رقم : 4

5. عن اللّيث بن سعد قال إنّما سمّي أبوبکر رضي الله عنه عتيقا لجمال وجهه وإسمه عبداﷲ بن عثمان.

’’حضرت لیث بن سعد سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نام عتیق آپ رضی اللہ عنہ کی خوبروئی کی وجہ سے رکھا گیا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ کا اصل نام عبداﷲ بن عثمان ہے۔‘‘

1. طبراني، المعجم الکبير، 1 : 52، رقم : 4

2. ھيثمي نے ’ مجمع الزوائد (9 : 41) میں کہا ہے کہ اسے طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔

3. شيباني، الآحاد والمثاني، 1 : 69
4. عسقلاني، الإصابه، 4 : 170

6. عن أبي حفص عمرو بن علي أنّه کان يقول کان أبو بکر معروق الوجه وکان إسمه عبداﷲ بن عثمان.

’’حضرت ابو حفص عمرو بن علی سے روایت ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا چہرہ مبارک ہلکا تھا اور آپ کا اسم مبارک عبداﷲ بن عثمان تھا۔‘‘

هيثمي، مجمع الزوائد، 9 : 41

7. عن عامر بن عبد اﷲ بن الزّبير عن أبيه قال کان إسم أبي بکر عبداﷲ بن عثمان.

’’حضرت عامر اپنے والدحضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا نام عبداﷲ بن عثمان تھا۔‘‘

1. ابن حبان، الصحيح، 15 : 279، رقم : 6864
2. هيثمي، موارد الظمآن، 1 : 532، رقم : 2171

8. عن موسٰي بن عقبة قال : لا نعلم أربعة أدرکوا النّبي صلي الله عليه وآله وسلم و أبناؤهم إلّا هؤلآء الأربعة : أبوقحافة، و أبوبکر، و عبدالرّحمٰن بن أبي بکر، و أبو عتيق بن عبدالرّحمٰن و إسم أبي عتيق محمّدث.

’’حضرت موسیٰ بن عقبہ سے روایت ہے کہ ہم ایسے چار افراد کو نہیں جانتے کہ جنہوں نے خود اور ان کے بیٹوں نے بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہو (یعنی انہیں شرف صحابیت نصیب ہوا ہو) سوائے ابوقحافہ، ابوبکر، عبدالرحمٰن بن ابی بکر اور ابو عتیق محمد بن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنھم کے۔‘‘

1. طبراني، المعجم الکبير، 1 : 54، رقم : 11
2. حاکم، المستدرک، 3 : 540، رقم : 6008
3. حاکم، المستدرک، 3 : 544، رقم : 6024
4. بخاري، التاريخ الکبير، 1 : 130، رقم : 392
5. شيباني، الآحاد والمثاني، 1 : 77، رقم : 22
6. هيثمي، مجمع الزوائد، 9 : 51
7. سيوطي، تاريخ الخلفاء : 107
8. نووي، تهذيب الاسماء، 1 : 275، رقم : 344

فصل : 2

أوّل من أسلم من الرجال

(بالغ مردوں ميں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے )

9. عن عائشة عن عمر بن الخطّاب قال کان أبو بکر أحبّنا إلٰي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم و کان خيرنا و سيّدنا ذکر البيان بأنّ أبا بکر الصّدّيق رضي الله عنه أوّل من أسلم من الرّجال.

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہم سب سے زیادہ محبوب تھے، اور ہم سے بہتر اور ہمارے سردار تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ گفتگو کرتے رہے یہاں تک کہ فرمایا : مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے حضرت ابو بکر تھے۔‘‘

1. ابن حبان، الصحيح، 15 : 279. 278، رقم : 6862
2. هيثمي، موار دالظمآن، 1 : 532، رقم : 2199
3. بزار، المسند، 1 : 373، رقم : 251

10. عن ابن عمر قال أوّل من أسلم أبوبکر.

’’حضرت عبداللہ بن عمر رضي اللہ عنھما سے روایت ہے کہ جس شخص نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔‘‘

1. طبراني، المعجم الاوسط، 8 : 190، رقم : 8365
2. هيثمي، مجمع الزوائد، 9 : 43
3. واسطي، تاريخ واسط، 1 : 254

11. عن عمرو بن مرة عن إبراهيم قال أبو بکر أوّل من أسلم مع رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم.

’’عمرو بن مرہ نے ابراہیم سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پرسب سے پہلے اسلام لانے والے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں۔‘‘

1. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 1 : 224، رقم : 262، 263
2. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 1 : 225، رقم : 265
3. ابن ابي شيبه، المصنف، 7 : 336، رقم : 36583
4. طبري، تاريخ الامم والملوک، 1 : 540

12. عن يوسف بن يعقوب الماجشون قال سمعت أبي و ربيعة يقولان أوّل من أسلم من الرّجال أبو بکر.

’’يوسف بن یعقوب ماجشون سے روایت ہے کہ میں نے اپنے والد اور ربیعہ سے سنا کہ مردوں میں سب سے پہلے اسلام لانے والے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں۔‘‘

ابن حبان، الثقات، 8 : 130، رقم : 12577

13. عن أبي أرويٰ الدّوسيّ قالوا أوّل من أسلم أبو بکر الصّدّيق.

’’ابوارویٰ دوسی سے روایت ہے کہ سب سے پہلے اسلام لانے والے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں۔‘‘

1. ابن سعد، الطبقات الکبريٰ، 3 : 171
2. محاملی، أمالی المحاملی، 1 : 356، رقم : 396

14. عن الزّهريّ قال هو أوّل من أسلم من الرّجال الأحرار.

’’امام زہری سے روایت ہے کہ آزاد مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے آپ (حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ) ہیں۔

بيهقي، السنن الکبريٰ، 6 : 369، رقم : 12872

15. عن محمّد بن کعب أنّ أوّل من أسلم من هذه الأمّة برسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم خديجة و أوّل رجلين أسلما أبوبکر الصّدّيق و علي و انّ أبابکر أوّل من أظهر إسلامه.

’’محمد بن کعب سے روایت ہے کہ اس اُمت میں سے سب سے پہلے (عورتوں میں) ایمان لانے والی سیدہ خدیجۃ الکبريٰ رضی اللہ عنھا ہیں اور مردوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ لیکن اپنے اسلام کا اعلان سب سے پہلے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کیا۔‘‘

احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 1 : 226، رقم : 268

وضاحت : آپ رضی اللہ عنہ پختہ عمر افراد میں سے تھے اور معاشرے میں سماجی اور تجارتی سرگرمیوں کے باعث معروف بھی تھے اس لیے آپ رضی اللہ عنہ کے اظہارِ اسلام کا ہر ایک پر آشکار ہونا ایک فطری امر تھا، سو اس کی شہرت ہوگئی۔ اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نو عمر معصوم بچے تھے، آپ رضی اللہ عنہ نے بعثتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہی گھر میں حضرت خدیجۃ الکبريٰ رضی اﷲ عنھا کی طرح پہلے ہی دن سے اسلام قبول کر لیا۔ اغلباً ممکن ہے کہ زمانی اوليّت کے اعتبار سے حضرت خدیجۃ الکبريٰ رضی اللہ عنھا اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ہی سب پر مقدم ہوں مگر اعلانی اوليّت میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مقدم ہوں۔

اس کی تائید درج ذیل اقوال (16 ۔ 18) سے ہوتی ہے :

16. عن محمّد بن کعب قال أوّل من أسلم أبوبکر و عليّ رضي اﷲ عنهما فأبوبکر رضي الله عنه أوّلهما أظهر إسلامه و کان عليّ رضي الله عنه يکتم إيمانه فرقا من أبيه فاطّلع عليه أبو طالب وهو مع النّبي صلي الله عليه وآله وسلم فقال أسلمت قال نعم قال آزر إبن عمّک يا بنيّ و انصره قال و کان عليّ رضي الله عنه أوّلهما إسلاما.

’’محمد بن کعب سے روایت ہے کہ سب سے پہلے حضرت ابو بکر اور حضرت علی رضی اللہ عنھما اسلام لائے، ان دونوں میں سے اپنے اسلام کا اعلان پہلے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ (کم سنی کے باعث) اپنے باپ کے ڈر سے اپنے اسلام کو چھپاتے تھے، حضرت ابو طالب کو آپ رضی اللہ عنہ کے اسلام کی خبر ہوئی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے، حضرت ابو طالب نے پوچھا کیا تم نے اسلام قبول کر لیا ہے؟جواب دیا ہاں! انہوں نے کہا : اے میرے بیٹے ! اپنے چچا زاد کی خوب مدد کرو۔ راوی فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان دونوں میں سے پہلے اسلام لانے والے ہیں۔‘‘

فاکهی، اخبار مکة، 3 : 219

17. قال أبوحاتم فکان أوّل من آمن برسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم زوجته خديجة بنت خويلد ثمّ آمن عليّ بن أبي طالب وصدّقه بما جاء به وهو بن عشر سنين ثمّ أسلم أبوبکر الصّدّيق فکان عليّ بن أبي طالب يخفي إسلامه من أبي طالب وأبوبکر لمّا أسلم أظهر إسلامه فلذٰلک اشتبه علي النّاس أوّل من أسلم منهما.

’’ابو حاتم نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سب سے پہلے ایمان لانے والی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اﷲ عنھا ہیں اس کے بعد حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ایمان لائے اور جو کچھ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لے کر آئے اس کی تصدیق کی اور اس وقت وہ دس سال کے بچے تھے، پھر حضرت ابو بکر صدیق ایمان لائے، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ابو طالب سے اپنا اسلام چھپاتے تھے، اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب اسلام قبول کیا تو اس کا اعلان بھی کر دیا پس اسی لیے لوگوں پر مشتبہ ہوگیا کہ ان دونوں میں سے پہلے کس نے اسلام قبول کیا؟۔‘‘

ابن حبان، الثقات، 1 : 52

18. قال الشّوکانيّ وقد صحّ أنّ من مبعث النّبي صلي الله عليه وآله وسلم إلٰي وفاته نحو ثلاث وّ عشرين سنة وأنّ عليّا رضي الله عنه عاش بعده نحو ثلاثين سنة فيکون قد عمر بعد إسلامه فوق الخمسين وقد مات ولم يبلغ السّتّين فعلم أنّه أسلم صغيرا.

’’شوکانی نے کہا، یہ بات صحیح ہے کہ بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال تک کل تئیس سال کا عرصہ بنتا ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد تیس سال تک حیات رہے اور آپ رضی اللہ عنہ کی عمر اسلام قبول کرنے کے بعد پچاس سال سے زائد بنتی ہے اور جب آپ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو اس وقت آپ رضی اللہ عنہ کی عمر ساٹھ سال سے کم تھی پس معلوم ہوا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے بچپن میں ہی اسلام قبول کیا۔‘‘

شوکاني، نيل الاوطار، 8 : 17

19. عن أبي أمامة الباهليّ قال : أخبرني عمروبن عبسة رضي الله عنه قال : أتيت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم وهو نازل بعکاظ قلت : يا رسول اﷲ من اتّبعک علٰي هذا الأمر؟ قال : ’’إتّبعني عليه رجلان حرّ وّ عبد أبو بکروّبلال‘‘ قال : فأسلمت عند ذٰلک.

’’حضرت ابوامامۃ باہلی سے روایت ہے کہ مجھے عمرو بن عبسہ نے خبر دی کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عکاظ کے مقام پر تشریف فرما تھے۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! اِس دین پر آپ کی (اولین) اتباع کس نے کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اِس پر میری اتباع دو مردوں نے کی ہے ایک آزاد اور ایک غلام، وہ ابو بکر رضی اللہ عنہ اور بلال رضی اللہ عنہ ہیں۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، میں نے اس وقت اسلام قبول کیا تھا۔

1. حاکم، المستدرک، 3 : 69، کتاب معرفة الصحابة، رقم : 4419
2. طبري، تاريخ الأمم والملوک، 1 : 540

20. عن عمرو بن عبسة قال : أتيت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم في أوّل ما بعث وهو بمکّة وهو حينئذ مستخف. . . قلت نعم ما أرسلک به فمن تبعک علٰي هذا؟ قال : ’’عبد و حرّ يعني أبابکر و بلا لا.‘‘

’’حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں آپ کی بعثتِ مبارکہ کے ابتدائی ایام میں حاضر ہوا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ میں تھے اور اُس وقت تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خفیہ طور پر تبلیغِ دین فرماتے تھے۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات سن کر عرض کیا، یہ دین کتنا ہی اچھا ہے جو اﷲ نے آپ کو دے کر بھیجا ہے (پھر عرض کیا) اِس دین پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کس نے کی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’ایک غلام اور ایک آزاد شخص نے وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور بلال رضی اللہ عنہ ہیں۔‘‘

1. حاکم، المستدرک، 3 : 68، 69، کتاب معرفة الصحابه، رقم : 4418
2. حاکم، المستدرک، 1 : 269، رقم : 583
3. احمد بن حنبل، المسند، 4 : 111
4. ابن خزيمه، الصحيح، 1 : 129، رقم : 260
5. طبراني، مسند الشاميين، 2 : 315، رقم : 1410
6. بيهقي، السنن الصغريٰ، 1 : 534، رقم : 959

21. عن همّام قال : سمعت عمّارا يقول : رأيت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم و ما معه إلّا خمسة أعبد وّ امرأتان، و أبوبکر.

’’حضرت ھمام بن حارث رضي اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمار بن یاسر رضی اﷲ عنھما کو فرماتے ہوئے سنا : میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس دور میں دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ پانچ غلاموں، دو عورتوں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی نہ تھا۔

1. بخاري، الصحيح، 3 : 1338، کتاب المناقب، رقم : 3460
2. بخاري، الصحيح، 3 : 1400، کتاب. . . رقم : 3644
3. حاکم، المستدرک، 3 : 444، رقم : 5682
4. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 1 : 208، رقم : 232
5. بزار، المسند، 4 : 244، رقم : 1411
6. بيهقي، السنن الکبريٰ، 6 : 369، رقم : 12883
7. خثيمه، من حديث خثيمه، 1 : 131
8. ذهبي، سير اعلام النبلاء، 1 : 428
9. مزي، تهذيب الکمال، 21 : 220
10. عسقلاني، الاصابه، 4 : 575، رقم : 5708
11. محب طبري، الرياض النضره، 1 : 420

خمسة اعبد هم بلال و زيد بن حارثة و عامر بن فهيرة و ابو فکيهة و ياسر والد عمار والمرأتان خديجة و سمية والدة عمار.

’’پانچ غلام حضرت بلال، حضرت زید بن حارثہ، حضرت عامر بن فہیرۃ، حضرت ابو فکیہۃ اور حضرت عمار کے والد حضرت یاسر رضی اللہ عنھم ہیں اور دو عورتیں حضرت خدیجۃ اور حضرت عمار کی والدہ حضرت سمیۃ رضی اﷲ عنھما ہیں۔‘‘

سهارنپوري، حاشيه صحيح البخاري، 1 : 516، رقم : 10

22. عن الشّعبيّ قال سألت إبن عبّا س أو سئل : من أوّل من أسلم؟ فقال : أما سمعت قول حسّان رضی الله عنه :

إذا تذکّرت شجوا من أخي ثقة
فاذکر أخاک أبابکر بما فعلا
خير البريّة أتقاها وأعدلها
بعد النّبيّ وأوفاها بما حملا
ألثّاني ألتّالي المحمود مشهده
و أوّل النّاس منهم صدّق الرّسلا

’’امام شعبی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا یا آپ سے سوال کیا گیا کہ اسلام قبول کرنے کے اعتبار سے پہلا شخص کون ہے؟ تو آپ نے فرمایا، تم نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا ارشاد نہیں سنا!

’’جب تم کسی قابل اعتماد بھائی کا تپاک سے ذکر کرو تو ضرور ابو بکر کے کارناموں کی وجہ سے انہیں یاد کرو۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد وہ تمام مخلوق سے بہتر، اللہ سے زیادہ ڈرنے والے، عدل کرنے والے اور اپنے فرائض کو کماحقہ سر انجام دینے والے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ (دو ہجرت کرنے والوں میں سے) دوسرے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیرو ہیں، محفل میں ان کی موجودگی پسندکی جاتی ہے، وہ لوگوں میں سے پہلے شخص ہیں جنہوں نے سب رسولوں کی تصدیق کی۔‘‘

1. حاکم، المستدرک، ، 3 : 67، کتاب معرفة الصحابه، رقم : 4414
2. ابن ابي شيبه، المصنف، 7 : 14، رقم : 33885
3. ابن ابي شيبه، المصنف، 7 : 336، رقم : 36584
4. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 1 : 133، رقم : 103
5. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 1 : 142، رقم : 119
6. طبراني، المعجم الکبير، 12 : 89، رقم : 12562
7. شيباني، الآحاد والمثاني، 1 : 84، رقم : 44
8. بيهقي، السنن الکبريٰ، 6 : 369، رقم : 12875
9. هيثمي، مجمع الزوائد، 9 : 43
10. ابن جوزي، صفة الصفوه، 1 : 238
11. ابن عبدالبر، الإستيعاب، 3 : 964، رقم : 1633
12. محب طبري، الرياض النضره، 1 : 416

23. عن عبداﷲ بن الحصين التّميميّ أنّ رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال مادعوت أحدا إلٰي الإسلام إلاّ کانت عنده کبوة و تردّد و نظر إلا أبابکر ما عکم عنه حين ذکرته ولا تردّد فيه.

’’عبداللہ بن حصین تمیمی سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں نے جس کسی کو اسلام کی دعوت دی اس نے کچھ نہ کچھ تردد، ہچکچاہٹ اور تامل کا اظہار ضرور کیا سوائے ابوبکر کے کہ اس نے بغیر کسی تردد و تامل کے فوراً میری دعوت قبول کر لی۔‘‘

1. ابن کثير، البداية والنهاية، 3 : 27
2. ابن هشام، السيرة النبوية، 2 : 91
3. ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، 2 : 444
4. حلبي، السيرة الحلبيه، 1 : 442
5. ابن عساکر، تاريخ دمشق، 30 : 44
6. محب طبري، الرياض النضرة، 1 : 415

24. ما کلّمت أحدا في الإسلام إلّا ابٰي عليّ و راجعني في الکلام إلّا ابن اٰبي قحافة فانّي لم أکلّمه في شيء إلاّ قبله و استقام عليه.

’’میں نے اسلام کے بارے میں جس سے بھی گفتگو کی اس نے انکار کیا اور مجھ سے تکرار کی سوائے ابو قحافہ کے بیٹے ابو بکر کے، کیونکہ میں نے اس سے جو بات بھی کہی اس نے قبول کر لی اور اس پر مضبوطی سے قائم رہا۔‘‘

حلبي، السيرة الحلبيه، 1 : 442

فصل : 3

من سرّه أن ينظرعتيقا من النار فلينظرإلي أبي بکر رضي الله عنه

(جسے آگ سے محفوظ شخص دیکھنا ہو وہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کو دیکھ لے)

25. عن عائشة : أنّ أبا بکر دخل علٰي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم فقال : ’’انت عتيق اﷲ من النّار،‘‘ فيومئذ سمّي عتيقا.

’’اُمُّ المؤمنین عائشہ صدِّیقہ رضی اﷲ عنھا سے روایت ہے : حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’تم اﷲ رب العزت کی طرف سے آگ سے آزاد ہو۔‘‘ پس اُس دن سے آپ رضی اللہ عنہ کا نام ’’عتیق‘‘ رکھ دیا گیا۔

1. ترمذي، الجامع الصحيح 5 : 616، ابواب المناقب، رقم : 3679

2. ابن حبان نے ’الصحيح (5 : 279، رقم : 6864) ‘ميں عبد اﷲ بن زبير رضي اﷲ عنھما سے روايت کيا ھے۔

3. حاکم، المستدرک، 2 : 450، رقم : 3557
4. حاکم، المستدرک، 3 : 424، رقم : 5611
5. طبراني، المعجم الکبير، 1 : 53، رقم : 9

6۔ بزار نے ’المسند (6 : 170، رقم : 2213)‘ ميں حضرت عبداﷲ بن زبير رضي اﷲ عنھما سے روايت کيا ھے۔
7۔ مقدسي نے ’الاحاديث المختارہ (9 : 307، رقم : 265)‘ میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنھما سے روایت کیا ھے۔
8۔ ھيثمي نے ’مجمع الزوائد (9 : 40)‘ میں حضرت عبداﷲ بن زبیر سے روایت کیا ھے۔

9. ابن سعد، الطبقات الکبريٰ، 3 : 170
10. ابن جوزي، صفة الصفوة، 1 : 235
11. طبري، تاريخ الأمم والملوک، 2 : 350
12. محب طبري، الرياض النضرة، 1 : 403
13. عسقلاني، تهذيب التهذيب، 15 : 276، رقم : 537

26. عن عائشة امّ المؤمنين رضي اﷲ عنها قالت : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ’’من سرّه أن يّنظر إلٰي عتيق من النّار فلينظر إلٰي أبي بکر‘‘ وأنّ إسمه الّذي سمّاه أهله لعبد اﷲ بن عثمان بن عامر بن عمرو حيث ولد فغلب عليه اسم عتيق.

’’امّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’جسے آگ سے آزاد (محفوظ) شخص دیکھنا پسند ہو وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھ لے۔‘‘ اور آپ رضی اللہ عنہ کا لقب ولادت کے وقت آپ کے گھر والوں نے عبد اﷲ بن عثمان بن عامر بن عمرو رکھا تھا، پھر اِس پر عتیق کا لقب غالب آگیا۔

1. حاکم، المستدرک، 3 : 64، کتاب معرفة الصحابه، رقم، 4404
2. ابو يعلي، المسند، 8 : 302، رقم : 4899
3. طبراني، المعجم الکبير، 1 : 54، رقم : 10
4. طبراني، المعجم الأوسط، 9 : 149، رقم : 9384
5. هيثمي، مجمع الزوائد، 9 : 41
6. ديلمي، الفردوس بمأثور الخطاب، 3 : 540، رقم : 5685
7. ابن سعد، الطبقات الکبريٰ، 3 : 170
8. ابن عبدالبر، الإستيعاب، 3 : 963، 964
9. عسقلاني، الإصابه، 4 : 170
10. محب طبري، الرياض النضرة، 1 : 402

فصل : 4

أنزل سبحانه وتعالیٰ له إسم صديق من السمآء

(آپ رضی اللہ عنہ کا لقب صدّیق آسمان سے نازل فرمایاگیا)

27. عن أبي يحيٰی سمع عليّا يحلف : لأنزل اﷲ إسم أبي بکر رضي الله عنه من السّمآء صدّيقا.

’’حضرت ابو یحیٰی سے روایت ہے انہوں نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو قسم اُٹھا کر کہتے ہوئے سُنا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا لقب ’’صدیق‘‘ اﷲ تعالیٰ نے آسمان سے نازل فرمایا.

1. حاکم، المستدرک، 3 : 65، کتاب معرفة الصحابه، رقم : 4405

28. عن أبي يحيٰي حکيم ابن سعد قال سمعت عليّا رضي الله عنه يحلف : للّٰه أنزل اسم أبي بکر من السّماء ’’الصّدّيق‘‘.

’’حضرت ابو یحییٰ حکیم بن سعد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کواللہ کی قسم اُٹھا کر کہتے ہوئے سُنا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کا لقب’’الصدیق‘‘ آسمان سے اُتارا گیا۔‘‘

1. طبراني، المعجم الکبير، 1، 55 رقم : 14

2. ھيثمي نے’ مجمع الزوائد ( 9، 41)‘ میں کہا ہے کہ اسے طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں

3. بخاري، التاريخ الکبير، 1 : 99، رقم : 277
4. شيباني، الآحاد والمثاني، 1 : 70، رقم : 6
5. عسقلاني، فتح الباري، 7 : 9
6. زرقاني، شرح الزرقاني علي مؤطا، 1 : 90
7. ابن جوزي، صفة الصفوه 1 : 236
8. مبارکپوري، تحفة الأحوذي، 10 : 96
9. محب طبري، الرياض النضره، 1 : 407

29. عن النّزال بن سبرة قال. . . فقلنا حدّثنا عن أبي بکر فقال : ’’ذاک إمرء سمّاه اﷲ صدّيقا علٰي لسان جبريل و محمّد صلي اﷲ عليهما.‘‘

’’حضرت نزال بن سبرہ سے روایت ہے کہ ہم نے (حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ) سے عرض کی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ بیان فرمائیں تو انہوں (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا : ابو بکر رضی اللہ عنہ وہ شخصیت ہیں جن کا لقب اﷲ رب العزت نے حضرت جبرئیل علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے ’’الصِدِّیق‘‘ رکھا۔‘‘

1. حاکم، المستدرک، 3 : 65، رقم : 4406
2. نووي، تهذيب الاسماء، 2 : 479
3. محب طبري، الرياض النضرة، 1 : 406
4. محب طبري، الرياض النضرة، 2 : 161

30. عن قتادة : أنّ أنس بن مالک رضي الله عنه حدّثهم : أنّ النّبيّ صلي الله عليه وآله وسلم صعد أحدا، وأبوبکر وعمر وعثمان، فرجف بهم، فقال : ’’اثبت أحد، فانّما عليک نبيّ و صدّيق، وشهيدان‘‘.

’’حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے انہیں حديث بیان کی کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جبل احد پر تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی تھے، اچانک پہاڑ اُن کے باعث (جوش مسرت سے) جھومنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’اے اُحد! ٹھہر جا، تیرے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔‘‘

1. بخاري، الصحيح، 3 : 1344، کتاب المناقب، رقم : 3472
2. بخاري، الصحيح، 3 : 1348، رقم : 3483
3. ترمذي، الجامع الصحيح، 5 : 624، رقم : 3697
4. ابوداؤد، السنن، 4 : 212، رقم : 4651
5. نسائي، السنن الکبريٰ، 5 : 43، رقم : 8135
6. احمد بن حنبل، المسند، 3 : 112، رقم : 12127
7. ابن حبان، الصحيح، 15 : 280، رقم : 6865
8. ابن حبان، الصحيح، 15 : 336، رقم : 6908
9. ابويعليٰ، المسند، 5 : 338، رقم : 2964
10. ابويعليٰ، المسند، 5 : 454، رقم : 3171
11. ابويعليٰ، المسند، 5 : 466، رقم : 3196
12. ابونعيم، حلية الاولياء، 5 : 25
13. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 1 : 217، رقم : 246
14. نسائي، فضائل الصحابه، 1 : 12
15. محب طبري، الرياض النضرة، 1 : 276

فصل : 5

قال أبو بکر رضي الله عنه : أصدقه صلي الله عليه وآله وسلم فيما أبعد من ذٰلک

(میں تو معراج سے بھی عجیب تر خبروں میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کرتا ہوں)

31. عن عائشة رضي اﷲ عنها قالت : لمّا اسري بالنّبيّ صلي الله عليه وآله وسلم إلي المسجد الأ قصٰي أصبح يتحدّث النّاس بذالک فارتدّ ناس ممّن کان اٰمنوا به وصدّقوه وسعوا بذالک إلٰي أبي بکر رضي الله عنه فقالوا : هل لک إلٰي صاحبک يزعم أنّه أسري به اللّيلة إلٰي بيت المقدس؟ قال : أو قال ذٰلک؟ قالوا : نعم، قال : ’’لئن کان قال ذٰلک لقد صدق.‘‘ قالوا : أو تصدّق أنّه ذهب اللّيلة إلٰي بيت المقدس وجاء قبل أن يّصبح؟ قال : نعم، ’’إنّي لأصدّقه فيما هو أبعد من ذٰلک أصدّقه بخبر السّمآء في غدوة أو روحة‘‘ فلذٰلک سمّي أبو بکر’’الصّدّيق‘‘.

’’امّ المؤمنین عائشہ صدِّیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے آپ رضی اﷲ عنہانے فرمایا : جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجد اقصیٰ کی طرف سیر کرائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح لوگوں کو اس کے بارے بیان فرمایا توکچھ ایسے لوگ بھی اس کے منکر ہو گئے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لا چکے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کر چکے تھے۔ وہ دوڑتے ہوئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے : کیا آپ اپنے صاحب کی تصدیق کرتے ہیں جو یہ گمان کرتے ہیں کہ انہیں آج رات بیت المقدس تک سیر کرائی گئی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا، ہاں ! تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے تو یقیناً سچ فرمایا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا، کیا آپ اُنکی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ آج رات بیت المقدس تک گئے بھی ہیں اور صبح ہونے سے پہلے واپس بھی آگئے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ہاں! میں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق اُس خبر کے بارے میں بھی کرتا ہوں جو اس سے بہت زیادہ بعید از قیاس ہے، میں تو صبح و شام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آسمانی خبروں کی بھی تصدیق کرتا ہوں۔‘‘ پس اس تصدیق کی وجہ سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ’’الصدیق‘‘ کے نام سے موسوم ہوئے۔‘‘

1۔ حاکم نے ’المستدرک ( 3، 65 رقم : 4407)‘ ميں کہا ہے کہ يہ حديث صحيح الاسناد ہے۔

2. عبدالرزاق، المصنف، 5 : 328
3. قرطبي، الجامع لاحکام القرآن، 1 : 283
4. طبري، جامع البيان، 15 : 6
5. ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، 3 : 12
6. مقدسي، فضائل بيت المقدس، 1 : 83، رقم : 53

32. عن أبي هريرة قال قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم لجبريل ليلة أسري به إنّ قومي لا يصدّقونني فقال له جبريل يصدّقک أبوبکر وهو الصّدّيق.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جبرئیل امین سے ارشاد فرمایا : اے جبرئیل! میری قوم (واقعہ معراج میں) میری تصدیق نہیں کرے گی۔ جبرئیل علیہ السلام نے کہا ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کی تصدیق کریں گے اور وہ صدیق ہیں۔‘‘

1. طبراني، المعجم الاوسط، 7 : 166، رقم : 7173
2. هيثمي، مجمع الزوائد، 9 : 41
3. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 1 : 140، رقم : 116
4. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 1 : 367، رقم : 540
5. ابن سعد، الطبقات الکبريٰ، 1 : 215
6. ابن سعد، الطبقات الکبريٰ، 3 : 170
7. محب طبري، الرياض النضرة، 1 : 405

33. عن أمّ هاني قالت دخل عليّ رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم بغلس و أنا علٰي فراشي فقال شعرت إنّي نمت اللّيلة في المسجد الحرام. . . و أبوبکر رضي الله عنه عنده يقول صدقت صدقت قالت نبعة، فسمعت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يقول يومئذ : يا أبا بکر! إنّ اﷲل قد سمّاک الصّدّيق.

حضرت اُم ہانی رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح سویرے میرے گھر تشریف لائے جب کہ ابھی اندھیرا چھایا ہوا تھا اور میں اپنے بستر پر تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ آج رات میں مسجد حرام میں سو رہا تھا (پھر آگے پورا واقعہ معراج بیان فرمایا) اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہنے لگے آپ نے سچ فرمایا! آپ نے سچ فرمایا! حضرت نبعہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس دن ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’اے ابوبکر! بے شک اﷲ رب العزت نے تیرا نام ’’صدیق‘‘ رکھا ہے۔‘‘

1. ابو يعلي، المعجم، 10 : 45، رقم : 9
2. ديلمي، الفردوس بمأثور الخطاب، 5 : 307، رقم : 8271
3. عسقلاني، الاصابه، 8 : 137، رقم : 11800
4. مقدسي، فضائل بيت المقدس : 82، رقم : 52

فصل : 6

قال الصحابة رضي الله عنهم إنه أفضل الناس من الأمّة

(قول صحابہ رضی اللہ عنھم : آپ رضی اللہ عنہ امت میں سب سے افضل ہیں)

34. قال سالم بن عبداﷲ أنّ ابن عمر قال : کنّا نقول و رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم حيّ، ’’أفضل أمّة النّبيّ صلي الله عليه وآله وسلم بعده أبوبکر، ثمّ عمر، ثمّ عثمان رضي اﷲ عنهم أجمعين.

’’حضرت سالم بن عبد اﷲ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی (ظاہری) حیات طیبہ میں کہا کرتے تھے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت میں سب سے افضل ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور پھر (ان کے بعد) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہیں۔‘‘

1. ابو داؤد، السنن، 4 : 211، کتاب السنة، رقم : 4628
2. ابن ابي عاصم، السنه، 2 : 540، رقم : 1140
3. مبارکپوري، تحفة الأحوذي، 10 : 138

35. عن ابن عمر رضي اﷲ عنهما قال : ’’کنّا نخيّر بين النّاس في زمن النّبيّ صلي الله عليه وآله وسلم، فنخيّر أبابکر، ثمّ عمر ابن الخطّاب، ثمّ عثمان بن عفّان رضي اﷲ عنهم‘‘.

حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک زمانہ میں جب ہم صحابہ کرام کے درمیان کسی کو ترجیح دیتے تو سب پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ترجیح دیا کرتے، پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو، پھر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو۔

1. بخاري، الصحيح، 3 : 1337، کتاب المناقب، رقم : 3455! 3494
2. ابن جوزي، صفة الصفوه، 1 : 306
3. مبارکپوري، تحفة الاحوذي، 10 : 138
4. محب طبري، الرياض النضرة، 1 : 297

36. عن محمّد ابن الحنفيّة قال : قلت لأ بي : أيّ النّاس خير بعد رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ؟ قال : أبوبکر، قلت : ثمّ من؟ قال : ثمّ عمر و خشيت أن يّقول عثمان، قلت : ثمّ أنت؟ قال : ما أنا إلّا رجل مّن المسلمين.

’’حضرت محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا : میں نے اپنے والد (حضرت علی رضی اللہ عنہ) سے دریافت کیا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب سے بہتر کون ہے؟ انہوں نے فرمایا : ابوبکر رضی اللہ عنہ پھر میں نے کہا : ان کے بعد؟ انہوں نے فرمایا : عمر رضی اللہ عنہ۔ تو میں نے اس خوف سے کہ اب وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا نام لیں گے خود ہی کہہ دیا کہ پھر آپ ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’نہیں میں تو مسلمانوں میں سے ایک عام مسلمان ہوں۔‘‘

1. بخاري، الصحيح، 3 : 1342، کتاب المناقب، رقم : 3468
2. ابو داؤد السنن 4 : 206کتاب السنة، رقم : 4629
3. طبراني، المعجم الاوسط، 1 : 247، رقم : 810
4. ابن أبي عاصم، السنة، 2 : 480، رقم : 993
5. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 1 : 321، رقم : 445
6. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 1 : 371، رقم : 553
7. ابن الجوزي، صفة الصفوة، 1 : 250
8. عبدالله بن احمد، السنه، 2 : 569، رقم : 1332
9. عبدالله بن احمد، السنه، 2 : 578، رقم : 1363
10. محب طبري، الرياض النضره، 1 : 321
11. نووي، تهذيب الاسماء، 2 : 477
12. بيهقي، الاعتقاد، 1 : 367

نوٹ : یہ بیان آپ رضی اللہ عنہ کے کمال درجہ عجز و انکسار اور دوسروں کے لیے محبت و احترام کا آئینہ دار ہے۔ یہی کردار حقیقی عظمت کی دلیل ہے۔

37. عن عبداﷲ بن سلمة قال : سمعت عليّا يقول : ’’خير النّاس بعد رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم أبوبکر وخير النّاس بعد أبي بکر، عمر‘‘.

’’عبد اﷲ بن سلمۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا : کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا، آپ فرما رہے تھے رسُول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد لوگوں میں سب سے افضل ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعدسب سے افضل عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔‘‘

1. ابن ماجه، السنن، 1 : 39، مقدمه، رقم : 106

2. احمد بن حنبل نے ’ (فضائل الصحابہ، 1 : 365، رقم : 536)‘ ميں ابو حجيفہ سے روايت کيا ہے۔

3. ابونعيم، حلية الاولياء، 7 : 199، 200

4. ابو نعيم نے ’ (حليۃ الاولياء، 8 : 359)‘ ميں ابو حجيفہ سے روايت کيا ہے۔

5. خطيب بغدادي، تاريخ بغداد، 5 : 213، رقم : 3686
6. خطيب بغدادي، تاريخ بغداد، 8 : 376، رقم؛ 4476

7. عبداللہ بن محمد نے، (طبقات المحدثين باصبہان، 2 : 287، رقم : 176)‘ ميں وہب السوائي سے روايت کيا ہے۔

8. مزي، تهذيب الکمال، 21 : 325
9. عسقلاني، الاستيعاب، 3 : 1149

38. عن نّافع عن ابن عمر قال : ’’کنّا نقول في زمن النّبيّ صلي الله عليه وآله وسلم لا نعدل بأبي بکر أحدا ثمّ عمر ثمّ عثمان ثمّ نترک أصحاب النّبيّ صلي الله عليه وآله وسلم لا نفاضل بينهم.‘‘

حضرت نافع، حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنھما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا : ’’ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ اقدس میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر کسی کو شمار نہیں کرتے تھے۔ پھر اُن کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو، پھر ان کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اُن کے بعد ہم باقی اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک دوسرے پر فضیلت نہیں دیتے تھے۔‘‘

1. بخاري، الصحيح، 3 : 1352، رقم : 3494
2. ابو داؤد، السنن، 4 : 206، کتاب السنة، رقم : 4627
3. ابن ابي عاصم، السنه، 2 : 567، رقم : 1192
4. عسقلاني، فتح الباري، 7 : 16، رقم : 3455
5 مبارکپوري، تحفةاالأحوذي، 10 : 138
6. نووي، تهذيب الأسماء، 1 : 299
7. سيوطي، تدريب الراوي، 2 : 223

39. عن بن عمر قال : کنّا نعدّ ورسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم حيّ وأصحابه متوافرون ’’أبوبکر وعمر و عثمان‘‘ ثمّ نسکت.

’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری حیات طیبہ میں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کافی تعداد میں تھے ہم اس طرح شمار کیا کرتے تھے۔ ’’حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ‘‘ اور پھر خاموش ہو جاتے تھے۔‘‘

1. احمدبن حنبل، المسند، 2 : 14، رقم : 4626
2. ابن أبي شيبه، المصنف، 6 : 349، رقم : 31936
3. ابويعلي، المسند، 10 : 161، رقم : 5784
4. طبراني، المعجم الکبير، 12 : 345، رقم : 13301
5. ابن ابي عاصم، السنه، 2 : 568، رقم : 1195
6. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 1 : 90، رقم : 58
7. عبدالله بن احمد، السنه، 2 : 574، رقم، 1350
8. خلال، السنه، 2 : 371، رقم : 507، 384، رقم : 541، 396، رقم : 572
9. لالکائي، اعتقاد اهل السنه، 1 : 159

40. عن جابر بن عبداﷲ رضي الله عنه قال : قال عمر بن الخطّاب ذات يوم لأبي بکر الصديق رضي الله عنه ’’ يا خير النّاس بعد رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم‘‘

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا : ’’اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب سے بہتر‘‘

1. ترمذي، الجامع الصحيح، 5 : 618، رقم : 3684
2. حاکم، المستدرک، 3 : 96، رقم : 4508
3. تهذيب الکمال، 18 : 29، رقم : 3402

41. عن أسد بن زرارة قال رأيت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم خطب النّاس فالتفت التفافتة فلم ير أبا بکر فقال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم أبوبکر. أبوبکر! إنّ روح القدس جبريل عليه السّلام أخبرني اٰنفا إنّ خير أمّتک بعدک أبوبکر الصّدّيق.

’’حضرت اسد بن زرارۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لوگوں کو خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے توجہ فرمائی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نہ دیکھا (پایا)۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوبکر ابوبکر پکارا کہ روح القدس جبرئیل علیہ السلام نے مجھے خبر دی ہے ’’کہ آپ کی امت میں سب سے بہتر آپ کے بعد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔‘‘

1. طبراني، المعجم الاوسط، 6 : 292، رقم : 6448
2. هيثمي، مجمع الزوائد، 9 : 44

42. عن أبي الدّرداء قال : راٰني النّبيّ صلي الله عليه وآله وسلم و أنا أمشي أمام أبي بکر فقال : لم تمشي أمام من هو خير مّنک؟ إنّ أبابکر خير من طلعت عليه الشّمس أو غربت.

’’حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا کہ میںحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آگے آگے چل رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ارشاد فرمایا : تم اُس ہستی کے آگے کیوں چل رہے ہو جو تم سے بہت بہتر ہے؟. بے شک ابوبکر رضی اللہ عنہ ہر اُس شخص سے بہتر ہیں جس پر سورج طلوع یا غروب ہوتا ہے۔‘‘

1. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 1 : 154، رقم : 137
2. ابن أبي عاصم، السنه، 2 : 576، رقم : 1224
3. هيثمي، مجمع الزوائد، 9 : 44
4. خيثمه، من حديث خيثمه، 1 : 133
5. ديلمي، الفردوس بمأثور الخطاب، 5 : 351
6. محب طبري، الرياض النضره، 2 : 105

43. عن أبي جحيفة قال قال عليّ رضي الله عنه خير هذه الامّة بعدنبيّها أبوبکر و عمر.

’’ابو جحيفہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اس امت میں سے بہتر ابو بکر اور عمر رضی اﷲ عنھما ہیں۔

1. ابن ابي شيبه، المصنف، 6 : 351، رقم : 31950
2. طبراني، المعجم الاوسط، 1 : 298، رقم : 992
3. طبراني، المعجم الاوسط، 7 : 85، رقم : 6926
4. احمد بن حنبل، المسند، 1 : 110، رقم : 880
5. ابن الجعد، المسند، 1 : 311، رقم : 2109
6. ابن ابي عاصم، السنه، 2 : 570، رقم : 1201

7. بزار نے ’ (المسند، 2 : 130، رقم : 488)، ميں عمرو بن حريث سے روايت کيا ہے۔

وضاحت :

یہاں سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور دوسرے مقام پر سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان پڑھ کر ان میں باہمی تضاد یا تناقض تصور نہیں کرنا چاہیے۔ دونوں کی فضیلتوں کی حقیقت یہ ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور جملہ اہلِ بیت اطہار کی فضیلت ان کے ذاتی مناقب، روحانی کمالات، نسبتِ قرابت اور شانِ ولایت میں ہے۔ جتنی قرآنی آیات اور احادیث اہلِ بیت اطہار کی شان میں وارد ہوئی ہیں کسی اور کی شان میں شخصی طور پر نہیں ہوئیں. جبکہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی فضیلت، فرائضِ خلافت، اقامتِ دین، اسلام اور امت کی ذمہ داریوں سے متعلق ہے۔ ائمہ نے افضلیت کی جو ترتیب بیان کی ہے وہ خلافت ظاہری کی ترتیب پر قائم ہے۔ ولایت باطنی جو ’’من کنت مولاہ فعلی مولاہ‘‘ (٭) کے ذریعے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو عطا ہوئی اس میں وہی یکتا ہیں۔ اسی وجہ سے ولایت کبریٰ اور غوثیت عظمیٰ کے حامل افراد بھی آپ رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ دونوں جدا جدا نوعیت کی فضیلتیں ہیں۔

 (٭) 1. ترمذي، الجامع الصحيح، 6 : 79، ابواب المناقب، رقم : 3713
2. احمد بن حنبل، المسند، 5 : 347
3. حاکم، المستدرک، 3 : 533، رقم : 6272
4. ابن ابي شيبه، المصنف، 12 : 59، 12121

اس میں کوئی شک نہیں کہ فضائلِ ولایت، روحانی کمالات اور نسبتِ قرابت میں اہلِ بیت اطہار کے برابر کوئی نہیں ہوسکتا. کیونکہ ان میں کئی ایسے خصائص ہیں جو صرف ان ہی کو حاصل ہیں کسی اور کو نہیں، ان میں موازنہ اور مقابلہ بھی جائز نہیں۔ کسی کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شانہ بشانہ چلا رہے ہیں اور کسی کو چلتے ہوئے شانوں پر بٹھا رہے ہیں۔ کسی کو مجلس میں اپنے قریب ترین بٹھا رہے ہیں اور کسی کو گود میں کھیلا رہے ہیں۔ کچھ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دست بوسی اور قدم بوسی کی سعادت سے فیض یاب ہو رہے ہیں اور کچھ وہ ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود ان کو بوسۂ محبت سے نواز رہے ہیں۔ کچھ وہ ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہم کلام ہوتے ہوئے اپنے ماں باپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان کر رہے ہیں اور کچھ وہ بھی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے ہمکلام ہوتے ہوئے اپنے ماں باپ ان پر قربان کر رہے ہیں جیسا کہ فاطمۃ الزہراء سلام اﷲ علیہا اور حسنین کریمین رضی اﷲ عنہما کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

فداک أبي و اُمي.

’’فاطمہ! میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوں‘‘

1. حاکم، المستدرک، 3 : 170، رقم : 4740
2. ابن حبان، الصحيح، 2 : 470، 471، رقم : 696

بأبي هما و أمي.

’’میرے ماں باپ حسنین پر قربان ہوں۔‘‘

ثابت ہوا کہ یہ دو ایسی جدا جدا فضیلتیں ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وفادار اور ادب شعار اُمتی صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور اہلِ بیت عظام علیھم الصلوۃ والسلام میں کبھی بھی مقابلہ اور موازنہ کا تصور نہیں کرسکتے۔

1. ابن حبان، الصحيح، 5 : 426، رقم : 2970
2. ابن ابي شيبه، المصنف، 6 : 378، رقم : 3214
3. طبراني، المعجم الکبير، 3 : 47، رقم : 2644
4. هيثمي، موارد الظمآن، 1 : 552، رقم : 2233

فصل : 7

لو کان للنبي صلي الله عليه وآله وسلم خليلا لکان ابو بکر رضي الله عنه

 (اگر کوئی خلیل مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ ہوتے)

44. عن ابن عبّاس رضي اﷲ عنهما عن النّبيّ صلي الله عليه وآله وسلم قال : ’’لوکنت متّخذا من أمّتي خليلا، لا تّخذت أبابکر، ولٰکن أخي وصاحبي‘‘.

’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’اگرمیں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا لیکن وہ میرے بھائی اور میرے ساتھی ہیں۔‘‘

1. بخاري، الصحيح، 3 : 1338، کتاب المناقب، رقم : 3456
2. مسلم، الصحيح، 4 : 1855، رقم : 2383
3. احمد بن حنبل، المسند، 1 : 437، رقم : 4161
4. بزار، المسند، 5 : 4، رقم : 2072

45. عن عبداﷲ بن أبي مليکة قال : کتب اهل الکوفة إلي ابن الزّبير في الجدّ فقال أمّا الّذي قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : ’’لو کنت متّخذا من هذه الأمّة خليلا لاتّخذ ته‘‘أنزله أبا يعني أبابکر.

حضرت عبد اﷲ بن ابو ملیکہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، آپ نے فرمایا : اہل کوفہ نے حضرت عبد اﷲ بن الزبیر رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ دادا کی میراث کا حکم بتائیے۔ انہوں نے استدلالا جواب دیا کہ جس ہستی کے بارے میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے ’’ اگر میں اس امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو اسے (یعنی ابو بکر رضی اللہ عنہ کو) اپنا خلیل بناتا‘‘ اُس ہستی (ابو بکر رضی اللہ عنہ) نے دادا کو باپ کے درجے میں رکھا ہے۔‘‘

1. بخاري، الصحيح، 3 : 1338، کتاب المناقب، رقم : 3458

2۔ بخاری نے ’الصحيح (6 : 2478، رقم : 6357) ‘ میں حضرت عبداﷲ بن عباس سے روایت کیا ہے۔
3۔ احمد بن حنبل نے ’المسند (1 : 359، رقم : 3385) ‘ میں حضرت عبداﷲ بن عباس سے روایت کیا ہے۔

4. احمد بن حنبل، المسند 4 : 4

5۔ ابن ابی شيبہ نے ’المصنف (6 : 348، رقم : 31924) ‘ میں حضرت عبداﷲ ابن عباس سے روایت کیا ہے۔

6. ابو يعلي، المسند، 12 : 178، رقم : 6805
7. زرقاني، شرح الزرقاني علي المؤطا، 3 : 143

46. عن أبي الاحوص قال : سمعت عبداﷲ بن مسعود يحدّث عن النّبيّ صلي الله عليه وآله وسلم ؛ أنّه قال : ’’لوکنت متّخذا خليلا لاتّخذت أبابکرخليلا ولٰکنّه أخي وصاحبي وقد اتّخذ اﷲ، عزّوجلّ، صاحبکم خليلا‘‘.

’’حضرت ابو احوص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : میں نے عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد بیان کرتے ہوئے سنا : ’’اگر میں کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا لیکن وہ میرے بھائی اور میرے صحابی ہیں اور تمہارے صاحب (یعنی مجھ) کو اﷲ نے خلیل بنایا ہے۔‘‘

1. مسلم، الصحيح، 4 : 1855، کتاب فضائل الصحابة، رقم : 2383
2. ابن حبان، الصحيح، 15 : 272، رقم : 6856
3. احمد بن حنبل، المسند، 1 : 462، رقم : 4413
4. ابو يعلي، المسند، 9 : 161، رقم : 5249
5. طبراني، المعجم الکبير، 10 : 105، رقم : 10106
6. شاشي، المسند، 2 : 165، رقم : 720، 167، رقم : 724

47. عن أبي سعيد الخدريّ؛خطب النبي صلي الله عليه وآله وسلم فقال : لوکنت متّخذا خليلا من امّتي لاتّخذت أبا بکر ولٰکن أخوّة الإسلام و مودّته.

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک روز رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا۔ (اب خلت تو نہیں ہے) لیکن اسلام کی اخوت (برادری) اور مودت ہے۔‘‘

1. بخاري، الصحيح، 1 : 177، کتاب الصلاة، رقم : 454
2. بخاري، الصحيح، 3 : 1337، رقم : 3454
3. بخاري، الصحيح، 3 : 1417، کتاب فضال الصحابه، رقم : 3691
4. ترمذي، السنن، 5 : 608، کتاب المناقب، قم : 3660
5. نسائي، السنن الکبريٰ، 5 : 35، رقم : 8103
6. نسائي، فضائل الصحابه، 1 : 3، رقم : 2
7. ابن حبان، الصحيح، 14 : 559، رقم : 6594
8. ابن حبان، الصحيح، 15 : 277، رقم : 6861
9. ابن أبي شيبه، المصنف، 6 : 348، رقم : 31926
10. ابن أبي عاصم، السنه، 2 : 577، رقم : 1227
11. ابن سعد، الطبقات الکبري، 2 : 227
12. ابن عبد البر، التمهيد، 20 : 112
13. ابن عبد البر، الاستيعاب، 3 : 967

48. عن عبد اﷲ قال، قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : ’’ألا إنّي أبرأ إلٰي کلّ خليل من خلّته ولو کنت متّخذا خليلا لاتّخذت أبابکر خليلا، إنّ صاحبکم خليل اﷲ.

حضرت عبد اﷲ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’میں ہر خلیل کی خُلت (دوستی) سے بے پروا اور مستغنی ہوں۔ اگر میں کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا، کیونکہ تمہارا یہ صاحب (یعنی میں) اﷲ کا خلیل ہوں۔‘‘

1. ابن ماجه، السنن1 : 36، کتاب المقدمه، رقم : 93
2. ترمذي، الجامع الصحيح، 5 : 606، رقم : 3655
3. نسائي، السنن الکبريٰ، 5 : 36، رقم : 8105
4. احمد بن حنبل، المسند، 1 : 377، رقم : 3580
5. احمد بن حنبل، المسند، 1 : 389، رقم : 3689
6. احمد بن حنبل، المسند، 1 : 408، رقم : 3880
7. احمد بن حنبل، المسند، 1 : 433، رقم : 4121
8. ابن حبان، الصحيح، 15 : 270، رقم : 6855
9. ابن أبی شيبه، المصنف، 6 : 316، رقم : 31720
10. ابن شيبه، المصنف، 6 : 348، رقم : 31923
11. ابو يعلي، المسند 9 : 111، رقم : 5180
12. حميدي، المسند، 1 : 62، رقم : 113
13. ابن ابي عاصم، السنه، 2 : 576، رقم : 1226
14. ذهبي، سير أعلام النبلاء، 10 : 458
15. ابن سعد، الطبقات الکبريٰ، 3 : 176

49. عن ابن عبّاس قال قال رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم : ’’لو کنت متّخذا مّن النّاس خليلا لاتّخذت أبا بکر خليلا ولٰکن خلّة الإسلام أفضل‘‘

حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنھما سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر میں لوگوں میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا لیکن اسلام کی خلت سب سے بہتر ہے۔‘‘

1. بخاري، الصحيح، 1 : 178، رقم : 455
2. بخاري، الصحيح، 6 : 2478، رقم : 6357
3. احمدبن حنبل، المسند، 1 : 270، رقم : 2432
4. ابن حبان، 15 : 275، رقم : 6860
5. نسائي، السنن الکبريٰ، 5 : 35، رقم : 8102
6. نسائي، فضائل الصحابه، 1 : 3، رقم : 1
7. احمد بن حنبل، فصائل الصحابه، 1 : 152، رقم : 134
8. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 1 : 97، رقم : 67
9. دارمي، السنن، 2 : 451، رقم : 2910
10. ابو يعلي، المسند، 4 : 457، رقم : 2584
11. طبراني، المعجم الکبير، 11 : 338، رقم : 11938
12. ابن سعد، الطبقات الکبريٰ، 2 : 228
13. محب طبري، الرياض النضره، 2 : 172

50. عن سعيد ابن جبيرقال کنت جالسا عند عبداﷲ بن عتبة بن مسعود إذ جاء ه کتاب بن الزّبير’’إنّ رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال : لو کنت متّخذا مّن هذه الأمّة خليلا دون ربّيل لا تّخذت ابن أبي قحافة ولٰکنّه أخي في الدّين وصاحبي في الغار.‘‘

’’حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عتبہ بن مسعود کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ انہیں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا گرامی نامہ پہنچا جس میں درج تھا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’اگر میں اﷲ رب العزت کے سوا اس امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابو قحافہ کے بیٹے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا لیکن وہ دین میں میرے بھائی ہیں اور غار میں میرے ساتھی ہیں۔‘‘

1. احمدبن حنبل، المسند 4 : 4
2. ابو نعيم، حلية الاولياء، 4 : 307

فصل : 8

إن النبي صلي الله عليه وآله وسلم إتخذه رضي الله عنه صاحبا

 (صدیق اکبر رضی اللہ عنہ. . . صاحب مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )

51. عن ابن عبّاس رضي اﷲ عنهما عن النّبيّ صلي الله عليه وآله وسلم قال : ’’لوکنت متّخذا من أمّتي خليلا، لا تّخذت أبابکر، ولٰکن أخي وصاحبي‘‘.

’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’اگرمیں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا لیکن وہ میرے بھائی اور میرے صاحب ہیں۔‘‘

1. بخاري، الصحيح، 3 : 1338، کتاب المناقب، رقم : 3456
2. مسلم، الصحيح، 4 : 1855، رقم : 2383
3. احمد بن حنبل، المسند، 1 : 437، رقم : 4161
4. بزار، المسند، 5 : 4، رقم : 2072

52. عن أبي الاحوص قال : سمعت عبداﷲ بن مسعود يحدّث عن النّبيّ صلي الله عليه وآله وسلم ؛أنّه قال : ’’لوکنت متّخذا خليلا لاتّخذت أبابکرخليلا ولٰکنّه أخي وصاحبي‘‘.

’’حضرت ابوالاحوص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا : میں نے عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد بیان کرتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’اگر میں کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا لیکن وہ میرے بھائی اور میرے صاحب ہیں۔‘‘

1. مسلم، الصحيح، 4 : 1855، کتاب فضائل الصحابة، رقم : 2383
2. ابن حبان، الصحيح، 15 : 272، رقم : 6856
3. احمد بن حنبل، المسند، 1 : 462، رقم : 4413
4. ابو يعلي، المسند، 9 : 161، رقم : 5249
5. طبراني، المعجم الکبير، 10 : 105، رقم : 10106
6. شاشي، المسند، 2 : 165، رقم : 720، 167، رقم : 724

53. عن سعيد ابن جبيرکنت جالسا عند عبداﷲ بن عتبة بن مسعود إذ جائه کتاب بن الزّبير’’إنّ رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال : لو کنت متّخذا مّن هذه الأمّة خليلا دون ربّيل لا تّخذت ابن أبي قحافة ولٰکنّه أخي في الدّين وصاحبي في الغار‘‘

’’حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں عبد اﷲ بن عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ انہیں حضرت عبد اﷲ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا گرامی نامہ پہنچا جس میں درج تھا کہ رسولُ اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’اگر میں اﷲ رب العزت کے سوا اِس امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابو قحافہ کے بیٹے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا لیکن وہ دین میں میرے بھائی ہیں اور غار میں میرے ساتھی ہیں۔‘‘

فصل : 9

إن النبي صلي الله عليه وآله وسلم اتخذه رضي الله عنه رفيقا

 (صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ. . . رفیقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )

54. عن الزبير بن العوام قال قال النبي صلي الله عليه وآله وسلم اللّهم إنک جعلت أبا بکر رفيقي في الغار فاجعله رفيقي في الجنّة.

’’حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ تو نے ابو بکر کو غار میں میرا رفیق بنایا تھا پس میں اسے جنت میں اپنا رفیق بناتا ہوں۔‘‘

1. عسقلاني، لسان الميزان، 5 : 418
2. ذهبي، ميزان الاعتدال، 6 : 361
3. محب طبري، الرياض النضره، 2 : 73

55. عن ابن عمر أن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال لکل نبي رفيق و رفيقي في الجنة أبوبکر.

’’حضرت ابن عمر رضی اﷲ عنھما سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہر نبی کا ایک رفیق ہے پس جنت میں میرا رفیق ابو بکر ہے۔‘‘

محب طبري، الرياض النضره، 2 : 73

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved