Seeking Blessings and Intermediation of the Holy Prophet (PBUH)

باب دہم

بَابٌ فِي التَّبَرُّکِ بِالْأَشْيَاءِ الَّتِي لَهَا صِلَةٌ بِذَاتِهِ صلی الله عليه وآله وسلم

{حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس سے متعلقہ چیزوں سے حصولِ برکت}

188 / 1. عَنْ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنها أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم کَانَ يُؤْتَی بِالصِّبْيَانِ فَيُبَرِّکُ عَلَيْهِمْ وَيُحَنِّکُهُمْ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ.

1 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الدعوات، باب : الدعاء للصبيان بالبرکة ومسح رؤسهم، 5 / 2338، الرقم : 5994، ومسلم في الصحيح،، کتاب : الآداب، باب : استحباب تحنيک المولود عند ولادته وحمله إلی صالح يحنکه، 3 / 1691، الرقم : 2147، وفي کتاب : الطهارة، باب : حکم بول الطفل الرضيع وکيفية غسله، 1 / 237، الرقم : 286، وأبو داود في السنن، کتاب : الأدب، باب : في الصبي يولد فيؤذن فيأذنه، 4 / 328، الرقم : 5106، وابن أبي شيبة في المصنف، 5 / 37، الرقم : 23484، وأحمد بن حنبل في المسند، 6 / 212، الرقم : 25812، والطحاوي في شرح معاني الآثار، 1 / 93، وابن حبان في الصحيح، 4 / 208، الرقم : 1372، وأبو يعلی في المسند، 8 / 88، الرقم : 4623، وابن أبي الدنيا في العيال، 1 / 345، الرقم : 183، وقال : حديث صحيح.

’’حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس (نو مولود) بچے لائے جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں برکت کی دعا دیتے اور (اپنے لعابِ دہن مبارک سے) گھٹی دیتے۔‘‘

یہ حدیث متفق عليہ ہے، مذکورہ الفاظ مسلم کے ہیں۔

189 / 2. عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ رضي اﷲ عنهما أَنَّهَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اﷲِ بْنِ الزُّبَيْرِ رضي اﷲ عنهما بِمَکَّةَ قَالَتْ : فَخَرَجْتُ وَأَنَا مُتِمٌّ، فَأَتَيْتُ الْمَدِيْنَةَ، فَنَزَلْتُ قُبَاءً، فَوَلَدْتُُ بِقُبَاءٍ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم ، فَوَضَعْتُهُ فِي حَجْرِهِ، ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ، فَمَضَغَهَا، ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيْهِ، فَکَانَ أَوَّلَ شَيئٍ دَخَلَ جَوْفَهُ رِيْقُ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم ، ثُمَّ حَنَّکَهُ بِالتَّمْرَةِ، ثُمَّ دَعَا لَهُ، فَبَرَّکَ عَلَيْه،ِ وَکَانَ أَوَّلَ مَوْلُوْدٍ وُلِدَ فِي الإِْسْـلَامِ، فَفَرِحُوْا بِهِ فَرَحًا شَدِيْدًا، لِأَنَّهُمْ قِيْلَ لَهُمْ : إِنَّ الْيَهُوْدَ قَدْ سَحَرَتْکُمْ، فَـلَا يُوْلَدُ لَکُمْ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

2 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : العقيقة، باب : تسمية المولود غداة يولد عنه وتحنيکه، 5 / 2081، الرقم : 5152، وفي کتاب : المناقب، باب : هجرة النبي صلی الله عليه وآله وسلم ، 3 / 1422، الرقم : 3697، ومسلم في الصحيح، کتاب : الآداب، باب : استحباب تحنيک المولود عند ولادته وحمله إلی صالح يحنکه، 3 / 1691، الرقم : 2146، والبخاري في التاريخ الکبير، 5 / 6، الرقم : 9، والبيهقي في السنن الکبری، 6 / 204، الرقم : 11927، وفي المدخل إلی السنن الکبری، 1 / 155، الرقم : 130، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 28 / 152، والعسقلاني في الإصابة، 4 / 91.

’’حضرت اَسماء بنت ابو بکر رضی اﷲ عنہما فرماتی ہیں کہ مکّہ مکرّمہ میں قیام کے دوران حضرت عبد اﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہما ان کے شکم مبارک میں تھے۔ وہ فرماتی ہیں کہ جب میں نے ہجرت کی تو پورے دنوں سے تھی۔ پس میں مدینہ منورہ پہنچ گئی اور قبا میں ٹھہری تو ان کی ولادت قبا میں ہو گئی۔ تو میں انہیں لے کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو گئی اور انہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں دے دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور منگوائی اور اسے چبا کر حضرت عبد اﷲ کے منہ میں رکھ دیا۔ پس پہلی چیز جو ان کے پیٹ میں گئی وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لعابِ دہن مبارک تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور کے ساتھ انہیں گھٹی دی اور ان کے لئے دعا کر کے مبارک باد دی اسلام میں (ہجرت کے بعد) پیدا ہونے والا یہ سب سے پہلا بچہ تھا۔ پس اس کی پیدائش پر مسلمانوں نے بڑی مسرت کا اظہار کیا کیونکہ یہ افواہ عام پھیلی ہوئی تھی کہ یہودیوں نے (مسلمانوں پر) جادو کر رکھا ہے جس کے باعث مسلمانوں کے ہاں کوئی بچہ پیدا نہیں ہو گا۔‘‘

یہ حدیث متفق عليہ ہے۔

190 / 3. عَنْ أَبِي مُوْسَی رضی الله عنه قَالَ وُلِدَ لِي غُـلَامٌ، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم فَسَمَّاهُ إِبْرَاهِيمَ، فَحَنَّکَهُ بِتَمْرَةٍ وَدَعَا لَهُ بِالْبَرَکَةِ وَدَفَعَهُ إِلَيَّ وَکَانَ أَکْبَرَ وَلَدِ أَبِي مُوْسَی. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

3 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : العقيقة، باب : تسمية المولود غداة يولد لمن لم يعق عنه وتحنيکه، 5 / 2081، الرقم : 5150، وفي کتاب : الأدب، باب : من تسمی بأسماء الأنبياء، 5 / 2290، الرقم : 5845، ومسلم في الصحيح، کتاب : الآداب، باب، استحباب تحنيک المولود عند ولادته وحمله إلی صالح يحنکه، 3 / 1690، الرقم : 2145، وابن أبي شيبة في المصنف، 5 / 37، الرقم : 23482، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 399، الرقم : 19588، وأبو يعلی في المسند، 13 / 302، الرقم : 7315، والبخاري في الأدب المفرد، 1 / 292، الرقم : 840.

’’حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے گھر لڑکا پیدا ہوا تو میں اسے لے کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور کھجور کے ساتھ اسے گھٹی دی اور اس کے لئے برکت کی دعا فرمائی اور مجھے واپس دے دیا یہ حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ کا سب سے بڑا لڑکا تھا۔‘‘

یہ حدیث متفق عليہ ہے۔

191 / 4. عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ رضي اﷲ عنهما قَالَ أَتَی رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم عَبْدَ اﷲِ بْنَ أبَيٍّ بَعْدَ مَا أدْخِلَ حُفْرَتَهُ، فَأَمَرَ بِهِ، فَأخْرِجَ، فَوَضَعَهُ عَلَی رُکْبَتَيْهِ، وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيْقِهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيْصَهُ، فَاﷲُ أَعْلَمُ، وَکَانَ کَسَا عَبَّاسًا رضی الله عنه قَمِيْصًا قَالَ سُفْيَانُ : وَقَالَ أَبُوْ هَارُوْنَ : وَکَانَ عَلَی رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَمِيْصَانِ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبْدِ اﷲِ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ، أَلْبِسْ أَبِي قَمِيْصَکَ الَّذِي يَلِي جِلْدَکَ قَالَ سُفْيَانُ : فَيُرَوْنَ أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم أَلْبَسَ عَبْدَ اﷲِ قَمِيْصَهُ مُکَافَأَةً لِمَا صَنَعَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

4 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الجنائز، باب : هل يخرج الميت من القبر واللحد لعلة، 1 / 453، الرقم : 1285، وفي کتاب : اللباس، باب : لبس القميص، 5 / 2184، الرقم : 5459، ومسلم في الصحيح، کتاب : صفات المنافقين وأحکامهم، 4 / 2140، الرقم : 2773، والنسائي في السنن، کتاب : الجنائز، باب : أخراج الميت من اللحد بعد أن يوضع فيه، 4 / 84، الرقم : 2019، وأبو يعلي في المسند، 3 / 458، الرقم : 1958، وابن کثير في تفيسر القرآن العظيم، 2 / 380، والعيني في عمدة القاري، 8 / 164، 21 / 310.

’’حضرت جابر بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عبد اﷲ بن اُبی کی قبر پر تشریف لے گئے جبکہ اسے گڑھے میں داخل کر دیا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا تو اسے باہر نکالا گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اپنے گھٹنوں پر رکھا۔ اس پر اپنا لعاب دہن ڈالا اور اپنی قمیص اسے پہنائی۔ حضرت سفیان سے روایت ہے کہ حضرت امام ہارون نے فرمایا : اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوپر دو قمیصیں تھیں۔ عبد اللہ بن ابی کے بیٹے (حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ جو کہ صحابی تھے) نے عرض کیا : یا رسول اللہ! میرے باپ کو وہ قمیص پہنائیے جو جسم اطہر سے لگی ہوئی ہے۔ حضرت سفیان نے بیان کیا کہ لوگوں کا خیال ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لیے عبد اﷲ بن اُبی کو اپنی قمیص پہنائی کہ اس کے احسان کا بدلہ ہو جائے۔ (جو کہ اس نے غزوہ اُحد کے دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو اپنی قمیض بطور کفن دے کر کیا تھا)۔‘‘ یہ حدیث متفق عليہ ہے۔

192 / 5. عَنْ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنها أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم کَانَ يَقُوْلُ لِلْمَرِيْضِ : بِسْمِ اﷲِ، تُرْبَةُ أَرْضِنَا، وَرِيْقَةُ بَعْضِنَا، يُشْفَی سَقِيْمُنَا، بِإِذْنِ رَبِّنَا.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

5 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الطب، باب : رُقْيَةِ النَّبِي صلی الله عليه وآله وسلم ، 5 / 2168، الرقم : 5414، ومسلم في الصحيح، کتاب : السلام، باب : استحباب الرقية من العين والنملة والحملة والنظرة، 4 / 1724، الرقم : 2194، وأبو داود في السنن، کتاب : الطب، باب : کيف الرقی، 4 / 12، الرقم : 3895، والنسائی في السنن الکبری، 4 / 368، الرقم : 7550، وابن ماجه في السنن، کتاب : الطب، باب : ما عوذ به النبی صلی الله عليه وآله وسلم وما عوذ به، 2 / 1163، الرقم : 3521، وأحمد بن حنبل في المسند، 6 / 93، الرقم : 24661.

’’حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مریض کے لئے فرمایا کرتے تھے : اﷲ رب العزت کے نام سے (شفاء طلب کر رہا ہوں)، ہماری زمین کی مٹی اور ہم میں سے بعض کے لعاب دہن سے ہی اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہمارے مریض کو شفا مل جاتی ہے۔‘‘ یہ حدیث متفق عليہ ہے۔

193 / 6. عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم أَزْهَرَ اللَّوْنِ کَأَنَّ عَرَقَهُ اللُّؤْلُؤُ إِذَا مَشَی تَکَفَّأَ وَلَا مَسِسْتُ دِيْبَاجَةً وَلَا حَرِيْرَةً أَلْيَنَ مِنْ کَفِّ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم وَلَا شَمَمْتُ مِسْکَةً وَلَا عَنْبَرَةً أَطْيَبَ مِنْ رَائِحَةِ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَهَذَا لَفْظُ مُسْلِمٍ.

6-7 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الصوم، باب ما يذکر من صوم النبي وإفطاره صلی الله عليه وآله وسلم ، 2 / 696، الرقم : 1872، وفي کتاب : المناقب، باب : صفة النبي صلی الله عليه وآله وسلم ، 3 / 1306، الرقم : 3368، ومسلم في الصحيح، کتاب : الفضائل، باب : طيب رائحة النبي ولين مسه والتبرک بمسحه، 4 / 1814. 1815، الرقم : 2330، والترمذي في السنن، کتاب : البر والصلة عن رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم ، باب : ما جاء في خلق النبي صلی الله عليه وآله وسلم ، 4 / 368، الرقم : 2015، وقال أبو عيسی : هذا حديث حسن صحيح، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 107، 200، 227.228، 270، الرقم : 12067، 13096، 13398، 13405، 13878، وابن حبان في الصحيح، 14 / 211، الرقم : 6303، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 315، الرقم : 31718، وأبو يعلی في المسند، 6 / 405، 463، الرقم : 3761.3762، 3866.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم اقدس کی جیسی خوشبو تھی ایسی خوشبو مشک میں تھی نہ عنبر میں، نہ ہی کسی اور چیز میں، اور میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم سے زیادہ ملائم دیباج کو پایا نہ حریر کو، (یہ ریشم کی اقسام ہیں)۔‘‘

یہ حدیث متفق عليہ ہے اور مذکورہ الفاظ مسلم کے ہیں۔

194 / 7. وفي رواية عنه للبخاري : قَالَ : وَلَا مَسِسْتُ خَزَّةً وَلَا حَرِيْرَةً أَلْيَنَ مِنْ کَفِّ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم وَلَا شَمَمْتُ مِسْکَةً وَلَا عَبِيْرَةً أَطْيَبَ رَائِحَةً مِنْ رَائِحَةِ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم .

’’اور بخاری کی ایک روایت میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ فرمایا : اور میں نے کسی دیباج یا ریشم کو مَس نہیں کیا جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم ہو اور نہ مشک وغیرہ کی خوشبو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشبو سے بڑھ کر تھی.‘‘

195 / 8. عَنْ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنها قَالَتْ : أَوَّلُ مَوْلُوْدٍ وُلِدَ فِي الإِْسْلَامِ عَبْدُ اﷲِ بْنُ الزُّبَيْرِ رضي اﷲ عنهما أَتَوْا بِهِ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم ، فَأَخَذَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم تَمْرَةً، فَـلَاکَهَا ثُمَّ أَدْخَلَهَا فِي فِيْهِ، فَأَوَّلُ مَا دَخَلَ بَطْنَهُ رِیقُ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

8 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : المناقب، باب : هجرة النبي صلی الله عليه وآله وسلم وأصحابه إلی المدينة، 3 / 1423، الرقم : 3698.

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ سب سے پہلا بچہ جو دارالاسلام میں پیدا ہوا، وہ حضرت عبد اللہ بن زبیرہیں۔ انہیں بارگاہ نبوت میں لایا گیا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کھجور لے کر چبائی اور اسے حضرت عبد اللہ کے منہ میں رکھ دیا۔ پس جو (بابرکت) چیز حضرت عبد اللہ کے پیٹ میں سب سے پہلے گئی وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لعابِ دہن مبارک ہے۔‘‘

اس حدیث کو حضرت امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

196 / 9. عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَمَرْوَانَ رضي اﷲ عنهما قَالَا : إِنَّ عُرْوَةَ جَعَلَ يَرْمُقُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم بِعَيْنَيْهِ قَالَ : فَوَاﷲِ، مَا تَنَخَّمَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم نُخَامَةً إِلَّا وَقَعَتْ فِي کَفِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ فَدَلَکَ بِهَا وَجْهَهُ وَجِلْدَهُ، وَإِذَا أَمَرَهُمُ ابْتَدَرُوْا أَمْرَهُ، وَإِذَا تَوَضَّأَ کَادُوْا يَقْتَتِلُوْنَ عَلَی وَضُوْئِهِ وَإِذَا تَکَلَّمَ خَفَضُوْا أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَهُ وَمَا يُحِدُّوْنَ إِلَيْهِ النَّظَرَ تَعْظِيْمًا لَهُ. فَرَجَعَ عُرْوَةُ إِلَی أَصْحَابِهِ فَقَالَ : أَي قَوْمِ، وَاﷲِ، لَقَدْ وَفَدْتُ عَلَی الْمُلُوْکِ، وَفَدْتُ عَلَی قَيْصَرَ وَکِسْرَی وَالنَّجَاشِيِّ، وَاﷲِ، إِنْ رَأَيْتُ مَلِکًا قَطُّ يُعَظِّمُهُ أَصْحَابُهُ مَا يُعَظِّمُ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صلی الله عليه وآله وسلم مُحَمَّدًا. وَاﷲِ، إِنْ تَنَخَّمَ نُخَامَةً إِلَّا وَقَعَتْ کَفِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ، فَدَلَکَ بِهَا وَجْهَهُ وَجِلْدَهُ، وَ إِذَا أَمَرَهُمُ ابْتَدَرُوْا أَمْرَهُ وَإِذَا تَوَضَّأَ کَادُوْا يَقْتَتِلُوْنَ عَلَی وَضُوْئِهِ، وَإِذَا تَکَلَّمَ خَفَضُوْا أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَهُ وَمَا يُحِدُّوْنَ إِلَيْهِ النَّظَرَ تَعْظِيْمًا لَه …الحديث. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ.

9 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الشروط، باب : الشروط في الجهاد والمصالحة مع أهل الحرب وکتابة، 2 / 974، الرقم : 2581، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 329، وابن حبان في الصحيح، 11 / 216، الرقم : 4872، والطبراني في المعجم الکبير، 20 / 9، الرقم : 13، والبيهقي في السنن الکبری، 9 / 220.

’’حضرت مسور بن مخرمہ اور مروان رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عروہ بن مسعود (جب بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کفار کا وکیل بن کر آیا تو) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم (کے معمولاتِ تعظیم مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) دیکھتا رہا کہ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا لعاب دہن پھینکتے تو کوئی نہ کوئی صحابی اسے اپنے ہاتھ پر لے لیتا جسے وہ اپنے چہرے اور بدن پر مل لیتا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی بات کا حکم دیتے ہیں تو اس حکم کی فوراً تعمیل کی جاتی تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو فرماتے ہیں تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استعمال شدہ پانی کو حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑتے تھے۔ (اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہوئے ہر ایک کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ وہ پانی اسے مل جائے) جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گفتگو فرماتے ہیں تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنی آوازوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے انتہائی پست رکھتے تھے اور انتہائی تعظیم کے باعث آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف نظر جما کر بھی نہیں دیکھتے تھے۔ اس کے بعد عروہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ گیا اور ان سے کہنے لگا : اے قوم! اﷲ ربّ العزت کی قسم! میں (بڑے بڑے شان و شوکت والے) بادشاہوں کے درباروں میں وفد لے کر گیا ہوں، میں قیصر و کسری اور نجاشی جیسے بادشاہوں کے درباروں میں حاضر ہوا ہوں۔ لیکن خدا کی قسم! میں نے کوئی ایسا بادشاہ نہیں دیکھا کہ اس کے درباری اس کی اس درجہ تعظیم کرتے ہوں جیسے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام ان کی تعظیم کرتے ہیں۔ خدا کی قسم! جب وہ تھوکتے ہیں تو ان کا لعاب دہن کسی نہ کسی صحابی کی ہتھیلی پر ہی گرتا ہے، جسے وہ اپنے چہرے اور بدن پر مل لیتا ہے۔ جب وہ کوئی حکم دیتے ہیں تو فوراً ان کے حکم کی تعمیل ہوتی ہے، جب وہ وضو فرماتے ہیں تو یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ لوگ ان کے وضو کا استعمال شدہ پانی حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ لڑنے مرنے پر آمادہ ہو جائیں گے وہ ان کی بارگاہ میں اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں، اور غایت درجہ تعظیم کے باعث وہ ان کی طرف آنکھ بھر کر دیکھ نہیں سکتے۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری اور احمد نے روایت کیا ہے۔

197 / 10. عَنْ مَحْمُوْدِ بْنِ الرَّبِيْعِ رضی الله عنه قَالَ : وَهُوَ الَّذِي مَجَّ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فِي وَجْهِهِ "وَهُوَ غُـلَامٌ" مِنْ بِئْرِهِمْ. وَقَالَ عُرْوَةُ، عَنِ الْمِسْوَرِ وَغَيْرِهِ، يُصَدِّقُ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ : وَإِذَا تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم کَادُوْا يَقْتَتِلُوْنَ عَلَی وَضُوْئِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ.

10 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الوضوء، باب : اسْتِعْمالِ فضلِ وَضُوءِ النَّاسِ، 1 / 81، الرقم : 186، وفي کتاب : العلم، باب : متی يَصِحُّ سمَاعُ الصَّغِيْرِ، 1 / 41، الرقم : 77، وفي کتاب : الدعوات، باب : الدُّعَائِ لِلصّبيَانِ بالبرکةِ ومسح رُؤُوسِهِمْ، 53 / 2338، الرقم : 5993، وابن حبان في الصحيح، 11 / 221، الرقم : 4872، وعبد الرزاق في المصنف، 5 / 336، الرقم : 9720، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 329، والطبراني في المعجم الکبير، 20 / 12، الرقم : 13، والبيهقي في السنن الکبری، 9 / 220، وفي شعب الإيمان، 5 / 333، الرقم : 6829، والعسقلاني في فتح الباري، 11 / 151، الرقم : 5993.

’’حضرت محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے یہ وہی بزرگ ہیں کہ جب یہ بچے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے کنویں کے پانی سے ان کے چہرے پر کلی فرمائی تھی اور عروہ نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی جن میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کی تصدیق کرتا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب وضو فرماتے تو قریب تھا کہ لوگ (برکت کے لیے)اس پانی کے حصول پر آپس میں لڑ مرتے۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری، احمد اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔

198 / 11. عَنْ يَزِيْدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ : رَأَيْتُ أَثَرَ ضَرْبَةٍ فِي سَاقِ سَلَمَةَص فَقُلْتُ : يَا أَبَا مُسْلِمٍ، مَا هَذِهِ الضَّرْبَةُ؟ فَقَالَ : هَذِهِ ضَرْبَةٌ أَصَابَتْنِي يَوْمَ خَيْبَرَ فَقَالَ النَّاسُ : أصِيْبَ سَلَمَةُ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم ، فَنَفَثَ فِيْهِ ثَـلَاثَ نَفَثَاتٍ، فَمَا اشْتَکَيْتُهَا حَتَّی السَّاعَةِ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَأَحْمَدُ.

11 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : المغازي، باب : غزوة خيبر، 4 / 1541، الرقم : 3969، وأبو داود في السنن، کتاب، الطب، باب : کيف الرقي، 4 / 12، الرقم : 3894، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 48، الرقم : 16562، وابن حبان في الصحيح، 14 / 439، الرقم : 6510، والروياني في المسند، 2 / 248، الرقم : 1139، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 22 / 94.95.

’’یزید بن ابو عبید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی پنڈلی پر زخم کا ایک نشان دیکھا تو دریافت کیا کہ اے ابومسلم! یہ نشان کیسا ہے؟ انہوں نے فرمایا : یہ زخم مجھے غزوہ خیبر میں آیا تھا۔ لوگ تو یہی کہنے لگے تھے کہ سلمہ کا آخری وقت آ پہنچا ہے لیکن میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر تین مرتبہ پھونک مار کر دم کیا تو اس کے بعد مجھے پھر کبھی کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوئی۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری، ابو داود اور احمد نے روایت کیا ہے۔

199 / 12. عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رضی الله عنه قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم صَـلَاةَ الْأوْلَی ثُمَّ خَرَجَ إِلَی أَهْلِهِ وَخَرَجْتُ مَعَهُ فَاسْتَقْبَلَهُ وِلْدَانٌ فَجَعَلَ يَمْسَحُ خَدَّي أَحَدِهِمْ وَاحِدً وَاحِدً، قَالَ : وَأَمَّا أَنَا فَمَسَحَ خَدِّي قَالَ : فَوَجَدْتُ لِيَدِهِ بَرْدًا أَوْ رِيْحًا کَأَنَّمَا أَخْرَجَهَا مِنْ جُؤْنَةِ عَطَّارِ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

12 : أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : الفضائل، باب : طيب رائحة النبي صلی الله عليه وآله وسلم ولين مسه والتبرک بمسحه، 4 / 1814، الرقم : 2329، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 323، الرقم : 31765، والطبراني في المعجم الکبير، 2 / 228، الرقم : 1944، والعسقلاني في فتح الباري، 6 / 573، والخطيب البغدادي في تاريخ بغداد، 9 / 253، الرقم : 4829، والسيوطي في الديباج، 5 / 325.

’’حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر کی طرف تشریف لے چلے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل پڑا، سامنے سے کچھ بچے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سے ہر ایک کے رخسار پر ہاتھ پھیرا، اور میرے رخسار پر بھی ہاتھ پھیرا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست اقدس کی ٹھنڈک اور خوشبو یوں محسوس کی جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عطار کے ڈبہ سے ہاتھ باہر نکالا ہو۔‘‘ اس حدیث کو امام مسلم اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

200 / 13. عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه عَنْ أمِّ سُلَيْمٍ رضي اﷲ عنها أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم کَانَ يَأتِيْهَا فَيَقِيْلُ عِنْدَهَا، فَتَبْسُطُ لَهُ نِطْعًا فَيَقِيْلُ عَلَيْهِ وَکَانَ کَثِيْرَ الْعَرَقِ فَکَانَتْ تَجْمَعُ عَرَقَهُ، فَتَجْعَلُهُ فِي الطِّيْبِ وَالْقَوَارِيْرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : يَا أمَّ سُلَيْمٍ، مَا هَذَا؟ قَالَتْ : عَرَقُکَ أَدُوْفُ بِهِ طِيْبِي. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ.

13 : أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : الفضائل، باب : طيب عرق النبي صلی الله عليه وآله وسلم والتبرک به، 4 / 1816، الرقم : 2332، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 287، الرقم : 14091، وابن سعد في الطبقات الکبری، 8 / 429، والنووي في شرحه علی صحيح مسلم، 15 / 87، والجزري في النهاية، 2 / 140، وابن منظور في لسان العرب، 9 / 108.

’’حضرت اُمّ سلیم رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے گھر تشریف لایا کرتے اور وہاں قیلولہ فرماتے تھے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے چمڑے کا ایک گدا بچھا دیتی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسینہ مبارک بہت آتا تھا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پسینہ مبارک کو جمع کر کے خوشبو میں ملا کر بوتلوں میں بھردیتیں، تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے سلیم! یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا : (یا رسول اللہ!) یہ آپ کا پسینہ مبارک ہے جسے میں اپنی خوشبو میں ملاتی ہوں۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم اور احمد نے روایت کیا ہے۔

201 / 14. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ : دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم فَقَالَ عِنْدَنَا، فَعَرِقَ، وَجَاءَ تْ أمِّي بِقَارُوْرَةٍ، فَجَعَلَتْ تَسْلِتُ الْعَرَقَ فِيْهَا، فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم فَقَالَ : يَا أمَّ سُلَيْمٍ، مَا هَذَا الَّذِي تَصْنَعِيْنَ قَالَتْ : هَذَا عَرَقُکَ نَجْعَلُهُ فِي طِيْبِنَا وَهُوَ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيْبِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ.

14-15 : أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : الفضائل، باب : طیب عرق النبي صلی الله عليه وآله وسلم والتبرک به، 4 / 1815، الرقم : 2331، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 136، الرقم : 12419، والطبراني في المعجم الکبير، 25،119، الرقم : 289، 297، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 154، الرقم : 1429، وأبو نعيم في حلية الأولياء، 2 / 61، والفريابي في دلائل النبوة، 1 / 59، الرقم : 40، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 9 / 359، وابن سعد في الطبقات الکبری، 8 / 428.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، اور قیلولہ کے لئے آرام فرما ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسینہ آیا، میری والدہ ایک شیشی لے کر آئیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پسینہ مبارک پونچھ پونچھ کر اس میں ڈالنے لگیں، تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے امّ سلیم! یہ کیا کر رہی ہو؟ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ! یہ آپ کا پسینہ مبارک ہے، جسے ہم اپنی خوشبو میں ڈالیں گے، اور یہ سب سے اچھی خوشبو ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم اور احمد نے روایت کیا ہے۔

202 / 15. وفي رواية : عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ زَيْدٍ رضي اﷲ عنهما أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ فِي بِيْتِ أمِّ سُلَيْمٍ رضي اﷲ عنها عَلَی نِطْع،ٍ فَعَرِقَ فَاسْتَيْقَظَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم وَأمُّ سُلَيْمٍ تَمْسَحُ الْعَرَقَ فَقَالَ : يَا أمَّ سُلَيْمٍ، مَا تَصْنَعِيْنَ؟ قَالَ : فَقَالَتْ : آخَذُ هَذَا لِلْبَرَکَةِ الَّتِيتَخْرُجُ مِنْکَ. رَوَاهُ ابْنُ سَعْدٍ.

’’اور ایک روایت میں حضرت براء بن زید رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت اُمّ سلیم رضی اﷲ عنہا کے گھر میں چمڑے کے بستر پر قیلولہ فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسینہ مبارک آیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے تو حضرت اُمّ سلیم رضی اﷲ عنہا وہ پسینہ مبارک پونچھ کر (بوتل میں جمع) کرنے لگیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے اُمّ سلیم! تم اسے کیا کرو گی؟ وہ عرض کرنے لگیں : (یا رسول اﷲ!) جو پسینہ مبارک آپ کے جسدِ اقدس سے نکلا ہے (اسے بطور خوشبو کے استعمال کروں گی)۔‘‘

اسے امام ابن سعد نے روایت کیا ہے۔

203 / 16. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ : کَانَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم يَدْخُلُ بَيْتَ أمِّ سُلَيْمٍ رضي اﷲ عنها فَيَنَامُ عَلَی فِرَاشِهَا، وَلَيْسَتْ فِيْهِ. قَالَ : فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَنَامَ عَلَی فِرَاشِهَا. فَأتِيَتْ، فَقِيْلَ لَهَا : هَذَا النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم نَامَ فِي بَيْتِکِ، عَلَی فِرَاشِکِ. قَالَ : فَجَائَتْ وَقَدْ عَرِقَ، وَاسْتَنْقَعَ عَرَقُهُ عَلَی قِطْعَةِ أَدِيْمٍ، عَلَی الْفِرَاشِ. فَفَتَحَتْ عَتِيْدَتَهَا فَجَعَلَتْ تُنَشِّفُ ذَلِکَ الْعَرَقَ فَتَعْصِرُهُ فِي قَوَارِيْرِهَا. فَفَزِعَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم فَقَالَ : مَا تَصْنَعِيْنَ يَا أمَّ سُلَيْمٍ؟ فَقَالَتْ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ، نَرْجُوْ بَرَکَتَهُ لِصِبْيَانِنَا قَالَ : أَصَبْتِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ.

16 : أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : الفضائل، باب : طيب عرق النبي صلی الله عليه وآله وسلم والتبرک به، 4 / 1815، الرقم : 2331، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 221، الرقم : 1334 / 1339.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت اُمّ سُلیم رضی اﷲ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے اور ان کے بچھونے پر سو جاتے جبکہ وہ گھر میں نہیں ہوتی تھیں۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور اُن کے بچھونے پر سو گئے، وہ آئیں تو انہیں بتایا گیا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہارے گھر میں بچھونے پر آرام فرما ہیں۔ یہ سن کر وہ (فورًا) گھر آئیں دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (محو استراحت ہیں اور جسدِ اقدس) پسینے میں شرابور ہے اور وہ پسینہ مبارک چمڑے کے بستر پر جمع ہو گیا ہے۔ حضرت اُمّ سُلیم نے اپنی (خوشبو کی) بوتل کھولی اور پسینہ مبارک پونچھ پونچھ کر بوتل میں جمع کرنے لگیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اچانک اٹھ بیٹھے اور فرمایا : اے اُمّ سُلیم! کیا کر رہی ہو؟ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ! ہم اس (پسینہ مبارک) سے اپنے بچوں کے لئے برکت حاصل کریں گے (اور اسے بطور خوشبو استعمال کریں گے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو نے ٹھیک کیا ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم اور احمد نے روایت کیا ہے۔

204 / 17. عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ص قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ لَهُ خَلَّفَهُ فِي بَعْضِ مَغَازِيْهِ. فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ، خَلَّفْتَنِي مَعَ النِّسَائِ وَالصِّبْيَانِ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : أَمَا تَرْضَی أَنْ تَکُوْنَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُوْسَی إِلَّا أَنَّهُ لَا نُبُوَّةَ بَعْدِي. وَسَمِعْتُهُ يَقُوْلُ يَوْمَ خَيْبَرَ : لَأعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُـلًا يُحِبُّ اﷲَ وَرَسُوْلَهُ وَيُحِبُّهُ اﷲُ وَرَسُوْلُهُ قَالَ : فَتَطَاوَلْنَا لَهَا فَقَالَ : ادْعُوْا لِي عَلِيًّا فَأُتِيَ بِهِ أَرْمَدَ، فَبَصَقَ فِي عَيْنِهِ وَدَفَعَ الرَّايَةَ إِلَيْهِ. فَفَتَحَ اﷲُ عَلَيْهِ. وَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : {فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُوْ اَبْنَآئَنَا وَاَبْنَآئَکُمْ} آل عمران، 3 : 61، دَعَا رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا فَقَالَ : اَللَّهُمَّ، هَؤُلَآءِ أََهْلِي. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ.

17 : أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : من فضائل علي بن أبي طالب ص، 4 / 1871، الرقم : 2404، والترمذي في السنن، کتاب : المناقب عن رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم، باب : مناقب علي بن أبي طالب ص، 5 / 638، الرقم : 3724.

’’حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعض مغازی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو (اپنا قائم مقام بنا کر) پیچھے چھوڑ دیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ نے مجھے عورتوں اور بچوں میں پیچھے چھوڑ دیا ہے؟ تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم میرے لیے ایسے ہو جیسے موسیٰ علیہ السلام کیلئے ہارون علیہ السلام تھے، البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا اور غزوہ خیبر کے دن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سنا کہ کل میں اس شخص کو جھنڈا عطا کروں گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے محبت کرتے ہیں، سو ہم سب اس سعادت کے حصول کے انتظار میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : علی کو میرے پاس لاؤ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کو لایا گیا، اس وقت وہ آشوبِ چشم میں مبتلا تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعابِ دہن مبارک ڈالا اور انہیں جھنڈا عطا کیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر خیبر فتح کر دیا اور جب یہ آیت نازل ہوئی : ’’آپ فرما دیں کہ آجاؤ ہم (مل کر) اپنے بیٹوں کو اور تمہارے بیٹوں کو (ایک جگہ پر) بُلا لیتے ہیں۔‘‘ آل عمران، 3 : 61 تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا اور کہا : اے اللہ! یہ میرے اہلِ بیت ہیں۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔

205 / 18. عَنْ إِبْرَاهِيْمَ قَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يُعْرَفُ بِاللَّيْلِ بِرِيْحِ الطِّيْبِ. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.

18 : أخرجه الدارمي في السنن، باب : في حسن النبي صلی الله عليه وآله وسلم ، 451، الرقم : 65.

’’حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے وقت (راہ میں اپنے بدن اقدس کی) پاکیزہ خوشبو سے پہچانے جاتے تھے۔‘‘

اس حدیث کو امام دارمی نے روایت کیا ہے۔

206 / 19. عَنْ جَابِرٍ رضی الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم لَمْ يَسْلُکْ طَرِيْقًا أَوْلاَ يَسْلُکُ طَرِيْقًا فَيَتْبَعُهُ أَحَدٌ إِلاَّ عَرَفَ أَنَّهُ قَدْ سَلَکَهُ مِنْ طِيْبِ عَرَقِهِ أَوْ قَالَ : مِنْ رِيْحِ عَرَقِهِ صلی الله عليه وآله وسلم . رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.

19 : أخرجه الدارمي في السنن، باب : في حسن النبي صلی الله عليه وآله وسلم ، 1 / 45، الرقم : 66.

’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی بھی راستے پر نہیں چلے یا کسی راستے پر نہیں چلتے تھے جس میں کوئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کرتا مگر یہ کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پسینہ مبارک کی خوشبو سے پہچان لیتا کہ آپ اس راستے پر چلے ہیں۔ یا کہا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پسینہ مبارک کی مہک سے پہچان لیتا۔‘‘

اس حدیث کو امام دارمی نے روایت کیاہے ۔

207 / 20. عَنْ حَبِيْبِ بْنِ جَزَرَةَ رضی الله عنه قَالَ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي حُرَيْشٍ قَالَ : کُنْتُ مَعَ أَبِي حِيْنَ رَجَمَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم مَاعِزَ بْنَ مَالِکٍ رضی الله عنه فَلَمَّا أَخَذَتْهُ الْحِجَارَةُ أرْعِبْتُ فَضَمَّنِي إِلَيْهِ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فَسَالَ عَلَيَّ مِنْ عَرَقِ إِبِطِهِ مِثْلُ رِيْحِ الْمِسْکِ. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.

20 : أخرجه الدارمي في السنن، 1 / 45، الرقم : 63.

’’حضرت حبیب بن جزرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو قریش کے ایک آدمی نے مجھے بتایا کہ میں اس وقت اپنے باپ کے ساتھ تھا جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کو سنگسار کیا، پس جب ان پر پتھر برس رہے تھے تو میں ڈر گیا، تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے انپے ساتھ چپکا لیا تو اس وقت مجھ پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بغل مبارک کا پسینہ ٹپکا (خدا کی قسم!) اس پسینہ مبارک کی خوشبو مشک کی خوشبو کی طرح تھی۔‘‘

اس حدیث کو امام دارمی نے روایت کیا ہے۔

208 / 21. عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ جَدَّةٍ لَهُ يُقَالُ لَهَا کَبْشَةُ الْأَنْصَارِيَةُ رضي اﷲ عنها : أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ فَشَرِبَ مِنْهَا وَهُوَ قَائِمٌ فَقَطَعَتْ فَمَ الْقِرْبَةِ تَبْتَغِي بَرَکَةَ مَوْضِعِ فِي رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم .

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَاللَّفْظُ لَهُ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

وَقَالَ النَّوَوِيُّ فِي ’’شَرْحِهِ عَلَی صَحِيْحِ مُسْلِمٍ‘‘ وَفِي ’’الرِّيَاضِ‘‘ : وَقَدْ رَوَی التِّرْمِذِيُّ وَغَيْرُهُ عَنْ کَبْشَةَ بِنْتِ ثَابِتٍ رضي اﷲ عنها وَهِيَ أُخْتُ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ رضی الله عنه قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فَشَرِبَ مِنْ قِرْبَةٍ مُعَلَّقَةٍ لِوَجْهَيْنِ قَائِمًا فَقُمْتُ إِلَی فِيْهِا فَقَطَعْتُهُ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ وَقَطْعٌ لِفَمِ الْقِرْبَةِ فَعِلَّتُهُ لِوَجْهَيْنِ أَحَدُهُمَا : أَنْ تَصُوْنَ مَوْضِعًا أَصَابَهُ فَمُ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم عَنْ أَنْ يَبْتَذِلَ وَيَمَسَّهُ کُلُّ أَحَدٍ. وَالثَّانِيُّ : أَنْ تَحْفَظَهُ لِلتَّبَرُّکِ بِهِ وَالِاسْتِشْفَاءِ. وَاﷲُ أَعْلَمُ.

21 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : الأشربة عن رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم ، باب : ما جاء في الرخصة في ذلک، 4 / 306، الرقم : 1892، وفي الشمائل المحمدية، 1 / 174، الرقم : 212، وابن ماجه في السنن، کتاب : الأشربة، باب : الشرب قائما، 2 / 1132، الرقم : 3423، والبغوي في شرح السنة، 11 / 379، والطبراني في العجم الکبير، 25 / 15، الرقم : 8، وفي مسند الشاميين، 1 / 369، الرقم : 639، والبيهقي في شعب الإيمان، 5 / 118، الرقم : 6024.6025، والشيباني في الأحاد والمثاني، 6 / 138، الرقم : 3365، والحميدي في المسند، 1 / 172، الرقم : 354، وابن عبد البر في الاستيعاب، 4 / 1907، الرقم : 4077، والعسقلاني في فتح الباري، 10 / 84، 92، والنووي في شرحه علی صحيح مسلم، 13 / 194، وفي رياض الصالحين، 1 / 204، الرقم : 204، والعيني في عمدة القاري، 21 / 192، والعسقلاني في تلخيص الحبير، 3 / 200، الرقم : 1577، والصنعاني في سبل السلام، 3 / 161، والشوکاني في نيل الأوطار، 9 / 85، والعظيم آبادي في عون المعبود،10 / 131.

’’حضرت عبدالرحمن بن ابو عمرہ رضی اللہ عنہ اپنی دادی جنہیں حضرت کبشہ انصاریہ رضي اﷲ عنہا کہا جاتا تھا سے روایت بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے گھر تشریف لے گئے وہاں ان کے پاس ہی ایک مشکیزہ لٹکا ہوا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے کھڑے اس مشکیزہ کے منہ سے پانی نوش فرمایا توانہوں نے اس مشکیزے کا دہانہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ مبارک لگنے کی وجہ سے حصول برکت کے لئے کاٹ کر رکھ لیا۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی اور ابن ماجہ نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔

’’امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں اور رياض الصالحين میں بیان کیا ہے : اور امام ترمذی اور دیگر محدثین نے حضرت کبشہ بنت ثابت رضی اﷲ عنہا سے روایت کیا ہے جو حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مشکیزہ جس کے دو منہ تھے اس میں سے کھڑے ہو کر پانی پیا۔ میں نے اس مشکیزہ کے منہ کو کاٹ کر رکھ لیا۔‘‘ امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور مشکیزے کے منہ کو کاٹ کر رکھنے کے دو اسباب تھے۔ پہلا سبب تو یہ تھا کہ جس جگہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دہن مبارک لگا تھا اس جگہ کی اس چیز سے حفاظت کی جائے کہ اس جگہ کی کوئی بے ادبی نہ کر سکے اور ہر کوئی نہ چھوئے اور دوسرا یہ کہ وہ اس کے ذریعے تبرک حاصل کریں اور شفا حاصل کریں۔‘‘

209 / 22. عَنْ مَالِکِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أَسِيْدٍ السَّاعِدِيِّ الْخَزْرَجِيِّ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهِ أَبِي أَسِيْدٍ رضی الله عنهم قَالَ : وَلَهُ بِئْرٌ بِالْمَدِيْنَةِ يُقَالُ لَهَا : بِئْرُ بُضَاعَةَ، قَدْ بَصَقَ فِيْهَا النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم فَهُوَ يَشْرَبُهَا وَيَتَيَمَّنُ بِهَا.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ : رِجَالُهُ ُوثِّقُوْا کُلُّهُمْ.

22 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 19 / 263، الرقم : 585، والهيثمي في مجمع الزوائد، 4 / 12، 6 / 322، وقال : رواه الطبراني ورجاله وثقوا کلهم، والعيني في عمدة القاري، 12 / 147.

’’حضرت مالک بن حمزہ بن ابو اسید الساعدی الخزرجی بذریعہ والد اپنے دادا حضرت اسید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے پاس مدینہ منورہ میں ایک کنواں تھا جسے بئر بضاعۃ کہا جاتا تھا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں اپنا لعاب دہن مبارک ڈال دیا تھا تو صحابہ کرام اس کنویں سے پانی پیتے تھے اور اس سے برکت حاصل کرتے تھے۔‘‘

اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا کہ اس کے تمام رجال ثقہ قرار دیئے گئے ہیں۔

210 / 23. عَنْ أُبِيِّ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رضی الله عنهم عَنْ أَبِيْهِ قَالَ : سَمِعْتُ عِدَّةً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم فِيْهِمْ أَبُوْ أَسِيْدٍ وَأَبُوْ حَمِيْدٍ، وَأَبُوْ سَهْلِ بْنُ سَعْدٍ رضی الله عنهم يَقُوْلُوْنَ : أَتَی رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم بِئْرَ بُضَاعَةَ، فَتَوَضَّأَ فِي الدَّلْوِ، وَرَدَّهُ فِي الْبِئْرِ، وَمَجَّ فِي الدَّلْوِ مَرَّةً أخْرَی، وَبَصَقَ فِيْهَا، وَشَرِبَ مِنْ مَائِهَا، وَکَانَ إِذَا مَرِضَ الْمَرِيْضُ فِي عَهْدِهِ يَقُوْلُ : اغْسِلُوْهُ مِنْ مَاءِ بُضَاعَةَ فَيُغْسَلُ فَکَأَنَّمَا حُلَّ مِنْ عِقَالٍ.

رَوَاهُ ابْنُ سَعْدٍ ونَحْوَهُ الطَّبَرَانِيُّ مُخْتَصَرًا.

23-27 : أخرجه ابن سعد في الطبقات الکبری، 1 / 503، 505، والطبراني في المعجم الکبير، 6 / 122، الرقم : 5704، والنميري في أخبار المدينة، 1 / 103، الرقم : 473. 475، والعسقلاني في الإصابة، 2 / 543، والهيثمي في مجمع الزوائد، 4 / 12، والحموي في معجم البلدان، 1 / 442.

’’حضرت اُبی بن عباس بن سہل بن سعد رضی اللہ عنہم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے یہ حدیث سنی ہے جن میں حضرت ابو اُسید، ابو حمید اور ابو سہل بن سعد رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ’’بضاعہ‘‘ کے کنویں پر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ڈول میں پانی لے کر اس سے وضو کیا پھر اس (مستعمل پانی کو برکت کے لئے) اس کنویں میں دوبارہ ڈال دیا پھر اس ڈول کو دوبارہ پانی سے بھر کر نکالا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پانی پیا اور پھر اس میں اپنا لعاب دہن ڈالا۔ پھر جب کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری حیاتِ مبارکہ میں (بھی) بیمار ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے کہ اسے بضاعہ کنویں کے پانی سے غسل دو (چنانچہ جب اس بابرکت پانی سے) اس بیمار کو غسل دیا جاتا تو وہ (اسی وقت) مکمل طور پر صحت یاب ہو جاتا۔‘‘

اس حدیث کو امام ابن سعد اور طبرانی نے مختصراً روایت کیا ہے۔

211 / 24. وفي رواية : عَنْ مَرْوَانَ بْنِ أَبِي سَعِيْدِ بْنِ الْمُعَلَّی قَالَ : کُنْتُ قَدْ طَلَبْتُ الْبِئَارَ الَّتِي کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَسْتَعْذِبُ مِنْهَا وَالَّتِي بَرَکَ فِيْهَا وَبَصَقَ فِيْهَا فَکَانَ يَشْرَبُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ وَبَصَقَ فِيْهَا وَبَرَکَ … وَکَانَ يَشْرَبُ مِنْ بِئْرِ غَرْسِ بَقَائٍ وَبَرَکَ فِيْهَا وَقَالَ : هِيَ عَيْنٌ مِنْ عُيُوْنِ الْجَنَّةِ. رَوَاهُ ابْنُ سَعْدٍ.

’’اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت مروان بن ابو سعید بن معلّٰی سے روایت ہے. وہ بیان کرتے ہیں کہ میں ان کنوؤں کی تلاش میں رہتا تھا جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی پی کر اور ان میں اپنا لعاب دہن مبارک ڈال کر انہیں شرفِ برکت بخشا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بضاعہ کے کنویں سے بھی پانی نوش فرمایا کرتے تھے اوراس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا لعاب دہن مبارک بھی ڈالا تھا اور اس میں برکت فرمائی تھی۔۔۔ اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ’’غُرس بقاء‘‘ کے کنویں سے بھی پانی پیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں بھی (اپنے لعابِ دہن مبارک سے) برکت ڈالی تھی۔ راوی کہتے ہیں کہ (اس برکت کی وجہ سے) یہ کنواں جنت کے چشموں میں سے ایک چشمہ (بن گیا) ہے۔‘‘

اسے امام ابن سعد نے روایت کیا ہے۔

212 / 25. وذکر العسقلاني في ’’الإصابة‘‘ : وَقَالَ الْبَـلَاذَرِيُّ فِي تَارِيْخِهِ : وَکَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَشْرَبُ مِنْ بِئْرِ رُوْمَةَ بِالْعَقِيْقِ وَبَصَقَ فِيْهَا فَعَذُبَتْ.

’’امام عسقلانی نے الاصابۃ میں بیان کیا ہے کہ امام بلاذری نے اپنی تاریخ میں بیان فرمایا ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عقیق کے مقام پر رومہ کے کنویں سے پانی پیا کرتے تھے اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا لعاب دہن ڈالا تو (اس کی تاثیر سے) یہ (کڑوے پانی کا چشمہ نہایت) شیریں ہو گیا تھا.‘‘ اسے امام نمیری نے روایت کیا ہے۔

213 / 26. وفي رواية : عَنْ حَارِثَةَ الْأَنْصَارِيِّ رضی الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم سَمَّی بِئْرَ بَنِي أمِيَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ الْيَسِيْرَةَ وَبَرَکَ عَلَيْهَا وَتَوَضَّأَ وَبَصَقَ فِيْهَا. رَوَاهُ النُّمَيْرِيُّ.

’’ایک روایت میں حضرت حارثہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار سے نبو امیہ کا جو کنواں تھا، اس کا نام یسیرہ رکھا تھا اور اس کے پانی سے وضو فرما کر اور اس میں اپنا لعابِ دہن مبارک ڈال کر اسے شرفِ برکت بخشا تھا۔‘‘

اس حدیث کو امام نمیری نے روایت کیا ہے۔

214 / 27. وفي رواية : عَنْ سَعِيْدِ بْنِ رُقَيْشٍ رضی الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم تَوَضَّأَ مِنْ بِئْرِ الْأَغْرَاسِ وَأَهْرَقَ بَقِيَةَ وَضُوْئِهِ فِيْهَا. رَوَاهُ النُّمَيْرِيُّّ.

’’اور ایک روایت میں حضرت سعید بن رقیش رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ’’اَغراس‘‘ کے کنویں سے بھی وضو فرمایا اور اپنے وضو کے استعمال کا بقیہ پانی (بطورِ تبرک) اسی کنویں میں گرا دیا۔‘‘

اس حدیث کو امام نمیری نے روایت کیا ہے۔

215 / 28. عَنْ أَيُوْبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيْرِيْنَ عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ رضي اﷲ عنها قَالَتْ : کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقِيْلُ فِي بَيْتِي فَکُنْتُ أَبْسُطُ لَهُ نِطَعًا فَيَقِيْلُ عَلَيْهِ فَيَعْرَقُ فَکُنْتُ آخُذُ سُکًّا فَأَعْجَنَهُ بِعَرَقِهِ. قَالَ مُحَمَّدُ (بْنُ سِيْرِيْنَ) : وَاسْتَوْهَبْتُ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ رضي اﷲ عنها مِنْ ذَلِکَ السُّکِّ فَوَهَبَتْ لِي مِنْهُ قَالَ أَيَوْبُ : فَاسْتَوْهَبْتُ مِنْ مُحَمَّدٍ يمِنْ ذَلِکَ السُّکِّ فَوَهَبَ لِي مِنْهُ فَإِنَّهُ عِنْدِي الآنَ قَالَ : فَلَمَّا مَاتَ مُحَمَّدُ (بْنُ سِيْرِيْنَ) حُنِّطَ بِذَلِکَ السُّکِّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَابْنُ سَعْدٍ وَاللَّفْظُ لَهُ.

28 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 25 / 119، الرقم : 290، وابن سعد في الطبقات الکبری، 8 / 428، والذهبي في سير أعلام النبلاء، 2 / 307.

’’حضرت ایوب، امام محمد بن سیرین سے اور وہ حضرت اُمِّ سلیم رضی اﷲ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر قیلولہ فرمانے تشریف لایا کرتے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ایک چمڑے کا بستر بچھا دیتی جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیلولہ فرماتے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسینہ مبارک آتا (تو اس پسینہ مبارک کو میں ایک بوتل میں جمع کر لیتی) اور پھر میں خوشبو لیتی اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پسینہ مبارک کے ساتھ گوند لیتی۔ امام محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت اُمِّ سلیم رضی اﷲ عنہا سے (بطور تبرک) اس خوشبو میں سے کچھ مانگی تو انہوں نے مجھے اس میں سے کچھ خوشبو عطا فرمائی۔ حضرت ایوب بیان کرتے ہیں کہ پھر میں نے بھی امام محمد بن سیرین سے اس خوشبو میں سے کچھ مانگی، تو انہوں نے بھی مجھے اس میں سے کچھ خوشبو عطا فرمائی، اور وہ خوشبو اب بھی میرے پاس ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ جب امام محمد بن سیرین فوت ہوئے تو انہیں اسی خوشبو سے حنوط کیا گیا (یعنی ان کی میت کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پسینہ مبارک والی وہی بابرکت خوشبو لگائی گئی)۔‘‘

اس حدیث کو امام طبرانی اور ابن سعد نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔

216 / 29. عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ جَدِّهِ رضی الله عنهم قَالَ : أُصِيْبَتْ عَيْنُ أَبِي ذَرٍّ رضی الله عنه يَوْمَ أُحُدٍ فَبَزَقَ فِيْهَا النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم فَکَانَتْ أَصَحَّ عَيْنَيْهِ. رَوَاهُ أَبُوْ يَعْلَی.

29 : أخرجه أبو يعلی في المسند، 3 / 120، الرقم : 1550، وفي المفاريد، 1 / 64، الرقم : 62، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8 / 298.

’’حضرت عبدالرحمن بن حارث بن عبید رضی اللہ عنہم اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ غزوہ اُحد کے دن حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کی آنکھ ضائع ہو گئی تو اس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا لعاب دہن مبارک لگایا تو یہ آنکھ (اسی وقت ٹھیک ہو کر) دوسری آنکھ سے بھی بہتر ہو گئی۔‘‘ اس حدیث کو امام ابو یعلی نے روایت کیا ہے۔

217 / 30. عَنْ عَبْدِ الْعَزِيْزِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَـلَامَانَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أُمِّهِ أَنَّ خَالَهَا حَبِيْبَ بْنَ أَبِي فُدَيْکٍ حَدَّثَهَا أَنَّ أَبَاهُ خَرَجَ بِهِ إِلَی رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم وَعَيْنَاهُ مُبَيَضَتَانِ لَا يُبْصِرُ بِهِمَا شَيْئًا، فَسَأَلَهُ مَا أَصَابَهُ قَالَ : کُنْتُ أَمْرُنُ جَمَلاً لِي فَوَقَعَتْ رِجْلِي عَلَی بِيْضِ حَيَةٍ، فَأُصِيْبَ بَصَرِي، فَنَفَثَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فِي عَيْنَيْهِ، فَأَبْصَرَ قَالَ : فَرَأَيْتُهُ يُدْخِلُ الْخَيْطَ فِي الإِْبْرَةِ وَإِنَّهُ لَاِبْنُ ثَمَانِيْنَ سَنَةً وَأَنَّ عَيْنَيْهِ لَمُبَيَضَتَانِ.

رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالشَّيْبَانِيُّ.

30 : أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 5 / 45، الرقم : 23563، 6 / 328، الرقم : 31804، والطبراني في المعجم الکبير، 4 / 25، الرقم : 3546، والشيباني في الأحاد والمثاني، 5 / 91، الرقم : 2634، والأصبهاني في دلائل النبوة، 1 / 202، الرقم : 269، والعسقلاني في الإصابة، 2 / 23، الرقم : 1598، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8 / 298.

’’حضرت عبد العزیز بن عمر رضی اﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ مجھے قبیلہ بنو سلامان بن سعد کے ایک آدمی نے اپنی ماں سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے ماموں حضرت حبیب بن ابی فدیک نے بیان کیا ہے کہ ان کے والد انہیں لے کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے کیونکہ ان کی دونوں آنکھوں میں سفید موتیا تھا اور وہ ان سے کچھ بھی دیکھ نہیں سکتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا : اسے کیا ہوا ہے؟ انہوں نے عرض کیا : میں اپنے ایک اونٹ کے پاؤں کے نچلے حصے پر تیل ملا کرتا تھا پس اس دوران میرا پاؤں سانپ کے انڈوں پر پڑ گیا تو اس سے میری بینائی چلی گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی آنکھوں میں پھونک ماری تو وہ (پہلے کی طرح) دیکھنے لگے۔ راوی کہتے ہیں میں نے انہیں دیکھا کہ وہ سوئی میں دھاگا ڈال لیتے تھے جب کہ ان کی عمر اسّی سال تھی اور ان کی آنکھوں میں سفید موتیا بھی تھا۔‘‘

اس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ، طبرانی اور شیبانی نے روایت کیا ہے۔

218 / 31. عَنْ سَفِيْنَةَ رضی الله عنه قَالَ : احْتَجَمَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم فَقَالَ لِي : خُذْ هَذَا الدَّمَ فَادْفِنْهُ مِنَ الطَّيْرِ وَالدَّوَابِ وَالنَّاسِ، فَتَغَيَبْتُ فَشَرِبْتُهُ، ثُمَّ سَأَلَنِي أَوْ أُخْبِرَ أَنِّي شَرِبْتُهُ فَضَحِکَ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الْکَبِيْرِ وَالْبَيْهَقِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

31 : أخرجه البخاري في التاريخ الکبير، 4 / 209، الرقم : 2524، والبيهقي في السنن الکبری، 7 / 67، الرقم : 13186، وفي شعب الإيمان، 5 / 233، الرقم : 6489، والطبراني المعجم الکبير، 7 / 81، الرقم : 6434، والمحاملي في الأمالي، 1 / 441، الرقم : 526، وابن عدي في الکامل، 2 / 64، الرقم : 296، 5 / 53، الرقم : 1226، والذهبي في ميزان الاعتدال، 2 / 15، الرقم : 1160، والعسقلاني في تلخيص الحبير، 1 / 30، الرقم : 17، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8 / 270، وقال : رواه الطبراني والبزار ورجال الطبراني ثقات.

’’حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پچھنے لگوائے پھر مجھے حکم فرمایا، یہ خون لے جاؤ اور اسے کسی ایسی جگہ پر دفن کر دو جہاں پرندے، چوپائے اور آدمی نہ پہنچ سکیں۔وہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک جگہ چھپ گیا اور اسے پی لیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا یا آپ کو بتایا گیا کہ میں نے اسے پی لیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (یہ سن کر میری خوش بختی پر) مسکرا پڑے۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری نے التاريخ الکبير میں اور بیہقی اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ اس کے رجال ثقہ ہیں۔

219 / 32. عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ بْنِ الزُّبَيْرِ رضی الله عنه يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ : احْتَجَمَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم وَأَعْطَانِي دَمَهُ وَقَالَ : اِذْهَبْ فَوَارِهِ لَا يَبْحَثُ عَنْهُ سَبْعٌ أَوْ کَلْبٌ أَوْ إِنْسَانٌ قَالَ : فَتَنَحَّيْتُ عَنْهُ فَشَرِبْتُهُ ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم فَقَالَ : مَا صَنَعْتَ؟ قُلْتُ : صَنَعْتُ الَّذِي أَمَرْتَنِي قَالَ : مَا أَرَاکَ إِلَّا قَدْ شَرِبْتَهُ؟ قُلْتُ : نَعَمْ، قَالَ : مَاذَا تَلْقَی أُمَّتِي مِنْکَ. قَالَ : أَبُوْجَعْفَرٍ : وَزَادَنِي بَعْضُ أَصْحَابِ الْحَدِيْثِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ : فَيَرَوْنَ أَنَّ الْقُوَّةَ الَّتِي کَانَتْ فِي الزُّبِيْرِ رضی الله عنه مِنْ قُوَّةِ دَمِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ.

32-33 : أخرجه البيهقي في السنن الکبری، 7 / 67، الرقم : 13185، والشيباني في الآحاد والمثاني،1 / 414، الرقم : 578، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 9 / 308، الرقم : 267، والعسقلاني في الإصابة، 4 / 93، وفي تلخيص الحبير، 1 / 30، والذهبي في سير أعلام النبلاء، 3 / 366، والحکيم الترمذي في نوادر الأصول،1 / 186، والسيوطي في الجامع الصغير، 1 / 273، والمناوي في فيض القدير، 5 / 198.

’’حضرت عامر بن عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پچھنے لگوائے اور (پچھنوں سے نکلنے والا) خون مبارک مجھے عطا فرما کر حکم دیا کہ جا کر اسے کسی ایسی جگہ چھپا دو جہاں اسے درندے، چوپائے وغیرہ یا کوئی آدمی نہ پا سکے۔ (حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اﷲ عنہما کہتے ہیں : ) پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دور چلا گیا اور دور جا کر اس خون مبارک کو پی لیا پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا : تم نے اس خون کا کیا کیا؟ میں نے عرض کیا : (یا رسول اﷲ!) میں نے ویسے ہی کیا جو آپ نے حکم دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں دیکھ رہا ہوں کہ تم نے اسے پی لیا ہے۔ میں نے عرض کیا : جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اب تم سے کبھی میرا کوئی امتی (بغض و کینہ) سے نہیں ملے گا۔ ابو جعفر نے کہا کہ بعض محدثین نے ابو سلمہ سے ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے : پس لوگ دیکھتے تھے کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ میں جو قوت تھی وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خون مبارک کی قوت کی برکت ہی تھی۔‘‘ اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔

220 / 33. وفي رواية : أَنَّهُ أَتَی النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم وَهُوَ يَحْتَجِمُ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ : يَا عَبْدَ اﷲِ، اِذْْهَبْ بِهَذَا الدَّمِ فَأَهْرِقْهُ حَيْثُ لَا يَرَاهُ أَحَدٌ، فَلَمَّا بَرَزَ عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم عَمَدَ إِلَی الدَّمِ فَشَرِبَهُ، (فَلَمَّا رَجَعَ) فَقَالَ : يَا عَبْدَ اﷲِ، مَا صَنَعْتَ بِالدَّمِ؟ قَالَ : جَعَلْتُهُ فِي أَخْفَی مَکَانٍ ظَنَنْتُ إِنَّهُ يَخْفَی عَلَی النَّاسِ، قَالَ : لَعَلَّکَ شَرِبْتَهُ؟ قَالَ : نَعَمْ، قَالَ : وَلِمَ شَرِبْتَ الدَّمَ؟ وَيْلٌ لِلنَّاسِ مِنْکَ وَوَيْلٌ لَکَ مِنَ النَّاسِ. رَوَاهُ الشَّيْبَانِيُّ وَالْمَقْدَسِيُّ.

’’ایک اور روایت میں ہے کہ وہ (یعنی حضرت عبد اﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہما) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پچھنے لگوا رہے تھے۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا : اے عبد اللہ! اس خون کو لے جاؤ اور اسے کسی ایسی جگہ بہا دو جہاں اسے کوئی دیکھ نہ سکے۔ پس جب وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی (ظاہری) نگاہوں سے پوشیدہ ہوئے تو خون مبارک پینے کا ارادہ کیا اور اسے پی لیا (اور جب واپس پلٹے) تو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا : اے عبد اللہ! تم نے اس خون کا کیا کیا؟ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : (یا رسول اﷲ!) میں نے اسے ایسی خفیہ جگہ پر رکھا ہے کہ جہاں تک میرا خیال ہے وہ (ہمیشہ) لوگوں سے مخفی رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم نے یقینا اسے پی لیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا : جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اور تو نے خون کیوں پیا؟‘ (آج کے بعد دوزخ کی آگ تجھ پر حرام ہے۔‘‘

اسے امام شیبانی اور مقدسی نے روایت کیا ہے۔

221 / 34. عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ رضي اﷲ عنهما تَقُوْلُ لِلْحُجَّاجِ : أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم احْتَجَمَ فَدُفِعَ دَمُهُ إِلَی ابْنِي فَشَرِبَهُ. فَأَتَاهُ جِبْرِيْلُ عليه السلام فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ : مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ : کَرِهْتُ أَنْ أَصُبَّ دَمَکَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : لَا تَمَسُّکَ النَّارُ وَمَسَحَ عَلَی رَأْسِهِ وَقَالَ : وَيْلٌ لِلنَّاسِ مِنْکَ وَوَيْلٌ لَکَ مِنَ النَّاسِ. رَوَاهُ الدَّارُقُطْنِيُّ وَابْنُ عَسَاکِرَ.

34-35 : أخرجه الدار قطني في السنن، 1 / 228، الرقم : 3، وأبو نعيم في حلية الأولياء، 1 / 330، وابن غطريف في الجزء، 1 / 104، الرقم : 65، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 20 / 233، 28 / 162.163، والعسقلاني في الإصابة، 4 / 93، وفي تلخيص الحبير، 1 / 30.31، الرقم : 18، والخطابي في غريب الحديث، 1 / 315..

’’حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ وہ حاجیوں سے فرمایا کرتی تھیں : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پچھنے لگوائے۔ (اور پچھنوں سے نکلنے والا) خون مبارک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے بیٹے کو عطا فرمایا (تاکہ وہ اسے کہیں دفن کر دیں تو) انہوں نے اس خون مبارک کو پی لیا پس اسی وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حضرت جبریل علیہ السلام حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس واقعہ کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا : تم نے (اس خون کا) کیا کیا؟ انہوں نے عرض کیا : (یا رسول اللہ!) مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں آپ کا خون مبارک زمین پر انڈیل دوں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (یہ مقدس خون پی جانے کے بعد اب) تمہیں دوزخ کی آگ کبھی نہیں چھوئے گی اور (پھر) ان کے سر پر دستِ مبارک پھیرا اور فرمایا : تولوگوں (کو تکلیف) دینے سے محفوظ ہو گیا اور لوگ تجھ سے (تکلیف پانے سے) محفوظ ہو گئے۔‘‘

اسے امام دار قطنی اور ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔

222 / 35. وفي رواية : عَنْ کَيْسَانَ مَوْلَی عَبْدِ اﷲِ بْنِ الزُّبَيْرِ رضي اﷲ عنهما قَالَ : دَخَلَ سَلْمَانُ رضی الله عنه عَلَی رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم وَإِذَا عَبْدُ اﷲِ ابْنُ الزُّبَيْرِ رضي اﷲ عنهما مَعَهُ طَسْتٌ يَشْرَبُ مَا فِيْهَا، فَدَخَلَ عَبْدُ اﷲِ عَلَی رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فَقَالَ لَهُ : فَرَغْتَ؟ قَالَ : نَعَمْ، قَالَ سَلْمَانُ : مَا ذَاکَ يَا رَسُوْلَ اﷲِ؟ قَالَ : أَعْطَيْتُهُ غُسَالَةَ مَحَاجِمِي يُهَرِيْقُ مَا فِيْهَا، قَالَ سَلْمَانُ : ذَاکَ شَرِبَهُ وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ، قَالَ : شَرِبْتَهُ؟ قَالَ : نَعَمْ، قَالَ : لِمَ؟ قَالَ : أَحْبَبْتُ أَنْ يَکُوْنَ دَمُ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فِي جَوْفِي، فَقَامَ وَرَبَتَ بِيَدِهِ عَلَی رَأْسِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، وَقَالَ : وَيْلٌ لَکَ مِنَ النَّاسِ وَوَيْلٌ لِلنَّاسِ مِنْکَ، لَا تَمَسُّکَ النَّارُ إِلَّا قَسْمُ الْيَمِيْنِ. رَوَاهُ أَبُوْ نُعَيْمٍ وَابْنُ عَسَاکِرَ.

’’اور ایک روایت میں حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اﷲ عنہما کے غلام حضرت کیسان سے مروی ہے کہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے توانہوں نے دیکھا کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اﷲ عنہما ایک برتن سے کچھ پی رہے ہیں پھر حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا : کیا تم فارغ ہو گئے؟ انہوں نے عرض کیا : جی ہاں۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا : یا رسول اﷲ! وہ کیا کام تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں نے اسے اپنے پچھنے کا غسالہ دیا تھا کہ اسے کہیں لے جا کر (پاک جگہ) بہا دے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ معبوث کیا ہے! اسے تو یہ پی چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا : کیا تم نے اسے پی لیا ہے؟ تو انہوں نے عرض کیا : جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا : کیوں؟ انہوں نے عرض کیا : یارسول اللہ! میری یہ خواہش تھی کہ آپ کا خون مبارک میرے پیٹ میں آ جائے یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے سر پر دستِ شفقت پھیرا پھر فرمایا : تم لوگوں (کو تکلیف دینے) سے محفوظ ہو گئے اور لوگ تم سے (تکلیف پانے سے) محفوظ رہیں گے اور تمہیں جہنم کی آگ کبھی نہیں چھو سکے گی۔‘‘‘

اس حدیث کو امام ابو نعیم اور ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔

223 / 36. عَنْ أُمِّ أَيْمَنَ رضي اﷲ عنها قَالَتْ : قَامَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم مِنَ الَّليْلِ إِلَی فِخَارَةٍ مِنْ جَانِبِ الْبَيْتِ فَبَالَ فِيْهَا، فَقُمْتُ مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا عَطْشَی فَشَرِبْتُ مِنْ فِي الْفِخَارَةِ وَأَنَا لَا أَشْعُرُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ : يَا أُمَّ أَيْمَنَ، قُوْمِي إِلَی تِلْکَ الْفِخَارَةِ فَأَهْرِيْقِي مَا فِيْهَا قُلْتُ : قَدْ وَاﷲِ شَرِبْتُ مَا فِيْهَا، قَالَتْ : فَضَحِکَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، ثُمَّ قَالَ : أَمَا إِنَّکِ لَا يَفْجَعُ بَطْنُکِ بَعْدَهُ أَبَدًا. رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَأَبُوْ نُعَيْمٍ.

36 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 4 / 70، الرقم : 6912، والطبراني في المعجم الکبير، 25 / 89، الرقم : 230، وأبو نعيم في حلية الأولياء، 2 / 67، والعسقلاني في الإصابة، 8 / 171، وفي تلخيص الحبير، 1 / 31، الرقم : 20، والشوکاني في نيل الأوطار، 1 / 106، وقال : رواه أبو ذر الهروي في مستدرکه وأخرج الحسن بن سفيان في مسنده والحاکم والدارقطني والطبراني وأبو نعيم، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8 / 271..

’’حضرت اُمّ ایمن رضی اﷲ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ ایک رات حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر کے ایک گوشہ میں تشریف لے گئے اور مٹی کے ایک برتن میں پیشاب فرمایا پھر اسے اپنی چارپائی کے نیچے رکھ دیا میں رات کو اٹھی تو مجھے سخت پیاس لگی ہوئی تھی۔ میں نے بے خبری میں اسے پی لیا جب صبح ہوئی تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے اُمّ ایمن جاؤ اور اس برتن میں جو کچھ ہے اسے بہا دو، میں نے عرض کیا : (یارسول اﷲ!) اللہ کی قسم! میں نے تو اسے پی لیا ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ میری یہ بات سن کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر تبسم ریز ہوئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : آج کے بعد تمھارے پیٹ میں کبھی کوئی تکلیف نہ ہو گی۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم، طبرانی اور ابو نعیم نے روایت کیا ہے۔

224 / 37. عَنْ حَکِيْمَةَ بِنْتِ أُمَيْمَةَ عَنْ أُمِّهَا رضي اﷲ عنها أَنَّهَا قَالَتْ : کَانَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم يَبُوْلُ فِي قَدَحِ عَيْدَانٍ، ثُمَّ يُوْضَعُ تَحْتَ سَرِيْرِهِ، فَبَالَ فِيْهِ ثُمَّ جَاءَ فَأَرَادَهُ فَإِذَا الْقَدَحُ لَيْسَ فِيْهِ شَيئٌ فَقَالَ لِامْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا : بَرَکَةُ کَانَتْ تَخْدِمُ أمَّ حَبِيْبَةَ رضي اﷲ عنها جَائَتْ بِهَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ : أَيْنَ الْبَوْلُ الَّذِي کَانَ فِي الْقَدَحِ؟ قَالَتْ : شَرِبْتُهُ فَقَالَ : لَقَدْ احْتَظَرْتِ مِنَ النَّارِ بِحِظَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ.

37 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 24 / 189، الرقم : 477، والبيهقي في السنن الکبری، 7 / 67، الرقم : 13184، والمزي في تهذيب الکمال، 35 / 156، الرقم : 7819، والعسقلاني في الإصابة، 7 / 531، وفي تلخيص الحبير، 1 / 32، وابن عبد البر في الاستيعاب، 4 / 1794، والسيوطي في شرحه علی سنن النسائي، 1 / 32..

’’حضرت حکیمہ بنت امیمہ رضي اﷲ عنہا اپنی والدہ سے بیان کرتی ہیں کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (رات کے وقت) ایک برتن میں بول مبارک کیا کرتے تھے پھر اسے ایک تخت کے نیچے رکھ دیتے تھے ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ عمل فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوبارہ تشریف لائے اور اس برتن کو دیکھا (تاکہ گرا دیں) تو اس میں کوئی چیز نہ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت اُمّ حبیبہ رضی اﷲ عنہا کی خادمہ برکہ سے جو کہ حبشہ سے ان کے ساتھ آئیں تھیں اس بارے میں استفسار فرمایا کہ برتن کا پیشاب کہاں ہے؟ اس نے عرض کیا : (یارسول اﷲ!) میں نے اسے پی لیا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو نے خود کو جہنم کی آگ سے بچا لیا ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

225 / 38. وفي رواية : عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ : أُخْبِرْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم کَانَ يَبُوْلُ فِي قَدَحٍ مِنْ عِيْدَانٍ، ثُمَّ يُوْضَعُ تَحْتَ سَرِيْرِهِ، فَجَاءَ فَإِذَا الْقَدَحُ لَيْسَ فِيْهِ شَيئٌ، فَقَالَ لِاِمْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا : بَرَکَةُ کَانَتْ تَخْدِمُ أُمَّ حَبِيْبَةَ جَاءَتْ مَعَهَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ : أَيْنَ الْبَوْلُ الَّذِي کَانَ فِي الْقَدَحِ؟ قَالَتْ : شَرِبْتُهُ، قَالَ : صِحَّةً يَا أُمَّ يُوْسُفَ. وَکَانَتْ تُکَنَّي أُمُّ يُوْسُفَ، فَمَا مَرِضَتْ قَطُّ حَتَّی مَرَضِهَا الَّذِي مَاتَتْ فِيْهِ. ذَکَرَهُ الْعَسْقَلاَنِيُّ وَالذَّهَبِيُّ.

38 : أخرجه العسقلاني في تلخيص الحبير، 1 / 31، الرقم : 20، وفي الإصابة، 7 / 531، الرقم : 10916، والذهبي في سير أعلام النبلاء، 9 / 450، والشوکاني في نيل الأوطار، 1 / 106..

’’اور ایک روایت میں حضرت ابن جریج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے بتلایا گیا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (رات کے وقت) لکڑی کے ایک پیالہ میں بول مبارک فرماکر اسے اپنے تخت کے نیچے رکھ دیا کرتے تھے ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ پیالہ میں کچھ نہیں ہے تو انہوں نے ایک خاتون برکہ جو کہ حضرت امّہ حبیبہ رضی اﷲ عنہا کی خادمہ تھیں اور ان کے ساتھ حبشہ سے آئی تھیں سے دریافت فرمایا کہ وہ پیالہ میں جو کچھ پانی تھا وہ کہاں ہے؟ اس نے عرض کیا (یارسول اﷲ!) میں نے اسے پی لیاہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا!اے ام یوسف تو نے صحیح کیا۔ اُمّ یوسف اس عورت کی کنیت تھی اور اس کے بعد وہ کبھی بیمار نہ ہوئی سوائے اس بیماری کے کہ جس میں اس کی وفات ہوئی۔‘‘

226 / 39. وفي رواية : عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ : حَجَمَ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم غُـلَامٌ لِبَعْضِ قُرَيْشٍ، فَلَمَّا فَرَغَ حِجَامَتَهُ، أَخَذَ الدَّمَ، فَذَهَبَ بِهِ مِنْ وَرَاءِ الْحَائِطِ فَنَظَرَ يَمِيْنًا وَشِمَالًا، فَلَمْ يَرَ أَحَدًا تَحَسَّی دَمَهُ حَتَّی فَرَغَ ثُمَّ أَقْبَلَ فَنَظَرَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم فِي وَجْهِهِ فَقَالَ : وَيْحَکَ مَا صَنَعْتَ بِالدَّمِ؟ قَالَ : غَيَبْتُهُ مِنْ وَرَائِ الْحَائِطِ، قَالَ : أَيْنَ غَيَبْتَهُ؟ قَالَ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ، نَفَسْتُ عَلَی دَمِکَ أَنْ أَهَرِيْقَهُ فِي الْأَرْضِ فَهُوَ فِي بَطْنِي، فَقَالَ : اذْهَبْ فَقَدْ أَحْرَزْتَ نَفْسَکَ مِنَ النَّارِ. ذَکَرَهُ الْعَسْقَـلَانِيُّ.

39 : أخرجه العسقلاني في تلخيص الحبير، 1 / 30، الرقم : 17..

’’اور ایک روایت میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ ایک قریشی لڑکے نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پچھنا لگایا جب وہ اس سے فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خون مبارک لے کر دیوار کے پیچھے چلاگیا پھر اس نے اپنے دائیں بائیں دیکھا اور جب اسے کوئی نظر نہ آیاتو اس نے (چپکے سے) وہ خون مبارک پی لیا۔ جب وہ واپس آیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے چہرے کی طرف دیکھ کر دریافت فرمایا : اللہ کے بندے! تو نے اس خون کا کیا کیا؟ اس نے عرض کیا : (یا رسول اللہ!) میں نے دیوار کے پیچھے اسے چھپا دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا : کہاں چھپایا ہے؟ اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ! میں نے زمین پر آپ کا خون مبارک گرانا مناسب نہ سمجھا سو وہ میرے پیٹ میں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جاؤ تم نے خود کو جہنم سے بچا لیا۔‘‘

اسے امام عسقلانی نے ذکر کیا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved