Taleem awr Tallum ki Fazilat o Takrim

علم سیکھنے اور سکھانے کا درجہ اور ان کا اجر :علم سیکھنے اور سکھانے کا درجہ اور ان کا اجر

مَکَانَةُ التَّعَلُّمِ وَالتَّعْلِيْمِ وَأَجْرُهُمَا

{علم سیکھنے اور سکھانے کا درجہ اور ان کا اجر}

  1. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: مَنْ جَاءَ مَسْجِدِي هَذَا لَمْ يَأْتِ إِلَّا لِخَيْرٍ يَتَعَلَّمُهُ أَوْ يُعَلِّمُهُ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيْلِ اﷲِ. ومَنْ جَاءَ لِغَيْرِ ذٰلِکَ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ رَجُلٍ يَنْظُرُ إِلَی مَتَاعِ غَيْرِهِ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَہ.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 2/ 418، الرقم/ 9409، وابن ماجه في السنن، المقدمة، باب فضل العلماء والحث علی طلب العلم، 1/ 82، الرقم/ 227.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: وہ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو میری اس مسجد میں صرف خیر (علم) سیکھنے یا اسے سکھانے کیلئے آیا تو وہ اللہ تعاليٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے مجاہد کی طرح ہے۔ جو اس کے علاوہ کسی اور (دنیوی) نیت سے آیا، وہ اس آدمی کی طرح ہے جو دوسرے کے مال کی طرف دیکھتا ہے۔

اسے امام احمد اور ابن ماجہ نے روایت کیا۔

وَفِي رِوَايَةِ أَبِي أُمَامَةَ رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: مَنْ غَدَا إِلَی الْمَسْجِدِ لَا يُرِيْدُ إِلَّا أَنْ يَتَعَلَّمَ خَيْرًا أَوْ يُعَلِّمَهُ کَانَ لَهُ کَأَجْرِ حَاجٍّ تَامًّا حَجَّتُهُ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْحَاکِمُ.

أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 8/ 94، الرقم/ 7473، وأيضا في مسند الشاميين، 1/ 238، الرقم/ 423، والحاکم في المستدرک، 1/ 169، الرقم/ 311.

ایک دوسری روایت میں حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صرف علم سیکھنے یا علم سکھانے کے ارادہ سے مسجد کی طرف گیا، اس کا اجر اس حاجی کے برابر ہے جس کا حج مکمل ہو۔

اسے امام طبرانی اور حاکم نے روایت کیا۔

  1. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم: مَنْ سَلَکَ طَرِيْقًا يَلْتَمِسُ فِيْهِ عِلْمًا سَهَلَ اﷲُ لَهُ بِهِ طَرِيْقًا إِلَی الْجَنَّةِ. وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوْتِ اﷲِ يَتْلُوْنَ کِتَابَ اﷲِ وَيَتَدَارَسُوْنَهُ بَيْنَهُمْ إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّکِيْنَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَاءِکَةُ، وَذَکَرَهُمُ اﷲُ فِيْمَنْ عِنْدَهُ. وَمَنْ بَطَّأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه.

أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الذکر والدعاء والتوبة والاستغفار، باب فضل الاجتماع علی تلاوة القرآن وعلی الذکر، 4/ 2074، الرقم/ 2699، وأحمد بن حنبل في المسند، 2/ 252، الرقم/ 7421، والترمذي في السنن، کتاب القراء ات، باب ما جاء أن القرآن أنزل علی سبعة أحرف، 5/ 195، الرقم/ 2945، وابن ماجه في السنن، المقدمة، باب فضل العلماء والحث علی طلب العلم، 1/ 82، الرقم/ 225.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص طلبِ علم کے لیے کسی راستہ پر چلتا ہے تو اللہ تعاليٰ اس کے ذریعے اس کیلئے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔ اور جو لوگ اللہ تعاليٰ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہو کر اللہ تعاليٰ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور اس کی درس و تدریس کرتے ہیں، ان پر اللہ تعاليٰ کی طرف سے سکون کی دولت نازل ہوتی ہے، اور رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے، اور فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعاليٰ اُن کا ذکر اُن کے سامنے کرتا ہے جو اس کے پاس ہوتے ہیں (یعنی فرشتوں کی مجلس میں اپنے ان بندوں کا تذکره کرتا ہے)۔ اور جس شخص کا عمل اسے پیچھے کر دے اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکتا۔

اس حدیث کو امام مسلم، احمد، ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved