Taleem awr Tallum ki Fazilat o Takrim

احادیث رسول ﷺ اور علم کے لیے سفر اختیار کرنا :احادیث رسول ﷺ اور علم کے لیے سفر اختیار کرنا

اَلرِّحْلَةُ فِي طَلَبِ أَحَادِيثِ رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم وَالْعِلْمِ

{احادیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور علم کے لیے سفر اختیار کرنا}

  1. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ بُرَيْدَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صلی الله عليه وآله وسلم رَحَلَ إِلَی فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ وَهُوَ بِمِصْرَ. فَقَدِمَ عَلَيْهِ فَقَالَ: أَمَا إِنِّي لَمْ آتِکَ زَاءِرًا وَلَکِنِّي سَمِعْتُ أَنَا وَأَنْتَ حَدِیثًا مِنْ رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم . رَجَوْتُ أَنْ يَکُونَ عِنْدَکَ مِنْهُ عِلْمٌ. قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ کَذَا وَکَذَا. قَالَ: فَمَا لِی أَرَاکَ شَعِثًا وَأَنْتَ أَمِيرُ الْأَرْضِ. قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم کَانَ يَنْهَانَا عَنْ کَثِیرٍ مِنْ الْإِرْفَاهِ. قَالَ: فَمَا لِي لَا أَرَی عَلَيْکَ حِذَائً. قَالَ: کَانَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم يَأْمُرُنَا أَنْ نَحْتَفِيَ أَحْيَانًا.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاؤدَ وَاللَّفَْظُ لَهُ وَالدَّارِمِيُّ.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند،6/ 22، الرقم/ 24015، وأبو داود في السنن، کتاب الترجل،4/ 75، الرقم/ 4160، والدارمي في السنن، المقدمة، باب الرحلة في طلب العلم واحتمال العناء فيه، 1/ 151، الرقم/ 571، والبيهقي في شعب الإيمان،5/ 227، الرقم/ 6468، والخطيب البغدادي في الرحلة في طلب الحديث/ 124، الرقم/ 39.

حضرت عبد اللہ بن بریدہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی، حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کی طرف روانہ ہوئے جو مصر میں تھے۔ پھر جب ان کے ہاں پہنچ گئے تو (صحابی نے)کہا: میں (صرف) آپ کی زیارت کے لیے نہیں آیا بلکہ میں نے اور آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک حدیث سنی تھی اور مجھے امید ہے کہ آپ کو میری نسبت بہتر یاد ہوگی۔ انہوں (حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ)نے کہا: وہ کون سی ہے؟ اُس صحابی رضی اللہ عنہ نے وہ بیان کردی اور(بیان کرنے کے بعد) کہا: میں آپ کے بال بکھرے ہوئے دیکھتا ہوں حالانکہ آپ اس سرزمین کے حاکم ہیں۔ (حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں زیادہ آرائش اور زیب و زینت سے منع فرمایا ہے لیکن کیا بات ہے کہ میں آپ کو ننگے پیر دیکھ رہا ہوں؟( صحابی رضی اللہ عنہ نے) کہا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں حکم فرمایا کرتے تھے کہ کبھی ننگے پیر بھی رہا کریں۔

اسے امام احمد، ابو داؤد نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ اور امام دارمی نے روایت کیا۔

  1. عَنْ کَثِيرِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي الدَّرْدَاءِ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ، فَجَاءَ هُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا الدَّرْدَاء ِ، إِنِّي جِئْتُکَ مِنْ مَدِينَةِ الرَّسُولِ صلی الله عليه وآله وسلم لِحَدِيثٍ بَلَغَنِي أَنَّکَ تُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم. مَا جِئْتُ لِحَاجَةٍ. قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُولُ: مَنْ سَلَکَ طَرِيقًا يَطْلُبُ فِيهِ عِلْمًا سَلَکَ اﷲُ بِهِ طَرِيقًا مِنْ طُرُقِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الْمَلَاءِکَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ، وَإِنَّ الْعَالِمَ لَيَسْتَغْفِرُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ، وَالْحِيتَانُ فِي جَوْفِ الْمَاءِ۔ وَإِنَّ فَضْلَ الْعَالِمِ عَلَی الْعَابِدِ کَفَضْلِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ عَلَی سَاءِرِ الْکَوَاکِبِ۔ وَإِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ۔ وَإِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَرَّثُوا الْعِلْمَ۔ فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ.

رَوَاهُ أَبُو دَاؤدَ وَابْنُ مَاجَه.

أخرجه أبو داود في السنن، کتاب العلم، باب الحث علی طلب العلم،3/ 317، الرقم/ 3641، وابن ماجه في السنن، المقدمة، باب فضل العلماء والحث في طلب العلم، 1/ 81، الرقم/ 223.

کثیر بن قیس نے بیان کیا ہے: میں دِمشق کی مسجد میں حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے کہا: اے ابو درداء! میں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک شہر سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں، مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک حدیث روایت کرتے ہیں۔ میں اسے (سننے کی) خاطر آیا ہوں (اس کے علاوہ) کسی اور غرض سے آپ کے پاس حاضر نہیں ہوا ہوں۔ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو علم حاصل کرنے کے لئے کسی راستے پر چلے گا تو اﷲ تعاليٰ اسے جنت کے راستوں میں سے ایک راستے پر چلائے گا اور علم حاصل کرنے والے کی خوشی کے لئے فرشتے اپنے پروں کو بچھا دیتے ہیں۔ اور عالم کے لئے آسمانوں اور زمین کی ہر چیز دعائے مغفرت کرتی ہے یہاں تک کہ پانی کے اندر مچھلیاں بھی۔ عالم کی عبادت کرنے والوں پر فضیلت ایسی ہے جیسی چودھویں رات کے چاند کی تمام ستاروں پر۔ علماء ہی انبیائے کرام کے وارث ہیں، کیونکہ انبیائے کرام کی میراث دینار یا درہم نہیں ہوتے (بلکہ) ان حضرات (انبیاء) کی میراث علم ہے۔ جس نے اسے حاصل کر لیا اس نے بہت بڑا حصہ پا لیا۔

اس حدیث کو امام ابو داود اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

  1. عَنِ ابْنِ عَبَّاس رضی الله عنهما قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اﷲِِ صلی الله عليه وآله وسلم قُلْتُ لِرَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ: يَا فُلاَنُ، هَلُمَّ، فَلْنَسْأَلْ أَصْحَابَ النَّبيِِّ صلی الله عليه وآله وسلم فَإِنَّهُمْ الْيَوْمَ کَثِيرٌ. فَقَالَ: وَا عَجَباً لَکَ، يَا ابْنَ عَبَّاسٍ. أَتَرَی النَّاسَ يَحْتَاجُونَ إِلَيْکَ وَفِي النَّاسِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم مَنْ تَرَی. فَتَرَکَ ذٰلِکَ وَأَقْبَلْتُ عَلَی الْمَسْأَلَةِ. فَإِنْ کَانَ لَيَبْلُغُنِي الْحَدِيثُ عَنِ الرَّجُلِ فَآتِيهِ وَهُوَ قَاءِلٌ، فَأَتَوَسَّدُ رِدَاءِي عَلَی بَابِهِ، فَتَسْفِي الرِّيْحُ عَلَی وَجْهِي التُّرَابَ، فَيَخْرُجُ فَيَرَانِي. فَيَقُولُ: يَا ابْنَ عَمِّ رَسُولِ اﷲِِ، مَا جَاءَ بِکَ؟ أَلَا أَرْسَلْتَ إِلَيَّ فَآتِيَکَ! فَأَقُولُ: لَا، أَنَا أَحَقُّ أَنْ آتِيَکَ، فَأَسْأَلُهُ عَنِ الْحَدِيثِ. قَالَ: فَبَقِيَ الرَّجُلُ حَتَّی رَآنِي وَقَدِ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيَّ. فَقَالَ: کَانَ هٰذَا الْفَتَی أَعْقَلُ مِنِّي.

رَوَاه الدَّارِمِيُّ.

أخرجه الدارمي في السنن، المقدمة، باب الرحلة في طلب العلم واحتمال العناء فيه، 1/ 150، الرقم/ 570، وابن سعد في الطبقات الکبری،2/ 367، وابن عبد البر في جامع بيان العلم وفضله، 1/ 189، الرقم،/ 375، والخطيب البغدادي في الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع،1/ 158، الرقم،/ 215، وذکره الذهبي في سيرأعلام النبلاء،3/ 343.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوگیا تو میں نے ایک انصاری صحابی سے کہا: اے فلاں! آؤ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام سے (احادیث کے بارے میں) دریافت کریں کیونکہ آج تو ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ وہ شخص بولا اے ابن عباسk! مجھے آپ پر حیرت ہوتی ہے! کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اس بارے میں لوگوں کو آپ کی ضرورت ہوگی حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے اتنے لوگ(اِبلاغِ علم کے لیے) موجود ہیں جو آپ بھی جانتے ہیں۔ (حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں) اس شخص نے احادیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے دریافت کرنے کے اس کام کو ترک کر دیا۔ جب کہ میں اس کام پر لگ گیا۔ جب بھی مجھے کسی شخص کے پاس کسی حدیث کا پتا چلتا تو میں اس کے پاس آتا۔ اگر وہ دوپہر کے وقت سو رہے ہوتے تو میں ان کے دروازے پر چادر سر کے نیچے رکھ کر لیٹ جاتا۔ ہوا چلتی تو مٹی میرے چہرے پر پڑتی۔ پھر وہ صحابی رضی اللہ عنہ باہر آتے اور مجھے دیکھتے تو کہتے: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچازاد! آپ کس لیے تشریف لائے ہیں۔ آپ نے مجھے پیغام کیوں نہیں بھجوایا، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاتا! میں کہتا کہ نہیں آپ کی خدمت میں آنا میرا ہی حق (فرض) بنتا تھا۔ پھر میں ان سے اُس حدیث کے بارے میں سوال کرتا۔

حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں پھر ایک وقت وہ آیا کہ اس انصاری نے مجھے دیکھا کہ لوگ میرے ارد گرد (علم حدیث کیلئے) ہجوم کیے ہوئے ہیں تو کہا: یہ نوجوان مجھ سے زیادہ سمجھدار تھا۔

اس حدیث کو امام دارمی نے روایت کیا ہے۔

قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما: طَلَبْتُ الْعِلْمَ فَلَمْ أَجِدْهُ أَکْثَرَ مِنْهُ فِي الأَنْصَارِ، فَکُنْتُ آتِي الرَّجُلَ فَأَسْأَلُ عَنْهُ، فَيُقَالُ لِي نَاءِمٌ فَأَتَوَسَّدُ رِدَائِي، ثُمَّ أَضْطَجِعُ حَتَّی يَخْرُجَ إِلَی الظُّهْرِ. فَيَقُولُ: مَتَی کُنْتَ هَا هُنَا يَا ابْنَ عَمِّ رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم ؟ فَأَقُولُ: مُنْذُ طَوِيلٍ. فَيَقُولُ: بِئْسَمَا صَنَعْتَ، هَلاَّ أَعْلَمْتَنِي؟ فَأَقُولُ: أَرَدْتُ أَنْ تَخْرُجَ إِلَيَ وَقَدْ قَضَيْتَ حَاجَتَکَ.

رَواه الدَّارِمِيُّ.

أخرجه الدارمي في السنن، المقدمة، باب الرحلة في طلب العلم واحتمال العناء فيه،1/ 150، الرقم،/ 566.

حضرت عبد اﷲ بن عباس بیان کرتے ہیں: میں نے علم حاصل کیا اور سب سے زیادہ اسے انصار سے حاصل کیا۔ میں کسی صحابی رضی اللہ عنہ کے ہاں آتا تھا، تو ان کے بارے میں دریافت کرتا (اگر) مجھے بتایا جاتا کہ وہ سو رہے ہیں، تو میں اپنی چادر سر کے نیچے رکھ کر لیٹ جاتا یہاں تک کہ ظہر کی نماز کے لئے وہ خود باہر تشریف لاتے تو دریافت کرتے: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد بھائی! آپ کب سے یہاں ہیں؟ میں جواب دیتا کافی دیر ہوگئی ہے تو وہ کہتے: آپ نے (میرے انتظار کی زحمت اٹھا کر) اچھا نہیں کیا۔ آپ نے مجھے اطلاع کیوں نہیں کی (تاکہ میں خود آپ کے پاس حاضر ہو جاتا)؟ تو میں جواب دیتا کہ میری خواہش تھی کہ آپ میری طرف اس وقت تشریف لائیں جب آپ اپنی ضرورت سے فارغ ہو جائیں۔

اس حدیث کو امام دارمی نے روایت کیا ہے۔

  1. عَنِ ابْنِ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ بُسْرَ بْنَ عُبَيْدِ اﷲِِ الْحَضْرَمِيَّ الشَّامِيَّ، يَقُوْلُ: إِنْ کُنْتُ لَأَرْکَبُ إِلَی الْمِصْرِ مِنَ الأَمْصَارِ فِی الْحَدِيثِ الْوَاحِدِ لِأَسْمَعَهُ.

رَوَاه الدَّارِمِيُّ.

أخرجه الدارمي في السنن، المقدمة، باب الرحلة في طلب العلم واحتمال العناء فيه، 1/ 149، الرقم/ 563، وابن عبد البر في جامع بيان العلم وفضله،1/ 179، الرقم/ 375، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 10/ 165، والخطيب البغدادی في الرحلة فی طلب الحديث، 1/ 147، الرقم/ 57.

حضرت ابن جابر نے کہا: میں نے حضرت بسر بن عبید اللہ حضرمی شامی کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: میں فقط ایک حدیث کو سننے کی خاطر ایک شہر سے دوسرے شہر تک سفر کرتا رہا ہوں۔

اس حدیث کو امام دارمی نے روایت کیا ہے۔

  1. رَوَی الْحُمَيْدِيُّ فِي الْمُسْنَدِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، يَقُوْلُ: خَرَجَ أَبُوْ أَيُوْبَ إِلَی عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ وَهُوَ بِمِصْرَ، يَسْأَلُهُ عَنْ حَدِيْثٍ سَمِعَهُ مِنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم. لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ سَمِعَهُ مِنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم غَيْرُهُ وَغَيْرُ عُقْبَةَ۔ فَلَمَّا قَدِمَ أَتَی مَنْـزِلَ مُسَلَّمَةَ بْنِ مُخَلَّدٍ الْأَنْصَارِيِّ۔ وَهُوَ أَمِيْرُ مِصْرَ. فَأُخْبِرَ بِهِ، فَعَجِلَ فَخَرَجَ إِلَيْهِ، فَعَانَقَهُ، ثُمَّ قَالَ: مَا جَاء َ بِکَ، يَا أَبَا أَيُوْبَ؟ فَقَالَ: حَدِيْثٌ، سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم ، لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ سَمِعَهُ مِنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم غَيْري وَغَيْرُ عُقْبَةَ. فَابْعَثْ مَنْ يَدُلُّنِي عَلَی مَنْـزِلِهِ. قَالَ: فَبَعَثَ مَعَهُ مَنْ يَدُلُّهُ عَلَی مَنْـزِلِ عُقْبَةَ. فَأُخْبِرَ عُقْبَةُ بِهِ، فَعَجِلَ فَخَرَجَ إِلَيْهِ، فَعَانَقَهُ وَقَالَ: مَا جَاءَ بِکَ، يَا أَبَا أَيُوْبَ؟ فَقَالَ: حَدِيْثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم ، لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ سَمِعَهُ غَيْرِي وَغَيْرُکَ فِي سِتْرِ الْمُؤْمِنِ. قَالَ عُقْبَةُ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: مَنَ سَتَرَ مُؤْمِنًا فِي الدُّنْيَا عَلَی خِزْیِهِ، سَتَرَهُ ﷲُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. فَقَالَ لَهُ أَبُوْ أَيُوْبَ: صَدَقْتَ. ثُمَّ انْصَرَفَ أَبُوْ أَيُوْبَ إِلَی رَاحِلَتِهِ، فَرَکِبَهَا رَاجِعًا إِلَی الْمَدِيْنَةِ.

رَوَاهُ الْحُمَيْدِيُّ وَالْحَاکِمُ.

أخرجه الحميدي في المسند، 1/ 189، الرقم/ 384، والحاکم في معرفة علوم الحديث، 1/ 40، والخطيب البغدادي في الرحله في طلب الحديث / 118-120.

حمیدی نے اپنی مسند میں عطاء بن رباح سے روایت کیا ہے، وہ بیان کرتے ہیں: حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے ملنے گئے۔ وہ اس وقت مصر میں مقیم تھے۔ وہ ان سے ایک حدیث مبارکہ کے بارے میں دریافت کرنا چاہتے تھے جو انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی۔ اور اس وقت حضرت ابو ایوب اور حضرت عقبہ رضی اللہ عنہما کے علاوہ کوئی ایسا شخص زندہ نہ تھا جنہوں نے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے (بلا واسطہ) سنا ہو۔ جب وہ مسلمہ بن مخلد الانصاری رضی اللہ عنہ کے مکان پر آئے جو ان دنوں مصر کے گورنر تھے۔ انہیں اطلاع دی گئی تو وہ فوراً باہر آئے اور حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے معانقہ کیا اور کہا: اے ابو ایوب! آپ یہاں کیسے تشریف لائے؟ انہوں نے کہا: ایک حدیث مبارکہ کی غرض سے آیا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے براہ راست سنی ہے۔ اب میرے اور عقبہ کے علاوہ کوئی شخص زندہ نہیں رہا جس نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے براہ راست سنی ہو۔ کسی شخص کو میرے ساتھ بھیج دیں جو مجھے ان کا گھر دکھائے۔ حضرت مسلّمہ نے ایک شخص کو میرے ساتھ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہکا گھر دکھانے کے لئے بھیج دیا۔ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہکو ان کے آنے کی اطلاع دی گئی تو وہ فوراً باہر تشریف لائے، ان سے معانقہ کیا اور کہا: اے ابو ایوب، آپ کا یہاں (مدینہ منورہ سے دور مصر میں) کیسے آنا ہوا؟ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے کہا: مومن کی پردہ پوشی کے بارے میں ایک حدیث کی (سماعت اور تصدیق کی) غرض سے آیا ہوں جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے۔ اب میرے اور آپ کے علاوہ کوئی اور شخص زندہ نہیں جس نے اس حدیث کو سنا ہو۔ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں آپ صحیح کہہ رہے ہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مومن کی سبکی پر اس کی پردہ پوشی کی، قیامت کے دن اللہ تعاليٰ اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے (فرمان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سن کر) ان سے کہا: آپ نے ٹھیک کہا۔ پھر حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ اپنی سواری کی طرف پلٹے اور مدینہ منورہ جانے کے لئے اس پر سوار ہو گئے۔

اس حدیث کو امام حمیدی اور حاکم نے روایت کیا ہے۔

  1. عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ: کُنَّا نَسْمَعُ الرِّوَايَةَ بِالْبَصْرَةِ عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم، فَلَمْ نَرْضَ حَتَّی رَکِبْنَا إِلَی الْمَدِينَةِ فَسَمِعْنَاهَا مِنْ أَفْوَاهِهِمْ.

رَواه الدَّارِمِيُّ.

أخرجه الدارمي في السنن، المقدمة، باب الرحلة في طلب العلم واحتمال العناء فيه،1/ 149، الرقم،/ 564، وابن عساکر في تاريخ دمشق الکبير،18/ 174، وابن سعد في الطبقات الکبری،7/ 113، والخطيب البغدادي في الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع،2/ 224، الرقم/ 1684.

حضرت ابو العالیہ بیان کرتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ l کے حوالے سے بصرہ میں کچھ احادیث سنتے لیکن ہم اس وقت تک مطمئن نہ ہوتے جب تک مدینہ منورہ جاکر ان کی زبانی ان احادیث کو خود سن نہ لیتے۔

اِس حدیث کو امام دارمی نے روایت کیا ہے۔

  1. عَنْ مَالِکٍ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ سَعِيْدَ بْنَ الْمُسَيَبِ کَانَ يَقُولُ: إِنْ کُنْتُ لَأَسِيْرُ اللَّيَالِيَ وَالْأَيَامَ فِي طَلَبِ الْحَدِيْثِ الْوَاحِدِ.

رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ وَابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ.

أخرجه البيهقي في المدخل إلی السنن الکبری،/ 277، 278، الرقم/ 401، وابن عبد البر في جامع بيان العلم وفضله، 1/ 94، وابن سعد في الطبقات الکبری،2/ 381، والخطيب في الکفاية/ 402، وفي الرحلة في طلب العلم/ 127، وذکره الذهبي في تذکرة الحفاظ،1/ 55، وفي سير أعلام النبلاء، 4/ 222.

امام مالک نے بیان کیا: مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت سعید بن مسیب فرمایا کرتے تھے: میں ایک حدیث کی تلاش میں کئی کئی دن اور راتوں کو سفرکرتا تھا۔

  1. عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ: لَقَدْ أَقَمْتُ بِالْمَدِینَةِ ثَلاَثاً مَا لِي حَاجَةٌ إِلاَّ وَقَدْ فَرَغْتُ مِنْهَا إِلاَّ أَنَّ رَجُلاً کَانُوا يَتَوَقَّعُونَهُ کَانَ يَرْوِي حَدِيْثًا فَأَقَمْتُ حَتّٰی قَدِمَ فَسَأَلْتُهُ.

رَوَاه ُ الدَّارِمِيُّ.

أخرجه الدارمي في السنن، المقدمة، باب الرحلة في طلب العلم واحتمال العناء فيه،1/ 149، الرقم/ 562، وابن عساکر في تاريخ دمشق الکبير، 28/ 295، والرامهرمزي في المحدث الفاصل/ 223.

حضرت ابو قلابہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ میں نے مدینہ منورہ میں تین دن قیام کیا۔ میرا جو بھی کام تھا میں اس سے فارغ ہوگیا۔ لوگ ایک ایسے صاحب کے آنے کی توقع کر رہے تھے جو ایک حدیث کی روایت کیا کرتے تھے۔ میں وہاں ٹھہرگیا۔ جب وہ صاحب آئے تو میں نے ان سے (اس حدیث کے متعلق) سوال کیا۔

اس حدیث کو امام دارمی نے روایت کیا ہے۔

  1. عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: کُنْتُ آتِي بَابَ عُرْوَةَ، فَأَجْلِسُ بِالْبَابِ، وَلَوْ شِئْتُ أَنْ أَدْخُلَ لَدَخَلْتُ وَلٰـکِنْ إِجْلَالًا لَهُ.

رَوَاه ُ الدَّارِمِيُّ.

أخرجه الدارمي في السنن، المقدمة، باب الرحلة في طلب العلم واحتمال العناء فيه،1/ 150، الرقم/ 569.

امام زہری بیان کرتے ہیں: میں (علمِ حدیث کی غرض سے) حضرت عروہ رضی اللہ عنہ کے دروازے پر حاضر ہوتا اور دروازے پر بیٹھ جاتا، اگر میں چاہتا تو اندر جاسکتا تھا لیکن میں نے ان کے احترام میں ایسا نہیں کیا۔

اس حدیث کو امام دارمی نے روایت کیا ہے۔

وَفِي رِوَايَةِ الشَّعْبِيِِّ، قَالَ: لَوْ أَنَّ رَجُلًا سَافَرَ مِنْ أَقْصَی الشَّامِ إِلٰی أَقْصَی الْيَمَنِ فَحَفِظَ کَلِمَةً تَنْفَعُهُ فِيْمَا يَسْتَقْبِلُ مِنْ عُمْرِهِ، رَأَيْتُ أَنَّ سَفَرَهُ لَمْ يَضِعْ.

رَوَاهُ أَبُوْ نُعَيْمٍ وَابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ وَالْخَطِيْبُ.

أخرجه أبو نعيم في حلية الأولياء،4/ 313، وابن عبد البر في جامع بيان العلم، 1/ 453، الرقم/ 431، والخطيب في الرحلة في طلب الحديث،1/ 96، الرقم/ 27، وذکره ابن الجوزي في صفة الصفوة،3/ 75-76، والعيني في عمدة القاري، 2/ 102.

حضرت شعبی سے ایک اور روایت ہے۔ انہوں نے کہا: اگر کوئی شخص شام کے دور دراز علاقے سے یمن کے کسی دور دراز علاقے کی طرف سفر کرے اور صرف ایک کلمہ سیکھے جو اس کی آئندہ زندگی کے لئے فائدہ مند ہو تو میرے خیال میں اس کا یہ سفر رائیگاں نہیں گیا۔

اس حدیث کو امام ابو نعیم، ابن عبدالبر اور خطیب نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved