The Best Way of Excellence of Merits and Virtues of Prophets (A.S.)

حصہ سوم

فَصْلٌ فِي مَنَاقِبِ مُوْسَی کَلِيْمِ اللهِ عليه السلام

{حضرت موسیٰ کلیم الله علیہ السلام کے مناقب کا بیان}

108/ 1. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِيْنَةَ وَجَدَهُمْ يَصُومُونَ يَومًا يَعْنِي عَاشُوْرَاءَ؟ فَقَالُوْا: هَذَا يَومٌ عَظِيْمٌ وَهُوَ يَوْمٌ نَجَّی اللهُ فِيْهِ مُوسَی وَأَغْرَقَ آلَ فِرْعَوْنَ فَصَامَ مُوْسَی شُکْرًا ِللّٰهِ. فَقَالَ: أَنَا أَوْلَی بِمُوْسَی مِنْهُمْ فَصَامَهُ وَأَمَرَ بَصِيَامِهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم: أَخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الأَنبياء، باب: قول الله تعالی: وهل أَتاک حديث موسی [طه:9]، 3/ 1244، الرقم: 3216، ومسلم في الصحيح، کتاب: الصيام، باب: صوم يوم عاشوراء، 2/ 796، الرقم: 1130، وأَبوداود في السنن، کتاب: الصوم، باب: في صوم يوم عاشوراء، 2/ 326، الرقم: 2444، وابن ماجة في السنن، کتاب: الصيام، باب: صيام يوم عاشوراء، 1/ 552، الرقم: 1734، والنسائي في السنن الکبری، 2/ 156. 157، الرقم: 2834. 2836، وابن أَبي شيبة في المصنف، 2/ 311، الرقم: 9359، وعبد الرزاق في المصنف، 4/ 288، الرقم: 7843، والطبراني في المعجم الکبير، 12/ 24، الرقم: 12362، والبيهقي في السنن الکبری، 4/ 286، الرقم: 8180، وفي شعب الإيمان، 3/ 361، الرقم: 3776.

’’حضرت عبدالله بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی جب مدینہ منورہ میں تشریف آوری ہوئی تو ان لوگوں کو آپ ﷺ نے عاشورہ کا روزہ رکھتے ہوئے پایا۔ (آپ ﷺ کے دریافت کرنے پر) یہودی کہنے لگے: یہ بڑی عظمت والا دن ہے۔ اس روز اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو (فرعون کے لشکر سے) بچایا اور آل فرعون کو غرق کیا تو شکر گزاری کے طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس دن روزہ رکھا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میں یہودیوں کی نسبت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زیادہ قریب ہوں۔ پس آپ ﷺ نے خود روزہ رکھا اور دوسروں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

109/ 2. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: أَرْسِلَ مَلَکُ الْمَوْتِ إِلَی مُوسَی عليه السلام، فَلَمَّا جَاءَ هُ صَکَّهُ فَفَقَأَ عَيْنَهُ فَرَجَعَ إِلَی رَبِّهِ فَقَالَ: أَرْسَلْتَنِي إِلَی عَبْدٍ لَا يُرِيْدُ الْمَوتَ فَرَدَّ اللهُ عَلَيْهِ عَيْنَهُ فَقَالَ: ارْجِعْ فَقُلْ لَهُ: يَضَعُ يَدَهُ عَلَی مَتْنِ ثَورٍ فَلَهُ بِکُلِّ مَا غَطَّتْ بِهِ يَدُهُ بِکُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةً قَالَ: أَيْ رَبِّ، ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ثُمَّ الْمَوْتُ. قَالَ: فَالآنَ. فَسَأَلَ اللهَ أَنْ يُدْنِيَهُ مِنَ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: فَلَوْ کُنْتُ ثَمَّ لَأَرَيْتُکُمْ قَبْرَهُ إِلَی جَانِبِ الطَّرِيْقِ عِنْدَ الْکَثِيْبِ الْأَحْمَرِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم: أَخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الجنائز، باب: من أَحب الدفن في الأَرض المقدسة التي أَو نحوها، 1/ 449، الرقم: 1274، في کتاب: الأَنبياء، باب: وفاة موسٰی عليه السلام وذکره بعد، 3/ 1250، الرقم: 3226، ومسلم في الصحيح، کتاب: الفضائل، باب: من فضائل موسٰي عليه السلام، 4/ 1842، الرقم: 2372، والنسائي في السنن، کتاب: الجنائز، باب: نوع آخر، 4/ 118. 119، الرقم: 2089، وأَحمد بن حنبل في المسند، 2/ 269، الرقم: 7634، وابن حبان في الصحيح، 14/ 112، الرقم: 6223، وابن راشد في الجامع، 11/ 274، وابن أَبي عاصم في السنة، 1/ 266، الرقم: 599.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس ملک الموت (حضرت عزرائیل علیہ السلام) کو بھیجا گیا، جب ان کے پاس ملک الموت آیا تو انہوں نے ملک الموت کو ایک تھپڑ مارا اور ان کی آنکھ پھوڑ دی۔ پس ملک الموت نے اپنے رب کے پاس جا کر عرض کیا: اے میرے رب! تو نے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیجا ہے جو مرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ الله تعالیٰ نے اس کی آنکھ لوٹا دی اور فرمایا: ان کے پاس دوبارہ جاؤ اور ان سے کہو کہ ایک بیل کی پشت پر اپنا ہاتھ رکھ دیں۔ پس جتنے بال ان کے ہاتھ کے نیچے آئیں گے اتنے سال ان کی عمر بڑھا دی جائے گی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: اے رب! پھر کیا ہو گا؟ فرمایا: پھر موت ہے، کہا: تو اب ہی سہی، پھر الله تعالیٰ سے یہ دعا کی: اے الله! مجھے ارض مقدسہ سے ایک پتھر پھینکے جانے کے فاصلہ پر کر دے (تاکہ میری روح اس مقدس مقام پر قبض ہو اور میری تدفین بھی اس مقدس مقام پر ہو۔ پس ان کی دعا قبول ہو گئی۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر میں اس جگہ ہوتا تو تمہیں سرخ ٹیلے کے نزدیک راستہ کی ایک جانب ان کی قبر دکھاتا۔‘‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

110/ 3. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ: أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: أَتَيْتُ، (وَفِي رِوَايَةِ هَدَّابٍ:) مَرَرْتُ عَلَی مُوسَی لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِيْ عِنْدَ الْکَثِيْبِ الْأَحْمَرِ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنِّسَائِيُّ.

الحديث رقم 3: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الفضائل، باب: من فضائل موسي عليه السلام، 4/ 1845، الرقم: 2375، والنسائي في السنن، کتاب قيام الليل وتطوع النهار، باب: ذکر صلاة نبي الله موسي عليه السلام، 3/ 215، الرقم: 161. 1632، وفي السنن الکبری، 1/ 419، الرقم: 1328، وابن حبان في الصحيح، 1/ 242، الرقم: 50، والطبراني في المعجم الأوسط، 8/ 13، الرقم: 7806، وأحمد بن حنبل في المسند، 3/ 148، الرقم: 12526. 13618، وابن أبی شيبة في المصنف، 7/ 335، الرقم: 36575، وأبويعلی في المسند، 6/ 71، الرقم: 3325، وعبد بن حميد في المسند، 1/ 362، الرقم: 1205، والديلمي في مسند الفردوس، 4/ 170، الرقم: 6529، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8/ 205، والعسقلاني في فتح الباري، 6/ 444.

اسے امام مسلم اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

111/ 4. عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضی الله عنه قَالَ: حَجَّ مُوْسَی بْنُ عِمْرَانَ عليه السلام فِي خَمْسِيْنَ أَلْفًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيْلَ وَعَلَيْهِ عِبَاءَ تَانِ قِطْوَانِيَتَانِ وَهُوَ يُلَبِّي: لَبَّيْکَ، اللَّهُمَّ لَبَّيْکَ، لَبَّيْکَ تَعَبُّدًا وَرِقًّا لَبَّيْکَ، أَنَا أَعْبُدُکَ، أَنَا لَدَيْکَ، لَدَيْکَ يَا کَشَّافَ الْکُرَبِ قَالَ: فَجَاوَبَتْهُ الْجِبَالُ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ وَابْنُ أَبِي عَاصِمٍ.

الحديث رقم: أَخرجه البيهقي في السنن الکبری، 5/ 177، الرقم: 9619، والطبراني في المعجم الکبير، 17/ 16، الرقم: 12، وابن أَبي عاصم في کتاب الزهد، 1/ 87، وابن عدي في الکامل، 6/ 56، والفاکهي في أَخبار مکة، 4/ 268. 269، الرقم: 2601، والذهبي في ميزان الاعتدال، 5/ 494، وابن عساکر في تاريخ دمشق الکبير، 61/ 167، والهيثمي في مجمع الزوائد، 6/ 68. .

اس حدیث کو امام بیہقی نے روایت کیا ہے اور اسی طرح کی حدیث امام طبرانی اور ابن عاصم نے بھی روایت کی ہے۔

112/ 5. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: مُوْسَی بْنُ عِمْرَانَ صَفِيُّ اللهِ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرِيُّ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 629، الرقم: 4100، والطبري في جامع البيان، 20/ 105، والمناوي في فيض القدير، 6/ 247.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام الله تعالیٰ کے منتخب نبی تھے۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم اور طبری نے روایت کیا ہے اور امام حاکم کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے۔

113/ 6. عَنْ أَبِي الْحُوَيْرَثِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ قَالَ: مَکَثَ مُوْسَی بَعْدَ أَنْ کَلَّمَهُ اللهُ أَرْبَعِيْنَ يَوْمًا لَا يَرَاهُ أَحَدٌ إِلَّا مَاتَ مِنْ نُوْرِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 629، الرقم: 4101، و عبد الله بن أحمد في السنة، 2/ 278، الرقم: 1097، وابن معين في التاريخ (رواية الدوري)، 3/ 183، الرقم: 824، والذهبي في ميزان الاعتدال، 4/ 319، 7/ 15.

’’حضرت ابوحویر عبدالرحمن بن معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام الله تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کے بعد چالیس دن تک ایک جگہ ٹھہرے رہے جو بھی آپ کو دیکھتا وہ الله رب العالمین کے نور کی تاب نہ لا کر فوت ہو جاتا۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم اور عبدالله بن احمد نے روایت کیا ہے۔

114/ 7. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: لَمَّا کَلَّمَ اللهُ مُوْسَی، کَانَ يُبْصِرُ دَبِيْبَ النَّمْلِ عَلَی الصَّفَا فِي الَّليْلَةِ الظُّلْمَاءِ مِنْ مَسِيْرَةِ عَشْرَةِ فَرَاسِخَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالدَّيْلَمِيُّ.

الحديث رقم: أَخرجه الطبراني في المعجم الصغير، 1/ 65، الرقم: 77، والديلمي في مسند الفردوس، 3/ 424، الرقم: 5301، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 2/ 247، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8/ 203.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہم کلام ہوا تو آپ علیہ السلام تاریک رات میں دس فراسخ (تیس میل) کی مسافت سے واضح طور پر چیونٹی کے رینگنے کو دیکھ لیتے تھے۔‘‘

اس حدیث کو امام طبرانی اور دیلمی نے روایت کیا ہے۔

115/ 8. عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضی الله عنه. قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی مُوْسَی ابْنِ عِمْرَانَ فِي هَذَا الْوَادِي مُحْرَمًا بَيْنَ قِطْوَانِيَتَيْنِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَبُويَعْلَی بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ وَأَبُونُعَيْمٍ.

الحديث رقم: أَخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 10/ 142، الرقم: 10255، وفي المعجم الأَوسط، 6/ 308، الرقم: 6487، وأَبو يعلی في المسند، 9/ 27، الرقم: 5093، وأَبو نعيم في حلية الأَولياء، 4/ 189، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2/ 118، الرقم: 1740، والهيثمي في مجمع الزوائد، 3/ 221، 8/ 204.

’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: گویا میں حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام کو اس وادی میں دو قطوانی چادروں میں حالتِ اِحرام میں دیکھ رہا ہوں۔‘‘

اس حدیث کو امام طبرانی، ابویعلی اور ابو نعیم نے اسناد حسن کے ساتھ روایت کیا ہے۔

15. فَصْلٌ فِي مَنَاقِبِ هَارُوْنَ عليه السلام

{حضرت ہارون علیہ السلام کے مناقب کا بیان}

116/ 1. عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبَّهٍ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ هَارُوْنُ بْنُ عِمْرَانَ فَصِيْحَ اللِّسَانِ بَيِّنَ الْمَنْطِقِ يَتَکَلَّمُ فِي تُؤَدَةٍ وَيَقُوْلُ بِعِلْمٍ وَحِلْمٍ، وَکَانَ أَطْوَلَ مِنْ مُوْسَی طُوْلًا وَأَکْبَرَهُمَا فِي السِّنِّ وَکَانَ أَکْثَرَهُمَا لَحْمًا وَأَبْيَضَهُمَا جِسْمًا وَأَعْظَمَهُمَا أَلْوَاحًا، وَکَانَ مُوْسَی رَجُلًا جَعْدًا آدَمَ طِوَالًا کَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوْئَةَ وَلَمْ يَبْعَثِ اللهُ نَبِيًّا إِلَّا وَقَدْ کَانَتْ عَلَيْهِ شَامَةُ النُّبُوَّةِ فِي يَدِهِ الْيُمْنَی إِلَّا أَنْ يَکُوْنَ نَبِيُنَا مُحَمَّدٌ ﷺ فَإِنَّ شَامَةَ النُّبُوَّةِ کَانَتْ بَيْنَ کَتْفَيْهِ، وَقَدْ سُئِلَ نَبِيُنَا صلي الله عليه واله وسلم عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ: هَذِهِ الشَّامَةُ الَّتِي بَيْنَ کَتْفَيَّ شَامَةُ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي لِأَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَلَا رَسُوْلٌ.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 631، الرقم: 4105.

’’حضرت وھب بن منبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ہارون بن عمران علیہ السلام فصیح اللسان اور واضح کلام فرمانے والے تھے۔ آپ پرسکون لہجہ میں بات کرتے تھے اور علم و حلم کی بات کرتے تھے اور قد میں آپ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے لمبے تھے اور عمر میں بھی ان سے بڑے تھے اور ان سے زیادہ پرگوشت اور سفید جسم والے تھے اور آپ کے جسم کی ہڈیاں بھی ان کے جسم کی ہڈیوں سے بڑی تھیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام گھنگریالے بالوں والے، گندم گوں اور لمبے قد کے مالک تھے گویا کہ آپ قبیلہ شنوہ کے کوئی شخص ہوں۔ الله تعالیٰ نے کسی نبی کو بھی نہیں بھیجا مگر یہ کہ اس کے دائیں ہاتھ میں مہرِ نبوت ہوتی تھی سوائے ہمارے نبی مکرم ﷺ کے۔ پس آپ کی مہرِ نبوت آپ کے مبارک شانوں کے درمیان تھی۔ حضور نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ جو مہر میرے شانوں کے درمیان ہے یہ (میری اور) مجھ سے پہلے مبعوث ہونے والے انبیاء کرام علیہم السلام کی مہر ہے کیونکہ اب میرے بعد نہ کوئی نبی ہے نہ رسول ہے (اس لئے میرے بعد کسی کے لئے بھی ایسی مہر نہیں ہو گی)۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا۔

117/ 2. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما عَنْ عَلِيٍّ رضی الله عنه فِي قَوْلِهِ ل: {يَاأَيُهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِيْنَ آذَوْا مُوسَی فَبَرَّأَهُ اللهُ مِمَّا قَالُوْا}، [الأَحزاب، 33:69]، قَالَ: صَعِدَ مُوْسَی وَهَارُوْنُ الْجَبَلَ فَمَاتَ هَارُوْنُ فَقَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيْلَ لِمُوْسَی: أَنْتَ قَتَلْتَهُ کَانَ أَشَدَّ حُبًّا لَنَا مِنْکَ وَأَلْيَنَ لَنَا مِنْکَ فَآذَوْهُ فِي ذَلِکَ فَأَمَرَ اللهُ الْمَلَائِکَةَ فَحَمَلَتْهُ فَمَرُّوا بِهِ عَلَی مَجَالِسِ بَنِي إِسْرَائِيْلَ حَتَّی عَلِمُوا بِمَوتِهِ فَدَفَنُوهُ وَلَمْ يَعْرِفْ قَبْرَهُ إِلَّا الرَّخَمُ وَأَنَّ اللهَ جَعَلَهُ أَصَمَّ أَبْکَمَ.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالْمَقْدَسِيُّ وَإِسْنَادُهُ صَحِيْحٌ.

وَقَالَ: الْحَاکِمُ هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 633، الرقم: 4110، وأبوالمحاسن في معتصر المختصر، 2/ 157، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 2/ 232، الرقم: 611، والمحاملي في الأمالي، 1/ 195، الرقم: 176، والعسقلاني في فتح الباري، 8/ 535، والطبري في جامع البيان، 22/ 52، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 3/ 521.

’’حضرت عبدالله بن عباس رضی الله عنہما حضرت علی رضی اللہ عنہ سے الله تعالیٰ کے اس فرمان: {يَا أَيُهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِيْنَ آذَوْا مُوسَی فَبَرَّأَهُ اللهُ مِمَّا قَالُوْا} ’’اے ایمان والو! تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو (گستاخانہ کلمات کے ذریعے) اذیت پہنچائی۔ پس الله تعالیٰ نے انہیں ان باتوں سے بے عیب ثابت کر دیا جو وہ کہتے تھے۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام ایک پہاڑ پر چڑھے۔ پس اس پہاڑ پر حضرت ہارون علیہ السلام وفات پا گئے (یہ خبر سن کر) بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ آپ نے انہیں قتل کیا ہے وہ آپ سے زیادہ ہم سے پیار کرنے والے اور ہمارے لئے نرم دل تھے۔ پس انہوں نے اس معاملہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اذیت دی۔ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو حکم دیا تو وہ حضرت ہارون علیہ السلام کے جسدِ اقدس کو اٹھا کر بنی اسرائیل کی مجالس کے پاس سے گزرے یہاں تک کہ وہ ان کی موت کو جان گئے۔ پھر انہوں نے حضرت ہارون علیہ السلام کو دفن کر دیا اور ان کی قبر مبارک کو گدھ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا اور الله تعالیٰ نے اسے گونگا بہرا بنایا ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم اور ضیاء مقدسی نے اسناد صحیح کے ساتھ روایت کیا اور امام حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔

16. فَصْلٌ فِي مَنَاقِبِ دَاوُدَ عليه السلام

{حضرت داود علیہ السلام کے مناقب کا بیان}

118/ 1. عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رضي الله عنهما قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ ﷺ: أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَی اللهِ صِيَامُ دَاوُدَ کَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَی اللهِ صَلَاةُ دَاوُدَ کَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم: أَخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الأَنبياء، باب: أَحب الصلاة إلی الله صلاة داود، 3/ 1257، الرقم: 3238، ومسلم في الصحيح، کتاب: الصيام، باب: النهي عن صوم الدهر لمن تضرر به أَو فوت به حقا، 2/ 816، الرقم: 1159، وأَبو داود في السنن، کتاب: الصوم، باب: في صوم يوم وفطر يوم، 2/ 327، الرقم: 2448، والنسائي في السنن، کتاب: قيام الليل وتطوع النهار، باب: ذکر صلاة نبي الله داود عليه السلام بالليل، 3/ 214، الرقم: 1630، وفي کتاب: الصوم، باب: صوم نبي الله داود عليه السلام، 4/ 198، الرقم: 2344، وابن ماجة في السنن، کتاب: الصيام، باب: ما جاء في صيام داود عليه السلام، 1/ 546، الرقم: 1712، وأَحمد بن حنبل في المسند، 2/ 160، الرقم: 6491، والبزار في المسند، 6/ 356، الرقم: 2364، والبيهقي في السنن الکبری، 3/ 3، الرقم: 4432، وفي السنن الصغری، 1/ 477، الرقم: 838.

’’حضرت عبدالله بن عمرو رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے مجھے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو حضرت داود علیہ السلام کا روزہ سب روزوں سے زیادہ پسند ہے۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن نہیں رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کو حضرت داود علیہ السلام کی نفل نماز تمام (نفل) نمازوں سے زیادہ پسند ہے۔ وہ پہلے نصف رات تک سوتے پھر تہائی رات قیام کرتے پھر باقی چھٹا حصہ سوتے۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

119/ 2. عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: کَانَ مِنْ دُعَاءِ دَاوُدَ عليه السلام يَقُولُ: اَللَّهُمَّ، إِنِّي أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِي يُبَلِّغُنِي حُبَّکَ، اَللَّهُمَّ، اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَأَهْلِي وَمِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ. قَالَ: وَکَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ إِذَا ذَکَرَ دَاوُدَ عليه السلام يُحَدِّثُ عَنْهُ قَالَ: کَانَ أَعْبَدَ الْبَشَرِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْحَاکِمُ.

وَقَالَ أَبُوعِيْسَی: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ. وَقَالَ الْحَاکِمُ: صَحِيْحُ الإِْسْنَادِ.

وفي رواية للمروزي: إِنَّ أَخِي دَاوُدَ عليه السلام کَانَ أَعْبَدَ الْبَشَرِ کَانَ يَقُومُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَصُومُ نِصْفَ الدَّهْرِ.

الحديث رقم: أَخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الدعوات عن رسول الله ﷺ، باب: ما جاء في عقد التسبيح باليد، 5/ 522، الرقم: 3490، والحاکم في المستدرک، 2/ 470، الرقم: 3621، وابن عساکر في تاريخ دمشق الکبير، 17/ 86، والمروزي في تعظيم قدر الصلاة، 1/ 110، الرقم: 23، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8/ 206، وقال: رواه البزار وإسناده حسن، والمبارکفوري في تحفة الأَحوذي، 9/ 325، والمناوي في فيض القدير، 4/ 544.

’’حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: حضرت داود علیہ السلام کی دعا یہ تھی، آپ فرمایا کرتے تھے: ’’اے الله، بے شک میں تجھ سے تیری محبت اور اس کی محبت جو تجھ سے محبت کرتا ہے اور وہ کام جو مجھے تیری محبت تک پہنچا دے کا سوال کرتا ہوں۔ اے الله، تو اپنی محبت کو میرے نزدیک میرے نفس، میرے اہل و عیال اور ٹھنڈے پانی سے بڑھ کر محبوب بنا دے۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں: حضور نبی اکرم ﷺ جب حضرت داود علیہ السلام کا ذکر کرتے تھے تو آپ علیہ السلام کے بارے میں بیان فرماتے تھے: آپ علیہ السلام (اپنے دور میں) تمام انسانوں سے بڑھ کر عبادت گزار تھے۔‘‘

اسے امام ترمذی اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ نیز امام ترمذی اور حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن اور صحیح الاسناد ہے۔

اور امام مروزی کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’بے شک میرے بھائی داود علیہ السلام (اپنے دور میں) تمام انسانوں سے بڑھ کر عبادت گزار تھے، آپ آدھی رات تک قیام فرماتے تھے اور آپ نے اپنی عمر کا آدھا حصہ روزے کی حالت میں گزارا۔‘‘

120/ 3. عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبَّهٍ رضی الله عنه قَالَ: وَکَانَ نَبِيُّ اللهِ دَاوُدُ بْنُ إِيْشَا بْنِ يَعْقُوْبَ، بْنِ إِسْحَاقَ، بْنِ إِبْرَاهِيْمَ الْخَلِيْلِ عليهم السلام وَکَانَ رَجُلًا قَصِيْرًا أَزْرَقَ، قَلِيْلَ الشَّعْرِ، طَاهِرَ الْقَلْبِ، فَقِيْهًا.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرِيُّ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 640، الرقم: 4130، والطبري في تاريخ الأمم والملوک، 1/ 261.

’’حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ الله تعالیٰ کے نبی حضرت داود علیہ السلام بن ایشا بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم الخلیل علیہم السلام درمیانے قد کے مالک، مختصر نیلے بالوں والے، پاکیزہ دل اور بہت سمجھ بوجھ والے تھے۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم اور طبری نے روایت کیا۔

121/ 4. عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: اخْتَارَ اللهُ لِنُبُوَّتِهِ وَانْتَخَبَ لِرِسَالَتِهِ دَاوُدَ بْنَ إِيْشَا فَجَمَعَ اللهُ لَهُ ذَلِکَ النُّوْرَ وَالْحِکْمَةَ وَزَادَهُ الزَّبُوْرَ مِنْ عِنْدِهِ، فَمَلَکَ دَاوُدُ بْنُ إِيْشَا سَبْعِيْنَ سَنَةً فَأَنْصَفَ النَّاسَ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ وَقَضَی بِالْفَصْلِ بَيْنَهُمْ بِالَّذِي عَلَّمَهُ اللهُ وَأَعْطَاهُ مِنْ حِکْمَتِهِ وَأَمَرَ رَبُّنَا الْجِبَالَ فَأَطَاعَتْهُ وَأَلاَنَ لَهُ الْحَدِيْدَ بِإِذْنِ اللهِ وَأَمَرَ رَبُّنَا الْمَلَائِکَةَ بِأَنْ تَحْمِلَ لَهُ التَّابُوتَ فَلَمْ يَزَلْ دَاوُدُ يُدَبِّرُ بِعِلْمِ اللهِ وَنُوْرِهِ قَاضِيًا بِحَلَالِهِ، نَاهِيًا عَنْ حَرَامِهِ حَتَّی إِذَا أَرَادَ اللهُ أَنْ يَقْبِضَهُ إِلَيْهِ أَوْحَی إِلَيْهِ أَنِ اسْتَوْدِعْ نُوْرَ اللهِ وَحِکْمَتَهُ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ إِلَی ابْنِکَ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ فَفَعَلَ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَابْنُ حِيَانَ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 642، الرقم: 4135، وابن حيان في العظمة، 5/ 1610. 1611.

’’حضرت محمد بن جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ الله تعالیٰ نے اپنی نبوت اور رسالت کے لئے حضرت داود بن ایشا علیہ السلام کا انتخاب فرمایا اور ان کے نور و حکمت کو جمع فرمایا اور اپنی طرف سے انہیں زبور عطا فرمائی۔ سو حضرت داود بن ایشا علیہ السلام نے ستر سال تک حکومت کی۔ انہوں نے لوگوں کے درمیان عدل و انصاف سے فیصلہ فرمایا اور انہوں نے یہ فیصلے اس علم کے ذریعے فرمائے جو الله تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمایا تھا اور الله تعالیٰ نے آپ کو اپنی حکمت میں سے حصہ وافر عطا فرمایا اور ہمارے رب کریم نے پہاڑوں کو حکم دیا کہ وہ ان کی اطاعت بجا لائیں اور انہوں نے الله تعالیٰ کے اذن سے لوہے کو اپنے لیے نرم کیا۔ اور ہمارے رب نے ملائکہ کو حکم دیا کہ وہ ان کا تابوت اٹھائیں۔ پس حضرت داود علیہ السلام ہمیشہ الله تعالیٰ کے (عطاکردہ) علم اور نور کے ذریعے تدبیر کرتے رہے، حلال کا حکم دیتے ہوئے اور حرام سے منع کرتے ہوئے یہاں تک کہ جب الله تعالیٰ نے چاہا کہ ان کی روح قبض کر لے تو ان کی طرف وحی فرمائی کہ وہ الله تعالیٰ کا نور اور اس کی ظاہری و مخفی حکمت اپنے بیٹے سلیمان بن داود علیہما السلام کو ودیعت کر دیں۔ پس انہوں نے ایسا ہی کیا۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم اور ابن حیان نے روایت کیا ہے۔

122/ 5. عَنْ مُعَاوِيَةَ رضی الله عنه يَقُوْلُ: مَلَکَ الْأَرْضَ أَرْبَعَةٌ: سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ عليه السلام وَذُوْالْقَرْنَيْنِ، وَرَجُلٌ مِنْ أَهْلِ حَلْوَانَ، وَرَجُلٌ آخَرَ فَقِيْلَ لَهُ: الْخِضْرُ؟ فَقَالَ: لَا. رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَابْنُ عَسَاکِرَ.

وفي رواية: عَنْ سَعِيْدِ بْنِ بَشِيْرٍ وَالسُّفْيَانِ الثَّوْرِيِّ: قَالَا: مَلَکَ الْأَرْضَ أَرْبَعَةٌ: اثْنَانِ مُؤْمِنَانِ: سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ عليه السلام وَذُوْالْقَرْنِيْنِ وَاثْنَانِ کَافِرَانِ: نَمْرُوْدُ بْنُ کَوْشٍ بْنِ حَامِ بْنِ نُوْحٍ وَبَخْتُ نَصْرٍ.

رَوَاهُ ابْنُ عَسَاکِرَ. .

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 645، الرقم: 4143، والعسقلاني نحوه في فتح الباري، 6/ 385، وابن عساکر في تاريخ دمشق الکبير، 17/ 336. 337.

’’حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس (پوری) زمین پر چار بندوں نے حکومت کی: حضرت سلیمان بن داود علیہ السلام اور ذوالقرنین اور اہل حلوان میں سے ایک شخص نے اور ایک کسی اور شخص نے۔ ان سے پوچھا گیا: کیا وہ حضرت خضر علیہ السلام ہیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم اور ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔

اور ایک روایت میں سعید بن بشیر اور سفیان ثوری بیان کرتے ہیں کہ اس (پوری) زمین پر چار بندوں نے حکومت کی۔ ان میں سے دو مومن تھے: (جو کہ) حضرت سلیمان بن داود علیہ السلام اور ذوالقرنین علیہ السلام تھے اور دو کافر تھے: نمرود بن کوش بن حام بن نوح اور بخت نصر۔‘‘

اس حدیث کو امام ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔

17. فَصْلٌ فِي مَنَاقِبِ سُلَيْمَانَ عليه السلام

{حضرت سلیمان علیہ السلام کے مناقب کا بیان}

123/ 1. عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رضي الله عنهما عَنْ رَسُولِ اللهِ ﷺ: أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ عليه السلام لَمَّا بَنَی بَيْتَ الْمَقْدِسِ سَأَلَ اللهَخِلَالًا ثَـلَاثَةً: سَأَلَ اللهَحُکْمًا يُصَادِفُ حُکْمَهُ فَأَوْتِيَهُ، وَسَأَلَ اللهَمُلْکًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ فَأَوْتِيَهُ، وَسَأَلَ اللهَحِيْنَ فَرَغَ مِنْ بِنَاءِ الْمَسْجِدِ أَنْ لَا يَأَتِيَهُ أَحَدٌ لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ فِيْهِ أَنْ يُخْرِجَهُ مِنْ خَطِيْئَتِهِ کَيَومِ وَلَدَتْهُ أَمُّهُ. رَوَاهُ النِّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ خُزَيْمَةَ وَالْحَاکِمُ.

وَابْنُ مَاجَةَ إِلَّا قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: أَمَّا اثْنَتَانِ فَقَدْ أَعْطِيَهُمَا وَأَرْجُو أَنْ يَکُونَ قَدْ أَعْطِيَ الثَّالِثَةَ.

الحديث رقم: أَخرجه النسائي في السنن، کتاب: المساجد، باب: فضل المسجد الأَقصی والصلاة فيه، 2/ 34، الرقم: 693، وفي السنن الکبری، 1/ 256، الرقم: 772، وابن ماجة في السنن، کتاب: إقامة الصلاة والسنة فيها، باب: ماجاء في الصلاة في مسجد بيت المقدس، 1/ 452، الرقم: 1408، وأَحمد بن حنبل في المسند، 2/ 176، الرقم: 6644، وابن خزيمة في الصحيح، 2/ 288، الرقم: 1334، والحاکم في المستدرک، 2/ 471، الرقم: 3624، والطبراني في المعجم الأَوسط، 9/ 15، الرقم: 8989، وفي مسند الشاميين، 1/ 191، الرقم: 336، والبيهقي في شعب الإيمان، 3/ 494، الرقم: 4175.

’’حضرت عبدالله بن عمرو رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب حضرت سلیمان بن داود علیہما السلام نے بیت المقدس کی تعمیر کی تو انہوں نے الله تعالیٰ سے تین باتوں کی دعا کی: (پہلی یہ کہ) الله تعالیٰ انہیں ایسی حکومت عطا فرمائے جو اللہ تعالیٰ کی بادشاہت کے مطابق ہو۔ پس انہیں ایسی ہی حکومت عطا فرما دی گئی۔ (دوسری یہ کہ) الله تعالیٰ انہیں ایسی سلطنت عنایت فرمائے جو ان کے بعد کسی کو نہ ملے۔ پس انہیں ایسی ہی سلطنت عطا فرما دی گئی۔ (تیسری) جب وہ مسجد (اقصیٰ) بنانے کے بعد فارغ ہوئے تو انہوں نے الله تعالیٰ سے یہ دعا کی: اے الله! جو شخص اس مسجد میں نماز پڑھنے آئے تو اسے گناہوں سے ایسے پاک فرما دے جیسے وہ اپنی ماں کے پیٹ سے پیدائش کے وقت گناہوں سے پاک تھا۔‘‘

اس حدیث کو امام نسائی، احمد، ابن خزیمہ اور حاکم نے روایت کیا ہے۔

امام ابن ماجہ نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دو چیزیں انہیں عطا ہوئیں اور میں امید کرتا ہوں کہ انہیں تیسری بھی عطا ہوئی ہو گی۔‘‘

124/ 2. عَنْ عَلِيٍّ رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: لَمْ يُعَمِّرِ اللهُ مَلِکًا فِي أَمَّةِ نَبِيٍّ مَضَی قَبْلَهُ مَا بَلَغَ ذَلِکَ النَّبِيُّ مِنَ الْعُمْرِ فِي أَمَّتِهِ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ.

وفي رواية: عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: أَرَّخَ بَنُو إِسْحَاقَ مِنْ مَبْعَثِ مُوْسَی إِلَی مُلْکِ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ قَالَ: {وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُدَ}، [النمل، 27: 16]، قَالَ: أَخِذَتْ إِلَيْهِ النُّبُوَّةُ وَالرِّسَالَةُ أَنْ يَهَبَ لَهُ مُلْکًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ فَسَخَّرَ لَهُ الْجِنَّ وَالإِنْسَ وَالطَّيْرَ وَالرِّيْحَ.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرِيُّ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 643. 644، الرقم: 4137، 4140، والطبري في تاريخ الأمم والملوک، 4/ 221، والذهبي في ميزان الاعتدال، 2/ 289.

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: الله تعالیٰ نے آپ ﷺ سے پہلے جو بھی نبی گزرا اس کی امت میں سے کسی بادشاہ کو اتنی عمر عطا نہ فرمائی جتنی اس نبی کی امت میں اس نبی (حضرت سلیمان علیہ السلام) کو عطا فرمائی۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے۔

اور ایک روایت میں حضرت شعبی بیان کرتے ہیں کہ بنو اسحاق نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بعثت سے لے کر حضرت سلیمان بن داود علیہما السلام کی بادشاہت تک تاریخ رقم کی اور فرمایا: ’’اور سلیمان علیہ السلام، داود علیہ السلام کے جانشین ہوئے۔‘‘ آپ بیان کرتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو نبوت و رسالت ملی اور الله تعالیٰ نے آپ کو ایسی بادشاہت عطا کی جو آپ کے بعد کسی اور کو عطا نہ ہوئی سو الله تعالیٰ نے آپ کے لئے جنات، انسان، پرندے اور ہوا مسخر کر دیئے۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم اور طبری نے روایت کیا ہے۔

125/ 3. عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: أَعْطِيَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ مُلْکَ مَشَارِقِ الأَرْضِ وَمَغَارِبِهَا فَمَلَکَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ سَبْعَمِائَةِ سَنَةٍ وَسِتَّةَ أَشْهُرٍ مَلَکَ أَهْلَ الدُّنْيَا کُلَّهُمْ مِنَ الْجِنِّ، وَالإِْنْسِ وَالشَّيَاطِيْنِ، وَالدَّوَّابِ، وَالطَّيْرِ، وَالسَّبَاعِ وَأَعْطِيَ عِلْمَ کُلِّ شَيْئٍ وَمَنْطِقَ کُلِّ شَيْئٍ، وَفِي زَمَانِهِ صُنِعَتِ الصَّنَائِعُ الْمُعْجَبَةُ الَّتِي مَا سَمِعَ بِهَا النَّاسُ وَسُخِّرَتْ لَهُ فَلَمْ يَزَلْ مُدَبِّرًا بِأَمْرِ اللهِ وَنُوْرِهِ، وَحِکْمَتِهِ حَتَّی إِذَا أَرَادَ اللهُ أَنْ يَقْبِضَهُ أَوْحَی إِلَيْهِ أَنِ اسْتَوْدِعْ عِلْمَ اللهِ وَحِکْمَتَهُ أَخَاهُ وَوَلَدَ دَاوُدَ وَکَانُوْا أَرْبَعَ مِائَةٍ وَثَمَانِيْنَ رَجُلًا بِلَا رِسَالَةٍ.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَابْنُ حِيَانَ وَابْنُ عَسَاکِرَ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 643، الرقم: 4139، وابن حيان في العظمة، 5/ 1611، وابن عساکر في تاريخ دمشق الکبير، 22/ 263.

’’حضرت محمد بن جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان بن داود علیہ السلام کو زمین کے مشرق و مغرب کی حکومت عطا ہوئی پس حضرت سلیمان بن داود علیہ السلام نے سات سو سال اور چھ ماہ تک حکومت کی اور آپ کی حکومت تمام اہلِ دنیا پر تھی جن میں تمام جن و انس، شیاطین، چوپائے اور درندے شامل تھے اور آپ کو ہر چیز کا علم اور ہر چیز کی زبان عطا ہوئی اور آپ کے زمانے میں بہت خوب ایجادات ہوئیں جن کے بارے میں لوگوں نے پہلے کبھی سنا بھی نہیں تھا اور یہ ساری چیزیں آپ کے لئے مسخر کردی گئیں تھیں۔ پس آپ علیہ السلام الله تعالیٰ کے امر اور اس کے نور اور حکمت کے ذریعے ان کی تدبیر کرتے رہے یہاں تک کہ جب الله تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی روح کو قبض کرنے کا ارادہ فرمایا تو آپ کی طرف وحی بھیجی کہ وہ الله تعالیٰ کے عطا کردہ علم و حکمت کو اپنے بھائی اور حضرت داود علیہ السلام کے بیٹے کو ودیعت کر دیں اور ان میں چار سو اسّی آدمی ایسے تھے جن کو رسالت عطا نہیں ہوئی تھی (یعنی یہ شرف ان میں سے صرف حضرت سلیمان علیہ السلام کو حاصل ہوا۔) ‘‘

اس حدیث کو امام حاکم، ابن حبان اور ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔

126/ 4. عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ رضی الله عنه قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ کَانَ عَسْکَرُهُ مِائَةَ فَرْسَخٍ: خَمْسَةٌ وَعِشْرُوْنَ مِنْهَا لِلإِْنْسِ، وَخَمْسَةُ وَعِشْرُوْنَ لِلْجِنِّ، وَخَمْسَةٌ وَعِشْرُوْنَ لِلْوَحْشِ، وَخَمْسَةٌ وَعِشْرُوْنَ لِلطَّيْرِ، وَکَانَ لَهُ أَلْفُ بَيْتٍ مِنْ قَوَارِيْرَ عَلَی الْخَشَبِ مِنْهَا: ثَـلَاثُ مِائَةٍ صَرِيْحَةً، وَسَبْعُ مِائَةٍ سِرِّيَةً، فَأَمَرَ الرِّيْحَ الْعَاصِفَ فَرَفَعَتْهُ فَأَمَرَ الرِّيْحَ فَسَارَتْ بِهِ فَأَوْحَی اللهُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَسِيْرُ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ: إِنِّي قَدْ زِدْتُ فِي مُلْکِکَ أَنْ لَا يَتَکَلَّمَ أَحَدٌ مِنَ الْخَلَائِقِ بِشَيئٍ إِلَّا جَاءَ تِ الرِّيْحُ فَأَخْبَرَتْکَ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 644، الرقم: 4141، والطبري في جامع البيان، 19/ 141، وفي تاريخ الأمم والملوک، 1/ 288، والقرطبي في الجامع لأحکام القرآن، 13/ 167.

’’حضرت محمد بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں یہ بات معلوم ہوئی کہ حضرت سلیمان بن داود علیہ السلام کا لشکر سو فرسخ (یعنی تین سو میل) پر پھیلا ہوا تھا، ان میں سے پچیس فرسخ انسانوں کے لئے، پچیس جنوں کے لئے، پچیس وحشی جانوروں کے لئے اور پچیس پرندوں کے لئے تھے اور آپ کے ایک ہزار گھر تھے جو لکڑی کے بنے ہوئے تھے اور ان پر شیشے کا کام ہوا تھا اور ان میں تین سو گھر ظاہر تھے اور تین سو مخفی تھے آپ علیہ السلام آندھی کو حکم دیتے تو وہ آپ علیہ السلام کو اٹھا لیتی، ہوا کو حکم دیتے تو آپ کو ساتھ لے کر چلتی اور الله تبارک و تعالیٰ آپ کی طرف وحی فرماتا درانحالیکہ آپ زمین و آسمان کے درمیان چل رہے ہوتے تھے۔ الله تعالیٰ فرماتا ہے: (اے سلیمان!) میں نے تمہاری بادشاہت میں یہ اضافہ کر دیا ہے کہ مخلوقات میں سے جو کوئی بھی جو بات کرے گا ہوا تجھے اس کے بارے میں بتا دے گی۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے۔

127/ 5. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ: کَانَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ عليهما السلام يُوْضَعُ لَهُ سِتُّ مِائَةِ أَلْفِ کُرْسِيٍّ، ثُمَّ يَجِيئُ أَشْرَافُ الإِْنْسِ فَيَجْلِسُوْنَ مِمَّا يلِيْهِ، ثُمَّ يَجِيئُ أَشْرَافُ الْجِنِّ فَيَجْلِسُوْنَ مِمَّا يَلِي أَشْرَافَ الإِْنْسِ ثُمَّ يَدْعُوْا الطَّيْرَ فَتُظِلُّهُمْ، ثُمَّ يَدْعُوْ الرِّيْحَ فَتَحْمِلُهُمْ قَالَ: فَيَسِيْرُ فِي الْغَدَاةِ الْوَاحِدَةِ مَسِيْرَةَ شَهْرٍ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَابْنُ عَسَاکِرَ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 400، 644، الرقم: 3525، 4142، والطبري في جامع البيان، 19/ 144، وابن عساکر في تاريخ دمشق الکبير، 22/ 266. 267.

’’حضرت عبدالله بن عباس رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان بن داود علیہما السلام کے لئے چھ لاکھ کرسیوں کا ایک تخت بچھایا جاتا تھا پھر انسانوں میں سے بزرگ مرتبہ لوگ آتے اور وہ ان کے ساتھ والی کرسیوں پر بیٹھ جاتے پھر جنات میں سے بزرگ جن آتے اور وہ بزرگ لوگوں کے ساتھ والی کرسیوں پر بیٹھ جاتے پھر آپ علیہ السلام پرندوں کو حکم فرماتے تو وہ ان سب پر سایہ فگن ہو جاتے پھر آپ ہوا کو حکم فرماتے تو وہ ان سب کو اٹھا لے جاتی اس طرح وہ ایک صبح میں ایک ماہ کی مسافت طے کر لیتے۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم اور ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔

18. فَصْلٌ فِي مَنَاقِبِ يَحْيَي عليه السلام

{حضرت یحییٰ علیہ السلام کے مناقب کا بیان}

128/ 1. عَنْ کَعْبٍ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَا سَيِّدًا، وَحَصُوْرًا وَکَانَ لَا يَقْرُبُ النِّسَاءَ وَلَا يَشْتَهِيْهُنَّ وَکَانَ شَابًّا حُسْنَ الْوَجْهِ وَالصُّوْرَةِ لَيِّنَ الْجَنَاحِ، قَلِيْلَ الشَّعْرِ، قَصِيْرَ الْأَصَابِعِ، طَوِيْلَ الْأَنْفِ، أَقْرَنَ الْحَاجَبَيْنِ، دَقِيْقَ الصَّوْتِ، کَثِيْرَ الْعِبَادَةِ، قَوِيًّا فِي طَاعَةِ اللهِ.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 647، الرقم: 4150، والنووي في تهذيب الأسماء، 2/ 449.

’’حضرت کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت یحییٰ بن زکریا علیہما السلام سردار اور پاکدامن تھے اور وہ عورتوں کے قریب تک نہ جاتے تھے اور نہ ہی عورتوں کی خواہش رکھتے تھے اور آپ خوبصورت شکل و صورت والے نوجوان تھے جو جھکے ہوئے کندھوں والے (یعنی نہایت متواضع)، کم بالوں، چھوٹی انگلیوں، اونچی ناک اور ملی ہوئی پلکوں والے، باریک آواز والے، بہت زیادہ عبادت گزار اور الله تعالیٰ کی اطاعت میں پختہ تھے۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے۔

129/ 2. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: کُلُّ بَنِي آدَمَ يَلَقَی اللهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِذَنْبٍ، وَقَدْ يُعَذِّبُهُ إِنْ شَاءَ أَوْ يَرْحَمُهُ، إِلَّا يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَا عليهما السلام فَإِنَّهُ کَانَ سَيِّدًا، وَحُصُوْرًا، وَنَبِيًّا مِنَ الصَّالِحِيْنَ، وَأَهْوَی النَّبِيُّ ﷺ إِلَی قََذَاةِ مِنَ الْأَرْضِ فَأَخَذَهَا وَقَالَ: ذَکَرَهُ مِثْلَ هَذِهِ الْقَذَاةِ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَابْنُ عَدِيٍّ.

الحديث رقم: أَخرجه الطبراني في المعجم الأَوسط، 6/ 333، الرقم: 6556، وابن عدي في الکامل، 2/ 234، الرقم: 412، والخطيب في موضح أوهام الجمع والتفريق، 2/ 80، والعسقلاني في لسان الميزان، 2/ 177، والقرطبي في الجامع لأَحکام القرآن، 4/ 79، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 1/ 362، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8/ 209.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمام بنی آدم روزِ قیامت اپنے اپنے گناہوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو انہیں عذاب دے گا یا ان پر رحم فرمائے گا، سوائے حضرت یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کے۔ پس بے شک آپ علیہ السلام سردار، پاکیزہ و بلند کردار اور ایک صالح نبی تھے۔ پھر حضور نبی اکرم ﷺ نے جھک کر ایک تنکا پکڑا اور فرمایا: کہ آپ ﷺ نے حضرت یحییٰ بن زکریا علیہ السلام (کے مناقب) کا فقط اس تنکے کے برابر ذکر کیا ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام طبرانی اور ابن عدی نے روایت کیا ہے۔

19. فَصْلٌ فِي مَنَاقِبِ عِيْسَی رُوْحِ اللهِعليه السلام

{حضرت عیسیٰ روح الله علیہ السلام کے مناقب کا بیان}

130/ 1. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: مَا مِنْ بَنِي آدَمَ مَولُودٌ إِلَّا يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ حِيْنَ يُوْلَدُ فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ مَسِّ الشَّيْطَانِ غَيْرَ مَرْيَمَ وَابْنِهَا.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَهَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ.

الحديث رقم: أَخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الأَنبياء، باب: قول الله تعالی: واذکر في الکتاب مريم، 3/ 1265، الرقم: 3248، وفي کتاب: تفسير القرآن، باب: وإني أَعيذها بک وذريتها من الشيطان الرجيم، 4/ 1655، الرقم: 4274، ومسلم في الصحيح، کتاب: الفضائل، باب: فضائل عيسي عليه السلام، 4/ 1838، الرقم: 2366، وأَحمد بن حنبل في المسند، 2/ 233، 274، الرقم: 7182، 7694، وابن حبان في الصحيح، 14/ 129، الرقم: 6235، وابن أَبي شيبة في المصنف، 6/ 288، الرقم: 31496، وأَبو يعلی في المسند، 10/ 376، الرقم: 5971، والطبراني في المعجم الأَوسط، 7/ 38، الرقم: 6784.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: آپ ﷺ فرما رہے تھے: بنی آدم میں سے کوئی مولود (یعنی بچہ) ایسا نہیں ہے جسے پیدائش کے وقت شیطان مس نہ کرے۔ پس وہ بچہ اس شیطان کے مس کرنے کی وجہ سے چیخنا چلانا شروع کر دیتا ہے سوائے حضرت مریم اور ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیھما السلام کے (کہ انہیں شیطان نے مس نہیں کیا۔)‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ امام بخاری کے ہیں۔

131/ 2. عَنْ عُبَادَةَ رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْکَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنْ عِيْسَی عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ، وَکَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَی مَرْيَمَ، وَرُوْحٌ مِنْهُ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ أَدْخَلَهُ اللهُ الْجَنَّةَ عَلَی مَاکَانَ مِنَ الْعَمَلِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم: أَخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الأَنبياء، باب: قوله: يا أَهل الکتاب لا تغلوا في دينکم، 3/ 1267، الرقم: 3252، ومسلم في الصحيح، کتاب: الإيمان، باب: الدليل علی أَن من مات علی التوحيد دخل الجنة قطعا، 1/ 57، الرقم: 28، والنسائي في السنن الکبری، 6/ 277. 278، الرقم: 10969. 10970، 11132، وأَحمد بن حنبل في المسند، 5/ 313، الرقم: 22727، وابن حبان في الصحيح، 1/ 437، الرقم: 207، والبزار في المسند، 7/ 130، الرقم: 2682، وابن منده في الإيمان، 1/ 510، الرقم: 404.

’’حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو اس بات کی گواہی دے کہ الله تعالیٰ کے سوا اور کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور بے شک محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور بے شک حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی الله تعالیٰ کے بندے، اس کے رسول اور اس کا ایک کلمہ ہیں جو اس نے مریم علیہا السلام کی طرف اِلقاء کیا اور آپ روح اللہ ہیں اور جنت اور دوزخ حق ہیں تو الله تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا خواہ اس شخص کا عمل کچھ بھی ہو۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

132/ 3. عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: إِذَا أَدَّبَ الرَّجُلُ أَمَتَهُ فَأَحْسَنَ تَأَدِيْبَهَا وَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيْمَهَا ثُمَّ أَعْتَقَهَا فَتَزَوَّجَهَا کَانَ لَهُ أَجْرَانِ وَإِذَا آمَنَ بِعِيْسَی ثُمَّ آمَنَ بِي فَلَهُ أَجْرَانِ (وفيرواية: رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْکِتَابِ آمَنَ بَنَبِيِّهِ وَآمَنَ بِمُحَمَّدٍ ﷺ) وَالْعَبْدُ إِذَا اتَّقَی رَبَّهُ وَأَطَاعَ مَوَالِيَهُ فَلَهُ أَجْرَانِ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَهَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ.

الحديث رقم: أَخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الأَنبياء، باب: قوله تعالیٰ: واذکر في الکتاب مريم، 3/ 1271، الرقم: 3262، وفي کتاب: العلم، باب: تعليم الرجل أَمته وأَهله، 1/ 48، الرقم: 97، ومسلم في الصحيح، کتاب: الإيمان، باب: وجوب الإيمان برسالة نبينا محمد ﷺ إلی جميع الناس ونسخ الملة بملته، 1/ 134، الرقم: 154، والترمذي في السنن، کتاب: النکاح عن رسول الله ﷺ، باب: ماجاء في الفضل في ذلک، 3/ 424، الرقم: 1116، والنسائي في السنن، کتاب: النکاح، باب: عتق الرجل جاريته ثم يتزوجها، 6/ 115، الرقم: 3344، وابن ماجة في السنن، کتاب: النکاح، باب: الرجل يعتق أَمته ثم يتزوجها، 1/ 629، الرقم: 1956، وأَحمد بن حنبل في المسند، 4/ 395، 402، 414، وابن منده في الإيمان، 1/ 504، الرقم: 395، وابن حبان في الصحيح، 9/ 360، الرقم: 4053، والبخاري في الأَدب المفرد، 1/ 80، الرقم: 203.

’’حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنی کنیز کو اچھا ادب سکھائے اور اسے بہترین تعلیم دے، پھر آزاد کر کے اس سے نکاح کر لے تو اسے دوہرا ثواب ملے گا (اسی طرح) جو آدمی (پہلے) حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لایا تھا اور اب مجھ پر ایمان لے آئے تو اسے بھی دوہرا ثواب ملے گا (اور ایک روایت میں ہے کہ اہل کتاب میں سے وہ آدمی جو اپنے نبی پر ایمان لایا پھر مجھ پر ایمان لایا) اور جو غلام اپنے پروردگار سے ڈرے اور اپنے آقا کا حکم مانے تو اس کے لئے بھی دوہرا ثواب ہے۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے اور یہ الفاظ امام بخاری کے ہیں۔

133/ 4. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: لَيْلَةَ أَسْرِيَ بِهِ لَقِيْتُ مُوسََی قَالَ: فَنَعَتَهُ فَإِذَا رَجُلٌ حَسِبْتُهُ قَالَ: مُضْطَرِبٌ رَجِلُ الرَّأَسِ کَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوئَةَ قَالَ: وَلَقِيْتُ عِيْسَی فَنَعَتَهُ النَّبيُّ ﷺ فَقَالَ: رَبْعَةٌ أَحْمَرُ کَأَنَّمَا خَرَجَ مِنْ دِيْمَاسٍ يَعْنِي الْحَمَّامَ وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيْمَ وَأَنَا أَشْبَهُ وَلَدِهِ بِهِ… الحديث. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم: أَخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الأَنبياء، باب: قول الله تعالیٰ: واذکر في الکتاب مريم، 3/ 1269، الرقم: 3254، ومسلم في الصحيح، کتاب: الإيمان، باب: الإسراء برسول الله ﷺ إلی السماوات، 1/ 154، الرقم: 168، والترمذي في السنن، کتاب: تفسير القرآن عن رسول الله ﷺ، باب: ومن سورة بنی إسرائيل، 5/ 300، الرقم: 3130، وقال: هذا حديث حسن صحيح، وابن حبان في الصحيح، 1/ 247، الرقم: 51، وعبد الرزاق في المصنف، 5/ 329، وابن منده في الإيمان، 2/ 740، الرقم: 728، وأَبو عوانة في المسند، 1/ 116، الرقم: 347.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: شبِ معراج میری حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وصف یوں بیان فرمایا: وہ دبلے پتلے، دراز قد، سیدھے بالوں والے ایسے آدمی ہیں جیسے قبیلہ شنوء ہ کے لوگ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میری حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بھی ملاقات ہوئی پھر حضور نبی اکرم ﷺ نے ان کا حلیہ بیان فرمایا کہ یہ درمیانہ قد، سرخ رنگ والے اور ایسے تروتازہ ہیں گویا ابھی حمام سے نکلے ہیں اور میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بھی ملا میں ان کی ساری اولاد میں ان سے زیادہ مشابہ ہوں الحدیث۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

134/ 5. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: کَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيْکُمْ وَإِمَامُکُمْ مِنْکُمْ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم: أخرجه البخاری فی الصحيح، کتاب: الأنبيا، باب: نُزُول عيسی بن مريم عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، 3/ 1272، الرقم:3265، ومسلم فی الصحيح، کتاب: الإيمان، باب: نزول عيسی بن مريم حاکما بشريعة نبيّنا محمد ﷺ، 1/ 136، الرقم: 155، وابن حبان فی الصحيح، 15/ 213، الرقم: 6802، والعسقلاني في فتح الباری، 6/ 493.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگوں کا اس وقت (خوشی سے) کیا حال ہو گا جب تم میں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام (آسمان سے) اُتریں گے اور تمہارا امام تمہیں میں سے ہوگا۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

135/ 6. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِکَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيْکُمُ ابْنُ مَرْيَمَ حَکَمًا عَدْلًا فَيَکْسِرَ الصَّلِيْبَ وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيْرَ وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ وَيَفِيْضَ الْمَالُ حَتَّی لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ حَتَّی تَکُونَ السَّجْدَةُ الْوَاحِدَةُ خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيْهَا.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَهَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ.

الحديث رقم: أَخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الأَنبياء، باب: نزول عيسی ابن مريم، 3/ 1272، الرقم: 3264، ومسلم في الصحيح، کتاب: الإيمان، باب: نزول عيسی ابن مريم حاکما بشريعة نبينا محمد ﷺ، 1/ 136، الرقم: 155، والترمذي في السنن، کتاب: الفتن عن رسول الله ﷺ، باب: ماجاء في نزول عيسی بن مريم عليه السلام، 4/ 506، الرقم: 2233، وقال أَبو عيسی: هذا حديث حسن صحيح، وابن ماجة في السنن، کتاب: الفتن، باب: فتنة الدجال وخروج عيسی بن مريم، 2/ 1363، الرقم: 4078، وأَحمد بن حنبل في المسند، 2/ 538، الرقم: 10957، وابن حبان في الصحيح، 15/ 230، الرقم: 6818.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! عنقریب تم میں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے، وہ عدل کے ساتھ فیصلے فرمانے والے ہوں گے، صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ موقوف کر دیں گے اور مال اتنا بڑھ جائے گا کہ کوئی لینے والا نہ رہے گا، یہاں تک کہ(بارگاہِ الٰہی میں) ایک سجدہ دنیا و مافیھا سے بہتر ہو گا۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ امام بخاری کے ہیں۔

136/ 7. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: أَنَا أَوْلَی النَّاسِ بِابْنِ مَرْيَمَ وَالْأَنْبِيَاءُ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وفي رواية عنه: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: أَنَا أَوْلَی النَّاسِ بِعِيْسَی بْنِ مَرْيَمَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَالْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلَّاتٍ أَمَّهَاتُهُمْ شَتَّی وَدِيْنُهُمْ وَاحِدٌ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم: أَخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الأَنبياء، باب: قول الله: واذکر في الکتاب مريم، 3/ 1270، الرقم: 3258. 3259، ومسلم في الصحيح، کتاب:الفضائل، باب:فضائل عيسي عليه السلام، 4/ 1837، الرقم: 2365، وأَبوداود في السنن، کتاب: السنة، باب: في التخيير بين الأَنبياء عليهم الصلاة والسلام، 4/ 218، الرقم: 4675، وأَحمد بن حنبل في المسند، 2/ 463، الرقم: 9975. 9976، وابن حبان في الصحيح، 14/ 74، 316، الرقم: 6194، 6406.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: میں سب لوگوں سے زیادہ ابن مریم (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے قریب ہوں اور سارے انبیاء علّاتی اولاد (جن کا باپ ایک ہو اور مائیں مختلف ہوں) کی طرح ہیں۔ میرے اور ان (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی حدیث میں ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں دنیا و آخرت میں تمام لوگوں سے بڑھ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قریب ہوں اور تمام انبیاء علّاتی بھائی (ایک باپ کی اولاد) ہیں۔ ان کی مائیں مختلف لیکن سب کا دین ایک ہے۔‘‘

یہ حدیث بھی متفق علیہ ہے۔

137/ 8. عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ: لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أَمَّتِي يُقَاتِلُوْنَ عَلَی الْحَقِّ ظَاهِرِيْنَ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ، قَالَ: فَيَنْزِلُ عِيْسَی ابْنُ مَرْيَمَ عليهما السلام فَيَقُوْلُ أَمِيْرُهُمْ: تَعَالْ صَلِّ لَنَا. فَيَقُوْلُ لَا، إِنَّ بَعْضَکُمْ عَلَی بَعْضٍ أَمَرَاءُ تَکْرِمَةَ اللهِ هَذِهِ الأَمَّةَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ.

الحديث رقم: أخرجه مسلم فی الصحيح، کتاب: الإيمان، باب: نزول عيسی بن مريم حاکماً بشريعة نبينا محمد ﷺ، 1/ 137، الرقم: 156، وابن حبان فی الصحيح، 15/ 231، الرقم:6819، وأحمد بن حنبل في المسند، 3/ 345، الرقم: 14762. 15167، وابن الجارود فی المنتقی، 1/ 257، الرقم: 1031، والبيهقی فی السنن الکبری، 9/ 180، وأبو عوانة فی المسند، 1/ 99، الرقم:317، وابن منده فی الإيمان، 1/ 517، الرقم:518، الرقم: 418، والعظيم آبادی فی عون المعبود، 11/ 309، والمناوی فی فيض القدير، 6/ 395.

’’حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ سے سنا: میری امت میں سے ایک جماعت قیام حق کے لیے قیامت تک کامیاب جنگ کرتی رہے گی۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا: پس جب حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام آسمان سے اتریں گے تو مسلمانوں کا امیر ان سے عرض کرے گا: تشریف لائیں ہمیں نماز پڑھائیں۔ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے: (اس وقت) میں امامت نہیں کراؤں گا۔ تم ایک دوسرے پر امیر ہو (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت امامت سے انکار فرما دیں گے) اس فضیلت و بزرگی کی بناء پر جو اللہ تعالیٰ نے اس امت کو عطا کی ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم اور احمد نے روایت کیا ہے۔

138/ 9. عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ رضی الله عنه قَالَ: لَمْ يَتَکَلَّمْ فِي الْمََهْدِ إِلَّا ثَـلَاثَةٌ: عِيْسَی عليه السلام وَصَاحِبُ يُوْسُفَ وَصَاحِبُ جُرَيْجٍ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَالْحَاکِمُ وَاللَّفْظُ لَهُ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم: أَخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الأَنبياء، باب: قول الله تعالی: واذکر في الکتاب مريم، 3/ 1268، الرقم: 3253، ومسلم في الصحيح، کتاب: البر والصلة والآداب، باب ؛تقديم بر الوالدين علی التطوع بالصلاة وغيرها، 4/ 1976، الرقم: 2550، وأَحمد بن حنبل في السند، 2/ 307. 308، الرقم: 8057، 8058، وابن حبان في الصحيح، 14/ 411، الرقم: 6489، والحاکم في المستدرک، 2/ 650، الرقم: 4161، وابن أَبي شيبة في المصنف، 6/ 339، الرقم: 31873، والطبراني في المعجم الکبير، 18/ 224، الرقم: 558، والبيهقي في شعب الإيمان، 6/ 193. 194، الرقم: 7879.

’’حضرت ھلال بن یساف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: پنگھوڑے میں تین (بچوں) کے علاوہ کسی نے کلام نہیں کیا (اور وہ تین یہ ہیں:) حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام کی گواہی دینے والا بچہ اور صاحب جریج۔‘‘

اسے امام بخاری، مسلم، احمد، ابن حبان، ابن ابی شیبہ اور حاکم نے روایت کیا، الفاظ حاکم کے ہیں نیز انہوں نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔

139/ 10. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ: أَنَّهُ قَالَ: إِنِّي لَأَرْجُو إِنْ طَالَ بِي عُمْرٌ أَنْ أَلْقَی عِيْسَی بْنَ مَرْيَمَ عليه السلام فَإِنْ عَجِلَ بِي مَوْتٌ فَمَنْ لَقِيَهُ مِنْکُمْ فَلْيُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ مَرْفُوْعًا، وَمَوْقُوْفًا، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيْحِ.

الحديث رقم: أَخرجه أَحمد بن حنبل في المسند، 2/ 298. 299، الرقم: 7957. 7958، 7965، وابن الجعد في المسند، 1/ 175، الرقم: 1124، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8/ 5، 205، وقال: روه أَحمد بإسناد ورجالهما رجال الصحيح، والعظيم آبادي في عون المعبود، 11/ 310.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: میں امید کرتا ہوں کہ اگر میری عمر طویل ہوئی تو میں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے ملاقات کروں گا۔ اور اگر میرا وصال جلد ہو گیا تو تم میں سے جو شخص انہیں ملے تو وہ انہیں میری طرف سے سلام کہے۔‘‘

اس حدیث کو امام احمد نے مرفوعا اور موقوفاً روایت کیا ہے اور دونوں احادیث کے رجال صحیح حدیث کے رجال ہیں۔

140/ 11. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما: أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: فَيَأَتُوْنَ عِيْسَی بِالشَّفَاعَةِ فَيَقُوْلُ: هَلْ تَعْلَمُوْنَ أَحَدًا هُوَ کَلِمَةُ اللهِ وَرُوْحُهُ وَيُبْرِيئُ الْأَکْمَهَ وَالْأَبْرَصَ وَيُحْيِي الْمَوتَی غَيْرِي؟ فَيَقُوْلُوْنَ: لَا. رَوَاهُ الْحَاکِمُ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِْسْنَادِ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 650، الرقم: 4159.

’’حضرت عبدالله بن عباس رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: (روزِ قیامت) لوگ شفاعت کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ کہیں گے: کیا تم میرے علاوہ کسی ایسے شخص کو جانتے ہو جو ’’کلمۃ اللہ‘‘ اور ’’روح اللہ‘‘ہے اور جو مادرزاد کوڑھی اور برص کے مریضوں کو صحیح اور مردوں کو زندہ کر دیتا ہے؟ تو لوگ کہیں گے: نہیں۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا اور فرمایا کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔

141/ 12. عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَی أَمِّ حَبِيْبَةَ رضي الله عنها قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رضی الله عنه يَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: لَيَهْبُطَنَّ عَيْسَی ابْنُ مَرْيَمَ حَکَمًا عَدْلًا وَإِمَامًا مُقْسِطًا وَلَيَسْلُکَنَّ فَجَّا حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا أَوْ بِنْيَتَهُمَا وَلَيَأَتِيَنَّ قَبْرِي حَتَّی يُسَلِّمَ عَلَيَّ وَلَأَرُدَّنَّ عَلَيْهِ. يَقُوْلُ أَبُوْهُرَيْرَةَ رضی الله عنه: أَي بَنِي أَخِي إِنْ رَأَيْتُمُوْهُ فَقُوْلُوْا: أَبُوهُرَيْرَةَ يُقْرِئُکَ السَّلَامَ.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَابْنُ عَسَاکِرَ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِْسْنَادِ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 651، الرقم: 4162، وابن عساکر في تاريخ دمشق الکبير، 47/ 493. 494، والعظيم آبادی في عون المعبود، 11/ 310، والمناوي في فيض القدير، 5/ 399.

’’حضرت ام حبیبہ رضی الله عنہا کے غلام حضرت عطاء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: یقینا حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام عدل کے ساتھ فیصلے فرمانے والے اور منصف امام کی صورت میں نازل ہوں گے اور یقینا وہ حج یا عمرہ کی غرض سے یا ان دونوں کی غرض سے مکہ کے طریق پر چلیں گے اور یقینا وہ میری قبر پر آئیں گے تاکہ مجھے سلام عرض کر سکیں اور یقینا میں ان کے سلام کا جواب دوں گا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اے میرے بھتیجو! اگر تم انہیں (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو) دیکھو تو عرض کرنا: ابو ہریرہ آپ کی خدمت میں سلام عرض کرتا ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم اور ابن عساکر نے روایت کیا اور امام حاکم نے فرمایا: یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔

142/ 13. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: أَلَا إِنَّ عِيْسَی بْنَ مَرْيَمَ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ وَلَا رَسُوْلٌ أَلاَ أَنَّهُ خَلِيْفَتِي مِنْ بَعْدِي يَقْتُلُ الدَّجَّالَ، وَيَکْسِرُ الصَّلِيْبَ، وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ، وَتَضَعُ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا. أَلاَ مَنْ أَدْرَکَهُ مِنْکُمْ فَلْيَقْرَأَ عَلَيْهِ السَّلَامَ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْخَطِيْبُ.

الحديث رقم: أَخرجه الطبراني في المعجم الصغير، 2/ 30، الرقم: 725، والخطيب البغدادي في تاريخ بغداد، 11/ 172، الرقم: 5872، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 4/ 84، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8/ 205.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: خبردار! بے شک میرے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان نہ کوئی نبی ہے اور نہ رسول۔ غور سے سنو! بے شک وہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) میرے بعد میرے نائب ہوں گے جو دجال کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور جزیہ کو ختم کریں گے (یعنی لوگوں میں دین کی اتنی تبلیغ و اشاعت کریں گے کوئی بھی ذمی باقی نہیں رہے گا کہ جس پر جزیہ واجب ہو) اور جنگ ختم ہو جائے گی۔ سنو! تم میں سے جو بھی انہیں ملے تو انہیں سلام عرض کرے۔‘‘

اس حدیث کو امام طبرانی اور خطیب بغدادی نے روایت کیا ہے۔

143/ 14. عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ رضی الله عنه قَالَ: يُدْفَنُ عِيْسَی ابْنُ مَرْيَمَ عليه السلام مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ وَصَاحِبَيْهِ رضي الله عنهما، فَيَکُوْنُ قَبْرُهُ رَابِعٌ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ کَمَا قَالَ الْهَيْثَمِيُّ وَابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ.

الحديث رقم: أَخرجه الطبراني کما قال الهيثمي في مجمع الزوائد، 8/ 201، والعسقلاني في فتح الباري، 13/ 308، وقال: روه الطبراني، وابن عبدالبر في التمهيد، 14/ 202، والمزی في تهذيب الکمال، 19/ 394.

’’حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو حضور نبی اکرم ﷺ اور آپ علیہ الصلاۃ والسلام کے دونوں رفقاء (حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر رضی الله عنہما) کے ساتھ دفن کیا جائے گا۔ پس آپ کی قبر چوتھی قبر ہوگی۔‘‘

اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا جیسا کہ امام ہیثمی نے مجمع الزوائد میں کہا ہے اور ابن عبدالبر نے بھی اسے روایت کیا ہے۔

20. فَصْلٌ فِي جَامِعِ مَنَاقِبِ الْأَنْبِيَاءِ

{انبیاء کرام علیہم السلام کے جامع مناقب کا بیان}

144/ 1. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ رضی الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم: أَخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الديات، باب: إِذا لطم المسلم يهوديا عند الغضب، 6/ 2534، الرقم: 6518، ومسلم في الصحيح، کتاب: الفضائل، باب: من فضائل موسی عليه السلام، 4/ 1845، الرقم: 2374، وأَبوداود في السنن، کتاب: السنة، باب: في التخيير بين الأَنبياء عليهم الصلاة والسلام، 4/ 217، الرقم: 4668، وأَحمد بن حنبل في المسند، 3/ 31، 33، الرقم: 11283، 11304، وابن حبان في الصحيح، 14/ 130، الرقم: 6237، وابن أَبي شيبة في المصنف، 6/ 326، الرقم: 31798، والطحاوي في شرح معاني الآثار، 4/ 315، وأَبو يعلی في المسند، 2/ 517، الرقم: 1368، والطبراني في المعجم الأَوسط، 1/ 88، الرقم: 260.

’’حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: انبیاء کرام علیہم السلام کے درمیان (بعض کو بعض پر) فضیلت مت دو۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

145/ 2. عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ رضی الله عنه يَقُولُ: إِنَّ رُؤْيَا الْأَنْبِيَاءِ وَحْيٌ ثُمَّ قَرَأَ: {إِنِّي أَرَی فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُکَ} [الصافات، 37: 102].

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالْحَاکِمُ کِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم: أَخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الوضوء، باب: التخفيف في الوضوء، 1/ 64، الرقم: 138، والترمذي في السنن، کتاب: المناقب، باب: في مناقب عمر بن الخطاب رضی الله عنه، 5/ 602، الرقم: 3689، والحاکم في المستدرک، 2/ 468، الرقم: 3613، 4/ 438، الرقم: 8197، وابن أَبي عاصم في السنة، 1/ 202، والبيهقي في السنن الکبری، 1/ 122، الرقم: 596، والحميدي في المسند، 1/ 224، الرقم: 474، والطبراني في المعجم الکبير، 12/ 6، الرقم: 12302، والديلمي عن ابن عمر رضي الله عنهما في مسند الفردوس، 2/ 272، الرقم: 3264، والطبري في جامع البيان، 23/ 78.

’’حضرت عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انبیاء کرام علیہم السلام کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں پھر یہ آیت پڑھی: ’’پس خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا نیز امام ترمذی اور حاکم نے بھی حضرت عبدالله بن عباس رضی الله عنہما سے روایت کیا ہے اور امام حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔

146/ 3. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: رَأَيْتُ عِيْسَی وَمُوسَی، وَإِبْرَاهِيْمَ فَأَمَّا عِيْسَی فَأَحْمَرُ جَعْدٌ عَرِيْضُ الصَّدْرِ وَأَمَّا مُوسَی فَآدَمُ جَسِيْمٌ سَبْطٌ کَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ الزُّطِّ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَابْنُ مَنْدَه.

الحديث رقم: أَخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الأَنبياء، باب: قول الله: واذکر في الکتاب مريم، 3/ 1269، الرقم: 3255، وابن منده في الإيمان، 2/ 738، الرقم: 726، والطبراني في المعجم الکبير، 11/ 64، الرقم: 11057، واللالکائي في اعتقاد أَهل السنة، 4/ 772، الرقم: 1429، والديلمي في مسند الفردوس، 2/ 256، الرقم: 3191.

’’حضرت عبدالله بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: (شبِ معراج) میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو سرخ رنگ، گھنگریالے بالوں اور چوڑے سینے والے تھے۔ علاوہ ازیں حضرت موسیٰ علیہ السلام گندمی رنگ اور سیدھے بالوں والے تھے گویا قبیلہ زط کے فرد ہیں۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری اور ابن مندہ نے روایت کیا ہے۔

147/ 4. عَنْ سَعْدٍ رضی الله عنه، قَالَ: قُلْتُ:يَا رَسُولَ اللهِ، أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَـلَاءً؟ قَالَ: الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ فَيُبْتَلَی الرَّجُلُ عَلَی حَسْبِ دِيْنِهِ فَإِنْ کَانَ دِيْنُهُ صُلْبًا اشْتَدَّ بَـلَاؤُهُ. وَإِنْ کَانَ فِي دِيْنِهِ رِقَّةٌ ابْتُلِيَ عَلَی حَسْبِ دِيْنِهِ فَمَا يَبْرَحُ الْبَـلَاءُ بِالْعَبْدِ حَتَّی يَتْرُکَهُ يَمْشِي عَلَی الْأَرْضِ مَا عَلَيْهِ خَطِيْئَةٌ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَةَ وَالْبُخَارِيُّ فِي تَرْجَمَةِ الْبَابِ مُخْتَصَرًا.

وَقَالَ أَبُوعِيْسَی: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

وفي رواية أَحمد: قَالَ: إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ بَـلَاءً الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ.

وفي رواية للحاکم: قَالَ: الْأَنْبِيَاءُ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: الْعُلَمَاءُ: قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ الصَّالِحُوْنَ.

الحديث رقم: أَخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الزهد عن رسول الله ﷺ، باب: ماجاء في الصبر علی البلاء، 4/ 601، الرقم: 2398، وفي الصحيح، کتاب: المرضی، باب: أَشد الناس بلاء الأَنبياء ثم الأَمثل فالأَمثل، 5/ 2139، والنسائي في السنن الکبری، 4/ 355، 379، الرقم: 7496، 7613، وابن ماجة في السنن، کتاب: الفتن، باب: الصبر علی البلاء، 2/ 1334، الرقم: 4023. 4024، وأَحمد بن حنبل في المسند، 6/ 369، الرقم: 27124، وابن حبان في الصحيح، 7/ 160، الرقم: 2900، 2921، والدارمي في السنن، 2/ 412، الرقم: 2783، والحاکم في المستدرک، 1/ 99، الرقم: 120، 3/ 448، الرقم: 5463، 4/ 448، الرقم: 8231، وأَبو يعلی في المسند، 2/ 312، الرقم: 1045، والشاشي في المسند، 1/ 130، الرقم: 67، والأَزدي في مسند الربيع، 1/ 377، الرقم: 993، والبيهقي في السنن الکبری، 3/ 372، الرقم: 6325، والطبراني في المعجم الکبير، 24/ 245، الرقم: 627، 629.

’’حضرت سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول الله، لوگوں میں سب سے زیادہ سخت آزمائش کس کی ہوتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: انبیاء کرام علیہم السلام کی، پھر درجہ بدرجہ مقربین کی۔ آدمی کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے۔ اگر دین میں مضبوط ہو تو سخت آزمائش ہوتی ہے۔ اگر دین میں کمزور ہو تو حسبِ دین آزمائش کی جاتی ہے۔ بندے کے ساتھ یہ آزمائشیں ہمیشہ رہتی ہیں یہاں تک کہ وہ زمین پر اس طرح چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور امام بخاری نے ترجمۃ الباب میں مختصرًا روایت کیا ہے۔ امام ابوعیسیٰ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے۔

اور امام احمد کی ایک روایت میں ہے کہ لوگوں میں سب سے زیادہ سخت آزمائے جانے والے انبیاء کرام علیہم السلام ہوتے ہیں پھر جو ان سے ملے ہوتے ہیں پھر جو ان سے ملے ہوتے ہیں پھر جو ان سے ملے ہوتے ہیں۔

اور امام حاکم کی ایک روایت میں ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ سخت آزمائے جانے والے انبیاء کرام علیہم السلام ہوتے ہیں پھر علماء اور پھر صلحاء۔‘‘

148/ 5. عَنْ کَعْبٍ رضی الله عنه قَالَ: إِنَّ اللهَ قَسَّمَ رُؤْيَتَهُ وَکَـلَامَهُ بَيْنَ مُحَمَّدٍ وَمُوْسَی عليهما السلام. فَکَلَّمَ مُوْسَی عليه السلام مَرَّتَيْنِ وَرَآهُ مُحَمَّدٌ ﷺ مَرَّتَيْنِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْحَاکِمُ.

الحديث رقم: أَخرجه الترمذي في السنن، کتاب: تفسير القرآن عن رسول الله ﷺ، باب: ومن سورة والنجم، 5/ 394، الرقم: 3278، والحاکم في المستدرک، 2/ 629، الرقم: 4099، وعبدالله بن أحمد في السنة، 1/ 286، الرقم: 548، ورجاله ثقات، وابن راهويه في المسند، 3/ 790، الرقم: 1421، وابن النجاد في الرد علی من يقول القرآن مخلوق، 1/ 37، الرقم: 17، والطبري في جامع البيان، 27/ 51، والقرطبي في الجامع لأحکام القرآن، 7/ 56، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 4/ 251، والعسقلاني في فتح الباري، 8/ 606، الرقم: 4574.

’’حضرت کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک الله تعالیٰ نے اپنی رؤیت (دیدار) اور اپنے کلام کو حضور نبی اکرم ﷺ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم فرمایا۔ پس الله تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ دو مرتبہ کلام فرمایا اور حضور نبی اکرم ﷺ نے الله تعالیٰ کو دو مرتبہ دیکھا۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی، حاکم اور طبری نے روایت کیا ہے۔

149/ 6. عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَامِکُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فِيْهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيْهِ قُبِضَ وَفِيْهِ النَّفْخَةُ، وَفِيْهِ الصَّعْقَةُ فَأَکْثِرُوْا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيْهِ، فَإِنَّ صَلَاتَکُمْ مَعْرُوْضَةٌ عَلَيَّ، قَالَ: قَالُوْا: يَا رَسُوْلَ اللهِ، کَيْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَيْکَ وَقَدْ أَرِمْتَ؟ يَقُوْلُوْنَ: بَلِيْتَ قَالَ ﷺ: إِنَّ اللهَ حَرَّمَ عَلَی الْأَرْضِ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنِّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَةَ.

الحديث رقم 1: أخرجه أَبوداود فی السنن، کتاب: الصلاة، باب: فضل يوم الجمعة وليلة الجمعة، 1/ 275، الرقم: 1047، وفی کتاب: الصلاة، باب: في الاستغفار، 2/ 88، الرقم: 1531، والنسائی فی السنن، کتاب: الجمعة، باب: بإکثار الصلاة علی النبی ﷺ يوم الجمعة، 3/ 91، الرقم: 1374، وابن ماجة فی السنن، کتاب: إقامة الصلاة، باب: في فضل الجمعة، 1/ 345، الرقم: 1085.

’’حضرت اَوس بن اَوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بیشک تمہارے دنوں میں سے جمعہ کا دن سب سے بہتر ہے اس دن حضرت آدم علیہ السلام پیدا ہوئے اور اسی دن انہوں نے وفات پائی اور اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن سخت آواز ظاہر ہو گی۔ پس اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو کیونکہ تمہارا درود مجھے پیش کیا جاتا ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارا درود آپ ﷺ کے وصال کے بعد آپ ﷺ کو کیسے پیش کیا جائے گا؟ جبکہ آپ ﷺ کا جسدِ مبارک خاک میں مل چکا ہو گا تو آپ ﷺ نے فرمایا: (نہیں، ایسا نہیں ہے) بیشک اللہل نے زمین پر انبیائے کرام کے جسموں کا کھانا حرام کر دیا ہے۔‘‘

اسے امام ابو داود، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

150/ 7. عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ رضی الله عنه: أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: نَحْنُ الْآخِرُوْنَ، وَنَحْنُ السَّابِقُوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِنِّي قَائِلٌ قَوْلًا غَيْرَ فَخْرٍ: إِبْرَاهِيْمُ خَلِيْلُ اللهِ، وَمُوْسَی صَفِيُّ اللهِ، وَأَنَا حَبِيْبُ اللهِ، وَمَعِي لِوَاءُ الْحَمْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِنَّ اللهَ ل وَعَدَنِي فِي أُمَّتِي، وَأَجَارَهُمْ مِنْ ثَـلَاثٍ: لَا يَعُمُّهُمْ بِسَنَةٍ، وَلَا يَسْتَأْصِلُهُمْ عَدُوٌّ، وَلَا يَجْمَعُهُمْ عَلَی ضَلاََلةٍ.

رَوَاهُ الدَّارَمِيُّ.

الحديث رقم: أَخرجه الدارمی فی السنن باب: (8) ما أعطِيَ النَّبِيَّ ﷺ من الفضل، 1/ 42، الرقم: 54، والمبارکفوری فی تحفة الأحوذی، 6/ 323.

’’حضرت عمرو بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہم آخر میں آنے والے اور قیامت کے دن سب سے آگے ہونے والے ہیں۔ میں بغیر کسی فخر کے یہ بات کہتا ہوں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام خلیل اللہ ہیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام صفی اللہ ہیں اور میں حبیب اللہ ہوں۔ قیامت کے دن حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہو گا۔ اللہ تعالی نے مجھ سے میری امت کے متعلق وعدہ کر رکھا ہے اور تین باتوں سے اسے (امت کو) بچایا ہے۔ ایسا قحط ان پر نہیں آئے گا جو پوری امت کا احاطہ کر لے اور کوئی دشمن اسے جڑ سے نہیں اکھاڑ سکے گا اور (اللہ تعالیٰ) انہیں گمراہی پر جمع نہیں فرمائے گا۔‘‘

اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔

151/ 8. عَنْ أَبِي ذَرٍّ رضی الله عنه في رواية طويلة: قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، کَمِ الْأَنْبِيَاءُ؟ قَالَ: مِائَةَ أَلْفٍ وَعِشْرُوْنَ أَلْفًا قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، کَمِ الرُّسُلُ مِنْ ذَلِکَ؟ قَالَ: ثَـلَاثَ مِائَةٍ وَثَـلَاثَةَ عَشَرَ جَمًّا غَفِيْرًا. قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَنْ کَانَ أَوَّلُهُمْ قَالَ: آدَمُ قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، أَنَبِيٌّ مُرْسَلٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، خَلَقَهُ اللهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيْهِ مِنْ رُوْحِهِ وَکَلَّمَهُ قَبْـلًا ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ، أَرْبَعَةٌ سَرْيَانِيُوْنَ: آدَمُ، وَشِيْثُ، وَأَخْنُوخُ. وَهُوَ إِدْرِيْسُ وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ خَطَّ بِالْقَلَمِ. وَنُوْحٌ، وَأَرْبَعَةٌ مِنَ الْعَرَبِ: هُوْدٌ، وَشُعَيْبٌ، وَصَالِحٌ، وَنَبِيُکَ مُحَمَّدٌ(ﷺ)… الحديث.

رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ وَأَبُونُعَيْمٍ وَابْنُ عَسَاکِرَ.

الحديث رقم: أَخرجه ابن حبان في الصحيح، 2/ 76. 77، الرقم: 361، وفي الثقات، 2/ 119، وأَبو نعيم في حلية الأَولياء، 1/ 167، وابن عساکر في تاريخ دمشق الکبير، 23/ 275، 277، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 1/ 586. 587، والهيثمي في موارد الظمآن، 1/ 53.

’’حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ ایک طویل روایت میں بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول الله، انبیاء کرام علیہم السلام کتنے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ایک لاکھ بیس ہزار۔ میں نے عرض کیا: ان میں سے رسول کتنے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تین سو تیرہ (افراد) کا ایک جم غفیر ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول الله، ان میں سے سب سے پہلے نبی کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: حضرت آدم علیہ السلام۔ میں نے عرض کیا: یا رسول الله! کیا وہ نبی مرسل ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، الله تعالیٰ نے انہیں اپنے دستِ قدرت سے پیدا فرمایا اور ان میں اپنی روح پھونکی اور اس سے پہلے ان سے کلام فرمایا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اے اباذر، چار نبی سریانی تھے، آدم علیہ السلام، شیث علیہ السلام، اخنوح یعنی ادریس علیہ السلام اور یہ وہ پہلے نبی ہیں جنہوں نے قلم کے ساتھ لکھا اور نوح علیہ السلام، اور چار نبی عربی ہیں: حضرت ھود علیہ السلام، حضرت شعیب علیہ السلام، حضرت صالح علیہ السلام اور تمہارے نبی محمد مصطفی ( ﷺ) الحدیث۔‘‘

اس حدیث کو امام ابن حبان، ابونعیم اور ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔

152/ 9. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ: کَانَ بَيْنَ آدَمَ وَنُوْحٍ عَشْرَةُ قُرُوْنٍ کُلُّهُمْ عَلَی شَرِيْعَةٍ مِنَ الْحَقِّ فَلَمَّا اخْتَلَفُوْا بَعَثَ اللهُ النَّبِيِّيْنَ وَالْمُرْسَلِيْنَ وَأَنْزَلَ کِتَابَهُ فَکَانُوْا أَمَّةً وَاحِدَةً. رَوَاهُ الْحَاکِمُ.

وَقَالَ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

وفي رواية: قَالَ: کَانَ بَيْنَ آدَمَ وَنُوْحٍ عَشْرَةُ أَقْرُنٍ کُلِّهَا عَلَی الإِْسْلَامِ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

وفي رواية: عَنْ أَبِي أَمَامَةَ رضی الله عنه: أَنَّ رَجُـلًا قَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، أَنَبِيُّ آدَمُ؟ قَالَ: نَعَمْ مُکَلَّمٌ، قَالَ: فَکَمْ کَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ نُوْحٍ؟ قَالَ: عَشْرَةُ قُرُوْنٍ. رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ.

الحديث رقم: أَخرجه ابن حبان في الصحيح، 14/ 69، الرقم: 6190، والحاکم في المستدرک، 2/ 480، الرقم: 3654، وابن أَبي شيبة في المصنف، 7/ 19، الرقم: 33928، وابن حيان في العظمة، 5/ 1593، الرقم: 56، والهيثمي في مجمع الزوائد، 6/ 318.

’’حضرت عبدالله بن عباس رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت آدم اور حضرت نوح علیہما السلام کے درمیان دس صدیوں کا (ایک طویل) وقفہ ہے۔ (اس دوران) وہ (تمام لوگ) شریعتِ حق پر تھے، پس جب ان میں اختلافات پیدا ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے انبیاء و مرسلین کو مبعوث فرمایا اور اپنی کتاب نازل فرمائی پھر وہ ایک امت ہو گئے۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے۔

اور ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’حضرت آدم اور حضرت نوح علیھما السلام کے درمیان دس صدیوں کا وقفہ ہے اور یہ دس کی دس صدیاں اسلام پر تھیں۔‘‘

اس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

اور ایک روایت میں حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ’’ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ، کیا حضرت آدم علیہ السلام نبی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں اور ان سے اللہ تعالیٰ نے کلام بھی فرمایا، اس شخص نے عرض کیا: حضرت آدم اور حضرت نوح علیہما السلام کے درمیان کتنا عرصہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: دس صدیاں۔‘‘

اس حدیث کو امام ابن حیان نے روایت کیا ہے۔

153/ 10. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما فِي قَوْلِهِ ل: {وَاذْکُرْ فِي الْکِتَابِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّهُ کَانَ صِدِّيْقًا نَبِيًّا} [مريم، 19: 41]، قَالَ: کَانَ الْأَنْبِيَاءُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيْلَ إِلَّا عَشْرَةٌ: نُوْحٌ، وَصَالِحٌ، وَهُوْدٌ، وَلُوْطٌ، وَشُعَيْبٌ، وَإِبْرَاهِيْمُ، وَإِسْمَاعِيْلُ، وَإِسْحَاقُ، وَيَعْقُوْبُ وَمُحَمَّدٌ عليهم الصلاة والسلام، وَلَمْ يَکُنْ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ مَنْ لَهُ اسْمَانِ إِلَّا إِسْرَائِيْلَ وَعِيْسَی فَإِسْرَائِيْلُ يَعْقُوْبُ وَعِيْسَی الْمَسِيْحُ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَالْبَيْهَقِيُّ.

وَقَالَ الْحاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِْسْنَادِ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 405، الرقم: 3415، والطبراني في المعجم الکبير، 11/ 276، الرقم: 11723، والبيهقي في شعب الإيمان، 1/ 150، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 1/ 188، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8/ 210.

’’حضرت عبدالله بن عباس رضی الله عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ’’اور اس کتاب میں ابراہیم کا ذکر کر بے شک وہ سچے اور نبی تھے۔‘‘ کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ سارے کے سارے انبیاء کرام علیہم السلام بنی اسرائیل میں سے تھے سوائے دس انبیاء کرام علیہم السلام کے اور وہ یہ ہیں: حضرت نوح، حضرت صالح، حضرت ہود، حضرت لوط، حضرت شعیب، حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب علیہم السلام اور سیدنا محمد ﷺ۔ انبیاء کرام علیہم السلام میں سے سوائے حضرت اسرائیل اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام کے کسی کے دو نام نہیں تھے۔ پس اسرائیل علیہ السلام کا دوسرا نام یعقوب اور عیسیٰ علیہ السلام کا دوسرا نام مسیح تھا۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم اور طبرانی نے ثقات رجال کے ساتھ روایت کیا اور بیہقی نے بھی اسے روایت کیا ہے اور امام حاکم کہتے ہیں یہ حدیث صحیح ہے۔

154/ 11. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما أَنَّ النَّبِيَّ رضی الله عنه لَمَّا رَأَی الصُّوَرَ فِي الْبَيْتِ لَمْ يَدْخُلْ حَتَّی أَمَرَ بِهَا فَمُحِيَتْ، وَرَأَی إِبْرَاهِيْمَ وَإِسْمَاعِيْلَ عليهما السلام بِأَيْدِيهِمَا الْأَزْلَامُ فَقَالَ: قَاتَلَهُمُ اللهُ وَاللهِ، إِنِ اسْتَقْسَمَا بِالْأَزْلَامِ قَطُّ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَابْنُ رَاشِدٍ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 599، الرقم: 4019، والطبراني في المعجم الکبير، 11/ 314، الرقم: 11845، وابن راشد في الجامع، 10/ 398، والعظيم آبادي في عون المعبود، 11/ 141، والشوکاني في نيل الأَوطار، 2/ 98.

’’حضرت عبدالله بن عباس رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے جب خانہ کعبہ میں (دیواروں پر بنی) تصویریں دیکھیں تو اس میں داخل نہ ہوئے یہاں تک کہ ان تصویروں کو آپ کے حکم سے وہاں سے ہٹا دیا گیا اور آپ ﷺ نے حضرت ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کو (تصویر میں) دیکھا کہ آپ کے ہاتھوں میں جوئے کے تیر ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ان (مشرکین) کو اللہ تعالیٰ ہلاک کرے۔ الله رب العزت کی قسم، ان دونوں (حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام) نے کبھی بھی جوئے کے تیروں کے ذریعے تقسیم نہیں چاہی۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم، طبرانی اور ابن راشد نے روایت کیا ہے اور امام حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔

155/ 12. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ: جَاءَ إِبْرَاهِيْمُ عليه السلام فَوَجَدَ إِسْمَاعِيْلَ يُصْلِحُ لَهُ بَيْتًا مِنْ وَرَاءِ زَمْزَمَ فَقَالَ لَهُ إِبْرَاهِيْمُ: يَا إِسْمَاعِيْلُ، إِنَّ رَبَّکَ قَدْ أَمَرَنِي بِبَنَاءِ الْبَيْتِ. فَقَالَ لَهُ إِسْمَاعِيْلُ: فَأَطِعْ رَبَّکَ فِيْمَا أَمَرَکَ. قَالَ فَأَعِنِّي عَلَيْهِ. قَالَ: فَقَامَ مَعَهُ فَجَعَلَ إِبْرَاهِيْمُ يَبْنِيْهِ وَإِسْمَاعِيْلُ يُنَاوِلُهُ الْحِجَارَةَ وَيَقُوْلَانِ: {رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمِ}، [البقرة، 2: 127]. رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرِيُّ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 601، الرقم: 4025، والطبري في جامع البيان، 1/ 550، 13/ 232، وفي تاريخ الأَمم والملوک، 1/ 156.

’’حضرت عبدالله بن عباس رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تشریف لائے تو حضرت اسماعیل علیہ السلام کو آبِ زمزم کے اس پار اپنے گھر کی مرمت کرتے ہوئے پایا۔ پس حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: اے اسماعیل! بے شک تمہارے رب نے مجھے بیت اللہ کی تعمیر کا حکم دیا ہے۔ یہ سن کر حضرت اسماعیل علیہ السلام نے عرض کیا: آپ اپنے رب کے حکم کی اطاعت کیجئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: تم اس کام میں میری مدد کرو۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام آپ کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے سو حضرت ابراہیم علیہ السلام گھر بناتے جاتے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام آپ کو پتھر پکڑاتے جاتے اور دونوں یہ کہتے جاتے: ’’اے ہمارے ربّ ہم سے (ہمارا یہ عمل) قبول فرما، بے شک تو سننے والا اور جاننے والا ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم اور طبری نے روایت کیا ہے نیز امام حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔

156/ 13. عَنْ کَعْبٍ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ صَالِحٌ نَبِيَّ اللهِ وَکَانَ يُشْبِهُ بِعِيْسَی بْنِ مَرْيَمَ أَحْمَرُ إِلَی الْبَيَاضِ مَا هُوَ سَبْطُ الرَّأْسِ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 616، الرقم: 4066.

’’حضرت کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت صالح علیہ السلام الله تعالیٰ کے نبی تھے اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیھما السلام کے مشابہ تھے اور سفیدی مائل سرخ تھے، آپ کے بال سیدھے نہیں تھے۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے۔

157/ 14. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِنَّ اللهَ اصْطَفَی مُوْسَی بِالْکَلَامِ وَإِبْرَاهِيْمَ بِالْخُلَّةِ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 629، الرقم: 4098، والسيوطي في الجلالين، 1/ 371.

’’حضرت عبدالله بن عباس رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بے شک الله تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنے ساتھ ہم کلام ہونے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنی دوستی کے لئے چنا۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا اور فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔

158/ 15. عَنْ کَعْبٍ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ إِلْيَاسُ نَبِيُّ اللهِ صَاحِبَ جِبَالٍ بَرِيَةٍ يَخْلُو فِيْهَا يَعْبُدُ رَبَّهُ وَکَانَ ضَخْمَ الرَّأَسِ خَمِيْصَ الْبَطْنِ دَقِيْقَ السَّاقَيْنِ وَکَانَ فِي رَأَسِهِ شَامَّةٌ حَمْرَاءُ وَإِنَّمَا رَفَعَهُ اللهُ إِلَی أَرْضِ الشَّامِ وَلَمْ يَصْعَدْ بِهِ السَّمَاءَ فَأَوْرِثَ الْيَسْعُ مِنْ بَعْدِهِ النُّبُوَّةَ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 637، الرقم: 4119.

’’حضرت کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت الیاس علیہ السلام الله تعالیٰ کے نبی اور بریہ پہاڑوں کے مالک تھے جن میں آپ الله تعالیٰ کی عبادت کے لئے خلوت اختیار کرتے آپ بڑے سر مبارک والے، خالی پیٹ والے، پتلی پنڈلیوں والے تھے اور آپ کے سر میں سرخ رنگ کا ایک نشان تھا۔ الله تعالیٰ آپ کو ارض شام کی طرف اٹھا کر لے گیا اور آپ کو آسمان کی طرف نہیں اٹھایا اور آپ کے بعد حضرت یسع علیہ السلام کو نبوت عطا فرمائی۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے۔

159/ 16. عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما: أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ أَتَی عَلَی وَادِي الْأَزْرَقِ فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: وَادِي الْأَزْرَقِ. فَقَالَ: کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی مُوْسَی بْنِ عِمْرَانَ مَهْبَطًا لَهُ خَوَارٌ إِلَی اللهِ بِالتَّکْبِيْرِ. ثُمَّ أَتَی عَلَی ثِنْيَةَ فَقَالَ: مَا هَذِهِ الثِّنْيَةُ؟ قَالُوا: ثِنْيَةُ کَذَا وَکَذَا. فَقَالَ: کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی يُوْنُسَ بْنِ مَتَّی عَلَی نَاقَةٍ حَمْرَاءَ جَعْدَةٍ خِطَامُهَا لِيْفٌ وَهُوَ يُلَبِّي وَعَلَيْهِ جُبَّةُ صُوْفٍ.

رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ وَأَبُونُعَيْمٍ وَالْحَاکِمُ وَاللَّفْظُ لَهُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم: أَخرجه ابن حبان في الصحيح، 14/ 103، الرقم: 6219، والحاکم في المستدرک، 2/ 373، 638، الرقم: 3313، 4123، والطبراني في المعجم الکبير، 12/ 159، الرقم: 12756، وأبونعيم في حلية الأولياء، 2/ 223، 3/ 96، والبيهقي في شعب الإيمان، 3/ 440، الرقم: 4004.

’’حضرت عبدالله بن عباس رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ وادء ازرق کی طرف تشریف لائے اور فرمایا: یہ کیا ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کیا: یہ وادء ازرق ہے۔ پس آپ ﷺ نے فرمایا: گویا کہ میں موسیٰ بن عمران علیہ السلام کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ وہ اس وادی میں اتر رہے ہیں الله تعالیٰ کی کبریائی بیان کر رہے ہیں۔ پھر آپ ﷺ ایک پہاڑی راستے کی طرف تشریف لائے تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: یہ کون سا پہاڑی راستہ ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کیا: یہ فلاں فلاں پہاڑی راستہ ہے۔ پس آپ ﷺ نے فرمایا: گویا میں حضرت یونس بن متی علیہ السلام کو سرخ گنگریالے بالوں والی اونٹنی پر بیٹھا ہوا دیکھ رہا ہوں۔ اس اونٹنی کی لگام کھجور کی چھال کی ہے اور آپ تلبیہ کہہ رہے ہیں اور آپ نے اون کا جبہ زیب تن کیا ہوا ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام ابن حبان، حاکم، طبرانی، ابونعیم اور بیہقی نے روایت کیا اور امام حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے اور مذکورہ الفاظ ان کے ہیں۔

160/ 17. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما: أَنَّهُ قَالَ: لَقَدْ سَلَکَ فَجَّ الرَّوْحَاءِ سَبْعُوْنَ نَبِيَا حُجَّاجًا عَلَيْهِمْ ثِيَابُ الصُّوْفِ وَلَقَدْ صَلَّی فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ سَبْعُوْنَ نَبِيًّا. رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالْبَيْهَقِيُّ.

وفي رواية: عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ قَبْرُ سَبْعِيْنَ نَبِيًّا.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْفَاکِهِيُّ وَالْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 653، الرقم: 4169، والبيهقي في السنن الکبری، 5/ 177، الرقم: 9618، والطبراني في المعجم الکبير، 12/ 474، الرقم: 13525، والفاکهی في أَخبار مکة، 4/ 266، الرقم: 2594، والهيثمي في مجمع الزوائد، 3/ 297، وقال: روه البزار ورجاله ثقات، والمناوي في فيض القدير، 4/ 459.

’’حضرت عبدالله بن عباس رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ روحاء کے راستے پر ستر انبیاء کرام علیہم السلام حج کی غرض سے گزرے ہیں جو اون کے کپڑے زیب تن کیے ہوئے تھے اور مسجد خیف میں ستر انبیاء علیہم السلام نے نماز ادا کی۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

حضرت عبدالله بن عمر رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: مسجد خیف میں ستر انبیاء کرام علیہم السلام کے مزارات ہیں۔‘‘

اسے امام طبرانی، فاکہی اور بزار نے روایت کیا نیز اس کے رجال ثقہ ہیں۔

وفي رواية عنه: قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: صَلََّی فِي الْمَسْجِدِ الْخَيْفِ سَبْعُوْنَ نَبِيًّا مِنْهُمْ مُوْسَی عليه السلام کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ وَعَلَيْهِ عِبَاءَ تَانِ قِطْوَانِيَتَانِ وَهُوَ مُحْرَمٌ عَلَي بَعِيْرٍ مِنْ إِبِلِ شَنُوَّةَ مَخْطُوْمٌ بِخُطَامِ لِيْفٍ لَهُ ضِفْرَانٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَبُونُعَيْمٍ وَالْفَاکِهِيُّ.

الحديث رقم: أَخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 11/ 452، الرقم: 12283، وأَبو نعيم في حلية الأَولياء، 2/ 10، وابن عدي في الکامل، 6/ 58، والفاکهي في أَخبار مکة، 4/ 266، الرقم: 2593، والذهبي في ميزان الاعتدال، 5/ 494، والديلمي في مسند الفردوس، 2/ 392، الرقم: 3740، والمقدسي في الأَحاديث المختارة، 10/ 292، الرقم: 319، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2/ 117، الرقم: 1736، وابن عساکر في تاريخ دمشق الکبير، 61/ 167، والهيثمي في مجمع الزوائد، 3/ 221، 297، وقال: روه البزار ورجاله ثقات.

’’اور آپ ہی سے مروی ایک روایت میں ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مسجد خیف میں ستر انبیاء کرام علیہم السلام نے نماز ادا کی جن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی شامل تھے، گویا میں ان کی طرف دیکھ رہا ہوں اور ان پر دو قطوانی چادریں تھیں اور وہ حالتِ احرام میں قبیلہ شنوہ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ پر سوار تھے جس کی نکیل کھجور کی چھال کی تھی جس کی دو رسیاں تھیں۔‘‘

اس حدیث کو امام طبرانی، ابو نعیم اور فاکہی نے روایت کیا ہے۔

161/ 18. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: الْأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُوْرِهِمْ يُصَلُّوْنَ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَی وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَابْنُ عَدِيٍّ وَالْبَيْهَقِيُّ.

وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: وَأَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأَسَ بِهِ.

والعسقلاني في الفتح وقال: قد جمع البيهقي کتابًا لطيفًا في حياة الأَنبياء في قبورهم أَورد فيه حديث أَنس رضی الله عنه: الأَنبياء أَحياء في قبورهم يصلّون. أَخرجه من طريق يحيی بن أَبي کثير وهو من رجال الصحيح عن المستلم بن سعيد وقد وثّقه أَحمد وابن حبّان عن الحجاج الأَسود وهو بن أَبي زياد البصري وقد وثّقه أَحمد وابن معين عن ثابت عنه وأَخرجه أَيضاً أَبو يعلی في مسنده من هذا الوجه وأَخرجه البزار وصحّحه البيهقي.

الحديث رقم: أَخرجه أَبو يعلی في المسند، 6/ 147، الرقم: 3425، وابن عدي في الکامل، 2/ 327، الرقم: 460، وقال: هذا أَحاديث غرائب حسان وأَرجو أَنه لا بأَس به، والديلمي في مسند الفردوس، 1/ 119، الرقم: 403، والعسقلاني في فتح الباري، 6/ 487، وفي لسان الميزان، 2/ 175، 246، الرقم: 787، 1033، وقال: روه البيهقي، وقال: ابن عدي: أَرجو أَنه لا بأَس به، والذهبي في ميزان الاعتدال، 2/ 200، 270، وقال: روه البيهقي، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8/ 211، وقال: روه أَبو يعلی والبزار، ورجال أَبي يعلی ثقات، والسيوطي في شرح علی سنن النسائي، 4/ 110، والعظيم آبادي في عون المعبود، 6/ 19، وقال: وأَلفت عن ذلک تأَليفا سميته: انتبه الأَذکياء بحياة الأَنبياء، والمناوي في فيض القدير، 3/ 184، والشوکاني في نيل الأَوطار، 5/ 178، وقال: فقد صححه البيهقي وأَلف في ذلک جزء ا، والزرقاني في شرح علی موطأَ الإمام مالک، 4/ 357، وقال: وجمع البيهقي کتابا لطيفا في حياة الأَنبياء وروی فيه بإسناد صحيح عن أَنس رضی الله عنه مرفوعا.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: انبیاء کرام علیہم السلام اپنی اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نماز پڑھتے ہیں۔‘‘

اس حدیث کو امام ابویعلی نے روایت کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور اس حدیث کو امام ابن عدی اور بیہقی نے بھی روایت کیا ہے اور امام ابن عدی نے فرمایا کہ اس حدیث کی سند میں کوئی نقص نہیں ہے۔

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved