The Best Way of Excellence of Merits and Virtues of Prophets (A.S.)

فصل 19 :حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام کے مناقب کا بیان

19. فَصْلٌ فِي مَنَاقِبِ عِيْسَی رُوْحِ اللهِ عليه السلام

{حضرت عیسیٰ روح الله علیہ السلام کے مناقب کا بیان}

130/ 1. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: مَا مِنْ بَنِي آدَمَ مَولُودٌ إِلَّا يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ حِيْنَ يُوْلَدُ فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ مَسِّ الشَّيْطَانِ غَيْرَ مَرْيَمَ وَابْنِهَا.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَهَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ.

الحديث رقم: أَخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الأَنبياء، باب: قول الله تعالی: واذکر في الکتاب مريم، 3/ 1265، الرقم: 3248، وفي کتاب: تفسير القرآن، باب: وإني أَعيذها بک وذريتها من الشيطان الرجيم، 4/ 1655، الرقم: 4274، ومسلم في الصحيح، کتاب: الفضائل، باب: فضائل عيسي عليه السلام، 4/ 1838، الرقم: 2366، وأَحمد بن حنبل في المسند، 2/ 233، 274، الرقم: 7182، 7694، وابن حبان في الصحيح، 14/ 129، الرقم: 6235، وابن أَبي شيبة في المصنف، 6/ 288، الرقم: 31496، وأَبو يعلی في المسند، 10/ 376، الرقم: 5971، والطبراني في المعجم الأَوسط، 7/ 38، الرقم: 6784.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: آپ ﷺ فرما رہے تھے: بنی آدم میں سے کوئی مولود (یعنی بچہ) ایسا نہیں ہے جسے پیدائش کے وقت شیطان مس نہ کرے۔ پس وہ بچہ اس شیطان کے مس کرنے کی وجہ سے چیخنا چلانا شروع کر دیتا ہے سوائے حضرت مریم اور ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیھما السلام کے (کہ انہیں شیطان نے مس نہیں کیا۔)‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ امام بخاری کے ہیں۔

131/ 2. عَنْ عُبَادَةَ رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْکَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنْ عِيْسَی عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ، وَکَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَی مَرْيَمَ، وَرُوْحٌ مِنْهُ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ أَدْخَلَهُ اللهُ الْجَنَّةَ عَلَی مَاکَانَ مِنَ الْعَمَلِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم: أَخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الأَنبياء، باب: قوله: يا أَهل الکتاب لا تغلوا في دينکم، 3/ 1267، الرقم: 3252، ومسلم في الصحيح، کتاب: الإيمان، باب: الدليل علی أَن من مات علی التوحيد دخل الجنة قطعا، 1/ 57، الرقم: 28، والنسائي في السنن الکبری، 6/ 277. 278، الرقم: 10969. 10970، 11132، وأَحمد بن حنبل في المسند، 5/ 313، الرقم: 22727، وابن حبان في الصحيح، 1/ 437، الرقم: 207، والبزار في المسند، 7/ 130، الرقم: 2682، وابن منده في الإيمان، 1/ 510، الرقم: 404.

’’حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو اس بات کی گواہی دے کہ الله تعالیٰ کے سوا اور کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور بے شک محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور بے شک حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی الله تعالیٰ کے بندے، اس کے رسول اور اس کا ایک کلمہ ہیں جو اس نے مریم علیہا السلام کی طرف اِلقاء کیا اور آپ روح اللہ ہیں اور جنت اور دوزخ حق ہیں تو الله تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا خواہ اس شخص کا عمل کچھ بھی ہو۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

132/ 3. عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: إِذَا أَدَّبَ الرَّجُلُ أَمَتَهُ فَأَحْسَنَ تَأَدِيْبَهَا وَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيْمَهَا ثُمَّ أَعْتَقَهَا فَتَزَوَّجَهَا کَانَ لَهُ أَجْرَانِ وَإِذَا آمَنَ بِعِيْسَی ثُمَّ آمَنَ بِي فَلَهُ أَجْرَانِ (وفيرواية: رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْکِتَابِ آمَنَ بَنَبِيِّهِ وَآمَنَ بِمُحَمَّدٍ ﷺ) وَالْعَبْدُ إِذَا اتَّقَی رَبَّهُ وَأَطَاعَ مَوَالِيَهُ فَلَهُ أَجْرَانِ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَهَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ.

الحديث رقم: أَخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الأَنبياء، باب: قوله تعالیٰ: واذکر في الکتاب مريم، 3/ 1271، الرقم: 3262، وفي کتاب: العلم، باب: تعليم الرجل أَمته وأَهله، 1/ 48، الرقم: 97، ومسلم في الصحيح، کتاب: الإيمان، باب: وجوب الإيمان برسالة نبينا محمد ﷺ إلی جميع الناس ونسخ الملة بملته، 1/ 134، الرقم: 154، والترمذي في السنن، کتاب: النکاح عن رسول الله ﷺ، باب: ماجاء في الفضل في ذلک، 3/ 424، الرقم: 1116، والنسائي في السنن، کتاب: النکاح، باب: عتق الرجل جاريته ثم يتزوجها، 6/ 115، الرقم: 3344، وابن ماجة في السنن، کتاب: النکاح، باب: الرجل يعتق أَمته ثم يتزوجها، 1/ 629، الرقم: 1956، وأَحمد بن حنبل في المسند، 4/ 395، 402، 414، وابن منده في الإيمان، 1/ 504، الرقم: 395، وابن حبان في الصحيح، 9/ 360، الرقم: 4053، والبخاري في الأَدب المفرد، 1/ 80، الرقم: 203.

’’حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنی کنیز کو اچھا ادب سکھائے اور اسے بہترین تعلیم دے، پھر آزاد کر کے اس سے نکاح کر لے تو اسے دوہرا ثواب ملے گا (اسی طرح) جو آدمی (پہلے) حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لایا تھا اور اب مجھ پر ایمان لے آئے تو اسے بھی دوہرا ثواب ملے گا (اور ایک روایت میں ہے کہ اہل کتاب میں سے وہ آدمی جو اپنے نبی پر ایمان لایا پھر مجھ پر ایمان لایا) اور جو غلام اپنے پروردگار سے ڈرے اور اپنے آقا کا حکم مانے تو اس کے لئے بھی دوہرا ثواب ہے۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے اور یہ الفاظ امام بخاری کے ہیں۔

133/ 4. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: لَيْلَةَ أَسْرِيَ بِهِ لَقِيْتُ مُوسََی قَالَ: فَنَعَتَهُ فَإِذَا رَجُلٌ حَسِبْتُهُ قَالَ: مُضْطَرِبٌ رَجِلُ الرَّأَسِ کَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوئَةَ قَالَ: وَلَقِيْتُ عِيْسَی فَنَعَتَهُ النَّبيُّ ﷺ فَقَالَ: رَبْعَةٌ أَحْمَرُ کَأَنَّمَا خَرَجَ مِنْ دِيْمَاسٍ يَعْنِي الْحَمَّامَ وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيْمَ وَأَنَا أَشْبَهُ وَلَدِهِ بِهِ… الحديث. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم: أَخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الأَنبياء، باب: قول الله تعالیٰ: واذکر في الکتاب مريم، 3/ 1269، الرقم: 3254، ومسلم في الصحيح، کتاب: الإيمان، باب: الإسراء برسول الله ﷺ إلی السماوات، 1/ 154، الرقم: 168، والترمذي في السنن، کتاب: تفسير القرآن عن رسول الله ﷺ، باب: ومن سورة بنی إسرائيل، 5/ 300، الرقم: 3130، وقال: هذا حديث حسن صحيح، وابن حبان في الصحيح، 1/ 247، الرقم: 51، وعبد الرزاق في المصنف، 5/ 329، وابن منده في الإيمان، 2/ 740، الرقم: 728، وأَبو عوانة في المسند، 1/ 116، الرقم: 347.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: شبِ معراج میری حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وصف یوں بیان فرمایا: وہ دبلے پتلے، دراز قد، سیدھے بالوں والے ایسے آدمی ہیں جیسے قبیلہ شنوء ہ کے لوگ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میری حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بھی ملاقات ہوئی پھر حضور نبی اکرم ﷺ نے ان کا حلیہ بیان فرمایا کہ یہ درمیانہ قد، سرخ رنگ والے اور ایسے تروتازہ ہیں گویا ابھی حمام سے نکلے ہیں اور میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بھی ملا میں ان کی ساری اولاد میں ان سے زیادہ مشابہ ہوں الحدیث۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

134/ 5. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: کَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيْکُمْ وَإِمَامُکُمْ مِنْکُمْ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم: أخرجه البخاری فی الصحيح، کتاب: الأنبيا، باب: نُزُول عيسی بن مريم عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، 3/ 1272، الرقم:3265، ومسلم فی الصحيح، کتاب: الإيمان، باب: نزول عيسی بن مريم حاکما بشريعة نبيّنا محمد ﷺ، 1/ 136، الرقم: 155، وابن حبان فی الصحيح، 15/ 213، الرقم: 6802، والعسقلاني في فتح الباری، 6/ 493.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگوں کا اس وقت (خوشی سے) کیا حال ہو گا جب تم میں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام (آسمان سے) اُتریں گے اور تمہارا امام تمہیں میں سے ہوگا۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

135/ 6. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِکَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيْکُمُ ابْنُ مَرْيَمَ حَکَمًا عَدْلًا فَيَکْسِرَ الصَّلِيْبَ وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيْرَ وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ وَيَفِيْضَ الْمَالُ حَتَّی لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ حَتَّی تَکُونَ السَّجْدَةُ الْوَاحِدَةُ خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيْهَا.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَهَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ.

الحديث رقم: أَخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الأَنبياء، باب: نزول عيسی ابن مريم، 3/ 1272، الرقم: 3264، ومسلم في الصحيح، کتاب: الإيمان، باب: نزول عيسی ابن مريم حاکما بشريعة نبينا محمد ﷺ، 1/ 136، الرقم: 155، والترمذي في السنن، کتاب: الفتن عن رسول الله ﷺ، باب: ماجاء في نزول عيسی بن مريم عليه السلام، 4/ 506، الرقم: 2233، وقال أَبو عيسی: هذا حديث حسن صحيح، وابن ماجة في السنن، کتاب: الفتن، باب: فتنة الدجال وخروج عيسی بن مريم، 2/ 1363، الرقم: 4078، وأَحمد بن حنبل في المسند، 2/ 538، الرقم: 10957، وابن حبان في الصحيح، 15/ 230، الرقم: 6818.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! عنقریب تم میں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے، وہ عدل کے ساتھ فیصلے فرمانے والے ہوں گے، صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ موقوف کر دیں گے اور مال اتنا بڑھ جائے گا کہ کوئی لینے والا نہ رہے گا، یہاں تک کہ(بارگاہِ الٰہی میں) ایک سجدہ دنیا و مافیھا سے بہتر ہو گا۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ امام بخاری کے ہیں۔

136/ 7. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: أَنَا أَوْلَی النَّاسِ بِابْنِ مَرْيَمَ وَالْأَنْبِيَاءُ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وفي رواية عنه: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: أَنَا أَوْلَی النَّاسِ بِعِيْسَی بْنِ مَرْيَمَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَالْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلَّاتٍ أَمَّهَاتُهُمْ شَتَّی وَدِيْنُهُمْ وَاحِدٌ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

الحديث رقم: أَخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الأَنبياء، باب: قول الله: واذکر في الکتاب مريم، 3/ 1270، الرقم: 3258. 3259، ومسلم في الصحيح، کتاب:الفضائل، باب:فضائل عيسي عليه السلام، 4/ 1837، الرقم: 2365، وأَبوداود في السنن، کتاب: السنة، باب: في التخيير بين الأَنبياء عليهم الصلاة والسلام، 4/ 218، الرقم: 4675، وأَحمد بن حنبل في المسند، 2/ 463، الرقم: 9975. 9976، وابن حبان في الصحيح، 14/ 74، 316، الرقم: 6194، 6406.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: میں سب لوگوں سے زیادہ ابن مریم (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے قریب ہوں اور سارے انبیاء علّاتی اولاد (جن کا باپ ایک ہو اور مائیں مختلف ہوں) کی طرح ہیں۔ میرے اور ان (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی حدیث میں ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں دنیا و آخرت میں تمام لوگوں سے بڑھ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قریب ہوں اور تمام انبیاء علّاتی بھائی (ایک باپ کی اولاد) ہیں۔ ان کی مائیں مختلف لیکن سب کا دین ایک ہے۔‘‘

یہ حدیث بھی متفق علیہ ہے۔

137/ 8. عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ: لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أَمَّتِي يُقَاتِلُوْنَ عَلَی الْحَقِّ ظَاهِرِيْنَ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ، قَالَ: فَيَنْزِلُ عِيْسَی ابْنُ مَرْيَمَ عليهما السلام فَيَقُوْلُ أَمِيْرُهُمْ: تَعَالْ صَلِّ لَنَا. فَيَقُوْلُ لَا، إِنَّ بَعْضَکُمْ عَلَی بَعْضٍ أَمَرَاءُ تَکْرِمَةَ اللهِ هَذِهِ الأَمَّةَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ.

الحديث رقم: أخرجه مسلم فی الصحيح، کتاب: الإيمان، باب: نزول عيسی بن مريم حاکماً بشريعة نبينا محمد ﷺ، 1/ 137، الرقم: 156، وابن حبان فی الصحيح، 15/ 231، الرقم:6819، وأحمد بن حنبل في المسند، 3/ 345، الرقم: 14762. 15167، وابن الجارود فی المنتقی، 1/ 257، الرقم: 1031، والبيهقی فی السنن الکبری، 9/ 180، وأبو عوانة فی المسند، 1/ 99، الرقم:317، وابن منده فی الإيمان، 1/ 517، الرقم:518، الرقم: 418، والعظيم آبادی فی عون المعبود، 11/ 309، والمناوی فی فيض القدير، 6/ 395.

’’حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ سے سنا: میری امت میں سے ایک جماعت قیام حق کے لیے قیامت تک کامیاب جنگ کرتی رہے گی۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا: پس جب حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام آسمان سے اتریں گے تو مسلمانوں کا امیر ان سے عرض کرے گا: تشریف لائیں ہمیں نماز پڑھائیں۔ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے: (اس وقت) میں امامت نہیں کراؤں گا۔ تم ایک دوسرے پر امیر ہو (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت امامت سے انکار فرما دیں گے) اس فضیلت و بزرگی کی بناء پر جو اللہ تعالیٰ نے اس امت کو عطا کی ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم اور احمد نے روایت کیا ہے۔

138/ 9. عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ رضی الله عنه قَالَ: لَمْ يَتَکَلَّمْ فِي الْمََهْدِ إِلَّا ثَـلَاثَةٌ: عِيْسَی عليه السلام وَصَاحِبُ يُوْسُفَ وَصَاحِبُ جُرَيْجٍ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَالْحَاکِمُ وَاللَّفْظُ لَهُ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

الحديث رقم: أَخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: الأَنبياء، باب: قول الله تعالی: واذکر في الکتاب مريم، 3/ 1268، الرقم: 3253، ومسلم في الصحيح، کتاب: البر والصلة والآداب، باب ؛تقديم بر الوالدين علی التطوع بالصلاة وغيرها، 4/ 1976، الرقم: 2550، وأَحمد بن حنبل في السند، 2/ 307. 308، الرقم: 8057، 8058، وابن حبان في الصحيح، 14/ 411، الرقم: 6489، والحاکم في المستدرک، 2/ 650، الرقم: 4161، وابن أَبي شيبة في المصنف، 6/ 339، الرقم: 31873، والطبراني في المعجم الکبير، 18/ 224، الرقم: 558، والبيهقي في شعب الإيمان، 6/ 193. 194، الرقم: 7879.

’’حضرت ھلال بن یساف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: پنگھوڑے میں تین (بچوں) کے علاوہ کسی نے کلام نہیں کیا (اور وہ تین یہ ہیں:) حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام کی گواہی دینے والا بچہ اور صاحب جریج۔‘‘

اسے امام بخاری، مسلم، احمد، ابن حبان، ابن ابی شیبہ اور حاکم نے روایت کیا، الفاظ حاکم کے ہیں نیز انہوں نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔

139/ 10. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ: أَنَّهُ قَالَ: إِنِّي لَأَرْجُو إِنْ طَالَ بِي عُمْرٌ أَنْ أَلْقَی عِيْسَی بْنَ مَرْيَمَ عليه السلام فَإِنْ عَجِلَ بِي مَوْتٌ فَمَنْ لَقِيَهُ مِنْکُمْ فَلْيُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ مَرْفُوْعًا، وَمَوْقُوْفًا، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيْحِ.

الحديث رقم: أَخرجه أَحمد بن حنبل في المسند، 2/ 298. 299، الرقم: 7957. 7958، 7965، وابن الجعد في المسند، 1/ 175، الرقم: 1124، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8/ 5، 205، وقال: روه أَحمد بإسناد ورجالهما رجال الصحيح، والعظيم آبادي في عون المعبود، 11/ 310.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: میں امید کرتا ہوں کہ اگر میری عمر طویل ہوئی تو میں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے ملاقات کروں گا۔ اور اگر میرا وصال جلد ہو گیا تو تم میں سے جو شخص انہیں ملے تو وہ انہیں میری طرف سے سلام کہے۔‘‘

اس حدیث کو امام احمد نے مرفوعا اور موقوفاً روایت کیا ہے اور دونوں احادیث کے رجال صحیح حدیث کے رجال ہیں۔

140/ 11. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما: أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: فَيَأَتُوْنَ عِيْسَی بِالشَّفَاعَةِ فَيَقُوْلُ: هَلْ تَعْلَمُوْنَ أَحَدًا هُوَ کَلِمَةُ اللهِ وَرُوْحُهُ وَيُبْرِيئُ الْأَکْمَهَ وَالْأَبْرَصَ وَيُحْيِي الْمَوتَی غَيْرِي؟ فَيَقُوْلُوْنَ: لَا. رَوَاهُ الْحَاکِمُ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِْسْنَادِ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 650، الرقم: 4159.

’’حضرت عبدالله بن عباس رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: (روزِ قیامت) لوگ شفاعت کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ کہیں گے: کیا تم میرے علاوہ کسی ایسے شخص کو جانتے ہو جو ’’کلمۃ اللہ‘‘ اور ’’روح اللہ‘‘ہے اور جو مادرزاد کوڑھی اور برص کے مریضوں کو صحیح اور مردوں کو زندہ کر دیتا ہے؟ تو لوگ کہیں گے: نہیں۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا اور فرمایا کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔

141/ 12. عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَی أَمِّ حَبِيْبَةَ رضي الله عنها قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رضی الله عنه يَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: لَيَهْبُطَنَّ عَيْسَی ابْنُ مَرْيَمَ حَکَمًا عَدْلًا وَإِمَامًا مُقْسِطًا وَلَيَسْلُکَنَّ فَجَّا حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا أَوْ بِنْيَتَهُمَا وَلَيَأَتِيَنَّ قَبْرِي حَتَّی يُسَلِّمَ عَلَيَّ وَلَأَرُدَّنَّ عَلَيْهِ. يَقُوْلُ أَبُوْهُرَيْرَةَ رضی الله عنه: أَي بَنِي أَخِي إِنْ رَأَيْتُمُوْهُ فَقُوْلُوْا: أَبُوهُرَيْرَةَ يُقْرِئُکَ السَّلَامَ.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَابْنُ عَسَاکِرَ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِْسْنَادِ.

الحديث رقم: أَخرجه الحاکم في المستدرک، 2/ 651، الرقم: 4162، وابن عساکر في تاريخ دمشق الکبير، 47/ 493. 494، والعظيم آبادی في عون المعبود، 11/ 310، والمناوي في فيض القدير، 5/ 399.

’’حضرت ام حبیبہ رضی الله عنہا کے غلام حضرت عطاء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: یقینا حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام عدل کے ساتھ فیصلے فرمانے والے اور منصف امام کی صورت میں نازل ہوں گے اور یقینا وہ حج یا عمرہ کی غرض سے یا ان دونوں کی غرض سے مکہ کے طریق پر چلیں گے اور یقینا وہ میری قبر پر آئیں گے تاکہ مجھے سلام عرض کر سکیں اور یقینا میں ان کے سلام کا جواب دوں گا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اے میرے بھتیجو! اگر تم انہیں (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو) دیکھو تو عرض کرنا: ابو ہریرہ آپ کی خدمت میں سلام عرض کرتا ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام حاکم اور ابن عساکر نے روایت کیا اور امام حاکم نے فرمایا: یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔

142/ 13. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: أَلَا إِنَّ عِيْسَی بْنَ مَرْيَمَ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ وَلَا رَسُوْلٌ أَلاَ أَنَّهُ خَلِيْفَتِي مِنْ بَعْدِي يَقْتُلُ الدَّجَّالَ، وَيَکْسِرُ الصَّلِيْبَ، وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ، وَتَضَعُ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا. أَلاَ مَنْ أَدْرَکَهُ مِنْکُمْ فَلْيَقْرَأَ عَلَيْهِ السَّلَامَ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْخَطِيْبُ.

الحديث رقم: أَخرجه الطبراني في المعجم الصغير، 2/ 30، الرقم: 725، والخطيب البغدادي في تاريخ بغداد، 11/ 172، الرقم: 5872، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 4/ 84، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8/ 205.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: خبردار! بے شک میرے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان نہ کوئی نبی ہے اور نہ رسول۔ غور سے سنو! بے شک وہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) میرے بعد میرے نائب ہوں گے جو دجال کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور جزیہ کو ختم کریں گے (یعنی لوگوں میں دین کی اتنی تبلیغ و اشاعت کریں گے کوئی بھی ذمی باقی نہیں رہے گا کہ جس پر جزیہ واجب ہو) اور جنگ ختم ہو جائے گی۔ سنو! تم میں سے جو بھی انہیں ملے تو انہیں سلام عرض کرے۔‘‘

اس حدیث کو امام طبرانی اور خطیب بغدادی نے روایت کیا ہے۔

143/ 14. عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ رضی الله عنه قَالَ: يُدْفَنُ عِيْسَی ابْنُ مَرْيَمَ عليه السلام مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ وَصَاحِبَيْهِ رضي الله عنهما، فَيَکُوْنُ قَبْرُهُ رَابِعٌ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ کَمَا قَالَ الْهَيْثَمِيُّ وَابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ.

الحديث رقم: أَخرجه الطبراني کما قال الهيثمي في مجمع الزوائد، 8/ 201، والعسقلاني في فتح الباري، 13/ 308، وقال: روه الطبراني، وابن عبدالبر في التمهيد، 14/ 202، والمزی في تهذيب الکمال، 19/ 394.

’’حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو حضور نبی اکرم ﷺ اور آپ علیہ الصلاۃ والسلام کے دونوں رفقاء (حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر رضی الله عنہما) کے ساتھ دفن کیا جائے گا۔ پس آپ کی قبر چوتھی قبر ہوگی۔‘‘

اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا جیسا کہ امام ہیثمی نے مجمع الزوائد میں کہا ہے اور ابن عبدالبر نے بھی اسے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2021 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved