The Exalted Meanings of the Prophetic Traits

حضور (ص) کے اندازِ نشست و برخاست کا بیان

بَابٌ فِي وَصْفِ جُلُوْسِہٖ صلى الله عليه وآله وسلم وَقِیَامِہٖ

{حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اندازِ نشست و برخاست کا بیان}

74 / 1۔ عَنْ قَیْلَۃَ بِنْتِ مَخْرَمَۃَ رضي اﷲ عنہا أَنَّہَا رَأَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وآله وسلم وَہُوَ قَاعِدٌ الْقُرْفُصَاءَ، فَلَمَّا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم الْمُخْتَشِعَ۔

رَوَاہُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالْبُخَارِيُّ فِي الأَدَبِ وَالتِّرْمِذِيُّ فِي الشَّمَائِلِ۔

1 : أخرجہ أبو داود في السنن،کتاب الأدب، باب في جلوس الرجل، 4 / 262، الرقم : 4847، والبخاري في الأدب المفرد / 402، الرقم : 1178، والترمذي في الشمائل المحمدیۃ / 115، الرقم : 128، والخطیب البغدادي في الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع، 1 / 401، الرقم : 944۔

''حضرت قیلہ بنت مخرمہ رضی اﷲ عنہا کا بیان ہے کہ اُنہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھٹنے کھڑے کر کے اُن کے گرد اپنے ہاتھوں سے حلقہ بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سر جھکائے ہوئے عاجزی کی حالت میں دیکھا۔''

اِس حدیث کو امام ابو داود، بخاری نے الادب المفرد اور ترمذی نے الشمائل المحمدیہ میں روایت کیا ہے۔

75 / 2۔ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رضي الله عنه کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم إِذَا جَلَسَ وَجَلَسْنَا حَوْلَہٗ فَقَامَ فَأَرَادَ الرُّجُوْعَ نَزَعَ نَعْلَیْہِ أَوْ بَعْضَ مَا یَکُوْنُ عَلَیْہِ فَیَعْرِفُ ذَالِکَ أَصْحَابُہٗ فَیَثْبُتُوْنَ۔ رَوَاہُ أَبُوْ دَاوُدَ۔

2 : أخرجہ أبو داود في السنن،کتاب الأدب، باب إذا قام الرجل من مجلس ثم رجع، 4 / 264، الرقم : 4854، والبیھقي في السنن الکبری، 6 / 151، الرقم : 11620۔

''حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیٹھتے تو ہم آپ کے ارد گرد بیٹھ جاتے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیام فرما ہوتے لیکن واپس لوٹنے کا ارادہ ہوتا تو اپنی نعلین مبارک یا کوئی چیز، جو آپ پر ہوتی، رکھ جاتے جس سے آپ کے اَصحاب کو آپ کی واپسی کا پتہ چل جاتا اور وہ اپنی اپنی جگہ پر رکے رہتے۔''

اِس حدیث کو امام ابو داود نے روایت کیا ہے۔

76 / 3۔ عَنْ أَبِي سَعِیْدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه، قَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم إِذَا جَلَسَ فِي الْمَسْجِدِ، احْتَبَی بِیَدَیْہِ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ فِي الشَّمَائِلِ۔

3 : أخرجہ الترمذي في الشمائل المحمدیۃ / 116117، الرقم : 130، والبیھقي في السنن الکبری، 3 / 236، الرقم : 5709، والعسقلاني في فتح الباري، 11 / 66۔

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف فرما ہوتے تو دونوں ہاتھوں سے گھٹنے باندھ لیتے۔''

اِس حدیث کو امام ترمذی نے الشمائل المحمدیہ میں روایت کیا ہے۔

77 / 4۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ رضي الله عنه قَالَ : رَأَیْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وآله وسلم مُتَّکِئًا عَلٰی وِسَادَۃٍ۔رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ۔

4 : أخرجہ الترمذي في السنن، کتاب الأدب، باب ما جاء في الإتکائ، 5 / 98، الرقم : 2771، وأیضًا في الشمائل المحمدیۃ / 118، الرقم : 131، وابن حبان في الصحیح، 2 / 350، الرقم : 589۔

''حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تکیہ مبارک پر ٹیک لگائے بیٹھے دیکھا ہے۔''

اِس حدیث کو امام ترمذی اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔

78 / 5۔ عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدٍ رضي الله عنه قَالَ : کَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وآله وسلم أَوْقَرَ النَّاسِ فِي مَجْلِسِہٖ، لَا یَکَادُ یُخْرِجُ شَیْئًا مِنْ أَطْرَافِہٖ۔ رَوَاہُ أَبُوْ دَاوُدَ۔

5 : أخرجہ أبو داود في المراسیل، باب الأدب / 344، الرقم : 505، والقاضي عیاض في الشفائ / 80، والمزي في تھذیب الکمال، 21 / 447، والذھبي في میزان الاعتدال، 5 / 256۔

''حضرت خارجہ بن زیدرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی مجلس میں تمام لوگوں سے زیادہ باوقار دکھائی دیتے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (لوگوں کے سامنے) اپنے منہ اور ناک وغیرہ سے کوئی چیز نہ نکالتے تھے۔'' اِس حدیث کو امام ابو داود نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved