The Exalted Meanings of the Prophetic Traits

حضور (ص) کے کھانے پینے کی عادات مبارکہ کا بیان

بَابٌ فِي وَصْفِ أَکْلِہٖ صلى الله عليه وآله وسلم وَشُرْبِہٖ

{حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کھانے پینے کی عاداتِ مبارکہ کا بیان}

82 / 1۔ عَنْ عَائِشَۃَ رضي اﷲ عنھا قَالَتْ: مَا أَکَلَ آلُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وآله وسلم أَکْلَتَیْنِ فِي یَوْمٍ إِلَّا إِحْدَاہُمَا تَمْرٌ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِيُّ۔

1: أخرجہ البخاري في الصحیح،کتاب الرقاق، باب کیف کان عیش النبي صلى الله عليه وآله وسلم وأصحابہ وتخلیھم من الدنیا، 5 / 2371، الرقم: 6090، والحاکم في المستدرک، 4 / 118، الرقم: 7078، وابن الجوزي في الوفاء / 625، الرقم: 1228۔

''حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا بیان فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل خانہ نے ایک دن میں کبھی دو مرتبہ ایسا کھانا تناول نہیں فرمایا جن میں ایک وقت کھجوریں نہ ہوں۔'' اِس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

83 / 2۔ عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم کَانَ إِذَا أَکَلَ طَعَامًا لَعِقَ أَصَابِعَہُ الثَّـلَاثَ، قَالَ: وَقَالَ: إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَۃُ أَحَدِکُمْ فَلْیُمِطْ عَنْہَا الْأَذَی وَلْیَأْکُلْہَا وَلَا یَدَعْہَا لِلشَّیْطَانِ وَأَمَرَنَا أَنْ نَسْلُتَ الْقَصْعَۃَ، قَالَ: فَإِنَّکُمْ لَا تَدْرُونَ فِي أَيِّ طَعَامِکُمُ الْبَرَکَۃُ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ۔

2: أخرجہ مسلم في الصحیح،کتاب الأشربہ، باب استحباب لعق الأصابع والقصعۃ وأکل اللقمۃ الساقطۃ بعد مسح ما یصیبہا من أذی وکراہۃ مسح الید قبل لعقہا، 3 / 1607، الرقم: 2034، والترمذي في السنن،کتاب الأطمعۃ، باب ما جاء في اللقمۃ تسقط، 4 / 259، الرقم: 1803، وأبو داود في السنن،کتاب الأطعمۃ، باب في اللقمۃ تسقط، 3 / 365، الرقم: 3845، والنسائي في السنن الکبری، 4 / 176، الرقم: 6765، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 290، الرقم: 14121۔

''حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس وقت کھانا کھاتے تو اپنی تین انگلیوں کو چاٹتے اور فرماتے: جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو وہ اُس سے مٹی دور کر کے کھالے، اور اُس کو شیطان کے لیے نہ چھوڑے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں پیالہ صاف کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: تم نہیں جانتے کہ تمہارے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔'' اِس حدیث کو امام مسلم، ترمذی، ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

84 / 3۔ عَنْ أَبِي جُحَیْفَۃَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم : لَا آکُلُ مُتَّکِئًا۔

رَوَاہُ الْبُخَارِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ۔

3: أخرجہ البخاري في الصحیح،کتاب الأطعمۃ، باب الأکل متکئا، 5 / 2062، الرقم: 5083، والترمذي في الشمائل المحمدیۃ / 124، الرقم: 140، والطحاوي في شرح معاني الآثار، 4 / 274۔

''حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا۔'' اِس حدیث کو امام بخاری اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔

85 / 4۔ عَنْ أَبِي سَعِیْدٍ رضي الله عنه قَالَ: کَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وآله وسلم إِذَا أَکَلَ أَوْ شَرِبَ قَالَ: اَلْحَمْدُ ِﷲِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِیْنَ۔

رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَہ وَالنَّسَائِيُّ۔

4: أخرجہ الترمذي في السنن،کتاب الدعوات، باب ما یقول إذا فرغ من الطعام، 5 / 508، الرقم: 3457، وأبو داود في السنن،کتاب الأطعمۃ، باب ما یقول الرجل إذا طعم، 3 / 366، الرقم: 3850، وابن ماجہ في السنن،کتاب الأطعمۃ، باب ما یقال إذا فرغ من الطعام، 2 / 1092، الرقم: 3283، والنسائي في السنن الکبری، 6 / 80، الرقم: 10121، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 32، الرقم: 11294، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 5 / 138، الرقم: 24507۔

''حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کھانا تناول فرماتے یا پانی پیتے تو (اُس کے بعد) یہ دعا فرماتے: {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِیْنَ} ''تمام تعریف اﷲ کے لئے جس نے ہمیں کھلایا، پلایا اور مسلمان بنایا۔'' اِس حدیث کو امام ترمذی، ابو داود، ابن ماجہ اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

86 / 5۔ عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وآله وسلم عَلٰی غُـلَامٍ لَہٗ خَیَّاطٍ، فَقَدَّمَ إِلَیْہِ قَصْعَۃً فِیْہَا ثَرِیْدٌ، قَالَ: وَأَقْبَلَ عَلٰی عَمَلِہٖ، قَالَ: فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وآله وسلم یَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُہٗ فَأَضَعُہٗ بَیْنَ یَدَیْہِ، قَالَ: فَمَا زِلْتُ بَعْدُ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔

5: أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب الأطعمۃ، باب الثرید، 5 / 2067، الرقم: 5104، ومسلم في الصحیح، کتاب الأشربۃ، باب جواز أکل المرق واستحباب أکل الیقطین، 3 / 1615، الرقم: (2) 2041، وأبو داود في السنن، کتاب الأطعمۃ، باب في أکل الدباء، 3 / 350، الرقم: 3782، والنسائي في السنن الکبری، 4 / 155، الرقم: 6662، ومالک في الموطأ، 2 / 546، الرقم: 1139، والترمذي في الشمائل المحمدیۃ / 137، الرقم: 163۔

''حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک خادم کے پاس گیا جو درزی کا کام کرتا تھا۔ پس اُس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ثرید کا ایک پیالہ پیش کیا۔حضرت انس کا بیان ہے کہ پھر وہ اپنے کام میں مشغول ہو گیا، حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُس میں کدو کے ٹکڑے تلاش فرما رہے تھے۔ اُن کا بیان ہے کہ میں بھی تلاش کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھنے لگا اور اُس کے بعد میں نے ہمیشہ کدو کو پسند کیا۔'' یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

87 / 6۔ عَنْ أَبِي ہُرَیْرَۃَ رضي الله عنه قَالَ: کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وآله وسلم فِي دَعْوَۃٍ فَرُفِعَ إِلَیْہِ الذِّرَاعُ وَکَانَتْ تُعْجِبُہٗ فَنَہَسَ مِنْہَا نَہْسَۃً…الحدیث۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔

6: أخرجہ البخاري في الصحیح،کتاب أحادیث الأنبیاء، باب قول اﷲ تعالی: {إنا أرسلنا نوحا إلی قومہ}، 3 / 1215، الرقم: 3162، ومسلم في الصحیح،کتاب الإیمان، باب أدنی أھل الجنۃ منزلۃ فیھا، 1 / 184، الرقم: 194، والترمذي في السنن،کتاب الأطعمۃ، باب ما جاء في أي اللحم کان أحب إلی رسول اﷲ صلى الله عليه وآله وسلم ، 4 / 277، الرقم: 1837، وابن ماجہ في السنن،کتاب الأطعمۃ، باب أطایب اللحم، 2 / 1099، الرقم : 3307، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 435، الرقم: 9621۔

''حضرت ابو ہریرہص سے روایت ہے کہ ایک دعوت میں ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بکری کی ران کا (بھنا ہوا) گوشت پیش کیا گیا۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت پسند تھا۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُس میں سے توڑ کر تناول فرمانے لگے۔'' یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

88 / 7۔ عَنْ زَہْدَمٍ رضي الله عنه قَالَ: کُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوْسَی الْأَشْعَرِيِّ رضي الله عنه وَکَانَ بَیْنَنَا وَبَیْنَ ہٰذَا الْحَيِّ مِنْ جَرْمٍ إِخَائٌ، فَأُتِيَ بِطَعَامٍ فِیْہِ لَحْمُ دَجَاجٍ، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ جَالِسٌ أَحْمَرُ، فَلَمْ یَدْنُ مِنْ طَعَامِہٖ، قَالَ: ادْنُ فَقَدْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم یَأْکُلُ مِنْہُ…الحدیث۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔

7: أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب الذبائح والصید، باب لحم الدجاج، 5 / 2101، الرقم: 5199، ومسلم في الصحیح،کتاب الأیمان، باب ندب من حلف یمینا فرأی غیرھا خیرا منھا أن یأتي الذي ھو خیر ویکفر عن یمینہ، 3 / 1270، الرقم: (3) 1649، والنسائي في السنن،کتاب الصید والذبائح، باب إباحۃ أکل لحوم الدجاج، 7 / 206، الرقم: 4347، والدارمي في السنن، 2 / 140، الرقم: 2055، وابن حبان في الصحیح، 12 / 60، الرقم:5255، وأبو عوانۃ في المسند، 4 / 32، الرقم: 5927۔

''حضرت زَہدم رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے جبکہ ہمارے اور اُس قبیلہ بنی جرم کے درمیان بھائی بندی تھی۔ ہمارے سامنے کھانا لایا گیا جس میں مرغ کا گوشت تھا لوگوں میں ایک سرخ رنگ والا آدمی بھی بیٹھا ہوا تھا لیکن وہ کھانے کے قریب نہ پھٹکا۔ حضرت ابو موسیٰص نے اُس سے فرمایا: آگے بڑھو (اور کھاؤ) کیونکہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مرغ کا گوشت تناول فرماتے دیکھا ہے۔''

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

89 / 8۔ عَنْ عَائِشَۃَ رضي اﷲ عنھا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم یُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔

8: أخرجہ البخاري في الصحیح،کتاب الأطعمۃ، باب الحلواء والعسل، 5 / 2071، الرقم: 5115، وأیضًا فيکتاب الأشربۃ، باب الباذق ومن نھی عن کل مسکر من الأشربۃ، 5 / 2125، الرقم: 5277، ومسلم في الصحیح،کتاب الطلاق، باب وجوب الکفارۃ علی من حرم امرأتہ ولم ینو الطلاق، 2 / 1101، الرقم: 1474، والترمذي في السنن، کتاب الأطعمۃ، باب ما جاء في حب النبي صلى الله عليه وآله وسلم الحلواء والعسل، 4 / 273، الرقم: 1831، وأبو داود في السنن،کتاب الأشربۃ، باب في شراب العسل، 3 / 335، الرقم: 3715، وابن ماجہ في السنن،کتاب الأطعمۃ، باب الحلواء، 2 / 1104، الرقم: 3323۔

''حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میٹھا اور شہد پسند فرماتے تھے۔'' یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

90 / 9۔ عَنْ عَائِشَۃَ رضي اﷲ عنھا أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: نِعْمَ الْأُدُمُ أَوِ الْإِدَامُ الْخَلُّ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَہ ۔

9: أخرجہ مسلم في الصحیح،کتاب الأشربۃ، باب فضیلۃ الخل والتأدم بہ، 3 / 1621، الرقم: 2051، والترمذي في السنن،کتاب الأطعمۃ، باب ما جاء في الخل، 4 / 279، الرقم: 1839، والنسائي في السنن،کتاب الأیمان والنذور، باب إذا حلف أن لا یأتدم فأکل خبزا بخل، 7 / 14، الرقم: 3796، وأبو داود في السنن،کتاب الأطعمۃ، باب في الخل، 3 / 360، رقم: 3821، وابن ماجہ في السنن،کتاب الأطعمۃ، باب الائتدام بالخل، 2 / 1102، الرقم: 3316۔

''حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سرکہ بہترین سالن ہے۔''

اِس حدیث کو امام مسلم، ترمذی، نسائی، ابو داود اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

91 / 10۔ عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ جَعْفَرٍ رضي الله عنه یُحَدِّثُ ابْنَ الزُّبَیْرِ رضي اﷲ عنھما وَقَدْ نَحَرَ لَہُمْ جَزُوْرًا أَوْ بَعِیْرًا أَنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: وَالْقَوْمُ یُلْقُوْنَ لِرَسُوْلِ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم اللَّحْمَ، یَقُوْلُ: أَطْیَبُ اللَّحْمِ لَحْمُ الظَّہْرِ۔

رَوَاہُ ابْنُ مَاجَہ وَأَحْمَدُ وَالْحَاکِمُ۔

10: أخرجہ ابن ماجہ في السنن،کتاب الأطعمۃ، باب أطایب اللحم، 2 / 1099، الرقم : 3308، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 203، 204، الرقم: 1744، والحاکم في المستدرک، 4 / 124، الرقم: 7097، والبیھقي في شعب الإیمان، 5 / 89، الرقم: 5892، والمقدسي في الأحادیث المختارۃ، 9 / 194، الرقم: 177۔

''حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اﷲ عنھما کو یہ حدیث بیان کی اور جس نے اُن لوگوں کے لیے اُونٹ ذبح کیا تھا۔ لوگ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے (بھنا ہوا) گوشت رکھ رہے تھے، اُس وقت اس نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے اچھا گوشت پیٹھ کا گوشت ہوتا ہے۔'' اِس حدیث کو امام ابن ماجہ، احمد اور حاکم نے روایت کیا ہے۔

92 / 11۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنھما قَالَ: کَانَ أَحَبَّ الطَّعَامِ إِلٰی رَسُوْلِ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم الثَّرِیْدُ مِنَ الْخُبْزِ وَالثَّرِیْدُ مِنَ الْحَیْسِ۔ رَوَاہُ أَبُوْ دَاوُدَ۔

11: أخرجہ أبو داود في السنن،کتاب الأطعمۃ، باب في أکل الثرید، 3 / 350، الرقم: 3783، والبیہقي في شعب الإیمان، 5 / 93، الرقم: 5908، وابن سعد في الطبقات الکبری، 1 / 393، وابن الجوزي في الوفا / 620، الرقم: 1208، والقسطلاني في المواہب اللدنیۃ، 2 / 398، والسیوطي في الجامع الصغیر، 1 / 52، الرقم: 45۔

''حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنھما بیان فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب کھانوں میں سے زیادہ پسندیدہ روٹی کا ثرید اور ستو اور گھی کا بنا ہوا ثرید تھا۔''

اِس حدیث کو امام ابو داود نے روایت کیا ہے۔

93 / 12۔ عَنْ أَبِي عُبَیْدٍ رضي الله عنه أَنَّہٗ طَبَخَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وآله وسلم قِدْرًا، فَقَالَ لَہُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وآله وسلم : نَاوِلْنِي ذِرَاعًا، وَکَانَ یُعْجِبُہُ الذِّرَاعُ، فَنَاوَلْتُہُ الذِّرَاعَ ثُمَّ قَالَ: نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ، فَنَاوَلْتُہُ الذِّرَاعَ، قَالَ: نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ، فَقُلْتُ: یَا نَبِيَ اﷲِ، وَکَمْ لِلشَّاۃِ مِنْ ذِرَاعٍ؟ فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِیَدِہٖ لَوْ سَکَتَّ لَأَعْطَیْتَنِي أَذْرُعًا مَا دَعَوْتُ بِہٖ۔

رَوَاہُ الطَّبَرَانِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ فِي الشَّمَائِلِ وَابْنُ سَعْدٍ۔

12: أخرجہ الطبراني في المعجم الکبیر، 22 / 335، الرقم: 842، والترمذي في الشمائل المحمدیۃ / 141، الرقم: 170، وابن سعد في الطبقات الکبری، 7 / 65، والعسقلاني في الاصابۃ، 7 / 269، الرقم: 10224، والقسطلاني في المواہب اللدنیۃ، 2 / 395، وابن الجوزي في الوفا / 621، الرقم: 1612۔

''حضرت ابو عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ہانڈی پکائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: مجھے ران پکڑاؤ کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ران کا (بھنا ہوا) گوشت پسند تھا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ران کا گوشت پکڑایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: مجھے ران پکڑاؤ، میں نے ران پیش کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسری بار فرمایا: ران پکڑاؤ تو میں نے عرض کیا: یارسول اﷲ! بکری کی کتنی ٹانگیں ہوتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضہِ قدرت میں میری جان ہے! اگر تم خاموش رہتے تو جب تک میں تم سے ران مانگتا رہتا تم مجھے رانیں دیتے رہتے۔''

اِس حدیث کو امام طبرانی، ترمذی نے الشمائل میں اور ابن سعد نے روایت کیا ہے۔

94 / 13۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ رضي اﷲ عنھما قَالَ: أَکَلْنَا مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم الْقَدِیْدَ بِالْمَدِیْنَۃِ مِنْ قَدِیْدِ الْأَضْحٰی۔ رَوَاہُ أَحْمَدُ۔

13: أخرجہ أحمد بن حنبل في المسند، 3 / 327، الرقم: 14549، وابن الجوزي في الوفا / 622، الرقم: 1218، والصالحي في سبل الہدی والرشاد، 7 / 187۔

''حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اﷲ عنھما روایت کرتے ہیں کہ ہم نے مدینہ منورہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قربانی کا خشک گوشت کھایا۔''

اِس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے۔

95 / 14۔ عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَیْدِيِّ رضي الله عنه قَالَ: أَکَلْنَا مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم شِوَاءً فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ أُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ فَضَرَبْنَا أَیْدِیَنَا فِي الْحَصَی ثُمَّ قُمْنَا فَصَلَّیْنَا وَلَمْ نَتَوَضَّأْ۔

رَوَاہُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ یَعْلٰی وَالتِّرْمِذِيُّ فِي الشَّمَائِلِ۔

14: أخرجہ أحمد بن حنبل في المسند، 4 / 190، 191، الرقم: 17738، 17746، وأبو یعلی في المسند، 3 / 110، الرقم: 1541، والترمذي في الشمائل المحمدیۃ / 138، 139، الرقم: 166، وابن الجوزي في الوفا / 622، الرقم: 1219، والصالحي في سبل الہدی والرشاد، 7 / 188۔

''حضرت عبد اللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بھنا ہوا گوشت کھایا۔ پھر نماز کا وقت ہو گیا تو ہم نے کنکریوں پر ہاتھ مار کر صاف کیے اور پھر ہم نے کھڑے ہو کر نماز ادا کی اور ہم نے دوبارہ وضو نہیں کیا۔''

اِس حدیث کو امام احمد، ابو یعلی اور ترمذی نے الشمائل المحمدیہ میں روایت کیا ہے۔

96 / 15۔ عَنِ الرُّبِیِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ قَالَتْ: بَعَثَنِي مُعَوِّذُ بْنُ عَفْرَاءَ بِقِنَاعٍ مِنْ رُطَبٍ عَلَیْہِ أَجْرٌ مِنْ قَثَّاءٍ زُغْبٍ إِلٰی رَسُوْلِ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم وَکَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم یُحِبُّ الْقِثَّاءَ وَکَانَتْ طَیْبَۃُ قَدْ قَدِمَتْ مِنَ الْبَحْرَیْنِ فَمَلأَ یَدَہٗ مِنْہَا فَأَعْطَانِیْہَا۔ رَوَاہُ الطَّبَرَانِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ فِي الشَّمَائِلِ۔

15: أخرجہ الطبراني في المعجم الکبیر، 24 / 274، الرقم: 697، والترمذي في الشمائل المحمدیۃ / 168، الرقم: 203، والھیثمي في مجمع الزوائد، 9 / 13، والسیوطي في الجامع الصغیر، 1 / 293، الرقم: 533، وابن أبي الدنیا في مکارم الأخلاق، 1 / 109، الرقم: 357، والصالحي في سبل الہدی والرشاد، 7 / 209۔

''حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء بیان کرتی ہیں کہ حضرت معوذ بن عفراء نے مجھے تازہ کھجوروں کا ایک تھیلا دے کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا جس کے اُوپر تازہ کھیرے بھی تھے، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھیرے پسند تھے، وہ کھیرے بحرین سے آئے تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن سے ہاتھ بھر کر مجھے عطا فرمائے۔''

اِسے امام طبرانی اور ترمذی نے الشمائل المحمدیہ میں روایت کیا ہے۔

97 / 16۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنھما قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم یَجْلِسُ عَلَی الأَرْضِ، وَیَأْکُلُ عَلَی الأَرْضِ، وَیَعْقِلُ الشَّاۃَ، وَیُجِیْبُ دَعْوَۃَ الْمَمْلُوْکِ عَلٰی خُبْزِ الشَّعِیْرِ۔

رَوَاہُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَیْھَقِيُّ۔ وَقَالَ الْھَیْثَمِيُّ: إِسْنَادُہٗ حَسَنٌ۔

16: أخرجہ الطبراني في المعجم الکبیر، 12 / 67، الرقم: 12494، والبیھقي في شعب الإیمان، 6 / 290، الرقم: 8192، والہیثمي في مجمع الزوائد ، 9 / 20۔

''حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنھما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمین پر تشریف فرما ہوتے، زمین پر کھانا تناول فرماتے، بکری کو باندھتے، اور جو کی روٹی پر غلاموں کی دعوت قبول فرماتے۔''

اِس حدیث کو امام طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے اور امام ہیثمی نے فرمایا: اِس حدیث کی سند حسن ہے۔

98 / 17۔ عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه قَالَ: کَانَ أَحَبُّ الطَّعَامِ إِلٰی رَسُوْلِ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم الْبَقَلَ۔ رَوَاہُ الصَّالِحِيُّ۔

17: أخرجہ الصالحي في سبل الہدی والرشاد، 7 / 212، وابن الجوزي في الوفا / 617، الرقم: 1200۔

''حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک محبوب ترین کھانا سبزیاں (اور ترکاریاں) تھیں۔'' اِسے امام صالحی نے روایت کیا ہے۔

99 / 18۔ عَنْ أَنَسٍص قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم یَتَنَفَّسُ فِي الشَّرَابِ ثَـلَاثًا وَیَقُوْلُ: إِنَّہٗ أَرْوَی وَأَبْرَأُ وَأَمْرَأُ، قَالَ أَنَسٌ: فَأَنَا أَتَنَفَّسُ فِي الشَّرَابِ ثَـلَاثًا۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالْبَزَّارُ۔

18: أخرجہ مسلم في الصحیح، کتاب الأشربۃ، باب کراھۃ التنفس في نفس الإناء واستحباب التنفس ثلاثا خارج الإناء، 3 / 1602، الرقم: 2028، والترمذي في السنن، کتاب الأشربۃ، باب ما جاء في التنفس في الإناء، 4 / 302، الرقم: 1884، وأیضًا في الشمائل المحمدیۃ / 174، الرقم: 211، والبزار في المسند، 5 / 160، الرقم: 1752، والحاکم في المستدرک، 4 / 154، الرقم: 7205۔

''حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مشروب نوش فرمانے کے دوران تین مرتبہ سانس لیا کرتے تھے اور فرماتے تھے: یہ طریقہ زیادہ سیراب کرنے والا، پیاس بجھانے والااور خوش گوار ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بھی پانی نوش کرتے ہوئے (حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی اتباع میں) تین مرتبہ سانس لیتا ہوں۔'' اِس حدیث کو امام مسلم، ترمذی اور بزار نے روایت کیا ہے۔

100 / 19۔ عَنْ أَبِي سَعِیْدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم نَہَی عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَہ وَالدَّارِمِيُّ۔

19: أخرجہ مسلم في الصحیح،کتاب الأشربۃ، باب کراھیۃ الشرب قائما، 3 / 1601، الرقم: (2) 2025، والترمذي في السنن،کتاب الأشربۃ، باب ما جاء في النھي عن الشرب قائما، 4 / 300، الرقم: 1880، وابن ماجہ في السنن،کتاب الأشربۃ، باب الشرب قائما، 2 / 1132، الرقم: 3424، والدارمي في السنن، 2 / 162، الرقم: 2127۔

''حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے منع فرمایا۔''

اِس حدیث کو امام مسلم، ترمذی، ابن ماجہ اور دارمی نے روایت کیا ہے۔

101 / 20۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنھما أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم شَرِبَ مِنْ زَمْزَمَ وَہُوَ قَائِمٌ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ۔ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: ہٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ۔

20: أخرجہ مسلم في الصحیح، کتاب الأشربۃ، باب في الشرب من زمزم قائما، 3 / 1602، الرقم: (3) 2027، والترمذي في السنن، کتاب الأشربۃ، باب ما جاء في الرخصۃ في الشرب قائما، 4 / 301، الرقم: 1882، والنسائي في السنن، کتاب مناسک الحج، باب الشرب من زمزم، 5 / 237، الرقم: 2964، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 214، الرقم: 1838، وابن حبان في الصحیح، 12 / 139، الرقم: 5319۔

''حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زم زم کا پانی کھڑے ہو کر نوش فرمایا۔''

اِس حدیث کو امام مسلم، ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

102 / 21۔ عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضي اﷲ عنھما قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم یَشْرَبُ قَائِمًا وَقَاعِدًا۔

رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ۔ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: ہٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ۔

21: أخرجہ الترمذي في السنن،کتاب الأشربۃ، باب ما جاء في الرخصۃ في الشرب قائما، 4 / 301، الرقم: 1883، والنسائي في السنن،کتاب السھو، باب الانصراف، 3 / 81، الرقم: 1361، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 174، الرقم: 6627، وعبد الرزاق في المصنف، 2 / 568، الرقم: 4490، والطبراني في المعجم الأوسط، 8 / 39، الرقم: 7892۔

''حضرت عبد اﷲ بن عمرو بن العاص رضی اﷲ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھڑے اور بیٹھے دونوں حالتوں میں پانی پیتے دیکھا۔''

اِس حدیث کو امام ترمذی، نسائی اور احمد نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

103 / 22۔ عَنْ مَیْسَرَۃَ رضي الله عنه قَالَ: رَأَیْتُ عَلِیًّا رضي الله عنه یَشْرَبُ قَائِمًا، قَالَ: فَقُلْتُ لَہٗ: تَشْرَبُ قَائِمًا؟ فَقَالَ: إِنْ أَشْرَبْ قَائِمًا فَقَدْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم یَشْرَبُ قَائِمًا، وَإِنْ أَشْرَبْ قَاعِدًا فَقَدْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم یَشْرَبُ قَاعِدًا۔ رَوَاہُ أَحْمَدُ وَابْنُ أَبِي شَیْبَۃَ وَالْبَزَّارُ۔

22: أخرجہ أحمد بن حنبل في المسند، 1 / 114، الرقم: 916، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 5 / 101، الرقم: 24109، والبزار في المسند، 3 / 55، الرقم: 811، والھیثمي في مجمع الزوائد، 5 / 79۔

''حضرت میسرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کھڑے ہو کر پانی پیتے ہوئے دیکھا۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں نے انہیں کہا کہ آپ کھڑے ہو کر پانی پیتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ اگر میں کھڑے ہو کر پانی پیوؤں تو بے شک میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھڑے ہو کر پانی پیتے دیکھا ہے اور اگر میں بیٹھ کر پانی پیوؤں تو میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیٹھ کر پانی پیتے دیکھا ہے۔''

اس حدیث کو امام احمد، ابن ابی شیبہ اور بزار نے روایت کیا ہے۔

104 / 23۔ عَنْ عَائِشَۃَ رضي اﷲ عنھا قَالَتْ: کَانَ أَحَبُّ الشَّرَابِ إِلٰی رَسُوْلِ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم الْحُلْوَ الْبَارِدَ۔

رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ وَقَالَ الْحَاکِمُ: ہٰذَا حَدِیْثٌ صَحِیْحٌ عَلٰی شَرْطِ الشَّیْخَیْنِ۔

23: أخرجہ الترمذي في السنن، کتاب الأشربۃ، باب ما جاء أي الشراب کان أحب إلی رسول اﷲ صلى الله عليه وآله وسلم ، 4 / 307، الرقم: 1895، والنسائي في السنن الکبری، 4 / 190، الرقم: 6844، وأحمد بن حنبل في المسند، 6 / 38، الرقم: 24146، وأبو یعلی في المسند، 8 / 14، الرقم: 4516، والحاکم في المستدرک، 4 / 153، الرقم: 7200، والبیھقي في شعب الإیمان، 5 / 97، الرقم: 5928۔

''حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ ٹھنڈا اور میٹھا مشروب پسند تھا۔''

اِس حدیث کو امام ترمذی، نسائی اور احمد نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا: یہ حدیث امام بخاری و مسلم کی شرائط پر صحیح ہے۔

105 / 24۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنھما کَانَ أَحَبَّ الشَّرَابِ إِلٰی رَسُوْلِ اﷲِ صلى الله عليه وآله وسلم اللَّبَنُ۔ رَوَاہُ ابْنُ حَیَّانَ وَالْھِنْدِيُّ۔

24: أخرجہ ابن حیان في أخلاق النبي صلى الله عليه وآله وسلم ، 3 / 298، الرقم: 648، والہندي في کنز العمال، 7 / 111، الرقم: 18223، وابن الجوزي في الوفا / 637، الرقم: 1261۔

''حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اﷲ عنھما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سب سے زیادہ پسندیدہ مشروب دودھ تھا۔''

اِسے امام ابن حیان اور ہندی نے روایت کیا ہے۔

106 / 25۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه قَالَ: کُنْتُ أَسْقِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وآله وسلم فِي ھٰذَا الْقَدَحِ اللَّبَنَ، وَالْعَسَلَ، وَالسَّوِیْقَ، وَالنَّبِیْذَ، وَالْمَاءَ الْبَارِدَ۔

رَوَاہُ ابْنُ حَیَّانَ۔

25: أخرجہ ابن حیان في أخلاق النبي صلى الله عليه وآله وسلم ، 3 / 394، الرقم: 700، والقسطلاني في المواہب اللدنیۃ، 2 / 416، وابن الجوزي في الوفا / 637، الرقم: 1264۔

''حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس پیالہ میں دودھ، شہد، ستو، نبیذ اور ٹھنڈا پانی پلایا کرتا تھا (اس پیالہ کو انہوں نے بطور تبرک سنبھال رکھا تھا)۔'' اِسے امام ابن حیان نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved