اربعین: توحید اور ممانعت شرک

اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لانا

اَلإِيْمَانُ بِتَوْحِيْدِهِ تَعَالٰی

{اللہ تعاليٰ کی وحدانیت پر ایمان لانا}

اَلْقُرْآن

(1) وَاِلٰهُکُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ج لَآ اِلٰهَ اِلاَّ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُo

(البقرة، 2/ 163)

اور تمہارا معبود خدائے واحد ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں (وہ) نہایت مہربان بہت رحم فرمانے والا ہے۔

(2) شَهِدَ اللهُ اَنَّهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ وَالْمَلٰٓئِکَةُ وَاُولُوا الْعِلْمِ قَآئِمًام بِالْقِسْطِ ط لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَکِيْمُo

(آل عمران، 3/ 18)

اللہ نے اس بات پر گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی (اور ساتھ یہ بھی) کہ وہ ہر تدبیر عدل کے ساتھ فرمانے والا ہے، اس کے سوا کوئی لائقِ پرستش نہیں وہی غالب حکمت والا ہے۔

(3) وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْم بَنِيْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَاَشْهَدَهُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِهِمْ ج اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ط قَالُوْا بَلٰی ج شَهِدْنَا ج اَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّا کُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِيْنَo اَوْ تَقُوْلُوْآ اِنَّمَآ اَشْرَکَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَکُنَّا ذُرِّيَةً مِّنْم بَعْدِهِمْ ج اَفَتُهْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَo

(الأعراف، 7/ 172-173)

اور (یاد کیجیے!) جب آپ کے رب نے اولادِ آدم کی پشتوں سے ان کی نسل نکالی اور ان کو انہی کی جانوں پر گواہ بنایا (اور فرمایا:) کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ وہ (سب) بول اٹھے: کیوں نہیں؟ (تو ہی ہمارا رب ہے،) ہم گواہی دیتے ہیں تاکہ قیامت کے دن یہ (نہ) کہو کہ ہم اس عہد سے بے خبر تھے۔ یا (ایسا نہ ہو کہ) تم کہنے لگو کہ شرک تو محض ہمارے آباء و اجداد نے پہلے کیا تھا اور ہم تو ان کے بعد (ان کی) اولاد تھے (گویا ہم مجرم نہیں اصل مجرم وہ ہیں) تو کیا تو ہمیں اس (گناہ) کی پاداش میں ہلاک فرمائے گا جو اہلِ باطل نے انجام دیا تھا۔

اَلْحَدِيْث

1. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم وَمُعَاذٌ رَدِيْفُهُ عَلَی الرَّحْلِ، قَالَ: يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، قَالَ: لَبَّيْکَ يَا رَسُوْلَ اللهِ وَسَعْدَيْکَ، قَالَ: يَا مُعَاذُ، قَالَ: لَبَّيْکَ يَا رَسُوْلَ اللهِ وَسَعْدَيْکَ، ثَـلَاثًا، قَالَ: مَا مِنْ أَحَدٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللهِ صِدْقًا مِنْ قَلْبِهِ إِلَّا حَرَّمَهُ اللهُ عَلَی النَّارِ. قَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، أَفَـلَا أُخْبِرُ بِهِ النَّاسَ فَيَسْتَبْشِرُوْا؟ قَالَ: إِذًا يَتَّکِلُوْا. وَأَخْبَرَ بِهَا مُعَاذٌ عِنْدَ مَوْتِهِ تَأَثُّمًا.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب العلم، باب من خصّ بالعلم قوما دون قوم کراهية أن لا يفهموا، 1/ 59، الرقم/ 128، ومسلم في الصحيح، کتاب الإيمان، باب الدليل علی أن من مات علی التوحيد دخل الجنة قطعًا، 1/ 61، الرقم/ 32.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک موقع پر جبکہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (حضرت معاذ سے) فرمایا: اے معاذ بن جبل! حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: لَبَّيْکَ يَا رَسُوْلَ اللهِ وَسَعْدَيْکَ (یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں؛ میں خادم ہوں!)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: اے معاذ! حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: لَبَّيْکَ يَا رَسُوْلَ اللهِ وَسَعْدَيْکَ (یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں؛ میں خادم ہوں!) تین مرتبہ یہی الفاظ دہرائے گئے۔ جس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی سچے دل سے اس بات کی شہادت دے کہ اللہ تعاليٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعاليٰ کے رسول ہیں، تو اللہ تعاليٰ اس پر دوزخ کی آگ حرام کر دے گا۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں اس بات سے لوگوں کو مطلع نہ کر دوں تاکہ وہ خوش ہو جائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم انہیں یہ بات بتا دو گے تو وہ اسی ایک بات پر تکیہ کر کے بیٹھ رہیں گے (اور عمل میں کوتاہی کریں گے)۔ چنانچہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث اپنے انتقال کے وقت بیان کی تاکہ حدیث بیان نہ کرنے کی وجہ سے گناہ گار نہ ہوں۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

2. عَنْ عُبَادَةَ رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْکَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ، وَأَنَّ عِيْسٰی عَبْدُ اللهِ وَرَسُوْلُهُ وَکَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلٰی مَرْيَمَ وَرُوْحٌ مِنْهُ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ، أَدْخَلَهُ اللهُ الْجَنَّةَ عَلٰی مَا کَانَ مِنَ الْعَمَلِ.

قَالَ الْوَلِيْدُ: حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ عَنْ عُمَيْرٍ عَنْ جُنَادَةَ وَزَادَ: مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ أَيَهَا شَاءَ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب الأنبياء، باب قوله: يا أهل الکتاب لا تغلو في دينکم، 3/ 1267، الرقم/ 3252، ومسلم في الصحيح، کتاب الإيمان، باب الدليل علی من مات علی التوحيد دخل الجنة قطعا، 1/ 57، الرقم/ 28، وأحمد بن حنبل في المسند، 5/ 313، الرقم/ 22727.

حضرت عبادہ (بن صامت) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اِس بات کی (صدقِ دل سے) گواہی دے کہ اللہ تعاليٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور بے شک محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے (کامل) بندے اور رسول ہیں اور بے شک عیسيٰ علیہ السلام بھی اللہ تعاليٰ کے (خاص) بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کا ایک کلمہ ہیں، جو مریم علیہا السلام کی طرف اِلقاء کیا گیا، اور اُس کی طرف سے روح ہیں؛ اور جنت و دوزخ حق ہیں۔ اللہ تعاليٰ اس کو جنت میں داخل کرے گا، خواہ (اس سے قبل) اس کے عمل کچھ بھی ہوں۔

ولید بیان کرتے ہیں: ابن جابر کے ذریعے عمیرکے طریق سے حضرت جنادہ کی بیان کردہ روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ جنت کے آٹھوں دروازوں میں سے جس سے چاہے گا اُسے داخل فرمائے گا۔

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

3. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه أَنَّهُ قَالَ: قِيْلَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، مَنْ أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِکَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم: لَقَدْ ظَنَنْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، أَنْ لَا يَسْأَلَنِي عَنْ هٰذَا الْحَدِيْثِ أَحَدٌ أَوَّلُ مِنْکَ، لِمَا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِکَ عَلَی الْحَدِيْثِ. أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ قَالَ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ خَالِصًا مِنْ قَلْبِهِ أَوْ نَفْسِهِ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ.

3: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب العلم، باب الحرص علی الحديث، 1/ 49، الرقم/ 99، وأحمد بن حنبل في المسند، 2/ 373، الرقم/ 8845، والنسائي في السنن الکبری، 3/ 426، الرقم/ 5842، وابن منده في الإيمان، 2/ 862، الرقم/ 905.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! قیامت کے روز آپ کی شفاعت سے لوگوں میں سعادت مند ترین کون ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ہریرہ! میرا بھی یہی خیال تھا کہ اس چیز کے بارے میں تم سے پہلے کوئی اور شخص مجھ سے سوال نہیں کرے گا، کیونکہ میں نے (طلبِ) حدیث میں تمہارا ذوق و شوق دیکھا ہے۔ قیامت کے روز میری شفاعت کے ذریعے سب سے زیادہ سعادت مند وہ شخص ہوگا جس نے خلوصِ دل سے لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ (اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں) کہا ہوگا۔

اِسے امام بخاری، احمد اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

4. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه، قَالَ: کُنَّا قُعُوْدًا حَوْلَ رَسُوْلِ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم، مَعَنَا أَبُوْ بَکْرٍ، وَعُمَرُ فِي نَفَرٍ، فَقَامَ رَسُوْلُ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِنَا، فَأَبْطَأَ عَلَيْنَا، وَخَشِيْنَا أَنْ يُقْتَطَعَ دُوْنَنَا، وَفَزِعْنَا، فَقُمْنَا، فَکُنْتُ أَوَّلَ مَنْ فَزِعَ، فَخَرَجْتُ أَبْتَغِي رَسُوْلَ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم حَتّٰی أَتَيْتُ حَائِطًا لِلْأَنْصَارِ لِبَنِي النَّجَّارِ، فَدُرْتُ بِهِ هَلْ أَجِدُ لَهُ بَابًا؟ فَلَمْ أَجِدْ، فَإِذَا رَبِيْعٌ يَدْخُلُ فِي جَوْفِ حَائِطٍ مِنْ بِئْرٍ خَارِجَةٍ - وَالرَّبِيْعُ الْجَدْوَلُ - فَاحْتَفَزْتُ،کَمَا يَحْتَفِزُ الثَّعْلَبُ فَدَخَلْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم، فَقَالَ: أَبُوْ هُرَيْرَةَ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، يَا رَسُوْلَ اللهِ، قَالَ: مَا شَأْنُکَ؟ قُلْتُ: کُنْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا، فَقُمْتَ فَأَبْطَأْتَ عَلَيْنَا، فَخَشِيْنَا أَنْ تُقْتَطَعَ دُوْنَنَا، فَفَزِعْنَا، فَکُنْتُ أَوَّلَ مَنْ فَزِعَ، فَأَتَيْتُ هٰذَا الْحَائِطَ، فَاحْتَفَزْتُ کَمَا يَحْتَفِزُ الثَّعْلَبُ، وَهٰؤُلَائِ النَّاسُ وَرَائِي.

فَقَالَ صلی الله عليه وآله وسلم : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، وَأَعْطَانِي نَعْلَيْهِ، قَالَ: اذْهَبْ بِنَعْلَيَّ هَاتَيْنِ، فَمَنْ لَقِيْتَ مِنْ وَرَاءِ هٰذَا الْحَائِطِ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ، فَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ، فَکَانَ أَوَّلَ مَنْ لَقِيْتُ عُمَرُ، فَقَالَ: مَا هَاتَانِ النَّعْـلَانِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ فَقُلْتُ: هَاتَانِ نَعْـلَا رَسُوْلِ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم، بَعَثَنِي بِهِمَا مَنْ لَقِيْتُ، يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ، بَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، فَضَرَبَ عُمَرُ بِيَدِهِ بَيْنَ ثَدْيَيَّ، فَخَرَرْتُ لِاسْتِي، فَقَالَ: ارْجِعْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، فَرَجَعْتُ إِلٰی رَسُوْلِ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم، فَأَجْهَشْتُ بُکَائً، وَرَکِبَنِي عُمَرُ، فَإِذَا هُوَ عَلٰی أَثَرِي.

فَقَالَ لِي رَسُوْلُ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَا لَکَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قُلْتُ: لَقِيْتُ عُمَرَ، فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي بَعَثْتَنِي بِهِ، فَضَرَبَ بَيْنَ ثَدْيَيَّ ضَرْبَةً، خَرَرْتُ لِاسْتِي، قَالَ: ارْجِعْ، فَقَالَ لَهُ رَسُوْلُ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم : يَا عُمَرُ، مَا حَمَلَکَ عَلٰی مَا فَعَلْتَ؟ قَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، بِأَبِي أَنْتَ، وَأُمِّي، أَبَعَثْتَ أَبَا هُرَيْرَةَ بِنَعْلَيْکَ، مَنْ لَقِيَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ بَشَّرَهُ بِالْجَنَّةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَـلَا تَفْعَلْ، فَإِنِّي أَخْشٰی أَنْ يَتَّکِلَ النَّاسُ عَلَيْهَا، فَخَلِّهِمْ يَعْمَلُوْنَ، قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم : فَخَلِّهِمْ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَابْنُ حِبَّانَ وَأَبُوْ عَوَانَةَ.

أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الإيمان، باب الدليل علی أن من مات علی التوحيد دخل الجنة، 1/ 59-60، الرقم/ 52 (31)، وابن حبان في الصحيح، 10/ 408، الرقم/ 4543، وأبو عوانة في المسند، 1/ 21، الرقم/ 17.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گردبیٹھے ہوئے تھے اور ہمارے ساتھ دیگر صحابہ کرام کے علاوہ ابو بکر صدیق اور عمر فاروق رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے۔ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُٹھ کر چلے گئے اور کافی دیر تک تشریف نہ لائے، ہمیں خوف ہوا کہ کہیں خدانخواستہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی تکلیف پہنچی ہو۔ اس خیال سے ہم سب اٹھ کھڑے ہوئے، سب سے پہلے میں گھبرا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاش میں نکلا اور بنو نجار انصار کے باغ تک پہنچ گیا، میں باغ کے چاروں طرف گھومتا رہا لیکن مجھے اندر جانے کے لیے کوئی دروازہ نہ ملا۔ اتفاقاً ایک نالہ دکھائی دیا جو باہر کے کنوئیں سے باغ کے اندر کی طرف جا رہا تھا، میں لومڑی کی طرح گھسٹ کر اس نالے کے راستے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک جا پہنچا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو ہریرہ ہو؟ میں نے عرض کیا: جی یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ہمارے درمیان تشریف فرما تھے، پھر اچانک اٹھ کر تشریف لے گئے، آپ کی واپسی میں دیر ہو گئی، اس وجہ سے ہمیں خوف دامن گیر ہوا کہ کہیں دشمن آپ کو تنہا دیکھ کر پریشان نہ کریں، ہم سب گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے اور سب سے پہلے میں آپ کی تلاش میں نکلا۔ آخر کار میں اس باغ تک پہنچا اور لومڑی کی طرح گھسٹ کر باغ کے اندر آگیا، باقی لوگ میرے پیچھے آرہے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے نعلین مبارک مجھے عطا کیے اور فرمایا: اے ابوہریرہ! میرے یہ دونوں پاپوش لے جاؤ اور اس چار دیواری کے پیچھے جو شخص تمہیں یقینِ قلبی کے ساتھ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ کی گواہی دیتا ہوا ملے اسے جنت کی بشارت دے دو۔ (حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ باغ کے باہر) سب سے پہلے میری ملاقات عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ انہوں نے پوچھا: اے ابو ہریرہ! یہ پاپوش کیسے ہیں؟ میں نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلین مبارک ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس لیے دیے ہیں کہ جو شخص بھی مجھے یقینِ قلبی کے ساتھ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ کی گواہی دیتا ہوا ملے اُسے میں (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے) جنت کی بشارت دے دوں۔ یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ نے میرے سینے پر (زور سے) ہاتھ مارا جس کی وجہ سے میں پیٹھ کے بل گر پڑا۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: اے ابوہریرہ! واپس جاؤ۔ تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں واپس آکر رونے لگا، میرے پیچھے ہی عمر رضی اللہ عنہ بھی پہنچ گئے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پوچھا: اے ابو ہریرہ! کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا: سب سے پہلے میری ملاقات عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں نے ان کو آپ کا پیغام پہنچایا تو انہوں نے میرے سینے پر دھکا مار کر مجھے پیٹھ کے بل گرا دیا اور کہا: واپس چلے جاؤ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اے عمر! تم نے ایسا کیوں کیا؟ (حضرت) عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا واقعی آپ نے ابو ہریرہ کو اپنے نعلین دے کر بھیجا تھا، کہ جو شخص اسے یقینِ قلب کے ساتھ کلمہ طیبہ کی گواہی دیتا ہوا ملے، اسے یہ جنت کی بشارت دے دے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: (یا رسول اللہ!) ایسا نہ کریں! کیوں کہ مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ پھر صرف اسی (بشارت) پر بھروسہ کر کے بیٹھ جائیں گے۔ آپ انہیں (دین کے اَوامر و نواہی پر) عمل کرنے دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اچھا) پھر انہیں عمل کرنے دو۔

اِسے امام مسلم، ابن حبان اور ابو عوانہ نے روایت کیا ہے۔

5. عَنِ الصُّنَابِحِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رضی الله عنه، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ فَبَکَيْتُ، فَقَالَ: مَهْلًا لِمَ تَبْکِي؟ فَوَاللهِ، لَئِنِ اسْتُشْهِدْتُ لَأَشْهَدَنَّ لَکَ، وَلَئِنْ شُفِّعْتُ لَأَشْفَعَنَّ لَکَ، وَلَئِنِ اسْتَطَعْتُ لَأَنْفَعَنَّکَ. ثُمَّ قَالَ: وَاللهِ، مَا مِنْ حَدِيْثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُوْلِ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم لَکُمْ فِيْهِ خَيْرٌ إِلَّا حَدَّثْتُکُمُوْهُ، إِلَّا حَدِيْثًا وَاحِدًا، وَسَوْفَ أُحَدِّثُکُمُوْهُ الْيَوْمَ. وَقَدْ أُحِيْطَ بِنَفْسِي سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللهِ حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ النَّارَ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ.

أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الإيمان، باب الدليل علی أن من مات علی التوحيد دخل الجنة قطعا، 1/ 57، الرقم/ 29، والترمذي في السنن، کتاب الإيمان، باب ما جاء في من مات وهو يشهد أن لا إله إلّا اللہ، 5/ 23، الرقم/ 2638، وابن حبان في الصحيح، 1/ 431، الرقم/ 202، وأبو عوانة في المسند، 1/ 26، الرقم/ 26.

(ابو عبد اللہ عبد الرحمان بن عسیلہ) صنابحی، حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں: میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گیا۔ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ حالتِ نزع میں تھے، میں اُنہیں دیکھ کر رونے لگا۔ انہوں نے فرمایا: روتے کیوں ہو؟ بخدا! اگر مجھے گواہ بنایا گیا تو میں تمہارے حق میں گواہی دوں گا، اگر مجھے شفیع بنایا گیا تو میں تمہارے حق میں شفاعت کروں گا اور اگر مجھے قدرت ہوئی تو تم کو ضرور نفع پہنچاؤں گا۔ اس کے بعد فرمایا: میں نے ایک حدیث کے علاوہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئی وہ تمام احادیث تمہیں سنا دی ہیں جن میں تمہاری لیے بھلائی کا سامان ہے۔ وہ ایک حدیث بھی آج تم کو سنا دیتا ہوں کیونکہ میرا آخری وقت ہے۔ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس شخص نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ تعاليٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعاليٰ کے رسول ہیں، اللہ تعاليٰ اُس پر جہنم کی آگ حرام فرما دے گا۔

اسے امام مسلم اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔

6. عَنْ مُعَاذٍ رضی الله عنه قَالَ: بَعَثَنِي رَسُوْلُ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: إِنَّکَ تَأْتِي قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الْکِتَابِ، فَادْعُهُمْ إِلٰی شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَأَنِّي رَسُوْلُ اللهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوْا لِذٰلِکَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي کُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوْا لِذٰلِکَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ فِي فُقَرَائِهِمْ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوْا لِذٰلِکَ فَإِيَاکَ وَکَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُوْمِ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللهِ حِجَابٌ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه.

أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الإيمان، باب الدعاء إلی الشهادتين وشرائع الإسلام، 1/ 50، الرقم/ 19، وأبو داود في السنن، کتاب الزکاة، باب في زکاة السائمة، 2/ 104، الرقم/ 1584، والترمذي في السنن، کتاب الزکاة، باب ما جاء في کراهية أخذ خيار المال في الصدقة، 3/ 21، الرقم/ 625، وابن ماجه في السنن، کتاب الزکاة، باب فرض الزکاة، 1/ 568، الرقم/ 1783، والنسائي في السنن الکبری، 2/ 30، الرقم/ 2301، وابن خزيمة في الصحيح، 4/ 58، الرقم/ 2346، وابن أبي شيبة في المصنف، 2/ 353، الرقم/ 9831.

حضرت معاذ (بن جبل) رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (یمن کا حاکم بنا کر) بھیجا اور فرمایا: تم اہل کتاب کی ایک قوم کے پاس جا رہے ہو، لہٰذا پہلے اُنہیں اللہ تعاليٰ کی وحدانیت اور میری رسالت کی شہادت دینے کی دعوت دینا۔ جب وہ اِسے مان لیں، تو اُنہیں بتلانا کہ اللہ تعاليٰ نے اُن پر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، جب وہ اِن کو تسلیم کر لیں تو اُنہیں بتانا کہ اللہ تعاليٰ نے اُن پر زکوٰۃ بھی فرض کی ہے، جو اُن کے دولت مند لوگوں سے لے کر اُن کے فقراء میں تقسیم کی جائے گی۔ جب وہ اِسے قبول کر لیں تو تم زکوٰۃ میں اُن کا بہترین مال ہرگز نہ لینا اور مظلوم کی بددعا سے بچنا (یعنی کسی پر کبھی بھی ظلم نہ کرنا)، کیونکہ مظلوم کی بددعا اور اللہ تعاليٰ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا۔

اِسے امام مسلم، ابو داود، ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

7. عَنْ أَبِي أَيُوْبَ رضی الله عنه قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم فَقَالَ: دُلَّنِي عَلٰی عَمَلٍ أَعْمَلُهُ يُدْنِيْنِي مِنَ الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ. قَالَ: تَعْبُدُ اللهَ لَا تُشْرِکُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيْمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّکَاةَ وَتَصِلُ ذَا رَحِمِکَ. فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنْ تَمَسَّکَ بِمَا أُمِرَ بِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَابْنُ مَنْدَه.

أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الإيمان، باب بيان الإيمان الذي يدخل به الجنة وأن من تمسک بما أمر به دخل الجنة، 1/ 43، الرقم/ 13، وابن منده في الإيمان، 1/ 269، الرقم/ 127، والطبراني في المعجم الکبير، 4/ 139، الرقم/ 3926، والبيهقي في شعب الإيمان، 3/ 188، الرقم/ 3299، وأبو نعيم في حلية الأولياء، 4/ 374.

حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا عمل ارشاد فرمائیں جومجھے جنت سے قریب اور جہنم سے دور کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعاليٰ کی عبادت کرو، کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور اپنے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ جب وہ شخص چلا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اس شخص نے ان باتوں پر عمل کیا جن کا اُسے حکم دیا گیا ہے تو وہ جنت میں جائے گا۔

اِسے امام مسلم اور ابن مندہ نے روایت کیا ہے۔

8. عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم، أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم قِبَلَ بَدْرٍ، فَلَمَّا کَانَ بِحَرَّةِ الْوَبَرَةِ أَدْرَکَهُ رَجُلٌ قَدْ کَانَ يُذْکَرُ مِنْهُ جُرْأَةٌ وَنَجْدَةٌ، فَفَرِحَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم حِينَ رَأَوْهُ، فَلَمَّا أَدْرَکَهُ قَالَ لِرَسُولِ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم : جِئْتُ لِأَتَّبِعَکَ وَأُصِيْبَ مَعَکَ. قَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم : تُؤْمِنُ بِاللهِ وَرَسُولِهِ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: فَارْجِعْ. فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِکٍ. قَالَتْ: ثُمَّ مَضٰی حَتّٰی إِذَا کُنَّا بِالشَّجَرَةِ أَدْرَکَهُ الرَّجُلُ. فَقَالَ لَهُ کَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم کَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ. قَالَ: فَارْجِعْ. فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِکٍ. قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ فَأَدْرَکَهُ بِالْبَيْدَاءِ، فَقَالَ لَهُ کَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ: تُؤْمِنُ بِاللهِ وَرَسُولِهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم : فَانْطَلِقْ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ.

أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الجهاد والسير، باب کراهة الاستعانة في الغزو بکافر، 3/ 1449، الرقم/ 1817، وأحمد بن حنبل في المسند، 6/ 67، 148 الرقم/ 24431، 25199، والترمذي في السنن، کتاب السير، باب هل يسهم للعبد، 4/ 127، الرقم/ 1557، والنسائي في السنن الکبری، 6/ 493، الرقم/ 11600، والبيهقي في السنن الکبری، 9/ 36، الرقم/ 17655.

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر کی طرف روانہ ہوئے۔ جب (مدینہ سے چار میل کے فاصلہ پر) حرۃ الوبرہ کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک شخص کی ملاقات ہوئی، جس کی بہادری اور دلیری کا بہت چرچا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب نے جب اسے دیکھا تو بہت خوش ہوئے، جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں پہنچا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: میں اس لیے آیا ہوں کہ آپ کے ہمراہ لڑائی میں شریک ہو جاؤں اور جو مالِ غنیمت ملے اس میں سے حصہ پاؤں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: لوٹ جاؤ، میں کسی مشرک سے ہر گز مدد نہیں لوں گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے روانہ ہوئے، حتيٰ کہ جب ہم مقامِ شجرہ پر پہنچے تو وہ شخص پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آملا اور اس نے وہی درخواست کی جو پہلے کی تھی اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اسے وہی جواب دیا جو پہلے دیا تھا، اور فرمایا: لوٹ جاؤ! میں کسی مشرک سے ہر گز مدد نہیں لوں گا۔ وہ لوٹ گیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مقام بیداء میں ملا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتا ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: اب (ہمارے ساتھ) چلو۔

اسے امام مسلم، احمد، ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

9. عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضی الله عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنَّ اللهَ سَيُخَلِّصُ رَجُـلًا مِنْ أُمَّتِي عَلٰی رُئُوْسِ الْخَـلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَنْشُرُ عَلَيْهِ تِسْعَةً وَتِسْعِيْنَ سِجِلًّا، کُلُّ سِجِلٍّ مِثْلُ مَدِّ الْبَصَرِ. ثُمَّ يَقُوْلُ: أَتُنْکِرُ مِنْ هٰذَا شَيْئًا؟ أَظَلَمَکَ کَتَبَتِي الْحَافِظُوْنَ؟ فَيَقُوْلُ: لَا، يَا رَبِّ. فَيَقُوْلُ: أَفَلَکَ عُذْرٌ؟ فَيَقُوْلُ: لَا، يَا رَبِّ. فَيَقُوْلُ: بَلٰی، إِنَّ لَکَ عِنْدَنَا حَسَنَةً فَإِنَّهُ لَا ظُلْمَ عَلَيْکَ الْيَوْمَ فَتُخْرَجُ بِطَاقَةٌ فِيْهَا: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ. فَيَقُوْلُ: احْضُرْ وَزْنَکَ. فَيَقُوْلُ: يَا رَبِّ، مَا هٰذِهِ الْبِطَاقَةُ مَعَ هٰذِهِ السِّجِلَّاتِ؟ فَقَالَ: إِنَّکَ لَا تُظْلَمُ. قَالَ: فَتُوْضَعُ السِّجِلَّاتُ فِي کَفَّةٍ وَالْبِطَاقَةُ فِي کَفَّةٍ فَطَاشَتِ السِّجِلَّاتُ وَثَقُلَتِ الْبِطَاقَةُ، فَـلَا يَثْقُلُ مَعَ اسْمِ اللهِ شَيئٌ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ وَابْنُ مَاجَه وَابْنُ حِبَّانَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ. وَقَالَ الْحَاکِمُ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلٰی شَرْطِ مُسْلِمٍ وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ إِمَامٌ وَيُوْنُسُ الْمُؤَدِّبُ ثِقَةٌ، مُتَّفَقٌ عَلٰی إِخْرَاجِهِ فِي الصَّحِيْحَيْنِ.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 2/ 213، الرقم/ 6994، والترمذي في السنن، کتاب الإيمان، باب ما جاء فيمن يموت وهو يشهد أن لا إله إلا اللہ، 5/ 24، الرقم/ 2639، وابن ماجه في السنن، کتاب الزهد، باب ما يرجی من رحمة اللہ يوم القيامة، 2/ 1437، الرقم/ 4300، وابن حبان في الصحيح، 1/ 461، الرقم/ 225، والحاکم في المستدرک، 1/ 46، الرقم/ 9.

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعاليٰ تمام مخلوقات کے سامنے میری اُمت کے ایک شخص کو چن کر الگ کر دے گا، پھر اُس کے سامنے گناہوں کے ننانوے دفتر کھولے جائیں گے، ہر دفتر انسان کی حدِّ نگاہ جتنا طویل ہوگا۔ پھر اللہ تعاليٰ فرمائے گا: کیا تجھے اس میں سے کسی (عمل) کا انکار ہے؟ کیا میرے لکھنے والے محافظ فرشتوں نے تجھ پر ظلم کیا؟ وہ عرض کرے گا: نہیں، اے میرے ربّ! اللہ تعاليٰ فرمائے گا: کیا تیرے پاس کوئی عذر ہے؟ وہ عرض کرے گا: اے میرے ربّ! نہیں، (کوئی عذر نہیں ہے)۔ اللہ تعاليٰ فرمائے گا: ہاں، ہمارے پاس تیری ایک نیکی ہے، آج تجھ پر کچھ ظلم نہ ہو گا۔ پھر کاغذ کا ایک ٹکڑا نکالا جائے گا جس پر کلمہ شہادت لکھا ہوگا، اللہ تعاليٰ فرمائے گا: میزانِ عمل کے پاس حاضر ہو جا۔ وہ عرض کرے گا: اے اللہ! (گناہوں کے) ان دفتروں کے سامنے اس چھوٹے سے کاغذ کی کیا حیثیت ہے؟ اللہ تعاليٰ فرمائے گا: آج تجھ پر ظلم نہ ہوگا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: پھر ایک پلڑے میں (گناہوں کے) ننانوے دفتر رکھے جائیں گے اور دوسرے میں کاغذ کا وہ پرزہ رکھا جائے گا۔ دفتروں کا پلڑا ہلکا ہوجائے گا جبکہ کاغذ (کا پلڑا) بھاری ہوگا۔ بے شک اللہ تعاليٰ کے نام کی موجودگی میں کوئی چیز بھاری نہیں ہوتی۔

اِسے امام احمد نے، ترمذی نے مذکورہ الفاظ میں، ابن ماجہ اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ امام حاکم نے فرمایا: یہ حدیث امام مسلم کی شرائط پر صحیح ہے اور (اس کے رواۃ) لیث بن سعد امامِ حدیث اور یونس المؤدب ثقہ ہیں۔ امام بخاری اور امام مسلم کا اِن سے حدیث لینے پر اتفاق ہے۔

10. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی الله عنهما، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم : لَيْسَ عَلٰی أَهْلِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْشَةٌ فِي قُبُوْرِهِمْ وَلَا مَنْشَرِهِمْ، وَکَأَنِّي أَنْظُرُ إِلٰی أَهْلِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَهُمْ يَنْفُضُوْنَ التُّرَابَ عَنْ رُؤُوْسِهِمْ، وَيَقُوْلُوْنََ: اَلْحَمْدُ ِللهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحُزْنَ.

وَفِي رِوَايَةٍ: لَيْسَ عَلٰی أَهْلِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْشَةٌ عِنْدَ الْمَوْتِ وََلَا عِنْدَ الْقَبْرِ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ.

أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 9/ 181، 171، الرقم/ 9478، 9445، والبيهقي في شعب الإيمان، 1/ 111، الرقم/ 100، وذکرہ المنذري في الترغيب والترهيب، 2/ 269، الرقم/ 2359.

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ (کا ورد کرنے) والوں پر قبر میں کوئی وحشت ہوگی نہ محشر میں۔ گویا میں لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ (کا ورد کرنے) والوں کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ وہ (قبروں سے اُٹھتے ہوئے) انپے سروں سے مٹی جھاڑ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں: تمام تعریفیں اللہ تعاليٰ کے لیے ہیں جس نے ہمارے غم کو ختم کر دیا۔

ایک اور حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ (کا ورد کرنے) والوں پر نہ موت کے وقت کوئی وحشت ہوتی ہے اور نہ ہی قبر میں۔

اِسے امام طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

11. عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجُهْنِيِّ رضی الله عنه قَالَ: جَاءَ رَسُوْلَ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم رَجُلٌ مِنْ قُضَاعَةَ، فَقَالَ لَهُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ شَهِدْتُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّکَ رَسُوْلُ اللهِ، وَصَلَّيْتُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، وَصُمْتُ الشَّهْرَ، وَقُمْتُ رَمَضَانَ، وَآتَيْتُ الزَّکَاةَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : مَنْ مَاتَ عَلٰی هٰذَا کَانَ مِنَ الصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَاءِ.

رَوَاهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ وَابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ أَبِي عَاصِمٍ. وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ: وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيْحِ. وَقَالَ الْمُنْذِرِيُّ: إِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

أخرجه ابن خزيمة في الصحيح، کتاب الصيام، باب في فضل قيام رمضان، 3/ 340، الرقم/ 2212، وابن حبان في الصحيح، 8/ 223، الرقم/ 3438، وابن أبي عاصم في الأحاد والمثاني، 5/ 23، الرقم/ 2558، والبيهقي في شعب الإيمان، 3/ 308، الرقم/ 3617، وذکره المنذري في الترغيب والترهيب، 1/ 145، 302، الرقم/ 531، 1120، وأيضًا، 2/ 64، الرقم/ 1505، وقال: رواه البزار بإسناد حسن وابن خزيمة وابن حبان، وابن رجب الحنبلي في جامع العلوم والحکم، 1/ 208، والهيثمي في مجمع الزوائد، 1/ 46، وقال: رواه البزار ورجاله رجال الصحيح، وأيضًا في موارد الظمآن، 1/ 36، الرقم/ 19.

حضرت عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قبیلہ قضاعہ کے ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ اگر میں گواہی دوں کہ اللہ تعاليٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ تعاليٰ کے (سچے) رسول ہیں، پانچ نمازیں پڑھوں، ماہ رمضان کے روزے بھی رکھوں اور اس ماہِ (رمضان) میں قیام بھی کروں اور زکوٰۃ بھی ادا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اس حالت میں فوت ہوجائے وہ (روز قیامت) صدیقوں اور شہیدوں میں شمار ہو گا۔

اِسے امام ابن خزیمہ، ابن حبان اور ابن ابی عاصم نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا: اس کے رجال صحیح حدیث کے رجال ہیں۔ امام منذری نے فرمایا: اِس کی اِسناد حسن ہے۔

مَا رُوِيَ عَنِ الْأَئِمَّةِ مِنَ السَّلَفِ الصَّالِحِيْنَ

قَالَ اْلإِمَامُ الْجُنَيْدُ: اَلتَّوْحِيْدُ عِلْمُکَ وَإِقْرَارُکَ بِأَنَّ اللهَ فَرْدٌ فِي أَزَلِيَتِهِ لَا ثَانِيَ مَعَهُ، وَلَا شَيْئَ يَفْعَلُ فِعْلَهُ.

ذَکَرَهُ الْقُشَيْرِيُّ فِي الرِّسَالَةِ.

القشيري في الرسالة/ 43.

امام جنید البغدادی فرماتے ہیں: توحید یہ ہے کہ تو اس بات کو جان لے اور اس کا اقرار کرلے کہ اللہ اپنی ازلیت میں یکتا ہے۔ اس کا نہ تو کوئی ثانی ہے اور نہ ہی کوئی اس جیسے افعال کا فاعل ہوسکتا ہے۔

اسے امام قشیری نے ’الرسالۃ‘ میں بیان کیا ہے۔

سُئِلَ الإِمَامُ الْجُنَيْدُ عَنِ التَّوْحِيْدِ، فَقَالَ: إِنَّهُ الْوَاحِدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ، بِنَفْيِ الْأَضْدَادِ، وَالْأَنْدَادِ، وَالْأَشْبَاهِ، بِلَا تَشْبِيْهٍ وَلَا تَکْيِيْفٍ، وَلَا تَصْوِيْرٍ وَلَا تَمْثِيْلٍ، {لَيْسَ کَمِثْلِهِ شَيْئٌ ج وَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُo} [الشوريٰ، 42/ 11].

ذَکَرَهُ الْقُشَيْرِيُّ فِي الرِّسَالَةِ وَالطُّوْسِيُّ فِي اللُّمَعِ.

القشيري في الرسالة/ 42، والسرّاج الطوسي في اللمع في تاريخ التصوف الإسلامي/ 29.

امام جنید البغدادی سے توحید کے بارے سوال کیا گیا، تو اُنہوں نے فرمایا: وہ ایسا واحد و یکتا ہے کہ نہ اس نے کسی کو جنا، نہ وہ جنا گیا، اس کی نہ تو کوئی ضد (مد مقابل) ہے نہ نظیر، نہ مشابہت کہ اسے کسی سے تشبیہ دی جاسکے، نہ ہی (کسی بھی قسم کی) کیفیت و صورت اور نہ ہی کوئی تمثیل۔ (جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:) {لَيْسَ کَمِثْلِهِ شَيْئٌ ج وَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُo} ’اُس کے مانند کوئی چیز نہیں ہے اور وہی سننے والا دیکھنے والا ہے۔‘

اسے امام القشیری نے ’الرسالۃ‘ میں اور الطوسی نے ’اللمع فی التصوف‘ میں بیان کیا ہے۔

قَالَ أَبُو القَاسِمِ الْقُشَيْرِيُّ: سُئِلَ مُحَمَّدُ بْنُ مُوْسَی الْوَاسِطِيُّ عَنِ الإِيْمَانِ بِاللهِ وَلِلّٰهِ. قَالَ: الدُّنْيَا وَالآخِرَةُ مِنَ اللهِ وَإِلَی اللهِ وَبِاللهِ وَلِلّٰهِ وَمِنَ اللهِ ابْتِدَاءً وَإِنْشَاءً وَإِلَی اللهِ مَرْجِعًا وَانْتِهَاءً وَبِاللهِ بَقَاءً وَفَنَاءً وَلِلّٰهِ مُلْکاً وَخَلْقًا.

ذَکَرَهُ ابْنُ تَيْمِيَةَ فِي الاِسْتِقَامَةِ.

ابن تيمية في الاستقامة، 1/ 177.

امام ابو القاسم القشیری بیان کرتے ہیں کہ حضرت محمد بن موسی الواسطی سے ایمان باللہ (اللہ پر ایمان) اور ایمان ﷲ (اللہ کے لیے ایمان) کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: دنیا و آخرت اللہ سے ہے، اللہ کی طرف جانے والی ہے، اللہ کے ساتھ اور اللہ کی ملکیت ہے اور آغاز و ارتقاء کے اعتبار سے اللہ کی طرف سے ہے اور انتہاء و رجوع کے اعتبار سے اللہ کی طرف جانے والی ہے اور اللہ کے ذریعے باقی و فانی ہے اور بادشاہت اور مخلوق اللہ ہی کے لیے ہے۔

اسے ابن تیمیہ نے ’الاستقامۃ‘ میں بیان کیا ہے۔

وَسُئِلَ أَبُوْ عَلِيٍّ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوْذَبَارِيُّ عَنِ التَّوْحِيْدِ، فَقَالَ: … التَّوْحِيْدُ فِي کَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ، کُلُّ مَا صَوَّرَتْهُ الْأَفْهَامُ وَالْأَفْکَارُ فَإِنَّ اللهَ بِخِلَافِهِ: {لَيْسَ کَمِثْلِهِ شَيْئٌج وَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُo} [الشوری، 42/ 11].

ذَکَرَهُ ابْنُ تَيْمِيَةَ فِي الاِسْتِقَامَةِ.

ابن تيمية في الاستقامة، 1/ 181.

حضرت ابو علی احمد بن محمد الروذباری سے توحید کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: توحید کا ایک جملے میں مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعاليٰ فہم اور اَفکار کی تصویر کشی سے ماوراء ہے۔ (قرآن مجید کے اِس فرمان کے مطابق:) {لَيْسَ کَمِثْلِهِ شَيْئٌ ج وَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُo} ’اُس کے مانند کوئی چیز نہیں ہے اور وہی سننے والا دیکھنے والا ہے۔‘

اسے ابن تیمیہ نے ’الاستقامۃ‘ میں بیان کیا ہے۔

قَالَ أَبُوْ الْقَاسِمِ التَّمِيْمِيُّ فِي کِتَابِ الْحُجَّةِ: التَّوْحِيْدُ هُوَ تَجْرِيْدُ الذَّاتِ الْإِلٰهِيَةِ عَنْ کُلِّ مَا يُتَصَوَّرُ فِي الْأَفْهَامِ وَيُتَخَيَلُ فِي الْأَوْهَامِ وَالْأَذْهَانِ. وَمَعْنٰی کَوْنِ اللهِ تَعَالٰی وَاحِدًا نَفْيُ الْاِنْقِسَامِ فِي ذَاتِهِ تَعَالٰی، وَنَفْيُ الشَّبِيْهِ وَالتَّعْطِيْلِ وَالشَّرِيْکِ فِي ذَاتِهِ وَ صِفَاتِهِ.

ذَکَرهُ ابْنُ حَجَرٍ الْعَسْقَـلَانِيُّ فِي الْفَتْحِ.

ابن حجر العسقلانيّ في فتحِ الباري، 13/ 344.

ابو القاسم التمیمی نے کتاب الحجۃ میں فرمایا ہے:

توحید سے مراد ہے: ذاتِ الٰہیہ کو ہر اس شے سے مُبَرَّأ (پاک) قرار دینا جس کا تصور اَفہام میں اور جس کا خیال اَوہام و اَذہان میں آسکتا ہے۔ اور اللہتعاليٰ کے ایک ہونے کا معنٰی یہ بھی ہے کہ اس کی ذات منقسم ہونے سے پاک ہے۔ اور اس کی ذات و صفات میں نہ کوئی شبیہ ہے نہ تعطل ہے اور نہ ہی کوئی شریک ہے۔

اِسے ابن حجر العسقلانی نے ’فتح الباری‘ میں بیان کیا ہے۔

قَالَ الإِمَامُ أَبُو حَامِدٍ الْغَزَالِيُّ: لِلتَّوْحِيْدِ أَرْبَعُ مَرَاتِبَ: فَالرُّتْبَةُ الْأُوْلٰی مِنَ التَّوْحِيْدِ: هِيَ أَنْ يَقُوْلَ اْلإِنْسَانُ بِلِسَانِهِ {لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ} وَقَلْبُهُ غَافِلٌ عَنْهُ أَوْ مُنْکِرٌ لَهُ کَتَوْحِيْدِ الْمُنَافِقِيْنَ.

وَالثَّانِيَةُ: أَنْ يُصَدِّقَ بِمَعْنَی اللَّفْظِ قَلْبُهُ کَمَا صَدَّقَ بِهِ عُمُوْمُ الْمُسْلِمِيْنَ وَهُوَ اعْتِقَادُ الْعَوَامِّ.

وَالثَّالِثَةُ: أَنْ يُشَاهِدَ ذٰلِکَ بِطَرِيْقِ الْکَشْفِ بِوَاسِطَةِ نُوْرِ الْحَقِّ وَهُوَ مُقَامُ الْمُقَرَّبِيْنَ، وَذٰلِکَ بِأَنْ يَرٰی أَشْيَاءَ کَثِيْرَةً وَلٰـکِنْ يَرَاهَا عَلٰی کَثْرَتِهَا صَادِرَةً عَنِ الْوَاحِدِ الْقَهَارِ.

وَالرَّابِعَةُ: أَنْ لَا يَرٰی فِي الْوُجُوْدِ إِلَّا وَاحِدًا، وَهِيَ مُشَاهَدَةُ الصِّدِّيْقِيْنَ وَتَسْمِيَةُ الصُّوْفِيَةِ الْفَنَاءَ فِي التَّوْحِيْدِ، لِأَنَّهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَرٰی إِلَّا وَاحِدًا فَـلَا يَرٰی نَفْسَهُ أَيْضًا، وَإِذَا لَمْ يَرَ نَفْسَهُ لِکَوْنِهِ مُسْتَغْرِقًا بِالتَّوْحِيْدِ کَانَ فَانِیًا عَنْ نَفْسِهِ فِي تَوْحِيْدِهِ، بِمَعْنٰی أَنَّهُ فَنٰی عَنْ رُؤْيَةِ نَفْسِهِ وَالْخَلْقِ.

فَالْأَوَّلُ مُوَحِّدٌ بِمُجَرَّدِ اللِّسَانِ وَيَعْصِمُ ذٰلِکَ صَاحِبَهُ فِي الدُّنْيَا عَنِ السَّيْفِ وَالسِّنَانِ.

وَالثَّانِي مُوَحِّدٌ بِمَعْنٰی أَنَّهُ مُعْتَقِدٌ بِقَلْبِهِ مَفْهُوْمَ لَفْظِهِ، وَقَلْبُهُ خَالٍ عَنِ التَّکْذِيْبِ بِمَا انْعَقَدَ عَلَيْهِ قَلْبُهُ وَهُوَ عُقْدَةٌ عَلَی الْقَلْبِ لَيْسَ فِيْهِ انْشِرَاحٌ وَانْفِسَاحٌ، وَلٰکِنَّهُ يَحْفَظُ صَاحِبَهُ مِنَ الْعَذَابِ فِي الْآخِرَةِ إِنْ تُوُفِّيَ عَلَيْهِ.

وَالثَّالِثُ مُوَحِّدٌ بِمَعْنٰی أَنَّهُ لَمْ يُشَاهِدْ إِلَّا فَاعِلًا وَاحِدًا إِذَا انْکَشَفَ لَهُ الْحَقُّ کَمَا هُوَ عَلَيْهِ. وَلَا يَرٰی فَاعِلًا بِالْحَقِيْقَةِ إِلَّا وَاحِدًا وَقَدِ انْکَشَفَتْ لَهُ الْحَقِيْقَةُ کَمَا هِيَ عَلَيْهِ.

وَالرَّابِعُ مُوَحِّدٌ بِمَعْنٰی أَنَّهُ لَمْ يَحْضُرْ فِي شُهُوْدِهِ غَيْرُ الْوَاحِدِ، فَلَا يَرَی الْکُلَّ مِنْ حَيْثُ إِنَّهُ کَثِيْرٌ بَلْ مِنْ حَيْثُ إِنَّهُ وَاحِدٌ، وَهٰذِهِ هِيَ الْغَايَةُ الْقُصْوٰی فِي التَّوْحِيْدِ.

وَأَمَّا الْأَوَّلُ: وَهُوَ النِّفَاقُ فَوَاضِحٌ؛ وَأَمَّا الثَّانِي: وَهُوَ الْاِعْتِقَادُ فَهُوَ مَوْجُوْدٌ فِي عُمُوْمِ الْمُسْلِمِيْنَ؛ وَأَمَّا الثَّالِثُ: فَهُوَ الَّذِي يُبْنٰی عَلَيْهِ التَّوَکُّلَ.

وَحَاصِلُهُ: أَنْ يَنْکَشِفَ لَکَ أَنْ لَا فَاعِلَ إِلَّا اللهُ تَعَالٰی، وَأَنَّ کُلَّ مَوْجُوْدٍ مِنْ خَلْقٍ وَرِزْقٍ وَعَطَائٍ وَمَنْعٍ وَحَيَاةٍ وَمَوْتٍ وَغِنًی وَفَقْرٍ إِلٰی غَيْرِ ذٰلِکَ مِمَّا يَنْطَلِقُ عَلَيْهِ اسْمٌ، فَالْمُنْفَرِدُ بِإِبْدَاعِهِ وَاخْتِرَاعِهِ هُوَ اللهُ لَا شَرِيْکَ لَهُ فِيْهِ.

لِقَوْلِهِ تَعَالٰی: {وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰـکِنَّ اللهَ رَمٰی} [الأنفال، 8/ 17] فَإِذَا انْکَشَفَ لَکَ أَنَّ جَمِيْعَ مَا ِفي السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ مُسَخَّرَاتٌ عَلٰی هٰذَا الْوَجْهِ انْصَرَفَ عَنْکَ الشَّيْطَانُ خَائِبًا وَأَيِسَ عَنْ مَزْجِ تَوْحِيْدِکَ بِالشِّرْکِ.

فَإِنْ قُلْتَ: فَکَيْفَ الْجَمْعُ بَيْنَ التَّوْحِيْدِ وَالشَّرْعِ: وَمَعْنَی التَّوْحِيْدِ: أَنْ لَا فَاعِلَ إِلاَّ اللهُ تَعَالٰی؛ وَمَعْنَی الشَّرْعِ إِثْبَاتُ الْأَفْعَالِ لِلْعِبَادِ؛ فَإِنْ کَانَ الْعَبْدُ فَاعِلًا فَکَيْفَ يَکُوْنُ اللهُ تَعَالٰی فَاعِلًا؟ وَإِنْ کَانَ اللهُ تَعَالٰی فَاعِلًا فَکَيْفَ يَکُوْنُ الْعَبْدُ فَاعِلًا؟ … فَأَقُوْلُ: نَعَمْ ذٰلِکَ غَيْرُ مَفْهُوْمٍ إِذَا کَانَ لِلْفَاعِلِ مَعْنًی وَاحِدٌ، وَإِنْ کَانَ لَهُ مَعْنَيَانِ وَيَکُوْنُ اْلاِسْمُ مُجْمَلًا مُرَدَّدًا بَيْنَهُمَا لَمْ يَتَنَاقَضْ، کَمَا يُقَالُ: قَتَلَ الْأَمِيْرُ فُلَانًا، وَيُقَالُ: قَتَلَهُ الْجَلَّادُ، وَلٰـکِنَّ الْأَمِيْرَ قَاتِلٌ بِمَعْنًی، وَالْجَلَّادُ قَاتِلٌ بِمَعْنًی آخَرَ؛ فَکَذٰلِکَ الْعَبْدُ فَاعِلٌ بِمَعْنًی؛ وَاللهُفَاعِلٌ بِمَعْنًی آخَرَ؛ فَمَعْنٰی کَوْنِ اللهِ تَعَالٰی فَاعِلاً أَنَّهُ الْمُخْتَرِعُ الْمُوْجِدُ. وَمَعْنٰی کَوْنِ الْعَبْدِ فَاعِلًا أَنَّهُ الْمَحَلُّ الَّذِي خَلَقَ فِيْهِ الْقُدْرَةَ بَعْدَ أَنْ خَلَقَ فِيْهِ الْإِرَادَةَ بَعْدَ أَنْ خَلَقَ فِيْهِ الْعِلْمَ.

فَإِنَّ التَّوْحِيْدَ يُوْرِثُ النَّظَرَ إِلٰی مُسَبِّبِ الْأَسْبَابِ، وَالإِيْمَانَ بِالرَّحْمَةِ. … وَيُوْرِثُ الثِّقَةَ بِمُسَبِّبِ اْلأَسْبَابِ، وَلَا يَتِمُّ حَالُ التَّوَکُّلِ إِلَّا بِالثِّقَةِ بِالْوَکِيْلِ وَطُمَأْنِيْنَةِ الْقَلْبِ إِلٰی حُسْنِ نَظَرِ الْکَفِيْلِ.

الغزالي في إحياء علوم الدين، 4/ 245-258.

امام ابو حامد غزالی نے فرمایا: توحید کے چار مراتب ہیں:

پہلا مرتبۂ توحید یہ ہے کہ انسان اپنی زبان سے لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ (تو) کہے لیکن اس کا دل اس سے غافل ہو یا (اس کا دل اس کلمہ سے) منکر ہو، جیسے منافقوں کا (فقط زبانی) اقرارِ توحید۔

دوسرا مرتبہ یہ ہے کہ اس کا دل ان (زبان سے نکلے) الفاظ کی تصدیق کرے جیسے عام مسلمان تصدیق کرتے ہیں یہ عوام کا اعتقاد ہے۔

تیسرا مرتبہ یہ ہے کہ وہ کشف کے ذریعے، بواسطہ نورِ حق (براہِ راست) مشاہدہ کرے، یہ مقربین کا مقام ہے یعنی وہ اشیاء (میں تو) کثرت دیکھتا ہے لیکن ان (تمام کثیر اشیائ) کو بھی (باوجود ان کی کثرت کے) سب کا وقوع ایک ہی قہار ذات کی طرف سے سمجھتا ہے۔

چوتھا مرتبہ یہ ہے کہ (مرتبۂ وجود میں) وہ صرف ایک ہی وجود کو دیکھتا ہے، یہ صدیقین کا مشاہدہ ہے اور صوفیاء کرام کی اصطلاح میں اسی کو فناء فی التوحید کہتے ہیں اس لیے کہ (اس مقام پر) وہ صرف ایک (ہی ذات) کو دیکھتا ہے (یہاں تک کہ) وہ اپنے آپ کو بھی نہیں دیکھتا اور جب وہ توحید میں مستغرق ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو بھی نہیں دیکھتا تو (گویا) توحید میں (وہ) اپنے نفس سے فانی ہوگا یعنی وہ اپنے نفس اور مخلوق کو دیکھنے کے حوالے سے فانی ہے۔

اس طرح (ان مراتبِ توحید میں) پہلا شخص وہ ہے جو صرف زبان سے توحید کا اقرار کرتا ہے، یہ زبانی اقرار اُسے تلوار اور نیزے (کے وار) سے بچا لیتا ہے (یعنی توحید پر ایمان کی وجہ سے وہ قتل نہیں کیا جاتا)۔

دوسرا شخص ایسا موحد ہے جو لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ کے الفاظ کے مفہوم کا اعتقاد دل سے رکھتا ہے اور (اس کا) دل اس اعتقاد کو نہیں جھٹلاتا یہ (یعنی اس طرح کی توحید) دل پر ایک گرہ ہے جس میں (مشاہداتی) انشراح اور (عارفانہ) بسط (کی صلاحیت) نہیں لیکن اگر ایسا شخص اسی عقیدے پر فوت ہوجائے (اور گناہوں سے اس کا عقیدہ کمزور نہ ہوا ہو) وہ آخرت کے عذاب سے بچ جاتا ہے۔

تیسرا موحد وہ ہے جو (ہر فعل میں) صرف ایک (ہی) فاعل (حقیقی) کو دیکھتا ہے یعنی اس کے لیے حق بعینہِ منکشف ہو جاتا ہے اور وہ حقیقت میں ایک ہی فاعل کو دیکھتا ہے، حقائق اپنی اصلی صورت میں اس کے سامنے آجاتے ہیں۔

چوتھا وہ موحد ہے جس کے مشاہدے میں ذاتِ واحد کے علاوہ اور کوئی آیا ہی نہیں (چنانچہ) وہ سب چیزوں کو کثیر ہونے کے حوالے سے نہیں دیکھتا بلکہ وحدت کے اعتبار سے دیکھتا ہے اور توحیدِ (خالص) کی غرض و غایت بھی یہی ہے۔

پہلا مقام تو واضح منافقت ہے، جہاں تک دوسرے مقام کا تعلق ہے تو یہ وہی عقیدہ ہے جو عام مسلمانوں میں موجود ہے جب کہ تیسرا مقام وہ ہے جس پر توکل کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔

اس تمام بات کا خلاصہ یہ ہے کہ تمہارے لیے یہ حقیقت مکمل طور پر منکشف ہو جائے کہ اللہ تعاليٰ کے سوا کوئی فاعلِ (حقیقی) نہیں ہے اور (یہ بھی کہ اس کے علاوہ) جو کچھ (بھی) موجود ہے، رزق، عطائ، رکاوٹ، زندگی، موت، امیری اور غریبی وغیرہ جن پر بھی لفظ اِسم کا اِطلاق ہوسکتا ہے (اور ہر وہ شے) جس کا کوئی بھی نام ہوسکتا ہے، ان تمام کو پیدا کرنے والی صرف اللہ تعاليٰ کی ذات ہے اور اس فعل میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ ارشاد فرماتا ہے: {وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰـکِنَّ اللهَ رَمٰی} ’جب آپ نے (ان پر سنگریزے) مارے تھے (وہ) آپ نے نہیں مارے تھے، بلکہ (وہ تو) اللہ نے مارے تھے‘، جب تمہارے لیے یہ حقیقت (اپنی تمام جہتوں کے ساتھ) منکشف ہو جائے، کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ (بھی) ہے وہ اس طریقے پر اللہ رب العزت ہی کے تابع ہے، تو شیطان تم سے نامراد و مایوس ہو کر واپس ہو جائے گا، اب وہ تمہارے عقیدۂ توحید میں شرک کی آمیزش نہیں کرسکتا۔

سوال: اگر یہ سوال کیا جائے کہ توحید اور شریعت کو کیسے جمع کیا جاسکتا ہے؟ (کیونکہ) توحید کا معنٰی یہ ہے کہ اللہ تعاليٰ کے سوا کوئی فاعلِ (حقیقی) نہیں، جب کہ شریعت کے اَحکام سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ اَفعال بندوں سے بھی صادر ہوتے ہیں (اِسی لیے شریعت میں ان کے اعمال کے لیے جزا و سزا کے احکام موجود ہیں)۔ لہٰذا اگر بندہ فاعل ہے تو اللہ تعاليٰ کس طرح فاعل ہوسکتا ہے اور اگر اللہ تعاليٰ فاعل ہے تو بندہ کیسے فاعل ہو سکتا ہے؟

جواب: میں کہتا ہوں: ہاں، یہ بات تب سمجھ میں نہیں آتی جب فاعل کا ایک ہی معنٰی ہو، لیکن اگر فاعل کے دو معنٰی ہوں اور یہ لفظ اِجمالاً دونوں جگہ پایا جاتا ہو تو (الگ الگ معنوں میں مستعمل ہونے کی بنا پر) کوئی تناقض اور اختلاف نہیں رہتا۔ مثلاً کہا جاتا ہے:حاکم نے فلاں کو قتل کیا اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اسے جلاد نے قتل کیا۔ اب یہاں ایک اعتبار سے امیر کسی اور معنٰی میں قاتل ہے، جب کہ جلاد (ایک) دوسرے مفہوم کے اعتبار سے قاتل ہے۔ لہٰذا اللہ تعاليٰ کے فاعل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ (فعل کے اسباب کا) موجد اور انکشاف کرنے والا ہے اور بندے کے فاعل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسی ہستی ہے جس میں (اللہ تعاليٰ نے اس کام کی) قدرت پیدا کی اور اس (قدرت) سے پہلے اسے ارادہ اور ارادے سے پہلے (اس کام کے متعلقات اور لوازمات کا) علم عطا کیا۔

(حاصلِ کلام یہ ہے کہ) عقیدۂ توحید انسان کو مسبب الاسباب کی طرف نظر، (اس کی) رحمت پر ایمان اور مسبب الاسباب پر بھروسا عطا کرتا ہے۔ اور جب تک وکیل پر یقین اور اعتماد نہ ہو اس وقت تک حالتِ توکل کی تکمیل نہیں ہوتی۔ اور کفیل کے حسن نظر پر دل کو اطمینان نصیب نہیں ہوتا۔

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved