العرفان فی فضائل و آداب القرآن

فَصْلٌ فِي قِرَاءَۃِ الْقُرْآنِ إِجْتِمَاعًا
(ایک جگہ جمع ہو کر قرآن پڑھنے کا بیان)

99. عَنْ عَبْدِ اﷲِ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم: إِقْرَأْ عَلَيَّ. قَالَ: قُلْتُ: أَقْرَأُ عَلَيکَ وَعَلَيْکَ أُنْزِلَ؟ قَالَ: إِنِّي أَشْتَهِي أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي. قَالَ: فَقَرَأْتُ النِّسَاءَ حَتَّی إِذَا بَلَغْتُ: فَکَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيْدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی هَؤُلاَءِ شَهِيْدًا [النساء، 4 : 41]. قَالَ لِي: کُفَّ أَوْ أَمْسِکْ فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَذْرِفَانِ. متفق عليه.
”حضرت عبد اللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا: مجھے قرآن مجید پڑھ کر سناؤ۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: میں آپ کو پڑھ کر سناؤں حالانکہ آپ پر قرآن نازل ہوا۔ فرمایا: میری یہ خواہش ہے کہ میں اسے دوسروں سے سنوں۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ پھر میں نے سورۃ النساء کی تلاوت کی یہاں تک کہ جب میں اس آیت پر پہنچا: فَکَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيْدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی هَؤُلاَءِ شَهِيْدًا (پھر اس دن کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور (اے حبیب!) ہم آپ کو ان سب پر گواہ لائیں گے)، تو مجھ سے فرمایا: رک جاؤ۔ جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چشمانِ اقدس سے آنسو رواں تھے۔“

100. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم: مَنْ سَلَکَ طَرِيْقًا يَلْتَمِسُ فِيْهِ عِلْمًا سَهَّلَ اﷲُ لَهُ بِه طَرِيْقًا إِلَی الْجَنَّةِ، وَمَا اجْتَمَعَ قَومٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اﷲِ يَتْلُونَ کِتَابَ اﷲِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلاَّ نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّکِيْنَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَحَفَّتْهُمُ الْمَلاَئِکَةُ، وَذَکَرَهُمُ اﷲُ فِيْمَنْ عِنْدَهُ، وَمَنْ بَطَّأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ. رواه مسلم وأبوداود.
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص طلبِ علم کے لئے کسی راستہ پر چلا، اﷲ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔ اور جب بھی لوگ اﷲ تعالیٰ کے گھروں (مسجدوں) میں سے کسی گھر (مسجد) میں جمع ہوتے ہیں، اﷲ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور آپس میں اسے سیکھتے سکھاتے ہیں تو ان لوگوں پر سکون و اطمینان نازل ہوتا ہے، رحمتِ الٰہی انہیں ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے پر باندھ کر ان پر چھائے رہتے ہیں اور اﷲ تعالیٰ ملاءِ اَعلی کے فرشتوں میں ان کا ذکر کرتا ہے۔ اور جس شخص کے اعمال اس کو پیچھے کر دیں اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکتا۔“

101. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه: أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: مَنِ اسْتَمَعَ إِلَی آيَةٍ مِنْ کِتَابِ اﷲِ تَعَالَی کُتِبَ لَهُ حَسَنَةٌ مُضَاعَفَةٌ، وَ مَنْ تَلاَهَا کَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ. رواه أحمد وعبد الرزاق والبيهقي.
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو بندہ اﷲ تعالیٰ کی کتاب کی ایک آیت پوری توجہ کے ساتھ سنے، اس کے لئے ایک ایسی نیکی لکھ دی جاتی ہے جو کئی گنا بڑھنے والی ہوتی ہے؛ اور جو اس آیت کو تلاوت کرے تو وہ آیت اس کے لئے قیامت کے دن نور ہو جائے گی۔“

102. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ: مَنِ اسْتَمَعَ إِلَی آيَةٍ مِنْ کِتَابِ اﷲِ کَانَتْ لَهُ نُورًا. رواه الدارمي.
”حضرت (عبد اللہ) بن عباس رضي اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جس نے کتاب اللہ کی ایک آیت بھی غور سے سنی تو یہ آیت اس کے لیے (بمنزلہ) نور ہوگی۔“

103. عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ رضي اﷲ عنه قَالَ: إِنَّ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ لَهُ أَجْرٌ، وَإِنَّ الَّذِی يَسْتَمِعُ لَهُ أَجْرَانِ. رواه الدارمي وعبدالرزاق. ونحوه البيهقي.
” حضرت خالد بن معدان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ آپ نے بیان کیا کہ جو شخص قرآن پڑھتا ہے اس کے لئے ایک اجر ہے اور جو شخص (غور سے قرآن) سنتا ہے اس کے لئے دو اجر ہیں۔“

104. عَنْ أَبِي سَلَمَةَ رضي الله عنه: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رضي الله عنه إِذَا رَأَی أَبَا مُوسَی رضي الله عنه، قَالَ: ذَکِّرْنَا رَبَّنَا، يَا أَبَا مُوسَی! فَيَقْرَأُ عِنْدَهُ. رواه الدارمي وابن حبان.
”حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب حضرت ابو موسی اَشعری رضی اللہ عنہ کو دیکھتے تو فرماتے: اے ابو موسی! ہمیں ہمارے رب کی یاد دلاؤ۔ تو وہ ان کے پاس (بیٹھ جاتے اور) انہیں تلاوتِ قرآن سناتے۔“

105. رَوَی ابْنُ أَبِي دَاوُدَ: أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ رضي الله عنه کَانَ يُدَرِّسُ الْقُرْآنَ مَعَ نَفَرٍ، يَقْرَؤُوْنَ جَمِيْعًا. رواه النووي.
”ابن ابی داؤد روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ ایک اِجتماع کو قرآن حکیم پڑھایا کرتے تھے، وہ اکٹھے قرآن حکیم پڑھا کرتے تھے۔“

106. عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، قَالَ: شَهِدْتُ قَتَادَةَ رضي الله عنه يُدَرِّسُ الْقُرْآنَ فِي رَمَضَانَ. رواه ابن الجعد.
”حضرت ابو عوانہ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ رمضان المبارک میں (لوگوں کو) قرآن حکیم پڑھا رہے تھے۔“


حواشی

الحديث رقم 99: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: فضائل القرآن، باب: البکاء عند قراءة القرآن، 4 / 1927، الرقم: 4768، وفي کتاب: تفسير القرآن، باب: قوله تعالى: فکيف إذا جئنا من کل أمة بشهيد وجئنا بک على هؤلاء شهيدا، 4 / 1673، الرقم: 4306، ومسلم في الصحيح، کتاب: صلاة المسافرين وقصرها، باب: فضل إستماع القرآن وطلب القراءة من حافظه للإستماع، 1 / 551، الرقم: 800، والنسائي في السنن الکبرى، 5 / 29، الرقم: 8079، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 363، الرقم: 2052، والطبراني في المعجم الکبير، 9 / 80، الرقم: 8459، وابن منصور في السنن، 1 / 212، الرقم: 51.

الحديث رقم 100: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: الذکر والدعاء والتوبة والإستغفار، باب: فضل الإجتماع على تلاوة القرآن وعلى الذکر، 4 / 2074، الرقم: 2699، وأبوداود في السنن، کتاب: الصلاة، باب: في ثواب قراءة القرآن، 2 / 71، الرقم: 1455، وابن ماجة في السنن، کتاب: المقدمة، باب: فضل العلماء والحث على طلب العلم، 1 / 82، الرقم: 225، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 252، الرقم: 7421، 9623، والدارمي في السنن، 1 / 113، الرقم: 356، والطبراني في المعجم الأوسط، 4 / 126، الرقم: 3780، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 262، الرقم: 1695.

الحديث رقم 101: أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 2 / 341، الرقم: 8475، وعبدالرزاق في المصنف، 3 / 373، الرقم: 6013، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 341، الرقم: 1981، وابن منصور في السنن، 1 / 52، الرقم: 9، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 226، الرقم: 2188، والهيثمي في مجمع الزوائد، 7 / 162.

الحديث رقم 102 / 103: أخرجه الدارمي في السنن، 2 / 536، الرقم: 3366-3367، وعبد الرزاق في المصنف، 3 / 373، الرقم: 6012- 6013، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 341، الرقم: 1981.

الحديث رقم 104: أخرجه الدارمي في السنن، 2 / 564، الرقم: 3493، 3496، وابن حبان في الصحيح، 168/16، الرقم: 7196، وعبد الرزاق في المصنف، 2 / 486، الرقم: 4179-4181، وأبونعيم في حلية الأولياء، 1 / 258، والديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 5 / 353، الرقم: 8410، وابن سعد في الطبقات، 4 / 109، وابن الجوزي في صفة الصفوة، 1 / 557، والنووي في التبيان، 1 / 112، والهيثمي في موارد الظمآن، 1 / 562، الرقم: 2264، والعسقلاني في الإصابة، 4 / 213.

الحديث رقم 105: أخرجه النووي في التبيان، 1 / 103.

الحديث رقم 106: أخرجه ابن الجعد في المسند، 1 / 160، الرقم: 1024.

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved