العرفان فی فضائل و آداب القرآن

فَصْلٌ فِي فَضْلِ تَعَلُّمِ الْقُرْآنِ وَتَعْلِيْمِہِ
(قرآن حکیم سیکھنے اور سکھانے کی فضیلت کا بیان)

116. عَنْ عُثْمَانَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم، قَالَ:خَيْرُکُم مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ. رواه البخاري.
وفي رواية عنه: قَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم: إِنَّ أَفْضَلَکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرآنَ وَعَلَّمَهُ. رواه البخاري.
”حضرت عثمان (بن عفان) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن (پڑھنا اور اس کے رموز و اَسرار اور مسائل) سیکھے اور سکھائے۔”اور ایک روایت میں ان ہی سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک تم میں سے افضل شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔“

117. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِصلی الله عليه وآله وسلم: مَنْ سَلَکَ طَرِيْقًا يَلْتَمِسُ فِيْهِ عِلْمًا سَهَّلَ اﷲُ لَهُ بِهِ طَرِيْقًا إِلَی الْجَنَّةِ، وَمَا اجْتَمَعَ قَومٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اﷲِ يَتْلُونَ کِتَابَ اﷲِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلاَّ نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّکِيْنَةُ، وَ غَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَحَفَّتْهُمُ الْمَلاَئِکَةُ، وَذَکَرَهُمُ اﷲُ فِيْمَنْ عِنْدَهُ، وَمَنْ بَطَّأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ. رواه مسلم وأبوداود.
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص طلبِ علم کے لئے کسی راستہ پر چلا، اﷲ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے اور جب بھی لوگ اﷲ تعالیٰ کے گھروں (مسجدوں) میں سے کسی گھر (مسجد) میں جمع ہوتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور آپس میں اسے سیکھتے سکھاتے ہیں تو ان لوگوں پر سکون و اطمینان نازل ہوتا ہے، رحمتِ الٰہی انہیں ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے پر باندھ کر ان پر چھائے رہتے ہیں اور اﷲ تعالیٰ ملاءِ اعلی کے فرشتوں میں ان کاذکر کرتا ہے، اور جس شخص کے اعمال اس کو پیچھے کردیں اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکتا۔“

118. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: بَعَثَ رَسُوْلُ اﷲِصلی الله عليه وآله وسلم بَعْثًا وَهُمْ ذُو عَدَدٍ، فَاسْتَقْرَأَهُمْ، فَاسْتَقْرَأَ کُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ مَا مَعَهُ مِنَ الْقُرْآنِ فَأَتَی عَلَی رَجُلٍ مِنْهُمْ مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا، فَقَالَ: مَا مَعَکَ يَا فُلاَنُ؟ قَالَ: مَعِي کَذَا وَکَذَا وَسُورَةُ الْبَقَرَةِ. قَالَ: أَمَعَکَ سُوْرَةُ الْبَقَرَةِ؟ فَقَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَاذْهَبْ فَأَنْتَ أَمِيْرُهُمْ. فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَشْرَافِهِمْ: وَاﷲِ! يَا رَسُوْلَ اﷲِ! مَا مَنَعَنِي أَنْ أَتَعَلَّمَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ إِلاَّ خَشْيَةَ أَلاَّ أَقُوْمَ بِهَا. فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِصلی الله عليه وآله وسلم: تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَاقْرَءُوهُ، فَإِنَّ مَثَلَ الْقُرْآنِ لِمَنْ تَعَلَّمَهُ فَقَرَأَهُ وَقَامَ بِهِ کَمَثَلِ جِرَابٍ مَحْشُوٍّ مِسْکًا يَفُوحُ رِيْحُهُ فِي کُلِّ مَکَانٍ، وَمَثَلُ مَنْ تَعَلَّمَهُ فَيَرْقُدُ وَهُوَ فِي جَوفِهِ کَمَثَلِ جِرَابٍ وُکِيئَ عَلَی مِسْکٍ. رواه الترمذي والنسائي وابن ماجة وابن خزيمة وابن حبان. وقال أبو عيسی: هذا حديث حسن.
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت سے افراد پر مشتمل ایک لشکر بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں قرآن پڑھنے کا حکم فرمایا تو جسے جو کچھ یاد تھا اس نے پڑھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان میں سے عمر کے لحاظ سے سب سے چھوٹے شخص کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے فلاں! تجھے کچھ یاد ہے؟ اس نے عرض کیا: مجھے فلاں فلاں سورۃ اور سورۃ البقرہ یاد ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سن کر (خوشی سے) فرمایا: کیا تجھے سورۃ البقرہ یاد ہے؟ عرض کیا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جا تو ان (سب لشکریوں) کا امیر ہے۔ اس پر ان کے معززین میں سے ایک شخص بولا: اﷲ کی قسم! یا رسول اللہ! میں نے تو صرف اس لئے سورۃ البقرہ نہیں سیکھی کہ میں (اس کی طوالت کی وجہ سے) اسے نماز میں نہیں پڑھ سکتا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن سیکھو اور اسے پڑھتے رہا کرو، اس لئے کہ جو قرآن سیکھے پھر اسے پڑھے، اس کی مثال اس تھیلے کی طرح ہے جس میں مُشک بھرا ہوا ہو اور اس کی خوشبو جگہ جگہ پھیل رہی ہو؛ اور جس نے قرآن پڑھنا سیکھا اور سینے میں لئے سورہا (کبھی تلاوت نہ کی) اس کی مثال اس تھیلے کی سی ہے جس میں مُشک بھر کر اس کا منہ سی دیا گیا ہو۔“

119. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ أَبِيْهِ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِصلی الله عليه وآله وسلم: مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَتَعَلَّمَهُ وَعَمِلَ بِهِ أُلْبِسَ يَومَ الْقِيَامَةِ تَاجًا مِنْ نُوْرٍ ضَوْؤُهُ مِثْلُ ضَوْءِ الشَّمْسِ، وَيُکْسَی وَالِدَيْهِ حُلَّتَانِ لَايُقَوَّمُ بِهِمَا الدُّنْيَا. فَيَقُولَانِ: بِمَ کُسِيْنَا هَذَا؟ فَيُقَالُ: بِأَخْذِ وَلَدِکُمَا الْقُرْآنَ. رواه الحاکم. وقال: هذا حديث صحيح علی شرط مسلم.
”حضرت عبد اﷲ بن بریدہ اَسلمی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے قرآن پڑھا، اس کا علم حاصل کیا اور اس پر عمل پیرا ہوا اسے قیامت کے دن نور کا ایک تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی سورج کی روشنی کی طرح ہوگی۔ اور اس کے والدین کو دو ایسے حلّے (لباس) پہنائے جائیں گے کہ ساری دنیا بھی ان کی قیمت کے برابر نہ ہوگی۔ تو وہ عرض کریں گے: ہمیں یہ لباس کس وجہ سے پہنایا گیا ہے؟ تو انہیں جواب دیا جائے گا: اس لئے کہ تمہارے بیٹے نے قرآن پڑھا اور اس پر عمل کیا تھا۔“

120. عَنْ أَبِي ذَرٍّ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ لِي رَسُوْلُ اﷲِصلی الله عليه وآله وسلم: يَا أَبَا ذَرٍّ! لَأَنْ تَغْدُوَ فَتَعَلَّمَ آيَةً مِنْ کِتَابِ اﷲِ، خَيْرٌ لَکَ مِنْ أَنْ تُصَلِّي مِائَةَ رَکْعَةٍ. وَلَأَنْ تَغْدُوَ فَتَعَلَّمَ بَابًا مِنَ الْعِلْمِ، عُمِلَ بِهِ أَوْ لَمْ يُعْمَلْ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ تُصَلِّي أَلْفَ رَکْعَةٍ. رواه ابن ماجة بإسناد حسن.
”حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرمایا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے ابوذر! بیشک تم صبح کو جا کر اﷲ تعالیٰ کی کتاب کی ایک آیت سیکھ لو تو یہ تمہارے لئے سو رکعات نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔ اور اگر علم کا ایک باب سیکھ لو، اس باب پر عمل ہو رہا ہو یا نہ ہو رہا ہو (یہ الگ بات ہے)، تو بھی یہ تمہارے لئے ایک ہزار رکعات (نفل) نماز سے بہتر ہے۔“

121. عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَيْبٍ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: سَمِعَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رضي الله عنه ضَجَّةَ نَاسٍ فِي الْمَسْجِدِ، يَقْرَءُوْنَ الْقُرْآنَ وَ يُقْرِءُوْنَ، فَقَالَ: طُوبَی لِهَؤُلاَءِ، هَؤُلاَءِ کَانُوا أَحَبَّ النَّاسِ إِلَی رَسُولِ اﷲِصلی الله عليه وآله وسلم. رواه الطبراني.
”حضرت عاصم بن کلیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مسجد میں لوگوں کے قرآن پڑھنے اور پڑھانے کی آوازیں سنیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: انہیں مبارک ہو، یہ وہ لوگ ہے جو سب سے زیادہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسند تھے۔“

122. عَنْ سَعْدٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِصلی الله عليه وآله وسلم: خِيَارُکُمُ مَنْ تَعْلَّمَ الْقُرآنَ وَعَلَّمَهُ. قَالَ: وَأَخَذَ بِيَدِي فَأَقْعَدَنِي مَقْعَدِي هَذَا أُقْرِءُ. رواه ابن ماجة وأحمد والدارمي وابن أبي شيبة.
”حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو قرآن مجید سیکھیں اور سکھائیں۔ عاصم کہتے ہیں: مصعب نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے (اعلیٰ) مقام پر بٹھایا اور فرمایا: یہ سب سے بڑے قاری ہیں۔“

123. عَنْ عَبْدِ اﷲِ رضي الله عنه کَانَ يَقُولُ: إِنَّ هَذَا الْقُرآنَ مَأْدُبَةُ اﷲِ، فَمَنْ دَخَلَ فِيْهِ فَهُوَ آمِنٌ. رواه الدارمي وابن المبارک.
وفي رواية عنه قال: هَذَا الْقُرْآنُ مَأْدُبَةُ اﷲِ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَنْ يَتَعَلَّمَ مِنْهُ شَيْئًا فَلْيَفْعَلْ. رواه الطبراني بأسانيد، ورجال هذا الطريق رجال الصحيح.
”حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرمایا کرتے تھے کہ بیشک یہ قرآن اللہ تعالیٰ کا دسترخوان ہے، پس جو اس دسترخوان میں شامل ہوگیا اسے امن نصیب ہوگیا۔
”اور ایک دوسری روایت میں آپ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے، آپ نے فرمایا: یہ قرآن اللہ تبارک و تعالیٰ کا دسترخوان ہے پس تم میں سے جو شخص اس سے سیکھنے کی استطاعت رکھتا ہے اسے چاہیئے کہ وہ اس سے ضرور سیکھے۔“

124. عَنْ کَعْبٍ رضي الله عنه، قَالَ: عَلَيْکُمْ بِالْقُرْآنِ، فَإِنَّهُ فَهْمُ الْعَقْلِ وَنُورُ الْحِکْمَةِ وَيَنَابِيْعُ الْعِلْمِ وَأَحَدَثُ الْکُتُبِ بِالرَّحْمَنِ عَهْدًا. رواه الدارمي.
وفي رواية: عَنْ مُغِيْثِ بْنِ سَمِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِصلی الله عليه وآله وسلم: فِيْهَا نُورُ الْحِکْمَةِ وَيَنَابِيْعُ الْعِلْمِ، لِتَفْتَحَ بِهَا أَعْيُنًا عُمْيًا، وَقُلُوبًا غُلْفًا وآذَانًا صُمًّا، وَهِي أَحْدَثُ الْکُتُبِ بِالرَّحْمَنِ. رواه ابن أبي شيبة.
”حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، آپ نے فرمایا: قرآن کو لازم پکڑو، سو بیشک یہ عقل کے لئے فہم (سوجھ بوجھ) ہے اور نورِ حکمت ہے اور (اس میں) علم کے سرچشمے ہیں اور یہ کتاب عہد کے اعتبار سے سب کتب سے نئی ہے۔
”اور ایک روایت میں حضرت مغیث بن سمی سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس (کتاب قرآن مجید) میں نورِ حکمت اور علم کے سر چشمے ہیں تاکہ یہ کتاب اس (نورِ حکمت کے سرچشموں) کی بدولت اندھی آنکھوں اور بند دلوں کو کھولے۔“

125. عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رضى الله عنه أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ: إِقْرَءُوا الْقُرْآنَ وَلاَ يَغُرَّنَّکُمْ هَذِهِ الْمَصَاحِفُ الْمُعَلَّقَةُ، فَإِنَّ اﷲَ لَنْ يُعَذِّبَ قَلْبًا وَعَی الْقُرْآنَ. رواه الدارمي.
”حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے: اس قرآن کو پڑھا کرو اور یہ (قرآن کے علاوہ دوسرے) لٹکے ہوئے مصاحف (یعنی تحریف شدہ اور تبدیل شدہ آسمانی کتب کے نسخے) تمہیں کسی دھوکہ میں نہ رکھیں۔ پس بے شک اللہ تعالیٰ اس دل کو ہرگز عذاب نہیں دے گا جس نے قرآن (اچھی طرح) سمجھا (اور پھر اس پر عمل کیا)۔“

126. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِصلی الله عليه وآله وسلم: مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ فِي شَبِيْبَتِهِ اخْتَلَطَ الْقُرْآنُ بِلَحْمِهِ وَدَمِهِ وَمَنْ تَعَلَّمَهُ فِي کِبَرِهِ فَهُوَ يَتَفَلَّتُ مِنْهُ وَلاَ يَتْرُکُهُ فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ. رواه البيهقي.
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنی جوانی میں قرآن سیکھتا ہے تو قرآن اس کے گوشت اور خون میں شامل ہو جاتا ہے، اور جو شخص اس کو بڑی (یعنی پختہ) عمر میں سیکھتا ہے جبکہ وہ قرآن (اس کے ذہن سے بڑھاپے کی وجہ) سے نکل جاتا ہے، لیکن وہ شخص اسے چھوڑتا نہیں، تو اس کے لئے دوگنا اجر ہے۔“


حواشی

الحديث رقم 116: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: فضائل القرآن، باب: خيرکم من تعلم القرآن وعلمه، 4 / 1919، الرقم: 4739، 4741، والترمذي في السنن، کتاب: فضائل القرآن عن رسول اﷲ صلى الله عليه وآله وسلم، باب: ماجاء في تعليم القرآن، 5 / 173-175، الرقم: 2907-2909، وقال أبو عيسي: هذا حديث حسن صحيح، وأبوداود في السنن، کتاب: الصلاة، باب: في ثواب قراءة القرآن، 2 / 70، الرقم: 1452، والنسائي في السنن الکبرى، 5 / 19، الرقم: 8036-8037، وابن ماجة في السنن، المقدمة، باب: فضل من تعلم القرآن وعلمه، 1 / 76-77، الرقم: 211، 212.

الحديث رقم 117: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: الذکر والدعاء والتوبة والإستغفار، باب: فضل الإجتماع على تلاوة القرآن وعلى الذکر، 4 / 2074W، الرقم: 2699، وأبوداود في السنن، کتاب: الصلاة، باب: في ثواب قراءة القرآن، 2 / 71، الرقم: 1455، وابن ماجة في السنن، کتاب: المقدمة، باب: فضل العلماء والحث على طلب العلم، 1 / 82، الرقم: 225، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 252، الرقم: 7421، 9623، والدارمي في السنن، 1 / 113، الرقم: 356، والطبراني في المعجم الأوسط، 4 / 126، الرقم: 3780، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 262، الرقم: 1695.

الحديث رقم 118: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: فضائل القرآن عن رسول اﷲ صلى الله عليه وآله وسلم، باب: ما جاء في فضل سورة البقرة وآية الکرسي، 5 / 156، الرقم: 2876، والنسائي في السنن الکبرى، 5 / 227، الرقم: 8749، وابن ماجة في السنن، المقدمة، باب: فضل من تعلم القرآن وعلمه، 1 / 78، الرقم: 217، وابن خزيمة في الصحيح، 3 / 5، الرقم: 1509، وابن حبان في الصحيح، 5 / 499، الرقم: 2126، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 229، الرقم: 2203.

الحديث رقم 119: أخرجه الحاکم في المستدرک، 1 / 756، الرقم: 2086، والمنذري في الترغيب والترهيب، 2 / 231، الرقم: 2211.

الحديث رقم 120: أخرجه ابن ماجة في السنن، المقدمة، باب: فضل من تعلم القرآن وعلمه، 1 / 79، الرقم: 219، والديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 5 / 338، الرقم: 8362، والمنذري في الترغيب والترهيب، 1 / 54، الرقم: 116، 2 / 232، الرقم: 2214، والکتاني في مصباح الزجاجة، 1 / 29، الرقم: 78.

الحديث رقم 121: أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 7 / 214، الرقم: 7308، والهيثمي في مجمع الزوائد، 7 / 166، وقال: رواه البزار، والنووي في التبيان، 1 / 107.

الحديث رقم 122: أخرجه ابن ماجة في السنن، المقدمة، باب: من تعلم القرآن وعلمه، 1 / 77، الرقم: 213، وأحمد بن حنبل عن علي رضی الله عنه في المسند، 1 / 153، الرقم: 1317، والدارمي في السنن، 2 / 529، الرقم: 3339، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 132، الرقم: 30071-30072، وابن کثير الدورقي في مسند سعد، 1 / 104، الرقم: 50، وأبويعلى في المسند، 2 / 136، الرقم: 814.

الحديث رقم 123: أخرجه الدارمي في السنن، 2 / 525، الرقم: 3322، وابن المبارک في الزهد، 1 / 272، الرقم: 787، والطبراني في المعجم الکبير، 9 / 129، الرقم: 8642، وعبدالرزاق في المصنف، 3 / 368، الرقم: 5998، وابن منصور في السنن، 1 / 43، الرقم: 7، والهيثمي في مجمع الزوائد، 7 / 164.

الحديث رقم 124: أخرجه الدارمي في السنن، 2 / 525، الرقم: 3327، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 318، الرقم: 31738.

الحديث رقم 125: أخرجه الدارمي في السنن، 2 / 524، الرقم: 3319.

الحديث رقم 126: أخرجه البيهقي في شعب الإيمان، 2 / 330، 553، الرقم: 1952، 2696، وفي السنن الصغرى، 1 / 543، الرقم: 989، وفي المدخل إلي السنن الکبرى، 1 / 373-374، الرقم: 637-638، والعجلوني في کشف الخفاء، 2 / 86.

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved