امہات المومنین رضی اللہ عنہن کے فضائل و مناقب

ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے مناقب کا بیان

3. فَصْلٌ فِي مَنَاقِب أُمِّ الْمُؤْمِنِيْنَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ رضی الله عنها
(اُمّ المؤمنین حضرت حفصہ رضی الله عنہا کے مناقب کا بیان)

47. عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: کُنْتُ أَنَا وَ حَفْصَةُ صَائِمَتَيْنِ فَعُرِضَ لَنَا طَعَامٌ اشْتَهَيْنَاهُ فَأَکَلْنَا مِنْهُ فَجَاءَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فَبَدَرَتْنِي إِلٰیهِ حَفْصَةُ وَ کَانَتْ ابْنَةُ أَبِيْهَا فَقَالَتْ: يَا رَسُوْلُ اللهِ، إِنَّا کُنَّا صَائِمَتَيْنِ فَعُرِضَ لَنَا طَعَامٌ اشْتَهَيْنَاهُ فَأَکَلْنَا مِنْهُ. قَالَ: اقْضِيَا يَوْمًا آخَرَ مَکَانَهُ. رَوَاهُ التِرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ.

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں اور حفصہ روزے سے تھیں کہ ہمارے سامنے کھانا پیش کیا گیا جس کی ہمیں طلب بھی تھی ہم نے اس سے کھا لیا اتنے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے، حضرت حفصہ گفتگو میں مجھ سے سبقت لے گئیں اور (ایسا کیوں نہ ہوتا) وہ اپنے باپ کی بیٹی تھیں (یعنی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی طرح جری تھیں) کہنے لگیں: یا رسول الله! ہم دونوں نے روزہ رکھا ہوا تھا پھر ہمارے پاس کھانا آیا جس کی ہمیں تمنا تھی تو ہم نے اس سے کھا لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی دوسرے دن اس کی قضاء کر لینا۔‘‘ اس حدیث کو امام ترمذی اور امام نسائی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 47: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب: الصوم، باب: ما جاء في إيجاب القضاء عليه، 3 / 112، الرقم: 735، والنسائي في السنن الکبري، 2 / 247، الرقم: 3291، و أحمد بن حنبل في المسند، 6 / 263، الرقم: 26310، و أبويعلي في المسند، 8 / 101، الرقم: 4639، و ابن راهويه في المسند، 2 / 353، الرقم: 885.

48. عَنْ قَيْسِ بْنِ زَيْدٍ: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ طَلَّقَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا خَالَاهَا قُدَّامَةُ وَ عُثْمَانُ ابْنَا مَظْعُوْنٍ فَبَکَثْ وَ قَالَتْ: وَاللهِ، مَا طَلَّقَنِي عَنْ شِبَعٍ وَ جَاءَ النَّبِيُّ ﷺ، فَقَالَ: قَالَ لِي جِبْرِيْلُ عليه السلام: رَاجِعْ حَفْصَةَ فَإِنَّهَا صَوَّامَةٌ قَوَّامَةٌ وَ إِنَّهَا زَوْجَتُکَ فِي الْجَنَّةِ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ.

’’حضرت قیس بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حفصہ بنت عمر رضی الله عنہما کو طلاق دی، پس آپ کے ماموں قدامہ اور عثمان جو کہ مظعون کے بیٹے ہیں آپ کو ملنے آئے تو آپ رو پڑیں اور کہا: خدا کی قسم! حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے غصہ اور غضب کی وجہ سے طلاق نہیں دی، اسی دوران حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ادھر تشریف لائے اور فرمایا: جبریل علیہ السلام نے مجھے کہا ہے: ’’آپ حفصہ کی طرف رجوع کر لیں۔ بے شک وہ بہت زیادہ روزے رکھنے اور قیام کرنے والی ہیں اور بے شک وہ جنت میں بھی آپ کی اہلیہ ہیں۔‘‘ اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 48: أخرجه الحاکم في المستدرک، 4 / 16، الرقم: 6753، والطبراني في المعجم الکبير، 18 / 365، الرقم: 934، و أبونعيم في حلية الأولياء، 2 / 50، و ابن سعد في الطبقات الکبري، 8: 84، والعسقلاني في الإصابة، 5 / 559، الرقم: 7356، والحارث في المسند (زوائد الهيثمي)، 2 / 914، الرقم: 1000.

49. عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَال النَّبِيُّ ﷺ: يَا حَفْصَةُ، أَتَانِي جِبْرِيْلُ آنِفًا فَقَالَ: فَإِنَّهَا صَوَّامَةٌ قَوَّامَةٌ وَ هِيَ زَوْجَتُکَ فِي الْجَنَّةِ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے حفصہ! ابھی ابھی جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے تھے اور مجھے کہا: بے شک وہ (حضرت حفصہ) بہت زیادہ روزے دار اور قیام کرنے والی ہیں اور وہ جنت میں بھی آپ کی اہلیہ ہیں۔‘‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے المعجم الاوسط میں روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 49: أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 1 / 55، الرقم: 151، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 7 / 94، الرقم: 2507، والهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 244.

Copyrights © 2021 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved