امہات المومنین رضی اللہ عنہن کے فضائل و مناقب

ام المؤمنین حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے مناقب کا بیان

9. فَصْلٌ فِي مَنَاقِبِ أُمِّ الْمُؤْمِنِيْنَ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رضی الله عنها

(اُمّ المؤمنین حضرت جویریہ رضی الله عنہا کے مناقب کا بیان)

65. عَنْ جُوَيْرِيَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا بُکْرَةً حِيْنَ صَلَّي الصُّبْحَ وَهِيَ فِي مَسْجِدِهَا، ثُمَّ رَجَعَ بَعْدَ أَنْ أَضْحَي وَهِيَ جَالِسَةٌ. فَقَالَ: مَا زِلْتِ عَلٰى الْحَالِ الَّتِي فَارَقْتُکِ عَلَيْهَا؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: لَقَدْ قُلْتُ بَعْدَکِ أَرْبَعَ کَلِمَاتٍ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، لَوْ وُزِنَتْ بِمَا قُلْتِ مُنْذُ الْيَوْمِ لَوَزَنَتْهُنَّ: سُبْحَانَ اللهِ وَ بِحَمْدِهِ، عَدَدَ خَلْقِهِ، وَ رِضَا نَفْسِهِ، وَ زِنَةَ عَرْشِهِ، وَ مِدَادَ کَلِمَاتِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمْ وَابْنُ مَاجَةَ وَالنَّسَائِيُّ.

’’حضرت جویریہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر پڑھنے کے بعد علی الصبح ہی ان کے پاس سے چلے گئے اور وہ اس وقت اپنی نماز کی جگہ میں بیٹھی تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دن چڑھے تشریف لائے اور وہ وہیں بیٹھی تھیں. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس وقت سے میں تم کو چھوڑ کر گیا ہوں تم اسی طرح بیٹھی ہو، حضرت جویریہ نے عرض کیا: جی ہاں! حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہارے بعد چار ایسے کلمات تین بار کہے ہیں کہ جو کچھ تم نے صبح سے اب تک پڑھا ہے اگر اس کا ان کلمات کے ساتھ وزن کرو تو ان کلمات کا وزن زیادہ ہو گا: وہ کلمات یہ ہیں: (سُبْحَانَ اللهِ وَ بِحَمْدِهِ، عَدَدَ خَلْقِهِ، وَ رِضَا نَفْسِهِ، وَ زِنَةَ عَرْشِهِ، وَ مِدَادَ کَلِمَاتِهِ) ’’اللہ کی حمد اور تسبیح ہے، اس کی مخلوق کے عدد اور اس کی رضا اور اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی روشنائی کے برابر۔‘‘ اس حدیث کو امام مسلم، ابن ماجہ اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 65: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: الذکر و الدعاء و التوبة و الاستغفار، باب: التسبيح أول النهار و عند النوم، 4 / 2090، الرقم: 2726، و ابن ماجة في السنن، کتاب: الأدب، باب: فضل التسبيح، 2 / 1251، الرقم: 3808، و النسائي في السنن الکبري، 6 / 48، الرقم: 9989، و ابن حبان في الصحيح، 3 / 110، الرقم: 828.

66. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَانَتْ جُوَيْرِيَةُ اسْمُهَا بَرَّةُ، فَحَوَّلَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ اسْمَهَا جُوَيْرِيَةَ، وَ کَانَ يَکْرَهُ أَنْ يُقَالَ: خَرَجَ مِنْ عِنْدِ بَرَّةَ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

’’حضرت عبدالله بن عباس رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ جویریہ کا نام پہلے برّہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام تبدیل کر کے جویریہ رکھ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو ناپسند فرماتے تھے کہ یہ کہا جائے کہ فلاں شخص برّہ (نیکی) کے پاس سے نکل گیا۔‘‘ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 66: أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب: الآداب، باب: استحباب تغيير الاسم القبيح إلي حسن، 3 / 1687، الرقم: 2140، و أحمد بن حنبل في المسند، 1 / 316، الرقم: 2902، و البيهقي في شعب الإيمان، 1 / 424، الرقم: 604.

Copyrights © 2021 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved