حضور نبی اکرم ﷺ کا پیکر جمال

آپ ﷺ کا حسین قد و قامت

2. وَصْفُ حُسْنِ قَامَتِهِ ﷺ ﴿آپ ﷺ کا حسین قد و قامت﴾

حکایت از قدِ یار آں دل نواز می کنیم
مگر ایں بہانہ عمرِ خود دراز می کنیم

حضور نبی اکرم ﷺ قد کے لحاظ سے نہ زیادہ دراز اور طویل تھے اور نہ ہی پست قد اور قصیر بلکہ معتدل اور میانہ قامت تھے۔ جب آپ ﷺ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جھرمٹ میں چلتے تو اُن میں سب سے نمایاں نظر آتے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ قد و قامت کے لحاظ سے تمام لوگوں سے زیادہ حسین تھے۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ ﷺ کی قامت مبارک کا تذکرہ کرتے تو ایمانی و روحانی، ظاہری و باطنی، ذہنی اور قلبی سطح پر ایک سرشاری کی کیفیت سے لطف اندوز ہوتے۔ آج بھی آپ ﷺ کی قامتِ رعنا کا جب ذکر پڑھا، سنا یا کیا جاتا ہے تو محسوسات کے گلشن میں ایک خوشبوئے نایاب مہکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔اس کیفیت کا اظہار حافظ شیرازیؒ نے اس شعر میں کیا تھا:

تو و طوبیٰ و ما و قامت یار
فکر ہر کس بہ قدر ہمت اوست

10. عَنِ الْبَرَاءِ رضی اللہ عنہ، يَقُوْلُ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ لَيْسَ بِالطَّوِيْلِ الْبَائِنِ، وَلَا بِالْقَصِيْرِ([10]).

حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نہ تو زیادہ دراز قد تھے اور نہ ہی پست قامت تھے (یعنی میانہ قد تھے)۔

11. عَنْ عَلِيٍّ علیہ السلام، قَالَ: لَمْ يَكُنْ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ بِالطَّوِيْلِ، وَلَا بِالْقَصِيْرِ([11])، وَكَانَ رَبْعَةً مِنَ الْقَوْمِ([12]).

حضرت علی علیہ السلام کے الفاظ یہ ہیں: رسول اللہ ﷺ قد کے لحاظ سے نہ زیادہ دراز اور طویل تھے، اور نہ ہی پست قداور قصیر تھے۔ بلکہ آپ ﷺ سب سے زیادہ معتدل قامت تھے۔

12. قَالَ عَلِيٌّ رضی اللہ عنہ : كَانَ لَيْسَ بِالذَّاهِبِ طُوْلًا، وَفَوْقَ الرَّبْعَةِ، إِذَا جَاءَ مَعَ الْقَوْمِ غَمَرَهُمْ([13]).

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ آپ ﷺ زیادہ دراز قد بھی نہ تھے نہ ہی کوتاہ قد، بلکہ آپ ﷺ میانہ قامت تھے اور جب بھی آپ ﷺ کچھ لوگوں کے ہمراہ (یا اُن کے درمیان) چلتے تو اُن سب میں نمایاں نظرآتے تھے۔

13. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ، إِنَّ نَبِيَّ اللهِ ﷺ كَانَ مَا مَشَى مَعَ أَحَدٍ إِلَّا طَالَهُ([14]).

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ اپنے ہمراہ چلنے والے (کسی بھی شخص) سے ہمیشہ بلند قامت نظر آتے تھے۔

14. عَنْ أَنَسٍ رضی اللہ عنہ، قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ أَحْسَنَ النَّاسِ قَوَامًا([15]).

حضرت انس رضی اللہ عنہ (حضور ﷺ کے قدِ زیبا اور قامتِ رعنا کے بارے میں) بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ قد و قامت کے لحاظ سے تمام انسانوں سے زیادہ (شکیل و جمیل اور) حسین تھے۔


حوالہ جات


([10]) أخرجه البخاري في الصحيح، كتاب المناقب، باب صفة النبي ﷺ، 3/1303، الرقم/3356، ومسلم في الصحيح، كتاب الفضائل، باب في صفة النبي ﷺ وأنه أحسن الناس وجهًا، 4/1819، الرقم/2337، وابن حبان في الصحيح، 14/196، الرقم/6285.

([11]) أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 1/96، 127، الرقم/746، 1053، والترمذي في السنن، كتاب المناقب، باب ما جاء في صفة النبي ﷺ، 5/598، الرقم/3637، وأبو يعلى في المسند، 1/304، الرقم/370، والطىالسي في المسند، 1/24، الرقم/171، والحاكم في المستدرك، 2/662، الرقم/4194، والبخاري في التاريخ الكبير، 1/8، والبيهقي في شعب الإيمان، 2/149، الرقم/1414.

([12]) أخرجه الترمذي في السنن، كتاب المناقب، باب ما جاء في صفة النبي ﷺ، 5/599، الرقم/3638، وأيضًا في الشمائل المحمدية /32، الرقم/7، وابن أبي شيبة في المصنف، 6/328، الرقم/31805، والبيهقي في شعب الإيمان، 2/149، الرقم/1415، وابن سعد في الطبقات الكبرى، 1/411.

([13]) أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 1/151، الرقم/1299، وابن سعد في الطبقات الكبرى، 1/411-412، وابن عساكر في تاريخ مدينة دمشق، 3/260، والنمىري في أخبار المدينة، 1/319، الرقم/967، وذكره الهيثمي في مجمع الزوائد، 8/272.

([14]) أخرجه الطبراني في مسند الشامىىن، 4/59، الرقم/2727، وابن عساكر في تاريخ مدينة دمشق، 3/272، وذكره السيوطي في الخصائص الكبرى، 1/116، والحلبي في السيرة الحلبىة، 3/434.

([15]) أخرجه ابن عساكر في تاريخ مدينة دمشق، 3/278.

Copyrights © 2024 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved