حضور نبی اکرم ﷺ کا پیکر جمال

حضور ﷺ کے مبارک ہاتھ، ہتھیلیاں اور انگلیاں

20. وَصْفُ يَدَيْهِ وَكَفَّيْهِ وَأَصَابِعِهِ ﴿حضور ﷺ کے مبارک ہاتھ، ہتھیلیاں اور اُنگلیاں﴾

آپ ﷺ اقلیمِ خوبی و محبوبی۔ ۔۔ کشورِ حسن و جمال۔ ۔۔ اور۔ ۔۔ ریاستِ رعنائی و زیبائی کے بلاشرکت غیرے و احد فرماں روائے ابدی و سرمدی تھے۔ آپ ﷺ کی دل کش اور حسین و جمیل اُنگلیوں کی طوالت توازن و اعتدال کے سانچے میں ڈھلی ہوئی تھی۔انگلیوں کی ہر پور نو تراشیدہ چاندی کی ڈلی کی مانند دمکتی تھی۔ آپ ﷺ کی ہتھیلیاں گل ہاے نو شگفتہ کی پنکھڑیوں کی طرح نرم و نازک تھیں۔ ان کی لطافت و نفاست اطلسی و حریری تھی۔ آپ ﷺ کے ہاتھوں کے ایک ایک مسام سے مشک و عنبر کے سوتے پھوٹتے۔ جس وجود کو بھی آپ ﷺ کے دستِ مبارک کا لمس چھو جاتا وہ معنبر و معطر اور مشک افشاں ہوجاتا۔ یہ دستِ مبارک دستِ کرم بھی تھا اور دستِ جود و سخا بھی۔ آپ ﷺ جب کسی بھی صحابی سے مصافحہ فرماتے تو اس کے ہاتھ دن بھرخوشبوؤں کی لپٹوں کے ہالے میں رہتے۔ جس بھی بچے کے سر پر آپ ﷺ اپنا دستِ اقدس و شفقت پھیر دیتے، وہ خوشبو میں تمام بچوں میں ممتاز ہوجاتا۔ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ کے ساتھ نماز ظہر ادا کی، پھر آپ ﷺ اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئے اور وہ بھی آپ ﷺ کے ساتھ ہی نکلے۔ آپ ﷺ کو دیکھ کر چھوٹے چھوٹے بچے وفورِ محبت میں بے تابانہ آپ ﷺ کی طرف لپکے تو آپ ﷺ نے ان میں سے ہر ایک کے رخسار پر اپنا دستِ رحمت پھیرنا شروع کیا۔ جب حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سامنے آئے تو ان کے رخسار کوبھی آپ ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے چھوا اور تھپتھپایا۔ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے گالوں پر آپ ﷺ کے دستِ مبارک کی ٹھنڈک محسوس کی اور ایسی خوشبو آئی کہ گویا آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ کسی عطر فروش کی صندوقچی میں سے نکالا ہے۔آپ ﷺ کی انگشتانِ مبارک مناسب و موزوں لمبی اور چاندی کی ڈلیوں کی طرح خوبصورت تھیں اور ہتھیلیاں فراخ اور ریشم سے بھی زیادہ نرم تھیں۔

127. عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ رضی اللہ عنہ، قَالَ: وَقَامَ النَّاسُ فَجَعَلُوْا يَأْخُذُوْنَ يَدَيْهِ، فَيَمْسَحُوْنَ بِهِمَا وُجُوْهَهُمْ، قَالَ: فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ، فَوَضَعْتُهَا عَلَى وَجْهِي، فَإِذَا هِيَ أَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ وَأَطْيَبُ رَائِحَةً مِنَ الْمِسْكِ([136]).

حضرت ابو جُحیفہ رضی اللہ عنہ (ایک واقعہ کے ضمن میں) بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کھڑے ہوگئے اور آپ ﷺ کا دستِ اقدس (اپنے ہاتھوں ميں) پکڑ کر اپنے اپنے چہروں پر (تبرّکاً) ملنے اور پھیرنے لگے۔ میں نے بھی آپ ﷺ کا دستِ اقدس (اپنے ہاتھوں میں) پکڑ کر اپنے چہرے پر پھیرا۔ آپ ﷺ کا دستِ اَطہر برف سے زیادہ ٹھنڈا اور کستوری سے کہیں زیادہ خوشبودارتھا۔

128. عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رضی اللہ عنہ، قَالَ: ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِي، ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ عَلَى وَجْهِي وَبَطْنِي. ثُمَّ قَالَ: اَللَّهُمَّ، اشْفِ سَعْدًا، وَأَتْمِمْ لَهُ هِجْرَتَهُ. فَمَا زِلْتُ أَجِدُ بَرْدَهُ عَلَى كَبِدِي فِيْمَا يُخَالُ إِلَيَّ حَتَّى السَّاعَةِ([137]).

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے میری پیشانی پر اپنا دستِ مبارک رکھا، پھر اپنا دستِ اقدس میرے چہرے اور سینے پر پھیرا۔ اُس کے بعد یوں دعا کی: اے اللہ! سعد کو شفا عطا فرما اور اِس کی ہجرت کو پایہ تکمیل تک پہنچا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ اُس وقت سے اب تک جب بھی مجھے اس لمحہ کا خیال آتا ہے تو حضور نبی اکرم ﷺ کے دستِ اقدس کی ٹھنڈک میں اپنے قلب و جگر کے اندر محسوس کرتا ہوں۔

129. عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رضی اللہ عنہ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ صَلَاةَ الْأُوْلَى، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى أَهْلِهِ وَخَرَجْتُ مَعَهُ، فَاسْتَقْبَلَهُ وِلْدَانٌ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ خَدَّيْ أَحَدِهِمْ وَاحِدًا وَاحِدًا، قَالَ: وَأَمَّا أَنَا فَمَسَحَ خَدِّي، قَالَ: فَوَجَدْتُ لِيَدِهِ بَرْدًا أَوْ رِيْحًا كَأَنَّمَا أَخْرَجَهَا مِنْ جُؤْنَةِ عَطَّارٍ([138]).

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نمازِ ظہر ادا کی، پھر آپ ﷺ اپنے دولت کدے کی طرف تشریف لے گئے۔ میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ ساتھ چلتا گیا، سامنے سے کچھ بچے آئے، آپ ﷺ نے اُن میں سے ہر ایک کے رخسار پر ہاتھ پھیرا اور میرے رخسار پر بھی ہاتھ پھیرا۔ میں نے آپ ﷺ کے دستِ اقدس کی ٹھنڈک اور خوشبو ایسے محسوس کی جیسے آپ ﷺ نے اُسے ابھی عطار کے ڈبے سے نکالا ہو۔

130. عَنْ عَاتِكَةَ بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رضی اللہ عنہما، قَالَتْ: ... كَأَنَّ أَصَابِعَهُ قُضْبَانُ الْفِضَّةِ. كَفُّهُ أَلْيَنُ مِنَ الْحَرِيْرِ. وَكَانَ كَفُّهُ كَفَّ عَطَّارٍ طِيْبًا، مَسَّتْهَا بِطِيْبٍ أَوْ لَمْ تَمَسَّهَا. فَصَافَحَهُ الْمُصَافِحُ، فَيَظَلُّ يَوْمَهُ يَجِدُ رِيْحَهَا، وَيَضَعُهَا عَلَى رَأْسِ الصَّبِيِّ، فَيُعْرَفُ مِنْ بَيْنِ الصِّبْيَانِ مِنْ رِيْحِهَا عَلَى رَأْسِهِ([139]).

حضرت عاتکہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی انگشتان مبارک ایسے تھیں جیسے چاندی کی (تراشی ہوئی تابندہ) ڈلیاں ہوں، جب کہ آپ ﷺ کی ہتھیلی مبارک ریشم سے بھی زیادہ نرم اور ملائمیت کی حامل تھی۔ آپ ﷺ کے مبارک ہاتھ عطار کے ہاتھوں کی طرح عطر افشان اور عطر ریز رہتے، خواہ خوشبو لگائی ہو یا نہ لگائی ہو۔ آپ ﷺ سے مصافحہ کرنے والا ہر شخص سارا دن اپنے ہاتھوں میں خوشبو پاتا تھا۔ آپ ﷺ (جب کسی) بچے کے سر پر دستِ شفقت پھیر دیتے تو وہ اپنے سر میں آپ ﷺ کے ہاتھوں کی خوشبو کے باعث دوسرے بچوں میں نمایاں پہچانا جاتا تھا۔

131. عَنْ أَنَسٍ رضی اللہ عنہ، قَالَ: وَلَا مَسِسْتُ خَزَّةً وَلَا حَرِيْرَةً أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُوْلِ اللهِﷺ ([140]).

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے کسی دیباج یا ریشم کو بھی حضور نبی اکرم ﷺ کی مبارک ہتھیلیوں سے زیادہ نرم و گداز اور ملائم نہیں پایا۔

132. عَنْ شَدَّادٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ، فَإِذَا هِيَ أَلْيَنُ مِنَ الْحَرِيْرِ، وَأَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ([141]).

حضرت شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور (وفورِ عقیدت اور فرطِ ارادت سے) آپ ﷺ کا دستِ اقدس اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔ آپ ﷺ کا دستِ اقدس ریشم سے زیادہ نرم اور برف سے زیادہ ٹھنڈا تھا۔

133. عَنْ أَنَسٍ رضی اللہ عنہ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ ضَخْمَ الْيَدَيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ، ... وَكَانَ ﷺ بَسِطَ الْكَفَّيْنِ([142]).

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے دونوں ہاتھ اور دونوں قدم مبارک گوشت سے پُر تھے اور آپ ﷺ کی ہتھیلیاں کشادہ تھیں۔

134. عَنْ عَائِشَةَ رضی اللہ عنہا، قَالَتْ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ سَائِلَ الْأَطْرَافِ، كَأَنَّ أَصَابِعَهُ قُضْبَانُ فِضَّةٍ([143]).

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی انگشتانِ مبارک لمبی اور خوبصورت تھیں، یوں محسوس ہوتا جیسے وہ (انگلیاں نہیں بلکہ) چاندی کی (نرم و نازک) شاخیں ہیں۔

135. عَنْ هِنْدِ بْنِ أَبِي هَالَةَ رضی اللہ عنہ، قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ رَحْبَ الرَّاحَةِ([144]).

حضرت ہند بن ابی ہالہ تمیمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی مبارک ہتھیلیاں فراخ تھیں۔

136. وَعَنْهُ رضی اللہ عنہ، قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ سَائِلَ الْأَطْرَافِ([145]).

آپ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی انگشتانِ مبارک موزوں تناسب کے ساتھ لمبی تھیں۔


حوالہ جات


([136]) أخرجه البخاري في الصحيح، كتاب المناقب، باب صفة النبي ﷺ، 3/1304، الرقم/3360، وأحمد بن حنبل في المسند، 4/309، الرقم/18789، والدارمي في السنن، كتاب الصلاة، باب إعادة الصلوات في الجماعة بعد ما صلى في بىته، 1/366، الرقم/1367، وابن خزىمة في الصحيح، 3/67، الرقم/1638، والطبراني في المعجم الكبير، 22/115، الرقم/294.

([137]) أخرجه البخاري في الصحيح، كتاب المرضى، باب وضع الىد على المرىض، 5/2142، الرقم/5335، وأيضًا في الأدب المفرد/176، الرقم/499، وأحمد بن حنبل في المسند، 1/171، الرقم/1474، والنسائي في السنن الكبرى، 4/67، الرقم/6318، والبزار في المسند، 4/42، الرقم/1204، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 3/212، الرقم/1013.

([138]) أخرجه مسلم في الصحيح، كتاب الفضائل، باب طىب رائحة النبي ﷺ ولىن مسه والتبرك بمسحه، 4/1814، الرقم/2329، وابن أبي شيبة في المصنف، 6/323، الرقم/31765، والطبراني في المعجم الكبير، 2/228، الرقم/1944، والخطيب البغدادي في تاريخ بغداد، 9/253، وذكره العسقلاني في فتح الباري، 6/573.

([139]) أخرجه البيهقي في دلائل النبوة، 1/305، وابن عساكر في تاريخ مدينة دمشق، 3/362.

([140]) أخرجه البخاري في الصحيح، كتاب الصوم، باب ما ىذكر من صوم النبي وإفطاره ﷺ، 2/696، الرقم/1872، وابن عساكر في تاريخ مدينة دمشق، 3/278.

([141]) أخرجه الطبراني في المعجم الكبير، 7/272، الرقم/7110، وأيضًا في المعجم الأوسط، 9/97، الرقم/9237، وذكره الهيثمي في مجمع الزوائد، 8/282، والعسقلاني في الإصابة، 3/323، الرقم/3859، والصالحي في سبل الهدى والرشاد، 2/74.

([142]) أخرجه البخاري في الصحيح، كتاب اللباس، باب الجعد، 5/2212، الرقم/5567، والقاضي عىاض في مشارق الأنوار/101.

([143]) أخرجه البيهقي في دلائل النبوة، 1/305، وذكره السيوطي في الجامع الصغير، 1/40، والمناوي في فىض القدىر، 5/78.

([144]) أخرجه الترمذي في الشمائل المحمدية/37، الرقم/8، وابن حبان في الثقات، 2/146، والطبراني في المعجم الكبير، 22/155-156، الرقم/414، والبيهقي في شعب الإيمان، 2/154-155، الرقم/1430، وابن سعد في الطبقات الكبرى، 1/422.

([145]) أخرجه الترمذي في الشمائل المحمدية/37، الرقم/8، والطبراني في المعجم الكبير، 22/156، الرقم/414، والبيهقي في شعب الإيمان، 2/155، الرقم/1430، وابن سعد في الطبقات الكبرى، 1/422، وابن عساكر في تاريخ مدينة دمشق، 3/339، 344، 348، وذكره الهيثمي في مجمع الزوائد، 8/273.

Copyrights © 2024 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved