Book on Oneness of Allah (vol. II)

فصل 1 :تصورِ شفاعت

شفاعت اَمرِ حق اور نورِ توحید ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت پر عظیم انعام ہے۔ شفاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طفیل عذابِ جہنم کے مستحق خطا کار و گنہگار بخشش و مغفرت کا پروانہ حاصل کر کے جنت کے حق دار ٹھہریں گے۔ قرآن و حدیث کی نصوصِ قطعیہ سے ثابت ہے کہ روزِ قیامت انبیاء علیہم السلام اور صالحین شفاعت فرمائیں گے جبکہ شفاعتِ کبریٰ کے منصبِ جلیلہ پر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فائز ہوں گے، جسے قرآن حکیم نے مقامِ محمود سے تعبیر کیا ہے۔ یہ منصب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مہتم بالشان اعزازات و کرامات، بلند مرتبہ فضائل و خصائص اور نمایاں امتیازات میں سے ایک ہے۔

شفاعت کا لغوی معنی

امام راغب اصفہانیؒ نے شفاعت کا مفہوم بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:

الشَّفَاعَۃُ الانْضِمَامُ إِلی آخَرَ نَاصِرًا لَهُ وَسَائِـلًا عَنْهُ.

راغب، المفردات فی غریب القرآن: 263

’’کسی ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ اس طرح ملا لینا کہ دوسری چیز اس کی مدد کر ے اور پہلی اس سے سوال کرے یہی شفاعت ہے۔‘‘

شفاعت میں مطلقاً ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ ملانے کا مفہوم پایا جاتا ہے، لفظِ شفاعت میں ہی شفیع کا سائل کی مدد و نصرت کرنے اور سائل کا شفیع سے سوال و التجا کا مفہوم بھی موجود ہے۔

امام راغب اصفہانیؒ اس کی تصریح ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:

وَأَکْثَرُمَا یُسْتَعْمَلُ فِی انْضِمَامِ مَنْ ھُوَ أَعْلَی حُرْمَۃً وَمَرْتَبَۃً إِلَی مَنْ ھُوْ أَدنَی.

راغب، المفردات فی غریب القران: 263

’’لفظِ شفاعت کو عام طور پر مرتبہ و مقام میں بلند درجہ شخص کو اس سے کم درجہ شخص کے ساتھ ملانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔‘‘

پس لفظِ شفاعت دونوں کو آپس میں اس طرح ملا دیتا ہے کہ کم حیثیت والا زیادہ حیثیت والے سے التجا و سوال کرنے والا اور زیادہ حیثیت والا کم حیثیت والے کی مدد کرنے والا بن جاتا ہے۔

تصورِ شُفْعہ

یہاں یہ چیز قابلِ ذکر ہے کہ لفظِ ’’شُفْعہ‘‘ بھی ’’شَفْعٌ‘‘ سے نکلا ہے۔ اس کا مفہوم کچھ یوں ہے:

الشُّفْعَۃُ: ھُوَ طَلَبُ مَبِیْعٍ فِی شَرْکَتِہِ بِمَا بِیْعَ بِہِ لِیَضُمَّهُ إلَی مِلْکِہِ وَھُوَ مِنَ الشَّفْعِ.

راغب، المفردات فی غریب القرآن: 263

’’شفعہ سے مراد فروخت شدہ چیز کو اپنی شرکت کی بنا پر طلب کرنا ہے تاکہ وہ اس کی مِلک میں شامل ہو جائے اور یہ لفظ شَفْعٌ سے نکلا ہے۔‘‘

پس معلوم ہوا کہ شفعہ میں بھی شفاعت اور شفع کی طرح باہمی شراکت اور ملانے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔

شفاعت کا حقیقی تصور

شفاعت کا بنیادی تصور یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں کو یہ اعزاز اور مقام عطا فرمایا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اذن سے خطاکار بندوں کی شفاعت کریں گے، اور وہ ذاتِ کریم اپنے بے پایاں فضل سے گنہگار بندوں کے حق میں اپنے خاص بندوں کی شفاعت قبول فرمائے گا۔ شفاعتِ کبریٰ کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ روزِ محشر حساب و کتاب جلدی شروع فرمائے گا اور اسے آسان کر دے گا اور اس طرح شفاعت کے باعث ہی گنہگار بندوں کی بخشش و مغفرت فرما کر ان کو اپنی رضا اور جنت عطا فرمائے گا۔

شرائطِ شفاعت

قیامت کے روز شفاعت کے نفع بخش ہونے کے لئے مندرجہ ذیل چار شرائط کا پایا جانا ضروری ہے:

1۔ قدرۃ الشافع علی الشفاعۃ: آخرت میں شفاعت کی قبولیت اور اس کی نفع بخشی کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ شفاعت کرنے والا شفاعت پر قدرت رکھتا ہو یعنی اگر کسی کو شفاعت کرنے کا اختیار ہی نہیں تو صاف ظاہر ہے وہ شفاعت نہیں کرسکے گا۔

2۔ اسلام المشفوع لہ: شفاعت کی قبولیت کی ایک شرط یہ ہے کہ جس کے حق میں شفاعت کی جا رہی ہے وہ مسلمان ہو۔ قرآن حکیم میں جہاں کہیں بھی شفاعت کی نفی کی گئی ہے اس سے مراد یہی ہے کہ کفار و مشرکین کے لئے کوئی شفاعت کرنے والا نہیں ہے، کسی ایک جگہ بھی اہلِ ایمان کے لئے شفاعت کی نفی نہیں ہوئی۔

3۔ الإذن للشافع: شفاعت کی قبولیت کے لئے تیسری شرط یہ ہے کہ شفاعت کرنے والے کو شفاعت کرنے کا اذن مل چکا ہو یعنی وہ ماذون ہو تبھی اس کی شفاعت بارگاہِ ایزدی میں مقبول ہو گی اس پر قرآن حکیم کی بہت سی آیات دلالت کرتی ہیں۔

4۔ الرضا عن المشفوع لہ: قبولیتِ شفاعت کی چوتھی شرط یہ ہے کہ شفاعت کرنے والا جس شخص کی شفاعت کرنا چاہتا ہے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ بھی راضی ہو۔ اگر اللہ تعالیٰ کسی شخص کے بارے میں راضی ہی نہیں کہ اس کی شفاعت کی جائے تو یہ ظاہر و باہر ہے کہ اس سے متعلق شفاعت کی قبولیت ناممکن ہوگی کیونکہ شفاعت کرنے والے کو شفاعت کا اختیار بھی اللہ تعالیٰ کی عطا سے ہے۔ اس پر بھی قرآن حکیم کی متعدد آیات دلالت کرتی ہیں کہ شفاعت اسی کے حق میں مقبول ہوگی جس پر اللہ تعالیٰ راضی ہوگا۔

شفاعت کا شرعی ثبوت

اللہ تعالیٰ کے اذن سے شفاعت قرآن کی متعدد نصوصِ قطعیہ سے ثابت ہے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ شفاعت کے باب میں اذن پر تو بحث ہی نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر تو پتہ بھی نہیں ہل سکتا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗ اِلاَّ بِاِذْنِہٖ.

البقرۃ، 2: 255

’’کون ایسا شخص ہے جو اس کے حضور اس کے اِذن کے بغیر سفارش کر سکے۔‘‘

امام خازن اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

والمعنی لا یشفع عنده أحد إلا بأمره وإرادته، و ذالک لأن المشرکین زعموا أن الأصنام تشفع لھم فأخبر أنه لا شفاعة لأحد عنده إلا ما استثناه بقوله إلا بإذنه، یرید بذالک شفاعة النبی صلی الله علیه وآله وسلم وشفاعة بعض الأنبیاء والملائکة وشفاعة المؤمنین بعضھم لبعضٍ.

خازن، لباب التأویل فی معانی التنزیل، 1: 201

’’آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں بغیر اُس کے امر اور ارادہ کے کوئی شفاعت نہیں کر سکے گا۔ یہ اس لئے کہ مشرکین کا گمان تھا کہ بت ان کی شفاعت کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں کسی کی شفاعت نہیں سوائے ان کے جن کو اللہ تعالیٰ نے (اِلَّا بِاِذْنِـہٖ) کے ساتھ مستثنیٰ کر دیا ہے، اس سے مراد حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، بعض انبیاء کرام علیہم السلام، ملائکہ اور مقرب مومنین (اولیاء اللہ) کی دوسرے مومنین کی شفاعت ہے۔‘‘

لہٰذا اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے محبوب پیغمبر سیدنا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روزِ قیامت شفاعتِ عظمیٰ کے منصبِ جلیلہ پر فائز فرمائے گا۔ یہ انعامِ عظیم امتِ مرحومہ پر ضرور ہوگا جبکہ کفار و مشرکین اس سے محروم رہیں گے۔

سفارش کو شفاعت پر قیاس کرنا درست نہیں

بعض لوگ دنیاوی معاشرے میں سفارش کا تصور ذہن میں رکھ کر شفاعت کی نفی کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حضور کسی کی سفارش نہیں چلتی۔ جہالت کی بنیاد پر یہ لوگ دراصل دین کو بدنام کر رہے ہیں۔ عام سادہ لوح مسلمان جس کو دین کا فہم نہیں اس کے ذہن میں صرف یہ بات بٹھائی جاتی ہے کہ سفارش ایک ایسا ناپسندیدہ عمل ہے جو کرپشن کی بنیاد پر استحقاق اور میرٹ کی دھجیاں بکھیر دیتا ہے۔ یاد رہے کہ سوچنے کا یہ پیمانہ دنیا میں تو رائج ہے لیکن اخروی زندگی میں کام نہیں آتا۔ سفارش کا یہ غلط تصور دراصل ہمارے ماحول کی پیداوار ہے۔ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ دنیا میں اپنے اثر و رسوخ کی وجہ سے نااہل لوگ اعلیٰ منصب پر فائز ہو جاتے ہیں جبکہ اصل مستحقین سفارش نہ ہونے کی وجہ سے رہ جاتے ہیں۔ نالائق اور کم نمبر حاصل کرنے والے طلباء سفارش کی وجہ سے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخلے کے مستحق قرار پاتے ہیں جبکہ میرٹ پر پورا اترنے والے طلبا سفارش نہ ہونے کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم کے حصول سے بھی محروم رہ جاتے ہیں۔ شعور اور علم و آگہی کے فقدان کی وجہ سے یہ نادان اور بے شعور لوگ قرآن میں مذکور شفاعت کو اسی دنیوی زاویے سے دیکھتے ہیں۔

سفارش کے ماحول میں پلنے بڑھنے والے جب یہ دیکھتے ہیں کہ سارا نظام ناجائز سفارش کے گرد چل رہا ہے تو ’سفارش‘ کا لفظ انہیں ’گالی‘ لگتا ہے۔ ان کی نظر میں سفارش کرنا اور کروانا تو کرپٹ لوگوں کا کام ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں جو نظام ہے اس میں سفارش کا کوئی عمل دخل نہیں۔ جب بعض لوگوں نے یہ بات کہہ دی کہ’’ اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی سفارش نہیں اور یہ صرف ہمارے ہاں چلتی ہے۔‘‘ سننے والے کویہ بات پسند آگئی اور قرآن کا حوالہ دے کر اس بات کی تائید بھی کر دی گئی اس طرح جہالت کی بنا پر انکارِ شفاعت کا ایک غلط عقیدہ بن گیا، جہالت کی بنیاد پر ایسے لوگ دراصل دین کو بدنام کر رہے ہیں، وہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ جن آیات کا سفارش اور شفاعت کے باب میں حوالہ دیا جاتا ہے وہ کفار و مشرکین کے لئے ہیں۔ اہلِ ایمان کے لئے ہیں ہی نہیں۔ قرآن میں شفاعت کا وہ تصور نہیں جو بعض سادہ لوح مسلمان اپنے دل میں بٹھائے ہوئے ہیں۔ اگر اس بات کو علماء دلائل کے ساتھ سمجھا دیں تو پھر اس طرح کا مغالطہ پیدا ہونے کا امکان باقی نہیں رہے گا۔

شفاعت کا تین نکاتی ضابطہ

عالم آخرت میں سفارش و شفاعت کے حوالے سے تین نکاتی قرآنی ضابطہ اس غلط فہمی کا ازالہ کر دیتا ہے۔

1۔ قرآن حکیم میں جہاں کہیں سفارش اور شفاعت کی نفی آئی ہے وہ کفار و مشرکین اور مجرم لوگوں کے لئے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

وَاَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِا لْقُلُوْبُ لَدَی الْحَنَاجِرِ کٰظِمِیْنَ ط مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّلَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُo

المؤمن، 40: 18

’’اور آپ ان کو قریب آنے والی آفت کے دن سے ڈرائیں جب ضبطِ غم سے کلیجے منہ کو آئیں گے۔ ظالموں کے لئے نہ کوئی مہربان دوست ہو گا اور نہ کوئی سفارشی جس کی بات مانی جائے۔‘‘

فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَۃُ الشّٰفِعِیْنَo

المدثر، 74: 48

’’سو (اب) شفاعت کرنے والوں کی شفاعت انہیں (یعنی مجرموں کو) کوئی نفع نہیں پہنچائے گی۔‘‘

2۔ کفار و مشرکین جن بتوں اور معبودانِ باطلہ کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ وہ ان کی سفارش کریں گے وہ تو خود دوزخ کا ایندھن ہوں گے۔ قرآن حکیم میں ان بتوں کی سفارش کی نفی کی گئی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللهِ مَا لَا یَضُرُّھُمْ وَ لَا یَنْفَعُھُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ ھٰٓؤُلآءِ شُفَعآئُنَا عِنْدَ اللهِ ط قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللهَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ ط سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَo

یونس، 10: 18

’’اور (مشرکین) اللہ کے سوا ان (بتوں) کو پوجتے ہیں جو نہ انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ انہیں نفع پہنچا سکتے ہیں اور (اپنی باطل پوجا کے جواز میں) کہتے ہیں کہ یہ (بت) اللہ کے حضور ہمارے سفارشی ہیں، فرما دیجئے: کیا تم اللہ کو اس (شفاعتِ اصنام کے من گھڑت) مفروضہ سے آگاہ کر رہے ہو جس (کے وجود) کو وہ نہ آسمانوں میں جانتا ہے اور نہ زمین میں (یعنی اس کی بارگاہ میں کسی بت کا سفارش کرنا اس کے علم میں نہیں ہے) اس کی ذات پاک ہے اور وہ ان سب چیزوں سے بلند و بالا ہے جنہیں یہ (اس کا) شریک گردانتے ہیں۔‘‘

مشرکینِ مکہ بتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اسلام میں شفاعت حق ہے لہٰذا اپنے اس مشرکانہ فعل کے جواز کے لئے یہ دلیل پیش کرتے کہ ھٰٓؤُلآئِ شُفَعآئُنَا عِنْدَاللهِ (یہ بت اللہ کے پاس ہماری سفارش کرنے والے ہیں)۔ اللہ رب العزت نے کفار و مشرکین کے اس باطل عقیدے کی نفی فرمائی اور شرک کے جواز کے لئے شفاعت جیسے جائز امر شرعی کو بطور دلیل رد فرما دیا۔

3۔ اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر شفاعت کا کوئی تصور نہیں، اُس کے اذن کے بغیر نہ شفاعت کسی کو فائدہ دے گی اور نہ ہی کسی کو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر سفارش کی جرأت ہوگی۔ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اذنِ الٰہی کے بغیر نہ کوئی شفاعت کر سکے گا اور نہ ہی کسی کو شفاعت کا حق حاصل ہو گا۔ اذنِ شفاعت سے ان لوگوں کو مستثنیٰ کیا گیا ہے جو کافر، مشرک اور ظالم ہیں۔ اس استثناء سے ثابت ہے کہ انبیائ، اولیاء اور صالحین کو شفاعت کا حق دیا جائے گا اور انہیں شفاعت کرنے کی اجازت ہو گی۔ یہی احباب ماذون الشفاعۃ ہیں جن کو شفاعت کا اذن دیا گیا ہے اور جن کی شفاعت بارگاہِ الٰہی میں قبول بھی ہوگی۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

یَوْمَئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ اِلَّامَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَرَضِیَ لَہٗ قَوْلًاo

طٰہٰ، 20: 109

’’اس دن سفارش سود مند نہ ہوگی سوائے اس شخص (کی سفارش) کے جسے (خدائے) رحمن نے اذن (و اجازت) دے دی ہے اور جس کی بات سے وہ راضی ہوگیا ہے (جیسا کہ انبیاء و مرسلین، اولیائ، متقین، معصوم بچوں اور دیگر کئی بندوں کا شفاعت کرنا ثابت ہے)۔‘‘

درج بالا تفصیل سے معلوم ہوا کہ سوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ تعالیٰ نے اذن دیا ہو کوئی شخص بھی سفارش اور شفاعت نہیں کر سکتا۔ اس کی سادہ سی مثال یوں ہے جیسے کہا جائے ’’کوئی کرکٹ میچ نہیں دیکھ سکتا سوائے ٹکٹ ہولڈرز کے‘‘ یہ استثناء کی ایک واضح مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے استثناء کی شق کلمۂ توحید میں بھی اپنی ذات کے لئے رکھی ہے باقی چیزوں کا تو ذکر ہی درکنار۔ اس نے تو اپنی توحید، الوہیت اور معبودیت کو بھی استثناء (exemption) کے پردے میں رکھا ہے۔ جب ہم کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں تو آغاز ہی میں معبود کی نفی کرتے ہیں: لَا اِلٰـہَ بظاہر اس کا لفظی ترجمہ تو یہ ہے کہ کوئی معبود نہیں، اب اگر کوئی بدبخت معاذ اللہ انہی الفاظ کو بار بار دہرا کر گمراہ ہو جائے کہ دیکھو کلمہ طیبہ کے الفاظ ہیں کہ کوئی معبود نہیں تو کوئی بھی صاحبِ ایمان شخص ہرگز اس کی بات کو تسلیم نہیں کرے گا کیونکہ اس کلمہ طیبہ کا تقاضا یہ ہے کہ پورے کلمہ کو دہرائے اور اس کے مکمل سیاق و سباق پر اپنے ایمان کی بنیاد رکھے اور اس پر عقیدہ کو پختہ کرے لہٰذا جب کلمہ استثناء اِلَّا لگ جائے تو پھر عقیدہ صحیحہ کی خود بخود وضاحت ہو جاتی ہے کہ لَا اِلٰـہَ کا صحیح مطلب یہ ہے کہ کوئی معبودِ برحق نہیں اِلَّا اللہ سوائے اللہ تعالیٰ کے، یوں التباس رفع ہوجاتا ہے۔ اسی طرح قرآن مجید میں شفاعت کی مطلقاً نفی نہیں بلکہ شفاعت کا اثبات و وجوب اس کے استثناء کی شق کے ساتھ موجود ہے۔

بدقسمتی سے دین کا پرچار کرنے والے بعض لوگوں کے فہم دین کا یہ عالم ہے کہ ایک سادہ سی بات کو بھی الجھا دیتے ہیں۔ اپنے آپ کو ان آیات تک محدود کر لیتے ہیں جن میں شفاعت کی نفی ہے۔ وہ یہ جاننے کی زحمت ہی نہیں کرتے کہ یہ نفئ شفاعت دراصل اصنام، طواغیت، معبودانِ باطلہ اور کفار و مشرکین کے لئے ہے۔ وہ ایسا کرتے ہوئے ان درجنوں آیات کو بھول جاتے ہیں جو شفاعت کی تصدیق کرتی ہیں اور جن میں شفاعت کا جواز و اثبات بھی ہے۔

عقیدۂ شفاعت ایسا مسلمہ عقیدہ ہے جس پر پوری امت کا اجماع ہے۔ قرآن و حدیث کی رو سے انبیاء، اولیاء، ماہِ رمضان، قرآن، نیک اعمال اور چھوٹے بچے سب ماذون الشفاعۃ ہیں۔ اس طرح نمازِجنازہ میں بھی شفاعت کی دعا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ نمازِ جنازہ میں سوائے فوت شدہ معصوم بچوں کے، ہر ایک کے لئے مغفرت کی دعا کی جاتی ہے، کیونکہ ان معصوم بچوں کو دعا میں شفاعت کا وسیلہ بنایا جاتا ہے۔ دعا کے الفاظ ہیں:

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْهُ لَنَا شَافِعًا وَمُشَفَّعًا.

’’اے اللہ! اس بچے کو ہمارے حق میں شفاعت کرنے والا اور شفاعت قبول کیا جانے والا بنا دے۔‘‘

جو شفاعت کا انکار کرتے ہیں وہ بھی جنازوں میں بچوں کے لئے یہی دعا پڑھتے ہیں جو اِلَّا بِاِذْنِہِ کی استثنائی شق (exceptional clause) میں سکھلائی گئی ہے۔

اِذنِ شفاعت اور اِذنِ کلام کی ایک تمثیل سے وضاحت

بعض لوگوں کی طرف سے یہ اعتراض وارد کیا جاتا ہے کہ یومِ قیامت عین موقع پر اذنِ شفاعت دیا جائے گا، اس سے قبل یہ حق کسی کو نہیں دیا گیا اور اگر اس سے پہلے حقِ شفاعت مانا جائے تو یہ شرک ہے۔ یہ اعتراض بالکل لغو، باطل اور بے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شرک جزوی ہو یا کلی، ایک لمحے کے لئے ہو یا عمر بھر کے لئے، اس دنیا میں ہو یا قیامت کے دن، تمام صورتوں میں کبھی بھی جائز نہیں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی امر اس دنیا میں تاقیامت شرک رہے اور اخروی زندگی میں جب اس پر جزا و سزا کا وقت آئے تو جائز ہو جائے۔ امرِ شفاعت کفار و مشرکین کے لئے ممنوع ہے، ان کے حق میں کسی کی شفاعت بارگاہِ خداوندی میں قبول نہیں کی جائے گی جبکہ اہلِ ایمان وہ چاہے کتنے گناہگار ہوں ان کے حق میں شفاعت مقبول ہوگی۔ اس عقیدے کو کوئی شرک پر محمول نہیں کر سکتا۔ روزِ قیامت اذنِ کلام بارگاہِ الٰہی اور آدابِ شفاعت کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف اللہ تعالیٰ کے خاص مقبول بندوں کو حاصل ہو گا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

لَا یَتَکَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ.

النباء، 78: 38

’’(جس دن) کوئی لب کشائی نہ کرسکے گا، سوائے اس شخص کے جسے (خدائے) رحمان نے اذن (شفاعت) دے رکھا تھا۔‘‘

اِذنِ کلام کی یہ مثال کمرئہ عدالت کے وکلاء کی سی ہے کہ صرف انہیں جج کے سامنے پیش ہوکربولنے کی اجازت ہوتی ہے۔ باری آنے پر جج اُن وکلاء سے کہتا ہے کہ اب بولیں۔ جج کی اجازت کے بغیر کوئی وکیل عدالت میں اپنے موکل کا موقف بیان نہیں کر سکتا لیکن اختیار و اجازت تفویض ہو چکا ہوتا ہے۔

قُلْ لِلّٰہِ الشَّفاعَۃُ جَمِیْعًا سے غلط اِستدلال کی تردید

بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ شفاعت صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے کسی اور کے لئے جائز نہیں بطورِ دلیل معترضین اس ارشادِ باری تعالیٰ کا حوالہ دیتے ہیں:

قُلْ لِّلّٰہِ الشَّفَاعَۃُ جَمِیْعاً ط لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَo

الزمر، 39: 44

’’فرما دیجئے: سب شفاعت (کا اِذن) اللہ ہی کے اختیار میں ہے ( جو اس نے اپنے مقرّبین کے لئے مخصوص کر رکھا ہے)، آسمانوں اور زمین کی سلطنت بھی اسی کی ہے، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘

معترضین آیت کا مفہوم سمجھنے میں ٹھوکر کھا گئے اور اس کا صحیح مفہوم سمجھنے سے قاصر رہے۔ آیتِ مبارکہ سے مراد یہ ہے کہ کفار و مشرکین جسے چاہیں شفیع نہیں بنا سکتے بلکہ شفاعت کا مالکِ حقیقی اللہ تعالیٰ ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اذنِ شفاعت عطا فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے اذنِ شفاعت سے محروم کر دیتا ہے کوئی اپنی مرضی سے کسی کو شفیع نہیں بنا سکتا۔

طلبِ شفاعت پر علامہ ابنِ تیمیہ کا موقف

عصرِ حاضر میں مسئلہ شفاعت کو متنازعہ فیہ بنانے والوں اور شفاعت کے منکرین کی اکثریت علامہ ابنِ تیمیہ کو فقہ و عقائد میں اپنا امام مانتی ہے۔ حالاں کہ ابنِ تیمیہ شفاعت کے باب میں جمہور علماء کے مؤقف پر قائم ہیں اور شفاعت بالاذن کے قائل ہیں۔

انہوں نے اپنی تصنیف ’’اقتضاء الصراط المستقیم‘‘ میں طلبِ شفاعت کے حوالے سے تین گروہوں کا ذکر کیا ہے۔ ایک انتہا پسند گروہ، دوسرا منکرِ شفاعت اور تیسرا معتدل۔ ان کے نزدیک پہلا گروہ مشرکین، اہلِ کتاب اور اس امت کے اہلِ بدعت کا ہے جو ایسی شفاعت کے بھی قائل ہیں جس کی قرآن میں ممانعت ہے۔ دوسرا نتہا پسند گروہ جنہوں نے جائز شفاعت کا بھی انکار کیا جیسے خوارج اور معتزلہ وغیرہ، وہ لکھتے ہیں:

و الخوارج و المعتزلة أنکروا شفاعة نبینا صلی الله علیه وآله وسلم فی أھل الکبائر من أمته بل أنکر طائفة من أھل البدع انتفاع الإنسان بشفاعة غیره و دعائه کما أنکروا انتفاعه بصدقة غیره و صیامه عنه.

’’خوارج اور معتزلہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت کا انکار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے ان لوگوں کے بارے میں بھی کیا ہے جو کبائر کے مرتکب ہوئے۔ یہی نہیں بلکہ بدعتیوں کے ایک گروہ نے ایک انسان کا دوسرے انسان کی شفاعت اور اس کی دعا سے فائدہ اٹھانے کا بھی انکار کر دیا جیسا کہ انہوں نے کسی غیر کے صدقہ و خیرات اور دوسرے کی طرف سے اس کے لئے روزہ رکھنے کے ثواب کا بھی انکار کیا ہے۔‘‘

شیخ ابنِ تیمیہ مزید لکھتے ہیں کہ ایسے لوگوں کا استدلال یہ آیات ہیں:

1۔ یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰـکُمْ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْہِ وَلَا خُلَّۃٌ وَّلَا شَفَاعَۃٌ ط وَالْکٰفِرُوْنَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَo

البقرۃ، 2: 254

’’اے ایمان والو! جو کچھ ہم نے تمہیں عطا کیا ہے اس میں سے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرو قبل اس کے کہ وہ دن آ جائے جس میں نہ کوئی خرید و فروخت ہو گی اور (کافروں کے لئے) نہ کوئی دوستی (کارآمد) ہو گی اور نہ (کوئی) سفارش، اور یہ کفار ہی ظالم ہیں۔‘‘

2۔ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّلَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُo

المؤمن، 40: 18

’’ظالموں کے لئے نہ کوئی مہربان دوست ہو گا اور نہ کوئی سفارشی جس کی بات مانی جائے۔‘‘

معتدلین کے گروہ کے حوالے سے وہ اپنا موقف یوں بیان کرتے ہیں:

أما سلف الأمة و أئمتها و من تبعھم من أھل السنة و الجماعة: فأثبتوا ما جاء ت به السنة عن النبي صلی الله علیه وآله وسلم من شفاعته لأهل الکبائر من أمته وغیر ذلک من أنواع شفاعاته و شفاعة غیره من الأنبیاء و الملائکة.

’’اسلافِ امت، ائمہ کرام اور ان کی پیروی کرنے والے اہل سنت و جماعت کے احباب نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیثِ مبارکہ سے ثابت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ دیگر انبیاء اور ملائکہ کی شفاعت امت کے کبیرہ گناہ کرنے والے اور دوسرے لوگوں کے لئے حق ہے۔‘‘

مزید برآں عقیدۂ شفاعت کی وضاحت میں وہ لکھتے ہیں کہ ائمہ اسلاف نے تو کہا اہلِ توحید میں سے کوئی بھی ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا اور انہوں نے سنت سے ثابت شدہ اس امر کی تصدیق کی ہے کہ کسی غیر کی دعا، شفاعت، صدقہ حتی کہ علماء کے صحیح ترین قول کے مطابق کسی غیر کی طرف سے روزے کا فائدہ بھی دوسرے انسان کو پہنچتا ہے۔

ابن تیمیة، اقتضاء الصراط المستقیم،1: 443، 444

Copyrights © 2021 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved