Book on Oneness of Allah (vol. II)

فصل 2 :قرآن کی روشنی میں شفاعتِ رسول ﷺ

روزِ قیامت شفاعتِ کبریٰ کے منصبِ جلیلہ پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فائز ہوں گے اور یہ شرف صرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ گرامی کے ساتھ خاص ہے۔ اس کا بیان اس آیتِ کریمہ میں ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

عَسٰٓی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًاo

بنی اسرائیل، 17: 79

’’یقینا آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گا‘‘

مقامِ محمود وہ بلند و بالا مقام ہے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شفاعت فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی جملہ مخلوق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف میں رطب اللسان ہوگی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف رجوع کرے گی، یہی وہ رفیع الشان مقام ہوگا جہاں شانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پورا پورا ظہور ہوگا اور خود خالق ِکائنات بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف بیان فرمائے گا۔ (اللھم! ارزقنا شفاعۃ النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوم القیامۃ)۔ آمین۔

مقامِ محمود، مقامِ شفاعت ہے

قرآن حکیم میں بیان کردہ مقامِ محمود سے مراد مقامِ شفاعت ہی ہے۔ اس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیثِ مبارکہ اور مفسرین کرام کی بہت ساری تصریحات شاہد عادل ہیں۔ ذیل میں ہم ائمہ حدیث اور تفسیر کی بیان کردہ احادیث و تفاسیر میں سے کچھ نصوص درج کر رہے ہیں:

1۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرماتے ہیں:

إِنَّ النَّاسَ یَصِیْرُونَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ جُثًا، کُلُّ أُمَّۃٍ تَتْبَعُ نَبِیَّھَا یَقُوْلُونَ: یَافُـلَانُ! اشْفَعْ، یَا فُـلَانُ! اشْفَعْ، حَتَّی تَنْتَھِیَ الشَّفَاعَةُ إِلَی النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم فَذَالِکَ یَوْمَ یَبْعَثُهُ اللهُ الْمَقَامَ الْمَحْمُوْدَ.

  1. بخاري، الصحیح، کتاب التفسیر، باب قولہ: عسی أن یبعثک ربک مقاما محمودا، 4: 1748، رقم: 4441
  2. نسائی، السنن الکبری، 6: 381، رقم: 11295
  3. ابن مندہ، الإیمان، 2: 871، رقم: 927

’’قیامت کے روز لوگ گروہ در گروہ اپنے اپنے نبی کے پیچھے چلیں گے اور عرض کریں گے: اے فلاں! ہماری شفاعت فرمائیے، اے فلاں! ہماری شفاعت فرمائیے حتی کہ طلبِ شفاعت کا سلسلہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آکر ختم ہو جائے گا۔ یہی وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گا۔‘‘

2۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ہی ایک اور روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

مَا یَزَالُ الرَّجُلُ یَسْأَلُ النَّاسَ حَتَّی یَأْتِیَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ لَیْسَ فِی وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ. وَقَالَ: إِنَّ الشَّمْسَ تَدْنُوْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ حَتَّی یَبْلُغَ الْعَرَقُ نِصْفَ الْأُذُنِ، فَبَیْنَاهُمْ کَذٰلِکَ اسْتَغَاثُوْا بِآدَمَ، ثُمَّ بِمُوْسَی، ثُمَّ بِمُحَمَّدٍ صلی الله علیه وآله وسلم ۔ وَ زَادَ عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ: حَدَّثَنِي اللَّیْثُ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي جَعْفَرٍ: فَیَشْفَعُ لِیُقْضَی بَیْنَ الْخَلْقِ، فَیَمْشِی حَتَّی یَأْخُذَ بِحَلَقَةِ الْبَابِ فَیَوْمَئِذٍ یَبْعَثُهُ اللهُ مَقَامًا مَحْمُوْدًا، یَحْمَدُهُ أَهْلُ الْجَمْعِ کُلُّهُمْ.

  1. بخاري، الصحیح، کتاب الزکاۃ، باب من سأل الناس تکثرًا، 2: 536، رقم: 1405
  2. بیہقی، شعب الإیمان، 3: 269، رقم: 3509
  3. دیلمی، الفردوس بمأثور الخطاب، 2: 377، رقم: 3677
  4. طبری، جامع البیان في تفسیر القرآن، 15: 146
  5. ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، 3: 56

’’کوئی شخص لوگوں سے مانگتا رہتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرہ پر گوشت کا کوئی ٹکڑا تک نہ ہو گا، فرمایا: بے شک سورج قیامت کے دن قریب ہوگا حتی کہ پسینہ نصف کان تک پہنچ جائے گا۔ پس وہ (لوگ) اس حال میں حضرت آدمں سے مدد طلب کریں گے، پھر حضرت موسیٰں سے، پھر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جائیں گے۔ عبداللہ بن جعفر نے اتنا حصہ زیادہ بیان کیا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا ان سے ابنِ ابی جعفر نے بیان کیا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شفاعت کریں گے تاکہ مخلوق کے درمیان فیصلہ کیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جائیں گے حتی کہ جنت کے دروازے کا کنڈا پکڑ لیں گے۔ یہ وہ دن ہو گا جب اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گا۔‘‘

3۔ معروف تابعی حضرت یزید بن صہیب جو ’یزید الفقیر‘ کے نام سے معروف ہیں، نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مقامِ محمود والی حدیث کو روایت کیا ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں:

کُنْتُ قَدْ شَغَفَنِي رَأْيٌ مِنْ رَأْيِ الْخَوَارِجِ، فَخَرَجْنَا فِي عِصَابَۃٍ ذَوِي عَدَدٍ نُرِیْدُ أَنْ نَحُجَّ، ثُمَّ نَخْرُجَ عَلَی النَّاسِ۔ قَالَ: فَمَرَرْنَا عَلَی الْمَدِیْنَةِ، فَإِذَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ یُحَدِّثُ الْقَوْمَ، جَالِسٌ إِلَی سَارِیَۃٍ، عَنْ رَسُوْلِ اللهِ صلی الله علیه وآله وسلم ۔ قَالَ: فَإِذَا هُوَ قَدْ ذَکَرَ الْجَهَنَّمِیِّیْنَ،قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: یَا صَاحِبَ رَسُوْلِ اللهِ! مَا هَذَا الَّذِی تُحَدِّثُونَ؟ وَاللهُ یَقُوْلُ: {إِنَّکَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَیْتَهُ} وَ {کُلَّمَآ أَرَادُوْا أَنْ یَخْرُجُوْا مِنْهَآ أُعِیْدُوْا فِیْهَا} فَمَا هَذَا الَّذِي تَقُوْلُوْنَ؟ قَالَ: أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ! قَالَ: فَهَلْ سَمِعْتَ بِمَقَامِ مُحَمَّدٍ صلی الله علیه وآله وسلم (یَعْنِی الَّذِي یَبْعَثُهُ اللهُ فِیْهِ)؟ قُلْتُ: نَعَمْ! قَالَ: فَإِنَّهُ مَقَامُ مُحَمَّدٍ صلی الله علیه وآله وسلم الْمَحْمُوْدُ الَّذِي یُخْرِجُ اللهُ بِهِ مَنْ یُخْرِجُ، قَالَ: ثُمَّ نَعَتَ وَضْعَ الصِّرَاطِ وَ مَرَّ النَّاسِ عَلَیْهِ، قَالَ: وَ أَخَافُ أَنْ لَّا أَکُوْنَ أَحْفَظُ ذَاکَ، قَالَ: غَیْرَ أَنَّهُ قَدْ زَعَمَ أَنَّ قَوْمًا یَخْرُجُوْنَ مِنَ النَّارِ بَعْدَ أَنْ یَکُوْنُوْا فِیْهَا۔ قَالَ: یَعْنِي فَیَخْرُجُوْنَ کَأَنَّهُم عِیْدَانُ السَّمَاسِمِ۔ قَالَ: فَیَدْخُلُوْنَ نَهْرًا مِنَ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ فَیَغْتَسِلُوْنَ فِیْهِ، فَیَخْرُجُوْنَ کَأَنَّهُمُ الْقَرَاطِیْسُ، فَرَجَعْنَا، قُلْنَا: وَیْحَکُمْ أَتَرَوْنَ الشَّیْخَ یَکْذِبُ عَلَی رَسُوْلِ اللهِ صلی الله علیه وآله وسلم ؟ فَرَجَعْنَا فَـلَا وَاللهِ! مَا خَرَجَ مِنَّا غَیْرُ رَجُلٍ وَاحِدٍ أَوْ کَمَا قَالَ أَبُوْنُعَیْمٍ.

  • آل عمران، 3: 192
  • السجدۃ، 32: 20
  • مسلم، الصحیح، کتاب الإیمان، باب أدنی أھل الجنۃ منزلۃ فیہا، 1: 179، رقم: 191
  • أبو عوانۃ، المسند، 1: 154، رقم: 448
  • بیھقی، شعب الإیمان، 1: 289، رقم: 315

’’مجھے خوارج کی رائے نے مشغولِ خاطر رکھا (کہ گناہ کبیرہ کے مرتکب ہمیشہ جہنم میں رہیں گے)۔ پس ہم لوگوں کی ایک کثیر جماعت کے ساتھ حج کرنے کے لئے نکلے (اور سوچا کہ بعد میں) ہم لوگوں کے پاس (اپنے اس عقیدہ کوبیان کرنے کے لئے) جائیں گے۔ فرماتے ہیں: ہمارا گزر مدینہ منورہ سے ہوا تو دیکھا کہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما ایک ستون کے پاس بیٹھے لوگوں کو احادیث بیان فرما رہے ہیں۔ فرماتے ہیں: اچانک انہوں نے جہنمیوں کا ذکر فرمایا تو میں نے ان سے عرض کیا : اے صحابیٔ رسول! آپ یہ کیا بیان کرتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے: {بے شک تو جسے دوزخ میں ڈال دے تو تُو نے اسے واقعۃً رسوا کردیا} ور ایک مقام پر ہے {جب بھی اس میں سے نکلنا چاہیں گے تو پھر اسی میں دھکیل دیئے جائیں گے} آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: تم قرآن پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں! فرمایا: کیا تم نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ مقام پڑھا ہے جس پر اللہ تعالیٰ انہیں فائز فرمائے گا؟ میں نے کہا: ہاں! فرمایا: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ مقام، مقامِ محمود ہے جس پر فائز ہونے کے سبب اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا جہنم سے نکالے گا۔ فرماتے ہیں: پھر انہوں نے پل صراط اور لوگوں کا اس پر سے گزرنے کو بیان فرمایا۔ راوی کہتے ہیں: مجھے ڈر ہے کہ شاید میں اسے یاد نہیں رکھ سکا۔ تاہم انہوں نے یہ فرمایا کہ لوگ جہنم میں داخل ہونے کے بعد اس سے نکلیں گے۔ ابو نعیم کہتے ہیں: وہ ایسے نکلیں گے جیسا کہ آبنوس کی جلی ہوئی لکڑیاں، پھر جنت کی نہر میں غسل کرکے کاغذ کی طرح سفید ہو کر نکلیں گے۔ پس ہم وہاں سے لوٹے اور ہم نے آپس میں کہا: تم پر افسوس ہو کیا یہ شیخ (حضرت جابرص) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ باندھتے ہیں؟ پس ہم میں سے ایک شخص کے سوا سبھی خوارج کے عقیدہ سے تائب ہوگئے جیسا کہ ابو نعیم نے بیان کیا ہے۔‘‘

4۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی الله علیه وآله وسلم : فِیْ قوْلِهِ {عَسٰی أَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا} سُئِلَ عَنْھَا، فَقَالَ: ھِيَ الشَّفَاعَةُ.

  • بني إسرائیل، 17: 79
  • ترمذي، الجامع الصحیح، کتاب تفسیر القرآن، باب من سورۃ بني إسرائیل، 5: 303، رقم : 3137
  • طبری، جامع البیان فی تفسیر القرآن، 15: 145
  • ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، 3: 59

’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جب اللہ تعالیٰ کے فرمان {یقینا آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گا} کے بارے پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد مقامِ شفاعت ہے۔‘‘

5۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعتِ عظمیٰ کے حوالے سے مسند احمد بن حنبل میں ایک طویل حدیث بطریقِ حضرت قتادہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقامِ محمود کا بیان ان الفاظ کے ساتھ ہوا ہے:

تَـلَا قَتَادَةُ: {عَسٰی أَن یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا} قَالَ: ھُوَ الْمَقَامُ الْمَحْمُوْدُ الَّذِي وَعَدَ اللهُ عَزَّوَجَلَّ نَبِیَّهُ صلی الله علیه وآله وسلم.

  • بني إسرائیل، 17: 79
  • أحمد بن حنبل، المسند، 3: 244، رقم: 13562
  • ابن أبي عاصم، السنۃ، 2: 374، رقم: 804

’’پھر حضرت قتادہ نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت کی: {یقینا آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گا} فرمایا: یہی وہ مقامِ محمود ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وعدہ کیا ہے۔‘‘

6۔ عَنْ أَبِي ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم {عَسٰی أَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا} قَالَ: الشّفَاعَةُ.

  • بني إسرائیل، 17: 79
  • أحمد بن حنبل، المسند، 2: 444، رقم: 9733
  • ابن أبي شیبۃ، المصنف، 6: 319، رقم: 31745
  • ابن أبي عاصم، السنۃ، 2: 364، رقم: 784

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے فرمان {یقینا آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گا} کے بارے میں فرمایا: اس سے مراد مقامِ شفاعت ہے۔‘‘

7۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

اَلْمَقَامُ الْمَحْمُوْدُ، الشَّفَاعَةُ.

  1. أحمد بن حنبل، المسند، 2: 478، رقم: 10200
  2. بیھقي، شعب الإیمان، 1: 281، رقم: 299
  3. أبونعیم، حلیۃ الأولیاء وطبقات الأصفیائ، 8: 372

’’مقامِ محمود سے مراد مقامِ شفاعت ہے۔‘‘

8۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

یُبْعَثُ النَّاسُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ فَأَکُوْنُ أَنَا وَ أُمَّتِي عَلَی تَلٍّ، وَیَکْسُوْنِي رَبِّي تَبَارَکَ وَتَعَالَی حُلَّۃً خَضْرَائَ ثُمَّ یُؤْذَنُ لِي، فَأَقُوْلُ: مَا شَاءَ اللهُ أَنْ أَقُوْلَ: فَذٰکَ الْمَقَامُ الْمَحْمُوْدُ.

  1. أحمد بن حنبل، المسند، 3: 456
  2. ابن حبان، الصحیح، 14: 399، رقم: 6479
  3. حاکم، المستدرک، 2: 395، رقم: 3383

’’روزِ قیامت جب لوگوں کو اٹھایا جائے گا تو میں اور میری امت ایک ٹیلے پر جمع ہوں گے، پس میرا پرور دگار مجھے سبز رنگ کا لباسِ فاخرہ پہنائے گا پھر مجھے اذن دیا جائے گا تو میں اللہ رب العزت کی منشاء کے مطابق حمد و ثنا کروں گا پس یہی مقامِ محمود ہے۔‘‘

9۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

تُعْطَی الشَّمْسُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ حَرَّ عَشَرَ سِنِیْنَ، ثُمَّ تُدْنَی مِنْ جَمَاجِمِ النَّاسِ، فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ، قَالَ: فَیَأْتُوْنَ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم فَیَقُوْلُوْنَ: یَا نَبِيَّ اللهِ! أَنْتَ الَّذِی فَتَحَ اللهُ بِکَ، وَ غَفَرَ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ۔ وَقَدْ تَرَی مَا نَحْنُ فِیْهِ فَاشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّنَا۔ فَیَقُوْلُ: أَنَا صَاحِبُکُمْ! فَیَخْرُجُ یَحُوْشُ النَّاسَ حَتَّی یَنْتَھِیَ إِلَی بَابِ الْجَنَّةِ، فَیَأْخُذَ بِحَلَقَۃٍ فِی الْبَابِ مِنْ ذَهَبٍ، فَیَقْرَعَ الْبَابَ، فَیُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَیُقَالُ: مُحَمَّدٌ! فَیُفْتَحُ لَهُ، فَیَجِیْئُ حَتَّی یَقُوْمَ بَیْنَ یَدَیِ اللهِ فَیَسْجُدَ۔ فَیُنَادِي: اِرْفَعْ رَأْسَکَ، سَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَذٰلِکَ الْمَقَامُ الْمَحْمُوْدُ.

  1. طبرانی، المعجم الکبیر، 6: 247، رقم: 6117
  2. ابن أبي شیبۃ، المصنف، 6: 308، رقم: 31675
  3. ابن أبی عاصم، السنۃ، 2: 383، رقم: 813

’’قیامت کے دن سورج دس سال کی مسافت سے گرم ہوگا، پھر (آہستہ آہستہ) وہ لوگوں کے ہجوم سے قریب ہو جائے گا، (انہوں نے پوری حدیث ذکر کی پھر) فرماتے ہیں: لوگ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کریں گے: اے اللہ کے نبی! آپ ہی وہ ذات ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے فتح عطا کی اور آپ کی خاطر آپ کے اگلوں اور پچھلوں کے گناہ کو بخش دیا ہے۔ آپ ہماری (یہ تکلیف دہ) حالت مشاہدہ فرما رہے ہیں لہٰذا آپ ہی اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت فرمائیں، آپ فرمائیں گے: میں تمہارا ہمدرد اور خیر خواہ ہوں پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو جمع کرتے ہوئے جنت کے دروازے تک پہنچ جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سونے کے دروازے کا کنڈا پکڑ کر کھٹکھٹائیں گے تو پوچھا جائے گا: کون ہے؟ فرمایا جائے گا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! پس اسے کھول دیا جائے گا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو کر سجدہ ریز ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اپنا سر اٹھائیے، سوال کیجئے آپ کو عطا کیا جائے گا اور شفاعت کیجئے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی، پس یہی مقامِ محمود ہے۔‘‘

10۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

ثُمَّ یَأْذَنُ اللهُ تعالیٰ فِی الشَّفَاعَةِ، فَیَقُوْمُ رُوْحُ الْقُدُسِ جِبْرِیْلُ، ثُمَّ یَقُوْمُ إِبْرَاھِیْمُ خَلِیْلُ اللهِ، ثُمَّ یَقُوْمُ عِیْسٰی أَوْ مُوْسٰی۔ قَالَ أَبُو الزَّعْرَائ: لَا أَدْرِي أَیُّھُمَا؟ قَالَ: ثُمَّ یَقُوْمُ نَبِیُّکُمْ صلی الله علیه وآله وسلم رَابِعًا، فَیَشْفَعُ لَا یَشْفَعُ لِأَحدٍ بَعْدَهُ أَکْثَرَ مِمَّا یَشْفَعُ، وَھُوَ الْمَقَامُ الْمَحْمُوْدُ الَّذِي قَالَ اللهُ: {عَسٰی أَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَاماً مَّحْمُوْدًا}

  1. بني إسرائیل، 17: 79
  2. طیالسي، المسند، 1: 51، رقم: 389
  3. ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، 3: 58
  4. طبري، جامع البیان فی تفسیر القرآن، 30: 113

’’پھر اللہ تعالیٰ شفاعت کا اذن عطا فرمائے گا تو روح القدس جبرئیلں شفاعت فرمائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ کے خلیل ابراہیم ں شفاعت فرمائیں گے، پھر عیسیٰ یا موسیٰ علیہما السلام میں سے کوئی شفاعت فرمائیں گے۔ ابو زعراء فرماتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ ان دونوں میں سے کون ہوگا؟ فرماتے ہیں: پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چوتھی مرتبہ شفاعت فرمائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنی کثرت سے شفاعت کریں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی بھی التجا نہ کرے گا۔ یہی مقامِ محمود ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {یقینا آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر فائز فرمائے گا} [القرآن، بنی اسرائیل، 17: 79]۔‘‘

مفسرین کرام نے مقامِ محمود کے بارے میں چار اَقوال کا ذکر کیا ہے:

  1. شفاعت
  2. روزِ قیامت لواء حمد کا عطا کیا جانا
  3. روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی قربت میں ارفع و اعلیٰ مقام پر بٹھانا
  4. مطلقاً وہ مقام اور درجہ جہاں تعریف کی جائے

راجع قول یہی ہے کہ مقامِ محمود مقامِ شفاعت ہے اور جمہور مفسرین کا اس پر اتفاق ہے۔ چند حوالہ جات درج ذیل ہیں:

1۔ معروف مفسر امام ابنِ جریر طبری (224۔310ھ) سورۃ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 79 کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

وکان أھل العلم یرون أنہ المقام المحمود الذی قال اللہ تبارک وتعالی: عسی أن یبعثک ربک مقامًا محمودًا، شفاعۃ یوم القیامۃ.

طبری، جامع البیان فی تفسیر القرآن، 15: 145

’’اور اہلِ علم یہ بات جانتے ہیں کہ وہ مقامِ محمود جس کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’یقینا آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گا‘، روزِ قیامت حقِ شفاعت عطا کیا جانا ہے۔‘‘

2۔ امام بغوی (م 516ھ) لکھتے ہیں:

والمقام المحمود ھو مقام الشفاعۃ لأمتہ لأنہ یحمدہ فیہ الأوّلون والآخرون.

بغوی، معالم التنزیل، 3: 130

’’مقامِ محمود سے مراد حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی امت کے لئے مقامِ شفاعت پر فائز ہونا ہی ہے اسی مقام پر اولین و آخرین آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں محو ثناء ہوں گے۔‘‘

3۔ امام رازی (م 606ھ) لکھتے ہیں:

فی تفسیر المقام المحمود أقوال، الأوّل: أنہ الشفاعۃ۔ قال الواحدی: أجمع المفسرون علی أنہ مقام الشفاعۃ کما قال النبي صلی الله علیه وآله وسلم فی ھذہ الآیۃ: ھو المقام الذي أشفع فیہ لأمتي.

رازی، التفسیر الکبیر، 2: 26

’’مقامِ محمود کی تفسیر میں کئی اقوال ہیں، پہلا یہ کہ اس سے مراد مقامِ شفاعت ہے۔ علامہ واحدی نے کہا: مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس سے مراد مقامِ شفاعت ہے جیسا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: یہ وہ مقام ہے جہاں کھڑے ہو کر میں اپنی امت کی شفاعت کروں گا۔‘‘

4۔ امام نسفی (م 710ھ) لکھتے ہیں:

یبعثک معنی یقیمک وھو مقام الشفاعۃ عند الجمهور ویدلّ علیه الأخبار.

نسفی، مدارک التنزیل و حقائق التأویل، 2: 297

’’یبعثک کا معنی ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فائز فرمائے گا اور جمہور مفسرین کے نزدیک یہ مقامِ شفاعت ہے جس پر بہت سی احادیث دلالت کرتی ہیں۔‘‘

5۔ امام شوکانی (م 1250ھ) لکھتے ہیں:

و قد اختلف فی تعیین ھذا المقام علی أقوال: الأوّل أنہ المقام الذی یقومہ النبی صلی الله علیه وآله وسلم للشفاعۃ یوم القیامۃ للناس لیریحھم ربھم سبحانہ مما ھو فیہ، وھذا القول ھو الذی دلت علیہ الأدلۃ الصحیحۃ فی تفسیر الآیۃ، وحکاہ ابن جریر عن أکثر أھل التأویل، قال الواحدی و إجماع المفسرین علی أن المقام المحمود ھو مقام الشفاعۃ.

شوکانی، فتح القدیر، 3: 251۔252

’’مقامِ محمود کے تعین کے بارے میں مختلف اقوال ہیں جن میں سے پہلا یہ ہے کہ یہ وہ مقامِ رفیع ہے جہاں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کی شفاعت کے لئے فائز ہوں گے تاکہ رب گ ان کی تکلیف میں ان پر رحم فرمائے۔ یہی وہ قول ہے جس کی تفسیر میں صحیح دلائل موجود ہیں۔ امام ابنِجریر طبری نے اسے اکثر ائمہ تفسیر سے نقل کیا ہے، علامہ واحدی نے کہا: مفسرین کا اس بات پر اجماع و اتفاق ہے کہ مقامِ شفاعت ہی مقامِ محمود ہے۔‘‘

دیگر مفسرین نے بھی مقامِ محمود سے مقامِ شفاعت مراد لیا ہے مثلاً: تفسیر بیضاوی، قرطبی، الدر المنثور، مجاہد، سمعانی وغیرہ ۔

شفاعتِ کبریٰ پر ایک اور نصِ قرآنی

قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰیo

الضحیٰ، 93: 5

’’اور آپ کا رب عنقریب آپ کو (اتنا کچھ) عطا فرمائے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے۔‘‘

مذکورہ آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے شفاعت کی تمام حدوں کو اٹھا دیا، فقط ایک حد باقی رکھی اور وہ ہے رضائے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہ جب حبیب راضی ہو گا اس وقت تک شفاعت کو قبول کرتا رہوں گا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتیوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کرتا رہوں گا۔

وسعتیں دی ہیں خدا نے دامنِ محبوب کو
جرم کھلتے جائیں گے اور وہ چھپاتے جائیں گے

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مندرجہ ذیل ارشادات بھی اس پر دلالت کرتے ہیں:

1۔ ایک دفعہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی امت کے حق میں دعا کر کے گریہ زاری کر رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے جبریلٍ امینں کو بارگاهِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بھیجا کہ جا کر میرے محبوب سے پوچھ کہ ان کو کون سی چیز مائل بہ گریہ کر رہی ہے۔ جبریلِ امینں حاضر ہوئے اورپوچھا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بتایا کہ وہ اپنی امت کے لئے آنسو بہا رہے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے جبریلِ امین ںسے فرمایا: اے جبریل! میرے محبوب کے پاس جاا ور ان سے کہہ دے:

إِنَّا سَنُرْضِیْکَ فِی أُمَّتِکَ وَلَا نَسُوْئُکَ.

مسلم، الصحیح، کتاب الإیمان، باب دعاء النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لأمتہ، 1: 191، رقم: 202

’’بے شک ہم آپ کو آپ کی امت کے حق میں عنقریب راضی کر دیں گے اور آپ کو اس بارے رسوا نہیں کریں گے۔‘‘

2۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزِ قیامت شفاعت فرماتے جائیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ندا فرمائے گا: اے محمد! کیا آپ راضی ہوگئے؟ اس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جواب دیں گے:

نَعَمْ، رَضِیْتُ.

طبرانی، المعجم الأوسط، 3: 44، رقم: 2094

’’ہاں میں راضی ہوگیا۔‘‘

مفسرین نے بھی اس سے شفاعت مراد لیا ہے:

1۔ امام بغوی (م 516ھ) نے لکھا ہے:

قال عطاء من ابن عباس: ھو الشفاعۃ فی أمتہ حتی یرضی.

بغوی، معالم التنزیل، 4: 498

’’حضرت عطا نے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ اس سے مراد امت کی شفاعت ہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم راضی ہو جائیں گے۔‘‘

’’تفسیر سمرقندی (3: 568)‘‘ میں بھی اسی آیت سے مراد حوض اور شفاعت لیا گیا ہے۔

2۔ امام رازی (م 606ھ) لکھتے ہیں:

عن علی ابن أبی طالب رضی اللہ عنہ و ابن عباس أن ھذا ھو الشفاعۃ فی الأمۃ.

رازی، تفسیر الکبیر، 31: 192

’’حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فَتَرْضٰی سے مراد امت کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شفاعت فرمانا ہے۔‘‘

امام رازی نے اسی مقام پر حضرت امام محمد باقر سے روایت کیا ہے کہ اس آیتِ کریمہ میں شفاعت کا بیان ہے۔ جبکہ امام رازی نے سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر 123 کے تحت بھی لکھا ہے کہ آخرت میں حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حقِ شفاعت پر امت کا اجماع ہے جس پر دلیل سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 79 اور سورہ ضحیٰ کی آیت نمبر 5 ہے۔

3۔ امام قرطبی (م 671ھ) لکھتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

إذا واللہ لا أرضی وواحد من أمتي فی النار.

قرطبی، الجامع لأحکام القرآن، 20: 96

’’خدا کی قسم میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گا جب تک میرا ایک امتی بھی آگ میں ہو۔‘‘

اس سے بڑھ کر شفاعت کا تصور کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔ یہی شفاعتِ کبریٰ ہے کیونکہ اس شفاعت کی انتہاء کی واحد صورت اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضا رکھی ہے۔

4۔ امام خازن (م 741ھ) اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

قال ابن عباس: ھی الشفاعۃ فی أمتہ حتی یرضی.

خازن، لباب التاویل فی معانی التنزیل، 4: 386

’’حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امت کے حق میں شفاعت کرنا ہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم راضی ہو جائیں گے۔‘‘

5۔ امام ابنِ کثیر (م 774ھ) اور امام سیوطی (م 911ھ) لکھتے ہیں:

و أخرج ابن أبی حاتم عن الحسن أنہ سئل عن قولہ {وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی} قال: ھی الشفاعۃ.

الضحی، 93: 5

  1. سیوطی، الدر المنثور فی التفسیر بالمأثور، 8: 543
  2. ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم،4: 524

’’ابنِ ابی حاتم نے حضرت حسن بصری سے روایت کیا ہے کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد {اور آپ کا رب عنقریب آپ کو (اتنا کچھ) عطا فرمائے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے} کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: یہ حقِ شفاعت ہے۔‘‘

سورہ کوثر کی تفسیر میں متعدد اقوال میں جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس سے مراد مقامِ محمود ہے، امام رازی لکھتے ہیں:

القول الثالث عشر: الکوثر ھو المقام المحمود الذی ھو الشفاعۃ.

رازی، تفسیر الکبیر، 32: 119

’’تیرھواں قول یہ ہے کہ کوثر وہ مقامِ محمود ہے جس سے مراد حقِ شفاعت ہے۔‘‘

قرآن حکیم میں اس کے علاوہ اور بھی کئی مقامات ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محبوبیت کے اس بلند مقام پر فائز ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل میں جو بھی خواہش پیدا ہو گی اللہ تعالیٰ فوراً اس کو پورا فرما دے گا۔

Copyrights © 2021 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved