The Constitutional Analysis of Medina Pact

حصہ اول

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت مبارکہ اپنی غایت اور نصب العین کے حوالے سے گزشتہ تمام انبیاء و رسل سے ممتاز ہے۔ کیونکہ آپ کو وہ عظیم منصب عطا کر کے مبعوث کیاگیا جو آپ سے قبل کسی دوسرے نبی کو عطا نہیں کیا گیا اور جس عظیم منصب کی عطائیگی نے آئندہ کسی نبی کی آمد کی ضرورت و احتیاج کو بھی کلیتہً ختم کردیا اس منصب کو قرآن حکیم نے یوں بیان فرمایا :۔

هو الذی ارسل رسوله بالهدی و دين الحق ليظهره علی الدين کله

(48 : 28)

(اللہ) وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کر دے۔

اظہار علے الدین کلہ کا یہ عظیم کام اس وقت تک انجام پذیر نہیں ہوسکتا تھا جب تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرب کے کفر و شرک پر مبنی معاشرے کی بنیادوں تک کو نہ بدل ڈالتے اور اس معاشرے کو ایک ایسی طرح نو عطانہ کرتے جو الھدی اور دین حق کی تعلیمات پر مبنی ہوتی۔ یہ امر صرف اخلاقی و مذہبی وعظ و تلقین سے ممکن نہ تھا۔ بلکہ اس کے لئے تو ایک ہمہ گیر جدوجہد کی ضرورت تھی جو ہر طبقہ زندگی کے افراد اور ہر سطح زندگی (بشمول انفرادی، قومی اور بین الاقوامی) پر دین حق کی تعلیمات کے اثر و نفوذ کے فروغ کی حامل ہوتی۔ یہی وہ بنیادی مقصد تھا جس نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدوجہد کو کبھی بھی محدود نہ ہونے دیا۔ دور اول سے جب آپ پر اقراء سے نزول وحی کا آغاز ہوا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعوت حق کے فروغ کے لئے ہر اس اقدام کو اختیار فرمایا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت فروغ پذیر ہوسکتی تھی اور ہر اس امر کی نفی فرمائی اور اسے مسترد کر دیا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت حق کے آفاقی اور عالمی تشخص کے متاثر ہونے کا امکان پیدا ہوتا تھا چاہے اس کے لئے آپ کو بے شمار مشکلات اور مصائب ہی کیوں نہ برداشت کرنا پڑے۔ وہ تمام اقدامات جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دین حق کے اظہار علی الدین کلہ کے لئے موقع بموقع اختیار فرمائے ان میں سے میثاق مدینہ کو کئی حوالوں سے ایک مرکزی اور محوری مقام حاصل ہے کیونکہ میثاق مدینہ ہجرت کے نتیجے میں ظہور پذیر ہوا جو تاریخ اسلام کا ایک اہم اور بے مثال باب ہے۔ میثاق مدینہ کے ساتھ ہی ایک باقاعدہ اسلامی مملکت وجود میں آگئی جو غلبہ دین حق کی خشت اول تھی۔ اگر سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدوجہد کی نہج کا گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ میثاق مدینہ کوئی ایسا عمرانی و سیاسی معاہدہ نہ تھا جو حادثاتی طور پر معرض وجود میں آگیا ہو بلکہ اس کا اپنا پس منظر ہے۔ ہجرت سے کئی سال پہلے ہی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس نوعیت کے اقدام کی تیاری شروع کردی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اکثر عرب قبائل اور ان کے سردار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے کے لئے یہ شرط پیش کرتے تھے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اسلامی مملکت اور حکومت کے وارث ہوں گے۔ اسی باقاعدہ پروگرام کے تحت ہجرت مدینہ کا عمل تکمیل پذیر ہوا جس کے نتیجے میں مسلمانوں کو یہ موقع ملا کہ انہیں ایک الگ اور آزاد ریاست میسر آئے جس کی سربراہی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہو اور یہاں وہ نہ صرف اسلام کے احکامات پر آزادانہ عمل کرسکیں بلکہ اس آزاد مملکت کو اپنا Base Camp بنا کر غلبہ دین حق کے لئے عملی جدوجہد کا آغاز کرسکیں اور مخالفین کے خلاف سراپا جدوجہد ہوسکیں۔

اس حقیقت کا اظہار کہ ہجرت اور میثاق مدینہ تاریخ کے حادثاتی عوامل نہ تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس پہلے خطبے سے بھی ہوتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کے فوراً بعد مدینہ میں ارشاد فرمایا :

الحمد ﷲ أحمده واستعينه، وأستغفره واستهديه، وأومن به ولا أکفره، و أعادي من يکفره وأشهد أن لا إله إلا اﷲ وحد ه لا شريک له، وأن محمداً عبده ورسوله أرسله بالهدي و دين الحق والنور والموعظةعلي فترة من الرسل، وقلة من العلم، وضلالة من الناس، وانقطاع من الزمان، ودنو من الساعة، و قرب من الاجل. من يطع اﷲ ورسوله فقد رشد، ومن يعصهما فقد غوي و فرط وضل ضلالا بعيداً، وأوصيکم بتقوي اﷲ فانه خير ما أوصي به المسلم المسلم أن يحضه علي الاخرة. وأن يأمره بتقوي اﷲ. فاحذروا ماحذرکم اﷲ من نفسه، ولا أفضل من ذلک نصيحة، ولا أفضل من ذلک ذکري. وإنه تقوي لمن عمل به علي وجل ومخافة، وعون صدق علي ما تبتغون من أمر الاخرة، ومن يصلح الذي بينه و بين اﷲ من أمر السر والعلانية لا ينوي بذلک إلا وجه اﷲ يکن له ذکرا في عاجل أمره وذخراً فيما بعد الموت حين يفتقر المرء الي ما قدم، وما کان من سوي ذلک يود لو ان بينه و بينه أمداً بعيداً، ويحذرکم اﷲ نفسه واﷲ روف بالعباد والذي صدق قوله وانجز وعده، لا خلف لذلک فانه يقول تعالي (ما يبدل القول لدي وما أنا بظلام للعبيد) واتقوا اﷲ في عاجل أمرکم وآجله في السر والعلانية فانه (من يتق اﷲ يکفر عنه سيئاته ويعظم له أجراً) (ومن يتق اﷲ فقد فاز فوزاً عظيما) وإن تقوي اﷲ توقي مقته، وتوفي عقوبته، وتوفي سخطه. و إن تقوي اﷲ تبيض الوجه، وترضي الرب، وترفع الدرجة، خذوا بحظکم ولا تفرطوا في جنب الله قد علمکم اﷲ کتابه، ونهج لکم سبيله ليعلم الذين صدقوا وليعلم الکاذبين فاحسنوا کأحسن اﷲ اليکم، وعادوا أعداه وجاهدوا في اﷲ حق جهاده هو اجتبا کم و سما کم المسلمين ليهلک من هلک عن بينة و يحي من حي عن بينة ولا قوة إلا باﷲ، فاکثروا ذکر اﷲ واعملوا لما بعد الموت فانه من أصلح ما بينه و بين اﷲ يکفه ما بينه و بين الناس ذلک بأن اﷲ يقضي علي الناس ولا يقضون عليه، ويملک من الناس ولا يملکون منه، اﷲ أکبر ولا قوة إلا باﷲ العلي العظيم

(البدايه والنهايه جلد 3، صفحه 213)

تمام تعریفیں صرف خدا ہی کے لیے ہیں۔ میں اس کی تعریف بیان کرتا ہوں۔ اسی سے مدد کا خواستگار ہوں، اسی سے بخشش طلب کرتا ہوں اور اس کے منکر کا مخالف ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے سوا کوئی دوسرا خدا نہیں ہے۔ صرف وہی ایک خدا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے خاص بندے اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، جنہیں خدا نے ہدایت، نور اور سرتاپا نصیحت بنا کر مبعوث فرمایا۔ جب کہ پیغمبروں کو دنیا میں آئے ہوئے کافی وقفہ ہوچکا تھا، علم کم ہوچکا تھا، گمراہی عام ہوچکی تھی۔ جہالت پر طویل زمانہ گزرچکا تھا، قیامت اور آخرت کے قرب کا زمانہ آگیا تھا۔ پس جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی وہ ہدایت پاگیا اور جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا اور کھلی گمراہی میں مبتلا ہوگیا۔

میں تمہیں زہد و تقویٰ اختیار کرنے کی نصیحت کرتا ہوں کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان بھائی کو اس سے بہتر نصیحت نہیں کرسکتا۔ اس کے بعد کا درجہ یہ ہے کہ بھائی ایک دوسرے کو آخرت کی ترغیب دیں اور اسے تقویٰ کی ہدایت کریں۔ پس خدا نے جس بات سے تمہیں بچنے کا حکم دیا ہے اس سے بچو۔ اس سے بہتر اور کوئی نصیحت نہیں ہے اور نہ اس سے افضل اور کوئی ذکر ہے۔ حقیقی تقویٰ اس کا ہے جو دل میں اپنے رب کا خوف اور اخروی امور کی صداقت کا جذبہ لیے ہوئے اس پر عمل کرے اور جو شخص اپنے اور اپنے خدا کے درمیان معاملہ کو ظاہر و باطن میں ٹھیک رکھے اور اس سے صرف اللہ کی خوشنودی کی نیت رکھے تو یہ عمل دنیا میں اس کے ذکر خیر کا باعث اور موت کے بعد ذخیرہ آخرت ہوگا۔ جس روز انسان اپنے پچھلے اعمال کا محتاج ہوگا اور اس کے سوا جو کچھ ہوگا اس کے متعلق وہ خواہش کرے گا کہ کاش اس کے اور اس کے عمل کے درمیان طویل مدت کا فاصلہ ہوتا۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے عذاب سے بھی ڈراتا ہے ساتھ ہی وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان بھی ہے۔ اللہ اپنے قول میں صادق اور اپنے وعدہ کو پورا کرنے والا ہے، اس کا ارشاد ہے : ’’ما یبدل القول لدی وما انا بظلام للعبید،،

پس اے لوگو اپنے دنیوی و اخروی سب امور میں ظاہر و باطن میں اللہ سے ڈرو کیونکہ جو خدا سے ڈرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی برائیوں کا کفارہ کردیتا ہے اور اس کے اجر میں اضافہ فرما دیتا ہے جو خدا سے ڈرتا ہے وہ عظیم الشان کامیابی حاصل کرتا ہے۔ اللہ سے تقویٰ انسان کو خدا کے غضب اور ناراضگی سے محفوظ رکھتا ہے خدا کا تقویٰ متقیوں کے چہروں کو سفید و منور رکھے گا۔ اور ان سے رب کو راضی کردے گا۔ ان کے مراتب بلند کر دے گا۔

اے لوگو! اپنا اپنا حصہ حاصل کرلو اور اللہ کے معاملہ میں زیادتی سے کام نہ لو۔ اللہ تعالی نے تمہیں اپنی کتاب کی تعلیم دی اور تمہاری نجات کے لیے ایک طریقہ مقرر فرما دیا تاکہ وہ اس کی تصدیق کرنے والوں اور اس کے جھٹلانے والوں کو جان لے۔ پس جس طرح خدا نے تم سے بھلائی کی ہے تم بھی بھلائی کرو۔ خدا کے دشمنوں سے تم بھی عداوت رکھو۔ اس کی راہ میں جہاد کا حق پوری طرح ادا کرو۔ اس نے تمہیں اسلام کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ اور تمہارا نام مسلمان رکھا ہے تاکہ وہ جسے ہلاک کرے اسے قطعی دلیل کے ساتھ ہلاک کردے اور جسے زندہ رکھے اسے دلیل کے ساتھ زندہ رکھے۔ خدا کے سوا کائنات میں کوئی اور طاقت نہیں ہے۔ پس تم لوگ اللہ کا ذکر کثرت سے کیا کرو اور آخرت کے لیے نیک عمل کرتے رہو۔ کیونکہ جس نے اپنے اور خدا کے درمیان کا معاملہ ٹھیک کرلیا تو خدا اس کے اور لوگوں کے درمیان ہونے والے معاملات کے لیے کافی ہوگا۔ اس لیے کہ اللہ لوگوں پر حکم چلاتا ہے لوگ اس پر حکم نہیں چلاتے اور اللہ ہی لوگوں کے معاملات کا مالک و مختار ہے۔ لوگ اس کے معاملات کے مختار نہیں۔ اللہ بہت بڑا ہے اور کائنات میں کوئی طاقت سوائے خدائے عظیم کی طاقت کے نہیں ہے۔

اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدینہ میں ارشاد فرمائے گئے پہلے خطبے کا جائزہ لیں تو مندرجہ ذیل امور سامنے آتے ہیں :

1۔ اس خطبے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کے سامنے اپنا منصب اور مقام بیان فرمایا کہ انسانیت ایک طویل عرصے تک گمراہی میں مبتلا رہی اور سلسلہ انبیاء علیہ السلام کو منقطع ہوئے ایک زمانہ گزر گیا تھا۔ لہذا رب ذوالجلال نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے نور ہدایت کو عام کرنے کا فیصلہ فرمایا۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو اطاعت حق کا درس دیا۔ یہاں یہ امر قابل غور ہے کہ کتب سیر کی روایات کے مطابق ہجرت کے بعد آپ کا یہ پہلا خطبہ ہے مگر اس خطبے کے مندرجات سے ایسا کوئی تاثر نہیں ابھرتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل مدینہ کے درمیان کوئی بعد، دور ی یا اجنبیت نظر آتی ہو۔ انداز کلام سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ عرصہ دراز سے سامعین سے مخاطب رہے ہیں۔مزید یہ کہ ایسا کوئی تاثر بھی نظر نہیں آتا کہ یہ خطاب ایک ایسی شخصیت کا ہے جو اپنے وطن سے بے سرو ساماں ہوکر نکل آئی ہو اور ایک نئے دیس میں پناہ و قیام کی متلاشی ہو۔ بلکہ یہ خطاب ایک رہنما، مقتدیٰ اور حکمرانی ہستی کا محسوس ہوتا ہے جو متبعین اور followers سے کیا جا رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطبے کے انداز تکلم اور سامعین کے ماحول سے یہ امر ہویدا ہوتا ہے کہ آپ کی آمد نہ تو اہل مدینہ کے لئے نئی تھی اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ پہنچ کر کوئی اجنبیت محسوس کر رہے تھے بلکہ سالہا سال تک اس امر پر کام ہوچکا تھا (جس کی تفصیل آگے آرہی ہے) جس کا نتیجہ یہ تھا کہ تحریک اسلام ایک نئے مرحلے کی طرف بتدریج شعوری طور پر بڑھ رہی تھی۔

2۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پورے خطبہ میں اہل مکہ، کفار مکہ کے ظلم و ستم، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف گھناونی سازشوں، مسلمانوں کے مصائب و آلام اور وہ حالات جن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے کا تذکرہ تک نہ فرمایا۔ نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے راستے کی مشکلات کا تذکرہ کیا کہ کس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کفار مکہ کے جاسوسوں اور کارندوں سے بچ کر مدینہ پہنچے۔ بلکہ اس کی بجائے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خطبہ میں ان عظیم اقدار اور ابدی و آفاقی اقدار حیات کا ہی تذکرہ فرمایا جن کا فروغ و نشر آپ کا مقصد حیات تھایہ امر جہاں ایک طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمتہ للعلمینی، درگزر، عفو و بردباری، شائستگی اور اعلی ظرفی کا ثبوت ہے وہاں آپ کی سیاسی بصیرت اور حکمت کا آئینہ دار بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے پہلے ہی خطبے میں اپنی آمد اور آنے والے دور کو منفی بنیادوں پر استوار نہیں فرمانا چاہتے تھے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی آمد کے بعد اپنے مد نی دور کا آغاز ایک مثبت اور تعمیری رویے سے فرمایا۔ کیونکہ منفی انداز عمل اختیار کرنے سے آپ کے مقاصد ہجرت پس منظر میں چلے جاتے مگر مثبت انداز عمل کا نتیجہ ایک نئے معاشرے، ریاست کے قیام کی شکل میں سامنے آیا جس کا لازمی اور منطقی انجام کفر و طاغوت کی بیخ کنی اور سرکوبی بھی تھا۔

3۔ اس خطبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیک وقت دینی اور دنیاوی معاملوں کا تذکرہ فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ :۔

’’میں تمہیں زہد و تقویٰ اختیار کرنے کی نصیحت کرتا ہوں کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان بھائی کو اس سے بہتر نصیحت نہیں کرسکتا۔ اس کے بعد کا درجہ یہ ہے کہ بھائی ایک دوسرے کو آخرت کی ترغیب دیں اور تقوی کی ہدایت کریں پس خدا نے جس بات سے تمہیں بچنے کا حکم دیا اس سے بچو۔ اس سے بہتر اور کوئی نصیحت نہیں ہے اور نہ اس سے افضل اور کوئی ذکر ہے۔ حقیقی تقویٰ اس کا ہے جو دل میں اپنے رب کا خوف اور اخروی امور کی صداقت کا جذبہ لئے ہوئے اس پر عمل کرے۔،،

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان ارشادات سے ظاہر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامعین جو شہر مدینہ کے مکینوں پر مشتمل تھے اسلام کی دعوت سے کلی طور پر نا آشنا نہ تھے۔ بلکہ اپنی آمد سے قبل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مدینہ کے دین اسلام سے تعارف کے لئے اقدامات فرما دیئے تھے۔ اور مدینہ میں لوگوں کی ایک اچھی خاصی تعداد ذہنی و فکری طور پر اس حد تک تیار ہوچکی تھی کہ وہ دین حق کی تعلیمات کی قدر و قیمت کو کما حقہ Evaluate کرسکتے اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :۔

’’جو شخص اپنے اور اپنے خدا کے درمیان معاملہ کو ظاہر و باطن میں ٹھیک رکھے اور اس سے صرف اللہ کی خوشنودی کی نیت رکھے تو یہ عمل دنیا میں اس کے ذکر خیر کا باعث اور موت کے بعدذخیرہ آخرت کا باعث ہوگا۔،،

اور یہ کہ :۔

’’اے لوگو ! اپنے دنیوی و اخروی سب امور میں ظاہر و باطن میں اللہ سے ڈرو کیونکہ جو خدا سے ڈرتا ہے تو اللہ تعالی اس کی برائیوں کا کفارہ کردیتا ہے اور اس کے اجر میں اضافہ کردیتا ہے جو خدا سے ڈرتا ہے وہ عظیم الشان کامیابی حاصل کرتا ہے،،

یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خطبہ میں دنیا اور آخرت کی کامیابی کی شرط براہ راست تقوی اور ظاہری و باطنی معاملات میں الوہی رضا جوئی کو قرار دیا۔ جسے اختیار کرنا اس وقت تک ممکن نہیں تھا جب تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامعین دین اسلام سے ابتدائی واقفیت حاصل نہ کرچکے ہوتے۔

4۔ اس خطبے میں دنیاوی اور اخروی فلاح کے لئے اصول و ضوابط بیان فرمانے کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجمالاً ایک اسلامی معاشرے اور اسلامی ریاست کا نقشہ بھی بیان فرما دیا کہ اہل ایمان کو باہمی معاشرتی برتاؤ کس طرح کرنا ہوگا اور ایک اسلامی ریاست میں باہمی ربط و اشتراک کی نوعیت اور اہل کفر و طاغوت کے مقابل ان کے رویے کی نوعیت کیا ہوگی :

’’اے لوگو! اپنا اپنا حصہ حاصل کرلو۔ اور اللہ کے معاملے میں زیادتی سے کام نہ لو۔ اللہ تعالی نے تمہیں اپنی کتاب کی تعلیم دی اور تمہاری نجات کے لئے ایک طریقہ مقرر فرما دیا تاکہ وہ اس کی تصدیق کرنے والوں اور اس کے جھٹلانے والوں کو جان لے۔ پس جس طرح خدا نے تم سے بھلائی کی ہے تم بھی بھلائی کرو۔ خدا کے دشمنوں سے تم بھی عداوت رکھو اس کی راہ میں جہاد کا حق پوری طرح ادا کرو۔ اس نے تمہیں اسلام کے لئے منتخب فرمایا ہے اور تمہارا نام مسلمان رکھا ہے۔

5۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ خطبہ جہاں مثالی معاشرے کے خصائص اور بنیادی تشکیلی عناصر کو بیان کرتا ہے۔ وہاں اس معاشرے کے قیام کے حوالے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمال یقین و اعتماد کا عکاس بھی ہے۔ ایک نئی سر زمین میں آ کر انسان جن خطرات اور تحفظات سے خود کو دوچار محسوس کرتا ہے ان کا شائبہ تک بھی اس خطبے میں نہیں۔ بلکہ رب ذوالجلال کی ذات پر یقین کامل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ قوت ہے جس کا بل بوتے پر آپ ایک نئی مسلم ریاست کی بنیاد رکھنے کے لئے کہ نہ صرف خود مصروف کار ہیں بلکہ دیگر اہل ایمان کو بھی دعوت دیتے ہیں :۔

’’اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے تاکہ جسے ہلاک کرے اسے قطعی دلیل کے ساتھ ہلاک کرے اور جسے زندہ رکھے اسے دلیل کے ساتھ زندہ رکھے۔ خدا کے سوا کائنات میں کوئی اور طاقت نہیں ہے۔ پس تم اللہ کا ذکر کثرت سے کیا کرو اور آخرت کے لئے نیک عمل کرتے رہو۔ کیونکہ جس نے اپنے اور خدا کے درمیان کا معاملہ ٹھیک کرلیا تو خدا اس کے اور لوگوں کے درمیان ہونے والے معاملات کے لئے کافی ہوگا۔ اس لئے کہ اللہ لوگوں پر حکم چلاتا ہے لوگ اس پر حکم نہیں چلاتے اور اللہ ہی لوگوں کے معاملات کا مالک و مختار ہے لوگ اس کے معاملات کے مختار نہیں۔ اللہ بہت بڑا ہے اور کائنات میں کوئی طاقت سوائے خدائے عظیم کی طاقت کے نہیں ہے۔،،

مختلف روایات میں یہ خطبہ قدرے مختلف انداز سے بھی آیا ہے تاہم یہ انہی بنیادی خصوصیات کا عکاس ہے جن کا تجزیہ اوپر پیش کیا گیا :۔

أما بعد أيها الناس فقدموا لانفسکم تعلمن واﷲ ليصعقن احدکم ثم ليدعن غنمه ليس لها راع، نم ليقولن له ربه. ليس له ترجمان ولا حاجب يحجبه دونه. ألم يأتک رسولي فبلغک، وآتيتک مالا وأفضلت عليک، فما قدمت لنفسک فينظر يمينا وشمالا فلا يري شيئا، ثم ينظر قدامه فلا ير غير جهنم، فمن استطاع أن يقي وجهه من النار ولو بشق تمرة فليفعل، ومن لم يجد فبکلمة طيبة فان بها تجزي الحسنة أمثالها إلي سبع مائة ضعف والسلام علي رسول اﷲ ورحمة الله وبرکاته

(البدايه والنهايه جلد 3، صفحه 214)

لوگو! اپنی ذات و حیثیت پر پہلے غور کرو، اللہ تمہیں بتاتا ہے اور پھر تم سے پوچھتا ہے کہ اگر تم میں سے کسی پر اس کے حکم سے بجلی گر پڑے تو کیا اس کے بعد اس کے بکریوں کے گلے کو بلانے والا اور چرواہا کوئی ہوگا؟ اللہ تعالیٰ کے سوا نہ کوئی تمہارا ترجمان ہے اور نہ کوئی تمہارا پردہ پوش، وہ تم سے یہ بھی فرماتا ہے کہ کیا اس نے تمہاری ہدایت کے لیے اپنا رسول نہیں بھیجا؟ کیا اس نے تمہیں مال و دولت نہیں دی؟ کیا اس نے تم پر اپنا فضل نہیں کیا؟ پھر تم اپنے نفس کی پیروی پر کیوں مائل ہو؟ ایسا کروگے تو پھر اگر تم اپنے دائیں بائیں دیکھوگے تو تمہیں کوئی چیز نظر نہیں آئے گی اور اگر نیچے نظر ڈالوگے تو آتش جہنم کے سوا کچھ نہ دیکھ سکوگے۔ کاش تم ایک لمحے کے لیے اس پر غور کر کے اعمال نیک کی طرف آؤ۔تمہارے لیے ایک ہی بہتر راستہ ہے یعنی کلمہ طیبہ (لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ) اعمال حسنہ کا اجر دینے کے لیے دس سے لے کر سات سو بلکہ اس سے بھی زیادہ ضرب در ضرب بے شمار مثالیں ہیں۔ والسلام علی رسول اللہ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔،،

أن الحمد ﷲ أحمده واستعينه، نعوذ باﷲ من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده اﷲ فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادي له. وأشهد أن لا إله إلا اﷲ (وحده لا شريک له)، إن أحسن الحديث کتاب اﷲ، قد أفلح من زينه اﷲ في قلبه وأدخله في الاسلام بعد الکفر و اختاره علي ماسواه من أحاديث الناس، إنه أحسن الحديث وأبلغه، أحبوا من أحب اﷲ، أحبوا اﷲ من کل قلوبکم (ولا تملوا کلام اﷲ وذکره ولا تقسي عنه قلوبکم) فانه من يختار اﷲ و يصطفي فقد سماه خيرته من الاعمال وخيرته من العباد والصالح من الحديث ومن کل ما أوتي الناس من الحلال والحرام فاعبد وا اﷲ ولا تشرکوا به شيئا واتقوه حق تقاته واصدقوا اﷲ صالح ما تقولون بأفواهکم وتحابوا بروح اﷲ بينکم إن اﷲ يغضب أن ينکث عهده والسلام عليکم ورحمة اﷲ و برکاته.

(البدايه والنهاية جلد 3، صفحه 214)

’’الحمدللہ! میں اس کی حمد کرتا ہوں اور اس سے امداد طلب کرتا ہوں، ہم اپنے نفس کے فتنوں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں، اللہ جس کو گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں (وہ واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں) سب سے بہتر کلام اللہ تعالیٰ کی کتاب (قرآن) ہے، اس نے فلاح پائی جس کے قلب کو اللہ تعالیٰ نے زینت بخشی اور اسے کفر کے بعد اسلام میں داخل ہونے کی توفیق عطا فرمائی اور اسے اختیار بخشا کہ وہ ہدایات اسلام کے علاوہ دنیا کے تمام انسانوں کی باتوں کو رد کردے۔ کلام الہی سب سے زیادہ بہتر کلام ہے، اس کی تبلیغ کرو، جسے اللہ چاہے اسے تم بھی چاہو، اللہ کو اپنے دل کی تمام گہرائیوں سے چاہو، اللہ کے کلام اور اس کے ذکر کو نہ الٹ پلٹ کرو نہ اپنے قلوب میں اس کی کمی آنے دو، جسے اللہ تعالیٰ نے اختیار بخشا اور اس کے قلب کو مصفا بنایا اس نے (گویا) اس کے اعمال کو بھی نیک بنایا اور اپنے تمام بندوں میں اسے بھلائی کے لیے چن لیا، بہترین بات یہ ہے کہ کوئی دوسروں کو حرام و حلال میں فرق کرنا سکھائے۔ اللہ کی عبادت کرو، کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ، تقوی کو اتنا اختیار کرو جتنا اس کا حق ہے، جو کچھ منہ سے نکالویعنی جو بات کرو) اس میں اللہ کو حاضر وناظر جان کر صداقت کا سب سے زیادہ خیال رکھو، آپس میں جو معاہدہ کرو اسے خوشنودی خداوند کے لئے پورا کرو، کیونکہ جو معاہدات پورے نہیں کرتے ان سے اللہ ناراض ہوتا ہے۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

ریاست مدینہ کے قیام کیلئے ابتدائی اقدامات :

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعوت حق کے آغاز میں اپنی دعوت کو ممکنہ حد تک وسعت پذیر کرنے کیلئے اقدامات فرمانے شروع کردیئے۔ مکہ مکرمہ میں ہونے والی شاید ہی کوئی ایسی عوامی و سماجی تقریب ہو جس میں گرد و نواح سے آنے والے لوگوں تک آ پ کی دعوت نہ پہنچی ہو یہی وجہ تھی کہ قریش مکہ باہر سے آنے والے لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بدظن کرنے اور دور رکھنے کیلئے مصروف کار رہتے ان کی یہ منفی سرگرمیاں بھی ایک لحاظ سے اسلام ہی کے فروغ اور آپ کے تعارف کا باعث بنتیں۔

سال دس نبوی میں حج کے زمانے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبائل عرب میں دعوت حق کیلئے ایک رات نکلے آپ مقام عقبہ سے گزر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قبیلہ خزرج کے کچھ لوگ ملے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ وہ کون لوگ ہیں انہوں نے جواباً کہا کہ ہم قبیلہ خزرج کے کچھ لوگ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا آپ یہود کے ہمسائے ہیں انہوں نے کہا ہاں۔ ان سے ابتدائی تعارف کے بعد جو دراصل حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدینہ کے حالات پر گہری نظر اور مدنی قبائل کے بارے میں وسیع معلومات کا عکاس تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سامنے دعوت حق کا پیغام رکھا۔ انہیں اسلام کی دعوت دی اور قرآن پڑھ کر سنایا ان لوگوں میں سے ایک شخصیت کا دل کلام الہی سے بے حد متاثر ہوا یہ خو ش نصیب حضرت ایاس بن معاذ رضی اللہ عنہ تھے وہ اپنے وفد کے لوگوں سے کہنے لگے اللہ کی قسم تم جس غرض سے یہاں آئے ہو یہ دعوت اس سے بدرجہا بہتر ہے لیکن قائد وفد نے ان کی بات نہ مانی تاہم حضرت ایاس ا بن معاذ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کرلیا۔

(البدايه ولنهايه)

بعض روایات کے مطابق اول وفد نے عرض کی کہ ابھی ہماری آپس میں اوس اور خزرج کی خانہ جنگی ہو رہی ہے اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ا س وقت مدینہ تشریف لے آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت پر سب کا اجتماع نہ ہوسکے گا اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سال تک اس ارادہ کو ملتوی فرمائیں اور اس عرصہ میں خانہ جنگی صلح سے بدل جائے تو اوس و خزرج مل کر اسلام قبول کرلیں گے۔ آئندہ سال ہم پھر حاضر ہونگے اس وقت اس کا فیصلہ ہوسکے گا۔

(طبقات ابن سعد)

جب اس وفد کے لوگوں نے اسلام کا پیغام سنا تو وہ اس حقیقت کوجان گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی وہ پیغمبر آخر الزمان ہیں جن کا تذکرہ اکثر یہود کیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے میں یہود سے سبقت لے جانے کے جذبہ کے تحت یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اسلام میں داخل ہوگئے اور یثرب کو مرکز اسلام بنانے کیلئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پہلا وفد قرار پایا جس کی کوششوں سے انصار کے گھروں میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر نہ ہوتا ہو۔

بیعت عقبہ اولی

سال گیارہ نبوی میں حسب وعدہ بارہ اشخاص کا ایک وفد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملنے مکہ مکرمہ میں آیا۔ اس وفد میں پانچ افراد تو وہی تھے جو پچھلے سال آئے تھے اور سات ان کے علاو ہ تھے۔ ان لوگوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کی اور یہ بیعت بیعت عقبہ اولیٰ کے نام سے مشہور ہوئی۔ بیعت کرنے والے حضرات کے نام یہ تھے :

  1. حضرت ابو امامہ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ
  2. حضرت عوف بن الحارث رضی اللہ عنہ
  3. حضرت رافع بن مالک رضی اللہ عنہ
  4. حضرت ابو الہیثم مالک بن تیہان رضی اللہ عنہ
  5. حضرت عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ
  6. حضرت قطیہ بن عامر بن حدیدہ رضی اللہ عنہ
  7. حضرت معاذ بن حرث رضی اللہ عنہ
  8. حضرت عقبہ بن عامر
  9. حضرت زکوان بن قیس رضی اللہ عنہ
  10. حضرت خالد بن مخلد رضی اللہ عنہ
  11. حضرت عبادۃ بن صامت رضی اللہ عنہ
  12. حضرت عباس بن عبادہ رضی اللہ عنہ

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے درج ذیل امور پر بیعت لی۔

  1. ہم اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کریں گے اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں گے۔
  2. چوری سے باز رہیں گے۔
  3. زنا نہیں کریں۔
  4. اولاد (خصوصاً لڑکیوں) کو قتل نہیں کریں گے۔
  5. کسی پر جھوٹی تہمت نہیں لگائیں گے۔
  6. چغلی نہ کھائیں گے۔
  7. ہر اچھی بات (معروف) میں رسول اللہ کی اطاعت کریں گے۔

جن امور پر بیعت عقبہ اولیٰ ہوئی ان کے تحت مدینہ میں ایک اسلامی معاشرے کی بنیادیں رکھ دی گئیں جہاں ایک طرف یثرب میں موجود برائیوں کے قلع قمع کا عہد لیا گیا وہاں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کا عہد بھی لیا گیا یعنی انفرادی اخلاقی اصلاح سے لے کر اجتماعی معاشرتی انقلاب تک کے تمام امور کو اجمالاً اس بیعت میں شامل کردیا گیا۔

بیعت کے بعد مدینہ رخصت ہونے سے قبل اہل وفد نے یہ درخواست کی کہ ہمارے ساتھ ایک معلم بھی بھیج دیجئے جو ہمیں دین کی تعلیم دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی درخواست کو منظور فرماتے ہوئے حضرت مصعب ابن عمیر رضی اللہ عنہ کو ان کے ہمراہ روانہ فرمایا۔ یثرب میں حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ جو کہ عمائدین یثرب میں سے تھے کو حضرت مصعب بن عمیر کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا۔

حضرت مصعب ابن عمیر رضی اللہ عنہ کی کوششوں سے مدینہ سے قبا تک اسلام پھیل گیا۔ قبیلہ اوس کے سردار حضرت سعد ابن معاذ رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرلینے سے پورا قبیلہ مسلمان ہوگیا۔

بیعت عقبہ ثانیہ

حضرت مصعب ابن عمیر رضی اللہ عنہ کی دعوتی اور تبلیغی مساعی کا ثمر یہ سامنے آیا کہ نبوت کے بارہویں سال حج کے ایام میں حضرت مصعب ابن عمیر رضی اللہ عنہ کی قیادت میں جو قافلہ مکہ پہنچا وہ 73 تہتر مردوں اور دو عورتوں پر مشتمل تھا۔ یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کے ارادے سے آئے تھے۔ ان لوگوں نے رات کی تاریکی میں انتہائی رازداری کے ساتھ ملاقات کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں قرآن حکیم پڑھ کر سنایا اور اسلام کی تلقین کی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے اس وفد میں اوس و خزرج دونوں قبائل کے لوگ موجود تھے جب وفد کے لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت شروع کی حضرت عباس جو اس وقت تک اگرچہ مسلمان نہیں ہوئے تھے بنو خزرج سے جو تعداد میں زیادہ تھے ایسا خطاب فرمایا جو نہ صرف اسلام کے انقلابی مزاج کا آئینہ دار ہے بلکہ وہ بیعت کے بعد آنے والے دور کے حالات پر بھی محیط تھا۔ اگرچہ یہ بیعت کفار مکہ سے خفیہ طے پارہی تھی مگر حضرت عباس کو اسلام قبول نہ کرنے کے باوجود اس موقع پر اپنے ساتھ لے جانا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیاسی بصیرت کا مظہر ہے کیونکہ اس بیعت کے مضمرات سے حضرت عباس ہی بیعت کرنے والو ں کو مطلع کرسکتے تھے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کے بعد وہ اس حقیقت کو سمجھ سکیں کہ وہ اپنے آپ کو کن حالات کے سپرد کر رہے ہیں۔ حضرت عباس نے اپنے خطاب میں کہا تمہیں معلوم ہے کہ قریش مکہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانی دشمن ہیں اگر تم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی عہد و پیمان کرنے لگے ہو تو یہ سمجھ کر کرنا کہ یہ بڑا مشکل کام ہے۔ ان سے عہد و اقرار کرنا سرخ و سیاہ طبقات سے جنگ کو دعوت دینا ہے۔ وہ تمہارے پاس جانا چاہتے ہیں ہم ان کے لئے ہمیشہ سینہ سپر رہے اگر تم بھی مرتے دم تک ان کا ساتھ دے سکو تو بہتر ورنہ ابھی جواب دے دو۔ جو اقدام بھی کرو سوچ سمجھ کر کرو ورنہ کچھ بھی نہ کرو۔ حضرت عباس کے خطاب کے بعد ابو الہیثم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مخاطب ہوکر عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم !ہم یہود کے حلیف ہیں اس بیعت کے بعد ان سے ہمارے تعلقات ختم ہوجائیں گے۔ کہیں ایسا نہ ہو جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قوت و اقتدار حاصل ہوجائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں چھوڑ کر اپنے وطن واپس لوٹ جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں تمہارا خون میرا خون ہے۔ تم میرے اور میں تمہارا ہوں۔

جن امور پر بیعت کے دوران آپ نے زور دیا وہ یہ تھے۔

  1. کہ تم دین حق کی اشاعت میں میرے ساتھ پورا پورا تعاون کروگے۔
  2. جب میں تمہارے شہر میں جا کر قیام پذیر ہو جاؤں تو تم میری اور میرے ساتھیوں کی حمایت اپنے اہل و عیال کی طرح کرو گے۔

یہ سن کر خزرج کے سردار براء ابن معرور نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دست اقدس تھام لیا اور عرض کیا ’’خدا کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبی بنا کر بھیجا ہے ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی طرح حفاظت کریں گے جس طرح اپنی عورتوں کی کرتے ہیں۔ ہم خدا کی قسم جنگ جو اور سامان حرب والے ہیں۔،،

جب بیعت ہوچکی اور اس امر کا فیصلہ ہوگیا کہ اب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فروغ دعوت حق کے لئے مدینہ منتقل ہونگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں سے بارہ نقیب منتخب فرمائے تھے اسی طرح میں بھی جبریل کے اشارہ سے تم میں سے بارہ نقیب منتخب کرتا ہو ں تاکہ یہ لوگ اپنی اپنی قوم کے کفیل اور ذمہ دار ہوں۔ جس طرح حواری عیسیٰ علیہ السلام کے کفیل تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بارہ اشخاص کا انتخاب فرمایا جن کے اسمائے گرامی یہ ہیں:۔

قبیلہ خزرج

  1. اسعدبن زرارہ رضی اللہ عنہ
  2. سعد بن الربیع رضی اللہ عنہ
  3. عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ
  4. سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ
  5. منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ
  6. براء بن معرور رضی اللہ عنہ
  7. عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ
  8. عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ
  9. رافع بن مالک رضی اللہ عنہ

قبیلہ اوس

  1. اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ
  2. ابو الہیثم بن تیہان رضی اللہ عنہ
  3. سعد بن خثیمہ رضی اللہ عنہ

بیعت عقبہ ثانیہ ان امور کے حوالے سے جن پر بیعت کی گئی بیعت عقبہ اولیٰ سے کلیتہ مختلف تھی۔ بیعت عقبہ اولٰی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریاست مدینہ میں ایک اخلاقی اور معاشرتی انقلاب کی بنیاد رکھی تھی۔ جبکہ اس بیعت کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف اہل وفد سے اسلام کے لئے کٹ مرنے اور دین حق کی حمایت میں جان تک لڑا دینے کا عہد لے لیا بلکہ ہر موثر گروہ پر اپنا نقیب بھی مقرر کردیا دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ اقدام بالواسطہ طور پر مدینہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقتدار کے قیام کی علامت تھا۔

ہجر ت مدینہ

بیعت عقبہ ثانیہ ایک لحاظ سے اس امر کا اعلان تھی کہ مستقبل قریب میں تحریک اسلام کا مرکز مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ منتقل کردیا جائے گا۔ اس بیعت کے ساتھ ہی آپ نے مسلمانوں کو مدینہ کی طرف ہجرت کی اجازت فرما دی۔ ہجرت کا حکم ملتے ہی مسلمان آہستہ آہستہ یثرب چلے گئے۔ ہجرت اتنے وسیع پیمانے پر ہوئی کہ مکہ میں محلے کے محلے خالی ہوگئے۔ اہل اسلام کی مکہ سے مدینہ ہجرت جہاں نئے مرکز اسلام میں اہل حق کی افرادی قوت کا باعث تھی وہاں ان مہاجرین کی تبلیغی و دعوتی مساعی کی بدولت فروغ اسلام کا سبب بھی تھی۔

ہجرت کے لئے حبشہ پر مدینہ کو ترجیح دینے کی وجوہات :

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آٹھ سال قبل بھی کفار مکہ کے مظالم کے وجہ سے اہل اسلام کو حبشہ کی طرف ہجرت کر جانے کی اجازت دی تھی مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود حبشہ ہجرت نہ فرمائی جبکہ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کے لیے آپ نے باقاعدہ منصوبہ بندی کی۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کے لئے حبشہ پر مدینہ کو ترجیح اس لئے دی کہ :۔

1۔ حبشہ میں باقاعدہ حکومت موجو د تھی۔ نجاشی شاہ حبش کی فرماں روائی میں وہاں ایک باقاعدہ سیاسی نظام چل رہا تھا۔ اگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی حبشہ ہجرت فرماتے تو ایک سیاسی حکومت میں مہمان یا عام شہری کی حیثیت سے آپ تشریف لے جاتے جبکہ مدینہ میں طویل خانہ جنگی کی وجہ سے نراج کی کیفیت تھی۔ اور کوئی باقاعدہ حکومت موجود نہ تھی۔ اس طرح مدینہ منورہ میں اس امر کے زیادہ مواقع موجود تھے کہ آپ وہاں ایک باقاعدہ سیاسی مملکت کی بنیاد رکھ سکتے۔

2۔ حبشہ میں بہت سے مسلمان پہلے سے موجود تھے اس طرح ان پر زیادہ بوجھ ڈالنا کسی طرح بھی مناسب نہ تھا۔

3۔ حبشہ کا سفر دشوار بھی تھا اور اسے طے کرنے کے لئے سمندر عبور کرنا پڑتا تھا، مکہ کے حالات اور کفار و مشرکین کی مسلسل سازشوں کے سبب سے حبشہ کا سفر کسی طور محفوظ نہ تھا۔

4۔ حبشہ کی کسی ذمہ دار جماعت نے قبول اسلام کے بعد بیعت عقبہ ثانیہ کی طرز کا کوئی معاہدہ کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حبشہ آنے اور حبشہ کو مرکز اسلام بنانے کی دعوت نہ دی تھی۔ اس طرح سیاسی و معاہداتی تحفظ اس امر کا متقاضی تھا کہ آپ حبشہ کی بجائے مدینہ میں ہی تشریف لے جاتے۔

5۔ بیعت عقبہ اولیٰ و ثانیہ کے بعد مختلف مبلغین اور نقباء کے تقرر سے یثرب میں اسلام کے فروغ اور قبول عام کی فضا سے یہ حقیقت ھویدا تھی کہ حبشہ کی نسبت مدینہ میں فروغ اسلام کے زیادہ مواقع تھے۔ اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ اور اہل مدینہ کے متعلق ارشاد فرمایا کہ :۔

’’اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ایسے بھائی اور ایسا گھر فراہم کردیا ہے کہ وہاں بے خوف و خطر رہ سکتے ہو۔،،

(البدايه والنهايه)

6۔ مدینہ منورہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ننھیال تھے۔ اس حوالے سے آپ کئی بار مدینہ تشریف لے گئے تھے اور شہر مدینہ کے ماحول اور وہاں کے پورے نقشہ سے آپ پوری طرح آگاہ تھے۔

7۔ حبشہ کی سر زمین قریش کی تجارتی منڈی تھی۔ جہاں جاکر وہ تجارت کرتے تھے۔ حبشہ میں اہل مکہ کے کثرت سے آمد ورفت کا ثبوت اس بات سے بھی ملتا ہے کہ حبشی زبان کے کئی الفاظ عربوں کے ہاں مستعمل تھے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید نے بھی متعدد حبشی الفاظ کو استعمال کیا ہے اپنے مخاطبین کو سمجھانے کے لئے سمندر کے حالات طوفان، خراب موسم اور کشیتوں کے چلنے جیسے حوالوں کو استعمال کیا ہے۔ جن سے عربوں کی شناسائی کا ایک بڑا سبب ان کا سفر حبشہ بھی تھا۔ عربوں کے اہل حبشہ سے گہرے تجارتی اور معاشی تعلقات بھی تھے کہ جب مسلمان ہجرت کے بعد حبشہ پہنچے تو انہیں ملک بدر کروانے کے لئے قریش مکہ نے عمرو بن العاص اور عبداللہ بن ابی ربیعہ جیسی امیر اور تاجر شخصیات کو سفیر بنا کر حبشہ روانہ کیا۔ اگرچہ اس وقت مسلمانوں کی حکمت عملی اور نجاشی کے دربار میں حضرت جعفر کے خطاب نے قریش کی اس سازش کو ناکام بنا دیا مگر مستقبل میں اس امر کا امکان موجود تھا کہ قریش مکہ اپنے اسی تعلق سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلمانوں کے لئے کوئی بڑی مشکل کھڑی کردیتے۔ اندریں حالات یہ قرین مصلحت تھا کہ حبشہ کی بجائے مدینہ منورہ کو ہی نئے مرکز اسلام کے لئے منتخب کیا جاتا۔

ہجرت کے وقت مدینہ کے حالات کا تجزیہ

اگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجرت کے وقت کے مدینہ کے حالات کا تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہی کہ اس دور کے مدینہ کے حالات اس حوالے سے سازگار تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس شہر کو مرکز اسلام بنا کر وہاں سے دعوت حق اور غلبہ دین کی جدوجہد کو موثر انداز میں آگے بڑھاتے اور وہ تمام تر مشکلات جن کا سامنا آپ کو مکہ میں تھا ان سے ماوراء ہوکر تحریک اسلام کے فروغ کے لئے اقدامات فرماتے۔

اس دور میں یثرب میں دو قومیں آباد تھیں۔

  1. یہود
  2. مشرک اور بت پرست

چونکہ یہود سماجی معاشی اور سیاسی اعتبار سے ایک با شعور قوم تھے انہوں نے صنعت و تجارت اور معاشرت و معیشت پر اپنی گرفت مضبوط کررکھی تھی ان کی حریف قوم اوس اور خزرج دو قبیلوں میں منقسم تھی چونکہ یہ دونوں قبیلے جنگجو فطرت کے حامل تھے اس لیے ان کی متحدہ قوت کسی وقت بھی یہود کے لئے خطرہ بن سکتی تھی۔ سو یہود کی قوت اور سیاسی و سماجی حیثیت کی بقا، تحفظ اور تسلسل اس صورت میں ممکن تھا کہ اوس و خزرج کسی طور بھی متحد نہ ہوتے اور باہم انتشار و افتراق کا شکار رہتے۔ یہود کی ان سازشوں کا نتیجہ یہ تھا کہ اوس اور خزرج باہمی نفاق کا شکار تھے اور کبھی متحد نہ ہوسکے تھے۔ اسی وجہ سے وہ معاشی اور معاشرتی طور پر مدینہ کے معاشرے میں پسماندہ تھے۔ قبل ہجرت کے زمانے میں یہود کی سازشوں کی وجہ سے ان پر جنگ کے بادل چھائے ہوتے تھے۔ چونکہ اوس، خزرج کے مقابلے میں کمزور تھے انہوں نے خزرج کے متقابل موثر مزاحمت کے لئے قریش مکہ کو اپنا حلیف بنانے کے لئے کوشش کی۔ انہی کوششوں کے دوران وہ اسلام کی دعوت سے بھی روشناس ہوئے تھے۔

سال 2 قبل ہجرت میں ہی اوس اور خزرج کو جنگ بعاث کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ اس میں اوس اور خزرج کے حلیف یہودیوں قبائل نے بھی حصہ لیا مگر بڑا جانی و مالی نقصان انہی قبائل کو ہوا جس کے نتیجے میں وہ عسکری، معاشی، سیاسی اور معاشرتی لحاظ سے کمزور ہوگئے۔ گو انہیں یہود کی سازشی حکمت عملی کا ادراک تھا مگر آپس کی ناچاقی، خلفشار و انتشار کے سبب سے وہ یہود کے خلاف کوئی موثر حکمت عملی اختیار نہ کرسکتے تھے۔ علاوہ ازیں یہود کو ان پر ایک نفسیاتی برتری بھی حاصل تھی جس کے سبب اوس و خزرج احساس کمتری کا شکار رہتے تھے۔ یہود اکثر اپنی الہامی کتب کی اس پیش گوئی کو بیان کرتے تھے کہ ’’عنقریب نبی آخر الزمان کا ظہور ہونے والا ہے۔ ہم اس کی پیروی کریں گے اور اس کے ساتھ مل کر تمہیں ہلاک کردیں گے جس طرح عاد و ارم ہلاک ہوئے تھے۔ ،،

اس پیش گوئی ہی کا اثر تھا کہ جب مدینہ سے مکہ آنے والے وفد نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کی اور دعوت اسلام سنی تو نبی آخر زماں پر ایماں میں سبقت لے جانے کے جذبے کے تحت فوراً دین اسلام قبول کرلیا اور ان کی ایمان و اسلام کی یہ اندرونی تحریک بالاخر بیعت عقبہ ثانیہ پر منتج ہوئی۔

اوس وخزرج کے مابین ہونے والی جنگ بعاث کے اثرات بہت ہی مہلک، انتشار انگیز اور تباہ کن تھے۔ جب جنگ ختم ہوئی تو سیاسی انارکی کا ماحول تھا۔ اوس و خزرج کے ارباب و اکابرین نے اس امر کا فیصلہ کیا کہ دونوں قبیلوں میں تنازعات کے خاتمے اور اتحاد و اتفاق کے قیام کے لئے کسی ایک شخص کو متفقہ طور پر بادشاہ بنا دیا جائے۔ گویا کہ اس ماحول میں مدینہ میں ایک مستقل سیاسی خلا موجود تھا جسے پر کرنے کے لئے خود مدینہ کے لوگ کسی قابل اعتماد، معتبر، اور متفقہ قیادت کے متلاشی تھے۔ اسی اثناء میں عبداللہ بن ابی بن سلول کے متفقہ حکمران کے طور پر تقرری پر لوگ رضامند ہوگئے۔ قبل اس کے کہ اس باقاعدہ حکمرانی کا اعلان ہوتا ہجرت نبوی وقوع پذیر ہوگئی اور اس طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہمہ گیر اور ’’قابل قبول قیادت کے سامنے عبداللہ بن ابی کا چراغ نہ جل سکا۔ اس صدمے کو عبداللہ بن ابی زندگی بھر نہ بھلا سکا۔ اور سازشوں کے تانے بانے بنتا رہا تاآنکہ اپنے نفاق کی بدولت وہ رئیس المنافقین بن گیا۔

ہجرت کے وقت کا انتخاب جس میں بلا شبہ الوہی راہنمائی کا عنصر بھی شامل تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے مثال بصیرت اور حکمت عملی کا مظہر تھا۔ کیونکہ بیعت عقبہ ثانیہ کے بعد مسلمانوں نے آپ کی اجازت سے مکہ سے مدینہ ہجرت شروع کردی تھی مگر آپ اپنی ہجرت کو مسلسل ملتوی فرماتے رہے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بار بار اجازت طلب کرنے کے باوجود آپ نے انہیں بھی روکے رکھا کیونکہ :۔

1۔ شروع ہی میں اگر آپ مکہ سے مدینہ ہجرت فرما جاتے تو مکہ میں رہ جانے والے کثیر تعداد میں مسلمانوں میں بددلی پھیلتی لہذا ضروری تھا کہ جب تک مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد مدینہ نہ پہنچ جاتی آپ مکہ میں ہی قیام پذیر رہتے۔

2۔ آپ کے مقرر کردہ نقباء اور مبلغین اگرچہ مدینہ میں دعوتی اور تبلیغی کوششیں جاری رکھے ہوئے تھے مگر پھر بھی مدینہ کے سیاسی نراج کی کیفیت میں یہ ضروری تھا کہ مکہ سے کچھ لوگ ہجرت کرکے پہلے مدینہ چلے جائیں تاکہ اہل مدینہ کے اسلام قبول کرنے پر مخالفین کی طرف سے آپ کی آمد کے بعد کی مزاحمت کی صورت میں افرادی قوت کا اضافہ ہوچکا ہوتا۔

3۔ اگرچہ مکہ میں شروع دن سے ہی کفار و مشرکین نے آپ کے خلاف اور اہل اسلام کے خلاف ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا تھا مگر یہ آپ کا کمال صبر و تحمل اور ضبط و استقلال تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت تک اپنا گھر نہ چھوڑا جب تک آپ کو یہ اطلاع نہ ملی کہ قریش کے سردار آپ کی جان کے درپے ہوگئے ہیں۔ اندریں حالات آپ نے اس وقت مکہ چھوڑا جبکہ آپ کے در اقدس کا قتل کے ارادے سے محاصرہ کیا جاچکا تھا۔

4۔ مکہ میں آپ صادق و امین مشہور تھے۔ کفار کی تمام تر مخالفتوں کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں کی ایک معتبر، قابل اعتماد اور قابل بھروسہ شخصیت تھے۔ اکثر لوگوں کی امانتیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھیں۔ مکہ چھوڑنے سے قبل ضروری تھا کہ آپ ان امانتوں کو ان کے مالکوں تک پہنچانے کا باقاعدہ انتظام فرماتے جیسا کہ کتب سیرت سے واضح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ چھوڑنے سے قبل حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ ذمہ داری سونپی۔

5۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود صرف ہجرت ہی نہ تھا بلکہ مدینہ کو مرکز اسلام بنا کر وہاں ایک آزاد اسلامی ریاست کا قیام بھی تھا۔ اگرچہ جنگ بعاث کے بعد مدینہ کے قبائل سیاسی استحکام کی تلاش میں تھے مگر بجائے مدینہ جاکر اسلامی اقتدار کے قیام کے لئے از خود مہم جوئی کے یہ زیادہ مناسب تھا کہ حالات کے فطری ارتقاء کے تحت اس مناسب وقت کا انتظار کیا جاتا کہ ماضی کے خلفشار اور باہمی جنگ و جدل کے اثرات سے تنگ آئے ہوئے قبائل خود اس نتیجے پر پہنچ جاتے کہ مدنی قبائل کو کسی متفقہ سیاسی قیادت کے تحت متحد کردیا جائے۔

ان حالات میں ہجرت مدینہ ظہور پذیر ہوئی، اور آپ کے مدینہ تشریف لے جاتے ہی آزا د اسلامی ریاست کی تشکیل عمل میں آگئی اور میثاق مدینہ طے پایا جس کے تحت تمام طبقات مدینہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سربراہ حکومت تسلیم کرلیا۔

میثاق مدینہ کے اثرات :

دنیا کے پہلے تحریری دستور ’’میثاق مدینہ،، کے تحت نہ صرف مدینہ میں موجود تمام طبقات ایک سیاسی وحدت میں بدل گئے اور وہاں کافی عرصے سے رائج سیاسی نراج، سیاسی استحکام میں بدل گیا بلکہ تحریک اسلام کے حوالے سے بھی میثاق مدینہ کے دیرپا اثرات مرتب ہوئے۔ جو تحریک اسلام کے فروغ اور سر زمین عرب میں کفر و شرک کے خاتمے پر منتج ہوئے :۔

1۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تشخص صرف دعوتی یا تبلیغی ہی نہ رہا بلکہ آپ کو سربراہ مملکت تسلیم کرلیا گیا۔ اسی طرح اس دستور کے تحت سیاسی، سماجی، عسکری اور قانونی و عدالتی اختیارات کا مرکز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مبارکہ کو تسلیم کرلیا گیا۔

2۔ مدینہ میں پہلی مرتبہ ایک باقاعدہ منظم ریاست وجود میں آئی۔ اور اسے ایک مضبوط آئینی و دستوری اساس فراہم کردی گئی جسے داخلی یا خارجی دشمنوں کی کوئی بھی سازش متزلزل نہ کرسکی۔

3۔ اسلام کو ایک مذہبی تحریک سے ماسوا مدینہ میں مختلف طبقات کی موجودگی کے باوجود ایک سیاسی قوت بھی تسلیم کرلیا گیا۔

4۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیاسی حیثیت کے اعتراف نے مدینہ و گرد و نواح میں اسلام کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔

5۔ یہ معاہدہ تحریک اسلام کی تاریخ میں ایک بہت بڑی پیش قدمی تھا۔ جس سے اسلام کو بے شمار علاقائی، سماجی، سیاسی اور مذہبی اکائیوں میں ایک نمایاں حیثیت مل گئی اسلام ایک مذہبی و دعوتی تحریک سے بلند ہوکر اس دورکی باقاعدہ سیاسی حکومتوں اور سلطنتوں کی سطح پر آگیا۔

6۔ مسلمان مکہ سے مدینہ میں نو آور د تھے۔ جہاں کے مختلف سیاسی، سماجی اور معاشرتی حالات میں قدم جمانے کے لئے مسلمانوں کو پر امن فضا درکار تھی۔ اگرچہ اب وہ کفار مکہ کی ستم آرائیوں سے محفوظ و مامون ہوچکے تھے مگر وہ اس حقیقت سے بھی غافل نہ تھے کہ کفار مکہ مسلسل ان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ میثاق مدینہ کے تحت یہود اور مشرک قبائل ان کے حلیف بن گئے اور ریاست مدینہ کے دفاع کی ذمہ داری کو سب نے مشترکہ طور پر قبول کرلیا۔ اگر میثاق مدینہ کے ذریعے مسلمانوں نے اپنی دفاعی حکمت عملی کو ٹھوس اور محفوظ بنیادوں پر استوار نہ کرلیا ہوتا تو کفار کی مدینہ کی طرف پیش قدمی کی صورت میں مسلمان اتنا موثر ردعمل نہ ظاہر کرسکتے اور اپنے دفاع میں انہیں کہیں زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔

7۔ میثاق مدینہ نے دفاعی معاہدہ ہونے کے ناطے ریاست مدینہ کے لئے ایک حفاظتی حصار کا کام کیا۔ اس کے علاوہ گرد و نواح کے قبائل پر مسلمانوں کی فوقیت اور برتری کی دھاک بیٹھ گئی کیونکہ مدینہ طیبہ میں یہود نے جو کہ غیر معمولی اثر و رسوخ کے حامل تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیاسی حاکمیت اور اقتدار کو تسلیم کرلیا تھا۔ اگرچہ قبل ازیں اسلام کو ایک نیا مذہب سمجھ کر اتنی اہمیت نہیں دی جاتی تھی مگر اس نمایاں سیاسی پیش رفت کے بعد گرد و نواح کے قبائل نے بھی اسلام کا دست و باز بننا شروع کردیا۔

8۔ میثاق مدینہ میں تمام ریاستی طبقات کے ساتھ برداشت، بقائے باہمی اور احترام و وقار کا سلوک روا رکھنے پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صلح جو، اعلی ظرف اور معتدل مزاج قیادت کا تصور ابھرا۔ اس طرح مخالفین نے آپ کے خلاف جو غلط فہمیاں پھیلا رکھی تھیں وہ چھٹنے لگیں۔ عوام الناس کو آپ کے قریب آنے کا موقع ملا اور اس طرح تحریک اسلام کے فروغ کا باعث بنا۔

9۔ میثاق مدینہ کے تحت ریاست مدینہ میں ایک عادلانہ اور منصفانہ معاشرے کا قیام ممکن ہوا۔ اس سے قبل مذہبی اور سماجی اختلافات و تضادات کے باعث ہر قبیلہ اپنے اپنے رسوم و رواج کے تحت مقدمات کا فیصلہ کرتا تھا۔ میثاق مدینہ کے تحت پہلی مرتبہ یہاں ایک مرکزی عدالتی نظام وجود میں آیا۔ جس کے تحت آخر ی اعلی ترین عدالتی اتھارٹی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تسلیم کیا گیا۔ اگرچہ میثاق مدینہ کے تحت لوکل لاء کا احترام بھی محفوظ رکھا گیا مگر ایک مرکزی عدالتی نظام کے قیام سے باہمی تضادات اور قانونی انتشار کا خاتمہ ہوگیا۔

10۔ میثاق مدینہ کی کثیر الجہاتی افادیت ہی کا نتیجہ تھا کہ اسلام کی قوت میں روز بروز اضافہ ہوتا گیا۔ ہجرت کے وقت مہاجر و انصار صحابہ کرام کی تعداد 400 تھی۔ صلح حدیبیہ کے وقت یعنی 6 ھ جری میں یہ تعداد 1400 ہوگئی جبکہ فتح مکہ کے وقت مسلمانوں کا لشکر 10,000 افراد پر مشتمل تھا۔ طائف کے محاصرے میں 12,000 مسلمان شریک تھے اور ہجر ت کے صرف 10 سال بعد حجۃ الوداع کے تاریخی موقع پر موجود مسلمانوں کی تعداد سوا لاکھ کے قریب تھی۔ 10 سال کے قلیل عرصے میں سر زمین عرب کے وسیع و عریض حصہ اور کثیر تعداد افراد کو اسلام کا حصہ بنا دینا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے مثال بصیرت، اور موثر و نتیجہ خیز حکمت عملی کا نتیجہ تھا۔ جس میں میثاق مدینہ کو ایک اساسی سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved