Misaq-e-Madina ka A’ini Tajzia

حصہ سوم

میثاق مدینہ مستشرقین کی نظر میں

مستشرقین نے جب کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں لکھا، حقائق کے بیان اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیغمبرانہ عظمت کو کما حقہ بیا ن کرنے کے لئے انہوں نے حقیقت پسندی سے کم ہی کام لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی تاریخ میں آئین ریاست مدینہ کی جو اہمیت ہے اس کا آج تک ان کی طرف سے اعتراف نہیں کیا گیا مگر سیرت نبوی پر اپنی تحقیق و تحریر میں اہل مغرب میثاق مدینہ کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کر سکے۔ ذیل میں آئین ریاست مدینہ کے بارے میں چند مستشرقین کے تاثرات دیئے جا رہے ہیں:

تھامس آرنلڈ (Sir Thomas Arnold)

In order to appreciate his position after the Flight, it is important to remember the peculair character of Arab society at that time, as far at least as this part of the peninsula was concerned. There was an entire absence of any organised Administration or Judicial system such as in modern times we connect with the idea of a Government. Each tribe or class formed a separate and absolutely independent body, and this independence extended itself also to the individual members of the tribe, each of whom recognised the authority or leadership of his chief only as being the exponent of a public opinion which he himself happend to share but he was quite at liberty to refuse his conformity to the (even) unanimous resolve of his fellow clansmen. Further there was no regular transmission of the office of Chieftain . . . . . .

We can understand how Muhammad could establish himself at Madina as the head of a large and increasing body of adherents who looked upto him as their head and leader and acknowledged no other authority, . . . . . . . . without exciting any feeling of insecurity, or any fear of encroachment on recognised authority, . . . . . Muhammad thus exercised temporal authority over his people just as any other independent chief might have done, the only difference being that on the case of the Muslims a religious bond took the place of family blood ties.

(The Preaching of Islam)

ہجرت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پوزیشن کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ اس دور کے عرب کے یا کم از کم جزیرہ نما ئے عرب کے اس متعلقہ حصے (مدینہ منورہ) کے حالات کو سامنے رکھا جائے۔ اس وقت وہاں کسی بھی طرح کا کوئی انتظامی یا عدالتی نظام نہیں تھا جس طرح آج حکومت کے تصور کے ساتھ ہمارے ذہنوں میں آتا ہے ہر قبیلہ یا جماعت کا الگ آزادانہ وجود تھا اور پھر اس قبیلہ یا جماعت کی یہ آزادی اس کے افراد تک پھیلی ہوئی تھی۔ یعنی ان میں سے ہر فرد اپنے سردار کے اختیار کو صرف اس لئے مانتا تھا کہ وہ قبیلہ بھر کی مشترکہ رائے کا مظہر ہوتا تھا لیکن اس کے باوجود وہ اس امر میںآزاد تھا کہ وہ اپنے ہم قبیلہ ساتھیوں کی اجتماعی رائے سے بھی اختلاف کرے۔ مزید یہ کہ قبیلہ کے سردار کا باقاعدہ کوئی اختیاراتی نظام بھی نہیں تھا۔

(ان حالات کے پیش نظر) ہم سمجھ سکتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کس طرح مدینہ کے مختلف النوع افراد سے بطور سربراہ اپنے آپ کو اور اپنے اختیار کو منوالیا تھا (جو آپ کی کمال سیاسی بصیرت کا مظہرہے) اور لوگوں نے یہ سب کچھ بغیر کسی احساس عدم تحفظ یا کسی حکومتی جبر و دباؤ کے کیا تھا۔ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح اپنے لوگوں پر دنیاوی اختیار حاصل کیا جس طرح دوسرے آزاد سردار وں کو اپنے قبائل پر حاصل تھا۔ مگر یہاں ایک واضح فرق موجود تھا کہ یہاں باہمی رشتہ خون پر مبنی تعلق نہیں بلکہ مذہب تھا۔

آر۔ اے۔ نکلسن (R. A. Nicholson)

Muhammad's first care was to renconcile the desperate factions within the city and to introduce law and order among the heterogeneous elements which have been described. "He drew up in writing a charter between the Emigrants and the Helpers, in which charter he embodied a covenant with the Jews, confirming them in the exercise of their religion and in the possession of their properties, imposing upon them certain obligations and granting to them certain rights." This remarkable document is extant in Ibn Hisham's Biography of Muhammad. Its contents have been analysed in masterly fashion by Wellhausen, who observes with justice that it was no solemn covenant, accepted and duly ratified by the representatives of the parties concerned, but merely a decree of Muhammad based upon condition already existing which developed since his arrival in Madina.

At the same time no one can study it without being impressed by the political genius of the author. Ostensibly a cautious and tactful reform, it was in reality a revolution. Muhammad durst not strike openly at the independence of the tribes, but he destroyed it, in effect, by shifting the centre of power from the tribe to the community; and although the community included Jews and pagans as well as Muslims, he fully recognised, what his opponents failed to see, that the Muslims were active, and must soon be the predominant partners in the newly founded state.

(A Literary History of the Arabs)

مدینہ آنے کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پہلا کام شہر کے اندر مختلف طبقوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا اور مختلف النوع عناصر میں امن و امان کا قیام تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کے مابین ایک معاہدہ طے کروایا اس کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودیوں کے ساتھ بھی معاہدہ کیا جس کے تحت انہیں اپنے مذہب پر رہنے اور اپنی املاک کی ملکیت کا اختیار دیا گیا اس کے ساتھ ہی انہیں کچھ حقوق دیتے ہوئے کچھ فرائض کا بھی پابند کیا گیا۔ یہ تاریخی دستاویز ابن اسحاق کی سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اب بھی موجود ہے۔ ول ھاسن نے اس کے مشمولات و مندرجات کا ماہرانہ تجزیہ بھی کیا ہے جس کا خیال یہ ہے کہ (قطع نظر اس سے کہ ول ھاسن کا خیال کتنا صائب ہے!) یہ کوئی ایسا با ضابطہ معاہدہ نہ تھا جس کی متعلقہ پارٹیوں کے نمائندوں نے باہمی اتفاق کے بعد توثیق کی ہو بلکہ یہ پہلے سے موجود انہی شرائط و حالات پر مبنی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان تھا جو آپ کے مدینہ آنے پر سامنے آئے تھے۔

(یہ ایک حقیقت ہے کہ) کوئی شخص بھی اس دستاویز کا مطالعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیاسی بصیرت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں کرسکتا۔ یہ دستاویز بدیہی طور پر ایک محتاط اور مبنی پر بصیرت اصلاح تھی، حقیقتاً یہ ایک انقلاب تھا۔ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظاہراً تو قبیلوں کی آزادی پر کوئی ضرب نہیں لگائی مگر درحقیقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرکز قوت کو قبیلہ سے قوم کی طرف منتقل کر کے اس کے اثر کو ختم کردیا۔ اگرچہ قوم میں یہود، کفار اور مسلمان شامل تھے جیسا کہ دستور میں تسلیم کیا گیا، مگر اس حقیقت کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مخالف نہ دیکھ سکے کہ مسلمان فعال اور متحرک تھے اور بہت جلد نوتشکیل شدہ ریاست کے نمایاں اور غالب حکومتی حصہ دار بننے والے تھے۔

ول ھاسن J. Wellhausen))

The community (of Madina) was divided into two hostile camps - Aus and the Khazraj. Murder and manslaughter were the order of the day; no body dared venture out of his quarter without danger; there reigned a tumult in which life was impossible. What was wanted was a man to step into banish anarchy; but he must be neutral and not involved in the domestic rivalry. Then came the Prophet from Mecca, as if God-sent. Blood, as a bond of union, had failed; he put faith in its place. He brought with him a tribe of Believers, the companions of his flight from Mecca, and slowly advancing steadly step by step, he established the commonwealth of Madina on the basis of religions as an Ummat Allah, a congregation of God ....... what had to be done was the elementary work, the establishment of order and the restoration of peace and right. Since there was no other authority a religious authority took the lead, got the power into its hands and secured its position by performing what was expected of it. Muhammad displayed the gift of ability to deal with affairs in the mass .....

In the circumstances stated the power of the religion appeared chiefly as a political force. It created a community, and over it an authority which was obeyed. Allah was the personification of the state supermacy. What with us is done in King's name was done in the name of Allah ..... The idea of ruling authorities, till then absolutely foreign to the Arabs, was introduced through Allah. In this there was also the idea that no outward or human power, but only a power inwardly acknowledged and standing above mankind, had the right to rule. The theocracy is the negation of the Mulk, or earthly kingdom. The privilege of ruling is not a privilege for the enjoyment of the holder of it; the kingdom belongs to God, but His Plenipotentiary,who knows and carries out His will is the Prophet. He is not only the harbinger of truth, but also the only lawful ruler upon earth. Besides him no king was a place, and also no other prophet ...... The Prophet represents the rule of God upon earth; Allah and His messenger and always bound up in each other, and stand together in the Creed. The theocracy may be defined as the commonwealth, at the head of which stands, not the king and the usurped or inherited power, but the Prophet and the Law of God.

(Arab Kingdom and its Fall)

مدینہ کی آبادی دو حریف گروہوں اوس اور خزرج میں تقسیم ہوچکی تھی۔ قتل عام روزانہ کا معمول تھا۔ کوئی آدمی بھی اپنے گھر سے باہر خطرہ مول لئے بغیر نہ نکل سکتا تھا۔ وہاں ایسی افراتفری کا بازار گرم تھا کہ زندگی محال تھی۔ اب یہاں ایک ایسی شخصیت کی ضرورت تھی جو اس لاقانونیت کا خاتمہ کرتی۔ لیکن وہ شخص غیر جانبدار ہوتا اور کسی مقامی حریفانہ آویزش میں شامل نہ ہوتا۔ اندرآں حالا ت مکہ سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے گویا آپ کو (مدینہ) میں خدا نے ہی بھیجا۔ خون کا رشتہ جو تعلق باہمی کی بنیاد کے طور پر ناکام ہوچکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جگہ عقیدہ کو رکھا۔ آپ اپنے ساتھ اہل ایمان کا ایک گروہ بھی لائے اور آہستہ آہستہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ میں ایک دولت مشترکہ کی بنیاد رکھ دی جس کی اساس امۃ اللہ یعنی اللہ کا گروہ تھا۔ آپ کے سامنے جو کرنے کے کام تھے ان میں ابتدائی کام قانون کا نفاذ اور امن و امان کی بحالی تھا چونکہ (مدینہ میں) کوئی حکمران نہ تھا سو (مذہبی حکمران کے طور ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیادت سنبھال لی، قوت اپنے ہاتھوں میں لے اور اپنی پوزیشن کو ایسے اقدامات سے مضبوط کرلیا جو ان حالات میں متوقع تھے۔ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان معاملات کو طے کرنے میں کمال (سیاسی) بصیرت و حکمت کا مظاہرہ کیا۔

ان حالات میں مذہب کی قوت ایک سیاسی قوت کے طور پر سامنے آئی اس سے ایک معاشرہ اور اس سے بھی بڑھ کر ایک مقتدر قوت سامنے آئی جس کی اطاعت کی جاتی تھی۔ ریاست کا اعلیٰ ترین برتر حاکم ذات الہی کو قرار دیا گیا۔ جو کچھ ہمارے ہاں بادشاہ کے نام پر ہوتا ہے، اللہ کے نام پر (یعنی اللہ کی حاکمیت اعلیٰ کے تحت) کیا جانے لگا۔ حکمرانی کا اختیار و اقتدار، اللہ کے اقتدار کے حوالے سے متعارف کروایا گیا جو اب تک عربوں کے لئے ایک اجنبی تصور تھا۔ اس طرح یہ تصور متعارف کروایا گیا کہ کوئی دنیاوی طاقت یا انسان حکمرانی کا (مطلقاً) حق نہیں رکھتا بلکہ یہ حق صرف ذات باری تعالیٰ کے لئے ہے جس کا اقرار اہل ایمان دل سے کرتے ہیںاور جو انسانوں سے بالاتر ہستی ہے۔ مذہب کی ریاست کا مطلب ملک یعنی زمینی بادشاہت کی نفی ہے۔ (انسان کے لیے) حکمرانی کے حق کا یہ مطلب نہیں کہ اسے اس حکمرانی سے لطف اندوز ہونے کا حق بھی ہے کیونکہ حکمرانی کا اور سلطنت کا (اصلاً) تعلق تو خدا سے ہے لیکن اس کا رسول اس کے احکامات کو لینے والا اور اس کی مرضی کے مطابق روبہ عمل کرنے والا ہے۔ پیغمبر نہ صرف سچائی کی طرف ہدایت کرنے والا بلکہ زمین پر واحد مجاز حکمران ہے۔ آپ کے علاوہ نہ ہی تو کوئی حکمران ہے اور نہ ہی کوئی پیغمبر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا میں اللہ کی حکمرانی کے نمائندہ ہیں۔ تعلیم و عقیدہ میں اللہ اور اس کا پیغمبر باہم دیگر متعلق ہیں۔ تھیوکریسی ایک ایسی دولت مشترکہ ہے جس کا سربراہ نہ کوئی بادشاہ ہے نہ ہی کوئی جبری یا وراثتی طاقت اور جہاں کا قانون خدا کا قانون ہے۔

فرانٹس بہل (Frants Buhl)

The task which awaited him placed the greatest strain on his diplomatic and organizing abilities. He could only rely with the absolute certainty on those who had migrated with him (the Muhajirun), for their whole existence depended entirely on him, and of course only there had migrated who were firmly convinced for the truth of his mission. In addition, there were those Madinese who had already adopted Islam or did so soon after his arrival, the so-called Ansar or ''helpers'' who, however, formed only a portion of the inhabitants of Madina. He only found direct opposition in a few families, like the Aws but at the same time there were a number who while they did not exactly oppose him reluctantly accepted the new relationship, the so-called munafikun who were to cause him much anxiety. . . . . A further danger lay in the fact that the old and bitter feud between the two chief parties, the Aws and Khazraj, had by no means died down but might easily break out again on any occassion. Finally, there were the Jews and the Judaicised tribes in Madina who played an important part because of their wealth and the support they had in the Jewish colonies of Khaiber . . . . .

Muhammad had to form a united community out of these heterogeneous elements. The first problem was how to procure the necessary means of subsistence for the emigrants, who were for the most part without means or work, which could for the time being only be done through the self-sacrifice of the Ansar. To strengthen their claims for protection, he ordered the relationship of brotherhood, to be created between each emigrant and a man of Madina.....

On the other hand, we possess for a some what later period when relationship between Muhammad and the Jews had begun to be strained, a valuable document in Muhammad's constitution which has been preserved by Ibn Ishak. It reveals his great diplomatic gifts for it allow the ideal which he cherished of an Umma definetly religious in outlook to sink temporarily into the background and is shaped essentially by practical considerations. It is true that the highest authority is with Allah and Muhammad, before whom all matters of importance are to be laid, but the Umma included also Jews and pagans . . . . .

(Shorter Encyclopaedia of Islam)

(ہجرت مدینہ کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جس امر کا سامنا تھا وہ آپ کی سیاسی اور تنظیمی صلاحیتوں کے لئے عظیم ترین مشقت کا باعث تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پورے وثوق کے ساتھ اپنے انہی ساتھیوں پر اعتماد کرسکتے تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہجرت کر کے مدینہ آئے تھے۔ کیونکہ ان کی بقا کا انحصار کلیتہ آپ کے ساتھ وابستگی پر ہی تھا۔ اور یہ کہ ہجرت کرنے والے وہی لوگ تھے جنہوں نے پورے شرح صدر کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشن کی صداقت کو قبول کرلیا تھا۔ (ان مہاجرین) کے علاوہ اہل مدینہ میں سے بھی کچھ لوگ تھے جو یا تو آپ کی ہجرت سے پہلے ہی یا آپ کی ہجرت کے فوراً بعد اسلام قبول کرچکے تھے۔ انہیں انصار کا نام دیا گیا تھا تاہم یہ لوگ مدینہ کے باشندوں کا صرف ایک حصہ تھے۔ (مدینہ میں) آپ کو چند ایک خاندانوں مثلاً ’’اوس،، کی طرف سے بھی مخالفت کا سامنا تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ بہت سے ایسے بھی تھے جنہوں نے براہ راست آپ کی مخالفت نہیں کی بلکہ بادل نخواستہ انہوں نے اس نئے تعلق کو قبول کرلیا یہ لوگ منافقین کہلائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے کئی پریشانیوں کا باعث بنے۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ایک مزید خطرہ جس کا آپ کو سامنا تھا وہ مدینہ کے دو بڑے گروہوں اوس اور خزرج میں موجودہ خطرناک دشمنی تھی جو ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی تھی بلکہ کسی بھی موقع پر دوبارہ بھڑک سکتی تھی۔ ان کے علاوہ مدینہ میں یہودی اور ان کے قبائل بھی تھے جنہوں نے (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف) اہم کردار ادا کیا کیونکہ وہ نہ صرف دولت مند تھے بلکہ انہیں خیبر میں موجود یہودی آبادیوں کی طرف سے بھی حمایت و مدد حاصل تھی۔

محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان مختلف النوع عناصر کو ایک طبقے میں تبدیل کرنا تھا۔ پہلا مسئلہ مہاجرین کی کفالت کے لئے ضروری ذرائع و وسائل پیدا کرنا تھا۔ کیونکہ ان میں سے اکثر و بیشتر بے سروسامان تھے اور ان کی آبادکاری فی الحال انصار کی ایثار و قربانی سے ہی ممکن تھی۔ انہیں مناسب تحفظ کی فراہمی کے لئے آپ نے رشتہ اخوت کے قیام کا اعلان فرمایا جو ایک مہاجر اور ایک انصار ی (مدینہ کے شہری) کے درمیان قائم کیا گیا۔

دوسری طرف، بعد کے دور میں جب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور یہودیوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوئے ہمیں ایک قابل قدر دستاویز، ’’محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آئین،، ملتا ہے جسے ابن اسحاق نے (اپنی کتاب میں) روایت کیا ہے۔ یہ دستوری دستاویز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظیم سیاسی بصیرت کی عکاس ہے کیونکہ اس کے تحت اس مثالی امۃ کا وجود عمل میں آیا جس کے لئے آپ نے جدوجہد کی تھی اور جو مذہبی مظہر کی حامل تھی اور اس کی تشکیل عملی بصیرت کی بنا پر کی گئی تھی۔ (اس ریاست میں دستور کے تحت) اعلیٰ ترین اقتدار اللہ تعالی اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تھا جن کے سامنے امت کے تمام اہم معاملے پیش کئے جاتے تھے، تاہم امت (ملک کی سیاسی وحدت) میں یہودی اور غیر مسلم بھی شامل تھے۔

ماؤرس گا ڈفرائے ڈی مامبائنز (Maurice Gaudferoy Demombynes)

In the course of the negotiations that he had undertaken during these past years, and in the difficult task of guiding the little flock of the faithful, Muhammad had assumed the role of a judge, a lawgiver and a chief, functions for which it would appear that he had become fit, suddenly and miraculously, as soon as he had planted his foot in Quba, at the gates of Madina . . . . . .

On arriving in Madina, Muhammad concluded with the local Arab tribes a pact which, without providing absolutely for their conversion to Islam, bound them to recognise his personal authority.

(Muslim Institutions)

ان آخری سالوں کے دوران کئے جانے والے معاہدوں اور اہل ایمان کی جماعت کی قیادت کے مشکل کام کے دوران محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک منصف، قانون دھندہ، اور سربراہ کا کردار حاصل کرچکے تھے۔ اور ان حیثیتوں میں آپ کی کارکردگی دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ مدینہ کی دہلیز پر قبا کے مقام پر اپنے قدم جماتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معجزانہ طور پر ان امور کے لئے موزوں ہوچکے تھے (حالانکہ آپ کا سابقہ سفر مذہبی نوعیت کا تھا)....

مدینہ پہنچتے ہی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقامی عرب قبائل کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس کے تحت آپ نے ان کے اسلام کی طرف واضح طور پر نہ پلٹنے کے باوجود بھی انہیں اپنے سربراہی اختیار تسلیم کرنے کا پابند کردیا۔

سرجان بیگٹ گلب (Sir John Bagot Glubb)

It will be seen from the subjects treated in the "covenant with the Jews" that the Messenger of God, immediately on his arrival in Madina, had been drawn into politics, administration and justice. As the executive leader of a growing community which was obliged to provide for its own survival and security, this development was probably inevitable. Neverthless, it marked a complete change in the Apostle's way of life. The patient, dedicated and persecuted Prophet had changed almost overnight into the politician and statesman. The change may, of course, have been more apparent than real. It is probable that he had long since foreseen that his mission would lead him into politics.

(The Life and Times of Muhammad)

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یہودیوں کے ساتھ معاہدہ کے مشمولات سے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ آنے کے فورا بعد کیا یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اب سیاسی، انتظامی اور عدالتی معاملات کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ ایک بڑھتے ہوئے (مسلم) معاشرے کے انتظامی سربراہ کے طور پر، جس کو بقاو تحفظ کی فراہمی ضروری تھی یہ ارتقاء لازمی تھا۔ تاہم اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں نمایاں تبدیلی آگئی۔ صابر، اپنے مشن کے ساتھ مخلص اور ایذا ئیں سہنے والے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یکدم ایک سیاستدان اور حکمران بن گئے۔ یہ بہت ہی نمایاں تبدیلی تھی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت پہلے اس حقیقت کو دیکھ لیا ہو کہ آپ کا مشن آگے چل کر سیاست (کے مرحلے) میں بھی داخل ہوجائے گا۔

مارگولیتھ (D.S. Margoliouth)

That the office of a Prophet involved all the duties of a king, and both religious and political leadership, was doubtless understood by him. And we can imagine the delight with which a man throughly qualified for ruling found himself at last in a position in which his talents could be exercised . . . . . . . The rudimentary organisation which had existed, among the tribes before his arrival did not immediately disappear. Gradually, however, the principle that all authority emanated from Muhammad permeated the constitution of Madina . . . . . . . Disputes between his followers were naturally brought to him to settle, and presently disputes between them and their neighbours.

(Muhammad and the Rise of Islam)

پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منصب بادشاہ و پیغمبر یعنی مذہبی اور سیاسی دونوں طرح کے مناصب کو محیط تھا۔ ہم اس موقع پر آپ کی مسرت کا تصور کرسکتے ہیں کیونکہ حکمرانی کا اہل ہوتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اب ایسا منصب حاصل کر لیا تھا جہاں آپ کی سیاسی صلاحیتیں کھل کر روبہ عمل ہوسکتی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ابتدائی (معاشرتی) تنظیم جو آپ نے اپنی مدینہ آمد پر مختلف قبائل کے درمیان پائی تھی فوراً تو ختم نہ ہوئی تاہم یہ اصول کہ تمام (ریاستی) اختیارات محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہی حاصل ہیں بتدریج آئینی اصول بن گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متبعین کے باہمی تنازعات، ان کے اور ان کے ہمسایوں کے باہمی تنازعات فیصلہ کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ہی پیش کئے جاتے تھے۔

روبن لیوی (Reuben Levy)

To outward seeming, then, little change immediately affecting the lives of Muslims was introduced by the charter. In reality, however, the document itself makes clear there has been made the great change that henceforward ultimate authority for the doings of the community rested not with the chiefs or the collective voice of the people, but Muhammad and beyond him, with Allah. This introduced an idea foreign to the Arabs namely that of an overlord. The individuals who compose the Islamic community are made to resign a good part of their ancient freedom, to forego their free choice of a leader and to bow to divine authority. They had in fact, become a theocracy, a community of God, a state in which the political power was held by Allah and his apostle Muhammad. There could be no distinction here of church and state. The Umma, the community, partook of the nature of the both and the purposes of one were the purposes of the other. Similarly, the Prophet derived his political power from his divine office, and nothing else.

(The Social Structure of Islam)

ظاہراً دیکھنے سے (ریاست مدینہ کے ) آئین سے ایسی تبدیلی کم ہی آئی جو مسلمانوں کی زندگیوں کو متاثر کرتی مگر درحقیقت جیسا کہ خود اس دستاویز سے ظاہر ہے ایک بہت بڑی تبدیلی وقوع پذیر ہوچکی تھی وہ یہ کہ اب ریاست کے افراد کے معاملات کو چلانے کا اختیار سرداروں یا لوگوں کی اجتماعی رائے کے پاس نہیں بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کے پاس تھا۔ اس طرح اس دستاویز نے عربوں کو ایک اجنبی تصور یعنی (دنیا سے) بالا حکمران سے متعارف کروایا۔ جو لوگ اسلامی ریاست کے رکن تھے وہ اپنی پرانی آزادی اور اپنا حکمران چننے کا اختیار ترک کر کے الوہی حاکمیت اعلیٰ کے سامنے جھک گئے تھے۔ اس طرح دراصل انہوں نے ایک تھیوکریسی یعنی خدائی مملکت قائم کی یعنی ایک ایسی ریاست جس میں سیاسی قوت اللہ اور اس کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھی اس ریاست میں مذہب و سیاست کی تمیز نہیں تھی امت کے لئے مذہب و سیاست اس طرح یکجان تھے کہ ایک کے مقاصد دوسرے کے بھی مقاصد تھے۔ اس طرح پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے الوہی احکام سے اپنی سیاسی قوت حاصل کی۔

جوزف ھیل (Joseph Hell)

The so-called ordinance governing the community of Madina shows so rare a statesmanship and is of such far-reaching import that we must acquaint ourselves with its main provisions....... these passages read as if they were laying down the basis of an Islamic state.

(The Arab Civilization)

ریاست مدینہ چلانے کے لئے نافذ کئے جانے والے آئین سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عدیم المثل سیاسی بصیرت سامنے آتی ہے اور اس کی اہمیت بہت زیادہ دور رس نتائج کی حامل ہے جس کے لئے ہمیں اس کی نمایاں اور اہم شقوں سے متعارف ہونا ہوگا،۔ ۔۔۔ کہ اس آئین کا متن اس بات کو واضح کرتا ہے کہ اس کے ذریعے ایک اسلامی ریاست کی بنیاد رکھ دی گئی۔

فرانسسکو جبریلی (Francesco Gabrieli)

The polytheists of Makkah appear as the common enemy, to which the composite community of Yathrib stands opposed, whether for religious or political reasons.

(Muhammad and the Conquests of Islam)

(میثاق مدینہ کے تحت) مکہ کے مشرکین اہل مدینہ کے مشترکہ دشمن قرار پائے جن کی مخالفت و مزاحمت کے لئے مذہبی یا سیاسی وجوہات کی بنا پر مدینہ کے تمام طبقات متحد ہوگئے۔

ڈریکاٹ (G.M. Draycott)

The treaty between Mahomet and the Bedouin Tribes markes the begining of a significant development in his foriegn policy. Like the Romans, and all military nations, he knew the worth of making advantageous alliances, while he was clear-sighted enough to realise that the struggle with Mecca was inevitable. During the months preceeding the battle of Bedr he concluded several treaties with desert tribes, and it is to this policy he owned in part his power to maintain his aggressive attitude towards Koreish, for with the alliance of the tribes around the Carvan routes Mahomet could be sure of hampering the Meccan trade.

(Mahomet)

محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور عرب قبائل کے درمیان معاہدہ آپ کی خارجہ پالیسی میں ایک نمایاں ارتقاء کا مظہر ہے۔ رومیوں اور تمام فوجی قوموں کی طرح آپ جانتے تھے کہ مفید اتحادوں (اور اشتراک) کے تشکیل دینے کی قدر و قیمت کیا ہے۔ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حقیقت سے بھی آگاہ تھے کہ اہل مکہ کے خلاف جدوجہد ناگزیر تھی۔ جنگ بدر کے بعد کے مہینوں میں آپ نے صحرائی قبائل کے ساتھ بھی کئی معاہدے کئے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی پالیسی کا نتیجہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قریش کے بالمقابل جارحانہ طرز عمل اختیار کرنے کی طاقت کے حامل ہوگئے تھے کیونکہ قبائل سے اتحاد کی حکمت عملی ہی کی وجہ سے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یقین تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تجارتی شاہراہ پر مکہ کی تجارت کا راستہ بند کرسکتے تھے۔

ہیو کینیڈی (Hugh Kennedy)

To begin with the Emigrants were quartered in the houses of those among the people of Madina who had invited them, now known as the Ansar or Helpers of the Prophet, but if this arrangement had continued, they might have become little more than hangers-on, constantly needing help and protection. To avoid this, a series of agreements were drawn up in the first two or three years after the Hijra, agreements which are known collectively as the Constitution of Madina. This takes the form of agreements between Muhajirun and the people of Yathrib (Madina). All the believers are described as umma, a community apart from the surrounding pagan society, and they are to make war as one. The bond between members of the umma transcends any bonds or agreements between them and the pagans and they are all to seek revenge if any Muslim is killed fighting "in the way of God". If, however, one Muslim kills another, then the normal rules of retaliation continue to operate, with the proviso that the Muhajirun, who had no close relatives in the city, were to be considered as a clan like any of the native clans of Madina. There are also clauses dealing with relations with the Jews, who are partners in the affairs of Madina and bear their share of the expenses of warfare as long as there is no treachery between them and the Muslims, although both Muslims and Jews will keep their own religion Muhammad is only mentioned twice, both times to emphasize that the arbitration of any disputes belongs to God and Muhammad; no other arbitrators are mentioned. The documents, then, tried to solve the problems of justice within the city and relations with outsiders, but they do not suggest that the power of Muhammad was absolute or lay any emphasis on religious affairs. Madina was to be a haram as Mecca was, for its people, and Muhammad was to be its founding holy man.

Clearly the constitution of Madina only illustrates some aspects of Muhammad's authority in the early years after the Hijra. In the eight momentous years which followed, his energies and those of his followers were devoted to establishing his unquestioned authority within Madina, conducting an effective struggle against Mecca, attracting the alliance of as many of the surrounding nomad tribes as would co-operate and working out the rules and role of the Muslim community. All these processes went hand in hand and the struggle against the Meccans was instrumental in the establishment of power within Madina, while the support of outside tribes materially to his eventual success.

(The Prophet and the Age of the Caliphates)

شروع میں مہاجرین اہل مدینہ، جنہوں نے انہیں مدعو کیا تھا، کے گھر وں میں رہ رہے تھے ان اہل مدینہ کو اب انصار یعنی مدد کرنے والا کہا جاتا ہے۔ لیکن اگر یہی انتظام جاری رہتا تو مہاجرین انصار پر ہی انحصار کرنے والے رہ جاتے۔ جہاں مہاجرین کو ہمیشہ مدد اور تحفظ کی ضرورت ہوتی۔ اس سے بچنے کیلئے ہجرت کے ابتدائی دو تین سالوں میں کئی معاہدات کئے گئے جنہیں اجتماعی طور پر میثاق مدینہ کہا جاتا ہے اس طرح مہاجرین اور اہل مدینہ کے درمیان معاہدہ طے پاگیا۔ تمام اہل ایمان ایک امت قرار دیئے گئے ایک ایسی قوم جو اردگرد کے اہل کفر معاشرہ سے الگ تھی۔ اور انہوں نے (مخالفین کے خلاف) جنگ بھی متحد ہوکر کرنا تھی۔ اس نو تشکیل شدہ امت کا باہمی رشتہ ان کے کفار کے ساتھ کسی بھی معاہدہ پر فائق تھا۔ اور اگر اللہ کی راہ میں کوئی مسلمان مارا جاتا تو سب نے متحد ہوکر اس کا بدلہ لینا تھا۔ تاہم اگر کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو قتل کرتا تو بدلہ لینے کے عام قوانین پر عمل کیا جاتا تھا اور مہاجرین کو، جن کا مدینہ میں کوئی رشتہ دار یا خاندان نہیں تھا اسی طرح ایک خاندان سمجھا جاتا تھا جس طرح مدینہ میں آباد دوسرے مقامی خاندان۔ اس طرح اس دستور میں یہود سے تعلق کی شقیں بھی تھیں، جو مدینہ کے معاملات کے فریق تھے۔ اور وہ، جب تک مسلمانوں اور ان کے درمیان کوئی معاہدہ شکنی نہ ہو، جنگ کے اخراجات میں اپنا حصہ برداشت کرتے تھے۔ اگرچہ یہود اور مسلمانوں کا الگ الگ مذہب تھا مگر دستور میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دو مرتبہ ذکر کیا گیا اور دونوں مرتبہ اس طرح کے کسی بھی معاملے کے فیصلے کا اختیار اللہ اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہے ان کے علاوہ کسی دوسرے منصف کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔ اس دستاویز نے شہریوں کے مابین انصاف کے قیام کے مسائل کو حل کرنے اور بیرونی قبائل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے لئے بنیادی کردار ادا کیا۔ تاہم اس دستور میں اس بات کی وضاحت نہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اختیارات مطلق ہیں (حالانکہ اس کا تذکرہ موجود ہے) نیز کسی مذہبی معاملات پر زور نہیں دیا گیا۔ مکہ کی طرح مدینہ کو بھی حرم قرار دیا گیا اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حرم کی بنیادی مقدس شخصیت قرار دیا گیا۔

ہجرت کے بعد ابتدائی سالوں میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اختیارات کو دستور مدینہ بدیہی طور پر بیان کرتا ہے۔ آنے والے اگلے آٹھ سالوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام نے اپنی توانائیاں مدینہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اعلیٰ تر حاکمیت کے قیام کے لئے وقف کردیں۔ جس کے لئے انہوں نے اہل مکہ کے خلاف موثر جدوجہد کی، مدینہ کے گرد آباد قبائل کے ساتھ ممکنہ حد تک اتحاد قائم کیا گیا اور ان کا تعاون حاصل کیا گیا اور مسلم معاشرے کے لئے اصولوں اور اس کے کردار کو واضح کیا گیا یہ سارے مراحل ساتھ ساتھ آگے بڑھتے رہے۔ اہل مکہ کے خلاف جدوجہد نے مدینہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طاقت کے استحکام میں اور بیرونی قبائل کی حمایت نے انجام کار آپ کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔

ٹروڈ اہلرٹ (Trude Ehlert)

A more significant factor in the termination of these early arrangements in Madina may have been the formal agreement established between Muhammad and all of the significant tribes and families. Fortunately, Ibn Ishak preserved a version of this very valuable document, called the Constitution of Madina ....... It reveals his (Holy Prophet's) great diplomatic skills, for it allows the ideal that he cherished of an Ummah (community) based clearly on a religious outlook to sink temporarily into the background and is shaped essentially by practical considerations. It is true that the highest authority with God and Muhammad before whom all matters of importance were to be laid but the Ummah as portrayed in the Constitution of Madina included also Jews and polytheists ......

(The Encyclopaedia of Islam)

مدینہ میں آپ کے کیے جانے والے ابتدائی اقدامات میں ایک بڑا نمایاں اقدام آپ کا مدینہ کے دوسرے تمام نمایاں قبائل اور خاندانوں سے ہونے والا معاہدہ تھا خوش قسمتی سے ابن اسحق نے اس قابل قدر دستاویز کو جسے ’’دستور ریاست مدینہ،، کا نام دیا جاتا ہے محفوظ رکھا۔ اس دستور سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظیم سیاسی حکمت عملی ظاہر ہوتی ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں ہی اس مثالی امت کی تشکیل کی راہ ہموار ہوئی جس کے لئے آپ نے جدوجہد کی تھی۔ یہ ریاست (الوہی قانون کے) پس منظر سے متعلق تھی اور عملی غور و خوض سے تشکیل پذیر ہوئی تھی۔ یہ سچ ہے کہ اعلیٰ تر اختیار اللہ اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہی تھا۔ جن کے سامنے تمام اہمیت کے معاملات پیش ہوتے تھے لیکن اس دستور میں امت کی تعریف کے مطابق یہود اور غیر مسلموں کو بھی امت میں شامل کیا گیا تھا۔

ولیم تھامسن (William Thomson)

Muhammad's flight from Mecca to Madina the famous Hijra under threat of murder, opened up a new era for Islam and for the world. For in Madina Muhammad set about vigorously from the very beginning to establish his new community, organised, not on the ancient basis of family and tribal loyalty, but on the revolutionary principle of obedience to God and to himself as God's apostle, through whom God's will and law for man were revealed.

(Twentieth Century Encyclopaedia of Religious

Knowledge)

کفار مکہ کی طرف سے قتل کی دھمکیوں کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکہ سے مدینہ کوہجرت سے اسلام اور دنیا بھر کے لئے ایک نئے دور کا آغاز ہوگیا کیونکہ مدینہ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روز اول سے ہی اپنی نئی ریاست کے قیام کے لئے جدوجہد شروع کردی جو خاندانی تعلقات اور قبائلی وفاداری کی پرانی بنیادوں پر استوار نہ تھی بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے انقلابی اصول پر استوار تھی۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے ہی اللہ کی رضا اور انسانوں کیلئے اس کے قانون کا اظہار ہوتا تھا۔

Muhammad's stronghold at Madina lay strategically athwart the Meccan carvan route to the North. The Prophet toiled and schemed to gain a stranglehold on their trade by detaching the tribes dwelling along that route from the Meccan affiliations either by skilful diplomacy or by a show of force when necessary this course led inevitably to war with Macca.

(Twentieth Century Encyclopaedia of Religious

Knowledge)

(میثاق مدینہ کے تحت ) مدینہ پر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے (سیاسی) اختیار کا مطلب شمال کی طرف سے اہل مکہ کے تجارتی راستے پر اختیار تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی تجارت پر کنٹرول حاصل کرنے کیلئے سخت منصوبہ بندی کی۔ اس کے لئے آپ نے تجارتی شاہراہ کے ساتھ رہنے والے قبائل کو اہل مکہ سے اپنی ماہرانہ سیاسی حکمت عملی یا طاقت کے اظہار کے ذریعے الگ کردیا جو ناگزیر انداز سے اہل مکہ سے جنگ ( اور پھر فتح مکہ) پر منتج ہوا۔

ایڈورڈ گبن(Edward Gibbon)

Muhammad in the exercise of a peaceful and benevolent mission, had been despoiled and banished by the injustice of his countrymen. The choice of an independent people had exalted the fugitive of Mecca to the rank of a sovereign; and he was invested with the just prerogative of forming alliances and waging defensive and offensive war ...... The injustice of Mecca and the choice of Madina transformed the citizen into a prince the humble preacher into the leader of armies.

(The Decline & Fall of the Roman Empire)

(مکہ میں) محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے پر امن اور خیرخواہی کے مشن کی وجہ سے اپنے ہم وطنوں نے ظلم کا نشانہ بنایا اور اپنے شہر سے نکال دیا۔ آپ کے آزاد لوگوں یعنی اہل مدینہ کے انتخاب نے آپ کو ہجرت کرنے والے سے حکمران بنا دیا۔ اور اہل مدینہ کی طرف سے (میثاق مدینہ کی صورت میں) آپ کو دوسری قوتوں کے ساتھ اتحاد تشکیل دینے اور دفاعی و اقدامی جنگیں کرنے کا اختیار دے دیاگیا۔

اہل مکہ کے ظلم اور پھر مدینہ کے انتخاب سے ایک عام شہری حکمران اور ایک مبلغ عسکری قائد میں بدل گیا۔

منٹگمری واٹ (W. Montgomery Watt)

(According to the constitution of Madina) The referring of disputes to Muhammad, closely connected with the recognition of him as Prophet. The wording of the constitution is that disputes are to be referred to God and to Muhammad. The idea that one of the functions of a Prophet; to mete out Justice occurs in a Meccan passage of the Quran "each community has a messenger, and when their messenger comes, judgement is given between them with justice and they are not wronged." (10:47,48) This point was doubtless realized by the Medinans when they recognized Muhammad as Prophet, part of what attracted them to him as the hope that he would be able to put an end to the internal disputes that made life in Madina intolerable.

(Muhammad at Madina)

(آئین مدینہ کے مطابق) مختلف ریاستی معاملات کا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا جانا اس بات کی دلیل تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اہل مدینہ نے پیغمبر تسلیم کرلیا۔ (آپ کو صرف پیغمبر ہی نہیں بلکہ ریاستی حکمران بھی تسلیم کیا گیا جس کا اعتراف کرنے میں واٹ نے علمی بخل سے کام لیا ہے ) دستور کے الفاظ یہ ہیں کہ تمام تنازعات فیصلہ کے لئے اللہ اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ یہ تصور کہ پیغمبر کے وظائف میں انصاف کا قیام بھی شامل ہے مکی سورۃ قرآن کی اس آیت میں ہے۔

’’ہر قوم کے پاس ایک پیغمبر آیا۔ اور جب رسول آجائے تو ان کے درمیان تمام فیصلے انصاف کے ساتھ کردیئے جاتے ہیں اور ظلم نہیں کیا جاتا۔

(10:47، 48)،،

جب اہل مدینہ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیغمبر تسلیم کیا تو یہ بات ان کے ذہن میں تھی اور اسی تصور کے تحت وہ (آپ کو مختار اعلی تسلیم کرنے کے لئے) آپ کی طرف راغب ہوئے کہ آپ ان اندرونی جھگڑوں کو ختم کردیں گے جنہوں نے مدینہ میں زندگی کو ناقابل برداشت بنادیا تھا۔

کتابیات

1۔ القرآن الحکیم

2۔ ابو داؤد السجستانی۔ سنن۔ دار احیائے السنۃ النبویہ۔ بیروت

3۔ ابن سعد، الطبقات الکبری۔ بیروت

4۔ ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، مکتبۃ المعارف بیروت الطبعہ الثانیہ 1978 ء

5۔ ژاں ژاک روسو، معاہدہ عمرانی، مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد۔ 1998ء

6۔ محمد حمید اللہ، ڈاکٹر، الوثائق السیاسیۃ، دارالارشاد، بیروت

7۔ محمد حمید اللہ، ڈاکٹر، عہد نبوی میں نظام حکمرانی، اردو اکیڈمی سندھ 1981ء

8. Afzal Iqbal, Dr; Diplomacy in Early Islam, Institute of Islamic Culture, Lahore, 1988.

9. D.S. Margoliouth, Mohammed and the Rise of Islam, New York, 1905.

10. Edward Gibbon, The Decline and Fall of Roman

Empire,The Modern Library Edition, New York.

11. Encyclopaedia of Islam, Leiden, New York, 1993.

12. Finer, S.E; Five Constitutions.

13. Frants Buhl, Shorter Encyclopaedia of Islam.

14. Francesco Gabrieli, Muhammad and the Conquests of Islam, Weidenfeld & Nicholson, London, 1968.

15. G.M. Draycott, Mahomet, London, 1916.

16. Hugh Kennedy, The Prophet and the Age of the

Caliphates, Longman, New York.

17. J. Wellhausen, The Arab Kingdom and Its Fall,

University of Calcutta, 1927.

18. John Bagot Glubb, Sir, The Life & Times of Muhammad, Stein & Day, New York, 1971.

19. Joseph Hell, The Arab Civilization,W.Heffer & Sons, Cambridge, 1926.

20. Levontin, The Myth of International Security.

21. Maurice Gaudferoy Demombynes, Muslim Institutions, George Allen & Unwin, London, 1954.

22. Phyllis Bennis, Calling the Shots,

Interlink Publishing Group, Inc., New York, 1996

23. R.A. Nicholson, A Literary History of the Arabs,Cambridge University Press, 1953.

24. Reuben Levy, The Social Structure of Islam, Cambridge University Press, 1959.

25. Stanely Fitzen & Maxine Baca Zinn, In Conflict & Order,

Simon and Schuster, Inc., 160 Gould Street,

Massachusetts, USA, 1991.

26. Thomas Arnold, Sir, The Preaching of Islam, Lahore, 1961.

27. Trude Ehlert, The Encyclopaedia of Islam.

28. W. Montgomery Watt, Muhmmad at Madina, OUP, Karachi, 1994.

29. William Thomson, Twentieth Century Encyclopaedia of Religious Knowledge.

Copyrights © 2024 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved