The Excellence of Merit of Fasting and Night Vigil

سحری اور افطاری کی فضیلت کا بیان

فَصْلٌ فِي فَضْلِ تَنَاوُلِ السَّحُوْرِ وَالإِفْطَارِ

سحری اور افطاری کی فضیلت کا بیان

اَلآیَاتُ الْقُرْآنِیَّةُ

وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیْلِج

(البقرة، 2: 187)

’’اور کھاتے پیتے رہا کرو یہاں تک کہ تم پر صبح کا سفید ڈورا (رات کے) سیاہ ڈورے سے (الگ ہو کر) نمایاں ہو جائے، پھر روزہ رات (کی آمد) تک پورا کرو‘‘

اَلأَحَادِیْثُ النَّبَوِیَّةُ

1. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم: تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُوْرِ بَرَکَةً. مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الصوم، باب برکة السحور، 2/678، الرقم: 1823، ومسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب فضل السحور وتأکید استحبابه واستحباب تأخیره وتعجیل الفطر، 2/ 770، الرقم: 1095، والترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء في فضل السحور، 3/88، الرقم: 708، والنسائي في السنن، کتاب الصوم، باب الحث علی السحور، 4/140، الرقم: 2144، وعبد الرزاق في المصنف، 4/227، الرقم: 7598.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سحری کھایا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہے۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

2. عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: لَا یَزَالُ النَّاسُ بِخَیْرٍ مَا عَجَّلُوْا الْفِطْرَ. مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الصیام، باب تعجیل الافطار، 2/692، الرقم: 1856، ومسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب فضل السحور وتأکید استحبابه واستحباب تأخیره وتعجیل الفطر، 2/771، الرقم: 1098، والترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء في تعجیل الإفطار، 3/82، الرقم: 699، ومالک في الموطأ، کتاب الصیام، باب ما جاء في تعجیل الفطر، 1/ 288، الرقم: 634، والشافعي في المسند، 1/104، وعبد الرزاق في المصنف، 4/226، الرقم: 7592.

’’حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ اس وقت تک خیر پر رہیں گے جب تک افطاری میں جلدی کرتے رہیں گے۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

3. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ نَبِيَّ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم و َزَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ تَسَحَّرَا فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ سَحُوْرِهِمَا قَامَ نَبِيُّ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم إِلَی الصَّلَاة فَصَلَّی قُلْنَا لِأَنَسٍ: کَمْ کَانَ بَیْنَ فَرَاغِهِمَا مِنْ سَحُوْرِهِمَا وَدُخُوْلِهِمَا فِي الصَّلَاة. قَالَ قَدْرُ مَا یَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِیْنَ آیَةً. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ وَالْبَیْهَقِيُّ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب مواقیت الصلاة، باب وقت الفجر، 1/215، الرقم: 551، وفي أبواب التهجد، باب من شحر فلم ینحم حتی صلی الصبح، 1: 381، الرقم: 1083، وأحمد بن حنبل في المسند، 3/234، الرقم: 13485، والبیهقي في السنن الکبری، 1/455، الرقم: 1979، وابن حجر عسقلاني في تلخیص الحبیر، 2/199، الرقم: 901.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت زید بن ثابت نے سحری کھائی۔ جب دونوں اپنی سحری سے فارغ ہوئے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور نماز پڑھی۔ ہم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ان کے سحری سے فارغ ہونے اور نماز میں شامل ہونے میں کتنا وقفہ تھا؟ فرمایا کہ جتنی دیر میں کوئی آدمی پچاس آیتیں پڑھے۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری، احمد اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

4. عَنْ أَبِي حَازِمٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ یَقُوْلُ کُنْتُ أَتَسَحَّرُ فِي أَهْلِي ثُمَّ یَکُوْنُ سُرْعَةٌ بِي أَنْ أُدْرِکَ صَلَاةَ الْفَجْرِ مَعَ رَسُوْلِ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَ أَبُوْ یَعْلی وَالطَّبَرَانِيُّ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب مواقیت الصلاة، باب وقت الفجر، 1/210، الرقم: 552، وأبو یعلی في المسند، 13/528، الرقم: 7533، والطبراني في المعجم الکبیر، 6/165، الرقم: 5871، وابن خزیمة في الصحیح، 3/215، الرقم: 1942، والرویاني في المسند، 2/190، الرقم: 1020.

’’ابو حازم نے حضرت سہیل بن سعد رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں اپنے گھر والوں میں سحری کھایا کرتا تھا۔ پھر جلدی کرتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پڑھ سکوں۔‘‘ اس حدیث کو امام بخاری، ابو یعلی اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔

5. عَنْ أَبِي عَطِیَّةَ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوْقٌ عَلَی عَائِشَةَ فَقُلْنَا: یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ، رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلی الله علیه وآله وسلم أَحَدُهُمَا یُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَیُعَجِّلُ الصَّلَاةَ وَالْآخَرُ یُؤَخِّرُ الْإِفْطَارَ وَیُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ قَالَتْ: أَیُّهُمَا الَّذِي یُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَیُعَجِّلُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: قُلْنَا: عَبْدُ ﷲِ یَعْنِي ابْنَ مَسْعُوْدٍ قَالَتْ کَذَلِکَ کَانَ یَصْنَعُ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم زَادَ أَبُوْ کُرَیْبٍ وَالْآخَرُ أَبُوْ مُوْسَی. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب فضل السحور وتأکید استحبابه واستحباب تأخیره وتعجیل الفطر، 2/771، الرقم: 1099، والترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء في تعجیل الإفطار، 3/83، الرقم: 702، وأبو داود في السنن، کتاب الصوم، باب ما یستحب من تعجیل الفطر، 2/305، الرقم: 2354، والنسائي في السنن، کتاب الصیام، باب ذکر اختلاف علی سلیمان بن مهران في حدیث عائشة في تأخیر السحور واختلاف ألفاظهم، 4/144، الرقم: 2161.

’’ابو عطیہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور مسروق حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کے پاس آئے، ہم نے عرض کیا: اے اُم المومنین! حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دو اصحاب میں سے ایک جلد روزہ افطار کر کے جلد نماز پڑھتے ہیں، دوسرے تاخیر سے روزہ افطار کر کے تاخیر سے نماز پڑھتے ہیں۔ ام المومنین نے پوچھا: وہ کون ہے جو جلد افطار کرتا اور جلد نماز پڑھتا ہے! ہم نے عرض کیا: وہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ہیں! حضرت عائشہ نے فرمایا: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھی یہی معمول تھا۔ ابو کریب کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ دوسرے صاحب حضرت ابو موسیٰ ہیں۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم، ترمذی اور ابو داود نے روایت کیا ہے۔

6. عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: قَالَ ﷲُ ل: أَحَبُّ عِبَادِي إِلَيَّ أَعْجَلُهُمْ فِطْرًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ.

أخرجه الترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء في تعجیل الإفطار، 3/83، الرقم: 700، وأحمد بن حنبل في المسند، 2/237، الرقم: 7240، وأبو یعلی في المسند، 10/378، الرقم: 5974، وابن حبان في الصحیح، 8/275، الرقم: 3507، والطبراني في المعجم الأوسط، 1/54، الرقم: 149، والبیهقي في السنن الکبری، 4/ 237، الرقم: 7909.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے سب سے پسندیدہ بندے وہ ہیں، جو روزہ جلد افطار کرتے ہیں۔‘‘

اِس حدیث کو امام ترمذی اور احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے۔

7. عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: لَا یَزَالُ الدِّیْنُ ظَاهِرًا مَا عَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَ لِأَنَّ الْیَهُوْدَ وَالنَّصَارَی یُؤَخِّرُونَ.

رَوَاهُ أَبُوْ دَاوٗدَ وَابْنُ أَبِي شَیْبَةَ.

أخرجه أبو داود في السنن، کتاب الصوم، باب ما یستحب من تعجیل الفطر، 2/305، الرقم: 2353، وابن أبي شیبة في المصنف، 2/ 277، الرقم: 8944، وأحمد بن حنبل فيالمسند، 2/450، الرقم: 9809، والنسائي في السنن الکبری، 2/253، الرقم: 3313، وابن حبان في الصحیح، 8/273، الرقم: 3503، والحاکم في المستدرک، 1/596، الرقم: 1573.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دین ہمیشہ غالب رہے گا جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے کیونکہ یہود و نصاریٰ دیر کیا کرتے ہیں۔‘‘ اس حدیث کو امام ابو داود اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

8. عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: لَا یَزَالُ النَّاسُ بِخَیْرٍ مَا عَجَّلُوْا الْإِفْطَارَ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَأَحْمَدُ.

أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب الصیام، باب ما جاء في تعجیل الإفطار، 1/541، الرقم: 1697، وأحمد بن حنبل في المسند، 5/147، الرقم: 21350، والطبراني في المعجم الکبیر، 6/191، الرقم: 5963، وعبد بن حمید في المسند، 1/168، الرقم: 458، وأبو نعیم في حلیة الأولیائ، 7/136.

’’سہل بن سعد سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگ اس وقت تک بھلائی پر رہیں گے جب تک افطار میں جلدی کریں گے۔‘‘

اس حدیث کو امام ابن ماجہ اور احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے۔

9. عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَةَ قَالَ: دَعَانِي رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم إِلَی السَّحُوْرِ فِي رَمَضَانَ فَقَالَ: هَلُمَّ إِلَی الْغَدَائِ الْمُبَارَکِ.

رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَأَحْمَدُ.

أخرجه أبو داود في السنن، کتاب الصوم، باب من سمی السحور الغدائ، 2/303، الرقم: 2344، وأحمد بن حنبل في المسند، 4/126، والطبراني في المعجم الکبیر، 18/251، الرقم: 628، والمزي في تهذیب الکمال، 5/230، الرقم: 1019، والمنذري في الترغیب والترهیب، 2/89، الرقم: 1618.

’’حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے رمضان میں سحری کھانے کے لئے بلایا تو فرمایا: صبح کے مبارک کھانے کی طرف آؤ۔‘‘

اِس حدیث کو امام ابو داود اور احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے۔

10. عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ فَصْلُ مَا بَیْنَ صِیَامِنَا وَصِیَامِ أَهْلِ الْکِتَابِ أَکْلَةُ السَّحَرِ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب فضل السحور وتأکید استحباب تأخیره وتعجیل الفطر، 2/770، الرقم: 1096، والترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء في فضل السحور، 3/88، الرقم: 708، وأبو داود في السنن، کتاب الصوم، باب في توکید السحور، 2/302، الرقم: 2343، والنسائي في السنن، کتاب الصیام، باب فصل ما بین صیامنا وصیام أهل الکتاب، 4/146، الرقم: 2166، وأحمد بن حنبل في المسند، 4/197، الرقم: 17797، والدارمي في السنن، 2/11، الرقم: 1697.

’’حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں صرف سحری کھانے کا فرق ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم، ترمذی اور ابو داود نے روایت کیا ہے۔

11. عَنْ عَبْدِ ﷲِ بْنِ الْحَارِثِ یُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم وَهُوَ یَتَسَحَّرُ فَقَالَ: إِنَّهَا بَرَکَةٌ أَعْطَاکُمُ ﷲُ إِیَّاهَا فَـلَا تَدَعُوْهُ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.

أخرجه النسائي في السنن، کتاب الصیام، باب فضل السحور، 4/ 145، الرقم: 2162، وفي السنن الکبری، 2/ 79، الرقم: 2472، والمقدسي في فضائل الأعمال، 1/45، الرقم: 181، والمنذري في الترغیب والترهیب، 2/ 90، الرقم: 1621.

’’عبد اﷲ بن حارث حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا: میں سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سحری تناول فرما رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ اللہ کی دی ہوئی برکت ہے، تم اسے ترک نہ کیا کرو۔‘‘ اس حدیث کو امام نسائی نے روایت کیا ہے۔

12. عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: نِعْمَ سَحُوْرُ الْمُؤْمِنِ التَّمْرُ.

رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

أخرجه أبو داود في السنن، کتاب الصوم، باب من سمی السحور الغدائ، 2/ 303، الرقم: 2345.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن کی بہترین سحری کھجور ہے۔‘‘

اِس حدیث کو امام ابو داود نے روایت کیا ہے۔

13. عَنْ أَبِي سَعِیْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: اَلسَّحُوْرُ أَکْلُهُ بَرَکَةٌ فَـلَا تَدَعُوْهُ وَلَوْ أَنْ یَجْرَعَ أَحَدُکُمْ جُرْعَةً مِنْ مَائٍ فَإِنَّ اﷲَ ل وَمَلَائِکَتَهُ یُصَلُّوْنَ عَلَی الْمُتَسَحِّرِیْنَ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادٍ صَحِیْحٍ.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 3/12، 44، الرقم: 11101، 11414، والمنذري في الترغیب والترهیب، 2/90، الرقم: 1623، وقال: رواہ أحمد وإسنادہ قوي.

’’حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سحری کرنا سراپا برکت ہے، لہٰذا اسے نہ چھوڑو، اگرچہ پانی کے ایک گھونٹ کے ذریعے ہی ہو۔ اللہل اور فرشتے سحری کھانے والوں کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں۔‘‘

اسے امام احمد نے صحیح سند کے ساتھ ذکر کیا ہے۔

14. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما عَنِ النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: اسْتَعِیْنُوْا بِطَعَامِ السَّحْرِ عَلَی صِیَامِ النَّهَارِ وَبِالْقَیْلُوْلَةِ عَلَی قِیَامِ اللَّیْلِ.

رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَابْنُ خُزَیْمَةَ وَالْحَاکِمُ.

أخرجه ابن ماجہ في السنن، کتاب الصیام، باب ما جاء في السحور، 1/540، الرقم: 1693، وابن خزیمة في الصحیح، 3/214، الرقم: 1939، والحاکم في المستدرک، 1/588، الرقم: 1551، والبیهقي في شعب الایمان، 4/183، الرقم: 4742، والقرطبي في الاستذکار، 2/83، الرقم: 3.

’’حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنھما نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سحری کے کھانے کے ذریعے دن کے روزہ (کو پورا کرنے) کے لئے مدد لو اور قیلولہ (دوپہر کو کچھ دیر کی نیند) کے ذریعے رات کے قیام کے لئے مدد لو۔‘‘ اِس حدیث کو امام ابن ماجہ، ابن خزیمہ اور حاکم نے روایت کیا ہے۔

15. عَنْ جَابِرٍ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: إِنَّ لِلّٰهِ عِنْدَ کُلِّ فِطْرٍ عُتَقَاءَ وَذَلِکَ فِي کُلِّ لَیْلَةٍ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَأَحْمَدُ.

أخرجه ابن ماجہ في السنن، کتاب الصیام، باب ما جاء في فضل الصیام، 1: 525، الرقم: 1643، وأحمد بن حنبل عن أبي أمامة في المسند، 5/256، الرقم: 22256، والطبراني في المعجم الکبیر، 8/284، الرقم: 8088، 8089، والبیهقي في شعب الإیمان، 3/304، الرقم: 3605.

’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر افطار کے وقت اور ہر رات میں لوگوں کو دوزخ سے آزاد کیا جاتا ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام ابن ماجہ اور احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے۔

16. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی اﷲ عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: إِنَّ اﷲَ وَمَلَائِکَتَهُ یُصَلُّوْنَ عَلَی الْمُتَسَحِّرِیْنَ. رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ وَأحْمَدُ.

أخرجه ابن حبان في الصحیح، 8/245، الرقم: 3467، و احمد بن حنبل في المسند، 3/ 12، الرقم: 11101، و المنذری في الترغیب و الترهیب، 2/89، الرقم: 1617، و الهیثمي في مجمع الزوائد، 3/150.

’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے سحری کھانے والوں کے لئے دعا کرتے ہیں۔‘‘

اِس حدیث کو امام ابن حبان اور احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے۔

17. عَنْ عَبْدِ ﷲِ بْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: ثَـلَاثَةٌ لَیْسَ عَلَیْهِمْ حِسَابٌ فِیْمَا طَعِمُوْا إِذَا کَانَ حَلَالاً: الصَّائِمُ وَالْمُتَسَحِّرُ وَالْمُرَابِطُ فِي سَبِیْلِ ﷲِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

أخرجه الطبراني في المعجم الکبیر، 11/359، الرقم: 12012، والمنذري في الترغیب والترهیب، 2/90، الرقم: 1622.

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو تین آدمیوں کے کھانے کا کوئی حساب نہیں ہوگا بشرطیکہ (ان کا کھانا) حلال ہو۔ روزہ دار کا، سحری کرنے والے کا، مجاہد کا۔‘‘

اِس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

18. عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: لَا تَزَالُ أُمَّتِي عَلَی سُنَّتِي مَالَمْ تَنْتَظِرْ بِفِطْرِهَا النُّجُومَ. رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ.

أخرجه ابن حبان في الصحیح، 8/277، الرقم: 3510، والحاکم في المستدرک، 1/ 599، الرقم: 1584، وابن خزیمة في الصحیح، 3/275، الرقم: 2061، والمنذري في الترغیب والترهیب، 2/ 91، الرقم: 1628، والهیثمي في موارد الظمآن، 1/224، الرقم: 891، والمنذري في الترغیب والترهیب، 2/91، الرقم: 1628، والهیثمي في مجمع الزوائد، 3/154.

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری اُمت اس وقت تک میری سنت پر قائم رہے گی جب تک افطاری کرنے کے لیے ستاروں (کے نظر آنے) کا انتظار نہیں کرے گی۔‘‘

اس حدیث کو امام ابن حبان نے روایت کیا ہے۔

19. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم یُفْطِرُ قَبْلَ أَنْ یُصَلِّيَ عَلَی رُطَبَاتٍ فَإِنْ لَمْ تَکُنْ رُطَبَاتٌ فَتُمَیْرَاتٌ فَإِنْ لَمْ تَکُنْ تُمَیْرَاتٌ حَسَا حَسَوَاتٍ مِنْ مَاءٍ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ.

أخرجه الترمذي في السنن، کتابي الصوم، باب ما جاء ما یستحب علیہ الإفطار، 3/79، الرقم: 696، وأبو داود في السنن، کتاب الصوم، باب ما یفطر علیہ، 2/306، الرقم: 2356، والمقدسي في فضائل الأعمال، 1/52، الرقم: 216، والنووي في ریاض الصالحین، 1/290، الرقم: 290.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مغرب کی) نماز سے پہلے چند تازہ کھجوروں سے روزہ افطار فرماتے، اگر تازہ کھجوریں نہ ہوتیں تو خشک کھجوروں سے روزہ کھولتے، اگر یہ بھی نہ ہوتیں تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے۔ ‘‘

اِس حدیث کو امام ترمذی اور ابوداود نے روایت کیا ہے۔ اور امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے۔

20. عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا کَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ غَیْرَ أَنَّهُ لَا یَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الصَّائِمِ شَیْئًا.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِیثٌ حَسَنٌ صَحِیحٌ

أخرجه الترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء في فضل من فطر صائما، 3/171، الرقم: 807، وابن ماجه في السنن، کتاب الصوم، باب في ثواب من فطر صائما، 1/555، الرقم: 1746، وعبد الرزاق في المصنف، 4/311، الرقم: 7905، وأحمد بن حنبل في المسند، 5/192، الرقم: 21720، والدارمي في السنن، 2/14، الرقم: 1702، والطبراني في المعجم الأوسط، 2/7، الرقم: 1048.

’’حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے روزہ دار کا روزہ افطار کرایا اس کے لیے اس کی مثل ثواب ہے، اس کے بغیر کہ روزہ دار کے ثواب میں کچھ کمی ہو۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

21. عَنْ مُعَاذِ بْنِ زُهْرَةَ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم کَانَ إِذَا أَفْطَرَ قَالَ: اَللّٰهُمَّ لَکَ صُمْتُ وَعَلَی رِزْقِکَ أَفْطَرْتُ.

رَوَاهُ أَبُوْدَاوٗدَ وَابْنُ أَبِي شَیْبَةَ.

أخرجه أبو داود في السنن، کتاب الصوم، باب القول عند الإفطار، 2/306، الرقم: 2358، وابن أبي شیبۃ عن أبي ہریرة في المصنف، 2/344، الرقم: 9744، والطبراني في المعجم الکبیر، 12/146، الرقم: 12720، وابن المبارک في الزهد، 1/495، الرقم: 1410.

’’حضرت معاذ بن زہرہ کو یہ خبر پہنچی کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب افطار کرتے تو فرماتے۔ اے اللہ! میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے ہی رزق سے افطار کیا۔‘‘

اس حدیث کو امام ابو داود اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved