The Excellence of Merit of Fasting and Night Vigil

فصل دوازدہم :نفلی روزوں کی فضیلت کا بیان

فَصْلٌ فِي فَضْلِ صِیَامِ التَّطَوُّعِ

نفلی روزوں کی فضیلت کا بیان

اَلآیَاتُ الْقُرْآنِیَّةُ

1. اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍط فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَط وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍط فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗط وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَo

(البقرة، 2: 184)

’’(یہ) گنتی کے چند دن (ہیں) پس اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں (کے روزوں) سے گنتی پوری کر لے، اور جنہیں اس کی طاقت نہ ہو ان کے ذمے ایک مسکین کے کھانے کا بدلہ ہے، پھر جو کوئی اپنی خوشی سے (زیادہ) نیکی کرے تو وہ اس کے لیے بہتر ہے، اور تمہارا روزہ رکھ لینا تمہارے لیے بہتر ہے اگر تمہیں سمجھ ہو۔‘‘

2. فَکُلِیْ وَاشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًاج فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًالا فَقُوْلِیْٓ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُکَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّاo

(مریم، 19: 26)

’’سو تم کھاؤ اور پیو اور (اپنے حسین و جمیل فرزند کو دیکھ کر) آنکھیں ٹھنڈی کرو، پھر اگر تم کسی بھی انسان کو دیکھو تو (اشارے سے) کہہ دینا کہ میں نے (خدائے) رحمن کے لیے (خاموشی کے) روزہ کی نذر مانی ہوئی ہے سو میں آج کسی انسان سے قطعاً گفتگو نہیں کروں گی۔‘‘

1. فَضْلُ صِیَامِ شَعْبَانَ وَنِصْفٍ مِّنْ شَعْبَانَ

شعبان اور نصف شعبان کے روزوں کی فضیلت

1. عَنْ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنها، قَالَتْ: لَمْ یَکُنِ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم ، یَصُوْمُ مِنْ شَهْرٍ أَکْثَرَ مِنْ شَعْبَانَ، فَإِنَّهُ کَانَ یَصُوْمُ شَعْبَانَ کُلَّهُ. (وَفِي رِوَایَةٍ): کَانَ یَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِیْلاً. مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الصوم، باب صوم شعبان، 2/695، 1869، ومسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب صیام النبي صلی الله علیه وآله وسلم رمضان واستحباب أن لا یخلي شهرا عن صوم، 2/811، الرقم:1156/782، و النسائي في السنن، کتاب الصیام، باب ذکر اختلاف ألفاظ الناقلین لخبر عائشة فیه، 4/151، الرقم: 2179- 2180، و ابن ماجہ في السنن، کتاب الصیام، باب ما جاء في صیام النبي صلی الله علیه وآله وسلم ، 1/545، الرقم:1710، وأحمد بن حنبل في المسند، 6:143، الرقم:25144.

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے، کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان سے زیادہ روزے کسی مہینے میں نہیں رکھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان کا سارا مہینہ روزے رکھتے تھے۔ اور ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چند دن چھوڑ کر شعبان کا سارا مہینہ روزے رکھتے تھے۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

2. عَنْ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم یَصُوْمُ حَتَّی نَقُوْلَ لَا یُفْطِرُ وَیُفْطِرُ حَتَّی نَقُوْلَ: لَا یَصُوْمُ فَمَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم اسْتَکْمَلَ صِیَامَ شَهْرٍ إِلَّا رَمَضَانَ وَمَا رَأَیْتُهُ أَکْثَرَ صِیَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ.

مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الصوم، صوم شعبان، 2/695، الرقم: 1868، ومسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب صیام النبي صلی الله علیه وآله وسلم في غیر رمضان واستحباب أن لا یخلي شهرا عن صوم، 2/810، الرقم: 1156، وأبو داود في السنن، کتاب الصوم، باب کیف کان یصوم النبي صلی الله علیه وآله وسلم ، 2/324، الرقم: 2434، ومالک في الموطأ، 1/309، الرقم: 681، والنسائي في السنن الکبری، 2/119، الرقم: 2660.

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا: جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے رکھنا شروع کرتے تو ہم یہ کہتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم افطار نہیں کریں گے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم افطار شروع کرتے تو ہم کہتے کہ اب آپ روزہ نہیں رکھیں گے اور میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ماہ رمضان کے سوا کسی ماہ مکمل روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا، اور نہ کسی ماہ میں آپ کو شعبان سے زیادہ روزے رکھتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

3. عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَیْدٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ ﷲِ، لَمْ أَرَکَ تَصُوْمُ شَهْرًا مِنَ الشُّهُوْرِ مَا تَصُوْمُ مِنْ شَعْبَانَ؟ قَالَ: ذَالِکَ شَهْرٌ یَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ بَیْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ وَهُوَ شَهْرٌ تُرْفَعُ فِیْهِ الأَعْمَالُ إِلٰی رَبِّ الْعَالَمِیْنَ فَأُحِبُّ أَنْ یُرْفَعَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ.

أخرجه النسائي في السنن، کتاب الصیام، باب صوم النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بأبي ھو وأمّي وذکر اختلاف الناقلین للخبر في ذلک، 4/201، الرقم: 2357، وأحمد بن حنبل في المسند، 5/201، الرقم: 21801، والطحاوي في شرح معاني الآثار، 2/82، وابن أبي شیبة في المصنف، 2/346، الرقم: 9765.

’’حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! جس قدر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان میں روزے رکھتے ہیں اس قدر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی اور مہینے میں روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک ایسا مہینہ ہے جو رجب اوررمضان کے درمیان میں (آتا) ہے اور لوگ اس سے غفلت برتتے ہیں حالانکہ اس مہینے میں (پورے سال کے) عمل اللہ تعالیٰ کی طرف اٹھائے جاتے ہیں لہٰذا میں چاہتا ہوں کہ میرے عمل روزہ دار ہونے کی حالت میں اُٹھائے جائیں۔‘‘

اِس حدیث کو امام نسائی اور احمد نے روایت کیا ہے۔

4. عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم : أَيُّ الصَّوْمِ أَفْضَلُ بَعْدَ رَمَضَانَ؟ فَقَالَ: شَعْبَانُ لِتَعْظِیْمِ رَمَضَانَ. قِیْلَ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: صَدَقَةٌ فِي رَمَضَانَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَیْهَقِيُّ.

أخرجه الترمذي في السنن، کتاب الزکاة، باب ما جاء في فضل الصدقة، 3/51، الرقم: 663، والبیهقي في السنن الکبری، 4/305، الرقم: 8300، وفي شعب الإیمان، 3/377، الرقم: 3819، والمنذري في الترغیب والترهیب، 2/72، الرقم: 1539، والمناوي في فیض القدیر، 2/43.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ رمضان المبارک کے بعد کس مہینے میں روزے افضل ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تعظیم رمضان کے لیے شعبان کے روزے رکھنا (افضل ہیں)۔ پوچھا گیا کہ کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رمضان المبارک میں صدقہ دینا (افضل ہے)۔‘‘

اِس حدیث کو امام ترمذی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

5. عَنْ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنهما قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم لَیْلَةً فَخَرَجْتُ فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِیْعِ فَقَالَ: أَکُنْتِ تَخَافِیْنَ أَنْ یَحِیْفَ ﷲُ عَلَیْکِ وَرَسُوْلُهُ؟ قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ ﷲِ، إِنِّي ظَنَنْتُ أَنَّکَ أَتَیْتَ بَعْضَ نِسَائِکَ فَقَالَ: إِنَّ اﷲَ عزوجل یَنْزِلُ لَیْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا فَیَغْفِرُ لِأَکْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ کَلْبٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَأَحْمَدُ.

أخرجه الترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء في لیلة النصف من شعبان، 3/116، الرقم: 739، وابن ماجہ في السنن، کتاب إقامة الصلاة والسنة فیها، باب ما جاء في لیلة النصف من شعبان، 1/444، الرقم: 1389، وأحمد بن حنبل في المسند، 6/238، الرقم: 26060، ابن راهویه في المسند، 2/327، الرقم: 850، وعبد بن حمید في المسند، 1/437، الرقم: 1509، والبیهقي في شعب الإیمان، 3/379، الرقم: 3825.

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں ایک رات میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہ پایا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاش میں نکلی کیا دیکھتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنت البقیع میں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے ڈر ہوا کہ اللہ اور اس کا رسول تجھ پر ظلم کرے گا؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے سوچا شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی دوسری زوجہ کے ہاں تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پندرہویں شعبان کی رات کو آسمان دنیا پر (جیسا کہ اس کی شایاں شان ہے) اترتا ہے اور بنو کلب قبیلہ کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کو بخشتا ہے۔‘‘

اِس حدیث کو امام ترمذی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے۔

6. عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم : إِذَا کَانَتْ لَیْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَقُوْمُوْا لَیْلَهَا وَصُوْمُوْا نَهَارَهَا. فَإِنَّ اﷲَ یَنْزِلُ فِیْهَا لِغُرُوْبِ الشَّمْسِ إِلٰی سَمَائِ الدُّنْیَا فَیَقُوْلُ: أَلاَ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ لِي فَأَغْفِرَ لَهٗ؟ أَلَا مِنْ مُسْتَرْزِقٍ فَأَرْزُقَهٗ؟ أَ لَا مُبْتَلًی فَأُعَافِیَهُ؟ أَ لَا کَذَا أَ لَا کَذَا؟ حَتَّی یَطْلُعَ الْفَجْرُ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه.

أخرجه ابن ماجہ في السنن، کتاب إقامة الصلاة والسنة فیها، باب ما جاء في لیلة النصف من شعبان، 1/444، الرقم: 1388، والکناني في مصباح الزجاجة، 2/10، الرقم: 491، والمنذري في الترغیب والترهیب، 2/74، الرقم: 1550.

’’حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب پندرہ شعبان کی رات ہو تو اس رات کو قیام کیا کرو اور دن کو روزہ رکھا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ غروب آفتاب کے وقت آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور اعلان فرماتا ہے: کیا کوئی میری بخشش کا طالب ہے کہ میں اسے بخش دوں؟ کیا کوئی رزق مانگنے والا ہے کہ میں اسے رزق دوں؟ کیا کوئی مصیبت زدہ ہے کہ میں اسے عافیت عطا فرما دوں؟ کیا کوئی ایسے ہے؟ کیا کوئی ایسے ہے؟(رب ذو الجلال کی طرف سے ندائیں آتی رہتی ہیں) یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

7. عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: یَطْلَعُ ﷲُ إِلَی خَلْقِهِ فِي لَیْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَیَغْفِرُ لِجَمِیْعِ خَلْقِهِ إِلَّا لِمُشْرِکٍ أوْ مُشَاحِنٍ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه عَنْ أَبِي مُوْسَی الأَشْعَرِيِّ، وَابْنُ حِبَّانَ وَاللَّفْظُ لَهُ.

أخرجه ابن ماجہ في السنن، کتاب إقامة الصلاة والسنة فیها، باب ما جاء في لیلة النصف من شعبان، 1/445، الرقم: 1390، وابن حبان في الصحیح، 12/481، الرقم: 5665، والطبراني في المعجم الأوسط، 7/36، الرقم: 6776، وأیضاً في المعجم الکبیر، 20/108، الرقم: 215، والبیهقي في شعب الإیمان، 5/272، الرقم: 6628، وأبو نعیم في حلیة الأولیاء، 5/191وابن عساکر في تاریخ مدینة دمشق، 38/235، والهیثمي في موارد الظمآن، 1/486، الرقم: 1980.

’’حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اﷲ تعالیٰ نصف شعبان کی رات اپنی مخلوق پر نظرِ رحمت فرماتا ہے اور مشرک اور کینہ پرور کے سوا ہر کسی کو معاف فرما دیتا ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام ابن ماجہ نے ابو موسی اشعری کے طریق سے اوب ابن حبان نے روایت کیا ہے۔

8. عَنْ عَائِشَةَ رضی اﷲ عنہا: أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم کَانَ یَصُوْمُ شَعْبَانَ کُلَّهُ، قَالَتْ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ ﷲِ، أَحَبُّ الشُّهُوْرِ إِلَیْکَ أَنْ تَصُوْمَهُ شَعْبَانُ؟ قَالَ: ِإِنَّ اﷲَ یَکْتُبُ فِیْهِ عَلَی کُلِّ نَفْسٍ مَیْتَةٍ تِلْکَ السَّنَةَ فَأُحِبُّ أَنْ یَأْتِیْنِي أَجَلِي وَأَنَا صَائِمٌ. رَوَاهُ أَبُوْ یَعْلَی.

أخرجه أبو یعلي في المسند، 8/311، الرقم: 4911، والمنذري في الترغیب والترهیب، 2/72، الرقم: 1540، والهیثمي في مجمع الزوائد، 3/192.

’’حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (تقریباً) پورا شعبان روزہ رکھا کرتے تھے میں نے عرض کیا: یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کیا روزے رکھنے کے لیے) آپ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ مہینہ شعبان ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اﷲ تعالیٰ اس مہینے میں پورے سال میں مرنے والی ہر روح کی اجل مقرر کرتا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ مجھے روزے کی حالت میں موت آئے۔‘‘

اِس حدیث کو امام ابو یعلی نے روایت کیا ہے۔

2. فَضْلُ صِیَامِ الشَّوَّالِ

شوال کے روزوں کی فضیلت کا بیان

1. عَنْ أَبِي أَیُّوْبَ الْأَنْصَارِيِّ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: مَنْ صَامَ رَمَضَانَ، ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ کَانَ کَصِیَامِ الدَّهْرِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب استحباب صوم ستة أیام من شوال إتباعا لرمضان، 2/822، الرقم/1164، والترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء في صیام ستة أیام من شوال 3/132، الرقم:759، وأبو داود في السنن، کتاب الصوم، باب في صوم ستة أیام من شوال، 2/324، الرقم:2433.

’’حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے رمضان المبارک کے روزے رکھے، پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے گویا اس نے عمر بھر کے روزے رکھے۔‘‘

اِس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

2. عَنْ ثَوْبَانَ رضی الله عنه عَنْ رَسُوْلِ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: جَعَلَ ﷲُ الْحَسَنَةَ بِعَشْرٍ فَشَهْرٌ بِعَشْرَةِ أَشْهُرٍ وسِتَّةُ أَیَّامٍ بَعْدَ الْفِطْرِ تَمَامُ السَّنَةِ.

وَفِي رِوَایَةٍ: وَصِیَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ بِعَشْرَةِ أَشْهُرٍ وَصِیَامُ سِتَّةِ أَیَّامٍ بِشَهْرَیْنِ فَذٰلِکَ صِیَامُ سَنَةٍ.

رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ وَابْنُ مَاجَه وَابْنُ خُزَیْمَةَ.

أخرجه ابن ماجہ في السنن، کتاب الصیام، باب صیام ستة أیام من شوال، 1/547، الرقم: 1715، وأحمد بن حنبل في المسند، 5/280، الرقم: 22465، والنسائي في السنن الکبری، 2/162، 163، الرقم: 2860، 2861، وابن خزیمة في الصحیح، 3/298، الرقم: 2115.

’’حضرت ثوبان صسے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اﷲ تعالیٰ ایک نیکی کو دس گنا کر دیتا ہے۔ رمضان کا ایک مہینہ دس مہینے کے برابر ہے اور عید الفطر کے بعد چھ دن (روزہ رکھنے سے) سال کا ثواب پورا ہو جاتا ہے۔

دوسری روایت میں ہے کہ ماہ رمضان کے روزے دس مہینوں کے برابر ہیں اور چھ دن کے روزے دو ماہ کے برابر ہیں۔ اس طرح پورے سال کے روزے بن جاتے ہیں۔‘‘

اسے امام نسائی، ابن ماجہ اور ابن خزیمہ نے روایت کیا ہے اور یہ الفاظ نسائی کے ہیں۔

3. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم : مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَأَتْبَعَهٗ سِتًّا مِّنْ شَوَّالٍ خَرَجَ مِنْ ذُنُوْبِهٖ کَیَوْمٍ وَلَدَتْهُ أُمُّهٗ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ.

أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 8/275، الرقم: 8622، والمنذري في الترغیب والترهیب، 2/67، الرقم: 1515، والهیثمي في مجمع الزوائد، 3/184.

’’حضرت ابن عمر رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص رمضان المبارک کے روزے رکھے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے وہ اپنے گناہوں سے ایسے پاک ہو جاتا ہے جیسے وہ پیدائش کے دن تھا.‘‘

اسے امام طبرانی نے ’’المعجم الأوسط‘‘ میں روایت کیا ہے۔

3۔ فَضْلُ صِیَامِ الْمُحَرَّمِ وَیَوْمِ الْعَاشُوْرَائِ

ماہ محرم اور یومِ عاشوراء کے روزوں کی فضیلت

1. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما أَنَّ رَسُولَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم قَدِمَ الْمَدِیْنَةَ فَوَجَدَ الیَهُوْدَ صِیَامًا یَوْمَ عَاشُوْرَاءَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم : مَا هَذَا الْیَوْمُ الَّذِي تَصُوْمُوْنَهُ فَقَالُوْا: هَذَا یَوْمٌ عَظِیْمٌ أَنْجَی ﷲُ فِیْهِ مُوْسَی وَقَوْمَهُ وَغَرَّقَ فِرْعَوْنَ وَقَوْمَهُ فَصَامَهُ مُوْسَی شُکْرًا فَنَحْنُ نَصُوْمُهُ فَقَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم : فَنَحْنُ أَحَقُّ وَأَوْلَی بِمُوْسَی مِنْکُمْ فَصَامَهُ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم وَأَمَرَ بِصِیَامِهِ. مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الأنبیائ، باب قول اﷲ تعالی: وهل اتک حدیث موسی وکلم اﷲ موسی تکلیما، 3/1244، الرقم: 3216، ومسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب صوم یوم عاشورائ، 2/796، الرقم:1130، وأبوداود في السنن، کتاب الصوم، باب في صوم یوم عاشورائ، 2/326، الرقم:2444، وابن ماجه في السنن، کتاب الصیام، باب صیام یوم عاشورائ، 1/552، الرقم:1734 والبیهقی في السنن الکبری، 4/286، الرقم:8180، والطیالسی في المسند، 1/342، الرقم: 2625.

’’حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہودی یوم عاشورہ (دس محرم کے دن) روزہ رکھتے ہیں، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تمہارے اس دن روزہ رکھنے کا کیا سبب ہے؟ انہوں نے کہا: یہ ایک عظیم دن ہے، اس دن اﷲ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات دی اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق کر دیا، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے شکر ادا کرنے کے لئے اس دن کا روزہ رکھا، اور ہم بھی روزہ رکھتے ہیں۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وجہ سے شکر ادا کرنے کا تم سے زیادہ ہمارا حق ہے، پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن کا روزہ رکھا اور اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے، مذکورہ الفاظ مسلم کے ہیں۔

2. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ: مَا رَأَیْتُ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم یَتَحَرَّی صِیَامَ یَوْمٍ فَضَّلَهُ عَلَی غَیْرِهِ إِلَّا هَذَا الْیَوْمَ یَوْمَ عَاشُوْرَاءَ وَهَذَا الشَّهْرَ یَعْنِي شَهْرَ رَمَضَانَ. مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الصیام، باب صیام یوم عاشوراء، 2/705، الرقم: 1902، ومسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب صوم یوم عاشوراء، 2/797، الرقم: 1132، وعبد الرزاق في المصنف، 4/287، الرقم: 7837، والطبراني في المعجم الکبیر، 11/126، الرقم: 11252، والبیهقي في السنن الکبری، 4/286، الرقم: 8181.

’’حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما نے فرمایا: میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ کسی دن کو دوسرے پر فضیلت دے کر روزہ رکھتے ہوں مگر اِس روز یعنی عاشورہ کو اور اس مہینہ یعنی ماہ رمضان کو۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

3. عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم : أَفْضَلُ الصِّیَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ، شَهْرُ ﷲِ الْمُحَرَّمُ. وَأَفْضَلُ الصَّـلَاةِ بَعْدَ الْفَرِیْضَةِ، صَـلَاةُ اللَّیْلِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ.

أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب فضل صوم المحرم، 2/821، الرقم: 1163، والترمذي في السنن، کتاب الصلاة، باب ما جاء في فضل صلاة اللیل، 2/301، الرقم: 438، والنسائي في السنن، کتاب قیام اللیل وتطوع النهار، باب فضل صلاة اللیل، 3/206، الرقم: 1613.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز تہجد کی نماز ہے۔‘‘

اِس حدیث کو امام مسلم، ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

4. عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم سُئِلَ عَنْ صَوْمِ یَوْمِ عَاشُوْرَاءَ؟ فَقَالَ: یُکَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِیَةَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب استحباب صیام ثلاثة أیام من کل شهر وصوم یوم عرفة وعاشورائ، 2/819، الرقم: 1162، والترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء في الحث علی صوم یوم عاشورائ، 3/126، الرقم: 752، وأبوداود في السنن، کتاب الصیام، باب في صوم الدهر تطوعا، 2/321، الرقم: 2425.

’’حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عاشوراء کے روزے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ گزشتہ سال کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

5. عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم فَقَالَ: أَيُّ الصِّیَامِ أَفْضَلُ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ؟ قَالَ: شَهْرُ ﷲِ الَّذِي تَدْعُوْنَهُ الْمُحَرَّمَ.

رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَأَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ.

أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب الصیام، باب صیام أشهر المحرم، 1/554، الرقم: 1742، وأحمد بن حنبل في المسند، 2/329، الرقم: 8340، والدارمي في السنن، 2/35، الرقم: 1757، والنسائي في السنن الکبری، 2/117، الرقم: 2904، والطبراني في المعجم الأوسط، 6/281، الرقم: 6417.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص بارگاہ نبوی میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا کہ ماہ رمضان کے بعد افضل ترین روزے کون سے ہیں (یعنی کس مہینے کے ہیں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اﷲ کا وہ مہینہ جسے تم محرم کہتے ہو (کے روزے سب سے افضل ہیں)۔‘‘ اس حدیث کو امام ابن ماجہ، احمد اور دارمی نے روایت کیا ہے۔

6. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم : مَنْ صَامَ یَوْمَ عَرَفَةَ کَانَ لَهٗ کَفَّارَةَ سَنَتَیْنِ وَمَنْ صَامَ یَوْمًا مِنَ الْمُحَرَّمِ فَلَهٗ بِکُلِّ یَوْمٍ ثَــلَاثُوْنَ یَوْمًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ لَا بَأْسَ بِهٗ.

أخرجه الطبراني في المعجم الصغیر، 2/164، الرقم: 963، وفي المعجم الکبیر، 11/72، الرقم: 11081، والمنذري في الترغیب والترهیب، 2/70، الرقم: 1529، والهیثمي في مجمع الزوائد، 3/190.

’’حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص یو م عرفہ کا روزہ رکھتا ہے وہ اس کے لیے دو سال کے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے اور جو شخص محرم کے ایک دن کا روزہ رکھتا ہے اسے ہر دن کے بدلے تیس دن (کے روزوں) کا ثواب ملتا ہے۔‘‘

اِسے امام طبرانی نے ناقابل اعتراض سند کے ساتھ بیان کیا ہے۔

4. فَضْلُ صِیَامِ یَوْمِ عَرَفَةَ

یومِ عرفہ کے روزہ کی فضیلت

1. عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رضی الله عنه قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم عَنْ یَوْمِ عَرَفَةَ فَقَالَ: یُکَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِیَةَ وَالْبَاقِیَةَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وَفِي رِوَایَةٍ لِّلتِّرْمِذِيِّ: صِیَامُ یَوْمِ عَرَفَةَ إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَی ﷲِ أَنْ یُکَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهٗ وَالسَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهٗ.

أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب استحباب صیام ثلاثة أیام من کل شهر وصوم یوم عرفة، 2/819، الرقم:1162، والترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء في فضل صوم یوم عرفة، 3/124، وقال أبوعیسی: حدیث أبي قتادة حدیث حسن، الرقم: 749، وأبوداود في السنن، کتاب الصوم، باب في صوم الدهر تطوعا، 2/321، الرقم:2425.

’’حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یوم عرفہ (نویں ذو الحجہ) کے روزہ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (یوم عرفہ کا روزہ) گزشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔‘‘ اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

امام ترمذی کی روایت کے الفاظ ہیں: ’’یوم عرفہ کے روزہ کے متعلق مجھے اﷲ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ اسے گزشتہ اور آئندہ سال کا کفارہ بنا دیتا ہے۔

2. عَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم یَقُوْلُ: مَنْ صَامَ یَوْمَ عَرَفَةَ، غُفِرَ لَهٗ سَنَةٌ أَمَامَهٗ وَسَنَةٌ بَعْدَهٗ.

رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالنَّسَائِيُّ وَأَبُوْ یَعْلٰی.

أخرجه ابن ماجہ في السنن، کتاب الصیام، باب صیام یوم عرفة، 1/551، الرقم: 1731، والنسائي في السنن الکبری، 2/151، الرقم: 2801، وأبو یعلي في المسند، 13/542، الرقم: 7548، والطبراني في المعجم الکبیر، 6/179، الرقم: 5923.

’’حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص یومِ عرفہ کا روزہ رکھتا ہے اس کے ایک پچھلے سال کے اور ایک بعد والے سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔‘‘

اس حدیث کو امام ابن ماجہ، نسائی اور ابو یعلی نے روایت کیا ہے۔

3. عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم : مَنْ صَامَ یَوْمَ عَرَفَةَ غُفِرَ لَهٗ ذَنْبُ سَنَتَیْنِ مُتَتَابِعَتَیْنِ. رَوَاهُ أَبُوْ یَعْلَی وَالطَّبَرَانِيُّ.

أخرجه أبو یعلی في المسند، 13/542، الرقم: 7548، والطبراني في المعجم الکبیر، 6/179، الرقم: 5923، وعبد بن حمید في المسند، 1/170، الرقم: 464، والهیثمي في مجمع الزوائد، 3/189، والمنذري في الترغیب والترهیب، 2/68، الرقم: 1519.

’’حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص یوم عرفہ کا روزہ رکھتا ہے اس کے دو سالوں کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔‘‘

اس حدیث کو امام ابو یعلی اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔

4. عَنْ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنها قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم یَقُوْلُ: صِیَامُ یَوْمِ عَرَفَةَ کَصِیَامِ أَلْفِ یَوْمٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَیْهَقِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ.

أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 7/44، الرقم: 6802، والبیهقي في شعب الإیمان، 3/357، الرقم: 3764، وابن عبد البر في التمهید، 12/158، وذکرہ المنذري في الترغیب والترهیب، 2/69، الرقم: 1522، والسیوطي في الدر المنثور، 1/154.

’’حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ یوم عرفہ کا روزہ ہزار دن کے روزوں کی طرح ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے، اور مذکورہ الفاظ امام بیہقی کے ہیں۔

5. عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ رضی الله عنه قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ عَبْدَ ﷲِ بْنَ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما عَنْ صَوْمِ یَوْمِ عَرَفَةَ، فَقَالَ: کُنَّا وَنَحْنُ مَعَ رَسُوْلِ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم نَعْدِلُهُ بِصَوْمِ سَنَتَیْنِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ.

أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 1/229، الرقم: 751، وابن أبي شیبة في المصنف، 3/196، الرقم: 13388، و أحمد بن حنبل في المسند، 5/307، الرقم: 22669، والمنذري في الترغیب و الترهیب، 2/69، 1523، والهیثمي في مجمع الزوائد، 3/190.

’’حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے یوم عرفہ کے روزے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: ہم (صحابہ کرام) رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سمیت اسے دوسال کے روزوں کے برابر سمجھتے تھے۔‘‘

اسے طبرانی نے حسن سند کے ساتھ ذکر کیا ہے۔

5۔ فَضْلُ صِیَامِ یَوْمِ الْاِثْنَیْنِ وَالْخَمِیْسِ

پیر اور جمعرات کے روزوں کی فضیلت

1. عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رضی الله عنه: أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم سُئِلَ عَنْ صَوْمِ یَوْمِ الاِثْنَیْنِ؟ قَالَ: ذَاکَ یَوْمٌ وُلِدْتُ فِیْهِ، وَیَوْمٌ بُعِثْتُ، أَوْ أُنْزِلَ عَلَيَّ فِیْهِ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب استحباب صیام ثلاثة أیام من کل شهر وصوم یوم عرفة وعاشوراء والاثنین والخمیس، 2/819، الرقم: 1162، والنسائي في السنن الکبری، 2/146، الرقم:2777، وأحمد بن حنبل في المسند، 5/297، الرقم: 22594.

’’حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوموار کے روزے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت باسعادت ہوئی اور اسی دن میں مبعوث ہوا یا مجھ پر قرآن نازل فرمایا گیا۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

2. عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ رضی الله عنه رَفَعَهٗ مَرَّةً قَالَ: تُعْرَضُ الْأَعْمَالُ فِي کُلِّ یَوْمِ خَمِیْسٍ وَاثْنَیْنِ. فَیَغْفِرُ ﷲُ عزوجل فِي ذٰلِکَ الْیَوْمِ لِکُلِّ امْرِئٍ لَا یُشْرِکُ بِاﷲِ شَیْئًا. إِلَّا امْرَأً کَانَتْ بَیْنَهٗ وَبَیْنَ أَخِیْهِ شَحْنَاءُ. فَیُقَالُ: ارْکُوْا هٰذَیْنِ حَتّٰی یَصْطَلِحَا، اُرْکُوْا هٰذَیْنِ حَتّٰی یَصْطَلِحَا.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَمَالِکٌ وَأَحْمَدُ.

وَفِي رِوَایَةٍ أُخْرٰی: أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ، وَیَوْمَ الْخَمِیْسِ. فَیُغْفَرُ لِکُلِّ عَبْدٍ لَا یُشْرِکُ بِاﷲِ شَیْئًا. إِلَّا رَجُـلًا کَانَتْ بَیْنَهٗ وَبَیْنَ أَخِیْهِ شَحْنَائُ فَیُقَالُ: أَنْظِرُوْا هٰذَیْنِ حَتّٰی یَصْطَلِحَا. أَنْظِرُوْا هٰذَیْنِ حَتّٰی یَصْطَلِحَا، أَنْظِرُوْا هٰذَیْنِ حَتّٰی یَصْطَلِحَا.

أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب البر والصلة والآداب، باب النهي عن الشحناء والتهاجر، 4/1987، الرقم: 2565، ومالک في الموطأ، کتاب حسن الخلق، باب ما جاء في المهاجرة، 2/909، الرقم: 1916، وأحمد بن حنبل في المسند، 2/389، الرقم: 9041.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے مرفوعاً بیان کیا کہ ہر پیر اور جمعرات کو اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔ اس دن اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کی مغفرت فرما دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا، سوائے اس شخص کے جو اپنے بھائی کے ساتھ کینہ رکھتا ہے،ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کو (ان کے حال پر)چھوڑ دو حتی کہ یہ صلح کر لیں، ان کو چھوڑ دو حتی کہ یہ صلح کر لیں۔‘‘ اس حدیث کو امام مسلم، مالک اور احمد نے روایت کیا ہے۔

’’امام مسلم کی دوسری روایت میں ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور ہر اس بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتا، سوائے اس بندے کے جو اپنے بھائی کے ساتھ کینہ رکھتا ہو اور یہ کہا جاتا ہے کہ ان کو مہلت دو حتی کہ یہ صلح کر لیں، ان کو مہلت دو حتیٰ کہ یہ صلح کر لیں۔ ان کو مہلت دو حتیٰ کہ یہ صلح کر لیں۔‘‘

3. عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: تُعْرَضُ الأَعْمَالُ یَوْمَ الاِثْنَیْنِ وَالْخَمِیْسِ فَأُحِبُّ أَنْ یُعْرَضَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: حَدِیْثٌ حَسَنٌ.

أخرجه الترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء في صوم یوم الاثنین والخمیس، 3/122، الرقم: 747، وفي الشمائل المحمدیة، 1/252، الرقم: 308، وعبد الرزاق في المصنف، 4/314، الرقم: 7917، والمنذري في الترغیب والترهیب، 2/78، الرقم: 1569، والمقدسي في فضائل الأعمال، 1/48، الرقم: 194، والنووي في ریاض الصالحین، 1/292.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سوموار اور جمعرات کو اعمال (بارگاهِ الٰہی میں) پیش کئے جاتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرا عمل روزے کی حالت میں پیش ہو۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے نیز کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے۔

4. عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم یَتَحَرَّی صَوْمَ الِاثْنَیْنِ وَالْخَمِیْسِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَالنَّسَائِيُّ، وَ أَحْمَدُ.

أخرجه الترمذی في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء في صوم یوم الإثنین والخمیس، 3/121، الرقم: 745، والنسائی في السنن، کتاب الصوم، باب صوم النبی صلی الله علیه وآله وسلم بأبي هو وأمي، 4/202، 203، الرقم: 2360، 2361، 2363، وفي السنن الکبری، 2/121، الرقم: 2670،وأحمد بن حنبل في المسند، 6/106، الرقم: 24792، وأبو نعیم في حلیة الأولیاء، 7/123.

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوموار اور جمعرات کے دن کے روزے کا خاص خیال فرماتے تھے۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی، نسائی اور احمد نے روایت کیا ہے۔

5. عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَیْدٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ ﷲِ إِنَّکَ تَصُوْمُ حَتَّی لَا تَکَادُ تُفْطِرُ وَ تُفْطِرُ حَتَّی لَا تَکَادُ تَصُوْمُ إِلَّا یَوْمَیْنِ إِنْ دَخَلآ فِي صِیَامِکَ وَإِنْ لَا صُمْتَهُمَا قَالَ: أَيٌّ؟ قُلْتُ: یَوْمُ الإِثْنَیْنِ وَالْخَمِیْسِ، قَالَ: ذَلِکَ یَوْمَانِ تُعْرَضُ فِیْهِمَا الأَعْمَالُ عَلَی رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، فَأَحِبُّ أَنْ یُعْرَضَ عَمَلِي وَ أَنَا صَائِمٌ.

رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ.

أخرجه أبو داود في السنن، کتاب الصوم، باب صوم الإثنین والخمیس، 2/325، الرقم:2436، والنسائي في السنن، کتاب الصوم، باب صوم النبي صلی الله علیه وآله وسلم بأبي هو وأمي، 4/201، الرقم: 2358، وفي السنن الکبری، 2/121، الرقم:2667، وأحمد بن حنبل في المسند، 5/201، الرقم:21801، والمقدسي في الأحادیث المختارة، 4/142، والمنذري في الترغیب والترهیب، 2/79، الرقم:1571.

’’حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! آپ جب روزے رکھتے ہیں تو افطار کے قریب نہیں جاتے اور جب افطار کرنے لگتے ہیں تو روزے کے قریب نہیں جاتے، البتہ دو دن ایسے ہیںخواہ وہ روزوں کے دوران آئیں یا افطار کے دوران آپ ان کا روزہ ضرور رکھتے ہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ کون سے ہیں؟ میں نے کہا: سوموار اور جمعرات۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان دو دونوں میں رب العالمین کے حضور اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرا عمل روزہ دار ہونے کی حالت میں پیش ہو۔‘‘

اس حدیث کو امام ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے، اور مذکورہ الفاظ نسائی کے ہیں۔

6. عَنْ عُبَیْدِ ﷲِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيِّ عَنْ أَبِیْهِ قَالَ: سَأَلْتُ أَوْ سُئِلَ رَسُولُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم عَنْ صِیَامِ الدَّهْرِ؟ فَقَالَ: لَا إِنَّ لِأَهْلِکَ عَلَیْکَ حَقًّا صُمْ رَمَضَانَ وَالَّذِي یَلِیْهِ وَ کُلَّ أَرْبِعَاءَ وَخَمِیْسٍ فَإِذَا أَنْتَ قَدْ صُمْتَ الدَّهْرَ وَ أَفْطَرْتَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ بِإِسْنَادٍ رِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

أخرجه الترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب ماجاء في صوم یوم الأربعاء والخمیس، 2/123، الرقم:748، وأبوداود في السنن، کتاب الصوم، باب في صوم شوال، 2/324، الرقم:2432، والنسائی في السنن الکبری، 2/147، الرقم:2779، والبیهقی في شعب الإیمان، 3/396، الرقم:3869، والشیبانی في الأحاد والمثاني، 2/141، الرقم:862، والمنذری في الترغیب والترهیب، 2/80، الرقم:1580.

’’حضرت عبید اﷲ بن مسلم قرشی نے اپنے باپ سے روایت کیا ہے کہ میں نے یا کسی شخص نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زندگی بھر (مسلسل) روزہ رکھنے کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (یہ جائز) نہیں ہے، تیری بیوی کا تجھ پر حق ہے۔ رمضان کے روزے رکھ، اس کے متصل بعد (شوال کے) روزے رکھ اور ہر بدھ اور جمعرات کو روزہ رکھ۔ اس طرح (گویا) تو نے عمر بھر روزے بھی رکھے اور افطار بھی کیا۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی، ابو داود اور نسائی نے ایسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، جس کے رجال ثقہ ہیں۔

7. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ص: أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم یَقُولُ: مَنْ صَامَ الأَرْبِعَائَ وَالخَمِیْسَ وَالْجُمُعَةَ بَنَی ﷲُ لَهُ قَصْرًا فِي الجَنَّةِ مِنْ لُؤْلُؤٍ وَ یَاقُوْتٍ وَزَبَرْجَدٍ وَکَتَبَ لَهُ بَرَائَ ةً مِنَ النَّارِ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادِهِ وَالْبَیْهَقِيُّ.

أخرجه الطبرانی في المعجم الأوسط، 1/87، الرقم:254، و في مسند الشامیین، 2/366، الرقم:1506، والبیهقی في شعب الإیمان، 3/397، الرقم:3873، والهیثمی في مجمع الزوائد، 3/198، والمنذری في الترغیب والترهیب، 2/80، الرقم:1577.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخض بدھ، جمعرات اور جمعہ کا روزہ رکھتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں موتی، یاقوت اور زبرجد (نہایت قیمتی پتھر) کا گھر بنا دیتا ہے اور دوزخ سے اس کی آزادی لکھ دیتا ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے اپنی سند کے ساتھ اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

8. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم : مَنْ صَامَ الأَرْبِعَائَ وَالخَمِیْسَ وَالجُمُعَةَ بَنَی ﷲُ لَهُ بَیْتًا فِي الجَنَّةِ یُرَی ظَاهِرُهُ مِنْ بَاطِنِهِ وَ بَاطِنُهُ مِنْ ظَاهِرِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادِهِ.

أخرجه الطبراني في المعجم الکبیر، 8/250، الرقم:7981، وفي المعجم الأوسط، 1/86، الرقم: 253، والهیثمي في مجمع الزوائد، 3/198، والمنذري في الترغیب والترهیب، 2:80، الرقم:1576.

’’حضرت (عبد اﷲ) بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بدھ، جمعرات اور جمعہ کا روزہ رکھتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایسا(صاف و شفاف)گھر بناتا ہے جس کا بیرونی حصہ اندر سے نظر آتا ہے اور اندرونی حصہ باہر سے۔‘‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

9. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم : مَنْ صَامَ الأَرْبِعَائَ وَالخْمِیْسَ وَ یَوْمَ الجُمُعَةِ ثُمَّ تَصَدَّقَ یَوْمَ الجُمُعَةِ بِمَا قَلَّ أَوْکَثُرَ غُفِرَلَهُ کُلُّ ذَنْبٍ عَمِلَهُ حَتَّی یَصِیْرَ کَیَوْمٍ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ مِنَ الْخَطَایَا.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَیْهَقِيُّ بِإِسْنَادِهِمَا.

أخرجه الطبراني في المعجم الکبیر، 12/347، الرقم:13308، والبیهقي في شعب الإیمان، 3/397، الرقم:7238، والهیثمي في مجمع الزوائد، 3/199، والمنذري في الترغیب والترهیب، 2/80، الرقم:1578.

’’حضرت (عبداﷲ) بن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بدھ، جمعرات اور جمعہ کا روزہ رکھے اور جمعہ کے دن کچھ نہ کچھ حسبِ استطاعت صدقہ کرے جو گناہ بھی اس نے کیا ہو معاف ہو جاتا ہے یہاں تک کہ وہ گناہوں سے (ایسے) صاف ہو جاتا ہے جیسے اس دن تھا جس دن اسے اس کی ماں نے جنم دیا تھا۔‘‘

اس حدیث کو امام طبرانی اور بیہقی نے اپنی اپنی سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے۔

6۔ فَضْلُ مَنْ صَامَ الأَیَّامَ الْبِیْضَ

اَیامِ بیض کے روزے رکھنے کی فضیلت کا بیان

1. عَنْ قَتَادَةَ بْنِ مِلْحَانَ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم یَأْمُرُنَا أَنْ نَصُوْمَ الْبِیْضَ ثَــلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرََةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ قَالَ: وَقَالَ: هُنَّ کَهَیْئَةِ الدَّهْرِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه.

أخرجه أبو داود في السنن، کتاب الصوم، باب في الصوم الثلاث من کل شهر، 2/328، الرقم: 2449، وابن ماجه في السنن، کتاب الصیام، باب ما جاء في صیام الدهر، 1/544، الرقم: 11707، وأحمد بن حنبل في المسند، 5/28.

’’حضرت قتادہ بن ملحان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں ایام بیض (یعنی ہرماہ کی) تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کے روزے رکھنے کا حکم دیا کرتے تھے اور فرماتے کہ یہ عمر بھر روزے رکھنے کے برابر ہیں۔‘‘

اِس حدیث کو امام ابو داود اور ابن ماجہ نے روایت کیا۔

2. عَنْ جَرِیْرٍ رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: صِیَامُ ثَــلَاثَةِ أَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ صِیَامُ الدَّهْرِ وَأَیَّامُ الْبِیْضِ صَبِیْحَةَ ثَــلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ بِإِسْنَادٍ صَحِیْحٍ.

أخرجه النسائي في السنن، کتاب الصیام، باب کیف یصوم ثلاثة أیام من کل شهر، 4/221، الرقم: 2420، وفي السنن الکبری، 2/136، الرقم: 2728، وأبو یعلی في المسند، 13/492، الرقم: 7504، والطبراني في المعجم الکبیر، 2/356، الرقم: 2499.

’’حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر ماہ تین دن کے روزے عمر بھر کے روزوں کے برابر ہیں اور وہ تین دن ایام بیض یعنی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ ہے۔‘‘ اسے امام نسائی نے صحیح سند کے ساتھ ذکر کیاہے۔

3. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما، قَالَ: کَانَ رَسُولُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم : لَا یُفْطِرُ أَیَّامَ الْبِیْضِ فِي حَضَرٍ وَلَا سَفَرٍ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ.

أخرجه النسائي في السنن، کتاب الصیام، باب صوم النبي صلی الله علیه وآله وسلم بأبي هو وأمي وذکر اختلاف الناقلین للخبر في ذلک، 4/198، الرقم: 2345، وفي السنن الکبری، 2/118، الرقم: 2654، والمقدسي في الأحادیث المختارة، 10/102، الرقم: 99.

’’حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایام بیض کے روزے نہ سفر کی حالت میں چھوڑتے اور نہ حضر کی حالت میں چھوڑتے۔‘‘

اِس حدیث کو امام نسائی نے سند حسن کے ساتھ روایت کیا ہے۔

4. عَنْ أَبِي ذَرٍّ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم : یَا أَبَا ذَرٍّ، إِذَا صُمْتَ مِنَ الشَّهْرِ ثَـلَاثَةَ أَیَّامٍ فَصُمْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ : هَذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ.

أخرجه الترمذی في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء في صوم ثلاثة أیام من کل شهر، 3/134، الرقم: 761، والبیهقي في السنن الکبری، 4/294، الرقم: 8228، وابن خزیمة في الصحیح، 3/302، الرقم: 2128.

’’حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! جب تو مہینے کے تین روزے رکھے تو تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں کے روزے رکھا کر۔‘‘ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے۔

7. فَضْلُ مَنْ صَامَ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ ثَــلَاثَةَ أَیَّامٍ

ہر ماہ تین روزے رکھنے کی فضیلت کا بیان

1. عَنْ عَبْدِ ﷲِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ لِي رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم : أَلَمْ أُنَبَّأْ أَنَّکَ تَقُوْمُ اللَّیْلَ وَتَصُوْمُ النَّهَارَ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ فَقَالَ: فَإِنَّکَ إِذَا فَعَلْتَ ذٰلِکَ هَجَمَتِ الْعَیْنُ، وَنَفِهَتِ النَّفْسُ. صُمْ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ ثَــلَاثَةَ أَیَّامٍ، فَذٰلِکَ صَوْمُ الدَّهْرِ، أَوْ کَصَوْمِ الدَّهْرِ، قُلْتُ: إِنِّي أَجِدُ بِي. قَالَ مِسْعَرٌ: یَعْنِي قُوَّةً قَالَ: فَصُمْ صَوْمَ دَاوٗدَ علیه السلام وَکَانَ یَصُوْمُ یَوْمًا، وَیُفْطِرُ یَوْمًا، وَلَا یَفِرُّ إِذَا لَاقٰی. مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الأنبیائ، باب قول اﷲ تعالی وآتینا داود زبورا، 3/1253، الرقم: 3237، ومسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب النہي عن صوم الدهر لمن تضرر بہ، 2/817، الرقم: 1159، والبزار في المسند، 6/380، الرقم: 2399، والنسائي في السنن الکبری، 2/130، الرقم: 2705، والبیهقي في السنن الکبری، 4/299، الرقم: 8256.

’’حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا میں تمہیں (ایسی چیز) نہ بتاوں جس سے تم دن کو ہمیشہ روزہ رکھنے والے اور راتوں کو ہمیشہ قیام کرنے والے شمار ہو جاؤ؟ میں عرض گزار ہوا: ضرور بتائیے، فرمایا: اگر واقعتاً تم وہی کرو(یعنی دن کو ہمیشہ روزہ رکھو اور راتوں کو ہمیشہ قیام کرو) تو آنکھیں کمزور ہو جائیں گی اور حوصلہ چھوڑ بیٹھو گے۔ یوں کرو کہ ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیا کرو۔ یہ ہمیشہ روزہ رکھنے والی بات ہو جائے گی یا ایسی بات ہو جائے گی جیسے ہمیشہ روزے رکھے۔ میں عرض گزار ہوا کہ میں اپنے اندر (یہ ہمت) پاتا ہوں۔ مسعر کا قول ہے کہ اس مراد ہے طاقت پاتا ہوں۔ ارشاد فرمایا: تو پھرداؤدی روزہ رکھ لو کہ وہ ایک دن روزہ رکھتے اور دوسرے دن چھوڑ دیتے، اور وہ دشمن سے مقابلہ کے وقت بھاگنے والے نہیں تھے۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

2. عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: أَوْصَانِي خَلِیْلِي صلی الله علیه وآله وسلم بِثَلاَثٍ صِیَامِ ثَلاَثَةِ أَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ، وَ رَکْعَتَي الضُّحَی، وَ أَنْ أُوْتِرَ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ.

مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الصوم، باب صیام أیام البیض ثلاث عشرة وأربع عشرة وخمس عشرة، 2/699، الرقم: 1880، ومسلم في الصحیح، کتاب صلاة المسافرین وقصرها، باب استحباب صلاة الضحی وأن أقلها رکعتان وأکملها ثمان رکعات وأوسطها أربع رکعات أوست والحث علی المحافظة علیها، 1/499، الرقم: 721، وابن راھویه في المسند، 1/416، الرقم: 470، والبیهقي في السنن الکبری، 3/36 الرقم: 4620، والمنذری في الترغیب والترهیب، 1/264، الرقم: 16.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے خلیل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تین چیزوں کی وصیت فرمائی: ہر مہینے میں تین روزے رکھنا، چاشت کی دو رکعتیں اور سونے سے پہلے وتر پڑھ لینا۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

3. عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم : ثَلاَثٌ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ وَرَمَضَانُ إِلَی رَمَضَانَ فَهَذَا صِیَامُ الدَّهْرِ کُلِّهِ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب استحباب صیام ثلاثة أیام من کل شهر، 2/818، الرقم: 1162، وأبوداود في السنن، کتاب الصوم، باب في صوم الدهر تطوعًا، 2/321، الرقم: 2425، والنسائي في السنن، کتاب الصیام، باب صوم ثلثي الدهر وذکر اختلاف الناقلین للخبر في ذلک، 4/208، الرقم: 2387، وأحمد بن حنبل في المسند، 5/296، الرقم: 22590.

’’حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر ماہ کے تین روزے اور رمضان کے روزے رکھنا پوری عمر روزہ رکھنے کے برابر ہیں۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم، ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

4. عَنْ أَبِي ذَرٍّ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲ صلی الله علیه وآله وسلم : مَنْ صَامَ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ ثَــلَاثَةَ أَیَّامٍ فَذٰلِکَ صِیَامُ الدَّهْرِ فَأَنْزَلَ ﷲُ عزوجل تَصْدِیْقَ ذٰلِکَ فِي کِتَابِهٖ: {مَنْ جَائَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ أَمْثَالِهَا} [الأنعام، 6: 160] الْیَوْمُ بِعَشْرَةِ أَیَّامٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه.

أخرجه الترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء في صوم ثلاثة أیام من کل شهر، 3/135، الرقم: 762، وابن ماجه في السنن، کتاب الصیام، باب ما جاء في صیام ثلاثة أیام من کل شهر، 1/545، الرقم: 1708، والمنذري في الترغیب والترهیب، 2/75، الرقم: 1559.

’’حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ہر ماہ تین روزے رکھتا ہے، گویا وہ عمر بھر روزہ رکھتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اس کی تصدیق قرآن مجید میں نازل فرمائی ہے کہ {جو شخص کوئی ایک نیکی لے کر آتا ہے پس اس کے لیے دس گنا ہے۔} لہٰذا ایک دن دس دن کے برابر ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

5. عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِیْلَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: قِیْلَ لِلنَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم : رَجُلٌ یَصُوْمُ الدَّهْرَ قَالَ: وَدِدْتُ أَنَّهٗ لَمْ یَطْعَمِ الدَّهْرَ قَالُوْا: فَثُلُثَیْهِ؟ قَالَ: أَکْثَرَ. قَالُوْا: فَنِصْفَهٗ قَالَ: أَکْثَرَ، ثُمَّ قَالَ: أَ لَا أُخْبِرُکُمْ بِمَا یُذْهِبُ وَحَرَ الصَّدْرِ؟ صَوْمُ ثَــلَاثَةِ أَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ.

رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.

أخرجه النسائي في السنن، کتاب الصوم، باب صوم ثلثی الشهر وذکر اختلاف الناقلین للخبر، 4/208، الرقم: 2385، وفي السنن الکبری، 2/126، الرقم: 2693، وعبد الرزاق في المصنف، 4/296، الرقم: 7867، وابن أبي شیبة في المصنف، 2/328، الرقم: 9555.

’’عمرو بن شرحبیل ایک صحابیِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اُس آدمی کے متعلق پوچھا گیا جو عمر بھر روزہ رکھنا چاہتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں خیال کرتا ہوں کہ اس نے عمر بھر نہیں کھایا(یعنی یہ روزے بہت زیادہ ہیں)۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: عمر کے دو تہائی حصے کے متعلق کیاخیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی زیادہ ہے۔ پھر فرمایا: کیا میں تمہیں ایسا روزہ نہ بتاؤں جو سینے کا کینہ اور وسوسے ختم کر دیتا ہے؟ ہر ماہ تین دن روزہ رکھا کرو۔‘‘

اس حدیث کو امام نسائی نے روایت کیا ہے۔

6. عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم یَقُوْلُ: اَلصِّیَامُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ کَجُنَّةِ أَحَدِکُمْ مِنَ الْقِتَالِ، قَالَ: وَصِیَامٌ حَسَنٌ صِیَامُ ثَـلَاثَةِ أَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ.

رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه، وَالنَّسَائِيُّ، وَابْنُ خُزَیْمَةَ وَاللَّفْظُ لَهٗ.

أخرجه ابن ماجہ في السنن، کتاب الصیام، باب ما جاء في فضل الصیام، 1/525، الرقم: 1639، والنسائي في السنن، کتاب الصیام، باب ذکر الاختلاف علی محمد بن أبي یعقوب في حدیث أبي أمامة في فضل الصائم، 4/167، الرقم: 2231، والطبراني في المعجم الکبیر، 9/51، الرقم: 8360، وابن خزیمة في الصحیح، 3/193، الرقم: 1891.

’’حضرت عثمان ابن ابی العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جیسے تم میدانِ جنگ میں (دشمن سے بچاؤ کے لیے) ڈھال استعمال کرتے ہو ایسے ہی روزہ دوزخ سے (بچاؤ کے لیے) ڈھال ہے۔ بہتر (طریقہ) ہر ماہ تین دن روزہ رکھنا ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام ابن ماجہ، نسائی اور ابن خزیمہ نے روایت کیا ہے، مذکورہ الفاظ ابن خزیمہ کے ہیں۔

8. فَضْلُ مَنْ صَامَ یَوْمًا وَأَفْطَرَ یَوْمًا

صومِ داودی (ایک دن روزہ اور ایک دن افطار) کی فضیلت کا بیان

1. عَنْ عَبْدِ ﷲِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ لِي رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم : یَا عَبْدَ ﷲِ بْنَ عَمْرٍو، بَلَغَنِي أَنَّکَ تَصُوْمُ النَّهَارَ وَتَقُوْمُ اللَّیْلَ. فَـلَا تَفْعَلْ. فَإِنَّ لِجَسَدِکَ عَلَیْکَ حَظًّا. وَلِعَیْنِکَ عَلَیْکَ حَظًّا. وَإِنَّ لِزَوْجِکَ عَلَیْکَ حَظًّا. صُمْ وَأَفْطِرْ. صُمْ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ ثَــلَاثَةَ أَیَّامٍ؛ فَذٰلِکَ صَوْمُ الدَّهْرِ، قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ ﷲِ، إِنَّ بِي قُوَّةً قَالَ: فَصُمْ صَوْمَ دَاوٗدَ علیه السلام صُمْ یَوْمًا وَأَفْطِرْ یَوْمًا فَکَانَ یَقُوْلُ: یَا لَیْتَنِي! أَخَذْتُ بِالرُّخْصَةِ. مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.

وَهَذَا لَفْظُ مُسْلِمٍ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الأنبیائ، باب قول اﷲ تعالی وآتینا داود زبورا، 3/1253، الرقم: 3237، ومسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب النهي عن صوم الدهر لمن تضرر به، 2/817، الرقم: 1159، وأحمد بن حنبل في المسند، 2/194، الرقم: 6832.

’’حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے عبد اللہ بن عمرو! مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تم دن میں روزہ رکھتے ہو اور ساری رات قیام کرتے ہو، تم ایسا نہ کیا کرو، کیونکہ تمہارے جسم کا تم پر حق ہے، تمہاری آنکھوں کا تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا تم پر حق ہے، روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو اور ہر مہینہ میں تین روزے رکھ لیا کرو اور یہ صوم دہر ہو جائیں گے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اس سے زیادہ کی قوت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر حضرت داؤد علیہ السلام کے روزے رکھو، ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو۔ حضرت ابن عمرو رضی اﷲ عنہما کہتے تھے کاش کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دی ہوئی رخصت مان لی ہوتی۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے، اور مذکورہ الفاظ مسلم کے ہیں۔

2. عَنْ عَبْدِ ﷲِ بْنِ عَمْرٍو رضي اﷲ عنهما قَالَ: قَالَ لِي رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم : أَحَبُّ الصِّیَامِ إِلَی ﷲِ صِیَامُ دَاوٗدَ: کَانَ یَصُوْمُ یَوْمًا وَیُفْطِرُ یَوْمًا، وَأَحَبُّ الصَّـلَاةِ إِلَی ﷲِ صَـلَاةُ دَاوٗدَ: کَانَ یَنَامُ نِصْفَ اللَّیْلِ وَیَقُوْمُ ثُلُثَهٗ، وَیَنَامُ سُدُسَهٗ. مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الأنبیائ، باب أحب الصلاة إلی اﷲ صلاة داود، 3/1257، الرقم: 3238، ومسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب النهي عن صوم الدهر لمن تضرر به، 2/816، الرقم: 1159، والترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء في سرد الصوم، 3/140، الرقم: 770، والنسائي في السنن، کتاب قیام اللیل وتطوع النهار، باب ذکر صلاة نبي اﷲ داود علیه السلام باللیل، 3/214، الرقم: 1630، وابن ماجه في السنن، کتاب الصیام، باب ما جاء في صیام داود، 1/546، الرقم: 1712.

’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما کا بیان ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو داؤدی روزہ سب روزوں سے زیادہ پسند ہے. وہ ایک دن روزہ رکھتے اور دوسرے دن افطار کرتے اور اللہ تعالیٰ کو داؤدی نماز سب نمازوں سے زیادہ پسند ہے۔ وہ نصف رات تک سوتے، تہائی رات قیام کرتے پھر باقی چھٹا حصہ سوتے۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

اَ لْآثَارُ وَالْأَقْوَالُ

1. قَالَ ابْنُ شَوْذَبٍ رحمه ﷲ: کَانَ ابْنُ سِیْرِیْنَ رحمه ﷲ یَصُوْمُ یَوْمًا وَیُفْطِرُ یَوْمًا وَکَانَ الْیَوْمَ الَّذِيْ یُفْطِرُ فِیْهِ یَتَغَدّٰی وَلَا یَتَعَشّٰی ثُمَّ یَتَسَحَّرُ وَیُصْبِحُ صَائِمًا.

أخرجه أحمد بن حنبل في الزهد: 432.

’’حضرت ابن شوذب رَحِمَهُ اﷲ بیان کرتے ہیں کہ امام ابن سیرین رَحِمَۃُ اﷲ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے، اور جس دن افطار کرتے تھے اس میں دوپہر کا کھانا کھاتے اور شام کا نہیں کھاتے تھے پھر سحری کھاتے اور روزہ دار ہو جاتے۔‘‘

2. قَالَ الْفُضَیْلُ رَحِمَهُ اﷲ: ثَـلَاثُ خِصَالٍ تُقَسِّي الْقَلْبَ: کَثْرَةُ الْأَکْلِ، وَکَثْرَةُ النَّوْمِ، وَکَثْرَةُ الْکَلَامِ.

أخرجه السُّلمي في طبقات الصّوفیة: 13.

’’حضرت فضیل بن عیاض رَحِمَۃُ اﷲ نے فرمایا: تین خصلتیں ایسی ہیں جو دل کو سخت کردیتی ہیں: کثرتِ طعام، کثرتِ منام اور کثرتِ کلام۔‘‘

3. قَالَ بِشْرٌ رَحِمَهُ اﷲ: اَلْمُتَقَلِّبُ فِي جُوْعِهٖ، کَالْمُتَشَحِّطِ فِي دَمِهٖ فِي سَبِیْلِ ﷲِ. وَثَوَابُهٗ الْجَنَّةُ.

أخرجه السُّلمي في طبقات الصّوفیة: 44.

’’حضرت بشر حافی رَحِمَۃُ اﷲ نے فرمایا: اپنی بھوک میں لوٹ پوٹ ہونے والا اﷲ تعالی کی راہ میں خون آلود ہونے والے کی طرح ہے اور اس کا ثواب جنت ہے۔‘‘

4. قَالَ یَحْیَی بْنُ مُعَاذٍ رَحِمَهُ اﷲ: لَوْ أَنَّ الْجُوْعَ یُبَاعُ فِي السُّوْقِ لَمَا کَانَ یَنْبَغِيْ لِطُـلَّابِ الآخِرَةِ إِذَا دَخَلُوْا السُّوْقَ أَنْ یَّشْتَرُوْا غَیْرَهٗ.

أخرجه القشیري في الرسالة: 141.

’’حضرت یحییٰ بن معاذ رَحِمَۃُ اﷲ نے فرمایا: اگر بھوک ایسی چیز ہوتی، جو بازار میں بیچی جاتی تو آخرت کے طالبین کے لئے، جب بھی بازار میں داخل ہوتے، یہ مناسب نہ ہوتا کہ بھوک کے سوا کسی اور چیز کو خریدتے۔‘‘

5. قَالَ مُظَفَّرُ الْقِرْمِیْسِیْنِيُّ رَحِمَهُ اﷲ: اَلصَّوْمُ ثَــلَاثَةٌ: صَوْمُ الرُّوْحِ، بِقَصْرِ الأَمَلِ، وَصَوْمُ الْعَقْلِ، بِخَـلَافِ الْهَوٰی، وَصَوْمُ النَّفْسِ، بِالإِمْسَاکِ عَنِ الطَّعَامِ وَالْمَحَارِمِ.

أخرجه السّلمي في طبقات الصّوفیة: 396.

’’شیخ مظفر قرمیسینی رَحِمَۃُ اﷲ نے فرمایا: روزے تین طرح کے ہوتے ہیں: روح کا روزہ، یہ امید کو مختصر کرنے سے ہوتا ہے. عقل کا روزہ، یہ خواہش نفس کی خلاف ورزی سے ہوتا ہے اور نفس کا روزہ، یہ کھانے اور حرام کاموں سے رکنے سے ہوتا ہے۔‘‘

6. قَالَ أَبُوْ حَمْزَةَ رَحِمَهُ اﷲ: مَنْ رُزِقَ ثَــلَاثَةُ أَشْیَاءَ، مَعَ ثَــلَاثَةِ أَشْیَائَ، فَقَدْ نَجَا مِنَ الآفَاتِ: بَطْنٌ خَالٍ مَعَ قَلْبٍ قَانِعٍ، وَفَقْرٌ دَائِمٌ مَعَ زُهْدٍ حَاضِرٍ، وَصَبْرٌ کَامِلٌ مَعَ ذِکْرٍ دَائِمٍ.

أخرجه السّلمي في طبقات الصّوفیة : 297.

’’حضرت ابو حمزہ رَحِمَۃُ اﷲ نے فرمایا: جس کو تین چیزوں کے ساتھ تین چیزیں عطا کر دی گئیں وہ آفات سے نجات پا گیا۔ خالی پیٹ قلب نافع کے ساتھ، دائمی فقر زہد حاضر کے ساتھ، صبر کامل دائمی ذکر کے ساتھ۔‘‘

فَصْلٌ فِي النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الْعِیْدَیْنِ وَأَیَّامِ التَّشْرِیْقِ

عیدین اور ایام تشریق کے روزوں کی ممانعت کا بیان}

1. عَنْ أَبِي سَعِیْدٍ رضی الله عنه قَالَ: نَهَی النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم عَنْ صَوْمِ یَوْمِ الْفِطْرِ وَالنَّحْرِ. مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ وَهَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الصوم، باب صوم یوم الفطر، 2/702، الرقم:1890، ومسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب النهي عن صوم یوم الفطر ویوم الأضحی، 2/799، الرقم:1138، وابن ماجه في السنن، کتاب الصیام، باب في النهي عن صیام یوم الفطر والأضحی، 1/549، الرقم:1721، والأصبهاني في مسند أبي حنیفة، 1/163، والنسائي في السنن الکبری، 2/149، الرقم:2791، والبزار في المسند، 1/290، الرقم:186، و أحمد بن حنبل في المنسد، 3/85، الرقم:11821.

’’حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید الفطر اور قربانی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔

2. عَنْ أَبِي سَعِیْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم : لَا صَوْمَ فِي یَوْمَیْنِ: الْفِطْرِ وَالْأَضْحَی . رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الصوم، باب صوم یوم النحر، 2/703، الرقم: 1893، وفي کتاب الجمعة، باب مسجد بیت المقدس، 1/400، الرقم: 1139، وأحمد بن حنبل في المسند، 3/34، 71، الرقم: 11312، 11699.

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو دنوں کا روزہ نہیں ہے یعنی عید الفطر اور عید الاضحی کا۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

3. عَنْ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنها قَالَتْ: مَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم صَائِمًا فِي الْعَشْرِ قَطُّ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ، وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ.

أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب الاعتکاف، باب صوم عشر ذي الحجة، 2/833، الرقم:1176، والترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء في صیام العشر، 3/129، الرقم:756، والنسائي في السنن الکبری، 2/165، الرقم:2872، و أحمد بن حنبل في المسند، 6/42، الرقم:24193، وابن الجعد في المسند، 1/265، الرقم:1744، والبیهقي في السنن الکبری، 7/285، الرقم:8177.

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عشرئہ ذی الحجہ کے روزے رکھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم، ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

4. عَنْ نُبَیْشَةَ الْهُذَلِيِّ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم : أَیَّامُ التَّشْرِیْقِ أَیَّامُ أَکْلٍ وَشُرْبٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ.

أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب تحریم صوم أیام التشریق، 2/800، الرقم:1141، والنسائي في السنن الکبری، 2/463، الرقم: 4182، وأحمد بن حنبل في المسند، 5/75، وابن أبي شیبة في المصنف، 3/94، الرقم: 15268.

’’حضرت نبیشہ ہذلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایام تشریق (عید الاضحی کے بعد تین دن) کھانے پینے کے ایام ہیں۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

5. عَنْ عائِشَةَ وَابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما قَالَا: لَمْ یُرَخَّصْ فِي أَیَّامِ التَّشْرِیْقِ أَنْ یُصَمْنَ إِلَّا لِمَنْ لَمْ یَجِدِ الْهَدْيَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَابْنُ أَبِي شَیْبَةَ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الصوم، باب صیام أیام التشریق، 2/703، الرقم: 1894، وابن أبي شیبة في المصنف، 3/155، الرقم: 12996، والبیهقي في السنن الکبری، 4/298، الرقم: 8248، وابن حجر العسقلاني في تلخیص الحبیر، 2/196، الرقم: 892، والزیلعي في نصب الرایة، 3/112.

’’حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت ابن عمر رضی اﷲ عنہم سے مروی ہے کہ ایام تشریق کے روزوں کی صرف اُسے اجازت دی گئی ہے جس کو قربانی کا جانور میسر نہ ہو۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

7. عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم : یَوْمُ عَرَفَةَ، وَیَوْمُ النَّحْرِ، وَأَیَّامُ التَّشْرِیْقِ عِیْدُنَا أهْلَ الإِسْلَامِ، وَهِيَ أَیَّامُ أَکْلٍ وَشُرْبٍ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ.

أخرجه الترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء في کراهیة الصوم، 3/143، الرقم: 773، وأبو داود في السنن، کتاب الصوم، باب صیام أیام التشریق، 2/320، الرقم: 2419، والدارمي في السنن، 2/37، الرقم: 1764، والطبراني في المعجم الکبیر، 17/291، الرقم: 803.

’’حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یوم عرفہ، قربانی کا دن اور اَیام تشریق (عید الاضحی کے بعد تین دن) ہم مسلمانوں کی عید اور کھانے پینے کے دن ہیں۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی، ابو داود اور دارمی نے روایت کیا ہے۔

8. عَنِ ابْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِیْهِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم بَعَثَهُ وَأَوْسَ بْنَ الْحَدَثَانِ أَیَّامَ التَّشْرِیْقِ فَنَادَی أَنَّهُ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَأَیَّامُ مِنًی أَیَّامُ أَکْلٍ وَشُرْبٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ، وَالطَّبَرَانِيُّ.

أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب تحریم صوم أیام التشریق، 2/800، الرقم: 1142، والطبراني في المعجم الکبیر، 1/224، الرقم: 612، وفي المعجم الصغیر، 1/67، الرقم: 81، والهیثمي في السنن الکبری، 4/260، الرقم: 8040، وابن عبد البر في التمهید، 21/232، والمروزي في تعظیم قدر الصلاة، 2/623، الرقم: 673.

’’حضرت کعب بن مالک اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مالک اور اوس بن حدثان کو ایام تشریق میں یہ اعلان کرنے کے لیے بھیجا کہ جنت میں صرف مومن داخل ہو گا اور ایام منٰی کھانے پینے کے ایام ہیں۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔

9. عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم نَهَی عَنْ صَوْمِ خَمْسَةِ أَیَّامٍ فِي السَّنَةِ: یَوْمِ الْفِطْرِ، وَیَوْمِ النَّحْرِ، وَثَلَاثَةِ أَیَّامِ التَّشْرِیْقِ. رَوَاهُ الدَّارَ قُطْنِيُّ.

أخرجه الدارقطني في السنن، 2/212، الرقم: 34، وأبو یعلی في المسند، 7/149، الرقم: 4117، والشیباني في الحجة، 1/390، والهیثمي في مسند الحارث، 1/433، الرقم: 348، والعیني في عمدة القاري، 11/115.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سال میںپانچ دنوں کے روزے رکھنے سے منع فرمایا، وہ عید الفطر ، قربانی کا دن اور تین دن ایام تشریق کے ہیں۔ ‘‘

اس حدیث کو امام دار قطنی نے روایت کیا ہے۔

فَصْلٌ فِي کَرَاهَةِ إِفْرَادِ یَوْمِ الْجُمُعَةِ وَیَوْمِ السَّبْتِ بِالصَّوْمِ

محض جمعہ یا ہفتہ کے دن کا روزہ مکروہ ہونے کا بیان

1. عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم یَقُوْلُ: لَا یَصُوْمَنَّ أَحَدُکُمْ یَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَّا یَوْمًا قَبْلَهُ أَوْ بَعْدَهُ. مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ .

وفي روایة مسلم: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: لَا یَصُمْ أَحَدُکُمْ یَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَّا أَنْ یَصُوْمَ قَبْلَهُ أَوْ یَصُوْمَ بَعْدَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الصوم، باب صوم یوم الجمعة فإذا أصبح صائما یوم الجمعة فعلیه أن یفطر یعني إذا لم یصم قبله ولا یرید أن یصوم بعده، 2/700، الرقم: 1884، ومسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب کراهة صیام یوم الجمعة منفردا، 2/801، الرقم:1144، والترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء في کراهیة صوم یوم الجمعة وحده، 3/119، الرقم:743، وأبوداود في السنن، کتاب الصوم، باب النهي أن یخص یوم الجمعة بصوم، 2/320، الرقم: 2420، والنسائي في السنن الکبری، 2/142، الرقم: 2756-2757، وعبد الرزاق في المصنف، 4/280، الرقم:7805.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے کوئی صرف جمعہ کا روزہ نہ رکھے مگر اس صورت میں کہ اس سے پہلے یا بعد والے دن کا بھی روزہ رکھے۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

امام مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھے مگر یہ کہ اس سے پہلے ایک دن یا اس کے بعد ایک دن کا روزہ اس کے ساتھ (ملا کر)رکھے۔‘‘

2. عَنْ جُوَیْرِیَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رضي اﷲ عنہا أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم دَخَلَ عَلَیْهَا یَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهِيَ صَائِمَةٌ فَقَالَ: أَصُمْتِ أَمْسِ؟ قَالَتْ: لَا. قَالَ: تُرِیْدِیْنَ أَنْ تَصُوْمِي غَدًا؟ قَالَتْ: لَا. قَالَ: فَأَفْطِرِي.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَأَبُوْ دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الصوم، باب صوم یوم الجمعة فإذا أصبح صائما یوم الجمعة فعلیه أن یفطر یعني إذا لم یصم قبله ولا یرید أن یصوم بعده، 2/701، الرقم: 1885، وأبو داود في السنن، کتاب الصوم، باب الرخصة في ذلک، 2/321، الرقم: 2422، والنسائي في السنن الکبری، 2/142، الرقم: 2753، وأحمد بن حنبل في المسند، 6/324، الرقم: 26799، وأبو یعلی في المسند، 12/490، الرقم: 7066.

’’اُم المومنین حضرت جویریہ بنت حارث رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے روز اُن کے پاس تشریف لائے اور وہ روزے سے تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے عرض کی: نہیں۔ فرمایا: کیا کل روزہ رکھو گی؟ عرض گزار ہوئیں کہ نہیں۔ فرمایا تو روزہ افطار کر لو۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری، ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

3. عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا رضی الله عنه نَهَی النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم عَنْ صَوْمِ یَوْمِ الْجُمُعَةِ ؟ قَالَ: نَعَمْ. زَادَ غَیْرُ أَبِي عَاصِمٍ یَعْنِي أَنْ یَنْفَرِدَ بِصَوْمٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَابْنُ مَاجَه.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الصوم، باب صوم یوم الجمعة فإذا أصبح صائما یوم الجمعة فعلیه أن یفطر یعني إذا لم یصم قبله ولا یرید أن یصوم بعده، 2/700، الرقم: 1883، وابن ماجه في السنن، کتاب الصیام، باب في صیام یوم الجمعة، 1/549، الرقم: 1723، والنسائي في السنن الکبری، 2/141، الرقم: 2748، وأحمد بن حنبل في المسند، 2/407، الرقم: 9273.

’’محمد بن عباد سے روایت ہے کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمعہ کے روزے سے منع فرمایا ہے ؟ فرمایا: ہاں۔ ابو عاصم کے سوا دوسرے راویوں نے کہا ہے کہ جب یہی ایک روزہ رکھے(یعنی اس سے پہلے یا بعد والے دن کا روزہ نہ رکھے تو جمعہ کا تنہا روزہ رکھنا ممنوع ہے)۔‘‘ اس حدیث کو امام بخاری اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

4. عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: لَا تَخْتَصُّوْا لَیْلَةَ الْجُمُعَةِ بِقِیَامٍ مِنْ بَیْنِ اللَّیَالِي وَلَا تَخُصُّوْا یَوْمَ الْجُمُعَةِ بِصِیَامٍ مِنْ بَیْنِ الْأَیَّامِ إِلَّا أَنْ یَکُوْنَ فِي صَوْمٍ یَصُوْمُهُ أَحَدُکُمْ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ، وَالنَّسَائِيُّ، وَابْنُ حِبَّانَ.

أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب کراهة صیام یوم الجمعة منفردا، 2/801، الرقم:1144، والنسائي في السنن الکبری، 2/141، الرقم: 2751، وابن حبان في الصحیح، 8/376، الرقم: 3612، والحاکم في المستدرک، 1/455، الرقم: 1172، وابن خزیمة في الصحیح، 2/198، الرقم: 1176.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: راتوں میں صرف جمعہ کی رات کو قیام کے ساتھ مخصوص کرو نہ ہی دنوں میں سے صرف جمعہ کے دن کو روزے کے ساتھ مخصوص کرو، سوا اس کے کہ کوئی شخص (کسی مخصوص دن کو) ہمیشہ روزہ رکھتا ہو اور (اس دن میں) جمعہ کا دن آ جائے۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم، نسائی اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔

5. عَنْ عَبْدِ ﷲِ بْنِ بُسْرٍ عَنْ أُخْتِهِ أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: لَا تَصُوْمُوا یَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا فِیْمَا افْتَرَضَ ﷲُ عَلَیْکُمْ فَإِنْ لَمْ یَجِدْ أَحَدُکُمْ إِلَّا لِحَائَ عِنَبَةٍ أَوْ عُوْدَ شَجَرَةٍ فَلْیَمْضُغْهُ.

رَوَاهُ الؤتِّرْمِذِيُّ، وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ

أخرجه الترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء في یوم السبت، 3/120، الرقم: 744، وأبوداود في السنن، کتاب الصوم، باب النهي أن یخص یوم السبت بصوم، 2/320، الرقم: 2421، وابن ماجه في السنن، کتاب الصیام، باب 1/550، الرقم: 1726، والنسائي في السنن الکبری، 2/144، الرقم: 2764، والدارمي في السنن، 2/32، الرقم: 1749، والحاکم في المستدرک، 1/601، الرقم: 1592.

’’حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ اپنی ہمشیرہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہفتہ کے دن روزہ نہ رکھو مگر جو تم پر اﷲ تعالیٰ نے فرض کیے ہیں (یعنی رمضان کے روزے) اور اگر تم میں سے کسی کو انگور کا چھلکا یا درخت کی لکڑی کے سوا کچھ نہ ملے تو اسے ہی چبا لے۔‘‘ (اس دن میں کراہت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص روزہ رکھنے کے لیے ہفتے کا دن مخصوص نہ کرے کیونکہ یہودی اس دن کی تعظیم کرتے ہیں)۔

اس حدیث کو امام ترمذی، ابو داود اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔

6. عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رضي اﷲ عنها، تَقُوْلُ: کَانَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم یَصُوْمُ یَوْمَ السَّبْتِ وَیَوْمَ الْأَحَدِ أَکْثَرَ مِمَّا یَصُوْمُ مِنَ الْأَیَّامِ وَیَقُوْلُ: إِنَّهُمَا عِیْدَا الْمُشْرِکِیْنَ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أُخَالِفَهُمْ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَاللَّفْظُ لَهُ وَالنَّسَائِي فِي الْکُبْرَی.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 6/323، الرقم:26793، والنسائی في السنن الکبری، 2/146، الرقم:2776، وابن خزیمة في الصحیح، 3/318، الرقم:2167، والحاکم في المستدرک، 1/601، الرقم:1593، والطبرانی في المعجم الأوسط، 4/156، الرقم:3857، وفي المعجم الکبیر، 23/283، الرقم:616.

’’حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہفتہ اور اتوار کے دن دوسرے دنوں سے بڑھ کر روزہ رکھتے تھے اور فرماتے تھے یہ دونوں دن مشرکین کی عید کے دن تھے، پس میں ان دنوں میں ان کی مخالفت کرنا پسند کرتا ہوں۔‘‘ اس حدیث کو امام احمد اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

7. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: لَا تَصُوْمُوْا یَوْمَ الْجُمُعَةِ وَحْدَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 1/288، رقم: 2615، وأیضاً، 2/526، الرقم: 10817، والهیثمي في مجمع الزوائد، 3/199.

’’حضرت عبد اﷲ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صرف جمعہ کے دن کا روزہ مت رکھو۔‘‘ اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے۔

8. عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم یَقُوْلُ: إِنَّ یَوْمَ الْجُمُعَةِ یَوْمُ عِیْدٍ فَـلَا تَجْعَلُوْا یَوْمَ عِیْدِکُمْ یَوْمَ صِیَامِکُمْ إِلَّا أَنْ تَصُوْمُوْا قَبْلَهُ أَوْ بَعْدَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْحَاکِمُ.

أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 2/303، الرقم: 2615، والحاکم في المستدرک، 1/603، الرقم: 1595، وابن خزیمة في الصحیح، 3/315، الرقم: 2161، والبیهقي في فضائل الأوقات، 1/511، الرقم: 287.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ بے شک جمعة المبارک کا دن (مسلمانوں کے لیے) یوم عید ہے، لہذا اپنے عید کے دن کو یوم صیام نہ بناؤ، مگر اس صورت میں کہ تم اس سے پہلے یا بعد والے دن کا بھی روزہ رکھو۔ ‘‘ اس حدیث کو امام احمد اور حاکم نے روایت کیا ہے۔

فَصْلٌ فِي النَّهْيِ عَنْ صِیَامِ الْوِصَالِ

مسلسل نفلی روزوں کی ممانعت کا بیان

1. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما قَالَ: نَهَی رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم عَنِ الْوِصَالِ، قَالُوْا: إِنَّکَ تُوَاصِلُ، قَالَ: إِنِّي لَسْتُ مِثْلَکُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَی. مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ وَهَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الصوم، باب الوصال ومن قال: لیس في اللّیلِ صیامٌ، 2/693، الرقم: 1861، ومسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب النهي عن الوصال في الصوم، 2/774، الرقم: 1102، وأبوداود في السنن، کتاب الصوم، باب في الوصال، 2/306، الرقم: 2360، والنسائي في السنن الکبری، 2/241، الرقم: 3263، ومالک في الموطأ، 1/300، الرقم: 667، وأحمد بن حنبل في المسند، 2/102، الرقم: 5795، وابن حبان في الصحیح، 8/341، الرقم: 3575، وابن أبي شیبة في المصنف، 2/330، الرقم: 9587، وعبد الرزاق في المصنف، 4/268، الرقم: 7755، والبیهقي في السنن الکبری، 4/282، الرقم: 8157.

’’حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صومِ وِصال (یعنی سحری و اِفطاری کے بغیر مسلسل روزے رکھنے) سے منع فرمایا. صحابہ کرامث نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ تو وصال کے روزے رکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ہرگز تمہاری مثل نہیں ہوں، مجھے تو (اپنے رب کے ہاں) کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے، مذکورہ الفاظ بخاری کے ہیں۔

2. عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: نَهَی رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ: إِنَّکَ تُوَاصِلُ یَا رَسُوْلَ ﷲِ. قَالَ: وَأَیُّکُمْ مِثْلِي؟ إِنِّي أَبِیْتُ یُطْعِمُنِي رَبِّي وَیَسْقِیْنِ… الحدیث.

مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ وَهَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الحدود، باب حُکم التعزیر والأدب، 6/2512، رقم: 6459، وفي کتاب التمني، باب ما یجوز من اللو، 6/2646، رقم: 6815، ومسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب النهي عن الوصال في الصوم، 2/774، رقم: 1103، والنسائي في السنن الکبری، 2/242، رقم: 3264، والدارمي في السنن، کتاب الصوم، باب النهي عن الوصال في الصوم، 2/15، رقم: 1706، والطبراني في المعجم الأوسط، 2/68، رقم: 1274، والدارقطني في العلل الواردة في الأحادیث النبویة، 9/232.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو صومِ وصال سے منع فرمایا تو بعض صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اﷲ! آپ خود تو صومِ وصال رکھتے ہیں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کون میری مثل ہو سکتا ہے؟ میں تو اس حال میں رات بسر کرتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتابھی ہے اور پلاتا بھی ہے۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے، مذکورہ الفاظ بخاری کے ہیں۔

3. عَنْ عائِشَةَ رضي اﷲ عنها قَالَتْ: نَهَی رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم عَنِ الْوِصَالِ رَحْمَةً لَهُمْ، فَقَالُوْا: إِنَّکَ تُوَاصِلُ! قَالَ: إِنِّي لَسْتُ کَهَیْئَتِکُمْ، إِنِّي یُطْعِمُنِي رَبِّي وَیَسْقِینِ. مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الصوم، باب الوصال ومن قال: لیس في اللّیل صیامٌ، 2/693، الرقم: 1863، وفي کتاب التمنی، باب ما یَجُوْزُ مِنَ اللَّوْ، 6/2645، الرقم: 6815، ومسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب النهي عن الوصال في الصوم، 2/776، الرقم: 1105، وأحمد بن حنبل في المسند، 2/153، الرقم: 6413، والبیهقي في السنن الکبری، 4/282، الرقم: 8161، وابن راهویه في المسند، 2/168، الرقم: 669، وأبوالمحاسن في معتصر المختصر، 1/150،وابن رجب في جامع العلوم والحکم، 1/437.

’’حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں پر شفقت کے باعث انہیں وصال کے روزے رکھنے سے منع فرمایا تو صحابہ کرام نے عرض کیا: (یا رسول اﷲ!) آپ تو وصال کے روزے رکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم جیسا نہیں ہوں۔ مجھے تو میرا رب کھلاتا بھی ہے اور پلاتا بھی ہے۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

4. عَنْ أَنَسٍص قَالَ: وَاصَلَ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم آخِرَ الشَهْرِ، وَوَاصَلَ أُنَاسٌ مِنَ النَّاسِ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم فَقَالَ: لَوْ مُدَّ بِيَ الشَّهْرُ، لَوَاصَلْتُ وِصَالاً یَدَعُ الْمُتَعَمِّقُوْنَ تَعَمُّقَهُمْ، إِنِّي لَسْتُ مِثْلَکُمْ، إِنِّي أَظَلُّ یُطْعِمُنِي رَبِّي وَیَسْقِیْنِ. مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب التمنی، باب ما یجوز من اللَّوْ وقوله تعالی: لَوْ أَنَّ لِيْ بِکُمْ قُوَّةً، ]هود:80[، 6/2645، الرقم: 6814، ومسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب النهي عن الوصال في الصوم، 2/776، الرقم: 1104، وأحمد بن حنبل في المسند، 3/124، الرقم: 12270، 13035، 13092، 13681، وابن حبان في الصحیح، 14/325، الرقم: 6414، والبهیقی في السنن الکبری، 4/282، الرقم: 8160، وابن أبي شیبة في المصنف، 2/330، الرقم: 9585، وأبویعلی في المسند، 6/36، الرقم: 3282، 3501، وعبد بن حمید في المسند، 1/400، الرقم: 1353.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مہینے کے آخر میں سحری افطاری کے بغیر مسلسل روزے رکھنے شروع کر دیئے تو بعض دیگر لوگوں نے بھی وصال کے روزے رکھے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک جب یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ رمضان کا مہینہ میرے لیے اور لمبا ہو جاتا تو میں مزید وصال کے روزے رکھتا تاکہ میری برابری کرنے و الے میری برابری کرنا چھوڑ دیتے۔ میں قطعاً تمہاری مثل نہیں ہوں، مجھے تو میرا رب (اپنے ہاں) کھلاتا بھی ہے اور پلاتا بھی ہے۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

5. عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَجُلٌ أَتَی النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم فَقَالَ: کَیْفَ تَصُوْمُ فَغَضِبَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم فَلَمَّا رَأَی عُمَرُ رضی الله عنه غَضَبَهُ قَالَ: رَضِیْنَا بِاﷲِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِیْنًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا نَعُوْذُ بِاﷲِ مِنْ غَضَبِ ﷲِ وَغَضَبِ رَسُوْلِهِ فَجَعَلَ عُمَرُ رضی الله عنه یُرَدِّدُ هَذَا الْکَلَامَ حَتَّی سَکَنَ غَضَبُهُ فَقَالَ عُمَرُ: یَا رَسُوْلَ ﷲِ، کَیْفَ بِمَنْ یَصُوْمُ الدَّهْرَ کُلَّهُ قَالَ: لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ، أَوْ قَالَ: لَمْ یَصُمْ وَلَمْ یُفْطِرْ. قَالَ: کَیْفَ مَنْ یَصُوْمُ یَوْمَیْنِ وَیُفْطِرُ یَوْمًا؟ قَالَ وَیُطِیْقُ ذَلِکَ أَحَدٌ؟ قَالَ: کَیْفَ مَنْ یَصُوْمُ یَوْمًا وَیُفْطِرُ یَوْمًا؟ قَالَ: ذَاکَ صَوْمُ دَاوُدَ علیه السلام قَالَ: کَیْفَ مَنْ یَصُوْمُ یَوْمًا وَیُفْطِرُ یَوْمَیْنِ؟ قَالَ: وَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَلِکَ. ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم : ثَـلَاثٌ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ وَرَمَضَانُ إِلَی رَمَضَانَ فَهَذَا صِیَامُ الدَّهْرِ کُلِّهِ صِیَامُ یَوْمِ عَرَفَةَ أَحْتَسِبُ عَلَی ﷲِ أَنْ یُکَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ وَصِیَامُ یَوْمِ عَاشُوْرَائَ أَحْتَسِبُ عَلَی ﷲِ أَنْ یُکَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب استحباب صیام ثلاثة أیام من کل شهر وصوم یوم العرفة وعاشوراء والإثنین والخمیس، 2/818، الرقم: 1162، وأبو داود في السنن، کتاب الصوم، باب في صوم الدهر تطوعا، 2/321، الرقم: 2425، وابن حبان في الصحیح، 8/401، الرقم: 3639.

’’حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیسے روزے رکھتے ہیں؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی بات سے ناراض ہوئے، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناراضگی کو دیکھا تو کہا: ہم اللہ تعالیٰ کو رب ماننے سے راضی ہیں۔ اسلام کو دین ماننے سے راضی ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبی ماننے سے راضی ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے غضب سے ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کلام کو بار بار دہراتے رہے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! جو شخص پوری عمر روزے رکھے اس کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا روزہ ہے نہ افطار۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: جو شخص دو دن روزے رکھے اور ایک دن افطار کرے اس کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی کون طاقت رکھتا ہے؟ حضرت عمر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: جو شخص ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ حضرت داؤد علیہ السلام کے روزے ہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: جو شخص ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری خواہش ہے کہ مجھے اس کی قوت حاصل ہوتی! پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر ماہ تین دن کے روزے رکھنا اور ایک رمضان کے بعد دوسرے رمضان کے روزے رکھنا یہ تمام عمر (صوم دہر) کے روزے ہیں اور یوم عرفہ کا روزہ رکھنے سے مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہ معاف فرما دے گا اور مجھے امید ہے کہ یوم عاشورہ کا روزہ رکھنے سے اللہ تعالیٰ ایک سال پہلے کے گناہ معاف کر دے گا۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم اور ابو داود نے روایت کیا ہے۔

6. عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم : لَا تُوَاصِلُوْا. قَالُوْا: فَإِنَّکَ تُوَاصِلُ یَا رَسُوْلَ ﷲِ، قَالَ: إِنِّي لَسْتُ کَأَحَدِکُمْ إِنَّ رَبِّي یُطْعِمُنِي وَیَسْقِیْنِي.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَالدَّارِمِيُّ، وَأَحْمَدُ. وَقَالَ أَبُوْ عِیْسَی: حَدِیثُ أَنَسٍ حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ.

أخرجه الترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء في کراهیة الوصال للصائم، 3/148، الرقم: 778، والدارمي في السنن، 2/14، الرقم: 1704، وأحمد بن حنبل في المسند، 3/202، الرقم: 13110، وأبو یعلی في المسند، 5/341، الرقم: 2972، وابن حبان في الصحیح، 8/341، الرقم: 3574.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دن رات روزہ (صوم وصال) نہ رکھو۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ صوم وصال رکھتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری طرح کا نہیں ہوں میرا رب مجھے کھلاتا بھی ہے اور پلاتا ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی، دارمی اور احمد نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی فرماتے ہیں کہ حدیثِ انس حسن صحیح ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved