The Pure Pearls of the Prophetic Features

حضور (ص) کے حسن قامت کا بیان

بَابٌ فِي وَصْفِ حُسْنِ قَامَتِه صلی الله عليه واله وسلم

{حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے حُسنِ قامت کا بیان}

143 /1. عَنِ الْبَرَاءِ رضی الله عنه يَقُوْلُ: کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم أَحْسَنَ النَّاسِ وَجْهًا، وَأَحْسَنَهُمْ خَلْقًا، لَيْسَ بِالطَّوِيْلِ الْبَائِنِ وَلَا بِالْقَصِيْرِ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

1: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب المناقب، باب صفة النبي صلی الله عليه واله وسلم ، 3 /1303، الرقم: 3356، ومسلم في الصحيح، کتاب الفضائل، باب في صفة النبي صلی الله عليه واله وسلم وأنه أحسن الناس وجهًا، 4 /1819، الرقم: 2337، وابن حبان في الصحيح، 14 /196، الرقم: 6285.

’’حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم بلحاظ صورت و خِلقت لوگوں میں سب سے حسین تھے، نہ تو زیادہ دراز قد تھے اور نہ ہی پستہ قد۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

144 /2. عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: لَمْ يَکُنْ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم بِالطَّوِيْلِ وَلَا بِالْقَصِيْرِ…الحديث.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَأَبُوْ يَعْلٰی وَالْبَزَّارُ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدَيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ. وَقَالَ الْحَاکِمُ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

2: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب ما جاء في صفة النبي صلی الله عليه واله وسلم ، 5 /598، الرقم: 3637، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 /96، 127، الرقم: 746، 1053، وأبو يعلی في المسند، 1 /304، الرقم: 370، والطيالسي في المسند، 1 /24، الرقم: 171، والحاکم في المستدرک، 2 /662، الرقم: 4194، والبخاري في التاريخ الکبير، 1 /8، والبيهقي في شعب الإيمان،2 /149، الرقم: 1414.

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نہ تو بہت دراز قد تھے اور نہ ہی نہایت پستہ قد۔‘‘

اِس حدیث کو امام ترمذی، احمد، ابو یعلی اور بزار نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن ہے اور امام حاکم نے بھی فرمایا: اس حدیث کی سند صحیح ہے۔

145 /3. عَنْ إِبْرَاهِيْمَ بْنِ مُحَمَّدٍ مِنْ وَلَدِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ عَلِيٌّ رضی الله عنه إِذَا وَصَفَ النَّبِيَّ صلی الله عليه واله وسلم قَالَ: لَمْ يَکُنْ بِالطَّوِيْلِ الْمُمَغَّطِ وَلَا بِالْقَصِيْرِ الْمُتَرَدِّدِ، وَکَانَ رَبْعَةً مِنَ الْقَوْمِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

3: أخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب ما جاء في صفة النبي صلی الله عليه واله وسلم ، 5 /599، الرقم: 3638، وأيضًا في الشمائل المحمدية /32، الرقم: 7، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 /328، الرقم: 31805، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 /149، الرقم: 1415، وابن سعد في الطبقات الکبری، 1 /411.

’’حضرت ابراہیم بن محمد، جو حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی اولاد سے ہیں، فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا حلیہ مبارک بیان کرتے ہوئے فرماتے: آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نہ تو بہت دراز قد تھے اور نہ ہی نہایت پستہ قد تھے، بلکہ میانہ قد تھے۔‘‘ اِس حدیث کو امام ترمذی اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

146 /4. عَنْ أُمِّ مَعْبَدٍ رضي اللّٰه عنها قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم رَبْعَةً، لَا تَشْنَأْهُ مِنْ طُوْلٍ، وَلَا تَقْتَحِمُه عَيْنٌ مِنْ قِصَرٍ، غُصْنٌ بَيْنَ غُصْنَيْنِ، فَهُوَ أَنْضَرُ الثَّـلَاثَةِ مَنْظَرًا، وَأَحْسَنُهُمْ قَدْرًا.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ أَبِي عَاصِمٍ.

4: أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 /10، 11، الرقم: 4274، والطبراني في المعجم الکبير، 4 /49، 50، الرقم: 3605، وابن حبان في الثقات، 1 /125-127، وابن أبي عاصم في الاحاد والمثاني، 6 /252-254، الرقم: 3485، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8 /279، وابن عبد البر في الاستيعاب، 4 /1958-1960، الرقم: 4215، وابن سعد في الطبقات الکبری، 1 /230، 231.

’’حضرت اُم معبد رضی اللہ عنھا بیان فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا قدِ انور میانہ تھا، نہ ایسا طویل کہ دیکھنے والے کو پسند نہ آئے اور نہ ایسا پست کہ حقیر دکھائی دے۔ (قدِ انور) دو شاخوں کے درمیان (شگفتہ) شاخ کی مانند تھا اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم دیکھنے میں تینوں میں سب سے با رونق وحسین اور صاحبِ قدر دکھائی دیتے تھے۔‘‘

اِس حدیث کو امام حاکم، طبرانی، ابن حبان اور ابن ابی عاصم نے روایت کیا ہے۔

147 /5. عَنْ يُوْسُفَ بْنِ مَازِنٍ أَنَّ رَجُـلًا سَأَلَ عَلِيًّا رضی الله عنه فَقَالَ: يَا أَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ، انْعَتْ لَنَا رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم ، صِفْهُ لَنَا؟ فَقَالَ: کَانَ لَيْسَ بَالذَّاهِبِ طُوْلًا، وَفَوْقَ الرَّبْعَةِ، إِذَا جَاءَ مَعَ الْقَوْمِ غَمَرَهُمْ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ سَعْدٍ.

5: أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 1 /151، الرقم: 1299، وابن سعد في الطبقات الکبری، 1 /411.412، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 3 /261، والنميري في أخبار المدينة، 1 /319، الرقم: 967، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8 /272.

’’حضرت یوسف بن مازن سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اے امیر المؤمنین! ہمارے لیے حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نعت بیان کریں اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اوصاف بیان فرمائیے۔ آپ نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم بہت زیادہ دراز قد نہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا قد درمیانے سے (تھوڑا) زیادہ تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کچھ لوگوں کے ساتھ ہوتے تو اُن سب میں نمایاں ہوتے۔‘‘

اِس حدیث کو امام احمد اور ابن سعد نے روایت کیا ہے۔

148 /6. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه، أَنَّ نَبِيَّ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم کَانَ ضَخْمَ الْکَفَّيْنِ، ضَخْمَ الْقَدَمَيْنِ، حَمْشَ الْوَجْهِ، لَمْ أَرَ بَعْدَه مِثْلَه، مَا مَشٰی مَعَ أَحَدٍ إِلَّا طَالَه. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

6: أخرجه الطبراني في مسند الشاميين، 4 /59، الرقم: 2727، وابنِ عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 3 /272، وأيضًا في السيرة النبويه، 3 /154، والسيوطي في الخصائص الکبری، 1 /116، والحلبي في السيرة الحلبية، 3 /434.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ہتھیلیاں اور قدمین مبارک گوشت سے پُر تھے، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم حسین اور نرم و نازک چہرے والے تھے۔میں نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم جیسا حسین آپ کے بعد نہیں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ساتھ چلنے والے سے ہمیشہ بلند قامت نظر آتے تھے۔‘‘ اِس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

149 /7. عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه واله وسلم أَحْسَنَ النَّاسِ قَوَّامًا، وَأَحْسَنَ النَّاسِ وَجْهًا. رَوَاهُ ابْنُ عَسَاکِرَ.

7: أخرجه ابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 3 /278.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ (حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قدِ زیبا کے بارے میں) بیان فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم قد و قامت اور چہرہ اقدس کے لحاظ سے تمام لوگوں سے حسین تھے۔‘‘

اِس حدیث کو امام ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2019 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved