باب 21 :ذکر الٰہی کے ساتھ ذکر مصطفی ﷺ کے یکجا ہونے کا بیان

بَابٌ فِي اقْتِرَانِ ذِکْرِهٖ ﷺ بِذِکْرِ رَبِّهٖ تَعَالٰی

454 / 1. عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضي الله عنهما أَنَّهٗ سَمِعَ النَّبِيَّ ﷺ یَقُولُ: إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُوْلُوْا مِثْلَ مَا یَقُوْلُ ثُمَّ صَلُّوْا عَلَيَّ فَإِنَّهُ مَنْ صَلّٰی عَلَيَّ صَلَاۃً صَلَّی اللهُ عَلَیْہِ بِهَا عَشْرًا ثُمَّ سَلُوا اللهَ لِيَ الْوَسِیْلَۃَ فَإِنَّهَا مَنْزِلَۃٌ فِي الْجَنَّةِ لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللهِ وَأَرْجُو أَنْ أَکُوْنَ أَنَا هُوَ فَمَنْ سَأَلَ لِيَ الْوَسِیْلَۃَ حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَۃُ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ.

أخرجہ مسلم في الصحیح، کتاب الصلاۃ، باب استحباب القول مثل قول المؤذن لمن سمعہ ثم یصلي علی النبي ﷺ ثم یسأل الله لہ الوسیلۃ، 1 / 288، الرقم: 384، والترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب في فضل النبي ﷺ، 5 / 586، الرقم: 3614، وأبو داود في السنن، کتاب الصلاۃ، باب مایقول إذا سمع المؤذن، 1 / 144، الرقم: 523، والنسائي في السنن، کتاب الأذان، باب الصلاۃ علی النبي ﷺ بعد الأذان، 2 / 25، الرقم: 678، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 168، الرقم: 6568

’’حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنو تو اسی طرح کہو جس طرح وہ کہتا ہے پھر مجھ پر درود بھیجو پس جو بھی شخص مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے پھر اللہ تعالیٰ سے وسیلہ طلب کرو بے شک وسیلہ جنت میں ایک مرتبہ ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے صرف ایک کوملے گی اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں گا پس جس نے اس وسیلہ کو میرے لیے طلب کیا اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو جائے گی۔‘‘

اِس حدیث کو امام مسلم، ترمذی، ابو داود، نسائی اور احمد نے روایت کیا ہے۔

455 / 2. عَنْ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ رضی الله عنه یَقُوْلُ: سَمِعَ النَّبِيُّ ﷺ رَجُـلًا یَدْعُوْ فِي صَـلَاتِهٖ، فَلَمْ یُصَلِّ عَلَی النَّبِيِّ ﷺ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : عَجِلَ هٰذَا، ثُمَّ دَعَاهُ فَقَالَ لَهُ أَوْ لِغَیْرِهٖ: إِذَا صَلّٰی أَحَدُکُمْ، فَلْیَبْدَأْ بِتَحْمِیْدِ اللهِ وَالثَّنَاءِ عَلَیْہِ ثُمَّ لِیُصَلِّ عَلَی النَّبِيِّ ﷺ ثُمَّ لِیَدْعُ بَعْدُ بِمَا شَاءَ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَأَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ، وَقَالَ الْحَاکِمُ: هٰذَا حَدِیْثٌ صَحِیْحٌ عَلٰی شَرْطِ الشَّیْخَیْنِ وَلَا نَعْرِفُ لَهٗ عِلَّۃً.

أخرجہ الترمذي في السنن، کتاب الدعوات، باب ما جاء في جامع الدعوات، 5 / 517، الرقم: 3477، وأبو داود في السنن، کتاب الصلاۃ، باب الدعاء، 2 / 76، الرقم: 1481، وأحمد بن حنبل في المسند، 6 / 18، الرقم: 23982، وابن حبان في الصحیح، 5 / 290، الرقم: 1960، والحاکم في المستدرک، 1 / 401، الرقم: 989، وابن خزیمۃ في الصحیح، 1 / 351، الرقم: 709۔710

’’حضرت فضالہ بن عبید رضی الله عنه سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ایک آدمی کو دورانِ نماز اس طرح دعا مانگتے ہوئے سنا کہ اُس نے اپنی دعا میں حضور نبی اکرم ﷺ پر درود نہ بھیجا، اس پر حضورنبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس شخص نے عجلت سے کام لیا پھر آپ ﷺ نے اسے اپنے پاس بلایا اور اسے یا اس کے علاوہ کسی اور کو (ازرہِ تلقین) فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اسے چاہیے کہ وہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بزرگی بیان کرے پھر نبی اکرم ﷺ (یعنی مجھ)پر درود بھیجے پھر اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے، تو اس کی دعا قبول ہو گی۔‘‘

اِس حدیث کو امام ترمذی، ابو داود، احمد اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے اور امام حاکم نے فرمایا: یہ حدیث بخاری و مسلم کی شرائط کے مطابق صحیح ہے اور ہم نے اس حدیث کی سند میں کوئی علت نہیں دیکھی۔

456 / 3. عَنْ أَبِي سَعِیْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: أَتَانِي جِبْرِیْلُ، فَقَالَ: إِنَّ رَبِّي وَرَبَّکَ یَقُوْلُ لَکَ: کَیْفَ رَفَعْتُ ذِکْرَکَ؟ قَالَ: اللهُ أَعْلَمُ. قَالَ: إِذَا ذُکِرْتُ ذُکِرْتَ مَعِي.

رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ وَأَبُوْ یَعْلٰی وَإِسْنَادُهٗ حَسَنٌ.

أخرجہ ابن حبان في الصحیح، 8 / 175، الرقم: 3382، وأبو یعلی في المسند، 2 / 522، الرقم: 1380، والخلال في السنۃ، 1 / 262، الرقم: 318، والدیلمي في مسند الفردوس، 4 / 405، الرقم: 7176، والطبري في جامع البیان، 30 / 235، وابن کثیر في تفسیر القرآن العظیم، 4 / 525، والھیثمي في موارد الظمآن، 1 / 439، وأیضًا في مجمع الزوائد، 8 / 254

’’حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنه سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور عرض کیا: میرے اور آپ کے رب نے آپ کے لئے پیغام بھیجا ہے کہ میں نے آپ کا ذکر کیسے بلند کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، جبریلں نے عرض کیا: (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے حبیب!) جب بھی میرا ذکر ہو گا تو (ہمیشہ) میرے ساتھ آپ کا بھی ذکر ہو گا۔‘‘

اِسے امام ابن حبان اور ابو یعلی نے روایت کیا ہے اس کی اسناد حسن ہیں۔

457 / 4. عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : لَمَّا اقْتَرَفَ آدَمُ الْخَطِیْئَۃَ قَالَ : یَا رَبِّ، أَسْأَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ لِمَا غَفَرْتَ لِي فَقَالَ اللهُ: یَا آدَمُ، وَکَیْفَ عَرَفْتَ مُحَمَّدًا وَلَمْ أَخْلُقْهُ؟ قَالَ: یَا رَبِّ، لِأَنَّکَ لَمَّا خَلَقْتَنِي بِیَدِکَ، وَنَفَخْتَ فِيَّ مِنْ رُوْحِکَ، رَفَعْتُ رَأْسِي فَرَأَیْتُ عَلٰی قَوَائِمِ الْعَرْشِ مَکْتُوْبًا: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ فَعَلِمْتُ أَنَّکَ لَمْ تُضِفْ إِلَی اسْمِکَ إِلَّا أَحَبَّ الْخَلْقِ إِلَیْکَ، فَقَالَ اللهُ: صَدَقْتَ یَا آدَمُ، إِنَّهٗ لَأَحَبُّ الْخَلْقِ إِلَيَّ، اُدْعُنِي بِحَقِّهٖ فَقَدْ غَفَرْتُ لَکَ، وَلَوْلَا مُحَمَّدٌ مَا خَلَقْتُکَ.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالْبَیْهَقِيُّ وَابْنُ عَسَاکِرَ. وَقَالَ الْحَاکِمُ: هٰذَا حَدِیْثٌ صَحِیْحُ الإِسْنَادِ.

أخرجہ الحاکم في المستدرک، 2 / 672، الرقم: 4228، والبیہقي في دلائل النبوۃ، 5 / 489، والقاضي عیاض في الشفا، 1 / 227، وابن عساکر في تاریخ مدینۃ دمشق، 7 / 437، وابن تیمیۃ في مجموع الفتاوی، 2 / 150، وأیضًا في قاعدۃ جلیلۃ في التوسل والوسیلۃ / 84، وابن کثیر في البدایۃ والنہایۃ، 1 / 131، 2 / 291، 1 / 6، والسیوطي في الخصائص الکبری، 1 / 6، وابن سرایا في سلاح المؤمن في الدعاء، 1 / 130، الرقم: 206

’’حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنه سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب حضرت آدم علیه السلام سے خطا سرزد ہوئی، تو انہوں نے (بارگاہ الٰہی میں ) عرض کیا: اے پروردگار! میں تجھ سے محمد( ﷺ ) کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں کہ میری مغفرت فرما، اس پر الله تعالیٰ نے فرمایا: اے آدم! تو نے محمد( ﷺ ) کو کس طرح پہچان لیا۔ ابھی تک تو میں نے انہیں (ظاہراً) پیدا بھی نہیں کیا؟ حضرت آدم علیه السلام نے عرض کیا: اے پروردگار! جب تو نے اپنے دستِ قدرت سے مجھے تخلیق کیا اور اپنی روح میرے اندر پھونکی، میں نے اپنا سر اٹھایا تو عرش کے ہر ستون پر ’’لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ‘‘ لکھا ہوا دیکھا۔ تو میں نے جان لیا کہ تیرے نام کے ساتھ اسی کا نام ہوسکتا ہے جو تمام مخلوق میں سب سے زیادہ تجھے محبوب ہے۔ اس پر الله تعالیٰ نے فرمایا: اے آدم تو نے سچ کہا ہے کہ مجھے ساری مخلوق میں سے سب سے زیادہ محبوب وہی ہیں، اب جبکہ تم نے ان کے وسیلہ سے مجھ سے دعا کی ہے تو میں نے تجھے معاف فرما دیا اور اگر محمد ﷺ نہ ہوتے تو میں تجھے بھی پیدا نہ کرتا۔‘‘

اِس حدیث کو امام حاکم، بیہقی اور ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا: اِس حدیث کی سند صحیح ہے۔

458 / 5. عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضی الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : لَمَّا أَذْنَبَ آدَمُ علیه السلام الذَّنْبَ الَّذِي أَذْنَبَهُ، رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَی الْعَرْشِ فَقَالَ: أَسْأَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ ﷺ إِلَّا غَفَرْتَ لِي، فَأَوْحَی اللهُ إِلَیْہِ: وَمَا مُحَمَّدٌ؟ وَمَنْ مُحَمَّدٌ؟ فَقَالَ: تَبَارَکَ اسْمُکَ، لَمَّا خَلَقْتَنِي، رَفَعْتُ رَأْسِي إِلٰی عَرْشِکَ، فَرَأَیْتُ فِیْہِ مَکْتُوْبًا: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللهِ، فَعَلِمْتُ أَنَّهٗ لَیْسَ أَحَدٌ أَعْظَمَ عِنْدَکَ قَدْرًا مِمَّنْ جَعَلْتَ اسْمَهٗ مَعَ اسْمِکَ، فَأَوْحَی اللهُ ل إِلَیْہِ: یَا آدَمُ، إِنَّهٗ آخِرُ النَّبِیِّیْنَ مِنْ ذُرِّیَّتِکَ، وَإِنَّ أُمَّتَهٗ آخِرُ الْأُمَمِ مِنْ ذُرِّیَّتِکَ، وَلَوْلَاهُ، یَا آدَمُ، مَا خَلَقْتُکَ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

أخرجہ الطبراني في المعجم الصغیر، 2 / 182، الرقم: 992، وفي المعجم الأوسط، 6 / 313، الرقم: 6502، ابن تیمیۃ في مجموع الفتاوی، 2 / 151، والہیثمي في مجمع الزوائد، 8 / 253، والسیوطي في جامع الأحادیث، 11 / 94

’’حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنه سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب حضرت آدم علیه السلام سے (بغیر ارادہ کے) لغزش سرزد ہوئی تو انہوں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور عرض گزار ہوئے: (یا الله!) اگر تو نے مجھے معاف نہیں کیا تو میں (تیرے محبوب) محمد مصطفی ﷺ کے وسیلہ سے تجھ سے سوال کرتا ہوں (کہ تو مجھے معاف فرما دے) تو اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی: (اے آدم!) محمد مصطفی کون ہیں؟ حضرت آدم علیه السلام نے عرض کیا: (اے مولا!) تیرا نام پاک ہے، جب تو نے مجھے پیدا کیا تو میں نے اپنا سر تیرے عرش کی طرف اٹھایا وہاں میں نے ’’لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللهِ‘‘ لکھا ہوا دیکھا، لهٰذا میں جان گیا کہ یہ ضرور کوئی بڑی عظیم المرتبت ہستی ہے، جس کا نام تو نے اپنے نام کے ساتھ ملایا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی: ’’اے آدم! وہ (محمد ﷺ ) تمہاری نسل میں سے آخری نبی ہیں، اور ان کی امت بھی تمہاری نسل کی آخری امت ہو گی، اور اگر وہ نہ ہوتے تو میں تجھے بھی پیدا نہ کرتا۔‘‘

اِسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

459 / 6۔ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَیْدٍ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ أَبُوْ طَالِبٍ إِذَا رَأَی رَسُوْلَ اللهِ ﷺ یَقُوْلُ:

وَشَقَّ لَهٗ مِنِ اسْمِهٖ لِیُجِلَّهُ
فَذُو الْعَرْشِ مَحْمُوْدٌ وَھٰذَا مُحَمَّدٌ

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّغِیْرِ وَابْنُ حِبَّانَ وَأَبُوْ نُعَیْمٍ وَالْبَیْھَقِيُّ.

أخرجہ البخاري في التاریخ الصغیر، 1 / 13، الرقم: 31، وابن حبان في الثقات، 1 / 42، وأبو نعیم في دلائل النبوۃ، 1 / 41، والبیھقي في دلائل النبوۃ، 1 / 160، وابن عبد البر في الاستیعاب، 9 / 154، والعسقلاني في الإصابۃ، 7 / 235، وأیضًا في فتح الباري، 6 / 555

’’حضرت علی بن زید رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو طالب جب حضور نبی اکرم ﷺ کو تکتے تو یہ شعر گنگناتے: ’’اور اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی تکریم کی خاطر آپ کا نام اپنے نام سے نکالا ہے، پس عرش والا(اللہ تعالیٰ) محمود اور یہ (حبیب) محمد مصطفی ہیں۔‘‘

اس روایت کو امام بخاری نے التاریخ الصغیر میں، امام ابن حبان، ابو نعیم اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔

460 / 7. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما فِي قوْلِهٖ تَعَالٰی: {وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ}، [الم نشرح، 94: 4]، قَالَ: یَقُوْلُ لَهُ: لَا ذُکِرْتُ إِلَّا ذُکِرْتَ مَعِي فِي الْأَذَانِ، وَالإِقَامَةِ، وَالتَّشَهُّدِ، وَیَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَی الْمَنَابِرِ، وَیَوْمَ الْفِطْرِ، وَیَوْمَ الْأَضْحَی، وَأَیَّامَ التَّشْرِیْقِ، وَیَوْمَ عَرَفَۃَ، وَعِنْدَ الْجِمَارِ، وَعَلَی الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَفِي خُطْبَةِ النِّکَاحِ، وَفِي مَشَارِقِ الْأَرْضِ وَمَغَارِبِهَا، وَلَوْ أَنَّ رَجُـلًا عَبَدَ اللهَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ، وَصَدَّقَ بِالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَکُلِّ شَيئٍ، وَلَمْ یَشْهَدْ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللهِ، لَمْ یَنْتَفِعْ بِشَيئٍ، وَکَانَ کَافِرًا.

أَخْرَجَهُ الْقُرْطُبِيُّ وَنَحْوَهُ الْبَغَوِيُّ وَالطَّبَرِيُّ وَغَیْرُهُمْ.

أخرجہ القرطبي في الجامع لأحکام القرآن، 20 / 106، والبغوي في معالم التنزیل، 4 / 502، والطبري في جامع البیان، 30 / 235، والشافعي في أحکام القرآن، 1 / 58، والسیوطي في الدر المنثور، 8 / 547۔549، والصنعاني في تفسیر القرآن، 3 / 380، والثعلبي في الجواھر الحسان، 4 / 424، وابن کثیر في تفسیر القرآن العظیم، 4 / 525، وابن الجوزي في زاد المسیر، 9 / 163، والشوکاني في فتح القدیر، 5 / 463، والواحدي في الوجیز في تفسیر الکتاب العزیز، 2 / 1212

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی الله عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ’’اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کا ذکر (اپنے ذکر کے ساتھ ملا کر دنیا و آخرت میں ہر جگہ) بلند فرما دیا۔‘‘ کی تفسیر میں مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے فرمایا: (اے حبیب!) اذان میں، اقامت میں، تشہد میں، جمعہ کے دن منبروں پر، عید الفطر کے دن (خطبوں میں) ایام تشریق میں، عرفہ کے دن، مقام جمرہ پر، صفا و مروہ پر، خطبہ نکاح میں (الغرض) مشرق و مغرب میں جب بھی میرا ذکر کیا جائے گا تو تیرا ذکر بھی میرے ذکر کے ساتھ شامل ہو گا اور الله تعالیٰ (نے فرمایا کہ اس) کا کوئی بندہ (رات دن) اگر اس کی حمد و ثنا بیان کرے اور جنت و دوزخ کے ساتھ ساتھ (باقی ہر ایک ارکان اسلام کی بھی) گواہی دے مگر یہ اقرار نہ کرے کہ محمد مصطفی ﷺ الله تعالیٰ کے برگزیدہ رسول ہیں تو وہ ہرگز ذرہ برابر بھی نفع نہیں پائے گا اور مطلقاً کافر (کا کافر) ہی رہے گا۔‘‘

اسے امام قرطبی اور اسی کی مثل امام بغوی، طبری وغیرہ نے روایت کیا ہے۔

461 / 8. قَالَ ابْنُ الْجَوْزِيِّ: قَدْ قَرَنَ اللهُ تَعَالَی اسْمَ نَبِیِّنَا ﷺ بِاسْمِهٖ ل عِنْدَ ذِکْرِ الطَّاعَةِ وَالْمَعْصِیَّةِ، فَقَالَ تَعَالٰی: {اَطِیْعُوا اللهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ} [النساء، 4: 59] وَقَالَ: {وَیُطِیْعُوْنَ اللهَ وَرَسُوْلَهٗ} [التوبۃ، 9: 71] وَقَالَ: {فَرُدُّوْهُ اِلَی اللهِ وَالرَّسُوْلِ} [النساء، 4: 59] وَقَالَ: {فَإِنَّ ِﷲِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوْلِ} [الأنفال، 8: 41] وَقَالَ: {وَمَا نَقَمُوْٓا اِلَّآ اَنْ اَغْنٰهُمُ اللهُ وَرَسُوْلُهٗ} [التوبۃ، 9: 74] وَقَالَ: {اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللهَ وَرَسُوْلَهٗ} [الأحزاب، 33: 57] وَقَالَ: {اَلَمْ یَعْلَمُوْٓا اَنَّهٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللهَ وَرَسُوْلَهٗ} [التوبۃ، 9: 63] وَقَالَ: {وَلاَ یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللهُ وَ رَسُوْلُهٗ} [التوبۃ، 9: 29].

ذکرہ ابن الجوزی في الوفا بأحوال المصطفی ﷺ / 368

’’علامہ ابن جوزی بیان کرتے ہیں کہ الله تعالیٰ نے جہاں اپنا نام نامی اور اسم گرامی ذکر فرمایا ساتھ ہی اپنے حبیب کے نام اقدس کا ذکر فرمایا خواہ اطاعت و اتباع کا مقام ہو یا گناہ اور نافرمانی کا۔ ارشاد باری ہے: {اللہ کی اطاعت کرو اور رسول ( ﷺ ) کی اطاعت کرو} اور فرمایا: {اور اللہ اور اس کے رسول ( ﷺ ) کی اطاعت بجا لاتے ہیں} اور فرمایا: {تو اسے (حتمی فیصلہ کے لیے) اللہ اور رسول ( ﷺ ) کی طرف لوٹا دو} اور فرمایا: {اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لیے اور رسول ( ﷺ ) کے لیے ہے} اور فرمایا: {اور وہ (اسلام اور رسول ﷺ کے عمل میں سے) اور کسی چیز کو ناپسند نہ کر سکے سوائے اس کے کہ انہیں اللہ اور اس کے رسول ( ﷺ ) نے غنی کر دیا تھا} اور فرمایا: {بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ( ﷺ ) کو اذیت دیتے ہیں} اور فرمایا: {کیا وہ نہیں جانتے کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول ( ﷺ ) کی مخالفت کرتا ہے} اور فرمایا: {اور نہ ان چیزوں کو حرام جانتے ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول ( ﷺ ) نے حرام قرار دیا ہے}۔‘‘

462 / 9۔ قَالَ أَبُو الْعَبَّاسِ هَارُوْنُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْهَاشِمِيُّ: مَنْ رَدَّ فَضْلَ النَّبِيِّ ﷺ، فَهُوَ عِنْدِي زِنْدِیْقٌ لَا یُسْتَتَابُ، وَیُقْتَلُ لِأَنَّ اللهَ قَدْ فَضَّلَهُ ﷺ عَلَی الْأَنْبِیَائِ علیهم السلام وَقَدْ رُوِيَ عَنِ اللهِ قَالَ: لَا أُذْکَرُ إِلَّا ذُکِرْتَ مَعِي، وَیَرْوِي فِي قَوْلِہِ: {لَعَمْرُکَ}، ]الحجر، 15: 72[، قَالَ: یَا مُحَمَّدُ، لَوْلَاکَ، مَا خَلَقْتُ آدَمَ.

رَوَاهُ ابْنُ یَزِیْدَ الْخَـلَالُ وَإِسْنَادُهُ صَحِیْحٌ.

أخرجہ الخلال في السنۃ، 1 / 273، الرقم: 273۔

’’حضرت ابو عباس ہارون بن العباس الہاشمی نے فرمایا کہ جس شخص نے حضور نبی اکرم ﷺ کی فضیلت کا انکار کیا، میرے نزدیک وہ زندیق (ومرتد) ہے، اس کی توبہ بھی قبول نہیں کی جائے گی، اور اسے قتل کیا جائے گا، کیونکہ بے شک اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم ﷺ کو تمام انبیائِ کرام علیہم السلام پر فضیلت عطا فرمائی، اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ’’(اے محبوب!) میرا ذکر کبھی آپ کے ذکر کے بغیر نہیں کیا جائے گا۔‘‘ اور اس فرمانِ الٰہی: (اے حبیب مکرم!) آپ کی عمرِ مبارک کی قسم!‘‘ کی تفسیر میں ہے کہ الله تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد مصطفی! اگر آپ کو پیدا کرنا مقصود نہ ہوتا تو میں حضرت آدم کو بھی پیدا نہ کرتا۔‘‘

اِسے امام ابن یزید خلال نے ذکر کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔

463 / 10. قَالَ الْقَاضِي عِیَاضٌ: مِنْ عَـلَامَاتِ مَحَبَّةِ النَّبِيِّ ﷺ کَثْرَۃُ ذِکْرِهٖ لَهٗ، فَمَنْ أَحَبَّ شَیْئًا أَکْثَرَ ذِکْرَهٗ. وَقَالَ أَیْضًا: مِنْ عَـلَامَاتِ حُبِّهٖ ﷺ مَعَ کَثْرَةِ ذِکْرِهٖ تَعْظِیْمُهٗ لَهٗ وَتَوْقِیْرُهٗ عِنْدَ ذِکْرِهٖ وَإِظْهَارُ الْخُشُوْعِ وَالْاِنْکِسَارِ مَعَ سَمَاعِ اسْمِهٖ. قَالَ إِسْحَاقُ التَّجِیْبِيُّ: کَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ ﷺ بَعْدَهٗ لاَ یَذْکُرُوْنَهٗ إِلَّا خَشَعُوْا وَاقْشَعَرَّتْ جُلُوْدُهُمْ وَبَکَوْا. وَکَذَالِکَ کَثِیْرٌ مِنَ التَّابِعِیْنَ مِنْهُمْ مَنْ یَفْعَلُ ذَالِکَ مَحَبَّۃً لَهٗ وَشَوْقًا إِلَیْہِ، وَمِنْهُمْ مَنْ یَفْعَلُهٗ تَهَیُّبًا وَتَوْقِیْرًا.

أخرجہ القاضي عیاض في الشفا / 500۔501

’’قاضی عیاض فرماتے ہیں: علاماتِ محبت میں سے ایک یہ بھی ہے کہ محبت کا دعوی کرنے والا حضور نبی اکرم ﷺ کا ذکر جمیل کثرت سے کرے۔ اس لیے کہ جو شخص جس چیز کو زیادہ محبوب رکھتا ہے اس کا ذکر بھی کثرت سے کرتا ہے۔ قاضی عیاض مزید فرماتے ہیں: آپ ﷺ سے محبت کرنے کی علامات میں سے یہ بھی ہے کہ انسان کثرت سے آپ ﷺ کا ذکر جمیل کرے گا اور آپ ﷺ کے ذکر کے وقت غایت درجہ تعظیم و توقیر بجا لائے اور آپ ﷺ کے نام نامی اسم گرامی کے وقت انتہائی عجز و انکسار کا اظہار کرے۔ امام ابن اسحاق تجیبی رَحِمَهُ الله فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے وصال مبارک کے بعد جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، آپ ﷺ کا ذکر جمیل کرتے تو انتہائی عاجزی و فروتنی سے کرتے اور ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے اور وہ رونے لگتے۔ یہی حال اکثر تابعین رحمہم الله کا تھا۔ ان میں سے کچھ تو آپ ﷺ سے محبت و شوق کی بنا پر روتے اور کچھ آپ ﷺ کی ہیبت و عظمت کی وجہ سے روتے۔‘‘

Copyrights © 2024 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved