باب 22 :حضور نبی اکرم ﷺ کے معجزات مبارکہ کا بیان

بَابٌ فِي مُعْجِزَاتِ الْمُصْطَفٰی ﷺ

464 / 1. عَنْ أَبِي هُرَیْرَۃَ رضی الله عنه قَالَ: یَقُوْلُوْنَ: إِنَّ أَبَا هُرَیْرَۃَ یُکْثِرُ الْحَدِیْثَ وَ اللهُ الْمَوْعِدُ وَیَقُوْلُوْنَ: مَا لِلْمُهَاجِرِیْنَ وَالْأَنْصَارِ لَا یُحَدِّثُوْنَ مِثْلَ أَحَادِیْثِهٖ وَإِنَّ إِخْوَتِي مِنَ الْمُهَاجِرِیْنَ کَانَ یَشْغَلُهُمُ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ وَإِنَّ إِخْوَتِي مِنَ الْأَنْصَارِ کَانَ یَشْغَلُهُمْ عَمَلُ أَمْوَالِهِمْ وَکُنْتُ امْرَأً مِسْکِیْنًا أَلْزَمُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ عَلٰی مِلْئِ بَطْنِي فَأَحْضَرُ حِیْنَ یَغِیْبُوْنَ وَأَعِي حِیْنَ یَنْسَوْنَ. وَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ یَوْمًا: لَنْ یَبْسُطَ أَحَدٌ مِنْکُمْ ثَوْبَهٗ حَتّٰی أَقْضِيَ مَقَالَتِي هٰذِهٖ. ثُمَّ یَجْمَعَهٗ إِلٰی صَدْرِهٖ فَیَنْسٰی مِنْ مَقَالَتِي شَیْئًا أَبَدًا، فَبَسَطْتُ نَمِرَۃً لَیْسَ عَلَيَّ ثَوْبٌ غَیْرُهَا حَتّٰی قَضَی النَّبِيُّ ﷺ مَقَالَتَهٗ ثُمَّ جَمَعْتُهَا إِلٰی صَدْرِي، فَوَالَّذِي بَعَثَهٗ بِالْحَقِّ، مَا نَسِیْتُ مِنْ مَقَالَتِهٖ تِلْکَ إِلٰی یَوْمِي هٰذَا وَ اللهِ، لَوْلَا آیَتَانِ فِي کِتَابِ اللهِ مَا حَدَّثْتُکُمْ شَیْئًا أَبَدًا: {إِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنَاتِ وَالْهُدٰی إِلٰی قَوْلِهٖ… الرَّحِیْمُo} [البقرۃ، 2:159۔160].

مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.

أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب المزارعۃ، باب ما جاء في الغرس، 2 / 827، الرقم: 2223، ومسلم في الصحیح، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل أبي ہریرۃ الدوسيص، 4 / 1939، الرقم: 2492، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 240، الرقم: 7273، وأبو نعیم في حلیۃ الأولیاء، 1 / 381، وابن عساکر في تاریخ مدینۃ دمشق، 67 / 333.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: لوگ کہتے ہیں کہ ابو ہریرہ کثرت سے احادیث روایت کرتا ہے حالانکہ وہ بھی خدا کے حضور جائے گا اور وہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ مہاجرین و انصار بھی اُس کے برابر روایت نہیں کرتے حالانکہ ہمارے مہاجر بھائی بازار میں مشغول رہتے اور میرے انصار بھائی اپنی زراعت میں مشغول رہتے جب کہ میں مسکین آدمی تھا اور پیٹ بھر جانے پر حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر رہتا۔ پس وہ غائب ہوتے تو میں حاضر رہتا اور وہ بھول جاتے تو میں یاد رکھتا۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے ایک روز فرمایا: تم میں سے جو آج اپنا کپڑا پھیلائے رکھے یہاں تک کہ میں اپنی بات پوری کروں پھر اسے اکٹھا کر کے اپنے سینے سے لگا لے تو کبھی میری کوئی بات نہیں بھولے گا۔ میں نے اپنی چادر پھیلا دی اور اس کے سوا میرے اوپر کوئی اور کپڑا نہ تھا۔ یہاں تک کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنا ارشاد گرامی مکمل فرما لیا۔ پھر میں نے اسے اکٹھا کر کے اپنے سینے سے لگا لیا۔ پس قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! میں آپ ﷺ کے ارشادات میں سے اُس روز سے آج تک کوئی بات نہیں بھولا۔ خدا کی قسم! اگر اللہ کی کتاب میں دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں آپ ﷺ سے کبھی کوئی حدیث بیان نہ کرتا یعنی: ’’بے شک جو لوگ ہماری نازل کردہ کھلی نشانیوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں اس کے بعد کہ ہم نے اسے لوگوں کے لیے (اپنی) کتاب میں واضح کر دیا ہے تو انہی لوگوں پر الله تعالیٰ لعنت بھیجتا ہے (یعنی انہیں اپنی رحمت سے دور کرتا ہے) اور لعنت بھیجنے والے بھی ان پر لعنت بھیجتے ہیںoمگر جو لوگ توبہ کر لیں اور (اپنی) اصلاح کر لیں اور (حق کو) ظاہر کر دیں تو میں (بھی) انہیں معاف فرما دوں گا اور میں بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہوںo۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

465 / 2. عَنْ أَبِي ھُرَیْرَۃَ رضی الله عنه قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللهِ، إِنِّي أَسْمَعُ مِنْکَ حَدِیْثًا کَثِیْرًا أَنْسَاهُ؟ قَالَ: ابْسُطْ رِدَائَکَ. فَبَسَطْتُهُ، قَالَ: فَغَرَفَ بِیَدَیْهِ، ثُمَّ قَالَ: ضُمَّهُ. فَضَمَمْتُهُ، فَمَا نَسِیْتُ شَیْئًا بَعْدَهٗ.

مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.

أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب العلم، باب حفظ العلم، 1 / 56، الرقم: 119، ومسلم في الصحیح، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل أبي ھریرۃ الدوسي ص، 4 / 1939، الرقم: 2491، والترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب مناقب لأبي ھریرۃ ص، 5 / 684، الرقم: 3834۔3835، والطبراني في المعجم الأوسط، 1 / 247، الرقم: 881، وأبو یعلی في المسند، 11 / 121، الرقم: 6248.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول الله ! میں آپ سے بہت کچھ سنتا ہوں مگر بھول جاتا ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا: اپنی چادر پھیلائو؟ میں نے اپنی چادر پھیلا دی۔ آپ ﷺ نے (فضا میں) دونوں ہاتھ بھر کر اس میں ڈال دیئے اور فرمایا: اسے اپنے سینے سے لگا لو۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ پس اُس کے بعد میں کبھی کچھ نہیں بھولا۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

466 / 3. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه أَنَّ أَھْلَ مَکَّۃَ سَأَلُوْا رَسُوْلَ اللهِ ﷺ أَنْ یُرِیَھُمْ آیَۃً، فَأَرَاھُمُ انْشِقَاقَ الْقَمَرِ مَرَّتَیْنِ.

مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ.

467 / 4. وفي روایۃ: عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضی الله عنه قَالَ: انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فِلْقَتَیْنِ. فَسَتَرَ الْجَبَلُ فِلْقَۃً وَکَانَتْ فِلْقَةٌ فَوْقَ الْجَبَلِ. فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : اَللّٰھُمَّ اشْھَدْ.

مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ.

أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب المناقب، باب سؤال المشرکین أن یریھم النبي ﷺ آیۃ، فأراھم انشقاق القمر، 3 / 1330، الرقم: 3437۔3439، وأیضًا في کتاب التفسیر / القمر، باب وانشقّ القمر وَإِنْ یَرَوْا آیَۃً یُعْرِضُوْا، 4 / 1843، الرقم: 4583۔4587، ومسلم في الصحیح، کتاب صفات المنافقین وأحکامھم، باب انشقاق القمر، 4 / 2158۔2159، الرقم: 2800۔2801، والترمذي في السنن، کتاب تفسیر القرآن، باب من سورۃ القمر، 5 / 398، الرقم: 3285۔3289، والنسائي في السنن الکبری، 6 / 476، الرقم: 1552۔1553، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 377، الرقم: 3583، 3924،4360، وابن حبان في الصحیح، 4 / 420، الرقم: 6495، والحاکم في المستدرک، 2 / 513، الرقم: 3758۔3761، والبزار في المسند، 5 / 202، الرقم: 1801۔1802، وأبو یعلی في المسند، 5 / 306، الرقم: 2929، والطبراني في المعجم الکبیر، 2 / 132، الرقم: 1559۔1561، والطیالسي في المسند، 1 / 37، الرقم: 280، والشاشي في المسند، 1 / 402، الرقم: 404.

’’حضرت انس بن مالک رضی الله عنه سے مروی ہے کہ اہل مکہ نے حضور نبی اکرم ﷺ سے معجزہ دکھانے کا مطالبہ کیا تو آپ ﷺ نے انہیں دو مرتبہ چاند کے دو ٹکڑے کر کے دکھائے۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے مذکورہ الفاظ مسلم کے ہیں۔

’’حضرت عبد الله بن مسعود رضی الله عنه سے مروی ایک روایت میں ہے کہ چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا واقعہ حضور نبی اکرم ﷺ کے عہد مبارک میں پیش آیا، ایک ٹکڑا پہاڑ میں چھپ گیا اور ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر تھا تو رسول الله ﷺ نے فرمایا: اے الله ! توگواہ رہنا۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے مذکورہ الفاظ مسلم کے ہیں۔

468 / 5. عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رضی الله عنه قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ یَوْمَ أُحُدٍ، وَمَعَهٗ رَجُـلَانِ یُقَاتِـلَانِ عَنْهُ، عَلَیْهِمَا ثِیَابٌ بِیْضٌ، کَأَشَدِّ الْقِتَالِ، مَا رَأَیْتُھُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ یَعْنِي جِبْرِیْلَ وَمِیْکَائِیْلَ علیھما السلام.

مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.

أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب المغازي، باب إِذَ ھَمَّتَ طَائِفَتَانَ مِنْکُمْ أَنْ تَفْشَلاَ وَ اللهُ وَلِیُّھُمَا وَعَلَی اللهِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ، ]آل عمران، 3: 122[، 4 / 1489، الرقم: 3828، وأیضًا في کتاب اللباس، باب الثیاب البیض، 5 / 2192، الرقم: 5488، ومسلم في الصحیح، کتاب الفضائل، باب في قتال جبریل ومیکائیل عن النبي ﷺ یوم أحد، 4 / 1802، الرقم: 2306، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 171، الرقم: 1468، والشاشي في المسند، 1 / 185، الرقم: 133، والأصبہاني في دلائل النبوۃ، 1 / 51، الرقم: 34، والذھبي في سیر أعلام النبلاء، 1 / 107.

’’حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنه روایت کرتے ہیں کہ جنگ اُحد کے دن میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کے پاس دو ایسے حضرات کو دیکھا جو آپ ﷺ کی جانب سے لڑ رہے تھے انہوں نے سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے بڑی بہادری سے برسرپیکار تھے۔ میں نے اُنہیں اِس سے پہلے دیکھا تھا نہ بعد میں یعنی وہ جبرائیل و میکائیل علیہما السلام تھے۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

469 / 6. عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ : أَصَابَ أَهْلَ الْمَدِیْنَۃِ قَحْطٌ عَلٰی عَهْدِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَبَیْنَا هُوَ یَخْطُبُ یَوْمَ جُمُعَۃٍ إِذْ قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللهِ، هَلَکَتِ الْکُرَاعُ هَلَکَتِ الشَّائُ فَادْعُ اللهَ یَسْقِیْنَا فَمَدَّ یَدَیْهِ وَدَعَا قَالَ أَنَسٌ: وَإِنَّ السَّمَاءَ لَمِثْلُ الزُّجَاجَۃِ فَهَاجَتْ رِیْحٌ أَنْشَأَتْ سَحَابًا ثُمَّ اجْتَمَعَ ثُمَّ أَرْسَلَتِ السَّمَائُ عَزَالِیَهَا فَخَرَجْنَا نَخُوْضُ الْمَاءَ حَتّٰی أَتَیْنَا مَنَازِلَنَا فَلَمْ نَزَلْ نُمْطَرُ إِلَی الْجُمُعَۃِ الْأُخْرٰی فَقَامَ إِلَیْهِ ذَالِکَ الرَّجُلُ أَوْ غَیْرُهٗ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللهِ، تَهَدَّمَتِ الْبُیُوْتُ فَادْعُ اللهَ یَحْبِسْهٗ فَتَبَسَّمَ ثُمَّ قَالَ: حَوَالَیْنَا وَلَا عَلَیْنَا فَنَظَرْتُ إِلَی السَّحَابِ تَصَدَّعَ حَوْلَ الْمَدِیْنَۃِ کَأَنَّهٗ إِکْلِیْلٌ.

مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.

أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ في الإسلام، 3 / 1313، الرقم: 3389، ومسلم في الصحیح، کتاب الاستسقاء، باب الدعاء في الاستسقاء، 2 / 614، الرقم: 897، وأبو داود في السنن، کتاب صلاۃ الاستسقاء، باب رفع الیدین في الاستسقاء، 1 / 304، الرقم: 1174، والبخاري في الأدب المفرد / 214، الرقم: 612، والطبراني في المعجم الأوسط، 3 / 95، الرقم: 2601، وأیضًا في الدعاء / 596۔597، الرقم: 2179، وابن عبد البر في الاستذکار، 2 / 434، والحسیني في البیان والتعریف، 2 / 26، الرقم: 957.

’’حضرت انس رضی الله عنه فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے زمانۂ مبارک میں ایک دفعہ اہل مدینہ (شدید) قحط سے دوچار ہوگئے۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ خطبہ جمعہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہوکر عرض کیا: یا رسول اللہ! گھوڑے ہلاک ہوگئے، بکریاں مرگئیں، اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ ہمیں پانی مرحمت فرمائے۔ آپ ﷺ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیئے۔ حضرت انس رضی الله عنه فرماتے ہیں کہ اس وقت آسمان شیشے کی طرح صاف تھا لیکن ہوا چلنے لگی، بادل گھر کر جمع ہوگئے اور آسمان نے ایسا اپنا منہ کھولا کہ ہم برستی ہوئی بارش میں اپنے گھروں کو گئے اور متواتر اگلے جمعہ تک بارش ہوتی رہی۔ پھر (آئندہ جمعہ) وہی شخص یا کوئی دوسرا آدمی کھڑا ہوکر عرض گزار ہوا: یا رسول اللہ! گھر تباہ ہو رہے ہیں، لهٰذا اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ اب اس (بارش) کو روک لے۔ تو آپ ﷺ (اس شخص کی بات سن کر) مسکرا پڑے اور (اپنے سرِ اقدس کے اوپر بارش کی طرف انگلی مبارک سے اشارہ کرتے ہوئے) فرمایا: ’’ہمیں چھوڑ کر ہمارے ارد گرد برسو۔‘‘ تو ہم نے دیکھا کہ اسی وقت بادل مدینہ منورہ کے اوپر سے ہٹ کر یوں چاروں طرف چھٹ گئے گویا وہ تاج ہیں (یعنی تاج کی طرح دائرہ کی شکل میں پھیل گئے)۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

470 / 7. عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ ﷺ بِإِنَاءٍ، وَھُوَ بِالزَّوْرَائِ، فَوَضَعَ یَدَهٗ فِي الْإِنَاءِ، فَجَعَلَ الْمَائُ یَنْبُعُ مِنْ بَیْنِ أَصَابِعِهٖ، فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ. قَالَ قَتَادَۃُ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: کَمْ کُنْتُمْ؟ قَالَ: ثَـلَاثَ مِائَۃٍ، أَوْ زُھَائَ ثَـلَاثِ مِائَۃٍ.

مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.

أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ في الإسلام، 3 / 1309۔1310، الرقم: 3379۔3380، 5316، ومسلم في الصحیح، کتاب الفضائل، باب في معجزات النبي ﷺ، 4 / 1783، الرقم: 2279، والترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب: (6)، 5 / 596، الرقم: 3631، ومالک في الموطأ، 1 / 32، الرقم: 62، والشافعي في المسند، 1 / 15، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 132، الرقم: 12370، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 6 / 316، الرقم: 31724، والبیہقي في السنن الکبری، 1 / 193، الرقم: 878.

’’حضرت انس رضی الله عنه روایت بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت اقدس میں پانی کا ایک برتن پیش کیا گیا اور آپ ﷺ زوراء کے مقام پر تھے۔ آپ ﷺ نے برتن کے اندر اپنا دستِ مبارک رکھ دیا تو آپ ﷺ کی مبارک انگلیوں کے درمیان سے پانی کے چشمے پھوٹ نکلے اور تمام لوگوں نے وضو کر لیا۔ حضرت قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی الله عنه سے دریافت کیا: آپ کتنے (لوگ) تھے؟ انہوں نے جواب دیا: تین سو یا تین سو کے لگ بھگ۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

471 / 8. عَنِ الْبَرَائِ رضی الله عنه قَالَ: کُنَّا یَوْمَ الْحُدَیْبِیَۃِ أَرْبَعَ عَشْرَۃَ مِائَۃً وَالْحُدَیْبِیَۃُ بِئْرٌ، فَنَزَحْنَاھَا حَتّٰی لَمْ نَتْرُکْ فِیْھَا قَطْرَۃً، فَجَلَسَ النَّبِيُّ ﷺ عَلٰی شَفِیْرِ الْبِئْرِ فَدَعَا بِمَائٍ، فَمَضْمَضَ وَمَجَّ فِي الْبِئْرِ، فَمَکَثْنَا غَیْرَ بَعِیْدٍ، ثُمَّ اسْتَقَیْنَا حَتّٰی رَوِیْنَا، وَرَوَتْ أَوْ صَدَرَتْ رَکَائِبُنَا.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ في الإسلام، 3 / 1311، الرقم: 3384.

’’حضرت براء بن عازب رضی الله عنه بیان فرماتے ہیں کہ واقعہ حدیبیہ کے روز ہماری تعداد چودہ سو تھی۔ ہم حدیبیہ کے کنویں سے پانی نکالتے رہے یہاں تک کہ ہم نے اس میں پانی کا ایک قطرہ بھی نہ چھوڑا۔ (صحابہ کرام پانی ختم ہو جانے سے پریشان ہو کر بارگاهِ رسالت ﷺ میں حاضر ہوئے) سو حضور نبی اکرم ﷺ کنویں کے منڈیر پر آ بیٹھے اور پانی طلب فرمایا: اس سے کلی فرمائی اور وہ پانی کنویں میں ڈال دیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد (پانی اس قدر اوپر آ گیا کہ) ہم اس سے پانی پینے لگے، یہاں تک کہ خوب سیراب ہوئے اور ہمارے سواریوں کے جانور بھی سیراب ہو گئے۔‘‘ اِسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

472 / 9. عَنْ أَبِي هُرَیْرَۃَ رضی الله عنه أَوْ عَنْ أَبِي سَعِیْدٍ رضی الله عنه شَکَّ الْأَعْمَشُ قَالَ: لَمَّا کَانَ غَزْوَۃُ تَبُوْکَ أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللهِ، لَوْ أَذِنْتَ لَنَا، فَنَحَرْنَا نَوَاضِحَنَا، فَأَکَلْنَا وَادَّهَنَّا. فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : افْعَلُوْا قَالَ: فَجَائَ عُمَرُ رضی الله عنه فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللهِ، إِنْ فَعَلْتَ قَلَّ الظَّهْرُ وَلٰـکِنِ ادْعُهُمْ بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ ثُمَّ ادْعُ اللهَ لَهُمْ عَلَیْهَا بِالْبَرَکَۃِ لَعَلَّ اللهَ أَنْ یَجْعَلَ فِي ذَالِکَ. فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : نَعَمْ، قَالَ: فَدَعَا بِنِطَعٍ، فَبَسَطَهٗ ثُمَّ دَعَا بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ. قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ یَجِيئُ بِکَفِّ ذُرَۃٍ. قَالَ: وَیَجِيئُ الْآخَرُ بِکَفِّ تَمْرٍ. قَالَ: وَیَجِيئُ الْآخَرُ بِکَسْرَۃٍ حَتَّی اجْتَمَعَ عَلَی النِّطَعِ مِنْ ذَالِکَ شَيئٌ یَسِیْرٌ قَالَ: فَدَعَا رَسُوْلُ اللهِ ﷺ عَلَیْهِ بِالْبَرَکَۃِ ثُمَّ قَالَ: خُذُوْا فِي أَوْعِیَتِکُمْ قَالَ: فَأَخَذُوْا فِي أَوْعِیَتِهِمْ حَتّٰی مَا تَرَکُوْا فِي الْعَسْکَرِ وِعَائً إِلَّا مَلَئُوْهُ قَالَ: فَأَکَلُوْا حَتّٰی شَبِعُوْا وَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَأَنِّي رَسُوْلُ اللهِ لَا یَلْقَی اللهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَیْرَ شَاکٍّ فَیُحْجَبَ عَنِ الْجَنَّۃِ.

مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ.

أخرجہ البخاري في الصحیح،کتاب الشرکۃ، باب الشرکۃ في الطعام والنھد والعروض، 2 / 879، الرقم: 2352، ومسلم في الصحیح، کتاب الإیمان، باب الدلیل علی أن من مات علی التوحید دخل الجنۃ قطعا، 1 / 56، الرقم: 27، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 11، الرقم: 11095، وابن حبان في الصحیح، 14 / 464، الرقم: 6530، وأبو یعلی في المسند، 2 / 411، الرقم، 1199، وابن مندہ في الإیمان، 1 / 177، الرقم: 36، وأبو عوانۃ في المسند، 1 / 7، والفریابي في دلائل النبوۃ، 1 / 33، الرقم: 3، والنووي في ریاض الصالحین / 124، الرقم: 124.

’’حضرت ابو ہریرہ یا حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنهما نے بیان فرمایا (راوی اعمش کو نام میں شک ہے) کہ غزوہ تبوک کے سفر میں لوگوں کو سخت بھوک لگی تھی (جبکہ وہ کئی روز سے فاقہ سے تھے)، صحابہ کرام ث نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ اجازت دیں تو ہم پانی لانے والے اونٹوں کو ذبح کر کے کھا لیں اور چربی کا تیل بنا لیں۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے اجازت دے دی، اتنے میں حضرت عمرص آ گئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ نے ایسا کیا تو سواریاں کم ہو جائیں گی، البتہ آپ لوگوں کا بچا ہوا کھانا منگوا لیجئے اور اس پر برکت کی دعا فرمائیں، یقینا اللہ تعالیٰ اس میں برکت عطا فرمائے گا۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ٹھیک ہے اور ایک چمڑے کا دسترخوان بچھا دیا۔ پھر لوگوں کا بچا ہوا کھانا منگوایا، کوئی شخص اپنی ہتھیلی میں جوار اور کوئی کھجوریں اور کوئی روٹی کے ٹکڑے لیے چلا آ رہا تھا، یہ سب چیزیں مل کر بہت تھوڑی مقدار میں جمع ہوئیں، تو حضور نبی اکرم ﷺ نے ان پر برکت کی دعا فرمائی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: سب اپنے اپنے برتنوں میں کھانا بھر لیں۔ چنانچہ تمام لوگوں نے اپنے اپنے برتن بھر لیے یہاں تک کہ لشکر کے تمام برتن بھر گئے (اور کوئی برتن خالی نہ رہا) اور سب نے مل کر مکمل سیر ہوکر کھانا کھا بھی لیا اور کھانا پھر بھی بچ گیا۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے یہ دیکھ کر فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اور یہ کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں اور جو شخص بھی اس کلمہ پر یقین کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا وہ شخص جنتی ہو گا۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے، مذکورہ الفاظ مسلم کے ہیں۔

473 / 10. عَنْ أَبِي ھُرَیْرَۃَ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: ھَلْ تَرَوْنَ قِبْلَتِي ھَاهُنَا؟ فَوَ اللهِ، مَا یَخْفَی عَلَيَّ خُشُوْعُکُمْ وَلَا رُکُوْعُکُمْ، إِنِّي لَأَرَاکُمْ مِنْ وَرَائِ ظَھْرِي.

مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.

أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب الصلاۃ، باب عظۃ الإمام الناس في إتمام الصلاۃ وذکر القبلۃ، 1 / 161، الرقم: 408، وأیضًا في کتاب الأذان، باب الخشوع في الصلاۃ، 1 / 259، الرقم: 708، ومسلم في الصحیح، کتاب الصلاۃ، باب الأمر بتحسین الصلاۃ وإتمامھا والخشوع فیھا، 1 / 259، الرقم: 424، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 303، 365، 375، الرقم: 8011، 8756، 8864.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم یہی دیکھتے ہو کہ (دوران نماز) میرا منہ ادھر ہوتا ہے؟ اللہ کی قسم! مجھ سے تمہارے (دلوں کی حالت اور ان کا) خشوع و خضوع پوشیدہ ہے نہ تمہارے (ظاہری حالت کے) رکوع، میں تمہیں اپنی پشت پیچھے بھی (اسی طرح) دیکھتا ہوں (جیسے اپنے سامنے سے دیکھتا ہوں)۔‘‘یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

474 / 11. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ رَجُلٌ نَصْرَانِیًّا فَأَسْلَمَ وَقَرَأَ الْبَقَرَۃَ وَآلَ عِمْرَانَ فَکَانَ یَکْتُبُ لِلنَّبِيِّ ﷺ فَعَادَ نَصْرَانِیًّا فَکَانَ یَقُوْلُ مَا یَدْرِي مُحَمَّدٌ إِلَّا مَا کَتَبْتُ لَهٗ فَأَمَاتَهُ اللهُ فَدَفَنُوْهُ فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْهُ الْأَرْضُ فَقَالُوْا: هٰذَا فِعْلُ مُحَمَّدٍ وَأَصْحَابِهٖ لَمَّا هَرَبَ مِنْهُمْ نَبَشُوْا عَنْ صَاحِبِنَا فَأَلْقَوْهُ فَحَفَرُوْا لَهٗ فَأَعْمَقُوْا فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْهُ الْأَرْضُ فَقَالُوْا: هٰذَا فِعْلُ مُحَمَّدٍ وَأَصْحَابِهٖ نَبَشُوْا عَنْ صَاحِبِنَا لَمَّا هَرَبَ مِنْهُمْ فَأَلْقَوْهُ فَحَفَرُوْا لَهٗ وَأَعْمَقُوْا لَهٗ فِي الْأَرْضِ مَا اسْتَطَاعُوْا فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْهُ الْأَرْضُ فَعَلِمُوْا أَنَّهٗ لَیْسَ مِنَ النَّاسِ فَأَلْقَوْهُ.

مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.

أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ في الإسلام، 3 / 1325، الرقم: 3421، ومسلم في الصحیح، کتاب صفات المنافقین وأحکامھم، 4 / 2145، الرقم: 2781، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 120،245، الرقم: 12236، 13348، وابن حبان في الصحیح، 3 / 19، الرقم: 744، وأبو یعلی في المسند، 7 / 22، الرقم: 3919، وعبد بن حمید في المسند، 1 / 381، الرقم: 1278، والأصبہاني في دلائل النبوۃ، 1 / 52، الرقم: 35، والبیہقي في السنن الصغری، 1 / 568، الرقم: 1054، وأیضا في إثبات عذاب القبر، 1 / 56، الرقم: 54، والخطیب التبریزي في مشکاۃ المصابیح، 2 / 387، الرقم: 5798، وأبو المحاسن في معتصر المختصر، 2 / 188.

’’حضرت انس رضی الله عنه فرماتے ہیں کہ ایک نصرانی مسلمان ہوگیا اور اس نے سورہ بقرہ اور سورۂ آل عمران پڑھ لی۔ پھر وہ حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں وحی کی کتابت کرنے لگا۔اس کے بعد وہ پھر نصرانی ہوگیا۔ اور کہتا کہ محمد ( ﷺ ) تو اتنا ہی جانتے ہیں جو میں نے لکھ دیا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے موت دی اور لوگوں نے اسے دفن کردیا لیکن اگلی صبح اس کی لاش زمین پر باہر پڑی دیکھی۔ وہ کہنے لگے کہ یہ محمد ( ﷺ ) اور ان کے ساتھیوں نے کیا ہوگا، کیوں کہ یہ ان کے پاس سے بھاگ کر آیا تھا، اس لیے انہوں نے ہمارے ساتھی کی قبر کھود ڈالی۔ دوسری مرتبہ ان لوگوں نے اس کے لیے اور گہری قبر کھودی لیکن اگلی صبح وہ پھر باہر زمین پر پڑا ہوا تھا۔ وہ پھر کہنے لگے کہ یہ محمد ( ﷺ ) اور ان کے ساتھیوں کا کام ہے کیوں کہ یہ ان کے پاس سے بھاگ جو آیا تھا، لهٰذا انہوں نے ہمارے ساتھی کی قبر کھود ڈالی۔ تیسری دفعہ ان لوگوںنے اس کے لیے بساط بھر خوب گہری قبر کھودی لیکن اگلی صبح اسے پھر زمین کے اوپر پڑا ہوا پایا۔ اب وہ سمجھے کہ ان کے ساتھ یہ سلوک لوگوں کی جانب سے نہیں ہے، سو انہوں نے اسے پڑا چھوڑ دیا۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

475 / 12. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ أَبُوْ ذَرٍّ رضی الله عنه یُحَدِّثُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: فُرِجَ عَنْ سَقْفِ بَیْتِي، وَأَنَا بِمَکَّۃَ فَنَزَلَ جِبْرِیْلُ، فَفَرَجَ صَدْرِي، ثُمَّ غَسَلَهٗ بِمَائِ زَمْزَمَ، ثُمَّ جَائَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٍ حِکْمَۃً وَإِیْمَانًا فَأَفْرَغَهُ فِي صَدْرِي، ثُمَّ أَطْبَقَهُ، ثُمَّ أَخَذَ بِیَدِي، فَعَرَجَ بِي إِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا…الحدیث.

مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.

أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب الصلاۃ، باب کیف فرضت الصلاۃ في الإسراء، 1 / 135، الرقم: 342، ومسلم في الصحیح، کتاب الإیمان، باب الإسراء برسول الله ﷺ إلی السموات وفرض الصلوات، 1 / 148، الرقم: 163، وأحمد بن حنبل في المسند، 5 / 143، الرقم: 21326، و ابن حبان في الصحیح، 16 / 420، الرقم: 7406.

’’حضرت انس بن مالک رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو ذر (غفاری) رضی الله عنه بیان کیا کرتے تھے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میرے گھر کی چھت کو کھولا گیا جبکہ میں مکہ میں تھا اور اس میں سے جبریل امین علیه السلام نازل ہوئے، اور انہوں نے میرا سینہ کھولا، پھر اس کو زمزم کے پانی سے دھویا، پھر وہ سونے کی ایک طشت لے کر آئے، جو حکمت اور ایمان سے بھری ہوئی تھی، جبریل امین نے یہ ساری طشت میرے سینے میں انڈیل دی، پھر اسے بند کردیا، پھرمیرا ہاتھ پکڑا، اور مجھے اپنے ساتھ لے کر آسمان دنیا کی طرف بلند ہو گئے۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

476 / 13. عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَهْدِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَصَلّٰی، قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللهِ، رَأَیْنَاکَ تَنَاوَلُ شَیْئًا فِي مَقَامِکَ، ثُمَّ رَأَیْنَاکَ تَکَعْکَعْتَ؟ فَقَالَ: إِنِّي أُرِیْتُ الْجَنَّۃَ، فَتَنَاوَلْتُ مِنْھَا عُنْقُوْدًا، وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَکَلْتُمْ مِنْهُ، مَا بَقِیَتِ الدُّنْیَا.

مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.

أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب صفۃ الصلاۃ، باب رفع البصر إلی الإمام في الصلاۃ، 1 / 261، الرقم: 715، وأیضًا في کتاب الکسوف، باب صلاۃ الکسوف جماعۃ، 1 / 357، الرقم: 1004، وأیضًا في کتاب النکاح، باب کفران العشیر، 5 / 1994، الرقم: 4901، ومسلم في الصحیح، کتاب الکسوف، باب ما عرض علی النبی ﷺ في صلاۃ الکسوف من أمر الجنۃ والنار، 2 / 627، الرقم: 904، والنسائي في السنن، کتاب الکسوف، باب قدر قرائۃ في صلاۃ الکسوف، 3 / 147، الرقم: 1493، وأیضًا في السنن الکبری، 1 / 578، الرقم: 1878، ومالک في الموطأ، 1 / 186، الرقم: 445، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 298، الرقم: 2711، 3374، وابن حبان في الصحیح، 7 / 73، الرقم: 2832، 2853، وعبد الرزاق في المصنف، 3 / 98، الرقم: 4925، والبیہقي في السنن الکبری، 3 / 321، الرقم: 6096، والشافعي في السنن المأثورۃ، 1 / 140، الرقم: 47.

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی الله عنهما فرماتے ہیںکہ (ایک مرتبہ) حضور نبی اکرم ﷺ کے عہد مبارک میں سورج گرہن ہوا اور آپ ﷺ نے نمازِ کسوف پڑھائی۔ صحابہ کرامث نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے دیکھا کہ آپ نے اپنی جگہ پر کھڑے کھڑے کوئی چیز پکڑی پھر ہم نے دیکھا کہ آپ کسی قدر پیچھے ہٹ گئے؟ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مجھے جنت نظر آئی تھی، میں نے اس میں سے ایک خوشہ پکڑ لیا، اگر اسے توڑ لیتا تو تم رہتی دنیا تک اس سے کھاتے رہتے (اور وہ ختم نہ ہوتا)۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

477 / 14. عَنْ جَابِرٍ رضی الله عنه قَالَ: إِنَّا یَوْمَ الْخَنْدَقِ نَحْفِرُ، فَعَرَضَتْ کُدْیَةٌ شَدِیْدَةٌ فَجَائُ وْا النَّبِيَّ ﷺ فَقَالُوْا: هَذِهٖ کُدْیَةٌ عَرَضَتْ فِي الْخَنْدَقِ فَقَالَ: أَنَا نَازِلٌ ثُمَّ قَامَ وَبَطْنُهٗ مَعْصُوْبٌ بِحَجَرٍ وَلَبِثْنَا ثَـلَاثَۃَ أَیَّامٍ لَا نَذُوْقُ ذَوَاقًا، فَأَخَذَ النَّبِيُّ ﷺ الْمِعْوَلَ، فَضَرَبَ فِي الْکُدْیَۃِ، فَعَادَ کَثِیْبًا أَهْیَلَ أَوْ أَهْیَمَ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللهِ، ائْذَنْ لِي إِلَی الْبَیْتِ فَقُلْتُ: لِامْرَأَتِي رَأَیْتُ بِالنَّبِيِّ ﷺ شَیْئًا مَا کَانَ فِي ذَالِکَ صَبْرٌ فَعِنْدَکِ شَيئٌ؟ قَالَتْ: عِنْدِي شَعِیْرٌ وَعَنَاقٌ، فَذَبَحَتِ الْعَنَاقَ وَطَحَنَتِ الشَّعِیْرَ حَتّٰی جَعَلْنَا اللَّحْمَ فِي الْبُرْمَۃِ ثُمَّ جِئْتُ النَّبِيَّ ﷺ وَالْعَجِیْنُ قَدِ انْکَسَرَ وَالْبُرْمَۃُ بَیْنَ الْأَثَافِيِّ قَدْ کَادَتْ أَنْ تَنْضَجَ فَقُلْتُ: طُعَیِّمٌ لِي، فَقُمْ أَنْتَ یَا رَسُوْلَ اللهِ، وَرَجُلٌ أَوْ رَجُـلَانِ قَالَ: کَمْ هُوَ؟ فَذَکَرْتُ لَهٗ قَالَ: کَثِیْرٌ طَیِّبٌ قَالَ: قُلْ لَهَا: لَا تَنْزِعِ الْبُرْمَۃَ وَلَا الْخُبْزَ مِنَ التَّنُّوْرِ حَتّٰی آتِيَ فَقَالَ: قُوْمُوْا فَقَامَ الْمُهَاجِرُوْنَّ وَالْأَنْصَارُ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَی امْرَأَتِهٖ قَالَ: وَیْحَکِ جَائَ النَّبِيُّ ﷺ بِالْمُهَاجِرِیْنَ وَالْأَنْصَارِ وَمَنْ مَعَهُمْ قَالَتْ: هَلْ سَأَلَکَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: ادْخُلُوْا وَلَا تَضَاغَطُوْا، فَجَعَلَ یَکْسِرُ الْخُبْزَ وَیَجْعَلُ عَلَیْهِ اللَّحْمَ وَیُخَمِّرُ الْبُرْمَۃَ وَالتَّنُّوْرَ إِذَا أَخَذَ مِنْهُ وَیُقَرِّبُ إِلٰی أَصْحَابِهٖ ثُمَّ یَنْزِعُ فَلَمْ یَزَلْ یَکْسِرُ الْخُبْزَ وَیَغْرِفُ حَتّٰی شَبِعُوْا وَبَقِيَ بَقِیَّةٌ قَالَ: کُلِي هٰذَا وَأَهْدِي، فَإِنَّ النَّاسَ أَصَابَتْهُمْ مَجَاعَةٌ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَابْنُ أَبِي شَیْبَۃَ.

أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب المغازي، باب غزوۃ الخندق وھي الأحزاب، 4 / 1505، الرقم: 3875، والدارمي في السنن، باب ما أکرم بہ النبي ﷺ في برکۃ طعامہ، 1 / 33، الرقم: 42، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 6 / 314، الرقم: 31709، والأصبھاني في دلائل النبوۃ، 1 / 208، الرقم: 285، والفریابي في دلائل النبوۃ، 1 / 51، الرقم: 18، وابن عبد البر في التمہید، 1 / 292، وابن إسحاق في ترکۃ النبي ﷺ، 1 / 68، الرقم: 22، والحاکم في معرفۃ علوم الحدیث / 94، والنووي في ریاض الصالحین / 149، الرقم: 149، والعسقلاني في فتح الباري، 7 / 396، والعیني في عمدۃ القاري، 17 / 179.

’’حضرت جابر رضی الله عنه فرماتے ہیں کہ جب ہم خندق کھود رہے تھے تو ایک سخت پتھر نکل آیا۔ لوگ حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض گزار ہوئے: (یا رسول اللہ!) ایک بہت بڑا پتھر نکل آیا ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں خود خندق میں اُترتا ہوں۔ چنانچہ آپ ﷺ (خندق میں) اترے جبکہ آپ ﷺ کے شکم مبارک سے پتھر بندھا ہوا تھا اور ہم نے بھی تین دن سے کچھ کھایا پیا نہ تھا۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے کدال لے کر اس پتھر پر ماری تو وہ ریزہ ریزہ ہوگیا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے گھر جانے کی اجازت مرحمت فرمائی جائے۔ (میں اجازت لے کر گھر آیا اور) پھر میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو (بھوک کی) ایسی حالت میں دیکھا ہے جو میرے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔ پس بتاؤ کیا تمہارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے؟ اس نے کہا کہ تھوڑے سے جَو ہیں اور ایک بکری کا بچہ ہے۔ پس میں نے بکری کے بچے کو ذبح کیا اور بیوی نے جَو پیسے، یہاں تک کہ گوشت ہانڈی میں پکنے کے لیے رکھ دیا گیا۔ پھر میں حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو گیا جب آٹا گوندھ کر رکھ لیا اور ہانڈی پکنے کے قریب ہو گئی تھی۔ تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کے لیے کھانا تیار کروایا ہے۔ پس آپ ایک دو حضرات کے ہمراہ تشریف لائیں۔ آپ ' ﷺ نے فرمایا: کتنا کھانا پکایا ہے؟ میں نے سارا ماجرا آپ ﷺ کے گوش گزار کردیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تو بہت ہے اور بڑا اچھاہے۔ پھر فرمایا: اپنی بیوی سے کہہ دینا کہ جب تک میں نہ آجاؤں وہ ہانڈی کو چولھے سے اتارے اور نہ ہی تنور سے روٹیاں نکالے۔ پھر آپ ﷺ نے مہاجرین و انصار سے فرمایا: کھانے کے لیے کھڑے ہوجاؤ۔ (حضرت جابر فرماتے ہیں کہ) میں اپنی بیوی کے پاس جاکر کہنے لگا کہ خدا کی بندی! حضور نبی اکرم ﷺ تو سارے مہاجرین و انصار کو ساتھ لے کر تشریف لا رہے ہیں۔ وہ کہنے لگیں: کیا حضور نبی اکرم ﷺ نے آپ سے کچھ پوچھا تھا؟ میں نے جواب دیا: ہاں۔ پس آپ ﷺ نے صحابہ کرام سے فرمایا: اندر چلو اور شور و غل نہ کرنا۔ پھر روٹیاں توڑ کر ان پر گوشت ڈالا اور ہانڈی سے گوشت اور تنور سے روٹیاں لے کر انہیں ڈھک دیتے تھے اور صحابہ کرام کے سامنے رکھتے جاتے۔ آپ ﷺ برابر روٹیاں توڑ توڑ کر لوگوں کو دیتے رہے یہاں تک کہ سارے صحابہ شکم سیر ہوگئے اور کھانا بچا بھی رہا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اب تم بھی کھالو اور جن کے لیے کھانا بھیجنا ہے ان کے لیے بھی بھیج دو کیوں کہ آج کل لوگوں کو بھوک نے ستایا ہوا ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری، دارمی اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

478 / 15. عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ رضي الله عنهما عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ وَمَرْوَانَ یُصَدِّقُ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَدِیْثَ صَاحِبِهٖ قَالَا: خَرَجَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ زَمَنَ الْحُدَیْبِیَۃِ فذکر الحدیث حَتّٰی نَزَلَ بِأَقْصَی الْحُدَیْبِیَۃِ عَلٰی ثَمَدٍ قَلِیْلِ الْمَائِ یَتَبَرَّضُهُ النَّاسُ تَبَرُّضًا، فَلَمْ یُلَبِّثْهُ النَّاسُ حَتّٰی نَزَحُوْهُ، وَشُکِيَ إِلٰی رَسُوْلِ اللهِ ﷺ الْعَطَشُ، فَانْتَزَعَ سَهْمًا مِنْ کِنَانَتِهٖ ثُمَّ أَمَرَهُمْ أَنْ یَجْعَلُوْهُ فِیْهِ. فَوَ اللهِ، مَا زَالَ یَجِیْشُ لَهُمْ بِالرِّيِّ حَتّٰی صَدَرُوْا عَنْهُ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَأَحْمَدُ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ.

أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب الشروط، باب الشروط في الجہاد والمصالحۃ مع أہل الحرب، 2 / 974، الرقم: 2581، وأبو داود في السنن، کتاب الجہاد، باب في صلح العدو، 3 / 85، الرقم: 2765، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 328، الرقم: 18948، وعبد الرزاق في المصنف، 5 / 330۔332، الرقم: 9720، وابن حبان في الصحیح، 11 / 216، الرقم: 4872، والطبراني في المعجم الکبیر، 20 / 9، الرقم: 13، والبیہقي في السنن الکبری، 9 / 218، الرقم: 18587، وابن عساکر في تاریخ مدینۃ دمشق، 57 / 226، والعیني في عمدۃ القاري، 14 / 2،8، وابن کثیر في تفسیر القرآن العظیم، 4 / 198.

’’حضرت عروہ بن زبیر رضی الله عنهما، حضرت مسور بن مخرمہ اور مروان رضی الله عنهما سے روایت کرتے ہیں ان میں سے ہر ایک نے دوسرے کی حدیث کی تصدیق کی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ صلح حدیبیہ کے زمانہ میں گھر سے باہر تشریف لے گئے۔ آگے راوی نے طویل حدیث ذکر کی جس میں ہے کہ یہاں تک کہ آپ ﷺ حدیبیہ کے بالکل قریب ایک ایسے گڑھے کے کنارے بیٹھ گئے جس میں تھوڑا سا پانی تھا، لوگوں نے اس میں سے تھوڑا تھوڑا پانی لیا تھا کہ وہ ختم ہو گیا۔ لوگوں نے بارگاهِ رسالت میں پیاس کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکال کر انہیں دیتے ہوئے فرمایا: اسے اس گڑھے میں ڈال دو۔ پس خدا کی قسم! پانی فوراً ابلنے لگا اور تمام لوگ سیراب ہو گئے۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری، ابو داود، اَحمد اور عبد الرزاق نے روایت کیا ہے۔

479 / 16. عَنِ الْجُعَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ: رَأَیْتُ السَّائِبَ بْنَ یَزِیْدَ رضی الله عنه ابْنَ أَرْبَعٍ وَتِسْعِیْنَ جَلْدًا مُعْتَدِلًا، فَقَالَ: قَدْ عَلِمْتُ مَا مُتِّعْتُ بِهٖ سَمْعِي وَبَصَرِي إِلَّا بِدُعَائِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ إِنَّ خَالَتِي ذَهَبَتْ بِي إِلَیْهِ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللهِ، إِنَّ ابْنَ أُخْتِي شَاکٍ، فَادْعُ اللهَ لَهٗ قَالَ: فَدَعَا لِي.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب المناقب، باب کنیۃ النبي ﷺ، 3 / 1301، الرقم: 3347، وابن عساکر في تاریخ مدینۃ دمشق، 20 / 114، والفسوي في المعرفۃ والتاریخ، 1 / 173، والعیني في عمدۃ القاري، 16 / 101.

’’حضرت جعید بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت سائب بن یزید رضی الله عنه کو چورانوے سال کی عمر میں بھی تندرست و توانا دیکھا۔ (ان سے وجہ پوچھی گئی) تو انہوں نے فرمایا کہ میں تو یہی جانتا ہوں کہ میری سماعت و بصارت رسول اللہ ﷺ کی دعا سے فیض یاب ہیں۔ میری خالہ (بچپن میں) مجھے لے کر آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض گزار ہوئی تھیں: یا رسول اللہ! یہ میرا بھانجا بیمار رہتا ہے۔ تو آپ ﷺ نے میرے حق میں اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی(اور یہ اِسی دعا کا نتیجہ ہے)۔‘‘

اِسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

480 / 17. عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضي الله عنهما أَنَّ امْرَأَۃً مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَتْ لِرَسُوْلِ اللهِ ﷺ : یَا رَسُوْلَ اللهِ، أَ لَا أَجْعَلُ لَکَ شَیْئًا تَقْعُدُ عَلَیْهِ، فَإِنَّ لِي غُـلَامًا نَجَّارًا. قَالَ: إِنْ شِئْتِ قَالَ: فَعَمِلَتْ لَهُ الْمِنْبَرَ، فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ، قَعَدَ النَّبِيُّ ﷺ عَلَی الْمِنْبَرِ الَّذِي صُنِعَ فَصَاحَتِ النَّخْلَۃُ الَّتِي کَانَ یَخْطُبُ عِنْدَھَا، حَتّٰی کَادَتْ أَنْ تَنْشَقَّ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ ﷺ حَتّٰی أَخَذَھَا فَضَمَّھَا إِلَیْهِ، فَجَعَلَتْ تَئِنُّ أَنِیْنَ الصَّبِيِّ الَّذِي یُسَکَّتُ، حَتّٰی اسْتَقَرَّتْ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَہ.

أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب البیوع، باب النجار، 2 / 378، الرقم: 1989، وأیضا في کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ في الإسلام، 3 / 1314، الرقم: 3391۔3392، وأیضا في کتاب المساجد، باب الاستعانۃ بالنجار والصناع في أعواد المنبر والمسجد، 1 / 172، الرقم: 438، والترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب: (6)، 5 / 594، الرقم: 3627، والنسائي في السنن، کتاب الجمعۃ، باب مقام الإمام في الخطبۃ، 3 / 102، الرقم: 1396، وابن ماجہ في السنن، کتاب إقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیھا، باب ما جاء في بدء شأن المنبر، 1 / 454، الرقم: 1414۔1417، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 226، والدارمي نحوہ في السنن، 1 / 23، الرقم: 42، وابن خزیمۃ في الصحیح، 3 / 139، الرقم: 1776۔1777، وعبد الرزاق في المصنف، 3 / 186، الرقم: 5253، وابن حبان في الصحیح 14 / 48،43، الرقم: 6506، وأبویعلی في المسند، 6 / 114، الرقم: 3384.

’’حضرت جابر بن عبد اللہ رضی الله عنهما فرماتے ہیں کہ ایک انصاری عورت نے حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں آپ کے (خطاب کے لیے) تشریف فرما ہونے کے لیے کوئی چیز نہ بنوا دوں؟ کیوں کہ میرا غلام بڑھئی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم چاہو (تو بنوا دو)۔ اس عورت نے آپ ﷺ کے لیے ایک منبر بنوا دیا۔ جمعہ کا دن آیا تو حضور ﷺ اسی منبر پر تشریف فرما ہوئے جو تیار کیا گیا تھا لیکن (حضور نبی اکرم ﷺ کے منبر پر تشریف رکھنے کی وجہ سے) کھجور کا وہ تنا جس سے ٹیک لگا کر آپ ﷺ خطبہ ارشاد فرماتے تھے (ہجر و فراق رسول ﷺ میں) چِلاَّ (کر رو) پڑا یہاں تک کہ پھٹنے کے قریب ہو گیا۔ یہ دیکھ کرآپ ﷺ منبر سے نیچے اتر آئے اور کھجور کے اس ستون کو گلے سے لگا لیا۔ ستون اس بچہ کی طرح رونے لگا، جسے تھپکی دے کر چپ کرایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اسے سکون آ گیا۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

481 / 18. عَنْ أَبِي هُرَیْرَۃَ رضی الله عنه قَالَ: کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فِي مَسِیْرٍ قَالَ: فَنَفِدَتْ أَزْوَادُ الْقَوْمِ قَالَ: حَتّٰی هَمَّ بِنَحْرِ بَعْضِ حَمَائِلِهِمْ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ ص: یَا رَسُوْلَ اللهِ، لَوْ جَمَعْتَ مَا بَقِيَ مِنْ أَزْوَادِ الْقَوْمِ فَدَعَوْتَ اللهَ عَلَیْهَا قَالَ: فَفَعَلَ قَالَ: فَجَائَ ذُو الْبُرِّ بِبُرِّهٖ وَذُو التَّمْرِ بِتَمْرِهٖ قَالَ: وَقَالَ مُجَاهِدٌ: وَذُو النَّوَاۃِ بِنَوَاهُ قُلْتُ: وَمَا کَانُوْا یَصْنَعُوْنَ بِالنَّوٰی قَالَ: کَانُوْا یَمُصُّوْنَهٗ وَیَشْرَبُوْنَ عَلَیْهِ الْمَائَ قَالَ: فَدَعَا عَلَیْهَا حَتّٰی مَـلَأَ الْقَوْمُ أَزْوِدَتَهُمْ قَالَ: فَقَالَ عِنْدَ ذَالِکَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَأَنِّي رَسُوْلُ اللهِ لَا یَلْقَی اللهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَیْرَ شَاکٍّ فِیْهِمَا إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّۃَ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَنْدَه.

أخرجہ مسلم في الصحیح، کتاب الإیمان، باب الدلیل علی أن من مات علی التوحید دخل الجنۃ قطعا، 1 / 55، الرقم: 27، والنسائي في السنن الکبری،5 / 245، الرقم: 8794، وابن مندہ في الإیمان، 1 / 228، الرقم: 90، وأبو عوانۃ في المسند، 1 / 9، 21، والفریابي في دلائل النبوۃ، 1 / 34، الرقم: 4، وأبو نعیم في المسند المستخرج، 1 / 120، الرقم: 131.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (غزوۂ تبوک کے لیے) سفر پر جا رہے تھے کہ زادِ راہ ختم ہو گیا، یہاں تک کہ لوگوں نے اپنی سواری کے جانور ذبح کرنے کا ارادہ کرلیا۔ تو حضرت عمر رضی الله عنه نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کاش آپ لوگوں کے بچے کھچے کھانے کو جمع کر کے اس پر برکت کی دعا فرمائیں! حضور نبی اکرم ﷺ نے ایسا ہی کیا۔ پھر جس شخص کے پاس گندم تھی وہ گندم لے آیا اور جس کے پاس کھجوریں تھیں وہ کھجوریں لے آیا۔ مجاہد نے کہا اور جس کے پاس گٹھلیاں تھیں وہ گٹھلیاں لے آیا۔ راوی نے کہا کہ میں نے مجاہد سے پوچھا کہ گھٹلیوں کا وہ لوگ کیا کرتے تھے؟ مجاہد نے کہا کہ انہیں چوس کر ان پر پانی پی لیتے تھے، حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه کہتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ان تمام چیزوں کو اکٹھاکر کے دعا فرمائی جس کی برکت سے وہ کھانا اس قدر زیادہ ہو گیا کہ تمام لوگوں نے اپنے برتنوں کو بھر لیا۔ یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اور یہ کہ میں اللہ تعالیٰ کا (آخری) رسول ہوں۔ جو شخص توحید و رسالت پر ایمان کی حالت میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا وہ یقیناً جنتی ہو گا۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم، نسائی اور ابن مندہ نے روایت کیا ہے۔

482 / 19. عَنْ جَابِرٍ رضی الله عنه أَنَّ رَجُـلًا أَتَی النَّبِيَّ ﷺ یَسْتَطْعِمُهُ، فَأَطْعَمَهُ شَطْرَ وَسْقِ شَعِیْرٍ. فَمَا زَالَ الرَّجُلُ یَأْکُلُ مِنْهُ وَامْرَأَتُهُ وَضَیْفُھُمَا، حَتّٰی کَالَهُ. فَأَتَی النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ: لَوْ لَمْ تَکِلْهُ لَأَکَلْتُمْ مِنْهُ وَلَقَامَ لَکَمْ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ.

أخرجہ مسلم في الصحیح، کتاب الفضائل، باب في معجزات النبي ﷺ، 4 / 1784، الرقم: 2281، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 337، الرقم: 14661، وأیضًا، 3 / 347، الرقم: 14783.

’’حضرت جابر رضی الله عنه روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر کچھ کھانا طلب کیا۔ آپ ﷺ نے اسے نصف وسق (ایک سو بیس کلو گرام) جَو دے دیے۔ وہ شخص اس کی بیوی اور ان دونوں کے (ہاں آنے والے) مہمان بھی (ایک عرصہ تک) وہی جو کھاتے رہے یہاں تک کہ ایک دن اس نے وہ جو ماپ لئے۔ پھر وہ حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم اسے نہ ماپتے تو تم وہ جو کھاتے رہتے اور وہ یونہی (ہمیشہ) باقی رہتے۔‘‘

اِسے امام مسلم اور احمد نے روایت کیا ہے۔

483 / 20. عَنْ أَبِي ھُرَیْرَۃَ رضی الله عنه قَالَ: أَتَیْتُ النَّبِيَّ ﷺ، بِتَمَرَاتٍ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللهِ، ادْعُ اللهَ فِیْھِنَّ بِالْبَرَکَۃِ فَضَمَّھُنَّ ثُمَّ دَعَا لِي فِیْھِنَّ بِالْبَرَکَۃِ، فَقَالَ: خُذْھُنَّ وَاجْعَلْھُنَّ فِي مِزْوَدِکَ ھٰذَا أَوْ فِي ھٰذَا الْمِزْوَدِ، کُلَّمَا أَرَدْتَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَیْئًا فَأَدْخِلْ فِیْهِ یَدَکَ فَخُذْهُ وَلَا تَنْثُرْهُ نَثْرًا، فَقَدْ حَمَلْتُ مِنْ ذَالِکَ التَّمْرِ کَذَا وَکَذَا مِنْ وَسْقٍ فِي سَبِیْلِ اللهِ، فَکُنَّا نَأْکُلُ مِنْهُ وَنُطْعِمُ، وَکَانَ لَا یُفَارِقُ حِقْوِي حَتّٰی کَانَ یَوْمُ قَتْلِ عُثْمَانَص فَإِنَّهُ انْقَطَعَ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: ھٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ.

أخرجہ الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب مناقب لأبي ھریرۃص، 5 / 685، الرقم: 3839، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 352، الرقم: 8613، وابن حبان في الصحیح، 14 / 467، الرقم: 6532، وابن راھویۃ في المسند، 1 / 75، الرقم: 3، والہیثمي في موارد الظمآن، 1 / 527، الرقم: 2150، وابن کثیر في البدایۃ والنھایۃ، 6 / 117، والذھبي في سیر أعلام النبلاء، 2 / 231، والسیوطي في الخصائص الکبری، 2 / 85.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه روایت فرماتے ہیںکہ میں حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں کچھ کھجوریں لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول الله ! ان میں اللہ تعالیٰ سے برکت کی دعا فرما دیں۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے انہیں اکٹھا کیا اور میرے لیے ان میں دعائے برکت فرمائی پھر مجھے فرمایا: انہیں لے لو اور اپنے اس توشہ دان میں رکھ دو اور جب انہیں لینا چاہو تو اپنا ہاتھ اس میں ڈال کر لے لیا کرو لیکن اِسے جھاڑنا نہیں۔ سو میں نے ان میں سے اتنے اتنے (یعنی کئی) وسق (ایک وسق دو سو چالیس کلو گرام کے برابر ہوتا ہے) کھجوریں الله تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیں ہم خود اس میں سے کھاتے اور دوسروں کو بھی کھلاتے۔ کبھی وہ توشہ دان میری کمر سے جدا نہ ہوا، یہاں تک کہ جس دن حضرت عثمان رضی الله عنه شہید ہوئے تو وہ مجھ سے کہیں گر گیا۔‘‘

اِسے امام ترمذی، احمد اور ابن حبان نے روایت کیا ہے. امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن ہے.

484 / 21. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنھما قَالَ: جَائَ أَعْرَابِيٌّ إِلٰی رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَقَالَ: بِمَ أَعْرِفُ أَنَّکَ نَبِيٌّ؟ قَالَ: إِنْ دَعَوْتُ هٰذَا الْعِذْقَ مِنْ هٰذِهِ النَّخْلَۃِ، أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُوْلُ اللهِ ؟ فَدَعَاهُ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فَجَعَلَ یَنْزِلُ مِنَ النَّخْلَۃِ حَتّٰی سَقَطَ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ ثُمَّ قَالَ: ارْجِعْ. فَعَادَ، فَأَسْلَمَ الْأَعْرَابِيُّ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبُخَارِيُّ فِي الْکَبِیْرِ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ.

أخرجہ الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب في آیات إثبات نبوۃ النبي ﷺ وما قد خصہ الله ل، 5 / 594، الرقم: 3628، والحاکم في المستدرک، 2 / 676، الرقم: 4237، والطبراني في المعجم الکبیر، 12 / 110، الرقم: 12622، والبخاري في التاریخ الکبیر، 3 / 3، الرقم: 6، والبیہقي في الاعتقاد، 1 / 48، والخطیب التبریزی في مشکاۃ المصابیح، 2 / 394، الرقم: 5924، والمقدسي في الأحادیث المختارۃ، 9 / 538، 539، الرقم: 527.

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی الله عنهما سے روایت ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: مجھے کیسے علم ہو گا کہ آپ الله تعالیٰ کے نبی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر میں کھجور کے اس درخت پر لگے ہوئے اس گچھے کو بلاؤں تو کیا تو گواہی دے گا کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں؟ پھر آپ ﷺ نے اسے بلایا تو وہ درخت سے اترنے لگا یہاں تک کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے قدموں میں آگرا۔ پھر آپ ﷺ نے اسے فرمایا: واپس چلے جاؤ۔ تو وہ واپس چلا گیا۔ اس اعرابی نے (نباتات کی محبت و اطاعتِ رسول کا یہ منظر دیکھ کر) اسلام قبول کر لیا۔‘‘

اس حدیث کو امام ترمذی، حاکم، طبرانی اور بخاری نے ’التاریخ الکبیر‘ میں روایت کیا ہے۔ امام ابوعیسیٰ نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

485 / 22. عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ یَقُوْمُ إِلَی جِذْعٍ قَبْلَ أَنْ یُجْعَلَ الْمِنْبَرُ فَلَمَّا جُعِلَ الْمِنْبَرُ حَنَّ ذَلِکَ الْجِذْعُ حَتّٰی سَمِعْنَا حَنِیْنَهٗ فَوَضَعَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ یَدَهٗ عَلَیْهِ فَسَکَنَ.

رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ وَابْنُ سَعْدٍ وَاللَّالْکَائِيُّ.

أخرجہ الدارمي في السنن، 1 / 30، 442، الرقم: 33، 1562، والطبراني في المعجم الأوسط، 6 / 108، الرقم: 5950، واللالکائي في اعتقاد أہل السنۃ، 4 / 801، الرقم: 1478، وابن سعد في الطبقات الکبری، 1 / 253، والفسوي في المعرفۃ والتاریخ، 3 / 389، وابن مردویہ في جزء فیہ أحادیث ابن حیان، 1 / 148، الرقم: 72، وابن عدي في الکامل، 3 / 288، الرقم: 757، والواسطي في تاریخ واسط، 1 / 162، والنووي في ریاض الصالحین، 1 / 416، الرقم: 416.

’’حضرت جابر بن عبد الله انصاری رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ منبر تیار کئے جانے سے قبل حضور نبی اکرم ﷺ (خطاب کے لئے) کھجور کے خشک تنے کے ساتھ (ٹیک لگا کر) قیام فرما ہوتے تھے۔ پھر جب آپ ﷺ کے لئے منبر تیار کر دیا گیا تو وہ خشک تنا دھاڑیں مار مار کر رونے لگا، یہاں تک کہ ہم نے بھی اس کے رونے کی آواز سنی، پھر جب حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنا دستِ شفقت اس پر رکھا تو وہ (یوں) پر سکون ہوگیا (جیسے کسی بلبلاتے شیر خوار بچے کو ماں کی گود نصیب ہوگئی ہو)۔‘‘

اس حدیث کو امام دارمی، طبرانی، ابن سعد اور لالکائی نے روایت کیا ہے۔

486 / 23. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ کَانَ یَقُوْمُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَیُسْنِدُ ظَهْرَهٗ إِلٰی جِذْعٍ مَنْصُوْبٍ فِي الْمَسْجِدِ فَیَخْطُبُ النَّاسَ فَجَائَهُ رُوْمِيٌّ فَقَالَ: أَلاَ أَصْنَعُ لَکَ شَیْئًا تَقْعُدُ عَلَیْهِ وَکَأَنَّکَ قَائِمٌ فَصَنَعَ لَهٗ مِنْبَرًا لَهٗ دَرَجَتَانِ وَیَقْعُدُ عَلَی الثَّالِثَۃِ فَلَمَّا قَعَدَ نَبِيُّ اللهِ ﷺ عَلٰی ذَالِکَ الْمِنْبَرِ خَارَ الْجِذْعُ کَخُوَارِ الثَّوْرِ حَتَّی ارْتَجَّ الْمَسْجِدُ حُزْنًا عَلٰی رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَنَزَلَ إِلَیْهِ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ مِنَ الْمِنْبَرِ فَالْتَزَمَهٗ وَهُوَ یَخُوْرُ فَلَمَّا الْتَزَمَهٗ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ سَکَتَ ثُمَّ قَالَ: أَمَا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِهٖ، لَوْ لَمْ أَلْتَزِمْهُ لَمَا زَالَ هٰکَذَا إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ حُزْنًا عَلٰی رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَأَمَرَ بِهٖ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فَدُفِنَ.

رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ وَابْنُ خُزَیْمَۃَ وَصَحَّحَهُ وَاللَّالْکَائِيُّ. وَقَالَ الْمَقْدِسِيُّ: إِسْنَادُهٗ صَحِیْحٌ.

أخرجہ الدارمي في السنن، 1 / 32، الرقم: 41، وابن خزیمۃ في الصحیح، 3 / 104، الرقم: 1777، واللالکائي في اعتقاد أہل السنۃ، 4 / 798، الرقم: 1472، والمقدسي في الأحادیث المختارۃ، 4 / 356۔357، الرقم: 1519۔1520، والعسقلاني في فتح الباري، 2 / 399.

’’حضرت انس بن مالک رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ کا یہ معمول تھا کہ آپ ﷺ جمعہ کے دن مسجد میں نصب شدہ ایک کجھور کے تنے سے ٹیک لگا کر قیام فرما ہو جاتے اور لوگوں سے خطاب فرماتے۔ ایک رومی صحابی آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: (یارسول الله !) کیا میں آپ کے لئے ایک ایسی چیز تیار نہ کرلائوں کہ آپ اس پر تشریف فرما ہو جائیں اور یوں محسوس ہو کہ آپ قیام فرما ہیں؟ تو (اجازت مل جانے پر) اس نے آپ ﷺ کے لئے منبر تیار کیا۔ اس منبر کے دو درجے تھے۔ اور آپ ﷺ تیسرے درجہ پر جلوہ افروز ہوئے۔ جب حضورنبی اکرم ﷺ (پہلی مرتبہ) اس منبر پر جلوہ افروز ہوئے تو وہ کجھور کا (خشک) تنا حضور نبی اکرم ﷺ کی جدائی کی وجہ سے بیل جیسی آواز نکالنے لگا (اور زارو قطار رونے لگا) یہاں تک کہ پوری مسجد اس کی غمناک آواز سے غمگین ہوگئی۔ حضورنبی اکرم ﷺ اس کی خاطر منبر سے نیچے تشریف لے آئے اور اس کے پاس گئے اور اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا جبکہ وہ (روتے ہوئے بچے کی طرح) بلبلا رہا تھا۔ جب حضورنبی اکرم ﷺ نے اسے اپنے سینۂ اقدس کے ساتھ لگایا تو وہ پر سکون ہو گیا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں محمد کی جان ہے! اگر میں اسے اپنے سینے کے ساتھ نہ لگاتا تو یہ رسول الله کے غمِ فراق میں قیامت تک اسی طرح روتا رہتا۔ پھر آپ ﷺ نے اس کے بارے میں حکم فرمایا تو اسے (اسی منبر کے نیچے) دفن کردیاگیا۔‘‘

اس حدیث کو امام دارمی اور ابن خزیمہ نے روایت کیا ہے۔ امام ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا۔ اورامام مقدسی نے فرمایا: اس کی سند صحیح ہے۔

487 / 24. عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضي الله عنهما قَالَ: حَنَّتِ الْخَشَبَۃُ حَنِیْنَ النَّاقَۃِ الْخَلُوْجِ.

رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ وَأَبُوْ یَعْلٰی وَالْأَصْبَهَانِيُّ.

أخرجہ الدارمي في السنن، 1 / 30، الرقم: 35، وأبو یعلی في المسند، 2 / 329، الرقم: 1068، والأصبہاني في دلائل النبوۃ، 1 / 155، الرقم: 173، والعسقلاني في فتح الباري، 6 / 603، والجزري في النہایۃ في غریب الأثر، 2 / 60، والخطابي في غریب الحدیث، 1 / 418، وابن الجوزي في غریب الحدیث، 1 / 295

’’حضرت جابر بن عبد الله رضی الله عنهما بیان کرتے ہیں کہ کھجور کا خشک تنا حضور نبی اکرم ﷺ کے فراق میں اس طرح تڑپا جس طرح وہ اونٹنی تڑپتی اور بے چین ہوتی ہے جس کا (چھوٹا سا) بچہ اس سے جدا کر دیا جائے۔‘‘

اس حدیث کو امام دارمی، ابو یعلی اور اصبہانی نے روایت کیا ہے۔

488 / 25. عَنْ أَبِي سَعِیْدٍ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ یَخْطُبُ إِلٰی لِزْقِ جِذْعٍ فَأَتَاهُ رَجُلٌ رُوْمِيٌّ فَقَالَ: أَصْنَعُ لَکَ مِنْبَرًا تَخْطُبُ عَلَیْهِ، فَصَنَعَ لَهٗ مِنْبَرًا هٰذَا الَّذِي تَرَوْنَ. قَالَ: فَلَمَّا قَامَ النَّبِيُّ ﷺ یَخْطُبُ حَنَّ الْجِذْعُ حَنِیْنَ النَّاقَۃِ إِلٰی وَلَدِهَا فَنَزَلَ إِلَیْهِ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فَضَمَّهٗ إِلَیْهِ فَسَکَنَ فَأُمِرَ بِهٖ أَنْ یُحْفَرَ لَهٗ وَیُدْفَنَ. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ وَابْنُ أَبِي شَیْبَۃَ.

أخرجہ الدارمي في السنن، 1 / 31، الرقم: 37، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 6 / 319، الرقم: 31749، والعسقلاني في المطالب العالیۃ، 4 / 698، الرقم: 2، وأیضا في فتح الباري، 6 / 602، الرقم: 3390، والعیني في عمدۃ القاري، 16 / 128.

حضرت ابو سعید رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ کھجور کے ایک خشک تنے کے پاس قیام فرما ہو کر خطاب فرمایا کرتے تھے، تو ایک رومی شخص آیا اور عرض کیا: (یا رسول الله !) میں آپ کے لئے منبر تیار کر دیتا ہوں جس پر تشریف فرما ہو کر آپ خطاب کرسکیں گے۔ پھر (اجازت ملنے پر) اس نے یہ منبر تیار کر دیا جسے تم دیکھ رہے ہو۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب حضور نبی اکرم ﷺ اس منبر پر خطاب فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے تو کھجور کا وہ خشک تنا یوں تڑپنے لگا جیسے اونٹنی اپنے (گمشدہ) بچے کے لئے تڑپتی ہے۔ تو حضور نبی اکرم ﷺ اس منبر سے اتر کر اس کھجور کے خشک تنے کی طرف تشریف لائے، اور اسے اپنے سینے سے لگایا تو وہ پر سکون ہوگیا، پھر آپ ﷺ نے اس کے بارے میں حکم دیا کہ (اسی منبر کے نیچے) گڑھا کھود کر اسے اس میں دفن کر دیا جائے۔‘‘

اس حدیث کو امام دارمی اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

489 / 26. عَنِ الصَّعْقِ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ رضی الله عنه یَقُوْلُ: لَمَّا أَنْ قَدِمَ النَّبِيُّ ﷺ الْمَدِیْنَۃَ جَعَلَ یُسْنِدُ ظَهْرَهٗ إِلَی خَشَبَۃٍ وَیُحَدِّثُ النَّاسَ فَکَثُرُوْا حَوْلَهُ فَأَرَادَ النَّبِيُّ ﷺ أَنْ یُسْمِعَهُمْ فَقَالَ: ابْنُوْا لِي شَیْئًا أَرْتَفِعُ عَلَیْهِ. قَالُوْا: کَیْفَ یَا نَبِيَّ اللهِ ؟ قَالَ: عَرِیْشٌ کَعَرِیْشِ مُوْسٰی علیه السلام . فَلَمَّا أَنْ بَنَوْا لَهٗ. قَالَ الْحَسَنُ: حَنَّتْ وَ اللهِ الْخَشَبَۃُ. قَالَ الْحَسَنُ: سُبْحَانَ اللهِ هَلْ تَشْقَی قُلُوْبُ قَوْمٍ سَمِعُوْا قَالَ أَبُوْ مُحَمَّدٍ: یَعْنِي هٰذَا. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.

أخرجہ الدارمي في السنن، 1 / 31، الرقم: 38.

’’حضرت صعق بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت حسن رضی الله عنه کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ جب حضور نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو دورانِ خطاب اپنی پشت مبارک کھجور کے خشک تنے سے لگا لیا کرتے تھے۔ پھر آپ ﷺ کے سامعین زیادہ ہو گئے، تو آپ ﷺ نے ان سب کو اپنی آواز سنانے کا ارادہ فرمایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: میرے لئے کوئی ایسی چیز بناؤ جس پر بیٹھ کر میں لوگوں سے خطاب کر سکوں۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول الله ! وہ کیا ہو؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ایسا چبوترہ (نما تختہ) جیسا کہ حضرت موسی علیه السلام کا تھا۔ پس جب انہوں نے وہ منبر بنایا تو حضرت حسن رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ الله تعالیٰ کی قسم! وہ خشک لکڑی (فراقِ رسول ﷺ میں) زار و قطار رو پڑی۔ حضرت حسن رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ سبحان الله ! کیا ان لوگوں کے دل بدبخت ہو سکتے ہیں جنہوں نے یہ ایمان افروز واقعہ (خود دیکھا ہو اور اس خشک لکڑی کا رونا اپنے کانوں سے) سن رکھا ہو۔‘‘ اس حدیث کو امام دارمی نے روایت کیا ہے۔

490 / 27. عَنْ عَائِشَۃَ رضي الله عنها قَالَتْ: کَانَ ِلآلِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ وَحْشٌ. فَإِذَا خَرَجَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ لَعِبَ وَاشْتَدَّ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ. فَإِذَا أَحَسَّ بِرَسُوْلِ اللهِ ﷺ قَدْ دَخَلَ، رَبَضَ فَلَمْ یَتَرَمْرَمْ، مَا دَامَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فِي الْبَیْتِ، کَرَاھِیَۃَ أَنْ یُؤْذِیَهُ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ یَعْلٰی وَالطَّحَاوِيُّ.

أخرجہ أحمد بن حنبل في المسند، 6 / 112، 150، الرقم: 24862، 25210، وأبویعلی في المسند، 8 / 121، الرقم: 4660، وابن راھویہ في المسند، 3 / 617، الرقم: 1192، والطحاوي في شرح معاني الآثار، 4 / 195، والبیھقي في دلائل النبوۃ، 6 / 31، وابن عبد البر في التمہید، 6 / 314، والھیثمي في مجمع الزوائد، 9 / 3.

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنها بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی آل (یعنی اہلِ بیت) کے لئے ایک بیل رکھا گیا۔ جب حضور نبی اکرم ﷺ باہر تشریف لاتے تو وہ کھیلتا کودتا اور (خوشی سے) جوش میں آجاتا اور (حالتِ وجد میں) کبھی آگے بڑھتا اور کبھی پیچھے آتا۔ اور جب وہ یہ محسوس کرتا کہ حضور نبی اکرم ﷺ اندر تشریف لے گئے ہیں تو پھر ساکت کھڑا ہو جاتا اور کوئی حرکت نہ کرتا جب تک کہ آپ ﷺ گھر میں موجود رہتے اس ڈر سے کہ کہیں آپ ﷺ کے لیے تکلیف کا باعث نہ بنے۔‘‘

اِسے امام احمد، ابو یعلی اور طحاوی نے روایت کیا ہے۔

491 / 28. عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ عُمَیْسٍ رضي الله عنها قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ یُوْحَی إِلَیْهِ وَرَأْسُهٗ فِي حِجْرِ عَلِيٍّ رضی الله عنه فَلَمْ یُصَلِّ الْعَصْرَ حَتّٰی غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : اَللّٰھُمَّ إِنَّ عَلِیًّا فِي طَاعَتِکَ وَطَاعَۃِ رَسُوْلِکَ فَارْدُدْ عَلَیْهِ الشَّمْسَ قَالَتْ أَسْمَائُ رضي الله عنها: فَرَأَیْتُھَا غَرَبَتْ وَرَأَیْتُھَا طَلَعَتْ بَعْدَ مَا غَرَبَتْ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالطَّحَاوِيُّ وَرِجَالُهٗ رِجَالُ الصَّحِیْحِ.

رواہ الطبراني بأسانید، ورجال أحدھما رجال الصحیح غیر إبراهیم بن حسن، وھو ثقۃ، وثّقه ابن حبان، ورواه الطحاوي في مشکل الآثار (2 / 9، 4 / 388۔389) وللحدیث طرق أخری عن أسماء، وعن أبي هریرة، وعليّ ابن أبي طالب، وأبي سعید الخدري.

وقد جمع طرقه أبو الحسن الفضلي، وعبید الله بن عبد الله الحسکا المتوفی سنة (470) في (مسألة في تصحیح حدیث ردّ الشمس)، والسیوطي في (کشف اللبس عن حدیث الشمس)۔ وقال السیوطي في الخصائص (2 / 137): أخرجه ابن منده، وابن شاھین، والطبراني بأسانید بعضھا علی شرط الصحیح۔ وقال الشیباني في حدائق الأنوار (1 / 193): أخرجه الطحاوي في مشکل الحدیث والآثار۔ بإِسنادین صحیحین.

وقال الإمام النووي في شرح مسلم (12 / 52): ذکر القاضی: أن نبینا ﷺ حبست له الشمس مرّتین… ذکر ذلک الطحاوي وقال: رواته ثقات.

أخرجہ الطبراني في المعجم الکبیر، 24 / 147، الرقم: 390، والہیثمي في مجمع الزوائد، 8 / 297، والذھبي في میزان الاعتدال، 5 / 205، وابن کثیر في البدایۃ والنھایۃ، 6 / 83، والقاضي عیاض في الشفاء، 1 / 400، والسیوطي في الخصائص الکبری، 2 / 137، والحلبي في السیرۃ الحلبیۃ، 2 / 103، والقرطبي في الجامع لأحکام القرآن، 15 / 197.

’’حضرت اسماء بنت عمیس رضی الله عنها سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ پر وحی نازل ہو رہی تھی اور آپ ﷺ کا سر اقدس حضرت علی رضی الله عنه کی گود میں تھا وہ عصر کی نماز نہ پڑھ سکے یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے دعا کی: اے الله ! علی تیری اور تیرے رسول کی اطاعت میں تھا اس پر سورج واپس لوٹا دے۔ حضرت اسماء فرماتی ہیں: میں نے اسے غروب ہوتے ہوئے بھی دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ وہ غروب ہونے کے بعد دوبارہ طلوع ہوا۔‘‘

اِسے امام طبرانی اور طحاوی نے صحیح حدیث کے رجال کے ساتھ روایت کیا ہے۔

492 / 29. عَنْ دُکَیْنِ بْنِ سَعِیْدٍ الْخَثْعَمِيِّ رضی الله عنه قَالَ: أَتَیْنَا رَسُوْلَ اللهِ ﷺ وَنَحْنُ أَرْبَعُوْنَ وَأَرْبَعُ مِائَۃٍ، نَسْأَلُهُ الطَّعَامَ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ لِعُمَرَ: قُمْ فَأَعْطِهِمْ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللهِ، مَا عِنْدِي إِلَّا مَا یَقِیْظُنِي وَالصِّبْیَۃَ. قَالَ وَکِیْعٌ: الْقَیْظُ فِي کَـلَامِ الْعَرَبِ أَرْبَعَۃُ أَشْهُرٍ. قَالَ: قُمْ فَأَعْطِهِمْ. قَالَ عُمَرُ: یَا رَسُوْلَ اللهِ، سَمْعًا وَطَاعَۃً قَالَ: فَقَامَ عُمَرُ وَقُمْنَا مَعَهٗ فَصَعِدَ بِنَا إِلٰی غُرْفَۃٍ لَهٗ فَأَخْرَجَ الْمِفْتَاحَ مِنْ حُجْزَتِهٖ، فَفَتَحَ الْبَابَ. قَالَ دُکَیْنٌ: فَإِذَا فِي الْغُرْفَۃِ مِنَ التَّمْرِ شَبِیْہٌ بِالْفَصِیْلِ الرَّابِضِ قَالَ: شَأْنَکُمْ قَالَ: فَأَخَذَ کُلُّ رُجُلٍ مِنَّا حَاجَتَهٗ مَا شَائَ قَالَ: ثُمَّ الْتَفَتُّ وَإِنِيّ لَمِنْ آخِرِهِمْ وَکَأَنَّا لَمْ نَرْزَأْ مِنْهُ تَمْرَۃً.

رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ مُخْتَصَرًا وَأَحْمَدُ وَاللَّفْظُ لَهٗ. وَقَالَ الْهَیْثَمِيُّ: رِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِیْحِ.

أخرجہ أبو داود في السنن، کتاب الأدب، باب في اتخاذ الغرف، 4 / 360، الرقم: 5238، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 174، الرقم: 17612۔17616، وابن أبی عاصم في الآحاد والمثاني، 2 / 340، الرقم: 1110، وابن عبد البر في الاستیعاب، 2 / 462، الرقم: 704، والہیثمي في مجمع الزوائد، 8 / 304، والمزي في تہدیب الکمال، 8 / 492، الرقم: 1801.

’’حضرت دکین بن سعید خثعمی رضی الله عنه بیان کرتے ہیں: ہم چار سو چالیس افراد رسول الله ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے کھانے کا سوال کیا۔ حضورنبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر رضی الله عنه سے فرمایا: اٹھیں اور ان کو کھانا دیں۔ انہوں نے عرض کیا: میرے پاس صرف اتنا کھانا ہے جو میرے لیے اور بچوں کے لیے چار ماہ تک کافی ہے۔ وکیع کہتے ہیں: کلام عرب میں ’’قیظ‘‘ چار مہینوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ حضورنبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اٹھیں اور ان کو کھانا دیں۔ حضرت عمر رضی الله عنه نے عرض کیا: یا رسول الله ! میں حاضر ہوں اور حکم کی تعمیل کرتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ سیدنا عمر فاروق رضی الله عنه کھڑے ہوئے اور ہم آپ رضی الله عنه کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ پس وہ ہمیں اپنے اوپر کے کمرے میں لے گئے اور انہوں نے اپنے نیفے سے چابی نکالی اور دروازہ کھولا۔ دکین کہتے ہیں: اس کمرے میں کھجوریں تھیں جو اونٹنی کے بیٹھے ہوئے بچے کے برابر تھیں۔ دکین کہتے ہیں: ہم میں سے ہر شخص نے اپنی ضرورت کے مطابق اس میں سے کھجوریں لیں۔ راوی کہتے ہیں: پھر میں متوجہ ہوا اور میں ان سب میں آخری تھا اور ایسے محسوس ہوتا تھا گویا کہ ہم نے اس میں سے کوئی کھجور نہیں لی۔‘‘

اس حدیث کو امام ابو داود نے مختصراً اور احمد نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا کہ ان کے رجال صحیح حدیث کے رجال ہیں۔

493 / 30. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنھما قَالَ: جَائَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ کَأَنَّهٗ یُدَاوِي وَیُعَالِجُ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ، إِنَّکَ تَقُوْلُ أَشْیَائَ؛ هَلْ لَکَ أَنْ أُدَاوِیَکَ؟ قَالَ: فَدَعَاهُ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ إِلَی اللهِ ثُمَّ قَالَ: هَلْ لَکَ أَنْ أُرِیَکَ آیَۃً؟ وَعِنْدَهٗ نَخَلٌ وَشَجَرٌ. فَدَعَا رَسُوْلُ اللهِ ﷺ عِذْقًا مِنْهَا، فَأَقْبَلَ إِلَیْهِ وَهُوَ یَسْجُدُ، وَیَرْفَعُ رَأْسَهٗ وَیَسْجُدُ، وَیَرْفَعُ رَأْسَهٗ حَتَّی انْتَهَی إِلَیْهِ ﷺ، فَقَامَ بَیْنَ یَدَیْهِ. ثُمَّ قَالَ لَهٗ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : ارْجِعْ إِلٰی مَکَانِکَ. فَقَالَ الْعَامِرِيُّ: وَ اللهِ، لَا أُکَذِّبُکَ بِشَيئٍ تَقُوْلُهُ أَبَدًا، ثُمَّ قَالَ: یَا آلَ عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَۃَ، وَ اللهِ، لَا أُکَذِّبُهُ بِشَيئٍ.

رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ وَأَبُوْ یَعْلٰی وَالطَّبَرَانِيُّ وَأَبُوْ نُعَیْمٍ. وَقَالَ الْھَیْثَمِيُّ: رِجَالُهٗ رِجَالُ الصَّحِیْحِ.

أخرجہ ابن حبان في الصحیح، 14 / 454، الرقم: 6523، وأبو یعلی في المسند، 4 / 237، الرقم: 2350، والطبراني في المعجم الکبیر، 12 / 100، الرقم: 12595، وأبو نعیم في دلائل النبوۃ، 2 / 506، والہیثمي في موارد الظمآن، 1 / 520، الرقم: 2111، وأیضًا في مجمع الزوائد، 9 / 10.

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی الله عنهما بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ بنو عامر کا ایک شخص حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ شخص علاج معالجہ کرنے والا (حکیم) دکھائی دیتا تھا۔ پس اس نے کہا: اے محمد مصطفی! آپ بہت سی (نئی) چیزیں (امورِ دین میں سے) بیان کرتے ہیں۔ (پھر اس نے از راہ تمسخر کہا:) کیا آپ کو اس چیز کی حاجت ہے کہ میں آپ کا علاج کروں؟ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اسے اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف دعوت دی پھر فرمایا: کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں کوئی معجزہ دکھاؤں؟ آپ ﷺ کے آس پاس کھجور اور کچھ دیگر درخت تھے۔ آپ ﷺ نے کھجور کی ایک شاخوں والی ٹہنی کواپنی طرف بلایا، وہ ٹہنی (کھجور سے جدا ہو کر) آپ کی طرف سجدہ کرتے اور سر اٹھاتے، سجدہ کرتے اور پھر سر اٹھاتے ہوئے بڑھی یہاں تک کہ آپ ﷺ کے قریب پہنچ گئی، پھر آپ ﷺ کے سامنے کھڑی ہوگئی۔ پھر حضور نبی اکرم ﷺ نے اسے حکم دیا کہ وہ اپنی جگہ واپس چلی جائے۔ (یہ واقع دیکھ کر) قبیلہ بنو عامر کے اس شخص نے کہا: خدا کی قسم! میں کبھی بھی کسی شے میں بھی آپ کی تکذیب نہیں کروں گا جو آپ فرماتے ہیں۔ پھر اس نے برملا اعلان کرکے کہا: اے آلِ عامر بن صعصعہ اللہ کی قسم! میں انہیں (یعنی حضور نبی اکرم ﷺ ) کو آئندہ کسی چیز میں نہیں جھٹلاؤں گا۔‘‘

اس حدیث کو امام ابن حبان، ابویعلی اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا کہ اس کے رجال صحیح حدیث کے رجال ہیں۔

494 / 31. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه عَنْ أُمِّهٖ قَالَ: کَانَتْ لَهَا شَاةٌ فَجَمَعَتْ مِنْ سَمْنِهَا فِي عُکَّۃٍ، فَمَلَأَتِ الْعُکَّۃَ، ثُمَّ بَعَثَتْ بِهَا مَعَ رَبِیْبَۃَ فَقَالَتْ: یَا رَبِیْبَۃُ، أَبْلِغِي هٰذِهِ الْعُکَّۃَ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ یَأْتَدِمُ بِهَا، فَانْطَلَقَتْ بِهَا رَبِیْبَۃُ حَتّٰی أَتَتْ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللهِ، عُکَّۃُ سَمْنٍ بَعَثَتْ بِهَا إِلَیْکَ أُمُّ سُلَیْمٍ قَالَ: فَرِّغُوْا لَهَا عُکَّتَهَا، فَفُرِّغَتِ الْعُکَّۃُ، فَدُفِعَتْ إِلَیْهَا فَانْطَلَقَتْ بِهَا، فَجَائَتْ أُمُّ سُلَیْمٍ، فَرَأَتِ الْعُکَّۃَ مُمْتَلِئَۃً تَقْطُرُ. فَقَالَتْ أُمُّ سُلَیْمٍ: یَا رَبِیْبَۃُ، أَلَیْسَ أَنْ تَنْطَلِقِي بِهَا إِلٰی رَسُوْلِ اللهِ ﷺ ؟ فَقَالَتْ: قَدْ فَعَلْتُ، فَإِنْ لَمْ تُصَدِّقِیْنِي، فَانْطَلِقِي، فَسَلِي رَسُوْلَ اللهِ ﷺ، فَانْطَلَقَتْ أُمُّ سُلَیْمٍ وَمَعَهَا رَبِیْبَۃُ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللهِ، إِنِّي بَعَثْتُ إِلَیْکَ مَعَهَا بِعُکَّۃٍ فِیْهَا سَمْنٌ قَالَ: قَدْ فَعَلَتْ قَدْ جَائَتْ بِهَا فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْهُدَی وَدِیْنِ الْحَقِّ، إِنَّهَا لَمُمْتَلِئَةٌ تَقْطُرُ سَمْنًا قَالَ: فَقَالَ لَهَا رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : أَتَعْجَبِیْنَ أَنْ کَانَ اللهُ أَطْعَمَکِِ کَمَا أَطْعَمْتِ نَبِیَّهٗ. کُلِي وَأَطْعِمِي قَالَتْ: فَجِئْتُ الْبَیْتَ، فَقَسَمْتُ فِي قَعْبٍ لَنَا کَذَا وَکَذَا وَتَرَکْتُ فِیْهَا مَا ائْتَدَمْنَا مِنْهُ شَهْرًا أَوْ شَهْرَیْنِ.

رَوَاهُ أَبُوْ یَعْلٰی وَالطَّبَرَانِيُّ.

أخرجہ أبو یعلی في المسند، 7 / 217، الرقم: 4213، والطبراني في المعجم الکبیر، 25 / 120، الرقم: 293، والفریابي في دلائل النبوۃ، 1 / 39، الرقم: 14، والأصبہاني في دلائل النبوۃ، 1 / 39، الرقم: 14، والعسقلاني في الإصابۃ، 7 / 682، الرقم: 11257، والہیثمي في مجمع الزوائد، 8 / 309.

’’حضرت انس بن مالک رضی الله عنه اپنی والدہ (حضرت اُمِّ سلیم رضی الله عنها) سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے پاس ایک بکری تھی۔ انہوں نے اس بکری کا گھی ایک مشکیزے میں جمع کیا۔ پس جب وہ مشکیزہ بھر گیا تو انہوں نے نوکرانی کے ہاتھ بھیجا اور کہا: اے کنیز! اس مشکیزے کو رسول الله ﷺ کی خدمت میں پیش کرنا، آپ ﷺ اس کے ذریعے سالن بنائیں گے۔ تو وہ نوکرانی اسے لے کر رسول الله ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: یا رسول الله ! یہ گھی کا مشکیزہ آپ کی بارگاہ میں حضرت اُمِّ سلیم نے بھیجا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ان کا مشکیزہ خالی کرکے لوٹا دو۔ پس مشکیزہ خالی کر کے واپس اسے دے دیا گیا۔ وہ مشکیزہ لے کر حضرت اُمِّ سلیم کے پاس آئی۔ جب ام سلیم رضی الله عنها نے دیکھا کہ مشکیزہ (اسی طرح) بھرا ہوا ہے اور اس سے گھی ٹپک رہا ہے تو حضرت اُمِّ سلیم نے کہا: اے کنیز! کیا تم اسے لے کر رسول الله ﷺ کی بارگاہ میں نہیں گئی؟ اس نے کہا: میں نے ایسا ہی کیا (جیسے آپ نے کہا تھا) اگرآپ کو میرا یقین نہیں تو میرے ساتھ چلیں اور رسول الله ﷺ سے خود پوچھ لیں۔ تو حضرت اُمِّ سلیم گئیں اور کنیز ان کے ساتھ تھی۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول الله ! میں نے اس کے ہاتھ آپ کی خدمت میں (گھی کا) مشکیزہ بھیجا تھا جس میں گھی تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اس نے ایسا ہی کیا ہے اور یہ لے کر آئی تھی۔ پھر اُمِّ سلیم نے عرض کیا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا، یہ بھرا ہوا ہے اور اس سے اسی طرح گھی ٹپک رہا ہے۔ راوی کہتے ہیں: رسول الله ﷺ نے ان سے فرمایا: کیا تو اس بات سے تعجب کرتی ہے (حالانکہ اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں)؟ الله تعالیٰ نے تجھے کھلایا ہے جس طرح تو نے اس کے نبی کو کھلایا ہے، کھاؤ اور کھلاؤ۔ وہ کہتی ہیں: پس میں گھر آئی اور میں نے اس گھی کو مختلف پیالوں میں ڈال دیا اور کچھ اس میں رہنے دیا جس سے ہم نے ایک یا دو مہینے تک سالن بنایا۔‘‘ اس حدیث کو امام ابو یعلی اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔

495 / 32. عَنْ یَحْیَی بْنِ جَعْدَۃَ عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهٗ عَنْ أُمِّ مَالِکٍ الْأَنْصَارِیَّۃِ رضي الله عنها قَالَ: جَائَ تْ أُمُّ مَالِکٍ بِعُکَّۃِ سَمْنٍ إِلٰی رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَأَمَرَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ بِلَالًا، فَعَصَرَهَا، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَیْهَا، فَرَجَعَتْ، فَإِذَا هِيَ مَمْلُوْئَةٌ فَأَتَتِ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَتْ: أَنْزَلَ فِيَّ شَيئٌ یَا رَسُوْلَ اللهِ ؟ قَالَ: وَمَا ذَاکَ یَا أُمَّ مَالِکٍ؟ قَالَتْ: رَدَدْتَ عَلَيَّ هَدْیَتِي قَالَ: فَدَعَا بِلَالًا، فَسَأَلَهٗ عَنْ ذَالِکَ فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ، عَصَرْتُهَا حَتَّی اسْتَحْیَیْتُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : هَنِیْئًا لَکِ یَا أُمَّ مَالِکٍ، هٰذِهٖ بَرَکَةٌ عَجَّلَ اللهُ ثَوَابَهَا ثُمَّ عَلَّمَهَا أَنْ فِي دُبُرِ کُلِّ صَلَاۃٍ سُبْحَانَ اللهِ عَشْرًا وَالْحَمْدُ ِﷲِ عَشْرًا، وَ اللهُ أَکْبَرُ عَشْرًا. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَیْبَۃَ وَالطَّبَرَانِيُّ.

وَقَالَ الْهَیْثَمِيُّ: رِجَالُهٗ رِجَالُ الصَّحِیْحِ.

أخرجہ ابن أبي شیبۃ في المصنف، 6 / 322، الرقم: 31760، والطبراني في المعجم الکبیر، 25 / 145، الرقم: 351، وابن أبي عاصم في الأحاد والمثاني، 6 / 177، الرقم: 3405، والأصبہاني في دلائل النبوۃ، 1 / 39، الرقم: 15، والعسقلاني في الإصابۃ، 8 / 298، الرقم: 12238، والہیثمي في مجمع الزوائد، 8 / 309، 10 / 102.

’’حضرت یحییٰ بن جعدہ ایک شخص سے روایت کرتے ہیں جو حضرت مالک انصاریہ رضی الله عنها سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت اُمّ مالک گھی کا مشکیزہ لے کر رسول الله ﷺ کی بارگاہ میں آئی۔ تو رسول الله ﷺ نے حضرت بلال رضی الله عنه کو حکم دیا اور انہوں نے اس مشکیزے کو نچوڑ لیا اور پھر خالی کرکے اس صحابیہ کو واپس کر دیا۔ پس وہ لوٹ گئیں تو دیکھا کہ وہ بھرا ہوا ہے۔ وہ حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں دوبارہ حاضر ہوئیں اور عرض کرنے لگیں: یا رسول الله ! کیا میرے بارے میں کوئی حکم نازل ہوا ہے؟ آپ ﷺ نے پوچھا: اے اُم مالک! ایسا کیوں پوچھ رہی ہو؟ وہ عرض کرنے لگیں: آپ نے میرا ہدیہ مجھے واپس کر دیا ہے۔ راوی کہتے ہیں: آپ ﷺ نے حضرت بلال کو بلایا اور ان سے اس بارے میں پوچھا۔ حضرت بلال رضی الله عنه نے عرض کیا: (یا رسول الله!) اس ذات کی قسم جس ذات نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! میں نے اس مشکیزے کو اتنا نچوڑا تھا کہ مجھے شرم محسوس ہونے لگی تھی۔ اس پر رسول الله ﷺ نے فرمایا: اے اُمِّ مالک! تمہیں خوشخبری ہو یہ تمہارے لئے برکت ہے۔ الله تعالیٰ نے تمہیں جلد ہی اجر سے نوازا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں تعلیم دی کہ ہر نماز کے بعد دس بار ’’سبحان الله ‘‘ دس بار ’’الحمد ﷲ‘‘ اور دس بار ’’ الله أکبر‘‘ پڑھا کریں۔‘‘

اس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا کہ اس کے رجال صحیح حدیث کے رجال ہیں۔

496 / 33. عَنْ عَلِيٍّ رضی الله عنه قَالَ: جَمَعَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ أَوْ دَعَا رَسُوْلُ اللهِ ﷺ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فِیْهِمْ رَهْطٌ کُلُّهُمْ یَأْکُلُ الْجَذَعَۃَ وَیَشْرَبُ الْفَرَقَ قَالَ: فَصَنَعَ لَهُمْ مُدًّا مِنْ طَعَامٍ، فَأَکَلُوْا حَتّٰی شَبِعُوْا قَالَ: وَبَقِيَ الطَّعَامُ کَمَا هُوَ کَأَنَّهٗ لَمْ یُمَسَّ ثُمَّ دَعَا بِغُمَرٍ فَشَرِبُوْا حَتّٰی رَوَوْا وَبَقِيَ الشَّرَابُ کَأَنَّهٗ لَمْ یُمَسَّ أَوْ لَمْ یُشْرَبْ فَقَالَ: یَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، إِنِّي بُعِثْتُ لَکُمْ خَاصَّۃً وَإِلَی النَّاسِ بِعَامَّۃٍ وَقَدْ رَأَیْتُمْ مِنْ هٰذِهِ الْآیَۃِ مَا رَأَیْتُمْ، فَأَیُّکُمْ یُبَایِعُنِي عَلٰی أَنْ یَکُوْنَ أَخِي وَصَاحِبِي؟ قَالَ: فَلَمْ یَقُمْ إِلَیْهِ أَحَدٌ قَالَ: فَقُمْتُ إِلَیْهِ وَکُنْتُ أَصْغَرَ الْقَوْمِ قَالَ: فَقَالَ: اجْلِسْ قَالَ: ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ کُلُّ ذَالِکَ أَقُوْمُ إِلَیْهِ فَیَقُوْلُ لِي: اجْلِسْ حَتّٰی کَانَ فِي الثَّالِثَۃِ ضَرَبَ بِیَدِهِ عَلٰی یَدِي. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهٗ ثِقَاتٌ.

وَالنَّسَائِيُّ بِإسْنَادٍ صَحِیْحٍ وَزَادَ: ثُمَّ قَالَ: أَنْتَ أَخِي وَصَاحِبِي وَوَارِثِي وَوَزِیْرِي.

أخرجہ النسائي في السنن الکبری، 5 / 125، الرقم: 8451، وأیضًا في خصائص أمیر المؤمنین علي علیه السلام ، 1 / 83، الرقم: 66، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 159، الرقم: 1371، وفي فضائل الصحابۃ، 2 / 712، الرقم: 1220، والمقدسي في الأحادیث المختارۃ، 2 / 71، الرقم: 448، وقال: إسنادہ صحیح، وابن عساکر في تاریخ مدینۃ دمشق، 42 / 47، والمزي في تہذیب الکمال، 9 / 147، والہیثمي في مجمع الزوائد، 8 / 302، وقال: رواہ أحمد ورجالہ ثقات، وابن کثیر في تفسیر القرآن العظیم، 3 / 351.

’’حضرت علی رضی الله عنه سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو عبد المطلب کو جمع فرمایا یا انہیں بلایا وہ اتنے لوگ تھے کہ ایک پورا بکرا کھا سکتے تھے اور ایک بڑا پانی کا برتن پی سکتے تھے۔ حضرت علی رضی الله عنه کہتے ہیں: آپ ﷺ نے ان کے لیے دو مٹھیوں کے برابر کھانا تیار فرمایا یہاں تک کہ اس قوم نے سیر ہو کر کھایا۔ حضرت علی رضی الله عنه بیان کرتے ہیں: کھانا بچ گیا گویا اسے کسی نے چھوا تک نہیں تھا۔ پھر آپ ﷺ نے پیالہ منگوایا اور ان سب نے مشروب پیا یہاں تک کہ وہ سیر ہوگئے اور مشروب بچ گیا جیسا کہ اسے کسی نے چھوا نہیں تھا اور پیا ہی نہیں تھا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اے بنو عبد المطلب! میں تمہاری طرف خاص طور پر اور باقی لوگوں کی طرف عمومی طور پر مبعوث کیا گیا ہوں۔ اور تم نے یہ معجزہ دیکھا جو بھی دیکھا۔ پس تم میں سے کون ہے جو اس بات پر میری بیعت کرے کہ وہ میرا بھائی اور میرا دوست ہے؟ حضرت علی رضی الله عنه کہتے ہیں: پس آپ ﷺ کے لیے کوئی بھی کھڑا نہ ہوا۔ حضرت علی رضی الله عنه کہتے ہیں: پس میں آپ ﷺ کی خاطر کھڑا ہوا اور میں ان تمام میں کمسن تھا۔ کہتے ہیں: آپ ﷺ نے فرمایا: بیٹھ جاؤ۔ آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا۔ میں جب بھی آپ ﷺ کی خاطر کھڑا ہوتا آپ ﷺ فرماتے: بیٹھ جاؤ۔ یہاں تک کہ تیسری بار آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ پر مارا۔‘‘

اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے۔

امام نسائی نے بھی اسے سند صحیح کے ساتھ روایت کیاہے اور ان الفاظ کا اضافہ کیا کہ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اے علی! تم میرے بھائی، دوست، وارث اور وزیر ہو۔‘‘

497 / 34. عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضی الله عنه قَالَ: کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فِي غَزَاۃٍ فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللهِ، إِنَّ الْعَدُوَّ قَدْ حَضَرَ وَهُمْ شِبَاعٌ وَالنَّاسُ جِیَاعٌ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: أَ لَا نَنْحَرُ نَوَاضِحَنَا فَنُطْعِمُهَا النَّاسَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : مَنْ کَانَ مَعَهٗ فَضْلُ طَعَامٍ فَلْیَجِيئْ بِهٖ فَجَعَلَ الرَّجُلُ یَجِيئُ بِالْمَدِّ وَالصَّاعِ وَأَکْثَرَ وَأَقَلَّ فَکَانَ جَمِیْعُ مَا فِي الْجَیْشِ بِضْعًا وَعِشْرِیْنَ صَاعًا فَجَلَسَ النَّبِيُّ ﷺ إِلٰی جَنْبِهٖ وَدَعَا بِالْبَرَکَۃِ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : خُذُوْا وَلَا تَنْتَهِبُوْا فَجَعَلَ الرَّجُلُ یَأْخُذُ فِي جَرَابِهٖ وَفِي غَرَارَتِهٖ وَأَخَذُوْا فِي أَوْ عِیَتِهِمْ حَتّٰی أَنَّ الرَّجُلَ لَیَرْبِطُ کُمَّ قَمِیْصِهِ فَیَمْلَأُهُ فَفَرَغُوْا وَالطَّعَامُ کَمَا هُوَ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنِّي رَسُوْلُ اللهِ لَا یَأْتِي بِهِمَا عَبْدٌ مُحِقُّ إِلَّا وَقَاهُ اللهُ حَرَّ النَّارِ.

رَوَاهُ أَبُوْ یَعْلٰی وَرِجَالُهٗ ثِقَاتٌ.

أخرجہ أبو یعلی في المسند، 1 / 199، الرقم: 230، والہیثمي في مجمع الزوائد، 8 / 304، والحسیني في البیان والتعریف، 1 / 100، الرقم: 243.

’’حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنه بیان کرتے ہیں: ہم ایک غزوہ میں حضور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! دشمن آ پہنچا ہے، وہ لوگ سیر ہیں اور ہمارے لوگ بھوکے ہیں۔ تو انصار نے کہا: کیا ہم اپنے جانور ذبح کریں تاکہ لوگوں کو کھلائیں۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس کے پاس زائد کھانا ہے وہ اپنا کھانا لے کر آئے۔ پس کوئی آدمی مُد لاتا تو کوئی صاع لاتا (مُد اور صاع عربوں کے ہاں زمانہ قدیم میں ناپنے کے دو آلے تھے)، کوئی زیادہ لاتا کوئی کم لاتا۔ پس پورے لشکر سے سارا غلہ بیس صاع سے کچھ زیادہ جمع ہوا۔ پس حضور نبی اکرم ﷺ اس ڈھیر کے پاس بیٹھ گئے اور برکت کی دعا فرمائی۔ پھر حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس کھانے میں سے لو اور لوٹ مار نہ کرو۔ پس کوئی آدمی اسے اپنے توشہ دان میں جمع کرنے لگا، کوئی ٹوکری میں جمع کرنے لگا اور وہ اپنے برتنوں میں جمع کرنے لگے یہاں تک کہ کوئی آدمی اپنی قمیض کی آستینوں کو باندھ کر اس میں غلہ بھرنے لگا۔ پھر وہ فارغ ہوگئے اور غلہ اسی طرح پڑا تھا جیسے وہ (تقسیم سے پہلے) تھا۔ پھر حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ جب بھی کوئی بندہ ان دونوں (شہادتوں) کا اقرار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے دوزخ کی تپش سے نجات دیتا ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام ابو یعلی نے روایت کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔

498 / 35. عَنْ وَاثِلَۃَ بْنِ الْأَسْقَعِ رضی الله عنه قَالَ: کُنْتُ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّۃِ فَدَعَا رَسُوْلُ اللهِ ﷺ یَوْمًا بِقُرْصٍ فَکَسَرَهٗ فِي الْقَصْعَۃِ وَصَنَعَ فِیْهَا مَائً سُخْنًا ثُمَّ صَنَعَ فِیْهَا وَدَکًا ثُمَّ سَفْسَفَهَا ثُمَّ لَبَّقَهَا ثُمَّ صَعْنَبَهَا ثُمَّ قَالَ: اذْهَبْ فَأْتِنِي بِعَشَرَۃٍ أَنْتَ عَاشِرُهُمْ فَجِئْتُ بِهِمْ فَقَالَ: کُلُوْا وکُلُوْا مِنْ أَسْفَلِهَا وَلَا تَأْکُلُوْا مِنْ أَعْـلَاهَا فَاِنَّ الْبَرَکَۃَ تَنْزِلُ مِنْ أَعْـلَاهَا فَأَکُلُوْا مِنْهَا حَتّٰی شَبِعُوْا.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهٗ مُوَثَّقُوْنَ وَأَبُوْ دَاوُدَ طَرَفًا مِنْ آخِرِهٖ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ..

أخرجہ أبو داود في السنن، کتاب الأطعمۃ، باب ما جاء في الأکل من أعلی الصحفۃ، 3 / 348، الرقم: 3772، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 490، الرقم: 16049، والہیثمي في مجمع الزوئد، 8 / 305، وابن سلام في غریب الحدیث، 3 / 206.

’’حضرت واثلہ بن اسقع رضی الله عنه سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں: میں اہلِ صفہ میں سے تھا، ایک دن رسول الله ﷺ نے آٹے کی ایک ٹکیہ منگوائی، پھر اسے ایک بڑے برتن میں توڑا اور اس میں گرم پانی ملایا، پھراس میں روغن (یا چربی) ملائی پھر اسے چھانا، پھر اسے خوب ملایا، پھر اس کا ایک پیڑا بنایا، پھر اپ ﷺ نے فرمایا: جاؤ اور دس افراد لے کر آؤ جن میں تم دسویں ہو (یعنی اپنے علاوہ نو افراد)۔ پس میں انہیں لے کر آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: کھاؤ اور نیچے سے کھاؤ اور اوپر سے نہ کھاؤ، کیونکہ برکت اوپر سے نیچے نازل ہوتی ہے۔ پس انہوں نے اس سے کھایا یہاں تک کہ سیر ہوگئے۔‘‘

اس حدیث کو امام احمد نے ثقہ رجال کے ساتھ روایت کیا ہے اور امام ابوداود نے بھی اسے مختصراً حضرت عبد الله بن عباس رضی الله عنهما سے روایت کیا ہے۔

499 / 36. عَنْ أَبِي ھُرَیْرَۃَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ :اجْمَعْ أَصْحَابَکَ (یَعْنِي أَصْحَابَ الصُّفَّۃِ) فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُھُمْ فِي الْمَسْجِدِ رَجُـلًا رَجُـلًا أُوْقِظُھُمْ، فَأَتَیْنَا بَابَ النَّبِيِّ ﷺ، فَدَخَلْنَا، فَوُضِعَتْ بَیْنَ أَیْدِیْنَا صَحْفَةٌ فِیْهَا صَنِیْعَ قَدْرِ مُدَّي شَعِیْرٍ فَقَالَ لَنَا: کُلُوْا بِسْمِ اللهِ وَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ حِیْنَ وُضِعَتِ الصَّحْفَۃُ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِهٖ، مَا فِي آلِ مُحَمَّدٍ قِیْسَ مَا تَرَوْنَهٗ فَأَکَلْنَا حَتّٰی شَبِعْنَا وَبَقِيَ مِنْھَا بَقِیَّةٌ وَکُنَّا مَا بَیْنَ السَّبْعِیْنَ إِلَی الثَّمَانِیْنَ قِیْلَ ِلأَبِي ھُرَیْرَۃَ ص: مِثْلَ أَيِّ شَيئٍ حِیْنَ فَرَغْتُمْ مِنْھَا فَقَالَ: مِثْلَھَا حِیْنَ وُضِعَتْ إِلَّا أَنَّ فِیْھَا أَثَرُ الْأَصَابِعِ.

رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَیْبَۃَ وَالطَّبَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهٗ. وَقَالَ الْھَیْثَمِيُّ: وَرِجَالُهٗ ثِقَاتٌ.

أخرجہ ابن أبي شیبۃ في المصنف، 6 / 314، الرقم: 31711، والطبراني في المعجم الأوسط، 3 / 195، الرقم: 2907، والفریابي في دلائل النبوۃ، 1 / 45، الرقم: 13، وابن سعد في الطبقات الکبری، 1 / 256، والخطیب البغدادي في موضح أوھام الجمع والتفریق، 1 / 62، والھیثمي في مجمع الزوائد، 8 / 308.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه سے مروی ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: اپنے دوستوں (یعنی اَصحابِ صفہ) کو جمع کرو۔ پس میں مسجد میں ایک ایک آدمی کو تلاش کرنے لگا اور ان کو جگانے لگا۔ پھر ہم حضور نبی اکرم ﷺ کے دروازے پر آئے اور اس میں داخل ہو گئے۔ پس ہمارے سامنے ایک طشتری رکھ دی گئی جس میں دو مد (یعنی کم و بیش پونے تین کلو ) جَو کا بنا ہوا کھانا رکھا تھا۔ آپ ﷺ نے ہمیں فرمایا: الله کے نام سے کھاؤ۔ اور رسول الله ﷺ نے طشتری رکھتے وقت فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے! اس وقت آل محمدکے پاس اُس (کھانے) کے علاوہ کوئی شے نہیں ہے، جو تمہارے سامنے ہے۔ پس ہم نے سیر ہو کر کھایا اور اس میں سے کچھ بچ بھی گیا اور ہم 70 سے 80 افراد کے درمیان تھے۔ حضرت ابوہریرہ رضی الله عنه سے پوچھا گیا: جب تم فارغ ہوئے تو یہ کھانا کس طرح تھا؟ تو انہوں نے کہا: جب رکھا گیا تھا تو اسی کی مقدار باقی تھا سوائے اس کے کہ اس میں انگلیوں کے نشانات تھے۔‘‘

اس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ اور طبرانی نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا کہ اس حدیث کے رجال ثقہ ہیں۔

500 / 37. عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أُمِّ أَوْسٍ الْبَھْزِیَّۃِ أَنَّھَا سَلَّتْ سَمْنًا لَھَا فَجَعَلَتْهُ فِي عُکَّۃٍ ثُمَّ أَھْدَتْهُ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ، فَقَبِلَهٗ وَأَخَذَ مَا فِیْهِ وَدَعَا لَھَا بِالْبَرَکَۃِ، فَرَدُّوْھَا عَلَیْھَا وَھِيَ مَمْلُوْئَةٌ سَمْنًا، فَظَنَّتْ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ لَمْ یَقْبَلْھَا، فَجَائَتْ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ وَلَھَا صُرَاخٌ فَقَالَ: أَخْبِرُوْھَا بِالْقِصَّۃِ فَأَکَلَتْ مِنْهُ بَقِیَّۃَ عُمْرِ النَّبِيِّ ﷺ وَوِلَایَۃَ أَبِي بَکْرٍ وَ وِلَایَۃَ عُمَرَ وَوِلَایَۃَ عُثْمَانَ حَتّٰی کَانَ بَیْنَ عَلِيٍّ وَ مُعَاوِیَۃَ مَا کَانَ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهٗ وُثِّقُوْا.

أخرجہ الطبراني في المعجم الکبیر، 25 / 151، الرقم: 363، والھیثمي في مجمع الزوائد، 8 / 310.

’’حضرت اوس بن خالد رضی الله عنه اُمِ اوس بھزیہ رضی الله عنها سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے گھی نکالا اور اسے مشکیزے میں ڈال دیا، پھر اسے حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں ہدیہ کر دیا۔ آپ ﷺ نے اسے قبول فرمایا اور جو کچھ اس میں تھا وہ لے لیا، اس کے لئے برکت کی دعا فرمائی اور مشکیزہ اس کو واپس کر دیا حالانکہ یہ گھی سے بھرا ہوا تھا۔ حضرت اُمِ اوس رضی الله عنها نے خیال کیا کہ شاید آپ ﷺ نے اسے قبول نہیں فرمایا۔ پس وہ فریاد کرتے ہوئے حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: انہیں (گھی کا) قصہ بیان کر دو۔ پس یہ اس گھی سے زمانہ نبوت، حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان اور حضرت علی اور حضرت معاویہ ث کے درمیان اختلاف کے دور تک کھاتی رہیں۔‘‘

اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ قرار دیئے گئے ہیں۔

501 / 38. عَنْ مَسْعُوْدِ بْنِ خَالِدٍ رضی الله عنه قَالَ: بَعَثْتُ إِلٰی رَسُوْلِ اللهِ شَاۃً ثُمَّ ذَهَبْتُ فِيحَاجَۃٍ فَرَدَّ إِلَیْهِمْ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ شَطْرَهَا فَرَجَعْتُ إِلٰی أُمِّ خُنَاسٍ زَوْجَتِهٖ فَإِذَا عِنْدَهَا لَحْمٌ فَقُلْتُ: یَا أُمَّ خُنَاسٍ، مَا هٰذَا اللَّحْمُ؟ قَالَتْ: هٰذَا اللَّحْمُ رَدَّهُ إِلَیْنَا خَلِیْلُکَ ﷺ مِنَ الشَّاۃِ الَّتِي بَعَثْتُ بِهَا إِلَیْهِ قَالَ: مَا لَکِ لَا تُطْعِمِیْهِ عِیَالَکِ مُنْذُ غُدْوَۃٍ؟ قَالَتْ: هٰذَا سُؤْرُهُمْ وَکُلُّهُمْ قَدْ أَطْعَمْتُ وَکَانُوْا یَذْبَحُوْنَ الشَّاتَیْنِ وَالثَّـلَاثَۃَ وَلَا تَجْزِيئُ عَنْهُمْ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

أخرجہ الطبراني في المعجم الکبیر، 20 / 335، الرقم: 794، والعسقلاني في الإصابۃ، 6 / 96، الرقم: 7946، والہیثمي في مجمع الزوائد، 8 / 310.

’’حضرت مسعود بن خالد رضی الله عنه سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول الله ﷺ کی خدمت میں ایک بکری پیش کی۔ پھر میں کسی ضرورت سے آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوا۔ رسول الله ﷺ نے ہماری طرف آدھی بکری واپس لوٹا دی۔ میں اُم خُناس (یعنی اپنی زوجہ) کے پاس گیا تو ان کے پاس گوشت تھا۔ میں نے کہا: اے اُم خُناس! یہ گوشت کیسا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ گوشت آپ کے آقا ﷺ نے ہمارے پاس اس بکری میں سے واپس لوٹایا ہے جو میں نے آپ ﷺ کی خدمت میں ہدیتًا بھیجی تھی۔ انہوں نے کہا: تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم نے صبح سے اپنے گھر والوں کو یہ (گوشت) کیوں نہیں کھلایا؟ انہوں نے کہا: یہ ان کا بچا ہوا ہے اور میں نے ان تمام کو کھانا کھلا دیا ہے۔ (ان سے آدھی بکری ختم نہ ہوئی حالانکہ اس سے پہلے) وہ دو یا تین بکریاں ذبح کرتے تھے اور وہ ان کو پوری نہیں ہوتی تھیں۔‘‘

اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

502 / 39. عَنْ أَبِي رَافِعٍ رضی الله عنه قَالَ: صُنِعَ لِرَسُوْلِ اللهِ ﷺ شَاةٌ مَصْلِیَّةٌ فَأُتِيَ بِهَا فَقَالَ لِي: یَا أَبَا رَافِعٍ، نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ فَنَاوَلْتُهُ فَقَالَ: یَا أَبَا رَافِعٍ، نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ فَنَاوَلْتُهُ ثُمَّ قَالَ: یَا أَبَا رَافِعٍ، نَاوِلْنِي الزِّرَاعَ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللهِ، وَهَلْ لِلشَّاۃِ إِلَّا ذِرَاعَانِ فَقَالَ: لَوْ سَکَتَّ لَنَاوَلْتَنِي مِنْهَا مَا دَعَوْتُ بِهٖ قَالَ: وَکَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ یُعْجِبُهُ الذِّرَاعُ.

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْأَصْبَهَانِيُّ.

وَقَالَ الْهَیْثَمِيُّ: رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهٗ حَسَنٌ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهٗ ثِقَاتٌ.

503 / 40. وَزَادَ ابْنُ أَبِي عَاصِمٍ: وَإِنَّهَا صُنِعَتْ لِرَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَأَکَلَهَا وَمَعَهٗ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهٖ وَبَقِيَ مِنْهَا قَلِیْلٌ فَمَرَّ بِالنَّبِيِّ ﷺ أَعْرَابِيٌّ فَأَخَذَھَا الْأَعْرَابِيُّ فَأَکَلَهَا بِیَدِهٖ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ﷺ : ضَعْهَا، فَوَضَعَهَا ثُمَّ قَالَ: سَمِّ اللهَ وَخُذْ مِنْ أَدْنَاھَا تَشْبَعْ قَالَ: فَشَبِعَ مِنْهَا وَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ.

أخرجہ أحمد بن حنبل في المسند، 6 / 8، الرقم: 23910، وابن أبي عاصم في الآحاد والمثاني، 6 / 203، الرقم: 3434، والطبراني في المعجم الکبیر، 1 / 325، الرقم: 970، 24 / 300، الرقم:، 763، والرویاني في المسند، 1 / 465، الرقم: 700، والأصبہاني في دلائل النبوۃ، 1 / 193، الرقم: 255، وابن سعد في الطبقات الکبری، 1 / 393، والمحاملي في الأمالي، 1 / 263، الرقم: 257، والہیثمي في مجمع الزوائد، 8 / 311.

’’حضرت ابو رافع رضی الله عنه سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے بھنی ہوئی بکری تیار کی گئی اور آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کی گئی۔ آپ ﷺ نے مجھے فرمایا: اے ابو رافع! دستی لاؤ۔ میں نے آپ کو دستی پیش کی (آپ نے تناول فرمائی)۔ پھر فرمایا: دستی لاؤ۔ میں نے آپ ﷺ کو دستی پیش کی (آپ ﷺ نے وہ تناول فرمائی)۔ پھر فرمایا: مجھے دستی پیش کرو۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! بکری کی تو دو ہی دستیاں ہوتی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم خاموش رہتے تو میں نے جو خواہش کی تھی تم مجھے پیش کرتے رہتے۔ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کو دستی کا گوشت پسند تھا۔‘‘

اس حدیث کو امام احمد، طبرانی اور اصفہانی نے روایت کیا ہے۔ اور امام ہیثمی نے فرمایا کہ اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے، اس کی اسناد حسن ہے اور امام طبرانی نے بھی اسے ثقہ رجال سے روایت کیا ہے۔

’’اور امام ابن ابی عاصم نے ان الفاظ کا اضافہ فرمایا کہ یہ (بکری) رسول اللہ ﷺ کے لیے تیار کی گئی تھی۔ آپ ﷺ نے اسے تناول فرمایا اور آپ کے ساتھ صحابہ کرام بھی تھے، پھر بھی اس گوشت میں سے کچھ بچ گیا۔ حضور نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ایک اعرابی گزرا، اس نے اس گوشت کو پکڑ کر کھایا تو حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس کو رکھ دو۔ تو اس نے رکھ دیا پھر آپ ﷺ نے (اسے) فرمایا: بسم اللہ پڑھو اور نیچے سے پکڑ (کر کھاؤ) تم سیر ہو جاؤ گے۔ راوی کہتے ہیں: وہ اعرابی سیر ہو گیا اور گوشت میں سے کچھ بچ بھی گیا۔‘‘

Copyrights © 2024 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved