باب 15 :حضور ﷺ کی وسعت علم اور کمال معرفت کا بیان

بَابٌ فِي سَعَةِ عِلْمِهِ ﷺ وَکَمَالِ مَعْرِفَتِهِ

326/ 1. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی اللہ عنه أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ خَرَجَ حِيْنَ زَاغَتِ الشَّمْسُ، فَصَلَّی الظُّهْرَ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ عَلَی الْمِنْبَرِ، فَذَکَرَ السَّاعَةَ، وَذَکَرَ اَنَّ بَيْنَ يَدَيْهَا أُمُوْرًا عِظَامًا، ثُمَّ قَالَ: مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَسْأَلَ عَنْ شَيئٍ فَلْيَسْأَلْ عَنْهُ: فَوَاللهِ، لَا تَسْأَلُوْنِي عَنْ شَيئٍ إِلَّا أَخْبَرْتُکُمْ بِهِ مَا دُمْتُ فِي مَقَامِي هٰذَا‘ قَالَ أَنَسٌ: فَأَکْثَرَ النَّاسُ الْبُکَاءَ، وَأَکْثَرَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ أَنْ يَقُوْلَ: سَلُوْنِي. فَقَالَ أَنَسٌ: فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ: ايْنَ مَدْخَلِي يَا رَسُوْلَ اللهِ؟ قَالَ: النَّارُ. فَقَامَ عَبْدُ اللهِ بْنُ حُذَافَهَ فَقَالَ: مَنْ أَبِي يَا رَسُوْلَ اللهِ؟ قَالَ: أَبُوْکَ حُذَافَةُ. قَالَ: ثُمَّ أَکْثَرَ أَنْ يَقُوْلَ: سَلُوْنِي، سَلُوْنِي. فَبَرَکَ عُمَرُ عَلٰی رُکْبَتَيْهِ فَقَالَ: رَضِيْنَا بِاللهِ رَبًّا، وَبِالإِسْـلاَمِ دِيْنًا، وَبِمُحَمَّدٍ ﷺ رَسُوْلاً. قَالَ: فَسَکَتَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ حِيْنَ قَالَ عُمَرُ ذَالِکَ ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ آنِفًا فِي عُرْضِ هٰذَا الْحَائِطِ، وَأَنَا أُصَلِّي، فَلَمْ أَرَ کَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب ما یکرہ من کثرۃ السؤال وتکلف ما لا یعنیہ، 6/ 2660، الرقم: 6864، وأیضًا في کتاب مواقیت الصلاۃ، باب وقت الظھر عند الزوال، 1/ 200، الرقم: 2001، 2278، وأیضًا في کتاب العلم، باب حسن برک علی رکبتیہ عند الإمام أو المحدث، 1/ 47، الرقم: 93، وأیضًا في الأدب المفرد/ 404، الرقم: 1184، ومسلم في الصحیح، کتاب الفضائل، باب توقیرہ ﷺ وترک إکثار سؤال عما لا ضرورۃ إلیہ، 4/ 1832، الرقم: 2359، وأحمد بن حنبل في المسند، 3/ 162، الرقم: 12681، وأبو یعلی في المسند، 6/ 286، الرقم: 3201، وابن حبان في الصحیح، 1/ 309، الرقم: 106، والطبراني في المعجم الأوسط، 9/ 72، الرقم: 9155.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنه فرماتے ہیں کہ جب آفتاب ڈھلا تو حضور نبی اکرم ﷺ تشریف لائے اور ظہر کی نماز پڑھائی پھر سلام پھیرنے کے بعد آپ ﷺ منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور قیامت کا ذکر کیا اور پھر فرمایا: اس سے پہلے بڑے بڑے واقعات و حادثات ہیں، پھر فرمایا: جو شخص کسی بھی نوعیت کی کوئی بات پوچھنا چاہتا ہے تو وہ پوچھے، خدا کی قسم! میں جب تک یہاں کھڑا ہوں تم جو بھی پوچھو گے اس کا جواب دوں گا۔ حضرت انس رضی اللہ عنه بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے زار و قطار رونا شروع کر دیا۔ حضور نبی اکرم ﷺ جلال کے سبب بار بار یہ اعلان فرما رہے تھے کہ کوئی سوال کرو، مجھ سے (جو چاہو) پوچھ لو۔ حضرت انس رضی اللہ عنه کہتے ہیں کہ پھر ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! میرا ٹھکانہ کہاں ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: دوزخ میں (کیوں کہ وہ منافق تھا)۔ پھر حضرت عبد اللہ بن حذافہ رضی اللہ عنه کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا باپ کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تیرا باپ حذافہ ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنه فرماتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ بار بار فرماتے رہے مجھ سے سوال کرو، مجھ سے سوال کرو۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنه نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر عرض کیا: (یا رسول الله!) ہم الله تعالیٰ کے ربّ ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد مصطفی ﷺ کے رسول ہونے پر راضی ہیں (اور ہمیں کچھ نہیں پوچھنا)۔ راوی کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنه نے یہ گذارش کی تو حضور نبی اکرم ﷺ خاموش ہو گئے پھر آپ ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! ابھی ابھی اس دیوار کے سامنے مجھ پر جنت اور دوزخ پیش کی گئیں جبکہ میں نماز پڑھ رہا تھا تو آج کی طرح میں نے خیر اور شر کو کبھی نہیں دیکھا۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

327/ 2. وذکر ابن کثیر في قولہ تعالی: {يَا يُهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا لَا تَسْأَلُوْا عَنْ أَشْيَائَ إِنْ تُبْدَلَکُمْ تَسُؤْکُمْ} [المائدۃ، 5: 101]، عَنِ السَّدِّيِّ أَنَّهُ قَالَ: غَضِبَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ يَوْمًا مِنَ الْيَامِ فَقَامَ خَطِيْبًا فَقَالَ: سَلُوْنِي فَإِنَّکُمْ لَا تَسْأَلُوْنِي عَنْ شَيئٍ إِلَّا أَنْبَأْتُکُمْ بِهِ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ بَنِي سَهْمٍ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ حُذَافَهَ وَکَانَ يُطْعَنُ فِيْهِ فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، مَنْ أَبِي؟ فَقَالَ: أَبُوْکَ فُـلَانٌ فَدَعَهُ ِلاَبِيْهِ فَقَامَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضی اللہ عنه فَقَبَّلَ رِجْلَهُ وَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، رَضِيْنَا بِاللهِ رَبًّا وَبِکَ نَبِيًّا وَبِالْاِسْلَامِ دِيْنًا وَبِالْقُرْآنِ إِمَامًا فَاعْفُ عَنَّا عَفَا الله عَنْکَ فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتّٰی رَضِيَ…الحدیث.

ذکرہ ابن کثیر في تفسیر القرآن العظیم، 2/ 106.

’’حافظ ابن کثیر الله تعالیٰ کے اس فرمان مبارک : ’’اے ایمان والو! تم ایسی چیزوں کی نسبت سوال مت کیا کرو (جن پر قرآن خاموش ہو) کہ اگر وہ تمہارے لئے ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں مشقت میں ڈال دیں (اور تمہیں بری لگیں).‘‘ کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ امام سدی سے مروی ہے کہ ایک دن حضور نبی اکرم ﷺ (منافقین کی طعن زنی پر خفا ہو کر) جلال میں آ گئے اور آپ ﷺ خطاب کے لیے قیام فرما ہوئے اور فرمایا: مجھ سے پوچھو! پس تم مجھ سے کسی چیز کے بارے میں نہیں پوچھو گے مگر یہ کہ میں تمہیں (اسی جگہ) اس کے بارے میں بتاؤں گا۔ تو بنو سُہم میں سے قبیلہ قریش کے ایک شخص عبد الله بن حذافہ کھڑے ہوئے جن کے نسب پر لوگ طعنہ زنی کرتے تھے اور عرض کیا: یا رسول الله! میرا باپ کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تیرا باپ فلاں شخص ہے۔ آپ ﷺ نے انہیں (ان کے اپنے) باپ کے نام سے پکارا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنه کھڑے ہو گئے اور آپ ﷺ کے قدم مبارک چوم کر عرض کیا: یا رسول الله! ہم الله تعالیٰ کے ربّ ہونے، آپ کے نبی ہونے اور اسلام کے دین ہونے اور قرآن کے امام و راہنما ہونے پر راضی ہیں، ہمیں معاف فرما دیجیے۔ الله تعالیٰ آپ سے مزید راضی ہو گا۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنه مسلسل عرض کرتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ کی ناراضگی دور ہو گئی۔‘‘

328/ 3. عَنْ حُذَیفَهَ رضی اللہ عنه قَالَ: قَامَ فِيْنَا رَسُوْلُ اللهِ ﷺ مَقَامًا مَا تَرَکَ شَيْئًا يَکُوْنُ فِي مَقَامِهِ ذَالِکَ إِلٰی قِيَامِ السَّاعَةِ، إِلَّا حَدَّثَ بِهِ حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ قَدْ عَلِمَهُ أَصْحَابِي هٰؤُلَائِ وَإِنَّهُ لَيَکُوْنُ مِنْهُ الشَّيئُ قَدْ نَسِيْتُهُ فَأَرَهُ فَأَذْکُرُهُ کَمَا يَذْکُرُ الرَّجُلُ وَجْهَ الرَّجُلِ إِذَا غَابَ عَنْهُ ثُمَّ إِذَا رَهُ عَرَفَهُ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ.

أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب القدر، باب وکان أمر الله قدرًا مقدورًا، 6/ 2435، الرقم: 6230، ومسلم في الصحیح، کتاب الفتن وأشراط الساعۃ، باب إخبار النبي ﷺ فیما یکون إلی قیام الساعۃ، 4/ 2217، الرقم:2891، والترمذي مثلہ عن أبي سعید الخدري رضی اللہ عنه في السنن، کتاب الفتن، باب ما جاء أخبر النبي ﷺ أصحابہ بما ھوکائن إلی یوم القیامۃ، 4/ 483، الرقم: 2191، وأبو داود في السنن، کتاب الفتن والملاحم، باب ذکر الفتن ودلائلھا، 4/ 94، الرقم:4240، وأحمد بن حنبل في المسند، 5/ 385، الرقم: 23322، والبزار في المسند، 7/ 231، الرقم: 8499، وقال: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ، والطبراني مثلہ عن أبي سعید الخدري رضی اللہ عنه في مسند الشامیین، 2/ 247، الرقم: 1278، والخطیب التبریزي في مشکاۃ المصابیح، 2/ 278، الرقم: 5379.

’’حضرت حذیفہ رضی اللہ عنه روایت بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ہمارے درمیان ایک مقام پر کھڑے ہو کر خطاب فرمایا: آپ ﷺ نے اپنے اس دن کے قیام فرما ہونے سے لے کر قیامت تک کی کوئی ایسی چیز نہ چھوڑی، جس کو آپ ﷺ نے بیان نہ فرما دیا ہو۔ جس نے اسے یاد رکھا یاد رکھا اورجو اسے بھول گیا سو بھول گیا۔ اس واقعہ کو میرے دوست و احباب جانتے ہیں، بعض چیزوں کو میں بھول گیا تھا لیکن جب میں نے انہیں دیکھا تو وہ یاد آ گئیں۔ جس طرح کوئی شخص کسی شخص کا چہرہ بھول جاتا ہے اور جب وہ سامنے آتا ہے تو اسے پہچان لیتا ہے۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے مذکورہ الفاظ مسلم کے ہیں۔

329/ 4. عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنه قَالَ: لَمَّا فُتِحَتْ خَيْبَرُ اهْدِيَتْ لِلنَّبِيِّ ﷺ شَاۃٌ فِيْهَا سُمٌّ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : اجْمَعُوْا إِلَيَّ مَنْ کَانَ هَهُنَا مِنْ يَهُوْدَ فَجُمِعُوْا لَهُ فَقَالَ: إِنِّي سَائِلُکُمْ عَنْ شَيئٍ فَهَلْ اَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْهُ؟ فَقَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ ﷺ : مَنْ اَبُوْکُمْ؟ قَالُوْا: فُـلَانٌ فَقَالَ: کَذَبْتُمْ بَلْ اَبُوْکُمْ فُـلَانٌ، قَالُوْا: صَدَقْتَ، قَالَ: فَهَلْ اَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْ شَيئٍ إِنْ سَاَلْتُ عَنْهُ، فَقَالُوْا: نَعَمْ يَا اَبَا الْقَاسِمِ، وَإِنْ کَذَبْنَا عَرَفْتَ کَذِبَنَا کَمَا عَرَفْتَهُ فِي اَبِيْنَا فَقَالَ لَهُمْ: مَنْ اَهْلُ النَّارِ؟ قَالُوْا: نَکُوْنُ فِيْهَا يَسِيْرًا ثُمَّ تَخْلُفُوْنَا فِيْهَا فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : اخْسَئُوْا فِيْهَا وَاللهِ، لَا نَخْلُفُکُمْ فِيْهَا اَبَدًا ثُمَّ قَالَ: هَلْ اَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْ شَيئٍ إِنْ سَاَلْتُکُمْ عَنْهُ فَقَالُوْا: نَعَمْ يَا اَبَا الْقَاسِمِ، قَالَ: هَلْ جَعَلْتُمْ فِي هٰذِهِ الشَّةِ سُمًّا؟ قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: مَا حَمَلَکُمْ عَلٰی ذَالِکَ قَالُوْا: اَرَدْنَا إِنْ کُنْتَ کَاذِبًا نَسْتَرِيْحُ وَإِنْ کُنْتَ نَبِيًّا لَمْ يَضُرَّکَ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِميُّ وَأَحْمَدُ.

اخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب الجزیۃ، باب إذا غدر المشرکون بالمسلمین ہل یعفی عنہم، 3/ 1156، الرقم: 2998، وأیضًا في کتاب الطب، باب ما یذکر في سم النبي ﷺ ، 5/ 2178، وأبو داود في السنن، کتاب الدیات، باب فیمن سقی رجلا سمًّا أو أطعمہ فمات أیقاد منہ، 4/ 174، الرقم: 4512، والدارمي في السنن، 1/ 47، الرقم: 69، وأحمد بن حنبل في المسند، 2/ 451، الرقم: 9826، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 5/ 41، الرقم: 23520، وعبد الرزاق في المصنف، 6/ 66، الرقم: 10019، وأیضًا،11/ 28، الرقم: 19814، والطبراني في المعجم الکبیر، 19/ 70، الرقم: 137، وابن سعد في الطبقات الکبری، 1/ 172.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنه سے روایت ہے کہ جب خیبر فتح ہوا تو (یہود کی جانب سے) حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں (بھنی ہوئی) بکری (کا گوشت) بطور ہدیہ پیش کیا گیا، جس میں زہر ملایا گیا تھا۔آپ ﷺ نے فرمایا: جتنے یہودی یہاں موجود ہیں ان سب کو میرے پاس بلاؤ۔ انہیں بلا لیا گیا۔ تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: میں تم سے ایک بات دریافت کرنا چاہتا ہوں، کیا تم صحیح جواب دوگے؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: تمہارا والد کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ فلاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم جھوٹ بول رہے ہو، تمہارے والد کا نام تو فلاں ہے۔ وہ کہنے لگے، آپ ﷺ نے سچ فرمایا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اگر میں تم سے کوئی بات پوچھوں تو کیا تم صحیح جواب دو گے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں اے ابو القاسم! اگر ہم نے غلط بیانی سے بھی کام لیا تو آپ ہمارے جھوٹ سے اسی طرح آگاہ ہو جائیں گے جیسے ہمارے والد کے بارے میں آپ کو معلوم ہو گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جہنمی کون ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: کچھ دن تو ہم دوزخ میں رہیں گے اور پھر ہمارے بعد آپ لوگ (یعنی مسلمان) اس میں رہیں گے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: (ہمیشہ) تم لوگ ہی اس میں ذلت اٹھاتے رہوگے۔ اور خدا کی قسم! ہم (اہل اسلام) تو کبھی بھی اس میں تمہارے جانشین نہیں بنیں گے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اگر میں تم سے کوئی بات پوچھوں تو سچ سچ بتاؤ گے؟ وہ کہنے لگے: جی ہاں اے ابو القاسم! تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: کیا تم نے بکری کے اس گوشت میں زہر ملایا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیں اس بات پر کس چیز نے اُبھارا؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس سے ہم نے یہ ارادہ کیا کہ اگر آپ جھوٹے ہیں تو ہماری آپ سے گلو خلاصی ہو جائے گی اور اگر آپ سچے نبی ہیں تو زہر آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔‘‘

اِس حدیث کو امام بخاری، ابو داود، درامی اور اَحمدنے روایت کیا ہے۔

330/ 5. عَنْ عُمَرَ رضی اللہ عنه يَقُوْلُ: قَامَ فِيْنَا النَّبِيُّ ﷺ مَقَامًا، فَأَخْبَرَنَا عَنْ بَدْئِ الْخَلْقِ حَتّٰی دَخَلَ أَھْلُ الْجَنَّةِ مَنَازِلَهُمْ وَأَھْلُ النَّارِ مَنَازِلَهُمْ، حَفِظَ ذَالِکَ مَنْ حَفِظَهُ وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

أخرجہ البخاري في الصحیح،کتاب بدء الخلق، باب ما جاء في قول الله تعالی: وھو الذي یبدأ الخلق ثم یعیدہ وھوأھون علیہ، 3/ 1166، الرقم: 3020.

’’حضرت عمر رضی اللہ عنه روایت بیان کرتے ہیں کہ ایک روز حضور نبی اکرم ﷺ ہمارے درمیان قیام فرما ہوئے اور آپ ﷺ نے مخلوقات کی ابتدا سے لے کر جنتیوں کے جنت میں داخل ہو جانے اور دوزخیوں کے دوزخ میں داخل ہو جانے تک ہمیں سب کچھ بتا دیا۔ جس نے اسے یاد رکھا، یاد رکھا اور جو اسے بھول گیا سو وہ بھول گیا۔‘‘

اِس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

331/ 6. عَنْ أَنَسٍ رضی اللہ عنه أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ نَعَی زَيْدًا وَجَعْفَرًا وَابْنَ رَوَاحَهَ رضوان اللہ علیهم اجمعین لِلنَّاسِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَهُمْ خَبَرُهُمْ، فَقَالَ: أَخَذَ الرَّيَهَ زَيْدٌ فَأُصِيْبَ، ثُمَّ أَخَذَ جَعْفَرٌ فَأُصِيْبَ، ثُمَّ أَخَذَ ابْنُ رَوَاحَهَ فَأُصِيْبَ. وَعَيْنَهُ تَذْرِفَانِ حَتّٰی أَخَذَ الرَّيَهَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوْفِ اللهِ، حَتّٰی فَتَحَ الله عَلَيْهِمْ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ.

أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب المغازي، باب غزوۃ مؤتہ من أرض الشام، 4/ 1554، الرقم: 4014، وأیضًا في کتاب الجنائز، باب الرجل ینعی إلی أھل المیت بنفسہ، 1/ 420، الرقم: 1189، وأیضًا في کتاب الجھاد، باب تمنی الشھادۃ، 3/ 1030، الرقم: 2645، وأیضًا في باب من تأمر في الحرب من غیر إمرۃ إذا خاف العدو، 3/ 1115، الرقم: 2898، وأیضًا في کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ في الإسلام، 3/ 1328، الرقم: 3431، وأیضًا في کتاب فضائل الصحابۃ، باب مناقب خالد بن الولید ص، 3/ 1372، الرقم: 3547، ونحوہ النسائي في السنن الکبری، 5/ 180، الرقم: 8604، وأحمد بن حنبل في المسند، 1/ 204، الرقم: 1750، والطبراني في المعجم الکبیر، 2/ 105، الرقم: 1459.1461، والحاکم في المستدرک، 3/ 337، الرقم: 5295، وقال: هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ اْلإِسْنَادِ.

’’حضرت انس رضی اللہ عنه روایت فرماتے ہیں کہ (جنگِ موتہ کے موقع پر) حضور نبی اکرم ﷺ نے حضرت زید، حضرت جعفر اور حضرت عبد الله بن رواحہ رضوان اللہ علیهم اجمعین کے متعلق خبر آنے سے پہلے ہی اُن کے شہید ہو جانے کے متعلق لوگوں کو بتا دیا تھا چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: اب جھنڈا زید نے سنبھالا ہوا ہے لیکن وہ شہید ہوگئے۔ اب جعفر نے جھنڈا سنبھال لیا ہے اور وہ بھی شہید ہوگئے۔ اب ابن رواحہ نے جھنڈا سنبھالا ہے اور وہ بھی جامِ شہادت نوش کر گئے۔ یہ فرماتے ہوئے آپ ﷺ کی چشمانِ مبارک اشک بار تھیں۔ (پھر آپ ﷺ نے فرمایا:) یہاں تک کہ اب اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار (یعنی خالد بن ولید) نے جھنڈا سنبھال لیاہے اُس کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ نے کافروں پر فتح عطا فرمائی ہے۔‘‘

اِس حدیث کو امام بخاری، نسائی اور اَحمد نے روایت کیا ہے۔

332/ 7. عَنْ عَمْرِو بْنِ اَخْطَبَ رضی اللہ عنه قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللهِ ﷺ الْفَجْرَ. وَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتّٰی حَضَرَتِ الظُّهْرُ، فَنَزَلَ فَصَلّٰی ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ. فَخَطَبَنَا حَتّٰی حَضَرَتِ الْعَصْرُ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلّٰی ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ. فَخَطَبَنَا حَتّٰی غَرَبَتِ الشَّمْسُ، فَاَخْبَرَنَا بِمَا کَانَ وَبِمَا هُوَ کَائِنٌ قَالَ: فَأَعْلَمُنَا أَحْفَظُنَا.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ وَأَبُوْ يَعْلٰی.

وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: وَفِي الْبَابِ عَنْ حُذَيْفَهَ وَأَبِي مَرْيَمَ وَأَبِي زَيْدِ بْنِ أَخْطَبَ وَالْمُغِيْرَةِ ابْنِ شُعْبَهَ وَذَکَرُوْا أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ حَدَّثَهُمْ بِمَا هُوَ إِلٰی أَنْ تَقُوْمَ السَّاعَةُ. وَهٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ. وَقَالَ الْحَاکِمُ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.

أخرجہ مسلم في الصحیح، کتاب الفتن وأشراط الساعۃ، باب إخبار النبي ﷺ فیما یکون إلی قیام الساعۃ، 4/ 2217، الرقم: 2892، والترمذي في السنن، کتاب الفتن، باب ما جاء ما أخبر النبي ﷺ أصحابہ بما ھوکائن إلی یوم القیامۃ، 4/ 483، الرقم: 2191، وابن حبان في الصحیح، 15/ 9، الرقم: 6638، والحاکم في المستدرک، 4/ 533، الرقم: 8498، وأبو یعلی في المسند، 12/ 237، الرقم: 2844، والطبراني في المعجم الکبیر، 17/ 28، الرقم: 46، وابن أبي عاصم في الاحاد والمثاني، 4/ 199، الرقم: 2183.

’’حضرت عمرو بن اَخطب انصاری رضی اللہ عنه بیان فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے نمازِ فجر میں ہماری امامت فرمائی اور منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور ہم سے خطاب فرمایا یہاں تک کہ نمازِ ظہر کا وقت ہوگیا، پھر آپ ﷺ منبر سے نیچے تشریف لے آئے نماز ظہر پڑھائی بعد ازاں پھر منبر پر تشریف فرما ہوئے اور ہم سے خطاب فرمایا حتی کہ نمازِ عصر کا وقت ہو گیا پھر آپ ﷺ منبر سے نیچے تشریف لائے اور نماز عصر پڑھائی اور منبر پر تشریف فرما ہوئے۔ یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔پھر آپ ﷺ نے ہمیں ہر اس بات کی خبر دے دی جو آج تک وقوع پذیر ہو چکی تھی اور جو قیامت تک رونما ہونے والی تھی۔ حضرت عمرو بن اخطب رضی اللہ عنه فرماتے ہیں ہم میں زیادہ جاننے والا وہی ہے جو ہم میں سب سے زیادہ حافظہ والا تھا۔‘‘

اِس حدیث کو امام مسلم، ترمذی ابن حبان اور ابو یعلی نے روایت کیا ہے۔

امام ترمذی نے فرمایا: مذکورہ حدیث کے باب میں حضرت حذیفہ، ابو مریم، ابو زید بن اخطب، اور مغیرہ بن شعبہ سے بھی روایات موجود ہیں۔ ان تمام صحابہ رضوان اللہ علیهم اجمعین نے بیان کیا: حضور نبی اکرم ﷺ نے انہیں وہ سب کچھ بتا دیا تھا جو قیامت تک ہونے والا ہے اور یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ امام حاکم نے بھی فرمایا: اس حدیث کی سند صحیح ہے۔

333/ 8. عَنْ حُذَيْفَهَ رضی اللہ عنه أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي رَسُوْلُ اللهِ ﷺ بِمَا هُوَ کَائِنٌ إِلٰی أَنْ تَقُوْمَ السَّاعَةُ. فَمَا مِنْهُ شَيئٌ إِلاَّ قَدْ سَأَلْتُهُ إِلَّا أَنِّي لَمْ أَسْأَلْهُ مَا يُخْرِجُ أَھْلَ الْمَدِيْنَةِ مِنَ الْمَدِيْنَةِ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَابْنُ مَنْدَہ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الْإِسْنَادِ.

أخرجہ مسلم في الصحیح، کتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب إخبار النبي ﷺ فیما یکون إلی قیام الساعۃ، 4/ 2217، الرقم: 2891، وأحمد بن حنبل في المسند، 5/ 386، الرقم: 23329، والطیالسي في المسند، 1/ 58، الرقم: 433، وابن مندہ فيکتاب الإیمان، 2/ 912، الرقم: 996، وإسنادہ صحیح، والحاکم في المستدرک، 4/ 472، الرقم: 8311، والبزار في المسند، 7/ 222، الرقم: 2795، والمقریٔ في السنن الواردۃ في الفتن، 4/ 889، الرقم: 458.

’’حضرت حذیفہ رضی اللہ عنه بیان فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے مجھے قیامت تک رونما ہونے والی ہر ایک بات بتا دی تھی اور کوئی ایسی بات نہ رہی جسے میں نے آپ ﷺ سے پوچھا نہ ہو البتہ میں نے یہ نہ پوچھا کہ اہلِ مدینہ کو کون سی چیز مدینہ سے نکالے گی؟‘‘

اِس حدیث کو امام مسلم، اَحمد اور ابن مندہ نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا: اِس حدیث کی سند صحیح ہے۔

334/ 9. عَنْ أَنَسٍ رضی اللہ عنه في روایۃ طویلۃ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ شَاوَرَ، حِيْنَ بَلَغَنَا إِقْبَالُ أَبِي سُفْيَانَ، وَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَهَ رضی اللہ عنه فَقَالَ: يَانَا تُرِيْدُ؟ يَا رَسُوْلَ اللهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نُخِيْضَهَا الْبَحْرَ لَاَخَضْنَهَا. وَلَوْ اَمَرْتَنَا أَنْ نَضْرِبَ أَکْبَادَهَا إِلٰی بَرْکِ الْغِمَادِ لَفَعَلْنَا. قَالَ: فَنَدَبَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ النَّاسَ، فَانْطَلَقُوْا حَتّٰی نَزَلُوْا بَدْرًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : هٰذَا مَصْرَعُ فُـلَانٍ قَالَ: وَيَضَعُ يَدَهُ عَلَی الْاَرْضِ، هَهُنَا وَهَهُنَا. قَالَ: فَمَا مَاطَ أَحَدُهُمْ عَنْ مَوْضِعِ يَدِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ.

أخرجہ مسلم في الصحیح، کتاب الجھاد والسیر، باب غزوۃ بدر، 3/ 1403، الرقم: 1779، ونحوہ في کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا وأھلھا، باب عرض مقعد المیت من الجنۃ أو النار علیہ وإثبات عذاب القبر والتعوذ منہ، 4/ 2202، الرقم: 2873، وأبو داود في السنن، کتاب الجھاد، باب في الأسیر ینال منہ ویضرب ویقرن، 3/ 58، الرقم: 2071، والنسائي في السنن، کتاب الجنائز، باب أرواح المؤمنین، 4/ 108، الرقم: 2074، وأیضًا في السنن الکبری، 1/ 665، الرقم؛ 2201، وأحمد بن حنبل في المسند، 3/ 219، الرقم: 13320، وأبو یعلی في المسند،1/ 130، الرقم: 140، 6/ 69، الرقم: 3322، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 7/ 362، الرقم: 36708، وابن حبان في الصحیح، 11/ 24، الرقم: 4722، والبزار في المسند، 1/ 340، الرقم: 222، والطبراني في المعجم الأوسط، 8/ 219، الرقم: 8453، وأیضًا في المعجم الصغیر، 2/ 233، الرقم: 1085، وابن الجوزي في صفوۃ الصفوۃ، 1/ 102.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنه بیان فرماتے ہیں کہ جب ہمیں ابو سفیان کے (قافلہ کی شام سے واپس) آنے کی خبر پہنچی تو حضور نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام سے مشورہ فرمایا۔ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنه نے کھڑے ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ہماری رائے جاننا چاہتے ہیں تو (عرض ہے کہ) اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! اگر آپ ہمیں سمندر میں گھوڑے ڈالنے کا حکم دیں تو ہم سمندر میں بھی گھوڑے ڈال دیں گے، اگر آپ ہمیں برک الغمادپہاڑ سے گھوڑوں کے سینے ٹکرانے کا حکم دیں تو ہم ایسا بھی کریں گے۔ تب آپ ﷺ نے لوگوں کو بلایا لوگ آئے اور وادی بدر میں اُترے۔ پھر حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ فلاں کافر کے (قتل ہو کر) گرنے کی جگہ ہے، آپ ﷺ زمین پر اس جگہ اور کبھی اُس جگہ دستِ اقدس رکھتے۔ حضرت انس رضی اللہ عنه کہتے ہیں کہ پھر (دوسرے دن) کوئی کافر حضور نبی اکرم ﷺ کی بتائی ہوئی جگہ سے ذرا برابر بھی ادھر ادھر نہیں مرا۔‘‘

اِس حدیث کو امام مسلم، ابو داود، نسائی اور اَحمد نے روایت کیا ہے۔

335/ 10. عَنْ أَبِي هُرَيْرَهَ رضی اللہ عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : لَقَدْ رَيْتُنِي فِي الْحِجْرِ، وَقُرَيْشٌ تَسْأَلُنِي عَنْ مَسْرَايَ، فَسَأَلَتْنِي عَنْ أَشْيَائَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ لَمْ أُثْبِتْهَا، فَکُرِبْتُ کُرْبَةً مَا کُرِبْتُ مِثْلَهُ قَطُّ، قَالَ: فَرَفَعَهُ الله لِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ. مَا يَسْأَلُوْنِي عَنْ شَيئٍ إِلَّا أَنْبَأْتُهُمْ بِهِ. وَقَدْ رَيْتُنِي فِي جَمَاعَةٍ مِنَ الْاَنْبِيَائِ، فَإِذَا مُوْسٰی عليه السلام قَائِمٌ يُصَلِّي، فَإِذَا رَجُلٌ ضَرْبٌ جَعْدٌ کَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوْئَهَ. وَإِذَا عِيْسَی بْنُ مَرْيَمَ عليه السلام قَائِمٌ يُصَلِّي، أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُوْدٍ الثَّقَفِيُّ. وَإِذَا إِبْرَهِيْمُ عليه السلام قَائِمٌ يُصَلِّي، أَشْبَهُ النَّاسِ بِهِ صَاحِبُکُمْ (يَعْنِي نَفْسَهُ) فَحَانَتِ الصَّلَةُ فَاَمَمْتُهُمْ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنَ الصَّلَةِ، قَالَ قَائِلٌ: يَا مُحَمَّدُ، هٰذَا مَالِکٌ صَاحِبُ النَّارِ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ. فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ فَبَدَأَنِي بِالسَّـلَامِ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ وَأَبُوْ عَوَانَهَ.

أخرجہ مسلم في الصحیح، کتاب الإیمان، باب ذکر المسیح ابن مریم والمسیح الدجال، 1/ 156، الرقم: 172، والنسائي في السنن الکبری، 6/ 455، الرقم: 11480، وأبو عوانۃ في المسند، 1/ 116 الرقم: 350، وأبو نعیم في المسند المستخرج، 1/ 239، الرقم: 433، والعسقلاني في فتح الباري، 6/ 487.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنه سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں حطیمِ کعبہ میں موجود تھا اور قریش مجھ سے سفرِ معراج کے بارے میں سوالات کر رہے تھے۔ انہوں نے مجھ سے بیت المقدس کی کچھ چیزیں پوچھیں جنہیں میں نے (یاد داشت میں) محفوظ نہیں رکھا تھا جس کی وجہ سے میں اتنا پریشان ہوا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا پریشان نہیں ہوا تھا، تب الله تعالیٰ نے بیت المقدس کو اُٹھا کر میرے سامنے رکھ دیا۔ وہ مجھ سے بیت المقدس کے متعلق جو بھی چیز پوچھتے میں (اسے دیکھ دیکھ کر) انہیں بتا دیتا اور (سفرِ معراج کے دوران) میں نے خود کو گروهِ انبیائے کرام علیہم السلام میں پایا۔ میں نے دیکھا کہ حضرت موسیٰ عليه السلام کھڑے مصروفِ صلاۃ تھے، اور وہ قبیلہ شنوء ہ کے لوگوں کی طرح گھنگریالے بالوں والے تھے اور پھر (دیکھا کہ) حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کھڑے مصروفِ صلاۃ تھے اور عروہ بن مسعود ثقفی ان سے بہت مشابہ ہیں، اور پھر دیکھا کہ حضرت ابراہیم عليه السلام کھڑے مصروفِ صلاۃ تھے اور تمہارے آقا (یعنی خود حضور ﷺ ) ان کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہ ہیں پھر نماز کا وقت آیا، اور میں نے ان سب انبیائے کرام علیہم السلام کی امامت کرائی۔ جب میں نماز سے فارغ ہوا تو مجھے ایک کہنے والے نے کہا: یہ مالک ہیں جو جہنم کے داروغہ ہیں، انہیں سلام کیجیے۔ پس میں ان کی طرف متوجہ ہوا تو انہوں نے پہلے بڑھ کر مجھے سلام کیا۔‘‘

اِس حدیث کو امام مسلم، نسائی اور ابو عوانہ نے روایت کیا ہے۔

336/ 11. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی اللہ عنه قَالَ: إِنَّ رَجُـلًا کَانَ يَکْتُبُ لِلنَّبِيِّ ﷺ وَقَدْ قَرَأَ الْبَقَرَهَ وَآلَ عِمْرَانَ وَکَانَ الرَّجُلُ إِذَا قَرَأَ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ جَدَّ فِيْنَا يَعْنِي عَظُمَ…فَارْتَدَّ ذَالِکَ الرَّجُلِ عَنِ الإِسْـلَامِ، فَلَحِقَ بِالْمُشْرِکِيْنَ، وَقَالَ: أَنَا أَعْلَمُکُمْ إِنْ کُنْتُ لَاَکْتُبُ مَا شِئْتُ فَمَاتَ ذَالِکَ الرَّجُلُ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : إِنَّ الْاَرْضَ لَمْ تَقْبَلْهُ، وَقَالَ أَنَسٌ ص: فَحَدَّثَنِي أَبُوْ طَلْحَهَ رضی اللہ عنه أَنَّهُ أَتَی الْاَرْضَ الَّتِي مَاتَ فِيْهَا ذَالِکَ الرَّجُلُ فَوَجَدَهُ مَنْبُوْذًا، فَقَالَ أَبُوْ طَلْحَهَ: مَا شَأْنُ هٰذَا الرَّجُلِ؟ فَقَالُوْا: قَدْ دَفَنَّهُ مِرَارًا فَلَمْ تَقْبَلْهُ الْاَرْضُ.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَاللَّفْظُ لَهُ.

أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ في الإسلام، 3/ 1325، الرقم: 3421، ومسلم في الصحیح، کتاب صفات المنافقین وأحکامھم، 4/ 2145، الرقم: 2781، وأحمد بن حنبل في المسند، 3/ 120،245، الرقم: 12236، 13348، وأبو یعلی في المسند، 7/ 22، الرقم: 3919، وابن حبان في الصحیح، 3/ 19، الرقم: 744، وعبد بن حمید في المسند، 1/ 381، الرقم: 1278، والبیہقي في السنن الصغری، 1/ 568، الرقم: 1054، وأیضًا في إثبات عذاب القبر، 1/ 56، الرقم: 54، والخطیب التبریزي في مشکاۃ المصابیح، 2/ 387، الرقم: 5798، وأبو المحاسن في معتصر المختصر، 2/ 188، والعیني في عمدۃ القاري، 16/ 150، الرقم: 121.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنه روایت بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی جو حضور نبی اکرم ﷺ کے لیے کتابت کیا کرتا تھا اور اس آدمی نے سورہ بقرہ اور آل عمران پڑھ رکھی تھی، اور جس کسی آدمی نے سورہ بقرہ اور آل عمران پڑھ رکھی ہوتی تھی، تو وہ ہم میں نہایت معزز گردانا جاتا تھا … وہ شخص اسلام سے مرتد ہو گیا اور مشرکوں سے جا ملا اور ان سے کہنے لگا کہ میں تم میں سب سے زیادہ جاننے والا ہوں میں محمد مصطفی (ﷺ) کے لیے جو چاہتا لکھ دیتا تھا سو جب وہ شخص مر گیا تو حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسے زمین قبول نہیں کرے گی۔ حضرت انس رضی اللہ عنه فرماتے ہیں کہ انہیں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنه نے بتایا کہ وہ اس جگہ آئے جہاں وہ شخص مرا تھا تو دیکھا اس کی لاش زمین پر باہر پڑی تھی۔ انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ اس شخص کے ساتھ کیا معاملہ ہوا ہے؟ تو لوگوں نے بتایا کہ ہم نے اسے کئی بار دفن کیا ہے مگر زمین نے اسے قبول نہیں کیا (اور جب بھی اسے دفن کیا گیا تو زمین نے ہر بار اسے باہر نکال پھینکا)۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری، مسلم اور اَحمد نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔

337/ 12. عَنْ جَابِرٍ رضی اللہ عنه اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَلَمَّا کَانَ قُرْبَ الْمَدِینَةِ هَاجَتْ رِيْحٌ شَدِيْدَۃٌ تَکَادُ اَنْ تَدْفِنَ الرَّاکِبَ فَزَعَمَ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: بُعِثَتْ هٰذِهِ الرِّيْحُ لِمَوْتِ مُنَافِقٍ فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِيْنَهَ فَإِذَا مُنَافِقٌ عَظِيْمٌ مِنَ الْمُنَافِقِيْنَ قَدْ مَاتَ.

رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَأَبُوْ يَعْلٰی وَابْنُ حِبَّانَ.

أخرجہ مسلم في الصحیح، کتاب صفات المنافقین وأحکامہم، 4/ 2145، الرقم: 2782، وأحمد بن حنبل في المسند،3/ 315، 346، الرقم: 14418، 14774، وأبو یعلی في المسند، 4/ 201، الرقم: 2307، وابن حبان في الصحیح، 14/ 426، الرقم: 6500، وأبو نعیم في حلیۃ الأولیائ، 4/ 79.

’’حضرت جابر رضی اللہ عنه روایت بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ ایک سفر سے واپس تشریف لائے، جب مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو اس قدر زور سے آندھی چلی (اور ریت اُڑی) کہ سوار زمین میں دھنسنے کے قریب ہو گیا، حضرت جابر رضی اللہ عنه بیان کرتے ہیں کہ شاید حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ آندھی کسی منافق کی موت کے لیے بھیجی گئی ہے، جب آپ مدینہ منورہ پہنچے تو منافقوں میں سے ایک بہت بڑا منافق مر چکا تھا۔‘‘

اِسے امام مسلم، اَحمد، ابو یعلی اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔

338/ 13. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنہما، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: أَتَانِي رَبِّي فِي أَحْسَنِ صُوْرَةٍ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، قُلْتُ: لَبَّيْکَ وَسَعْدَيْکَ. قَالَ: فِيْمَ يَخْتَصِمُ الْمَـلَا الْاَعْلٰی؟ قُلْتُ: رَبِّي لَا أَدْرِي، فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ کَتِفَيَّ، حَتّٰی وَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ، فَعَلِمْتُ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ يَعْلٰی. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.

339/ 14. وفي روایۃ عنہ: قَالَ: فَعَلِمْتُ مَا فِي السَّمٰوَاتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ وَتَلاَ: {وَکَذَالِکَ نُرِي إِبْرَهِيْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ وَلِيَکُوْنَ مِنَ الْمُؤْقِنِيْنَ} [الأنعام، 6:75].

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ.

340/ 15. وفي روایۃ: عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضی الله عنه قَالَ: فَتَجَلّٰی لِي کُلُّ شَيئٍ وَعَرَفْتُ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ.

وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

341/ 16. وفي روایۃ: عَنْ أَبِي أُمَامَهَ رضی اللہ عنه قَالَ: فَعَلِمْتُ فِي مَقَامِي ذَالِکَ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالرَّوْيَانِيُّ.

342/ 17. وفي روایۃ: فَعَلِمْتُ مِنْ کُلِّ شَيئٍ وَبَصَرْتُهُ.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

343/ 18. وفي روایۃ: عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَهَ رضی اللہ عنه قَالَ: فَمَا سَأَلَنِي عَنْ شَيئٍ إِلَّا عَلِمْتُهُ.

رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَهَ وَابْنُ أَبِي عَاصِمٍ. إِسْنَادُهُ حَسَنٌ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

اخرجہ الترمذي في السنن، کتاب تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ صٓ، 5/ 366۔368، الرقم: 3233۔3235، والدارمي في السنن،کتاب الرؤیا، باب في رؤیۃ الربّ تعالی في النوم، 2/ 170، الرقم: 2149، وأحمد بن حنبل في المسند،1/ 368، الرقم: 3484، وأیضًا، 4/ 66، 5/ 243، الرقم: 22162، 23258، والطبراني في المعجم الکبیر، 8/ 290، الرقم: 8117، وأیضًا،20/ 109،141، الرقم: 216،690، والرویاني في المسند،1/ 429، الرقم: 656، وأیضًا،2/ 299، الرقم: 1241، وأبو یعلی في المسند، 4/ 475، الرقم: 2608، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 6/ 313، الرقم: 31706، وابن أبي عاصم في السنۃ،1/ 203، الرقم: 465، وأیضًا في الآحاد والمثاني، 5/ 49، الرقم: 2585، وعبد بن حمید في المسند، 1/ 228، الرقم: 682، وعبد الله بن أحمد في السنۃ، 2/ 489، الرقم: 1121، والحکیم الترمذي في نوادر الأصول، 3/ 120، والمنذري في الترغیب والترہیب، 1/ 159، الرقم: 591، وابن عبد البر في التمہید، 24/ 323، وابن النجاد في الرّد علی من یقول القرآن مخلوق، 1/ 5856، الرقم: 76۔78، والہیثمي في مجمع الزوائد، 7/ 176۔ 178.

’’حضرت عبد الله بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: (معراج کی رات) میرا ربّ میرے پاس (اپنی شان کے لائق) نہایت حسین صورت میں آیا اور فرمایا: یا محمد! میں نے عرض کیا: میرے پروردگار! میں حاضر ہوں بار بار حاضر ہوں۔ الله تعالیٰ نے فرمایا: عالمِ بالا کے فرشتے کس بات میں جھگڑتے ہیں؟ میں نے عرض کیا: اے میرے پروردگار! میں نہیں جانتا۔ تو الله تعالیٰ نے اپنا دستِ قدرت میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا اور میں نے اپنے سینے میں اس کی ٹھنڈک محسوس کی۔ اور میں وہ سب کچھ جان گیا جو کچھ مشرق و مغرب کے درمیان ہے۔‘‘

اِس حدیث کو امام ترمذی اور ابو یعلی نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن ہے۔

’’حضرت عبد الله بن عباس رضی الله عنہما سے ہی یہ الفاظ بھی مروی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اور میں جان گیا جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ’’اور اسی طرح ہم ابراہیم (ں) کو آسمانوں اور زمین کی تمام بادشاہتیں (یعنی عجائباتِ خلق) دکھا رہے ہیں اور (یہ) اس لیے کہ وہ عین الیقین والوں میں سے ہو جائے۔‘‘

اِس حدیث کو امام ترمذی،اَحمد اور دارمی نے مذکورہ الفاظ میں روایت کیا ہے۔

’’اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنه سے مروی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اور مجھ پر ہر ایک شے کی حقیقت ظاہر کر دی گئی جس سے میں نے (کائنات کی ہر شے کی حقیقت کو) جان لیا۔‘‘

اِس حدیث کو امام ترمذی،اَحمد اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

’’حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ عنه سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: پس دنیا و آخرت میں مجھ سے کیے جانے والے جملہ سوالات کے جوابات کو میں نے اسی مقام پر جان لیا۔‘‘

اِس حدیث کو امام طبرانی اور رویانی نے روایت کیا ہے۔

’’اور ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اور میں نے دنیا و آخرت کی ہر ایک شے کی حقیقت جان بھی لی اور دیکھ بھی لی۔‘‘

اِس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

’’اور حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنه سے مروی الفاظ ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: پس (اس کے بعد) کبھی ایسا نہیں ہوا کہ مجھ سے کسی شے کے متعلق سوال کیا گیا ہو اور میں اسے جانتا نہ ہوں۔‘‘

اِس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ اور ابن ابی عاصم نے روایت کیا ہے۔ اس کی سند حسن اور رجال ثقہ ہیں۔

Copyrights © 2024 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved