باب 9 :حضور ﷺ کے کلام مبارک کا سراسر وحی ہونے اور حالت رضا اور ناراضگی میں بھی غلطی نہ کرنے کا بیان

بَابٌ فِي کَوْنِ نُطْقِهِ ﷺ وَحْيًا وَکَوْنِهِ لَا يُخْطِيئُ فِي رِضَهُ وَلَا فِي سَخَطِهِ

119/ 1. عَنْ اَبِي هُرَيْرَهَ رضی الله عنه قَالَ: قَالُوْا: يَا رَسُوْلَ اللهِ، إِنَّکَ تُدَاعِبُنَا (مِنَ الدُّعَابَةِ اَي تُمَازِحُنَ) قَالَ: إِنِّي لَا اَقُوْلُ إِلَّا حَقًّا.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبُخَارِيُّ فِي الْاَدَبِ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.

أخرجه الترمذي في السنن، کتاب البر والصلة، باب ما جاء في المزاح، 4/ 357، الرقم: 1990، وأحمد بن حنبل في المسند، 2/ 340، الرقم: 8462، والطبراني في المعجم الأوسط، 8/ 305، الرقم: 8706، والبخاري في الأدب المفرد/ 102، الرقم: 265، وابن السني في عمل اليوم والليلة / 370، الرقم: 418، والمبارکفوري في تحفة الاحوذي، 6/ 108.

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ہم سے مزاح فرماتے ہیں، حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:(مزاح میں بھی) میں حق اور سچ کے سوا کچھ نہیں کہتا۔‘‘

اِسے امام ترمذی، احمد، طبرانی اور بخاری نے الادب المفرد میں روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

120/ 2. عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رضي الله عنهما قَالَ: کُنْتُ اَکْتُبُ کُلَّ شَيئٍ اَسْمَعُهُ مِنْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ ارِيْدُ حِفْظَهُ فَنَهَتْنِي قُرَيْشٌ وَقَالُوْا: اَتَکْتُبُ کُلَّ شَيئٍ تَسْمَعُهُ وَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ بَشَرٌ يَتَکَلَّمُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا فَاَمْسَکْتُ عَنِ الْکِتَابِ فَذَکَرْتُ ذَالِکَ لِرَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَاَوْمَاَ بِاصْبُعِهِ إِلٰی فِيْهِ فَقَالَ: اکْتُبْ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا يَخْرُجُ مِنْهُ إِلَّا حَقٌّ.

رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَأَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ وَابْنُ أَبِي شَيْبَهَ. وَقَالَ الْحَاکِمُ: فَقَدِ احْتَجَّ مُسْلِمٌ بِهِ.

أخرجه أبو داود في السنن، کتاب العلم، باب في کتابة العلم، 3/ 318، الرقم: 3646، وأحمد بن حنبل في المسند، 2/ 162، الرقم: 6510، وأیضًا، 2/ 192، الرقم: 6802، والدارمي في السنن، 1/ 136، الرقم: 484، وابن أبي شيبة في المصنف، 5/ 313، الرقم: 26428، والحاکم في المستدرک، 1/ 187، الرقم: 359، والبيهقي في المدخل إلی السنن الکبری، 1/ 415، الرقم: 755، والمزي في تهذيب الکمال، 31/ 38.

’’حضرت عبد الله بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما نے فرمایا: میں جو بات بھی حضور نبی اکرم ﷺ سے سنتا یاد رکھنے کے ارادے سے اُس بات کو لکھ لیا کرتا۔ قریش نے مجھے منع کیا اور کہا: کیا تم ہر بات جو (رسول الله ﷺ ) سے سنتے ہو لکھ لیتے ہو حالانکہ رسول الله ﷺ بھی بشر ہیں جو ناراضگی اور رضا مندی میں بھی کلام فرماتے ہیں۔ چنانچہ میں لکھنے سے رک گیا اور رسول الله ﷺ سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے انگشتِ مبارک سے اپنے دہن مبارک کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: لکھتے رہو قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! اِس (زبان) سے حق کے سوا کوئی بات نہیں نکلتی۔‘‘

اِسے امام ابو داود، احمد، دارمی اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا: امام مسلم نے اِس حدیث کو قابل حجت مانا ہے۔

121/ 3. عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ اَبِيْهِ عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رضي الله عنهما قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، إِنَّا لَنَسْمَعُ مِنْکَ اَشْيَائَ نُحِبُّ اَنْ نَحْفَظَهَا اَوْ نَکْتُبَهَا قَالَ: نَعَمْ، فَقُلْتُ: مَا يَکُوْنُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا؟ فَقَالَ: نَعَمْ فَإِنِّي لَا اَقُوْلُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا إِلَّا حَقًّا.

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْخَطِيْبُ.

أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 2/ 153، الرقم: 1553، والخطيب البغدادي في تقييد العلم، 1/ 77.78، وابن شاهين في ناسخ الحديث ومنسوخه، 1/ 470، الرقم: 627، والعسقلاني في فتح الباري، 8/ 133، والعيني في عمدة القاري، 18/ 62.

’’حضرت عمرو بن شعیب بواسطہ اپنے والد، اپنے دادا حضرت عبد الله بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول الله! بے شک ہم آپ سے بہت ساری باتیں سنتے ہیں اُن کو ہم یاد کرنا اور لکھنا چاہتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں (ٹھیک ہے لکھ لیا کرو)۔ میں نے عرض کیا: (یا رسول الله!) جو حالتِ غضب اور رضا میں ہوں وہ بھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں۔ کیوں کہ میں غضب اور رضا میں بھی سوائے حق کے کچھ نہیں کہتا۔‘‘ اِسے امام طبرانی اور خطیب بغدادی نے روایت کیا ہے۔

122/ 4. عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ اَنَّ شُعَيْبًا حَدَّثَهُ وَمُجَهِدًا اَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو رضي الله عنهما حَدَّثَهُمْ اَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، اَکْتُبُ مَا اَسْمَعُ مِنْکَ قَالَ: نَعَمْ. قُلْتُ: عِنْدَ الْغَضَبِ وَعِنْدَ الرِّضَا؟ قَالَ: نَعَمْ إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِي اَنْ اَقُوْلَ إِلَّا حَقًّا.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالْخَطِيْبُ وَابْنُ عَدِيٍّ.

4: أخرجه الحاکم في المستدرک، 1/ 187، الرقم: 358، والخطيب البغدادي في تقييد العلم، 1/ 79، وابن عدي في الکامل، 4/ 318، الرقم: 1149، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 31/ 258. 259.

’’حضرت عمرو بن شعیب بیان کرتے ہیں کہ حضرت شعیب نے اُنہیں اور حضرت مجاہد کو بتایا کہ اُنہیں حضرت عبد الله بن عمرو رضی الله عنہما نے بتایا کہ اُنہوں نے عرض کیا: یا رسول الله! کیا میں جو کچھ آپ سے سنتا ہوں لکھ لیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں۔ میں نے عرض کیا: (یا رسول الله!) غضب اور رضا کے وقت بھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں کیوں کہ میرے لیے (یہ کسی حال میں بھی) مناسب نہیں کہ میں حق بات کے سوا کوئی اور بات کہوں۔‘‘

اِسے امام حاکم، خطیب بغدادی اور ابن عدی نے روایت کیا ہے۔

123/ 5. عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَجُـلًا يَقُوْلُ لِابْنِ عُمَرَ: اَلَمْ تَسْمَعْ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ: إِنِّي لَاَمْزَحُ وَلَا اَقُوْلُ إِلَّا حَقًّا؟ قَالَ: نَعَمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ والدَّيْلَمِيُّ.

وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ: رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 12/ 391، الرقم: 13443، وأيضًا في المعجم الأوسط، 1/ 298، الرقم: 995، وأيضًا، 7/ 32، الرقم: 6764، 7322، وأيضًا في المعجم الصغير، 2/ 59، الرقم: 779، والديلمي في مسند الفردوس، 1/ 56، الرقم: 155، والإسماعيلي في معجم شيوخ أبي بکر، 2/ 519، الرقم: 158، والخطابي في غريب الحديث، 2/ 163، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8/ 89، وأيضا، 9/ 17.

’’حضرت عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو حضرت عبد الله بن عمر رضی الله عنہما سے کہتے ہوئے سنا: کیا آپ نے حضور نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ میں مزاح ضرور کرتا ہوں لیکن میں (مزاح کے دوران بھی) سوائے حق بات کے کچھ نہیں کہتا۔ اُنہوں نے فرمایا: ہاں (ایسا ہی ہے)۔‘‘

اِسے امام طبرانی اور دیلمی نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا: اِسے امام طبرانی نے سندِ حسن کے ساتھ روایت کیا ہے۔

124/ 6. عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيْجٍ رضی الله عنه قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فَقَالَ: تَحَدَّثُوْا وَلَيَتَبَوَّاْ مَنْ کَذَبَ عَلَيَّ مَقْعَدَهُ مِنْ جَهَنَّمَ قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، إِنَّا نَسْمَعُ مِنْکَ اَشْيَائَ فَنَکْتُبُهَا فَقَالَ: اکْتُبُوْا وَلَا حَرَجَ.

رَوَاهُ الطَّبَرانِيُّ وَالْخَطِيْبُ.

أخرجه الطبراني فيالمعجم الکبير، 4/ 276، الرقم: 4410، والخطيب البغدادي في تقييد العلم، 1/ 72.73، وابن شاهين في ناسخ الحديث ومنسوخه، 1/ 470، الرقم: 626، والهيثمي في مجمع الزوائد، 1/ 151.

’’حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ ہمارے ساتھ باہر تشریف لائے اور فرمایا: میری احادیث بیان کرو، اور جس نے مجھ پر جھوٹ و افتراء باندھا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں تیار رکھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول الله! ہم آپ سے بہت ساری باتیں سنتے ہیں اور اُنہیں لکھ لیتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: لکھ لیا کرو اِس میں کوئی حرج نہیں۔‘‘

اِسے امام طبرانی اور خطیب بغدادی نے روایت کیا ہے۔

125/ 7. عَنْ عُمَارَهَ بْنِ خُزَيْمَهَ رضی الله عنه أَنَّ عَمَّهُ حَدَّثَهُ وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ ابْتَاعَ فَرَسًا مِنْ أَعَرَابِيٍّ فَاسْتَتْبَعَهُ النَّبِيُّ ﷺ لِيَقْضِيَهُ ثَمَنَ فَرَسِهِ فَأَسْرَعَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ الْمَشْيَ وأَبْطَأَ الْاَعْرَابِيُّ فَطَفِقَ رِجَالٌ يَعْتَرِضُوْنَ الْاَعْرَابِيَّ فَيُسَاوِمُوْنَهُ بِالْفَرَسِ وَلَا يَشْعُرُوْنَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ ابْتَاعَهُ فَنَادَی الْاَعْرَابيُّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ فَقَالَ: إِنْ کُنْتَ مُبْتَاعًا هٰذَا الْفَرَسَ وَإِلاَّ بِعْتُهُ فَقَامَ النَّبِيُّ ﷺ حِيْنَ سَمِعَ نِدَائَ الْاَعْرَابِيِّ فَقَالَ: أَوْ لَيْسَ قَدِ ابْتَعْتُهُ مِنْکَ؟ فَقَالَ الْاَعْرَابِيُّ: لَا، وَاللهِ، مَا بِعْتُکَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : بَلٰی قَدِ ابْتَعْتُهُ مِنْکَ فَطَفِقَ الْاَعْرَابِيُّ يَقُوْلُ: هَلُمَّ شَهِيْدًا فَقَالَ خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ: أَنَا أَشْهَدُ أَنَّکَ قَدْ بَيَعْتَهُ فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ ﷺ عَلٰی خُزَيْمَهَ فَقَالَ: بِمَ تَشْهَدُ؟ فَقَالَ: بِتَصْدِيْقِکَ يَا رَسُوْلَ اللهِ، فَجَعَلَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ شَهَادَهَ خُزَيْمَهَ بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ.

رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ. وَقَالَ الْحَاکِمُ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ وَرِجَالُهُ بِاتِّفَاقِ الشَّيْخَيْنِ ثِقَاتٌ.

أخرجه أبو داود في السنن، کتاب الأقضية، باب إذا علم الحاکم صدق الشاهد الواحد يجوز له أن يحکم به، 3/ 308، الرقم: 3607، والنسائي في السنن، کتاب البيوع، باب التسهيل في ترک الإشهاد علی البيع، 7/ 301، الرقم: 4647، وأيضًا في السنن الکبری، 4/ 48، الرقم: 6243، وأحمد بن حنبل في المسند، 5/ 215، الرقم: 21933، والحاکم في المستدرک، 2/ 21، الرقم: 2187، والطبراني في المعجم الکبير، 22/ 379، الرقم: 946، والطحاوي في شرح معاني الآثار، 4/ 146، والبيهقي في السنن الکبری، 7/ 66، الرقم: 13182.

’’حضرت عمارہ بن خزیمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اُن کے چچا نے، جو کہ حضورنبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے تھے، اُنہیں بتایا کہ آپ ﷺ نے کسی اعرابی سے گھوڑا خریدا پھر آپ ﷺ اُسے اپنے ساتھ لے کے چلے تاکہ گھوڑے کی قیمت اُسے ادا کردی جائے۔ حضورنبی اکرم ﷺ جلدی جلدی آگے چل رہے تھے اور اعرابی آہستہ آہستہ (پیچھے چل رہا تھا)۔ پس اعرابی کو چند لوگ ملے جو اُس سے گھوڑے کا سودا کرنے لگے اور اُنہیں معلوم نہیں تھا کہ حضور نبی اکرم ﷺ اس کا سودا کر چکے ہیں۔ چنانچہ اعرابی نے حضورنبی اکرم ﷺ کو آواز دیتے ہوئے عرض کہا کہ آپ اس گھوڑے کو خریدنا چاہتے ہیں تو خرید لیں ورنہ میں اسے فروخت کرتا ہوں۔ پس اعرابی کی یہ آواز سن کر حضورنبی اکرم ﷺ قیام فرما ہو گئے اور فرمایا: کیا میں نے اسے تم سے خرید نہیں لیا ہے؟ اعرابی نے کہا: خدا کی قسم! میں نے تو آپ کے ہاتھوں فروخت نہیں کیا۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیوں نہیں میں نے تو تم سے خرید لیا ہے۔ اعرابی نے کہنا شروع کردیا: اچھا تو گواہ لے آئیے۔ حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷺ نے یہ گھوڑا خرید لیا ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم کس بنیاد پر گواہی دیتے ہو؟ اُنہوں نے عرض کیا: یا رسول الله! آپ کو سچا جانتے ہوئے (کہ آپ ﷺ حق اور سچ کے سوا کچھ نہیں فرماتے)۔ تو آپ ﷺ نے حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دے دیا۔‘‘

اِسے امام ابو داود، نسائی اور احمد نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا: یہ حدیث صحیح ہے اوراس کے رجال شیخین (یعنی بخاری و مسلم) کے متفقہ ثقہ راوی ہیں۔

126/ 8. عَنْ خُزَيْمَهَ بْنِ ثَابِتٍ رضی الله عنه اَنَّ اَعْرَابِيًا بَاعَ مِنَ النَّبِيِّ ﷺ فَرَسًا انْثٰی ثُمَّ ذَهَبَ فَزَادَ عَلَی النَّبِيِّ ﷺ ثُمَّ جَاحَدَ اَنْ يَکُوْنَ بَاعَهَا فَمَرَّ بِهِمَا خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ فَسَمِعَ النَّبِيُّ ﷺ يَقُوْلُ: قَدِ ابْتَعْتُهَا مِنْکَ فَشَهِدَ عَلٰی ذَالِکَ فَلَمَّا ذَهَبَ الْاَعْرَابِيُّ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ ﷺ : اَحَضَرْتَنَا قَالَ: لَا وَلٰـکِنْ لَمَّا سَمِعْتُکَ تَقُوْلُ: قَدْ بَاعَکَ عَلِمْتُ اَنَّهُ حَقٌّ لَا تَقُوْلُ إِلَّا حَقًّا. قَالَ: فَشَهَادَتُکَ شَهَادَةُ رَجُلَيْنِ.

رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ سَعْدٍ.

أخرجه عبد الرزاق في المصنف، باب شهادة خزيمة بن ثابت، 8/ 366، الرقم: 15566، 15565، وابن سعد في الطبقات الکبری، 4/ 380، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، 16/ 368، والعسقلاني في الإصابة، 3/ 215، والحسيني في البيان والتعريف، 2/ 76، الرقم، 1100.

’’حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی نے حضور نبی اکرم ﷺ کو گھوڑی فروخت کی پھر وہ چلا گیا اور (واپس آیا تو) حضور نبی اکرم ﷺ سے زیادہ قیمت کا مطالبہ کرنے لگا۔ پھر وہ اِس بات سے صاف منکر ہو گیا کہ اُس نے وہ گھوڑی آپ ﷺ کو بیچی ہے۔ پس حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ کا اُدھر سے گزر ہوا اور آپ رضی اللہ عنہ نے حضور نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ میں نے یہ گھوڑی تم سے خریدی تو اُنہوں نے اِس بات پر گواہی دی کہ واقعی آپ ﷺ نے یہ گھوڑی خریدی ہے۔ جب وہ اعرابی چلا گیا تو آپ ﷺ نے اُن سے دریافت فرمایا: کیا تم اُس وقت موجود تھے (جب ہم نے یہ سودا کیا تھا) اُنہوں نے عرض کیا: نہیں، لیکن جب میں نے آپ کو یہ فرماتے سنا کہ اس نے آپ کو یہ گھوڑی بیچی تھی تو میں جان گیا کہ یہ سچ ہے کیوں کہ آپ حق کے سوا اور کچھ نہیں فرماتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: آج سے تمہاری گواہی دو بندوں کی گواہی کے برابر ہے۔‘‘

اِسے امام عبد الرزاق نے روایت کیا ہے۔

127/ 9. عَنْ خُزَيْمَهَ بْنِ ثَابِتٍ رضی الله عنه اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ ابْتَاعَ مِنْ سَوَائِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيِّ فَرَسًا فَجَحَدَهُ فَشَهِدَ لَهُ خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ رضی الله عنه فَقَالَ لَهُ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : مَا حَمَلَکَ عَلَی الشَّهَادَةِ وَلَمْ تَکُنْ مَعَهُ قَالَ: صَدَقْتَ يَا رَسُوْلَ اللهِ، وَلٰـکِنْ صَدَّقْتُکَ بِمَا قُلْتَ وَعَرَفْتُ اَنَّکَ لَا تَقُوْلُ إِلَّا حَقًّا، فَقَالَ: مَنْ شَهِدَ لَهُ خُزَيْمَةُ اَوْ شَهِدَ عَلَيْهِ فَحَسْبُهُ.

رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ. وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ: رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ کُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.

أخرجه الحاکم في المستدرک، کتاب البيوع، 2/ 22، الرقم: 2188، والطبراني في المعجم الکبير، 4/ 87، الرقم: 3730، والبيهقي في السنن الکبری، 10/ 146، الرقم: 20303، وابن أبي عاصم في الآحاد والمثاني، 4/ 115، الرقم: 2084، والعسقلاني في الإصابة، 3/ 215، الرقم: 3579، والهيثمي في مجمع الزوائد، 9/ 320.

’’حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے سواء بن حارث محاربی سے ایک گھوڑا خریدا، اور پھر اُس نے آپ ﷺ کو گھوڑا دینے سے انکار کر دیا، تو حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے گواہی دی کہ واقعتاً اُس نے آپ ﷺ کو گھوڑا بیچا تھا۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے خزیمہ! تجھے کس چیز نے گواہی پر اُبھارا حالانکہ تو اس شخص کے ساتھ نہیں تھا؟ اُنہوں نے عرض کیا: یا رسول الله! آپ نے سچ فرمایا لیکن جو کچھ آپ نے فرمایا میں نے اُس کی تصدیق کی اور میں جانتا ہوں کہ آپ سوائے حق کے کچھ نہیں فرماتے۔ پس آپ ﷺ نے فرمایا: جس کے حق میں یا جس کے خلاف خزیمہ گواہی دے تو اُسے تنہا اُس کی گواہی ہی کافی ہے (یعنی حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی دو افراد کے برابر قرار دے دی)۔‘‘

اِسے امام حاکم، طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔امام ہیثمی نے فرمایا: اِسے طبرانی نے روایت کیا ہے اور اِس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔

Copyrights © 2024 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved