اربعین: علامات قیامت اور فتنوں کا ظہور

حکومت نااہل لوگوں کے سپرد کی جائے گی اور حکمران اور مقتدر لوگ منافق ہوں گے

إِسْنَادُ الْأَمْرِ إِلٰی غَيْرِ أَهْلِهٖ وَکَوْنُ سِیَادَةِ کُلِّ قَبِيْلَةٍ مِنْ مُنَافِقِيْهَا

{حکومت نااَہل لوگوں کے سپرد کی جائے گی اور حکمران اور مقتدر لوگ منافق ہوں گے}

اَلْقُرْآن

(1) اِنَّ اللهَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰـنٰـتِ اِلٰٓی اَهْلِهَا وَاِذَا حَکَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوْا بِالْعَدْلِ اِنَّ اللهَ نِعِمَّا یَعِظُکُمْ بِهٖ ط اِنَّ اللهَ کَانَ سَمِيْعًام بَصِيْرًاo یٰٓـاَیُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ ج فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْئٍ فَرُدُّوْهُ اِلَی اللهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ط ذٰلِکَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًاo اَلَم تَرَاِلَی الَّذِيْنَ یَزْعُمْوْنَ اَنَّھُمْ اٰمَنُوْا بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْکَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ یُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَحَاکَمُوْٓا اِلَی الطَّاغُوْتِ وَقَدْ اُمِرُوْٓا اَنْ يَّکْفُرُوْ بِهٖ ط وَیُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّھُمْ ضَلٰــلًام بَعِيْدًاo وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰی مَآ اَنْزَلَ اللهُ وَاِلَی الرَّسُوْلِ رَاَيْتَ الْمُنٰـفِقِيْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْکَ صُدُوْدًاo (النساء، 4/ 58-61)

بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں انہی لوگوں کے سپرد کرو جو ان کے اہل ہیں، اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کیا کرو، بے شک اللہ تمہیں کیا ہی اچھی نصیحت فرماتا ہے، بے شک اللہ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہےo اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول ( ﷺ ) کی اطاعت کرو اوراپنے میں سے (اہلِ حق) صاحبانِ اَمر کی، پھر اگر کسی مسئلہ میں تم باہم اختلاف کرو تو اسے (حتمی فیصلہ کے لیے) اللہ اور رسول ( ﷺ ) کی طرف لوٹا دو اگر تم اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو، (تو) یہی (تمہارے حق میں) بہتر اور انجام کے لحاظ سے بہت اچھا ہےo کیا آپ نے اِن (منافقوں) کو نہیں دیکھا جو (زبان سے) دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس (کتاب یعنی قرآن) پر ایمان لائے جوآپ کی طرف اتارا گیا اور ان (آسمانی کتابوں) پر بھی جو آپ سے پہلے اتاری گئیں (مگر) چاہتے یہ ہیں کہ اپنے مقدمات (فیصلے کے لیے) شیطان (یعنی احکامِ الٰہی سے سرکشی پر مبنی قانون) کی طرف لے جائیں حالاں کہ انہیں حکم دیا جا چکا ہے کہ اس کا (کھلا) انکار کر دیں، اور شیطان تویہی چاہتا ہے کہ انہیں دور دراز گمراہی میں بھٹکاتا رہےo اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے نازل کردہ (قرآن) کی طرف اور رسول( ﷺ ) کی طرف آجاؤ تو آپ منافقوں کو دیکھیں گے کہ وہ آپ (کی طرف رجوع کرنے) سے گریزاں رہتے ہیںo

(2) وَقَدْ مَکَرُوْا مَکْرَهُمْ وَعِنْدَ اللهِ مَکْرُهُمْ ط وَاِنْ کَانَ مَکْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُo (إبراہیم، 14/ 46)

اور انہوں نے (دولت و اقتدار کے نشہ میں بدمست ہو کر) اپنی طرف سے بڑی فریب کاریاں کیں جب کہ اللہ کے پاس ان کے ہر فریب کا توڑ تھا، اگرچہ ان کی مکّارانہ تدبیریں ایسی تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی اکھڑ جائیںo

(3) وَکَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ هِیَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْیَتِکَ الَّتِيْٓ اَخْرَجَتْکَ ج اَهْلَکْنٰهُمْ فَـلَا نَاصِرَ لَهُمْo (محمد، 47/ 13)

اور (اے حبیب!) کتنی ہی بستیاں تھیں جن کے باشندے (وسائل و اقتدار میں) آپ کے اس شہر (مکّہ کے باشندوں) سے زیادہ طاقتور تھے جس (کے مقتدر وڈیروں) نے آپ کو (بصورتِ ہجرت) نکال دیا ہے، ہم نے انہیں (بھی) ہلاک کر ڈالا پھر ان کا کوئی مددگار نہ ہوا (جو انہیں بچا سکتا)o

(4) فَهَلْ عَسَيْتُمْ اِنْ تَوَلَّيْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَتُقَطِّعُوْٓا اَرْحَامَکُمْo اُولٰٓئِکَ الَّذِيْنَ لَعَنَهُمُ اللهُ فَاَصَمَّهُمْ وَاَعْمٰٓی اَبْصَارَهُمْo

(محمد، 47/ 22-23)

پس (اے منافقو!) تم سے توقع یہی ہے کہ اگر تم (قتال سے گریز کر کے بچ نکلو اور) حکومت حاصل کر لو تو تم زمین میں فساد ہی برپا کرو گے اور اپنے (ان) قرابتی رشتوں کو توڑ ڈالو گے (جن کے بارے میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے مواصلت اور مُودّت کا حکم دیا ہے)o یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور ان (کے کانوں) کو بہرا کر دیا ہے اور ان کی آنکھوں کو اندھا کر دیا ہےo

اَلْحَدِيْث

31۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : إِذَا ضُیِّعَتِ الْأَمَانَةُ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ، قَالَ: کَيْفَ إِضَاعَتُهَا یَا رَسُوْلَ اللهِ؟ قَالَ: إِذَا أُسْنِدَ الْأَمْرُ إِلٰی غَيْرِ أَهْلِهٖ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ۔

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ۔

31: أخرجہ البخاري في الصحیح، کتاب الرقاق، باب رفع الأمانۃ، 5/ 2382، الرقم/ 6131، وأحمد بن حنبل في المسند، 2/ 361، الرقم/ 8714، وابن حبان في الصحیح، 1/ 307، الرقم/ 104، والبیھقي في السنن الکبریٰ، 10/ 118، الرقم/ 20150، والدیلمي في مسند الفردوس، 1/ 335، الرقم/ 1322، والمقریٔ في السنن الواردۃ في الفتن، 4/ 768، الرقم/ 381۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب امانتیں ضائع ہونے لگیں تو قیامت کا انتظار کرو۔ پوچھا گیا: یا رسول اللہ! امانتوں کے ضائع ہونے کا مطلب کیا ہے؟ فرمایا: جب اُمور نااہل لوگوں کو سونپے جانے لگیں تو قیامت کا انتظار کرو۔

اِس حدیث کو امام بخاری، احمد اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔

وقال الحافظ ابن حجر في ’الفتح‘: وَالْمُرَادُ مِنَ الأَمْرِ، جِنْسُ الأُمُوْرِ الَّتِي تَتَعَلَّقُ بِالدِّيْنِ کَالْخِـلَافَةِ وَالإِمَارَةِ وَالْقَضَاء وَالِافْتَاءِ وَغَيْرِ ذٰلِکَ۔ (1)

(1) العسقلاني في فتح الباري، 11/ 334، الرقم/ 6131۔

حافظ ابن حجر عسقلانی فتح الباری میں بیان کرتے ہیں: ’اَمر‘ سے مراد وہ تمام اُمور ہیں جن کا تعلق (بالواسطہ یا بلاواسطہ کسی نہ کسی طور پر) دین سے ہو، جیسے حکومت و سلطنت (صدارت، وزارتِ عظمیٰ، وزارتِ علیا، گورنری اور عمومی وزارتیں)، عدلیہ اور شرعی افتاء وغیرہ۔

32۔ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضي الله عنهما، أَنَّهٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: إِنَّ اللهَ یُبْغِضُ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِهٖ، لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتّٰی یُخَوَّنَ الْأَمِيْنُ، وَیُؤْتَمَنَ الْخَائِنُ، حَتّٰی یَظْهَرَ الْفُحْشُ وَالتَّفَحُّشُ، وَقَطِيْعَةُ الْأَرْحَامِ، وَسُوْءُ الْجِوَارِ۔

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ وَالْبَزَّارُ وَالْحَاکِمُ، وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ۔

32: أخرجہ أحمد بن حنبل في المسند، 2/ 199، الرقم/ 6872، وعبد الرزاق في المصنف، 11/ 404-405، الرقم/ 20852، والحاکم في المستدرک، 4/ 558، الرقم/ 8566، والبزار في المسند، 6/ 409-410، الرقم/ 2435، وابن عساکر في تاریخ مدینۃ دمشق، 20/ 44۔

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: بے شک اللہ تعالیٰ برائی اور فحش گوئی کو ناپسند کرتا ہے۔ اور اُس ذات کی قسم، جس کے قبضۂ قدرت میں (حضرت) محمد ( ﷺ ) کی جان ہے! قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک امانت دار کو خیانت کرنے والا اور خیانت کرنے والے کو امین نہ قرار دیا جائے اور یہاں تک کہ فحش گوئی، قطع رحمی اور بری ہمسائیگی ظاہر نہ ہو جائے۔

اس حدیث کو امام اَحمد، عبد الرزاق، بزار اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا: اس حدیث کی اسناد صحیح ہے۔

33۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : سَیَأْتِي عَلَی النَّاسِ سَنَوَاتٌ خَدَّاعَاتُ یُصَدَّقُ فِيْهَا الْکَاذِبُ وَیُکَذَّبُ فِيْهَا الصَّادِقُ وَیُؤْتَمَنُ فِيْهَا الْخَائِنُ وَیُخَوَّنُ فِيْهَا الْأَمِيْنُ وَیَنْطِقُ فِيْهَا الرُّوَيْبِضَةُ قِيْلَ: وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ؟ قَالَ: الرَّجُلُ التَّافِهُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ۔

رَوَاهُ ابْنُ مَاجَہ وَأَبُوْ یَعْلٰی وَالْحَاکِمُ، وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ۔

33: أخرجہ ابن ماجہ في السنن، کتاب الفتن، باب شدۃ الزمان، 2/ 1339، الرقم/ 4036، وأبو یعلی في المسند، 6/ 378، الرقم/ 3715، والحاکم في المستدرک، 4/ 512، الرقم/ 8439، والبزار في المسند، 7/ 174، الرقم/ 2740،۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں پر بہت سے سال ایسے آئیں گے جن میں دھوکہ ہی دھوکہ ہو گا۔ اس وقت جھوٹے کو سچا سمجھا جائے گا اور سچے کو جھوٹا۔ بددیانت کو امانت دار تصور کیا جائے گا اور امانت دار کو بددیانت اور ’’رویبضہ‘‘ یعنی نااہل اور فاسق و فاجر لوگ قوم کی نمائندگی کریں گے۔ عرض کیا گیا: ’رویبضہ‘ سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ نااہل اور فاسق شخص جو اہم معاملات میں عوام کی نمائندگی اور رہنمائی کا ذمہ دار بن جائے۔

اِس حدیث کو امام ابن ماجہ، ابو یعلی اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا: اس حدیث کی اسناد صحیح ہے۔

وَفِي رِوَایَةٍ عَنْهُ: قِيْلَ: وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ؟ قَالَ: اَلسَّفِيْهُ یَتَکَلَّمُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ۔ (1)

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْحَاکِمُ، وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ۔

(1) أخرجہ أحمد بن حنبل في المسند، 2/ 291، الرقم/ 7899، والحاکم في المستدرک، 4/ 557، الرقم/ 8564، والطبراني في المعجم الأوسط، 3/ 313، الرقم/ 3258، وأیضًا في المعجم الکبیر، ولفظہ: السفیہ ینطق في أمر العامۃ، 18/ 67، الرقم/ 123۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ عرض کیا گیا: ’رویبضہ‘ سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ (نااہل اور) کم فہم شخص جو عوام کے اہم معاملات میں ان کی رہنمائی کا ذمہ دار بن جائے۔

اِس حدیث کو امام احمد اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ اور امام حاکم نے فرمایا: اس حدیث کی اسناد صحیح ہے۔

وَفِي رِوَایَةِ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي الله عنه قَالَ: اَلْفُوَيْسِقُ یَتَکَلَّمُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ۔ (1)

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبوْ یَعْلٰی۔

(1) أخرجہ أحمد بن حنبل في المسند، 3/ 220، الرقم/ 13322، وأبو یعلی في المسند، 6/ 378، الرقم/ 3715۔

ایک روایت میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: (رویبضہ سے مراد) وہ فاسق شخص ہے جو عوام کے اہم معاملات میں ان کی رہنمائی کا ذمہ دار بن جائے۔

اِس حدیث کو امام اَحمد اور ابو یعلی نے روایت کیا ہے۔

34۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : إِذَا کَانَ أُمَرَاؤُکُمْ خِیَارَکُمْ وَأَغْنِیَاؤُکُمْ سُمَحَاءَکُمْ وَأُمُوْرُکُمْ شُوْرٰی بَيْنَکُمْ فَظَهْرُ الْأَرْضِ خَيْرٌ لَکُمْ مِنْ بَطْنِهَا، وَإِذَا کَانَ أُمَرَاؤُکُمْ شِرَارَکُمْ وَأَغْنِیَاؤُکُمْ بُخَـلَاءَکُمْ وَأُمُورُکُمْ إِلٰی نِسَاءِکُمْ فَبَطْنُ الْأَرْضِ خَيْرٌ لَکُمْ مِنْ ظَهْرِهَا۔

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالطَّبَرِيُّ وَأَبُوْ نُعَيْمٍ وَالْمُقْرِئُ۔

34: أخرجہ الترمذي في السنن، کتاب الفتن، باب ما جاء في النھي عن سب الریاح، 4/ 529، الرقم/ 2266، وابن جریر الطبري في تھذیب الآثار، 2/ 929، الرقم/ 1325، وأبو نعیم في حلیۃ الأولیائ، 6/ 176، والخطیب البغدادي في تاریخ بغداد، 2/ 190، والمقرئ الداني في السنن الواردۃ في الفتن، 3/ 663، الرقم/ 303، وذکرہ المنذري في الترغیب والترھیب، 3/ 259، الرقم/ 3949۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تمہارے حاکم نیک اور پسندیدہ ہوں، تمہارے مالدار کشادہ دل اور سخی ہوں، اور تمہارے معاملات باہمی (خیر خواہانہ) مشورے سے طے ہوں تو تمہارے لیے زمین کی پشت اُس کے پیٹ سے بہتر ہوگی (یعنی مرنے سے جینا بہتر ہوگا) اور جب تمہارے حاکم شریر ہوں، تمہارے مالدار بخیل ہوں، اور تمہارے معاملات عورتوں کے سپرد ہو جائیں تو تمہارے لیے زمین کا پیٹ اُس کی پشت سے بہتر ہے (یعنی ایسی زندگی سے مر جانا بہتر ہے)۔

اس حدیث کو امام ترمذی، طبری، ابو نعیم اور مقرئ نے روایت کیا ہے۔

35۔ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتّٰی یُسَوِّدَ کُلَّ قَبِيْلَةٍ مُنَافِقِيْھَا۔

رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْمُقْرِئُ وَالدَّيْلَمِيُّ۔

35: أخرجہ البزار في المسند، 4/ 265، الرقم/ 1434، والطبراني في المعجم الکبیر، 10/ 7، الرقم/ 9771، وأبو عمرو الداني في السنن الواردۃ في الفتن، 4/ 192، الرقم/ 405، وذکرہ الدیلمي في مسند الفردوس، 5/ 80، الرقم/ 7516، والھیثمي في مجمع الزوائد، 7/ 327۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس وقت تک قیامت نہیں آئے گی یہاں تک کہ ہر قبیلہ (ہر جماعت اور ہر طبقہ) کے منافق لوگ اُس کے لیڈر بن جائیں گے۔

اسے امام بزار، طبرانی، مقرئ اور دیلمی نے روایت کیا ہے۔

وَفِي رِوَایَةِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رضي الله عنهما یَقُوْلُ: إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ یُوْضَعَ الأَخْیَارُ، وَیُرْفَعَ الأَشْرَارُ، وَیَسُوْدَ کُلَّ قَبِيْلَةٍ مُنَافِقُوْهَا۔ (1)

رَوَاهُ الْمُقْرِئُ وَابْنُ حَمَّادٍ۔

(1) أخرجہ أبو عمرو الداني في السنن الواردۃ في الفتن، 4/ 192، الرقم/ 405، وابن حماد في الفتن، 1/ 243، الرقم/ 691، والھندي في کنز العمال، 14/ 240، الرقم/ 39617۔

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: بے شک قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اچھے لوگوں کا مرتبہ پست سمجھا جائے گا اور برے لوگوں کا درجہ اونچا سمجھا جائے گا، اور ہر قبیلے کی سرداری اس کے منافق لوگ کریں گے۔

اسے امام مقرئ اور ابن حماد نے روایت کیا ہے۔

36۔ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمَرَةَ قَالَ: إِنَّمَا زَمَانُکُمْ سُلْطَانُکُمْ فَإِذَا صَلَحَ سُلْطَانُکُمْ صَلَحَ زَمَانُکُمْ وَإِذَا فَسَدَ سُلْطَانُکُمْ فَسَدَ زَمَانُکُمْ۔

رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ وَالْمُقْرِئُ۔

36: أخرجہ البیھقي في السنن الکبری، 8/ 162، الرقم/ 16429، وأیضًا في شعب الإیمان، 6/ 42، الرقم/ 7442، والمقرئ الداني في السنن الواردۃ في الفتن، 3/ 653، الرقم/ 298۔

حضرت قاسم بن مُخَيْمَرَہ بیان کرتے ہیں: بے شک تمہارے زمانے (کے حالات) کا دار ومدار تمہارے حکمرانوں پر ہے۔ جب تمہارے حکمران نیک اور صالح ہوں گے تو تمہارا زمانہ (بھی حالات کے اعتبار سے) اچھا ہوجائے گا اور جب تمہارے حکمران بُرے ہوں گے تو تمہارا زمانہ بھی بُرا ہو گا۔

اسے امام بیہقی اور مقرئ نے روایت کیا ہے۔

37۔ عَنْ کَعْبٍ - یَعْنِي الأَحْبَارَ - قَالَ: إِنَّ لِکُلِّ زَمَانٍ مَلِکًا یَبْعَثُهُ اللهُ عَلٰی قُلُوْبِ أَهْلِهٖ، فَإِذَا أَرَادَ اللهُ بِقَوْمٍ صَـلَاحًا بَعَثَ فِيْهِمْ مُصْلِحًا، وَإِذَا أَرَادَ بِقَوْمٍ هَلَکَةً بَعَثَ فِيْهِمْ مُتْرَفًا، ثُمَّ قَرَأَ: {وَاِذَآ اَرَدْنَآ اَنْ نُّھْلِکَ قَرْیَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِيْھَا فَفَسَقُوْا فِيْھَا فَحَقَّ عَلَيْھَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰـھَا تَدْمِيْرًاo}۔

رَوَاهُ الْمُقْرِئُ۔

وَفِي رِوَایَةِ أَبِي الْجَلَدِ، قَالَ: یُبْعَثُ عَلَی النَّاسِ مُلُوْکٌ بِذُنُوْبِهِمْ۔

رَوَاهُ الْمُقْرِئُ وَأَبُوْ نُعَيْمٍ وَابْنُ عَسَاکِرَ۔

وَفِي رِوَایَةٍ عَنْهُ: قَالَ: یَکُوْنُ عَلَی النَّاسِ مُلُوْکٌ بِأَعْمَالِهِمْ۔

رَوَاهُ ابْنُ حَمَّادٍ۔

37: أخرجہ المقرئ الداني في السنن الواردۃ في الفتن، 3/ 653 -654، الرقم/ 299، وأبو نعیم في حلیۃ الأولیائ، 6/ 59، وابن حماد في الفتن، 1/ 115، الرقم/ 264، وابن عساکر في تاریخ مدینۃ دمشق، 39/ 477۔

حضرت کعب بن اَحبار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بے شک ہر زمانہ کا ایک حکمران ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ بندوں کے دلوں پر مبعوث فرماتا ہے (یعنی بندوں پر حکمرانی دیتا ہے)، سو جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کی اصلاح کا ارادہ فرماتا ہے تو انہی میں سے کسی مصلح کو بھیج دیتا ہے اور جب کسی قوم (کی نافرمانیوں کے باعث ان) کی ہلاکت کا ارادہ فرماتا ہے تو ان میں عیش پرست (نام نہاد لیڈر) بھیج دیتا ہے، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت مبارکہ پڑھی:{اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم وہاں کے امراء اور خوشحال لوگوں کو (کوئی) حکم دیتے ہیں (تاکہ ان کے ذریعہ عوام اور غرباء بھی درست ہو جائیں) تو وہ اس (بستی) میں نافرمانی کرتے ہیں پس اس پر ہمارا فرمانِ (عذاب) واجب ہو جاتا ہے پھر ہم اس بستی کو بالکل ہی مسمار کر دیتے ہیںo}۔

اسے امام مقرئ نے روایت کیا ہے۔

حضرت ابو جَلَد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: لوگوں پر ان کے گناہوں کی پاداش میں (کرپٹ) حکمران بھیجے جائیں گے۔

اسے امام مقرئ، ابو نعیم اور ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔

حضرت ابو جَلَد رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے: لوگوں پر حکمران ان کے اعمال کے عوض ہوں گے (یعنی جیسے لوگوں کے اعمال ہوں گے ویسے ہی حکمران ہوں گے)۔

اسے امام ابن حماد نے روایت کیا ہے۔

38۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضي الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ یَقُوْلُ: خُذُوا الْعَطَاءَ مَا دَامَ عَطَاءٌ، فَإِذَا صَارَ رِشْوَةً فِي الدِّيْنِ فَـلَا تَأْخُذُوْهُ وَلَسْتُمْ بِتَارِکِيْهِ، یَمْنَعُکُمُ الْفَقْرُ وَالْحَاجَةُ، أَ لَا إِنَّ رَحَی الإِسْلَامِ دَائِرَةٌ فَدُوْرُوْا مَعَ الْکِتَابِ حَيْثُ دَارَ أَلَا إِنَّ الْکِتَابَ وَالسُّلْطَانَ سَیَفْتَرِقَانِ فَـلَا تُفَارِقُوْا الْکِتَابَ، أَلَا إِنَّهٗ سَیَکُوْنُ عَلَيْکُمْ أُمَرَاءٌ یَقْضُوْنَ لِأَنْفُسِهِمْ مَا لَا یَقْضُوْنَ لَکُمْ إِنْ عَصَيْتُمُوْهُمْ قَتَلُوْکُمْ، وَإِنْ أَطَعْتُمُوْهُمْ أَضَلُّوْکُمْ، قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللهِ، کَيْفَ نَصْنَعُ؟ قَالَ: کَمَا صَنَعَ أَصْحَابُ عِيْسَی بْنِ مَرْیَمَ، نُشِرُوْا بِالْمَنَاشِيْرِ وَحُمِلُوْا عَلَی الْخَشَبِ مَوْتٌ فِي طَاعَةِ اللهِ خَيْرٌ مِنْ حَیَاةٍ فِي مَعْصِیَةِ اللهِ۔

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ۔

38: أخرجہ الطبراني في المعجم الکبیر، 20/ 90، الرقم/ 172، وأیضًا في المعجم الصغیر، 2/ 42، الرقم/ 749، وأیضًا في مسند الشامیین، 1/ 379، الرقم/ 658، وذکرہ السیوطي في الدر المنثور، 3/ 125۔

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تحائف اسی وقت تک قبول کر سکتے ہو جب تک کہ وہ تحفہ رہیں۔ لیکن جب وہ دین کے حکم کے تحت رشوت بن جائے تو اُسے ہرگز قبول نہ کرو مگر (ایسا نظر آتا ہے) کہ تم اُسے چھوڑو گے نہیں کیوں کہ فقر اور ضرورت تمہیں مجبور کرے گی۔ آگاہ رہو! اسلام کی چکی بہرحال گردش میں رہے گی، اس لیے کتاب اللہ جدھر چلے اس کے ساتھ چلو (اسے اپنی خواہشات کے مطابق نہ ڈھالو)۔ آگاہ رہو! عنقریب کتاب اللہ (یعنی قرآن) اور حکومت جُدا جُدا ہو جائیں گے، پس تم کتاب اللہ کو نہ چھوڑنا۔ آگاہ رہو! عنقریب تم پر ایسے حاکم مسلط ہوں گے جو فیصلہ وہ اپنے لیے پسند کریں گے وہ دوسروں کے لیے پسند نہیں کریں گے۔ تم اگر ان کی نافرمانی کرو گے تو وہ تمہیںقتل کر دیں گے اور اگر فرمانبرداری کرو گے تو (بے دینی کے سبب) تمہیں گمراہ کر دیں گے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! (ایسی صورت میں) ہمیں کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہیے؟ فرمایا: وہی جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اصحاب نے اختیار کیا، اُنہیں آروں سے چیرا گیا، سولی پر لٹکایا گیا (مگر وہ دینِ حق پر قائم رہے) اور اطاعتِ الٰہی میں جان دے دینا معصیت کی زندگی سے (بدرجہا) بہتر ہے۔

اِس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved