اربعین: علامات قیامت اور فتنوں کا ظہور

بدنام زمانہ بن بدنام زمانہ دنیا میں سب سے بڑا شریف اور معزز سمجھا جائے گا

کَوْنُ أَسْعَدِ النَّاسِ بِالدُّنْیَا لُکَعَ ابْنَ لُکَعٍ

{بدنامِ زمانہ بن بدنامِ زمانہ دنیا میں سب سے بڑا شریف اور معزز سمجھا جائے گا}

39۔ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْیَمَانِ رضي الله عنه : أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتّٰی یَکُوْنَ أَسْعَدَ النَّاسِ بِالدُّنْیَا لُکَعُ ابْنُ لُکَعٍ۔

وَزَادَ الْبُخَارِيُّ فِي الْکَبِيْرِ: عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رضي الله عنها : ثُمَّ یَصِيْرُ إِلَی النَّارِ۔

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالْبُخَارِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ۔

39: أخرجہ أحمد بن حنبل في المسند، 5/ 389، الرقم/ 23351، والترمذي في السنن، کتاب الفتن، باب: (37) منہ، 4/ 493، الرقم/ 2209، والبخاري في التاریخ الکبیر، 7/ 96، الرقم/ 427، والطبراني في المعجم الأوسط، 1/ 197، الرقم/ 628، والبیہقي في دلائل النبوۃ، 6/ 392، والمقرئ في السنن الواردۃ في الفتن، 4/ 802، الرقم/ 407، والمقدسي في الأحادیث المختارۃ، 7/ 273، الرقم/ 2727، وابن أبي عاصم في الزہد، 1/ 98، الرقم/ 196۔

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ بدنامِ زمانہ شخص جس کا باپ بھی بدنامِ زمانہ تھا، وہ دنیا میں سب سے بڑا شریف اور معزز نہ سمجھا جانے لگے۔

امام بخاری نے التاریخ الکبیر میں حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے ان الفاظ کا اضافہ بیان کیا: پھر اس کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا۔

اِس حدیث کو امام اَحمد، ترمذی، بخاری، طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔

وَفِي رِوَایَةِ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : لَا تَذْهَبُ الدُّنْیَا حَتّٰی تَصِيْرَ لِلُکَعٍ ابْنِ لُکَعٍ … وَقَالَ أَسْوَدُ: یَعْنِي اَلْمُتَّهَمَ ابْنَ الْمُتَّهَمِ۔ (1)

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبُخَارِيُّ فِي الْکَبِيْرِ وَأَبُوْ نُعَيْمٍ وَابْنُ حَمَّادٍ۔ وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ: وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيْحِ غَيْرَ کَامِلِ بْن الْعُـلَاءِ وَهُوَ ثِقَةٌ۔

(1) أخرجہ أحمد بن حنبل في المسند، 2/ 326، الرقم/ 8303، 8305، وأیضًا، 3/ 466، الرقم/ 15869، والبخاري في التاریخ الکبیر، 2/ 229، الرقم/ 2291، وأبو نعیم في حلیۃ الأولیائ، 9/ 141، وابن حماد في الفتن، 1/ 203، الرقم/ 553، وتمام الرازي في الفوائد، 1/ 121، الرقم/ 275، وذکرہ الہیثمي في مجمع الزوائد، 7/ 220، 320۔

ایک روایت میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس وقت تک یہ دنیا ختم نہیں ہوگی جب تک کہ اس کی دولت اور اقتدار بدنام ترین لوگوں کے لیے مختص نہ ہو جائے اور اسود نے کہا: یعنی بدنامِ زمانہ شخص جس کا باپ بھی بدنامِ زمانہ تھا۔

اِس حدیث کو امام احمد، بخاری نے التاریخ الکبیر میں، ابو نعیم اور ابن حماد نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا: امام احمد کے رجال صحیح حدیث کے رجال ہیں سوائے کامل بن علاء کے جو کہ ثقہ ہے۔

وَفِي رِوَایَةٍ: یَقُوْلُ: لَنْ تَذْهَبَ الدُّنْیَا حَتّٰی تَکُوْنَ عِنْدَ لُکَعِ ابْنِ لُکَعٍ۔ (1)

رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَالطَّبَرَانِيُّ۔ وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ: وَرِجَالُهٗ ثِقَاتٌ۔

(1) أخرجہ أحمد بن حنبل في المسند، 3/ 466، الرقم/ 15875، وابن حبان في الصحیح، 15/ 116، الرقم/ 6721، وابن أبي شیبۃ في المصنف، 7/ 529، الرقم/ 37740، والطبراني في المعجم الکبیر، 22/ 195، الرقم/ 512، وابن أبي عاصم في الزہد، 1/ 99، الرقم/ 197، والدیلمي في مسند الفردوس، 5/ 78، الرقم/ 7508، وذکرہ الہیثمي في مجمع الزوائد، 7/ 320۔

ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک کہ یہ (یعنی اس کی دولت اور اقتدار) بدنام ترین لوگوں کے ہاتھ میں نہ آجائے۔

اِس حدیث کو امام اَحمد، ابن حبان، ابن ابی شیبہ اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا: اس کے رجال ثقہ ہیں۔

وَفِي رِوَایَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : لَا تَذْھَبُ الدُّنْیَا حَتّٰی یَمْلِکَھَا لُکَعُ بْنُ لُکَعٍ۔ (1)

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ۔

(1) أخرجہ الطبراني في المعجم الأوسط، 5/ 63-64، الرقم/ 4677۔

ایک روایت میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ دنیا ختم نہیں ہو گی یہاں تک کہ بدنامِ زمانہ شخص جس کا باپ بھی بدنامِ زمانہ تھا، اس پر حکمران ہو گا۔

اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

Copyrights © 2020 Minhaj-ul-Quran International. All rights reserved